عوامی تحقیقاتی سلسلہ
قسط نمبر 51

پاکستان کا بجلی کا نظام کیسے ٹھیک ہوگا؟

Public Research Series | Episode 51 | بجلی بحران
پاکستان میں بجلی کے بحران سے نمٹنے کے لیے ہم نے ہمیشہ فوری اور عارضی حل تلاش کیے۔ جب بجلی کم پڑی تو ہم نے نئے پاور پلانٹس لگائے، IPPs کے ساتھ طویل مدتی معاہدے کیے اور آنے والے برسوں کی کپیسٹی خریدنے کے وعدے کر لیے۔ لیکن اس دوران ہم یہ بھول گئے کہ ہماری آنے والی نسلوں کے لیے سستی، پائیدار اور ماحول دوست توانائی کہاں سے آئے گی۔
دوسری طرف بھارت نے اپنی فوری ضرورتیں روایتی ذرائع سے پوری کرنے کے ساتھ ساتھ مستقبل کی توانائی پر سائنسی تحقیق جاری رکھی۔ اسی طویل سفر کا ایک نتیجہ SST-1 Tokamak ہے، جسے ”مصنوعی سورج“ کے نام سے تعبیر کیا جا رہا ہے۔ یہ فی الحال کوئی تجارتی بجلی گھر نہیں، بلکہ Nuclear Fusion پر مبنی ایک تجرباتی ٹیکنالوجی ہے، جس کے ذریعے سائنس دان زمین پر سورج کی طرح توانائی پیدا کریں گے۔
1998 کے بعد ڈاکٹر عبدالقدیر خان کی سوچ صرف ایٹمی دفاع تک محدود نہیں رہی۔ وہ Fission، Fusion اور توانائی کے دوسرے ذرائع پر سنجیدہ کام آگے بڑھانا چاہتے تھے۔ ڈاکٹر خان کے مطابق انہوں نے اس سلسلے میں اس وقت کے وزیراعظم نواز شریف کو پانچ خطوط بھی لکھے، مگر انہیں کوئی جواب نہیں ملا۔ پاکستان اپنے اس بڑے سائنس دان کے علم اور تجربے سے وہ فائدہ نہ اٹھا سکا جو شاید آج ہمارے توانائی کے بحران کی صورت مختلف کر سکتا تھا۔
🔲 عوامی تحقیقاتی سلسلہ | قسط 51
موضوع: پاکستان کا بجلی کا نظام کیسے ٹھیک ہوگا؟
عنوان: پاکستان نے بجلی کے بحران کا مستقل حل کیوں تلاش نہیں کیا؟
🔺 ڈاکٹر عبدالقدیر خان ایٹمی بم کے بعد پاکستان کو توانائی کے میدان میں کہاں لے جانا چاہتے تھے؟
کاش ہم ڈاکٹر عبدالقدیر خان کی صلاحیتوں سے ایٹمی بم کے بعد بھی فائدہ اٹھا سکتے۔
تحریر و تحقیق: سید شایان
ستمبر 2026 کے دوسرے ہفتے میں بھارت سے ایک ایسی خبر آئی ہے جسے پاکستان میں شاید اتنی توجہ نہیں ملی جتنی ملنی چاہیے تھی۔ گجرات کے انسٹی ٹیوٹ فار پلازما ریسرچ (Institute for Plasma Research) میں بھارتی سائنس دانوں نے اپنے SST-1 Tokamak میں ایک نیا انتہائی طاقتور Gyrotron نصب کر کے کامیابی سے چلا دیا ہے۔ یہ اس سفر کا ایک اہم قدم ہے جس کا آخری خواب زمین پر سورج کی طرح Nuclear Fusion سے توانائی حاصل کرنا ہے۔
بات بہت سادہ ہے۔ سورج ہمیں اربوں سال سے روشنی اور حرارت دے رہا ہے۔ سائنس دانوں نے یہ جاننے کی کوشش کی کہ آخر سورج کے اندر ایسا کیا ہے کہ اس میں اتنی زبردست توانائی مسلسل پیدا ہوتی رہتی ہے۔
