Home

ٹاسک فورس آن انرجی کے اراکین اور 1994 کی پاور...

ٹاسک فورس آن انرجی کے اراکین اور 1994 کی پاور...
شاہد حسن خان کی سربراہی میں قائم اس ٹاسک فورس کے اراکین کے نام، جنہوں نے پاکستان میں نجی شعبے کے ذریعے بجلی کی پیداوار (IPPs) کی بنیاد رکھی، جس نے آنے والے وقتوں میں ملک کے پورے معاشی اور توانائی کے منظرنامے کو بدل کر رکھ دیا۔
درحقیقت یہ وہ لوگ ہیں جنہوں نے 1994 کی پاور پالیسی کا اصل فریم ورک تیار کیا۔ اس قسط میں ہم پہلی مرتبہ اس اصل ٹیم کا تفصیلی تعارف کروا رہے ہیں۔
عوامی تحقیقاتی سلسلہ | قسط 42
موضوع: پاکستان کا بجلی کا نظام کیسے ٹھیک ہوگا؟
عنوان: ٹاسک فورس آن انرجی کے اراکین اور 1994 کی پاور پالیسی میں ان کا کردار
🔺 جب ادارے حقائق کی فراہمی سے گریزاں ہوں تو سچ تک پہنچنے کی کوشش عوامی ذمہ داری بن جاتی ہے۔
تحریر و تحقیق: سید شایان
گزشتہ تین اقساط میں آپ نے شاہد حسن خان کے ساتھ میری تفصیلی گفتگو، 1994 کی پاور پالیسی کے پس منظر، آئی پی پیز کے قیام، ان پر عائد الزامات اور ان الزامات کے جواب میں شاہد حسن خان کا مؤقف ملاحظہ کیا۔
اب اس سلسلے کی چوتھی قسط میں ہم شاہد حسن خان کی پوری ٹیم کا تعارف کروائیں گے اور دیکھیں گے کہ سابق وزیرِ اعظم بے نظیر بھٹو کی ٹاسک فورس برائے توانائی میں کون کون شامل تھا، مختلف ذیلی کمیٹیوں کے ارکان کون تھے، کس شعبے کے ماہرین کو کس ذمہ داری کے لیے منتخب کیا گیا تھا اور پالیسی کی تیاری میں ہر کمیٹی کا کردار کیا تھا۔
اس قسط میں ہم ہر کمیٹی کا الگ الگ تعارف بھی پیش کریں گے، اس کے ارکان، ان کی ذمہ داریاں اور ان کے سپرد کیے گئے کام کو اصل دستاویزات کی روشنی میں قارئین کے سامنے رکھیں گے، تاکہ یہ واضح ہو سکے کہ 1994 کی پاور پالیسی کسی ایک فرد کی نہیں بلکہ مختلف شعبوں کے ماہرین پر مشتمل ایک منظم ٹاسک فورس کی مشترکہ کاوش تھی۔
🔘 شاہد حسن خان کی سربراہی میں قائم ٹاسک فورس آن انرجی (Task Force on Energy) بنیادی طور پر 12 اراکین پر مشتمل تھی، جس کا نوٹیفکیشن اکتوبر 1993 میں جاری کیا گیا۔ بعد میں اس کے دائرۂ کار اور تکنیکی کام کو وسعت دینے کے لیے مختلف شعبوں اور کمیٹیوں میں مزید 23 اراکین کو کوآپٹ (Co-opt) کیا گیا۔ تاہم یہ 35 الگ الگ افراد نہیں تھے، کیونکہ بعض اراکین ایک سے زیادہ کمیٹیوں اور ذیلی گروپس میں بھی شامل تھے۔
اس ہائی پاورڈ ٹاسک فورس کے 12 کلیدی اراکین، جنہوں نے 1994 کی پاور پالیسی کا فنانشل اور ٹیکنیکل فریم ورک تیار کیا، میں درج ذیل نمایاں نام شامل تھے:
️ٹاسک فورس کے بنیادی اراکین (Key Members)
1۔ شاہد حسن خان
چیئرمین
وزیرِ اعظم کے خصوصی معاون برائے اقتصادی امور و انرجی
پوری پالیسی کے وژن، سمت اور سیاسی بیکنگ کے ذمہ دار
2۔ سلمان فاروقی
‏Secretary General
‏Ministry of Water and Power
نوٹ: اصل نوٹیفکیشن میں صرف عہدہ لکھا ہے، نام نہیں دیا گیا۔
پالیسی کے عملی نفاذ کے مرکزی بیوروکریٹ۔ انتظامی طاقت اور ریاستی مشینری ان کے ذریعے چل رہی تھی۔
وزارتِ پانی و بجلی کے سیکرٹری کی حیثیت سے سلمان فاروقی نے 1994 کی پاور پالیسی پر عمل درآمد میں مرکزی انتظامی کردار ادا کیا۔ وہ پاکستان کی انتظامی تاریخ کے بااثر ترین بیوروکریٹس میں شمار ہوتے ہیں۔
