وزارتِ توانائی کو نئے آئیڈیاز کی نہیں، اپنی نیت اور کارکردگی میں اصلاح کی ضرورت ہے۔
🔲 عوامی تحقیقاتی سلسلہ | قسط 46
موضوع: پاکستان کا بجلی کا نظام کیسے ٹھیک ہوگا؟
عنوان: بجلی کے بحران کے حل کے لیے عوامی تجاویز طلب
🔺 جب ادارے حقائق فراہم کرنے سے گریز کریں تو سچ تک پہنچنا عوام کی ذمہ داری بن جاتا ہے۔
تحریر و تحقیق: سید شایان
پاکستان کے بجلی کے نظام اور آئی پی پیز پر میری اب تک 45 اقساط شائع ہو چکی ہیں۔
اس دوران نئے صوبوں کا موضوع قومی بحث کا حصہ بنا تو میں نے بجلی کا سلسلہ کچھ عرصے کے لیے روک دیا اور اپنے تھنک ٹینک کی صوبوں اور وفاقی نظام پر کئی سال سے جاری تحقیق کو 11 اقساط، نقشوں اور ایک ملک گیر آن لائن سروے کی صورت میں عوام کے سامنے پیش کیا۔ اور اب سروے مکمل ہونے کے بعد اس پوری تحقیق، عوامی رائے اور اپنی سفارشات کو ایک جامع رپورٹ کی شکل دے کر وفاقی حکومت، قومی اسمبلی اور سینیٹ کی متعلقہ کمیٹیوں تک بھی پہنچایا جائے گا
نئے صوبوں کے موضوع پر ہمارا بنیادی کام بھی مکمل ہو چکا ہے۔ اس سے متعلق تمام اقساط ہمارے ویب پورٹل SyedShayan.com پر موجود ہیں۔
اس کے علاوہ پاکستان میں نئے صوبوں کے حوالے سے ہمارا ملک گیر آن لائن سروے آج کل بھی جاری ہے، جس میں پاکستان اور دنیا بھر میں مقیم پاکستانی اپنی رائے اور تجاویز دے رہے ہیں۔ سروے اپنے مقررہ وقت تک جاری رہے گا۔ اس تحقیق پر مبنی ہماری ای بک بھی تیار ہو چکی ہے اور چند دنوں میں ویب سائٹ پر دستیاب ہوگی۔
اس دوران قارئین مسلسل یاد دلاتے رہے کہ بجلی اور آئی پی پیز پر شروع کیا گیا کام ادھورا نہ چھوڑا جائے۔ چنانچہ کچھ تعطل کے بعد آج ہم دوبارہ اپنے اصل موضوع کی طرف واپس آگئے ہیں۔
واپس آکر دیکھا تو گردشی قرضہ، بجلی چوری، لائن لاسز اور مہنگی بجلی جیسے بنیادی مسائل کم و بیش وہیں کھڑے ہیں۔ البتہ اس عرصے میں ایک اہم پیش رفت ضرور ہوئی ہے، جسے آج آپ کے ساتھ شیئر کرنا ضروری سمجھتا ہوں۔
آپ نے اس قسط کے Thumbnail پر پڑھا ہوگا ’’وزارتِ توانائی نے بجلی کے مہنگے بلوں اور آئی پی پیز کا حل ڈھونڈ لیا۔‘‘ وزارت نے اپنے خیال میں جو حل ڈھونڈا ہے، اس کی تفصیل آگے آرہی ہے۔ اسے پڑھ کر شاید آپ کا دل بھی اس نظام اور اسے چلانے والی موٹی عقلوں پر ماتم کرنے کو چاہے کہ آخر اس ملک کا بنے گا کیا۔
وزارتِ توانائی نے Power Sector Innovation Hub کے نام سے ایک نیا پروگرام شروع کیا ہے۔ اس میں عام لوگوں، ماہرین، محققین، یونیورسٹیوں اور اداروں سے کہا گیا ہے کہ وہ پاکستان کے بجلی کے نظام کو بہتر بنانے کے لیے نئے آئیڈیاز دیں۔