معلوم ہوا کہ سورج کے اندر ایک سائنسی عمل جاری ہے جسے Nuclear Fusion کہتے ہیں۔ انتہائی سادہ الفاظ میں، بہت زیادہ گرمی اور دباؤ میں ہلکے ایٹم آپس میں ملتے ہیں اور اس ملاپ سے بہت بڑی مقدار میں توانائی خارج ہوتی ہے۔ یہی سورج کی طاقت کا بنیادی راز ہے۔
اس پر سائنس دانوں نے سوچا کہ اگر قدرت سورج کے اندر یہ کام کر سکتی ہے تو ہم بھی زمین پر ایک مشین کے اندر یہی عمل کیوں نہ پیدا کر لیں۔
چنانچہ کئی دہائیوں کی مسلسل تحقیق اور تجربات کے بعد سائنس دان زمین پر سورج کی طرح کا Nuclear Fusion کا عمل پیدا کرنے میں کامیاب ہو گئے، جس سے سورج اور دوسرے ستاروں میں توانائی پیدا ہوتی ہے۔
اب سائنس دانوں کے درمیان اصل مقابلہ یہ ہے کہ اس انتہائی گرم مادے، جسے Plasma کہتے ہیں، کو زیادہ دیر تک قابو میں رکھا جائے اور اس عمل سے اتنی قابلِ استعمال توانائی حاصل کی جائے کہ بالآخر اس سے باقاعدہ بجلی گھر چلائے جا سکیں۔
اسی مقصد کے لیے دنیا کے ایٹمی سائنس دانوں نے ایک بہت بڑا مشترکہ منصوبہ شروع کیا، جسے ITER — International Thermonuclear Experimental Reactor کہا جاتا ہے۔
اس کا مرکز جنوبی فرانس میں قائم ہے اور آج اس منصوبے میں یورپی یونین، امریکہ، روس، چین، بھارت، جاپان اور جنوبی کوریا شریک ہیں۔
آج دنیا بھر کے سائنس دانوں کے درمیان اصل دوڑ یہی ہے کہ Nuclear Fusion کو تجربہ گاہ سے نکال کر بجلی گھر تک کیسے لایا جائے۔
چین نے ہدف مقرر کیا ہے کہ تقریباً 2030 تک اپنے اگلے ”مصنوعی سورج“ BEST کے ذریعے Nuclear Fusion سے بجلی پیدا کرنے کا عملی مظاہرہ کیا جائے۔ اگر یہ تجربہ کامیاب ہو گیا تو یہ Fusion کو تجربہ گاہ سے عملی بجلی کی پیداوار تک پہنچانے کی جانب ایک تاریخی قدم ہوگا۔
لیکن چین سے پہلے اسی عالمی دوڑ میں بھارت نے ایک اہم پیش رفت کی ہے۔ ستمبر 2026 کے دوسرے ہفتے میں گجرات کے Institute for Plasma Research میں بھارت کے SST-1 Tokamak میں ایک نیا انتہائی طاقتور Gyrotron کامیابی سے نصب کر کے چلا دیا گیا ہے۔
بھارتی سائنس دانوں کا دعویٰ ہے کہ اس نئی ٹیکنالوجی کے ذریعے وہ Plasma کا درجہ حرارت 20 کروڑ ڈگری سینٹی گریڈ تک لے جانے کی طرف بڑھ رہے ہیں۔
ذرا اندازہ کیجیے، سورج کے مرکز کا درجہ حرارت تقریباً ڈیڑھ کروڑ ڈگری سینٹی گریڈ ہے، جبکہ بھارتی سائنس دان اپنے ”مصنوعی سورج“ کے Plasma کو 20 کروڑ ڈگری تک لے جانے کی بات کر رہے ہیں۔
اگر وہ اس ہدف کو حاصل کرنے کے ساتھ Plasma کو مطلوبہ مدت تک مستحکم رکھنے میں بھی کامیاب ہو گئے تو بھارت Nuclear Fusion کی عالمی دوڑ میں صفِ اوّل کے ممالک میں آ کھڑا ہوگا۔
بھارت کی یہ پیش رفت دیکھ کر آج مجھے پاکستان کے ایٹمی سائنس دان ڈاکٹر عبدالقدیر خان بہت یاد آ رہے ہیں۔
