Home

آئی پی پیز سے عوام اور ملک کو آخر فائدہ کیا ہوا؟

آئی پی پیز سے عوام اور ملک کو آخر فائدہ کیا ہوا؟

🔳 پاکستان میں آئی پی پیز (IPPs) کے تصور کے خالق اور ابتدائی آئی پی پی معاہدوں کی شرائط تیار کرنے والے شاہد حسن خان سے انٹرویو (پارٹ تھری)

عوامی تحقیقاتی سلسلہ | قسط 41
موضوع: پاکستان کا بجلی کا نظام کیسے ٹھیک ہو گا؟
عنوان: آئی پی پیز سے عوام اور ملک کو آخر فائدہ کیا ہوا؟
🔺 جب ادارے حقائق کی فراہمی سے گریزاں ہوں تو سچ تک پہنچنے کی کوشش عوامی ذمہ داری بن جاتی ہے۔
انٹرویو : سید شایان
گزشتہ قسط کے اختتام پر میں نے شاہد حسن خان سے پوچھا تھا کہ
️اگر عوام نے مہنگی بجلی، کیپیسٹی چارجز، سرچارجز اور اضافی ٹیکسز بھی ادا کرنے تھے اور اس کے باوجود لوڈشیڈنگ بھی برداشت کرنی تھی، تو پھر اس پورے آئی پی پی ماڈل سے ملک اور عوام کو آخر فائدہ کیا ہوا؟
شاہد حسن خان نے جواب دیا:
️یہ کہنا درست نہیں کہ آئی پی پیز سے ملک یا عوام کو کوئی فائدہ نہیں ہوا۔ ایک وقت تھا کہ پاکستان شدید بجلی کے بحران سے دوچار تھا۔ روزانہ کئی کئی گھنٹے لوڈشیڈنگ ہوتی تھی، صنعتیں متاثر ہو رہی تھیں، کاروبار بند ہو رہے تھے اور حکومت کے پاس نئے پاور پلانٹس لگانے کے لیے سرمایہ موجود نہیں تھا۔
آئی پی پیز کے ذریعے نجی سرمایہ کاری آئی، تقریباً 3000 میگاواٹ اضافی بجلی نظام میں شامل ہوئی اور ملک کو فوری طور پر بجلی کے شدید بحران سے نکالنے میں مدد ملی۔ اگر اس وقت یہ بجلی نظام میں شامل نہ ہوتی تو صنعتی پیداوار، روزگار اور ملکی معیشت کو اس سے کہیں زیادہ نقصان پہنچ سکتا تھا۔
انہوں نے کہا:
آپ کو 1994 کے فیصلے کو آج کے حالات سے نہیں بلکہ اس وقت کی ضرورت کے مطابق دیکھنا ہوگا۔ اس وقت اصل سوال یہ تھا کہ بجلی کہاں سے آئے گی اور کتنی جلدی آئے گی۔ حکومت کے پاس پیسہ نہیں تھا، واپڈا نئے منصوبے لگانے کی پوزیشن میں نہیں تھا اور ملک مزید کئی سال انتظار نہیں کر سکتا تھا۔ آئی پی پیز نے اس خلا کو پُر کیا۔
شاہد حسن خان کے مطابق خرابی آئی پی پی ماڈل کے ابتدائی اور محدود استعمال میں نہیں تھی۔
اس وقت مقصد صرف بجلی کی فوری کمی پوری کرنا تھا۔
اصل مسئلہ بعد میں پیدا ہوا جب ضرورت کا درست اندازہ کیے بغیر 100 سے زائد آئی پی پیز لگائے گئے۔
بجلی کی طلب، ٹرانسمیشن کی صلاحیت اور تقسیم کے نظام کو ساتھ نہیں بڑھایا گیا۔
نتیجتاً پیداوار کی صلاحیت تو بڑھتی گئی مگر نظام اسے سنبھالنے کے قابل نہ رہا۔
یوں ایک محدود ضرورت کے لیے بنایا گیا ماڈل بعد میں آنے والی حکومتوں کی ناقص منصوبہ بندی کے باعث پورے بجلی کے نظام کا مسئلہ بن گیا۔
شاہد حسن خان کے مطابق مسئلہ آئی پی پی ماڈل کے ابتدائی اور محدود استعمال میں نہیں تھا، بلکہ بعد میں اسے ضرورت اور منصوبہ بندی کے بغیر ان گنت پاور پلانٹس لگانے میں تھا۔
انہوں نے کہا:
ہم نے یہ نہیں کہا تھا کہ ہر آنے والی حکومت اسی ماڈل کے تحت نئے پاور پلانٹس لگاتی چلی جائے۔ ہماری سفارش ایک مخصوص بحران کے لیے محدود مقدار میں بجلی حاصل کرنے اور محدود آئی پی پیز لگانے کی تھی۔ بعد میں بجلی کی حقیقی طلب، ٹرانسمیشن سسٹم کی صلاحیت، ایندھن کی قیمت، روپے کی قدر اور صارف کی استطاعت کو دیکھتے ہوئے فیصلے ہونے چاہییں تھے۔ جو نہیں کیے گئے۔
ان کا کہنا تھا کہ اگر بعد کی حکومتیں بجلی کی طلب کے مطابق منصوبہ بندی کرتیں، ٹرانسمیشن اور ڈسٹری بیوشن نظام کو پیداواری صلاحیت کے ساتھ ساتھ بہتر بناتیں، لائن لاسز اور بجلی کی چوری پر قابو پاتیں اور بتدریج پن بجلی اور دوسرے مقامی ذرائع کی طرف جاتیں تو آج صورت حال مختلف ہو سکتی تھی۔
