Logo

Syed Shayan Real Estate Archive

Logo

From Real Estate History

12 October

Home

Select Date

1 Historical Event found for 12 October
1

On This Date

12 اکتوبر 1992

1992: قاہرہ کے تباہ کن زلزلے نے ناقص تعمیراتی معیار اور عمارتوں کے حفاظتی نظام کی خامیاں بے نقاب کر دیں، 8 ہزار عمارتوں کو نقصان

12 اکتوبر 1992 کو مصر کے دارالحکومت قاہرہ اور اس کے گردونواح میں آنے والے تباہ کن زلزلے نے سینکڑوں افراد کی جان لے لی، جبکہ رہائشی اور تجارتی عمارتوں کو بڑے پیمانے پر نقصان پہنچا۔ یہ سانحہ شہری ترقی اور تعمیراتی شعبے کی تاریخ میں ایک اہم واقعہ ثابت ہوا، جس نے تعمیراتی معیار، بلڈنگ ریگولیشنز اور عمارتوں کے ساختی تحفظ میں سنگین خامیوں کو بے نقاب کیا۔

1992: قاہرہ کے تباہ کن زلزلے نے ناقص تعمیراتی معیار اور عمارتوں کے حفاظتی نظام کی خامیاں بے نقاب کر دیں، 8 ہزار عمارتوں کو نقصان

12 اکتوبر 1992 کو مصر کے دارالحکومت قاہرہ اور اس کے گردونواح میں آنے والے تباہ کن زلزلے نے سینکڑوں افراد کی جان لے لی، جبکہ رہائشی اور تجارتی عمارتوں کو بڑے پیمانے پر نقصان پہنچا۔ یہ سانحہ شہری ترقی اور تعمیراتی شعبے کی تاریخ میں ایک اہم واقعہ ثابت ہوا، جس نے تعمیراتی معیار، بلڈنگ ریگولیشنز اور عمارتوں کے ساختی تحفظ میں سنگین خامیوں کو بے نقاب کیا۔

امریکی ارضیاتی سروے (USGS) کے مطابق زلزلے کی شدت ریکٹر سکیل پر 5.9 ریکارڈ کی گئی، جبکہ اس کا مرکز قاہرہ سے تقریباً 18 کلومیٹر جنوب میں دہشور کے قریب واقع تھا۔ زلزلے کی گہرائی تقریباً 25 کلومیٹر تھی۔

شدت کے اعتبار سے نسبتاً درمیانے درجے کا ہونے کے باوجود اس زلزلے میں 500 سے زائد افراد جاں بحق اور ہزاروں زخمی ہوئے، جبکہ تقریباً 8 ہزار 300 عمارتیں مکمل یا جزوی طور پر تباہ ہو گئیں۔ ابتدائی اندازوں کے مطابق اس قدرتی آفت سے براہِ راست معاشی نقصانات کا حجم تقریباً 30 کروڑ امریکی ڈالر تھا۔

بڑے پیمانے پر ہونے والی تباہی نے دنیا کے تاریخی اعتبار سے اہم ترین شہروں میں شمار ہونے والے قاہرہ میں تعمیراتی طریقہ کار، انجینئرنگ کے معیارات اور متعلقہ اداروں کی نگرانی کے نظام پر سنگین سوالات کھڑے کر دیے۔

زلزلے کے بعد کی جانے والی تحقیقات میں عمارتوں کو پہنچنے والے وسیع نقصان کی کئی وجوہات سامنے آئیں، جن میں غیر معیاری تعمیراتی مواد، ناقص انجینئرنگ ڈیزائن، تعمیراتی کام میں خامیاں، کمزور بنیادیں اور عمارتوں پر ان کی برداشت سے زیادہ بوجھ ڈالنا شامل تھا۔

مٹی اور دیگر کمزور تعمیراتی مواد سے بنی پرانی رہائشی عمارتیں خصوصاً شدید متاثر ہوئیں۔ اس کے علاوہ بعض آر سی سی (Reinforced Concrete) عمارتیں بھی ناقص تعمیر، غیر مناسب ساختی تبدیلیوں اور بلڈنگ کوڈز پر مؤثر عمل درآمد نہ ہونے کے باعث تباہ ہوئیں۔

اس زلزلے نے واضح کیا کہ تیزی سے پھیلتے ہوئے شہروں میں اگر رہائشی منصوبوں اور تجارتی تعمیرات کے ساتھ مؤثر منصوبہ بندی، تکنیکی نگرانی اور حفاظتی ضوابط پر سختی سے عمل درآمد نہ کیا جائے تو قدرتی آفات کے دوران جانی و مالی نقصانات کئی گنا بڑھ سکتے ہیں۔

رئیل اسٹیٹ اور تعمیراتی صنعت کے لیے یہ سانحہ ایک اہم سبق تھا کہ پراپرٹی ڈویلپمنٹ کی کامیابی کو صرف تعمیر ہونے والی عمارتوں کی تعداد، سرمایہ کاری میں اضافے یا شہروں کے پھیلاؤ سے نہیں جانچا جا سکتا۔ عمارتوں کی مضبوطی، تعمیراتی معیار اور انسانی جانوں کا تحفظ بھی پائیدار شہری ترقی کے بنیادی پیمانے ہیں۔