2003 میں ڈاکٹر عبدالقدیر خان نے Solar Energy Development پر باقاعدہ تحقیقی کام شروع کرنے کا اعلان کیا تھا۔ کراچی کی سر سید یونیورسٹی آف انجینئرنگ اینڈ ٹیکنالوجی کے تعاون سے شمسی توانائی سمیت مختلف تحقیقی منصوبوں پر کام آگے بڑھانے کی بات کی گئی تھی۔
مگر اگلے ہی سال، 2004 میں حالات یکسر بدل گئے۔ Nuclear Proliferation کا معاملہ سامنے آیا، ڈاکٹر عبدالقدیر خان کو ان کے سرکاری عہدے سے ہٹا دیا گیا، انہوں نے سرکاری ٹیلی وژن پر قوم کے سامنے ذمہ داری قبول کرتے ہوئے معافی مانگی، اور اس کے بعد پاکستان کے ایٹمی پروگرام کے اس مرکزی سائنس دان کو کئی سال House Arrest میں رکھا گیا، جہاں ان کی نقل و حرکت اور لوگوں سے ملاقاتوں پر سخت پابندیاں رہیں۔
بعد میں ڈاکٹر عبدالقدیر خان نے انکشاف کیا کہ ٹیلی وژن پر پڑھا گیا اعتراف ان کی آزاد مرضی کا بیان نہیں تھا، بلکہ انہیں ایک تحریری متن دیا گیا تھا جسے انہوں نے ملکی مفاد اور ان سے کیے گئے وعدوں کے پیش نظر پڑھ کر سنایا تھا۔
وقت گزرا، ڈاکٹر خان پر عائد پابندیاں ختم ہوئیں، مگر پاکستان کا بجلی کا بحران ختم ہونے کے بجائے مزید سنگین ہوتا چلا گیا۔
ڈاکٹر عبدالقدیر خان ایٹمی سائنس دان تھے۔ وہ توانائی کی اہمیت اور پاکستان کے بڑھتے ہوئے بجلی کے بحران کو بخوبی سمجھتے تھے۔ اسی لیے وہ بار بار اس بات پر زور دیتے رہے کہ پاکستان کو توانائی کے لیے دوسروں پر انحصار کرنے کے بجائے اپنے وسائل اور اپنی سائنسی صلاحیت سے فائدہ اٹھانا چاہیے۔
اسی پس منظر میں جون 2012 میں لاہور کے علامہ اقبال میڈیکل کالج میں ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے ڈاکٹر عبدالقدیر خان نے کہا کہ پاکستان کے پاس توانائی کے بے پناہ وسائل موجود ہیں اور اگر انہیں موقع دیا جائے تو وہ Nuclear Reactors کے ذریعے صرف تین ماہ میں 4,500 میگاواٹ بجلی پیدا کر سکتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان اپنے وسائل استعمال کر کے بجلی کے بحران پر قابو پا سکتا ہے۔
1998 میں پاکستان کے ایٹمی تجربات کے فوراً بعد ایک انٹرویو میں ڈاکٹر خان نے خود بتایا تھا کہ پاکستان نے اس وقت boosted fission devices کے تجربات کیے ہیں، البتہ پاکستان Nuclear Fusion اور Thermonuclear Technology پر بھی تحقیق کر رہا ہے۔
ڈاکٹر خان کی دلچسپی صرف پاکستان کی دفاعی ایٹمی صلاحیت تک محدود نہیں تھی، وہ ملک کی توانائی کی ضروریات پر بھی مسلسل سوچ رہے تھے۔ یہی وجہ ہے کہ بعد کے برسوں میں انہوں نے شمسی اور ایٹمی توانائی سمیت پاکستان کے اپنے وسائل سے بجلی پیدا کرنے پر بار بار زور دیا۔
اپنی زندگی کے آخری برسوں میں ڈاکٹر خان کے بعض انٹرویوز میں جو دکھ اور مایوسی دکھائی دیتی تھی، اسے دیکھ کر دل دکھتا تھا۔ ایک ایسا شخص جس نے پاکستان کو ایٹمی صلاحیت دینے میں مرکزی کردار ادا کیا، اپنی زندگی کے آخری حصے میں یہ احساس لیے دنیا سے رخصت ہوا کہ اس کی خدمات اور اس کے ساتھ ہونے والے سلوک کے درمیان بہت بڑا فاصلہ رہ گیا۔
