بجلی کی اوپن مارکیٹ کو ایک سادہ مثال سے سمجھیں۔ ایک وقت تھا جب پاکستان میں لینڈ لائن ٹیلی فون لگوانا بھی مشکل اور مہنگا کام تھا اور پورے محلے کا ایک ہی فون ہوا کرتا تھا۔ پھر ٹیلی کام سیکٹر میں مقابلہ آیا، نئی کمپنیاں آئیں اور آج موبائل فون ہر عام آدمی کی پہنچ میں ہے۔
دنیا بھر میں بہتر منصوبہ بندی اور اوپن مارکیٹ کے مقابلے کی وجہ سے بجلی سستی اور آسانی سے دستیاب ہے، جبکہ پاکستان ماضی کی غلط پالیسیوں اور مہنگے معاہدوں کا خمیازہ بھگت رہا ہے۔ اگر یہاں بھی بجلی کی منڈی حقیقی معنوں میں کھولی جائے اور کمپنیاں قیمت اور سروس پر اپس میں مقابلہ کریں، تو قوی امید ہے کہ آنے والے دنوں میں پاکستان میں بھی بجلی عام آدمی کے لیے کہیں زیادہ سستی اور آسان ہو جائے گی۔
🔲 عوامی تحقیقاتی سلسلہ | قسط 49
موضوع: پاکستان کا بجلی کا نظام کیسے ٹھیک ہوگا؟
عنوان: کیا بجلی کی اوپن مارکیٹ پاکستان میں مہنگی بجلی کا خاتمہ کر سکتی ہے؟
🔺 400 میگاواٹ کی پہلی نیلامی، بیٹری اسٹوریج کی نئی شرط اور اربوں روپے کی لاگت، کیا پاکستان بجلی کی کھلی منڈی کے لیے تیار ہے۔
تحریر و تحقیق: سید شایان
پاکستان کے بجلی کے شعبے میں ایک بڑی اور اہم تبدیلی کا آغاز ہو رہا ہے۔
ہمارے ملک میں پچھلے تقریباً 30 سال سے آئی پی پیز (IPPs) کا پرانا نظام چل رہا ہے۔ اس پرانے طریقہ کار میں حکومت پرائیویٹ بجلی گھروں کے ساتھ کئی کئی سال کے طویل مدتی معاہدے کرتی تھی، جن میں ایک انتہائی ناجائز شرط یہ ہوتی تھی کہ بجلی گھر سے بجلی خریدی جائے یا نہ خریدی جائے، اگر وہ پلانٹ چالو حالت میں موجود ہے تو حکومت اسے پیسوں کی ادائیگی کرتی تھی۔ انہی ادائیگیوں کو کیپیسٹی پیمنٹس (Capacity Payments) کہا جاتا ہے۔
اس پورے نظام میں بڑی صنعتوں اور کاروباری اداروں کو یہ اجازت یا آزادی حاصل نہیں تھی کہ وہ اپنی مرضی سے کسی بھی سستے بجلی گھر سے براہ راست بجلی کا سودا کر سکیں۔
اب اس پرانے روایتی طریقے کو آہستہ آہستہ تبدیل کرکے ایک نیا ماڈل لایا جا رہا ہے، جسے Competitive Trading Bilateral Contract Market (CTBCM) کہتے ہیں، یعنی بجلی کی کھلی منڈی کا نظام۔
اس نظام میں بڑے صنعتی خریدار اپنی ضرورت کے مطابق مختلف کمپنیوں سے بجلی خرید سکیں گے اور یوں بجلی بنانے والے اداروں کے درمیان سستے ریٹ دینے کا حقیقی مقابلہ شروع ہو سکے گا۔
نئے منصوبے کے تحت حکومت کی طرف سے کل 800 میگاواٹ بجلی کو اس اوپن مارکیٹ میں لانے کی منصوبہ بندی کی گئی ہے، جس میں سے پہلے مرحلے میں 400 میگاواٹ کا تجربہ کیا جائے گا۔
اسے بالکل سادہ لفظوں میں یوں سمجھیں کہ ایک طرف بجلی بنانے والی پرائیویٹ کمپنیاں ہوں گی اور دوسری طرف بڑی فیکٹریاں یا ملیں ہوں گی۔