آئیڈیا دینے والے کو بتانا ہوگا کہ بجلی کے نظام میں اصل مسئلہ کیا ہے، اس کا حل کیا ہو سکتا ہے، اس پر کتنا خرچ آئے گا، اس سے کیا فائدہ ہوگا اور اسے عملی طور پر کیسے نافذ کیا جائے گا۔
جمع ہونے والے آئیڈیاز کی ایک کمیٹی جانچ کرے گی۔ جو نیا آئیڈیا ابھی کہیں آزمایا نہیں گیا، اس کے لیے پہلا انعام ڈیڑھ لاکھ روپے، دوسرا ایک لاکھ روپے اور تیسرا پچاس ہزار روپے رکھا گیا ہے۔ ساتھ ایک سرکاری سرٹیفکیٹ بھی مل سکتا ہے اور آئیڈیا کو آزمانے پر غور کیا جا سکتا ہے۔
البتہ ایک انعام پانچ لاکھ روپے کا بھی رکھا گیا ہے، جو کسی نئے آئیڈیا کے لیے نہیں ہے۔ یہ صرف ایسے حل کے لیے ہے جو پہلے کہیں آزمایا جا چکا ہو اور جس کے اچھے نتائج بھی سامنے آ چکے ہوں۔
لیکن سوال یہ ہے کہ جس بجلی کے نظام میں نقصانات اور گردشی قرضہ اربوں اور کھربوں روپے میں ہو، اسے ٹھیک کرنے کے لیے ملک کے بہترین دماغوں سے نئے آئیڈیاز مانگے جا رہے ہیں، مگر بہترین نئے آئیڈیا کا انعام صرف ڈیڑھ لاکھ روپے، ایک لاکھ روپے اور پچاس ہزار روپے رکھا گیا ہے۔
گویا مسئلہ اربوں اور کھربوں کا، اور اس کے حل کی قیمت صرف ڈیڑھ لاکھ روپے!
شرم تم کو مگر نہیں آتی
پاکستان کے بجلی کے مسائل اور کھربوں روپے کے گردشی قرضے کے مقابلے میں اس قسم کا “انعامی ڈرامہ” ایک مذاق سے کم نہیں۔ جس ملک کا پاور سیکٹر روزانہ اربوں کا نقصان کر رہا ہو، وہاں ملک کے سنجیدہ مفکرین اور ماہرینِ معاشیات سے ڈیڑھ لاکھ، ایک لاکھ اور پچاس ہزار روپے کے انعام پر مسئلے کا حل مانگنا پالیسی سازوں کی سنجیدگی اور ذہنی سطح کو صاف بے نقاب کرتا ہے۔
اگر حکومت واقعی اتنی بے بس اور مفلسی کا شکار ہے کہ کھربوں روپے کے بجلی بحران کا بہترین حل دینے والے کے لیے صرف ڈیڑھ لاکھ روپے کی ’’خطیر رقم‘‘ ہی نکال سکتی ہے، تو میں یہ انعام لینے کے بجائے یہی رقم وزارتِ توانائی کو ’’عطیہ‘‘ کرنے کے لیے تیار ہوں۔ بشرطیکہ وہ پہلے سے موجود تحقیقی سفارشات پر عمل کرنے کی نیت اور ہمت دکھائے۔
یہ تو ایسا ہی ہے جیسے کسی جلتے ہوئے شہر کو بچانے کے لیے فائر بریگیڈ بلانے کے بجائے بچوں میں پانی کی پچکاریوں کا انعامی مقابلہ کروا دیا جائے، اور پھر وزارتِ توانائی کے ارسطو یہ سمجھیں کہ انہوں نے آگ بجھانے کا قومی منصوبہ شروع کر دیا ہے۔
18ویں صدی میں فرانس کو بھی بھوک، قحط اور خوراک کی شدید کمی کا سامنا کرنا پڑا۔ 1769 اور 1770
کی غذائی قلت کے بعد فرانس کے شہر بیزانسوں (Besancon) کی ایک معروف علمی اکیڈمی نے 1771 میں ایک مقابلہ کروایا۔ لوگوں سے کہا گیا کہ کوئی ایسی غذا بتائیں جو قحط کے دنوں میں عام خوراک کی کمی پوری کر سکے۔
