Logo

Syed Shayan Real Estate Archive

Logo

From Real Estate History

29 October

Home

Select Date

2 Historical Event found for 29 October
1

On This Date

29 اکتوبر 1923

جمہوریہ ترکی کا قیام، انقرہ کی جدید شہری ترقی اور تعمیرات کے نئے دور کا آغاز

ایک چھوٹے شہر کو جدید دارالحکومت بنانے کے لیے رہائشی علاقوں، سرکاری عمارتوں، سڑکوں اور شہری انفراسٹرکچر کی وسیع منصوبہ بندی کی گئی

جمہوریہ ترکی کا قیام، انقرہ کی جدید شہری ترقی اور تعمیرات کے نئے دور کا آغاز

29 اکتوبر 1923 کو جمہوریہ ترکی کے قیام نے ملک کی سیاسی تاریخ کے ساتھ شہری منصوبہ بندی، رئیل اسٹیٹ اور تعمیراتی شعبے میں بھی ایک نئے دور کی بنیاد رکھی۔ مصطفیٰ کمال اتاترک کی قیادت میں قائم ہونے والی نئی جمہوریہ نے انقرہ کو ایک جدید انتظامی اور شہری مرکز بنانے کا عمل تیز کیا۔ انقرہ کو اس سے قبل 13 اکتوبر 1923 کو دارالحکومت قرار دیا جاچکا تھا۔

اس وقت انقرہ تقریباً 20 ہزار آبادی کا نسبتاً چھوٹا شہر تھا، جہاں زیادہ تر آبادی تاریخی قلعے اور اس کے گردونواح میں آباد تھی۔ دارالحکومت بننے کے بعد سرکاری اداروں، سفارت خانوں، رہائشی عمارتوں اور تجارتی مراکز کے لیے نئی اراضی اور تعمیرات کی ضرورت پیدا ہوئی۔ حکومت نے شہر کی توسیع کے لیے منظم منصوبہ بندی شروع کی۔

1924 اور 1925 کے دوران جرمن معمار کارل کرسٹوف لورچر نے انقرہ کی ابتدائی جدید شہری منصوبہ بندی تیار کی، جس میں نئے انتظامی علاقوں، سڑکوں اور سرکاری عمارتوں کے لیے جگہ مختص کی گئی۔ بعد ازاں جرمن شہری منصوبہ ساز ہرمن جانسن کے ماسٹر پلان نے 1930 کی دہائی میں شہر کی تعمیر و ترقی کو مزید منظم شکل دی۔

ان منصوبوں کے تحت نئی شاہراہیں، رہائشی بستیاں، سرکاری دفاتر، تعلیمی ادارے، پارکس اور عوامی مقامات تعمیر کیے گئے۔ شہر کی توسیع نے تعمیراتی سرگرمیوں، اراضی کے استعمال اور شہری انفراسٹرکچر میں نمایاں تبدیلیاں پیدا کیں۔ انقرہ کی ترقی بیسویں صدی میں جدید دارالحکومت کی منصوبہ بندی کی اہم مثال بن گئی۔

اس تاریخی تبدیلی کی اہمیت آج بھی برقرار ہے۔ انقرہ کی جدید دارالحکومت کے طور پر منصوبہ بندی اور تعمیر کو 2025 میں یونیسکو کے عالمی ورثے کی عارضی فہرست میں شامل کیا گیا۔ یہ واقعہ ظاہر کرتا ہے کہ مربوط شہری منصوبہ بندی، بنیادی ڈھانچے میں سرمایہ کاری اور طویل مدتی ترقیاتی پالیسی کس طرح کسی شہر کی معاشی اور جغرافیائی شناخت تبدیل کرسکتی ہے۔

▪️ سید شایان ریئل اسٹیٹ آرکائیو

▪ حوالہ جات:

ترکی وزارت ثقافت و سیاحت
Views
6
2

On This Date

29 اکتوبر 1929

29 اکتوبر 1929: وال سٹریٹ کا انہدام اور رہائشی شعبے پر اسکے دیرپا اثرات

29 اکتوبر 1929 کو وال سٹریٹ کی سٹاک مارکیٹ شدید مندی کی لپیٹ میں آئی۔ یہ دن دنیا بھر میں ’’بلیک ٹیوز ڈے‘‘ کے نام سے یاد کیا جاتا ہے۔ اگرچہ فوری نقصان حصص کی خریدوفروخت میں ہوا، لیکن اس کے بعد آنے والے وسیع معاشی بحران نے رہائش، جائیداد کی ملکیت اور تعمیراتی شعبے پر دیرپا اثرات مرتب کیے۔

29 اکتوبر 1929: وال سٹریٹ کا انہدام اور رہائشی شعبے پر اسکے دیرپا اثرات

29 اکتوبر 1929 کو وال سٹریٹ کی سٹاک مارکیٹ شدید مندی کی لپیٹ میں آئی۔ یہ دن دنیا بھر میں ’’بلیک ٹیوز ڈے‘‘ کے نام سے یاد کیا جاتا ہے۔ اگرچہ فوری نقصان حصص کی خریدوفروخت میں ہوا، لیکن اس کے بعد آنے والے وسیع معاشی بحران نے رہائش، جائیداد کی ملکیت اور تعمیراتی شعبے پر دیرپا اثرات مرتب کیے۔