ڈاکٹر عبدالقدیر خان نے پاکستان کے توانائی بحران اور دیگر مسائل کے حل کے لیے بلا معاوضہ اپنی خدمات پیش کیں۔ انہوں نے اس سلسلے میں وزیراعظم نواز شریف کو پانچ مرتبہ خطوط لکھے اور مشورے دیے، لیکن ان کے بقول کسی خط کا جواب نہیں دیا گیا۔
یقین نہیں آتا کہ ایک وقت تھا کہ پاکستان کے پاس ایسا سائنس دان بھی موجود تھا جو fission، thermonuclear/fusion research اور توانائی تینوں میدانوں سے واقف تھا لیکن حکومت نے اس کی علمی صلاحیت کو پرامن توانائی کی طویل المدت تحقیق میں کس حد تک استعمال کیا؟ کیا ہم میں سے کوئی اس کا جواب دے پائے گا؟
حقیقت یہی ہے کہ 1990 کی دہائی میں پاکستان اور انڈیا دونوں کے پاس ایٹمی ٹیکنالوجی کی بنیادی سہولیات اور قابلِ ذکر سائنس دان موجود تھے۔ فرق بعد میں آیا۔ انڈیا نے اپنے سائنسی اداروں، جیسے Institute for Plasma Research کو مسلسل فعال رکھا اور عالمی تحقیقی منصوبوں میں جگہ بنائی۔ پاکستان داخلی بحرانوں، سیاسی عدم استحکام اور سائنسی تحقیق سے بے توجہی کی وجہ سے توانائی کے بحران میں ڈوبتا چلا گیا۔
ہم نے اپنے ایٹمی بم کو اپنی منزلِ مقصود سمجھ لیا تھا، حالانکہ وہ منزل نہیں تھی۔ وہ ایک نئے ایٹمی پاکستان کی شروعات تھی۔ ایسا پاکستان جسے ڈاکٹر عبدالقدیر خان اور دوسرے سائنس دانوں کی قیادت میں سائنس، ٹیکنالوجی، توانائی، طب اور صنعت میں ابھی بہت سی منزلیں طے کرنی تھیں۔
ڈاکٹر عبدالقدیر خان بھی پاکستان کے اپنے وسائل اور سائنسی صلاحیت سے توانائی پیدا کرنے کی بات کرتے رہے۔ لیکن ہم ان کے علم اور تجربے سے وہ کام نہ لے سکے جو معیشت اور توانائی کا رخ بدل سکتے تھے۔
آج بھارت نیوکلیئر فیوژن کے ”مصنوعی سورج“ کی طرف بڑھ رہا ہے، اور ہم مہنگی بجلی، گردشی قرضوں اور توانائی کے بحران کا ماتم کر رہے ہیں۔ شاید آج صرف ان کا نام یاد کرنا کافی نہیں۔ اپنے آپ سے یہ بھی پوچھنا چاہیے کہ ہم نے ان کے بعد اپنے سائنس دانوں، اپنے علم اور اپنی سائنسی صلاحیت کے ساتھ کیا کیا؟
(جاری ہے۔ باقی اگلی قسط میں)۔
0
Views
16
0
تمام اقساط پڑھیے

مزید مضامین

قسط نمبر 50

9 ستمبر 2026 کو وزارتِ توانائی کی جانب سے پارلیمنٹ کے سامنے پیش کی گئی تفصیلات کے مطابق پاکستان میں اس وقت 105 آئی پی پیز کے معاہدے موجود ہیں۔

قسط نمبر 49

کیا پاکستان 30 سال پرانے آئی پی پی نظام سے نکل کر بجلی کی اوپن مارکیٹ کی طرف جا رہا ہے؟

قسط نمبر 48

🔳 قرضے اور واجبات

قسط نمبر 47

🔳 قرضے اور واجبات

قسط نمبر 46

🔳 قرضے اور واجبات

© SyedShayan.com