3۔ ایڈیشنل سیکرٹری پٹرولیم
‏Ministry of Petroleum and Natural Resources
نوٹ: اصل نوٹیفکیشن میں یہاں نام نہیں، صرف عہدہ درج ہے۔
لیکن ریکارڈ کے مطابق اکتوبر 1993ء میں ٹاسک فورس کے قیام کے وقت سید نصیر احمد وزارتِ پٹرولیم و قدرتی وسائل کے ایڈیشنل سیکرٹری انچارج تھے۔
ان کا کردار دو حوالوں سے اہم تھا: نجی پاور پلانٹس کے لیے فرنس آئل یا گیس کی فراہمی یقینی بنانا اور بجلی کے ٹیرف میں فیول انڈیکسیشن (Fuel Indexation) کے طریقۂ کار کی تیاری اور منظوری میں کردار ادا کرنا۔
4۔ چیئرمین واپڈا
نوٹ: اصل نوٹیفکیشن میں یہاں بھی نام درج نہیں، صرف عہدہ درج ہے۔
لیکن رپورٹ کے Annexure 1.2 میں Chairman WAPDA کے طور پر ممتاز حمید کا نام درج ہے۔
واپڈا کے چیئرمین کی حیثیت سے ممتاز حمید نے نجی پاور پلانٹس کے ساتھ پاور پرچیز ایگریمنٹس (PPAs) کے فریم ورک، ٹیک یا پے (Take or Pay) ماڈل اور قومی گرڈ کی اضافی بجلی سنبھالنے کی صلاحیت کے جائزے میں اہم کردار ادا کیا۔
5۔ ڈاکٹر گلفراز احمد
چیئرمین او جی ڈی سی
ان کا بنیادی کردار او جی ڈی سی کے چیئرمین کی حیثیت سے مقامی تیل و گیس کے ذخائر، گیس کی دستیابی اور نجی پاور پلانٹس کے لیے ممکنہ فیول سپلائی کے بارے میں تکنیکی مشاورت فراہم کرنا تھا۔ وہ ٹیرف یا پاور پرچیز معاہدوں کے براہِ راست ذمہ دار نہیں تھے۔
ڈاکٹر گلفراز احمد بعد میں نیپرا (NEPRA) کے بانی چیئرمین مقرر ہوئے اور پاکستان کے پاور سیکٹر کی ریگولیٹری پالیسی کی تشکیل میں اہم کردار ادا کیا۔ ان کی تقرری سے ظاہر ہوتا ہے کہ ٹاسک فورس کے اراکین کو بعد میں پالیسیوں پر عمل درآمد کے لیے بھی اہم ترین عہدے دیے گئے۔
6۔ اشفاق محمود، سینئر چیف انرجی، پلاننگ کمیشن
لانگ ٹرم انرجی پلاننگ کے ذمہ دار۔
انہوں نے طے کیا کہ پاکستان کو کتنی بجلی چاہیے اور کس ذریعے سے۔
اشفاق محمود اس ٹاسک فورس کے اہم ترین ٹیکنوکریٹس میں سے ایک تھے، جو بعد میں سیکرٹری پانی و بجلی کے اعلیٰ عہدے تک بھی پہنچے۔
بحیثیت سینئر چیف انرجی، ان کا کام یہ دیکھنا تھا کہ نجی شعبے کو دی جانے والی مراعات پاکستان کے پانی و بجلی کے پانچ سالہ ترقیاتی منصوبوں کے مطابق ہیں یا نہیں۔
انہوں نے اس بات کا فریم ورک تیار کرنے میں کردار ادا کیا کہ ملک کو اگلے 5 سے 10 سال میں کتنے میگاواٹ بجلی درکار ہوگی اور اس میں پن بجلی (Hydropower) اور ایندھن سے پیدا ہونے والی بجلی (Thermal Power) کا تناسب کیا ہونا چاہیے۔ واضح رہے کہ ہائیڈل (سرکاری) اور تھرمل (نجی) سمجھی جاتی ہے۔
7۔ ڈائریکٹر جنرل، پٹرولیم کنسیشنز
‏Director General, Petroleum Concessions
معاصر صنعتی ریکارڈز کے مطابق 1994 میں یہ عہدہ شاہد احمد کے پاس تھا، اگرچہ سرکاری پالیسی دستاویز میں صرف عہدہ درج ہے۔
انہوں نے آئی پی پیز کے لیے گیس اور فرنس آئل کی فراہمی، درآمد اور پٹرولیم کنسیشنز کے قانونی فریم ورک کو پاور پالیسی سے جوڑنے میں کلیدی کردار ادا کیا۔
یہ عہدہ اس لیے اہم تھا کہ تیل و گیس کی تلاش اور نجی کمپنیوں کو بلاکس الاٹ کرنے کے معاملات اسی کے دائرۂ اختیار میں آتے تھے۔