انٹوان پارمانتیے (Antoine Parmentier) نامی ایک فرانسیسی فارماسسٹ نے بھی اس مقابلے میں حصہ لیا۔ اس کا کہنا تھا کہ آلو اس مسئلے کے حل میں اہم کردار ادا کر سکتا ہے۔
آج یہ بات شاید ہم میں سے بہت سوں کو عجیب لگے کیونکہ آلو ہماری روزمرہ خوراک کا حصہ ہے، لیکن اس زمانے میں فرانس کے لوگ آلو کھانے سے گھبراتے تھے۔ کوئی اسے جانوروں کی خوراک سمجھتا تھا، کسی کو شک تھا کہ اسے کھانے سے بیماریاں ہو سکتی ہیں اور بہت سے لوگ اسے انسانوں کے کھانے کے قابل ہی نہیں سمجھتے تھے۔
پارمانتیے نے صرف یہ نہیں کہا کہ آلو کھاؤ اور مسئلہ حل ہوگیا۔ اس نے آلو پر باقاعدہ تحقیق کی اور یہ ثابت کرنے کی کوشش کی کہ آلو انسانوں کے لیے محفوظ اور غذائیت سے بھرپور خوراک ہے اور مشکل وقت میں اناج اور دوسری غذاؤں کی کمی پوری کرنے میں مدد دے سکتا ہے۔
اس کی تحقیق کو انعام ملا۔ بعد میں پارمانتیے نے فرانس میں آلو کو عام کرنے کے لیے باقاعدہ مہم چلائی۔ اس نے آلو اُگوائے، لوگوں کو آلو سے بنے کھانے کھلائے اور بااثر لوگوں کو بھی اس مہم میں شامل کیا۔ بات فرانس کے بادشاہ لوئی شانزدہم تک بھی پہنچی۔
مشہور روایت ہے کہ بادشاہ لوئی شانزدہم نے آلو کا پھول اپنے لباس پر لگایا اور ملکہ میری انتوانیت نے بھی اسے اپنے بالوں میں سجایا۔ مقصد یہی تھا کہ شاہی خاندان آلو کو قبول کرے گا تو عام لوگوں میں بھی اس کے بارے میں موجود خوف اور غلط فہمیاں کم ہوں گی۔
رفتہ رفتہ ایسا ہی ہوا۔ آلو کے بارے میں لوگوں کی سوچ بدلنے لگی اور یہ فرانس کی عام خوراک کا حصہ بنتا چلا گیا۔
اس واقعے کی اصل بات یہ ہے کہ پارمانتیے کی تحقیق صرف انعام جیتنے تک محدود نہیں رہی۔ اس نے اپنی تجویز کو لوگوں تک پہنچانے اور اسے عملی طور پر منوانے کے لیے بھی کام کیا۔ نتیجہ یہ نکلا کہ جس آلو کو کبھی فرانس کے بہت سے لوگ اپنے کھانے کے قابل نہیں سمجھتے تھے، وہ آگے چل کر ان کی روزمرہ خوراک کا اہم حصہ بن گیا۔
18ویں صدی کے فرانس کی یہ مثال دینے کا مقصد بھی یہی ہے کہ لوگوں اور ماہرین سے کسی بڑے مسئلے کا حل مانگنا کوئی نئی بات نہیں۔ یہ کام پہلے بھی ہوتا رہا ہے۔ مان لیا، اصل بات انعام کی رقم بھی نہیں، اصل بات یہ ہے کہ اچھا حل ملنے کے بعد حکومت اس کا کرتی کیا ہے۔
فرانس میں پارمانتیے کی تحقیق نے انعام جیتا تو بات وہیں ختم نہیں ہوگئی۔ اس کے بتائے ہوئے حل کو آزمایا گیا، بات بادشاہ اور ملکہ تک پہنچی اور پھر لوگوں کو آلو کھانے پر آمادہ کرنے کے لیے باقاعدہ کوشش کی گئی۔ یعنی آئیڈیا مانگا بھی گیا، پسند آیا تو اس پر عمل بھی کیا گیا۔