اس منگل کو ڈاؤ جونز انڈسٹریل ایوریج میں تقریباً 12 فیصد کمی ہوئی، جبکہ اس سے ایک روز پہلے یہ اشاریہ لگ بھگ 13 فیصد گر چکا تھا۔ اس انہدام نے سرمایہ کاروں کا اعتماد متزلزل کیا اور پہلے سے جاری معاشی مندی کو مزید گہرا کر دیا۔ تاہم، عظیم کساد بازاری کی واحد وجہ سٹاک مارکیٹ کا بحران نہیں تھا؛ بعد میں بینکاری اور مالیاتی نظام کے بحرانوں نے بھی معاشی مندی کو ایک طویل تباہ کن دور میں بدلنے میں کردار ادا کیا۔

رئیل اسٹیٹ کے حوالے سے واقعات کی زمانی ترتیب اہم ہے۔ امریکہ میں گھروں کی تعمیر بلیک ٹیوزڈے سے پہلے ہی سست روی کا شکار ہو چکی تھی۔ امریکی بیورو آف لیبر سٹیٹسٹکس کے شائع کردہ تاریخی تخمینوں کے مطابق، غیر زرعی علاقوں میں نئے رہائشی یونٹس کی تعداد 1925 میں تقریباً 9 لاکھ 37 ہزار تھی، جو 1928 میں کم ہو کر 7 لاکھ 53 ہزار اور 1929 میں 5 لاکھ 9 ہزار رہ گئی۔ یوں سٹاک مارکیٹ کا انہدام ایک ایسے شعبے پر مزید ضرب ثابت ہوا جو پہلے ہی اپنی رفتار کھو رہا تھا۔

کساد بازاری کے دوران یہ سست روی شدید گراوٹ میں تبدیل ہو گئی۔ 1933 تک غیر زرعی علاقوں میں نئے رہائشی یونٹس کی تخمینی تعداد محض 93 ہزار رہ گئی، جو 1929 کے مقابلے میں تقریباً 82 فیصد کم تھی۔ یہ تاریخی اعدادوشمار چار برس کے دوران رہائشی تعمیرات میں غیر معمولی سکڑاؤ کی عکاسی کرتے ہیں۔

نقصان صرف تعمیراتی مقامات تک محدود نہیں رہا۔ بے روزگاری اور گھروں کی گرتی قیمتوں نے قرض داروں کی رہن پر لیے گئے قرضوں کی ادائیگی کی صلاحیت متاثر کی، جبکہ شدید کمزور بینکاری نظام نے نئے قرضوں کی فراہمی محدود کر دی۔

ایک تاریخی جائزے میں وفاقی ریزرو کے اُس وقت کے چیئرمین بین برنانکے نے بتایا کہ 1933 میں فرینکلن روزویلٹ کے اقتدار سنبھالنے تک تعمیراتی شعبے میں روزگار، 1920 کی دہائی کے اواخر کی بلند ترین سطح کے مقابلے میں تقریباً نصف رہ گیا تھا۔

گھرانوں کے لیے اس بحران کا مطلب اپنے گھروں سے محرومی بھی تھا۔ وفاقی ریزرو بینک آف شکاگو کی تحقیق کے مطابق، 1930 کی دہائی میں 10 سے 20 فیصد امریکی مالکانِ مکان قرض کی عدم ادائیگی پر رہن شدہ جائیداد کی ضبطی یا اسی نوعیت کی دیگر کارروائیوں کے باعث اپنے گھروں سے محروم ہوئے۔ رہائشی بحران قومی پالیسی کے لیے ایک بڑا چیلنج بن گیا۔

اس بحران کے جواب میں کیے گئے اقدامات نے ہاؤسنگ فنانس کا نظام بدلنے میں مدد دی۔ 1933 میں قائم ہونے والی ہوم اونرز لون کارپوریشن نے 1933 سے 1936 کے درمیان تقریباً 10 لاکھ ایسے رہائشی قرضے خرید کر نئی شرائط پر جاری کیے جن کی ادائیگیاں واجب الادا تھیں۔ اس پروگرام کا مقصد مالی مشکلات سے دوچار قرض داروں کے لیے ادائیگی کا قابلِ عمل راستہ فراہم کرنا تھا۔

ایک اور بڑی اصلاح 1934 میں فیڈرل ہاؤسنگ ایڈمنسٹریشن کے قیام کی صورت میں سامنے آئی۔ اس کی جانب سے رہائشی قرضوں کی بیمہ سہولت کا مقصد قرض دینے والے اداروں کو بہتر شرائط پر قرض فراہم کرنے کی ترغیب دینا تھا۔ اس اقدام نے امریکہ میں گھر خریدنے کے لیے مالی وسائل کی فراہمی کے نظام کو نئی شکل دینے میں مدد دی۔