8۔ زاہد مظفر (فنانشل ایکسپرٹ)
بین الاقوامی سرمایہ کاری کے ماہر۔
ڈالر انڈیکسیشن اور Return on Equity جیسے حساس فارمولے انہی کے دائرۂ کار میں آئے۔
زاہد مظفر آئل اینڈ گیس سیکٹر کے ایک انتہائی منجھے ہوئے فنانشل ایکسپرٹ اور انٹرنیشنل بزنس ڈویلپر تھے۔ بعد کے سالوں میں وہ او جی ڈی سی ایل کے چیئرمین اور وزارتِ پٹرولیم کے مشیر بھی رہے۔
ٹاسک فورس میں ان کی شمولیت کا بنیادی مقصد انٹرنیشنل فنانسنگ کا راستہ کھولنا تھا۔ وہ نجی شعبے اور بین الاقوامی مالیاتی اداروں، جیسے اوپیک اور آئی ایف سی، کے مابین فنانشل ماڈلنگ کو سمجھتے تھے اور ممکنہ طور پر انہوں نے ٹیرف کی ڈالر انڈیکسیشن اور سرمایہ کاروں کے منافع (Return on Equity) کے فارمولے کو بین الاقوامی سرمایہ کاری کے معیار کے مطابق ڈھالنے میں مدد کی۔
9۔ ایم آر زبیری
ایگزیکٹو وائس پریزیڈنٹ، کریسنٹ گروپ
انہوں نے تجویز کیا کہ پاکستانی نجی شعبہ کن شرائط پر اس ماڈل میں آئے گا۔
روایتی بیوروکریسی سے ہٹ کر شاہد حسن خان نے پاکستان کے بڑے نجی کاروباری گروپس کو بھی میز پر بٹھایا تاکہ وہ بتا سکیں کہ پاکستانی صنعت کار اور سرمایہ کار اس پالیسی سے کیا توقع رکھتے ہیں۔
کریسنٹ گروپ اس دور میں ٹیکسٹائل، فنانس اور انرجی کے شعبوں میں ایک بڑا نام تھا۔ ایم آر زبیری نے بحیثیت کارپوریٹ ایگزیکٹو اس بات کی نشاندہی کی کہ مقامی نجی شعبے کو بینکوں سے قرضے لینے (Debt to Equity Ratio) اور مقامی سطح پر فنڈز اکٹھے کرنے میں کن انتظامی رکاوٹوں کا سامنا ہے، جنہیں دور کرنا پالیسی کی کامیابی کے لیے ضروری تھا۔
10۔ ڈاکٹر اے رزاق داؤد
مینیجنگ ڈائریکٹر، ڈیسکون انجینئرنگ پرائیویٹ لمیٹڈ
ڈیسکون (Descon) کے سربراہ کی حیثیت سے انہوں نے نجی شعبے، خصوصاً انجینئرنگ اور تعمیرات، کی نمائندگی کی۔ بعد میں وہ مختلف حکومتوں میں وفاقی وزیر اور مشیرِ تجارت و سرمایہ کاری بھی رہے۔
11۔ تنویر اظہر
جنرل مینیجر، نیسپاک
بعد میں پاور پرچیز انفراسٹرکچر بورڈ (PPIB) کے پہلے سربراہ بنے، یعنی پالیسی بنانے کے بعد اس پر عمل درآمد بھی انہی کے سپرد ہوا۔
تنویر اظہر نیسپاک کے جنرل منیجر کی سطح تک پہنچنے والے ممتاز الیکٹریکل انجینئر اور توانائی کے ماہر تھے۔ انہوں نے 1991 میں پاکستان کے توانائی کے شعبے پر اہم کتاب The Quest for Power: Pakistan Policy Options for the Nineties لکھی۔ شاہد حسن خان نے انہیں ٹاسک فورس آن انرجی میں شامل کیا، جہاں انہوں نے نئی نجی بجلی پالیسی کی تیاری میں اہم کردار ادا کیا۔ بعد ازاں وہ پرائیویٹ پاور اینڈ انفراسٹرکچر بورڈ (PPIB) کے پہلے ڈائریکٹر جنرل مقرر ہوئے۔ شاہد حسن خان انہیں توانائی کے شعبے کا غیر معمولی ماہر سمجھتے تھے اور انہوں نے مجھے بھی ان کی یہ کتاب لازماً پڑھنے کا مشورہ دیا۔
12۔ داؤد بیگ
ممبر سیکرٹری، ٹاسک فورس
وزارتِ پانی و بجلی میں ایڈیشنل سیکرٹری پاور تھے۔ ٹاسک فورس کے ممبر سیکرٹری کی حیثیت سے اجلاسوں کا انعقاد، اراکین اور ورکنگ گروپس کے درمیان کوآرڈینیشن (Coordination) اور مختلف تکنیکی سفارشات کو یکجا کرکے حتمی رپورٹ کی تدوین و ترتیب میں اہم کردار ادا کیا۔