پاکستان میں تقریباً 45,000 میگاواٹ سے زیادہ بجلی پیدا کرنے کی نصب شدہ صلاحیت تو قائم کر دی گئی، لیکن ملک کے مختلف حصوں میں ٹرانسمیشن لائنوں، گرڈ اسٹیشنز اور ڈسٹری بیوشن نظام کی صلاحیت اسی تناسب سے نہیں بڑھائی گئی۔ نتیجہ یہ ہے کہ بجلی گھر موجود ہونے کے باوجود ان کی پوری پیداوار ہر وقت صارفین تک نہیں پہنچائی جا سکتی۔
یہ بالکل ایسا ہی ہے جیسے دیہی علاقوں میں بڑے پیمانے پر ڈیری فارمز قائم کرکے لاکھوں لیٹر دودھ پیدا کر لیا جائے، مگر اسے فارم سے فیکٹری اور پھر فیکٹری سے صارفین تک پہنچانے کے لیے مطلوبہ گاڑیاں، کولڈ اسٹوریج اور تقسیم کا نظام موجود نہ ہو۔ ایسی صورت میں دودھ کی پیداوار بڑھانے کا کوئی فائدہ نہیں ہوگا اور اس کا ایک بڑا حصہ ضائع ہو جائے گا۔ اسی طرح بجلی پیدا کرنا کافی نہیں، اسے محفوظ اور مؤثر طریقے سے صارف تک پہنچانے کے لیے مضبوط ٹرانسمیشن اور ڈسٹری بیوشن نظام بھی ضروری ہے۔
انہوں نے مزید کہا:
لوڈشیڈنگ صرف بجلی کی مجموعی پیداواری صلاحیت کم ہونے کی وجہ سے نہیں ہوتی۔ بعض اوقات ایندھن دستیاب نہیں ہوتا، بعض پلانٹس تکنیکی خرابی کے باعث بند ہوتے ہیں، ٹرانسمیشن لائنیں بجلی منتقل نہیں کر سکتیں، ڈسٹری بیوشن کمپنیاں مطلوبہ وصولیاں نہیں کر پاتیں اور گردشی قرضے کے باعث ادائیگیوں کا سلسلہ رک جاتا ہے۔ ایسے میں ملک میں پاور پلانٹس موجود ہونے کے باوجود صارف تک بجلی نہیں پہنچتی۔
شاہد حسن خان کا کہنا تھا کہ آج عوام پر بجلی کے بھاری بلوں اور مختلف ٹیکسوں اور چارجز کا جو بوجھ ہے، اسے صرف 1994 کی پاور پالیسی سے منسوب کرنا درست نہیں۔
ان کے مطابق یہ صورت حال کئی دہائیوں کی ناقص منصوبہ بندی، ضرورت سے زیادہ آئی پی پیز (IPPs) لگانے، غیر متوازن معاہدوں، روپے کی قدر میں شدید کمی، درآمدی ایندھن پر مسلسل انحصار، بجلی چوری، لائن لاسز، کمزور وصولیوں اور سیاسی فیصلوں کا مجموعی نتیجہ ہے۔
انہوں نے کہا:
آئی پی پیز کا فائدہ یہ تھا کہ انہوں نے ایک ایسے وقت میں پاکستان کو فوری بجلی فراہم کی جب ریاست خود نئے منصوبے لگانے کی مالی صلاحیت نہیں رکھتی تھی۔ نقصان وہاں سے شروع ہوا جہاں ایک ہنگامی اور محدود حل کو مستقل نظام بنا دیا گیا اور اس کے ساتھ ضروری اصلاحات نہیں کی گئیں۔
(شاہد حسن خان کے مؤقف کا خلاصہ یہ ہے کہ آئی پی پی ماڈل نے ابتدائی طور پر ملک کو بجلی کے شدید بحران سے نکالنے میں اہم کردار ادا کیا، لیکن بعد میں ضرورت سے زیادہ پاور پلانٹس لگانے اور پاور سیکٹر میں بنیادی اصلاحات نہ ہونے کے باعث یہی نظام عوام کے لیے مہنگی بجلی اور کیپیسٹی پیمنٹس کے سنگین بحران میں تبدیل ہوگیا۔)
میں نے شاہد حسن خان سے پوچھا:
️آپ بار بار یہ کہہ رہے ہیں کہ آپ کی پالیسی صرف تقریباً 3000 میگاواٹ اضافی بجلی حاصل کرنے کے لیے تھی اور اس کے لیے آپ نے مخصوص تعداد میں آئی پی پیز لگانے کی منصوبہ بندی کی تھی، اور بعد کی حکومتوں نے اس ماڈل کو ضرورت سے زیادہ پھیلا دیا۔ لیکن کیا 1994 کی پالیسی میں کوئی ایسی واضح حد، حفاظتی شرط یا خودکار نظام موجود تھا جو حکومتوں کو ضرورت سے زیادہ آئی پی پیز لگانے سے روکتا؟ اگر ایسا کوئی تحفظ موجود نہیں تھا تو کیا اس خرابی کی کچھ ذمہ داری پالیسی بنانے والوں پر بھی عائد نہیں ہوتی؟
شاہد حسن خان نے جواب دیا:
️آپ کا سوال اپنی جگہ بالکل جائز ہے، لیکن ایک بات ذہن میں رکھیے کہ میں کون تھا؟ میں نہ تو سیاستدان تھا اور نہ ہی مستقل سرکاری افسر۔ میں ایک ٹیکنوکریٹ تھا جسے ایک مخصوص بحران سے نمٹنے کی ذمہ داری سونپی گئی تھی۔ میں پرائم منسٹرز ٹاسک فورس آن انرجی کا چیئرمین تھا۔ میری سربراہی میں ٹاسک فورس نے اپنی سفارشات مرتب کیں، جن کی بنیاد پر 1994 کی پاور پالیسی تیار کی گئی۔ لیکن ابھی اس پر مزید کام جاری ہی تھا کہ بے نظیر بھٹو کی حکومت برخاست کر دی گئی۔ حکومت ختم ہوئی تو میری ذمہ داری بھی ختم ہوگئی اور میں اپنا بوریہ بستر سمیٹ کر چلا گیا
انہوں نے کہا:
“اور یہاں آپ شاید ایک بات بھول رہے ہیں۔ میں اکیلا نہیں تھا۔ پرائم منسٹرز ٹاسک فورس آن انرجی میں مختلف وزارتوں، واپڈا، تیل، گیس اور توانائی کے شعبے سے تعلق رکھنے والے سینئر افسران اور ماہرین شامل تھے۔ حکومتیں آتی جاتی رہتی ہیں، سیاستدان اور ٹیکنوکریٹس بھی بدل جاتے ہیں، لیکن ریاستی ادارے اور بیوروکریسی اپنی جگہ موجود رہتے ہیں۔ پالیسی بنانا حکومت کا کام ہوتا ہے، لیکن اس پر عمل درآمد کرانا، اس کا مسلسل جائزہ لینا، بدلتے ہوئے حالات کے مطابق اس میں ضروری اصلاحات کرنا اور اس کی اصل روح کو برقرار رکھنا ریاستی اداروں اور بیوروکریسی کی ذمہ داری ہوتی ہے۔ اگر بعد میں اس ذمہ داری میں کہیں غفلت، بددیانتی یا ناقص فیصلے ہوئے ہیں تو ان کا جواب بھی انہی کو دینا چاہیے۔ اگر آپ کو ہماری پالیسی میں کوئی بنیادی خامی نظر آتی ہے تو ضرور اس کی نشاندہی کیجیے، لیکن میرے نزدیک اپنے وقت کے حالات اور دستیاب وسائل کے مطابق یہ ایک آئیڈیل پالیسی تھی۔”
شاہد حسن خان نے کہا:
یہ بھی یاد رہے کہ پرائم منسٹرز ٹاسک فورس آن انرجی صرف ٹاسک فورس آن الیکٹرسٹی نہیں تھی۔ ہماری ذمہ داری صرف بجلی تک محدود نہیں تھی۔ ہم پورے توانائی کے شعبے کو درست کرنے کی پلاننگ کر رہے تھے، جس میں بجلی، تیل، قدرتی گیس، پن بجلی، کوئلہ، توانائی کی منصوبہ بندی، طلب و رسد، درآمدی انحصار، مقامی وسائل اور مستقبل کی توانائی کی حکمت عملی سب شامل تھے۔ مقصد صرف چند پاور پلانٹس لگانا نہیں بلکہ پاکستان کے لیے ایک جامع توانائی پالیسی کی بنیاد رکھنا تھا۔”
انہوں نے مزید کہا:
“اگر بعد میں آنے والی حکومتیں اسی وژن کے مطابق آگے بڑھتیں، ٹرانسمیشن سسٹم کو مضبوط کرتیں، مقامی توانائی کے ذرائع خصوصاً پن بجلی کو ترجیح دیتیں، تیل اور درآمدی ایندھن پر انحصار بتدریج کم کرتیں اور صرف حقیقی ضرورت کے مطابق نئے منصوبے لگاتیں تو آج پاکستان کی صورت حال بالکل مختلف ہوتی۔”
انہوں نے اپنی بات سمجھاتے ہوئے ایک مثال دی:
“قائداعظم محمد علی جناح نے پاکستان بنایا اور اس کے لیے ایک واضح وژن دیا۔ اگر آج پاکستان کو مسائل کا سامنا ہے تو کیا اس کا مطلب یہ ہے کہ قائداعظم کا تصور غلط تھا؟ ہرگز نہیں۔ ذمہ داری ان لوگوں پر عائد ہوتی ہے جنہوں نے بعد میں ملک چلایا۔ اسی طرح میری ذمہ داری ایک پالیسی تیار کرنے اور ایک سمت متعین کرنے تک تھی۔ اس کے بعد اس پر عمل درآمد، اس کا جائزہ لینا، وقت کے مطابق تبدیلیاں کرنا اور اسے قومی مفاد کے مطابق آگے بڑھانا بعد میں آنے والی حکومتوں اور ریاستی اداروں کی ذمہ داری تھی۔”
انہوں نے آخر میں کہا
“میرا آج بھی یہی یقین ہے کہ اگر ہماری پالیسی کی اصل روح پر عمل کیا جاتا تو پاکستان نہ صرف بجلی کے بحران سے بہت پہلے نکل چکا ہوتا بلکہ توانائی کے شعبے میں آج ایک کامیاب مثال بن چکا ہوتا۔”
(جاری ہے۔ باقی آئندہ)