97 برس بعد بھی بلیک ٹیوزڈے جائیداد کی تاریخ کا ایک اہم حوالہ ہے۔ رئیل اسٹیٹ سے اس کا تعلق اُس معاشی مندی میں پوشیدہ ہے جسے اس نے مزید گہرا کیا، اور اُس رہائشی بحران میں جو بعد میں سامنے آیا۔ اس واقعے کا دیرپا سبق یہ ہے کہ تعمیرات اور گھر کی ملکیت کا دارومدار زمین اور عمارتوں کے ساتھ روزگار، اعتماد اور قرض تک قابلِ بھروسا رسائی پر بھی ہوتا ہے۔

▪️ سید شایان ریئل اسٹیٹ آرکائیو

▪ حوالہ جات:

Source(s): 1. U.S. Bureau of Labor Statistics — Building Construction, 1941, Bulletin No. 713 2. Federal Reserve Board — “Housing, Housing Finance, and Monetary Policy,” Ben Bernanke, August 31, 2007
Views
10

مزید خبریں "On This Date" سے

news
امریکہ کے ستائیسویں صدر ولیم ہاورڈ ٹافٹ کو ارلنگٹن نیشنل سیمیٹری میں سپرد خاک کیا گیا

دس مارچ 1930 کو امریکہ کے ستائیسویں صدر ولیم ہاورڈ ٹافٹ (William Howard Taft) کو امریکہ کے معروف قومی قبرستان ارلنگٹن نیشنل سیمیٹری میں سپرد خاک کیا گیا۔ وہ ام...

مزید پڑھیں
news
آج بابائے کراچی جمشید نسرونجی مہتا کا یومِ پیدائش ہے، کراچی کے پہلے میئر جنہوں نے ایک بندرگاہی قصبے کو ایشیا کا ایک جدید شہر بنا دیا۔

7 جنوری 1886 کو پیدا ہونے والے جمشید نسرونجی مہتا (Jamshed Nusserwanjee Mehta) کی کہانی دراصل کراچی کے ایک بندرگاہی قصبے سے جدید شہر بننے کی کہانی ہے۔ جمشید ن...

مزید پڑھیں
news
امریکا میں فیڈرل ایڈ ہائی وے ایکٹ پر دستخط کئے گئے جس نے رئیل اسٹیٹ مارکیٹ کو بھی نئی سمت دی

امریکی صدر ڈوائٹ ڈی آئزن ہاور نے فیڈرل ایڈ ہائی وے ایکٹ پر دستخط کیے، جو ایک تاریخی قانون تھا جس کے تحت انٹرسٹیٹ ہائی وے سسٹم قائم کیا گیا۔ اس قانون کے ذریعے 41...

مزید پڑھیں
news
Foundation of the First Museum of the Subcontinent in Calcutta

2 فروری کو کولکتہ میں قائم Indian Museum اپنے قیام کا دن مناتا ہے۔ یہ ادارہ برصغیر کا قدیم ترین اور سب سے بڑا میوزیم سمجھا جاتا ہے، جس نے خطے کی تعمیراتی تاریخ...

مزید پڑھیں
news
امریکی وفاقی حکومت کو سرکاری عمارتوں کے بڑھتے بوجھ پر تشویش عمارتوں کی تعداد کم کرنے کی تجویز

واشنگٹن ڈی سی: امریکہ میں وفاقی سرکاری جائیدادوں کے نظام سے متعلق ایک اہم پینل رپورٹ 11 مارچ 2019 کو سامنے آئی جسے Public Buildings Reform Board نے جاری کیا۔ ی...

مزید پڑھیں

سید شایان ڈاٹ کوم سے مزید دریافت کریں

ماڈل ٹاؤن لاہور- ایک ماڈرن سوسائٹی جسے لاہور کے قدیمی جنگل میں آباد کیا گیا

ماڈل ٹاؤن لاہور- ایک ماڈرن سوسائٹی جسے لاہور کے قدیمی جنگل میں آباد کیا گیا

ماڈل ٹاؤن لاہور ایک جدید رہائشی سوسائٹی جو لاہور کے قدیمی جنگل میں بسائی گئی ماڈل ٹاؤن سوسائٹی کے لیے زمین کی خریداری اور حصول بھی ایک نہایت ...

مزید پڑھیں
ماڈل ٹاؤن سوسائٹی کی 500 ایکڑ زمین کہاں گئی؟

ماڈل ٹاؤن سوسائٹی کی 500 ایکڑ زمین کہاں گئی؟

ماڈل ٹاؤن سوسائٹی کی 500 ایکڑ زمین کہاں گئی؟ ماڈل ٹاؤن لاہور کی زمین 1921 سے 1924 کے درمیان مختلف مرحلوں میں خریدی گئی۔ ابتدا 1921 میں ہوئی جب...

مزید پڑھیں