🔘 سب کمیٹیاں (Sub-Committees)
اس ٹاسک فورس کو مزید تین بڑی ٹیکنیکل کمیٹیوں میں تقسیم کیا گیا تھا تاکہ کام 6 ہفتوں کی ڈیڈ لائن میں مکمل ہو سکے:
1۔ پاور سب کمیٹی (Power Sub-Committee)
2۔ پرائیویٹ سیکٹر پارٹیسپیشن کمیٹی (Private Sector Participation Committee)
3۔ آئل اینڈ گیس سب کمیٹی (Oil & Gas Sub-Committee)
ان کمیٹیوں میں ورلڈ بینک (World Bank) اور ایشیائی ترقیاتی بینک (ADB) کے نمائندوں کو بھی بطور مبصر اور مشیر شامل کیا گیا تھا تاکہ فنانسنگ ماڈل کو بین الاقوامی بینکوں کے لیے “بینک ایبل” (Bankable) بنایا جا سکے، جس کا نتیجہ اسی امپورٹڈ فیول ماڈل کی صورت میں نکلا۔
ہر سب کمیٹی کے نمایاں ممبران کے نام یہ ہیں:
پاور سب کمیٹی (Power Sub-Committee)
تنویر اظہر
ڈاکٹر زیڈ فکری
ایم آر زبیری
ممتاز حمید
سلمان خالق
اے رشید کاکڑ
اشفاق محمود
یہ کمیٹی بنیادی طور پر Generation Expansion (بجلی کی پیداواری صلاحیت میں اضافہ)، Fuel Mix (ایندھن کے امتزاج) اور ٹیرف و Capacity Payments (کیپیسٹی پیمنٹس) کے ڈھانچے پر کام کر رہی تھی۔
پرائیویٹائزیشن آف پاور سب کمیٹی
ڈاکٹر اے رزاق داؤد
داؤد بیگ
ایم آر زبیری
میاں اعظم سہگل
ممتاز حمید
ڈاکٹر شاہد کے حق
شاہد حفیظ احمد
شاہد ستار
اس کمیٹی کی سطح پر نجی سرمایہ کاروں کے لیے مراعات، منافع کی شرح، Sovereign Guarantees اور Payment Security کا فریم ورک تیار کیا گیا۔
آئل اینڈ گیس سب کمیٹی
شاہد احمد
سلیم ذوالفقار
ڈاکٹر گلفراز احمد
ڈاکٹر شاہد کے حق
کریم محمود
احمد مسعود
زاہد مظفر
اس کمیٹی نے IPPs کی فیول سپلائی، یعنی گیس اور درآمدی فرنس آئل سے متعلق قانونی اور کمرشل انتظامات میں اہم کردار ادا کیا۔
اس ٹاسک فورس کے ساتھ ساتھ شمس الملک، ممبر پاور اور بعد میں چیئرمین واپڈا، اور پرویز بٹ، سابق چیئرمین KANUPP/PAEC، جیسے تکنیکی ماہرین نے پاور سیکٹر کے نقطۂ نظر سے مشاورتی کردار ادا کیا، جبکہ اُس وقت کے چیئرمین سنٹرل بورڈ آف ریونیو (CBR) نے IPPs کے لیے کسٹم ڈیوٹی اور انکم ٹیکس میں چھوٹ کے فریم ورک پر کام کیا، اور کارپوریٹ لا اتھارٹی (CLA) کے چیئرمین میاں ممتاز عبداللہ نے غیر ملکی کمپنیوں کی رجسٹریشن اور ڈالر انڈیکسیشن والے معاہدوں کے لیے قانونی سہولت فراہم کی۔ اس طرح 1994 کے ماڈل میں تکنیکی، مالیاتی، ریونیو اور کارپوریٹ ریگولیشن کو ایک سرمایہ کار دوست، امپورٹڈ فیول بیسڈ پاور ماڈل کے طور پر پیش کیا گیا۔
🔘 اس فہرست سے واضح ہوتا ہے کہ ٹاسک فورس میں سرکاری افسران، پبلک سیکٹر اداروں اور بڑے نجی کاروباری گروپوں کے نمائندے شامل تھے۔ اس طرح پاور پالیسی کی تیاری میں حکومت اور نجی کاروباری حلقے دونوں براہِ راست شریک تھے۔
مزید اہم سوال یہ ہے کہ بعض ایسے کاروباری گروپوں کے نمائندے بھی پالیسی سازی کے اس عمل میں شریک تھے، جن کے متعلق بعد میں بجلی کے منصوبوں یا آئی پی پیز میں حصہ لینے کی معلومات سامنے آتی ہیں۔
اگر پالیسی بنانے والے افراد یا ان سے وابستہ کاروباری ادارے بعد میں اسی پالیسی سے مالی فائدہ حاصل کریں تو یہ Conflict of Interest کا ایک سنجیدہ معاملہ بن جاتا ہے۔