بجلی بنانے والے اپنے اپنے ریٹ پیش کریں گے کہ وہ فی یونٹ کیا قیمت لیں گے، اور خریدار کے پاس یہ آپشن ہوگا کہ وہ سب سے سستی اور بہتر پیشکش کرنے والی کمپنی کا انتخاب کر لے۔
اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ یہ بجلی خریدار تک پہنچے گی کیسے؟
فرض کریں لاہور کی کوئی بڑی فیکٹری سندھ یا جنوبی پنجاب کے کسی سولر (Solar) یا ونڈ (Wind) پاور پلانٹ سے سستی بجلی خریدنا چاہتی ہے، تو اس پلانٹ والے کو سندھ سے لاہور تک الگ سے لمبی تاریں بچھانے کی ضرورت نہیں پڑے گی۔
بجلی نیشنل گرڈ سسٹم اور بجلی کی تقسیم کار کمپنیوں یعنی ڈسکوز (DISCOs) کے پہلے سے موجود نیٹ ورک کے ذریعے ہی لاہور کی اس فیکٹری تک پہنچائی جائے گی۔
لیکن یہ سہولت لینے پر اسے باقاعدہ کرایہ یا فیس دینی ہوگی، جسے تکنیکی زبان میں وہیلنگ چارجز (Wheeling Charges) کہا جاتا ہے۔
نیپرا نے مختلف بڑے صارفین کے لیے یہ کرایہ تقریباً 6.23 روپے سے 19.62 روپے فی یونٹ تک مقرر کیا ہے۔
اس لیے اب خریدار کے لیے صرف بجلی کا بنیادی ریٹ دیکھنا کافی نہیں ہوگا، بلکہ بجلی گھر کی اپنی قیمت، وہیلنگ چارجز اور دیگر ٹیکس یا اخراجات ملا کر اصل قیمت سامنے آئے گی۔
اس نئے فیصلے میں ایک اہم شرط بیٹری اسٹوریج کی بھی رکھی گئی ہے۔ نئے سولر اور ونڈ بجلی منصوبے لگانے والی کمپنیوں کو پابند کیا جائے گا کہ وہ اپنے منصوبے کے ساتھ بیٹریاں بھی لگائیں، تاکہ ضرورت سے زیادہ پیدا ہونے والی بجلی ذخیرہ کی جا سکے اور ضرورت کے وقت استعمال ہو سکے۔ ابتدائی طور پر بیٹری اسٹوریج کی صلاحیت منصوبے کی کل صلاحیت کے کم از کم 10 فیصد کے برابر رکھی گئی ہے۔
یعنی اگر مجموعی طور پر 400 میگاواٹ کے منصوبے لگتے ہیں تو ان کے ساتھ تقریباً 40 میگاواٹ بیٹری اسٹوریج بھی درکار ہوگی۔
اس کی اصل وجہ یہ ہے کہ سورج اور ہوا سے ہر وقت ایک جیسی بجلی نہیں بنتی۔ دن کے وقت جب دھوپ تیز ہوتی ہے تو سولر کی پیداوار بہت زیادہ ہوتی ہے، لیکن شام ہوتے ہی یہ اچانک گر جاتی ہے۔ بالکل یہی معاملہ ہوا کا بھی ہے، جو مسلسل ایک رفتار سے نہیں چلتی۔ یہ بیٹریاں دن کے وقت بننے والی اضافی بجلی کو محفوظ کر لیں گی اور رات یا ضرورت کے وقت اسے دوبارہ سسٹم میں شامل کر سکیں گی۔
لیکن سوچنا یہ ہے کہ کیا صرف 10 فیصد بیٹری لگانے سے پاکستان کے بجلی کے شعبے کے تمام مسائل فوراً حل ہو جائیں گے؟
اس کا جواب یہ ہے کہ یہ ابھی صرف ایک ابتدائی تجربہ ہے۔
اصل اہمیت اس بات کی ہے کہ پہلی بار ہماری کھلی منڈی میں گرین انرجی (Green Energy) کے ساتھ اسٹوریج کا نظام بھی شامل کیا جا رہا ہے۔ پہلی بولی کے بعد ہی عملی طور پر اندازہ ہو سکے گا کہ ان بیٹریوں پر کتنی لاگت آئی، انہوں نے کتنی بجلی محفوظ کی اور اس سے مجموعی نظام کو کتنا معاشی اور فنی فائدہ پہنچا۔