زلزلے کے بعد انجینئرنگ ماہرین نے زیادہ مؤثر بلڈنگ کوڈز، جدید تعمیراتی تکنیک، تعمیراتی مواد کی سخت جانچ پڑتال، زلزلہ مزاحم ڈیزائن اور ہنگامی حالات سے نمٹنے کی بہتر تیاریوں کی ضرورت پر زور دیا۔

1992 کا قاہرہ زلزلہ آج بھی دنیا بھر کے شہری منصوبہ سازوں، پراپرٹی ڈویلپرز، تعمیراتی ماہرین اور ریگولیٹری اداروں کے لیے ایک اہم تاریخی حوالہ ہے۔

تین دہائیوں سے زیادہ عرصہ گزرنے کے باوجود اس سانحے کا بنیادی سبق آج بھی اتنا ہی اہم ہے کہ پائیدار رئیل اسٹیٹ ڈویلپمنٹ کا انحصار محض سرمایہ کاری اور انفراسٹرکچر کی توسیع پر نہیں بلکہ ایسی محفوظ اور مضبوط عمارتوں کی تعمیر پر بھی ہے جو قدرتی آفات کے دوران انسانی جانوں کا تحفظ یقینی بنا سکیں۔

Views
0

مزید خبریں "On This Date" سے

news
اسلام آباد کا جنوبی پھیلاؤ: سی ڈی اے نے نئے رہائشی سیکٹرز ڈی 12 اور ای 12 کا آغاز کیا

10 نومبر 1992 کو کیپیٹل ڈویلپمنٹ اتھارٹی نے اسلام آباد کے جنوبی علاقے کی طرف توسیع کا ایک اہم منصوبہ پیش کیا۔ اس منصوبے میں دو نئے رہائشی سیکٹرز ڈی 12 اور ای 12...

مزید پڑھیں
news
انڈین ری آرگنائزیشن ایکٹ نے قبائلی زمینوں کے حقوق کو نئی شکل دی

امریکا میں انڈین ری آرگنائزیشن ایکٹ، جسے وہیلر ہاورڈ ایکٹ بھی کہا جاتا ہے، منظور کیا گیا۔ اس قانون نے مقامی امریکی قبائل کی زمینوں سے متعلق وفاقی پالیسی میں ا...

مزید پڑھیں
news
میلبورن میں پہلی شہری زمین کی نیلامی کا ریکارڈ

10 اکتوبر 1885 کو میلبورن نے اپنی شہری تاریخ کے ایک اہم سنگِ میل کا مشاہدہ کیا جب شہر کے جنوبی حصے، دریائے یارا کے پار، تیزی سے ترقی کرتے مضافات میں پہلی بڑی عو...

مزید پڑھیں
news
نیو ڈیل قانون نے امریکا میں عوامی رہائش اور بڑے تعمیراتی منصوبوں کی راہ ہموار کی

16 جون 1933 کو امریکی صدر فرینکلن ڈی روزویلٹ نے نیشنل انڈسٹریل ریکوری ایکٹ پر دستخط کیے، جو نیو ڈیل دور کے اہم قوانین میں شامل تھا۔ یہ قانون عظیم معاشی بحران ...

مزید پڑھیں
news
اسلام آباد ماسٹر پلان میں ترمییم کی منظوری

29 اکتوبر 1988 کو پاکستان کی حکومت نے اسلام آباد کے ماسٹر پلان میں ایک بڑی اور تاریخی ترمیم کی منظوری دی، جس کا مقصد تیزی سے بڑھتی ہوئی آبادی اور بڑھت...

مزید پڑھیں

سید شایان ڈاٹ کوم سے مزید دریافت کریں

ماڈل ٹاؤن لاہور- ایک ماڈرن سوسائٹی جسے لاہور کے قدیمی جنگل میں آباد کیا گیا

ماڈل ٹاؤن لاہور- ایک ماڈرن سوسائٹی جسے لاہور کے قدیمی جنگل میں آباد کیا گیا

ماڈل ٹاؤن لاہور ایک جدید رہائشی سوسائٹی جو لاہور کے قدیمی جنگل میں بسائی گئی ماڈل ٹاؤن سوسائٹی کے لیے زمین کی خریداری اور حصول بھی ایک نہایت ...

مزید پڑھیں
ماڈل ٹاؤن سوسائٹی کی 500 ایکڑ زمین کہاں گئی؟

ماڈل ٹاؤن سوسائٹی کی 500 ایکڑ زمین کہاں گئی؟

ماڈل ٹاؤن سوسائٹی کی 500 ایکڑ زمین کہاں گئی؟ ماڈل ٹاؤن لاہور کی زمین 1921 سے 1924 کے درمیان مختلف مرحلوں میں خریدی گئی۔ ابتدا 1921 میں ہوئی جب...

مزید پڑھیں