ایسی صورت میں یہ خدشہ جنم لیتا ہے کہ پالیسی واقعی عوامی اور قومی ضرورت کے تحت بنائی گئی تھی یا اس میں بعض مخصوص کاروباری مفادات کو بھی فائدہ پہنچایا گیا۔ معاشی اصطلاح میں اس نوعیت کی صورتِ حال کو بعض اوقات Regulatory Capture یا Revolving Door سے تعبیر کیا جاتا ہے، تاہم اس کا حتمی تعین ٹھوس شواہد کی بنیاد پر ہی کیا جا سکتا ہے۔
جیسا کہ پاور سیکٹر کی نجکاری کے لیے بنائی گئی ذیلی کمیٹی کی سربراہی عبدالرزاق داؤد کے پاس تھی، جو اس وقت ڈیسکون انجینئرنگ کے منیجنگ ڈائریکٹر تھے۔ اسی کمیٹی میں سہگل گروپ اور کریسنٹ گروپ کے نمائندے بھی شامل تھے۔
اہم بات یہ ہے کہ سہگل گروپ کے نمائندے میاں اعظم سہگل پالیسی سازی میں شریک تھے اور بعد میں اسی گروپ نے 1994 کی پاور پالیسی کے تحت کوہ نور انرجی کے نام سے آئی پی پی قائم کیا۔ اس سے مفادات کے ٹکراؤ کا سنجیدہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ جو لوگ پالیسی بنانے میں شامل تھے، بعد میں وہی اس پالیسی سے کاروباری فائدہ اٹھانے والوں میں بھی شامل ہوگئے۔
اسی طرح عبدالرزاق داؤد کو ٹاسک فورس میں نجی صنعتی اور انجینئرنگ شعبے کے نمائندے کے طور پر شامل کیا گیا تھا۔ تاہم ان کی اپنی کمپنی ڈیسکون کا بنیادی کاروبار بجلی گھروں اور دیگر صنعتی منصوبوں کی انجینئرنگ، آلات کی فراہمی اور تعمیر تھا۔ بعد کے برسوں میں ڈیسکون نے اسی پاور سیکٹر میں EPC، آپریشن اور مینٹیننس کے کنٹریکٹس حاصل کیے اور 2006 میں 1994 کی پاور پالیسی کے تحت قائم ہونے والا Altern Energy آئی پی پی بھی خرید لیا۔ اس لیے ان کی پالیسی سازی میں شرکت بھی Conflict of Interest کا سوال اٹھاتی ہے۔
اسی طرح سرکاری عہدوں سے سبکدوش ہونے کے بعد متعلقہ کمیٹیوں کے بعض ارکان کی نجی کمپنیوں میں شمولیت کا رجحان بھی سامنے آتا ہے، جسے اصطلاحاً “ریوالونگ ڈور” کہا جاتا ہے۔ اس سے مراد یہ ہے کہ کوئی شخص پہلے پالیسی بناتا ہے یا اس کے نفاذ میں شریک رہتا ہے اور بعد میں اسی پالیسی سے فائدہ اٹھانے والے نجی شعبے کا حصہ بن جاتا ہے۔
ٹاسک فورس سے وابستہ بعض اہم شخصیات کے نام بھی بعد کے برسوں میں نجی آئی پی پیز کے ساتھ منسلک نظر آتے ہیں۔ مثال کے طور پر SDPI کی ایک تحقیق میں ٹاسک فورس کے چیئرمین شاہد حسن خان کا نام امریکی توانائی کمپنی AES اور اعلیٰ سرکاری افسر سلمان فاروقی کا نام Uch Power کے ساتھ درج کیا گیا ہے۔
تاہم ان تعلقات کی نوعیت، عہدوں اور مدت کی مکمل تفصیل ابھی واضح نہیں۔ اس لیے میں اس بارے میں حتمی رائے قائم کرنے سے پہلے شاہد حسن خان کا مؤقف بھی معلوم کرنا چاہوں گا کہ آیا وہ یا ٹاسک فورس سے وابستہ دیگر افراد بعد میں نجی پاور کمپنیوں سے کس نوعیت کے تعلق میں رہے تھے
پڑھنے والوں کی معلومات کے لیے واضح رہے کہ AES ایک امریکی توانائی کمپنی تھی، جس نے پاکستان میں Lal Pir اور Pak Gen کے نام سے دو آئی پی پیز قائم کیے تھے۔ 2010 میں میاں محمد منشا کے نشاط گروپ کی قیادت میں ایک پاکستانی کنسورشیم نے یہ دونوں پلانٹس خرید لیے، جس کے بعد یہ نشاط گروپ کی ملکیت میں آگئے۔
جاری ہے۔۔۔ باقی آئندہ قسط میں
1
Views
61
15
تمام اقساط پڑھیے