یہاں ایک بات واضح کرنا ضروری ہے کہ یہ گھروں یا عام سولر سسٹم والی بیٹریاں ہرگز نہیں ہیں۔
دراصل یہ بیٹریوں کا ایک پورا بڑا صنعتی نظام ہوتا ہے جسے Battery Energy Storage System (BESS) کہتے ہیں۔
اس میں شپنگ کنٹینر جیسے بڑے بڑے بیٹری رومز، انورٹر، ٹرانسفارمر، کولنگ سسٹمز اور خودکار حفاظتی آلات شامل ہوتے ہیں۔ یعنی یہ کوئی چھوٹا بیک اپ نہیں، بلکہ اپنے آپ میں ایک پورا صنعتی نظام ہے جو گرڈ کی بجلی کو بڑی مقدار میں سنبھالنے کے لیے بنایا جاتا ہے۔
اس کی قیمت کا تعین صرف میگاواٹ سے نہیں ہوتا، بلکہ اصل اہمیت اس بات کی ہے کہ وہ کتنی میگاواٹ آور (MWh) بجلی ذخیرہ کر سکتا ہے اور کتنے گھنٹے تک سپلائی جاری رکھ سکتا ہے۔ مثال کے طور پر اگر 50 میگاواٹ کا سسٹم مسلسل 4 گھنٹے بجلی فراہم کرے تو وہ 200 میگاواٹ آور بجلی ذخیرہ کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ عالمی مارکیٹ کے حالیہ تناسب، تقریباً 110 سے 120 ڈالر فی کلوواٹ آور، کو سامنے رکھا جائے تو صرف BESS کے آلات کی حد تک ایسا سسٹم تقریباً 2.4 کروڑ ڈالر، یعنی تقریباً 6.7 ارب روپے، کا پڑتا ہے۔
اس حساب سے پاکستان کے 400 میگاواٹ کے سولر منصوبوں کے لیے درکار 10 فیصد، یعنی 40 میگاواٹ یا 160 میگاواٹ آور، بیٹری اسٹوریج کے محض بنیادی آلات کی قیمت ہی تقریباً 1.9 کروڑ ڈالر، یعنی تقریباً 5.4 ارب روپے، بنتی ہے۔
لیکن ظاہر ہے، صرف آلات کی قیمت ہی سب کچھ نہیں ہوتی۔ اس میں کسٹم ڈیوٹیز، مقامی ٹرانسپورٹیشن، سول ورکس، گرڈ انٹیگریشن اور انسٹالیشن کے دیگر اخراجات بھی شامل ہوتے ہیں۔ اس لیے عملی طور پر دیکھا جائے تو اس 10 فیصد اسٹوریج کو مکمل طور پر چالو کرنے پر لگ بھگ 6 سے ساڑھے 6 ارب روپے کا خرچ آئے گا۔
نیپرا کا یہ قدم قابلِ ستائش ضرور ہے، مگر اس حوالے سے میرے کچھ تحفظات اور خدشات ہیں، جنہیں اپنے پڑھنے والوں سے شیئر کرنا انتہائی ضروری سمجھتا ہوں۔ اگر ہم نے بغیر سوچے سمجھے اور جلد بازی میں یہ قدم اٹھایا تو ایسا نہ ہو کہ ہم کیپیسٹی پیمنٹس اور دیگر بھاری چارجز کے ساتھ ساتھ بیٹری ریپلیسمنٹ اور ڈالر کا ایک اور طوق اپنے گلے میں ڈال لیں۔
اس سلسلے میں میرے بنیادی خدشات درج ذیل ہیں:
1۔ بیٹری اسٹوریج کی تکنیکی حدود اور گرڈ کی کمزوری:
عالمی سطح پر بیٹریاں عموماً 2 سے 4 گھنٹے کے لیے فریکوئنسی کنٹرول، وولٹیج بیلنسنگ اور شام کے پیک آوورز (6 سے 10 بجے) کو سنبھالنے کے لیے استعمال ہوتی ہیں، کیونکہ دنیا کے مضبوط گرڈ سسٹمز سستی سولر جنریشن کا بڑا حصہ بغیر کسی بیٹری کے براہ راست جذب کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ اس کے برعکس، نیپرا یا توانائی حکام کا اپنے بنیادی ٹرانسمیشن اور ڈسٹری بیوشن (NTDC/DISCOs) کے ناقص سسٹم کو سدھارے بغیر 8 سے 10 گھنٹے کی طویل اسٹوریج پر انحصار کرنا تکنیکی طور پر غلط اور معاشی طور پر تباہ کن فیصلہ ہوگا۔