پاکستان میں بھی اصل امتحان ڈیڑھ لاکھ روپے کا انعام نہیں، بلکہ یہ ہے کہ اگر واقعی کوئی قابلِ عمل حل سامنے آتا ہے تو کیا وزارتِ توانائی اسے نافذ کرنے کی ہمت بھی کرے گی؟
پہلے ذرا اس واقعے کا پاکستان کی وزارتِ توانائی کے مقابلے سے موازنہ کریں۔
فرانس کے سامنے ایک ایسا مسئلہ تھا جس کا حل کسی کے پاس نہیں تھا۔ لوگوں سے حل مانگا گیا، ایک شخص نے تحقیق کرکے حل پیش کیا، اسے درست پایا گیا اور پھر ریاست نے اس پر عمل بھی کیا۔
لیکن پاکستان کے بجلی کے نظام کا مسئلہ یہ نہیں کہ کسی کو اس کا حل معلوم نہیں۔ اس مسئلے پر سینکڑوں رپورٹیں بن چکی ہیں۔ نیپرا، وزارتِ توانائی، عالمی ادارے، ماہرین اور مختلف کمیٹیاں بار بار بتا چکی ہیں کہ خرابیاں کہاں ہیں اور انہیں ٹھیک کیسے کیا جا سکتا ہے۔
مسئلہ نئے آئیڈیاز کی کمی نہیں، مسئلہ پہلے سے موجود حلوں پر عمل نہ کرنا ہے۔
اس کی سب سے بڑی مثال سولر ہے۔ حکومت برسوں میں اربوں، کھربوں روپے خرچ کرکے بھی عوام کو سستی اور پوری بجلی نہیں دے سکی۔ دوسری طرف لوگوں نے اپنی جیب سے سولر لگایا، حکومت سے ایک روپیہ نہیں لیا اور دن کے وقت بجلی کی طلب کا بڑا حصہ خود پورا کرنا شروع کر دیا۔
اس سے قومی گرڈ پر بوجھ کم ہوا، مہنگے درآمدی ایندھن کی ضرورت گھٹی اور بجلی کی کمی میں بھی کسی حد تک بہتری آئی۔
حکومت کو چاہیے تھا کہ ان لوگوں کا شکریہ ادا کرتی، سولر لگانا مزید آسان بناتی اور اپنے بجلی کے نظام کو نئی صورتِ حال کے مطابق ڈھالتی۔
لیکن ہوا اس کے برعکس۔ وفاقی وزیرِ توانائی سردار اویس احمد خان لغاری نے سولر لگانے والوں ہی کو نظام پر بوجھ قرار دینا شروع کر دیا۔ جن لوگوں نے اپنی رقم خرچ کرکے اپنا اور کسی حد تک ملک کا مسئلہ حل کیا، انہی کو یہ کہہ کر قصوروار ٹھہرا دیا گیا کہ ان کے سولر سسٹمز کی وجہ سے قومی گرڈ اور باقی صارفین پر مالی بوجھ بڑھ رہا ہے۔
حقیقت یہ ہے کہ سولر والے نظام پر بوجھ نہیں بنے، بلکہ انہوں نے حکومت کا بوجھ کم کیا ہے۔ اصل بوجھ وہ مہنگے معاہدے، کیپیسٹی پیمنٹس، بجلی کی چوری، لائن لاسز، نااہلی اور برسوں سے چلا آنے والا خراب انتظام ہے، جسے ٹھیک کرنے سے ہر حکومت گھبراتی ہے۔
اب وزارتِ توانائی کہہ رہی ہے کہ بجلی کے بحران کا حل بتائیے اور بہترین تجویز پر ڈیڑھ لاکھ روپے کا ’’پلاٹینم انعام‘‘ پائیے۔
مگر سوال یہ ہے کہ جب پہلے سے موجود اور آزمائے ہوئے حلوں پر ہی عمل نہیں ہو رہا تو نئے آئیڈیاز مانگنے کا فائدہ کیا ہے؟ کل کو ان نئی تجاویز کا بھی وہی حال ہوگا جو پہلے آنے والی سینکڑوں رپورٹوں کا ہوا۔ چند دن چرچا ہوگا، پھر فائل بنے گی، الماری میں جائے گی اور بجلی کا نظام اسی طرح چلتا رہے گا۔
جاری ہے۔۔۔ باقی اگلی قسط میں