مزید مضامین

قسط نمبر 41

قسط نمبر 41

🔳 پاکستان میں آئی پی پیز (IPPs) کے تصور کے خالق اور ابتدائی آئی پی پی معاہدوں کی شرائط تیار کرنے والے شاہد حسن خان سے انٹرویو (پارٹ تھری)

قسط نمبر 40

قسط نمبر 40

🔳 پاکستان میں آئی پی پیز (IPPs) لگانے کے تصور کے خالق شاہد حسن خان سے ایک انٹرویو

قسط نمبر 39

قسط نمبر 39

🔳طویل عرصہ پس منظر میں رہنے والے، پاکستان کی 1994 کی پاور پالیسی کے خالق (Architect) اور ملک میں نجی بجلی گھروں (IPPs) کے موجودہ ماڈل کی بنیاد رکھنے والے شاہد حسن خان سے میری ایک ڈرامائی ملاقات

قسط نمبر 38

قسط نمبر 38

🔳 سلمان فاروقی اور وزارتِ پانی و بجلی کے وہ فیصلے جنہوں نے آنے والی ہر حکومت کے ہاتھ باندھ دیے اور ملک کو کیپیسٹی پیمنٹ، ڈالر انڈیکسیشن، امپورٹڈ ایندھن، حکومتی گارنٹی اور Take or Pay جیسے معاہدوں کے ایسے چکر (Vicious Cycle) میں ڈال دیا جس سے پاکستان آج تک باہر نہیں نکل سکا۔

قسط نمبر 37

قسط نمبر 37

🔳 یہ پاک چین دوستی نہیں ہے بلکہ دوستی کے نام پر Economic Hitmanship کا کلاسک کیس دکھائی دیتا ہے یعنی ایسا معاشی جال جس میں سستے منصوبے مہنگے کر کے بیچے جائیں، منافع ڈالروں میں وصول کیا جائے اور طویل مدت (جیسا کہ 30 سالہ) مشکوک معاہدوں کے ذریعے کسی ملک کو مالی طور پر جکڑ دیا جائے۔ ( قارئین سے گزارش ہے کہ Economic Hitmanship کی اصطلاح ضرور سمجھیں اس سے یہ پوری کہانی واضح ہو جائے گی۔)