2۔ سپلائی چین اور زرِ مبادلہ پر بوجھ:
ترقی یافتہ ممالک کے پاس اضافی سرمایہ اور مستحکم کرنسی موجود ہے، جس کی بدولت وہ LFP (Lithium Iron Phosphate) ٹیکنالوجی کی اپ گریڈیشن اور مہنگی لاگت کو نسبتاً آسانی سے برداشت کر لیتے ہیں۔ اس کے برعکس، پاکستان کو غیر ملکی زرِ مبادلہ کی کمی کا سامنا رہتا ہے، اور 8 سے 10 گھنٹے کی اسٹوریج پر انحصار کی صورت میں ہر 8 سے 10 سال بعد بیٹریوں کے سیلز اور ماڈیولز تبدیل کرنے کے لیے بھاری زرِ مبادلہ خرچ کرنا پڑ سکتا ہے، جس کا ملک کے مالی وسائل پر خاصا بوجھ پڑے گا۔
3۔ گرڈ کی نااہلی کا سارا ملبہ بیٹریوں پر ڈالنا:
پاکستان کا اصل مسئلہ صرف بیٹریوں کی عدم موجودگی نہیں بلکہ NTDC اور DISCOs کے بنیادی ٹرانسمیشن اور ڈسٹری بیوشن نیٹ ورک کی کمزوری بھی ہے۔ اگر گرڈ کی اس نااہلی اور ناکامی کا ملبہ بیٹری اسٹوریج کی خریداری کرکے چھپانے کی کوشش کی گئی تو یہ نظام کو درست کرنے کے بجائے معاشی طور پر مزید مہنگا اور ناقابلِ برداشت ثابت ہوگا۔
بیٹری اسٹوریج بلاشبہ مستقبل کی ضرورت ہے، مگر پاکستان کو یہ فیصلہ بہت سوچ سمجھ کر کرنا ہوگا۔
400 میگاواٹ کی پہلی نیلامی سے پہلے نیپرا کو صاف بتانا چاہیے کہ بیٹری کتنے گھنٹے کی ہوگی، اس پر اصل خرچ کتنا آئے گا، یہ خرچ کون اٹھائے گا اور کہیں آخر میں اس کی قیمت بھی بجلی کے صارف کو تو نہیں چکانا پڑے گی۔
نیلامی کا عمل ستمبر 2026 میں شروع ہونے کی توقع ہے، تاہم حتمی تاریخ کا اعلان ابھی باقی ہے۔ RFP (درخواست برائے تجاویز) کے اجرا کے بعد خواہش مند کمپنیوں کو اپنی تجارتی بولیاں جمع کرانے کے لیے دو ماہ کا وقت دیا جائے گا۔
اس نیلامی میں شرکت کے خواہشمند سرمایہ کاروں اور کاروباری حضرات سے میری خاص گزارش ہے کہ وہ اس تحریر کے تمام فنی اور معاشی پہلوؤں کا باریک بینی سے جائزہ لیں۔
اگر گرڈ لیول بیٹری اسٹوریج (BESS) کی تبدیلی اور آپریشنل اخراجات سے متعلق میرے ظاہر کردہ خدشات درست ثابت ہوتے ہیں تو یہ منصوبہ وقت کے ساتھ ایک بھاری مالی بوجھ بن سکتا ہے۔
اور اگر عملی طور پر بیٹری کا استعمال محض ایک سے دو گھنٹے کے پیک آوورز (Peak Hours) تک محدود رہتا ہے، تب بھی اس منصوبے کی مالی قابلیت (Financial Viability) اور معاشی ماڈل کا حساب انتہائی باریک بینی سے لگانا ہوگا، تاکہ بولی دیتے وقت اصل سرمایہ کاری، طویل مدتی اخراجات اور متوقع منافع کا تخمینہ بالکل شفاف اور واضح ہو سکے۔
(جاری ہے۔ باقی اگلی قسط میں)