3
Views
76
19
تمام اقساط پڑھیے

مزید مضامین

قسط نمبر 40

قسط نمبر 40

🔳 پاکستان میں آئی پی پیز (IPPs) لگانے کے تصور کے خالق شاہد حسن خان سے ایک انٹرویو

قسط نمبر 39

قسط نمبر 39

🔳طویل عرصہ پس منظر میں رہنے والے، پاکستان کی 1994 کی پاور پالیسی کے خالق (Architect) اور ملک میں نجی بجلی گھروں (IPPs) کے موجودہ ماڈل کی بنیاد رکھنے والے شاہد حسن خان سے میری ایک ڈرامائی ملاقات

قسط نمبر 38

قسط نمبر 38

🔳 سلمان فاروقی اور وزارتِ پانی و بجلی کے وہ فیصلے جنہوں نے آنے والی ہر حکومت کے ہاتھ باندھ دیے اور ملک کو کیپیسٹی پیمنٹ، ڈالر انڈیکسیشن، امپورٹڈ ایندھن، حکومتی گارنٹی اور Take or Pay جیسے معاہدوں کے ایسے چکر (Vicious Cycle) میں ڈال دیا جس سے پاکستان آج تک باہر نہیں نکل سکا۔

قسط نمبر 37

قسط نمبر 37

🔳 یہ پاک چین دوستی نہیں ہے بلکہ دوستی کے نام پر Economic Hitmanship کا کلاسک کیس دکھائی دیتا ہے یعنی ایسا معاشی جال جس میں سستے منصوبے مہنگے کر کے بیچے جائیں، منافع ڈالروں میں وصول کیا جائے اور طویل مدت (جیسا کہ 30 سالہ) مشکوک معاہدوں کے ذریعے کسی ملک کو مالی طور پر جکڑ دیا جائے۔ ( قارئین سے گزارش ہے کہ Economic Hitmanship کی اصطلاح ضرور سمجھیں اس سے یہ پوری کہانی واضح ہو جائے گی۔)

قسط نمبر 36

قسط نمبر 36

🔳 کراچی کے کروڑوں شہری پینے کے صاف پانی کی قلت اور ٹینکر مافیا کے رحم و کرم پر ہیں مگر اسی شہر کے ساحل پر پورٹ قاسم کول پاور پلانٹ کے لیے روزانہ لاکھوں گیلن پانی مہنگے ڈی سیلینیشن اور ڈی منرلائزیشن کے عمل سے گزار کر بوائلرز کو پلایا جا رہا ہے، کیونکہ کھارا پانی پلانٹ کے لیے نقصان دہ ہے۔