ساہیوال کول پاور، چین کی Huaneng Shandong Ruyi کے اشتراک سے قائم ہے، جبکہ پورٹ قاسم الیکٹرک پاور، چین کی PowerChina اور قطر کے Al Mirqab Capital کا مشترکہ منصوبہ ہے، جس میں چینی شراکت دار کا 51 فیصد اور قطری شراکت دار کا 49 فیصد حصہ ہے۔
🔘 محمد علی کمیٹی کی 2020 کی رپورٹ نے نہ صرف آئی پی پیز (IPPs) کو دی جانے والی رقوم اور مراعات کا پردہ چاک کیا بلکہ یہ بھی بتایا کہ بجلی کے شعبے میں فیصلے کیسے ہوتے رہے، آئی پی پیز کو کس طرح ادائیگیاں کی گئیں اور کن شرائط نے عوام پر بجلی کا بوجھ بڑھایا۔
اس رپورٹ نے بجلی کے شعبے کے ایسے اندرونی میکانزم کو بے نقاب کیا جن سے عام لوگ، ماہرینِ معاشیات، معاشی مبصرین اور تجزیہ کار بھی ناواقف تھے۔
🔘 اس رپورٹ کے سب سے زیادہ حیران کن اور دہلا دینے والے 5 حقائق یہ ہیں۔
1۔ معاہدوں کے تحت آئی پی پیز کو ایندھن، یعنی فرنس آئل یا گیس، کی بنیاد پر بجلی پیدا کرنے کے لیے کارکردگی کی ایک طے شدہ شرح دی گئی تھی، جسے Heat Rate Efficiency کہا جاتا ہے۔
کمیٹی نے انکشاف کیا کہ پاور پلانٹس حقیقت میں کم ایندھن استعمال کرتے تھے مگر حکومت کو متعلقہ پورٹل پر زیادہ ایندھن کی لاگت کے بل بھیجتے تھے۔
اس طرح ان پلانٹس نے بچائے گئے ایندھن سے اربوں روپے کا غیر قانونی منافع کمایا، جس کا ریکارڈ نہ نیپرا کے پاس تھا اور نہ ہی سینٹرل پاور پرچیزنگ ایجنسی (CPPA-G) کے پاس۔
2۔ عام تاثر یہ تھا کہ سرمائے (Equity) پر 15 سے 17 فیصد تک منافع (ROE: Return on Equity) دیا جا رہا ہے، جو پہلے ہی عالمی معیار کے مقابلے میں غیر معمولی طور پر زیادہ تھا۔ لیکن رپورٹ میں سامنے آنے والی تکنیکی بے ضابطگیوں سے معلوم ہوا کہ بعض سرمایہ کاروں نے اپنی اصل ایکویٹی لگائی ہی نہیں تھی، یا ظاہر کردہ سرمائے کے مقابلے میں ایکویٹی بہت کم تھی، لیکن انہوں نے آپریشنل اخراجات اور پلانٹ کی لاگت (Capital Cost) کاغذات میں بڑھا چڑھا کر ظاہر کی، جسے Over-invoicing کہا جاتا ہے۔
اس کاغذی ہیر پھیر کے باعث بعض منصوبوں کا ڈالر پر مبنی حقیقی منافع 15 فیصد کے بجائے سالانہ 70 سے 80 فیصد تک جا پہنچا۔ یوں سرمایہ کار صرف 2 سے 3 سال میں اپنی لگائی ہوئی اصل رقم واپس حاصل کر چکے تھے، جبکہ معاہدے کی باقی تقریباً 22 سالہ مدت میں انہیں معمول کے اخراجات کے بعد غیر معمولی منافع حاصل ہوتا رہا۔
کاغذی طور پر سرمایہ زیادہ دکھانے اور حقیقت میں کم سرمایہ لگانے کے عمل کو Equity Squeezing کہا جاتا ہے۔ بعض مقامی آئی پی پیز نے بھی کم رقم لگا کر کاغذات میں سرمایہ کاری کہیں زیادہ ظاہر کی۔
3۔ حکومتی پاور پالیسی کے تحت تمام آئی پی پیز کو پلانٹ کی دیکھ بھال، یعنی آپریشن اور مینٹیننس (O&M)، کے لیے ڈالر میں الاؤنس دیا جاتا تھا۔
حقیقت یہ تھی کہ اکثر آئی پی پیز نے اپنی ہی ذیلی یا ملکیتی کمپنیوں (Subsidiaries) کو O&M کے ٹھیکے کم نرخوں پر دے رکھے تھے۔
حکومت سے آپریشن اینڈ مینٹیننس کے نام پر ڈالر میں وصول کی جانے والی رقم کا صرف 30 سے 40 فیصد پلانٹ پر خرچ ہوتا تھا، جبکہ باقی 60 فیصد رقم انہی مالکان کی ہولڈنگ کمپنیوں کو منافع کی صورت میں منتقل کر دی جاتی تھی۔
انتہا یہ ہے کہ پلانٹ چلانے کے اخراجات بھی عوام کے ذمے، دیکھ بھال کا بوجھ بھی عوام پر، اور اگر اصل خرچ اس سے کم نکل آئے تو بچی ہوئی رقم بھی مالکان کے منافع میں شامل ہو جائے۔ معاشی اصطلاح میں اسے Double Dipping کہا جاتا ہے، یعنی آم کے آم، گٹھلیوں کے دام والی صورت۔ ایسا انتظام دنیا میں شاذ و نادر ہی دیکھنے میں آتا ہے۔
4۔ محمد علی رپورٹ میں نشاندہی کی گئی کہ بعض پاور پلانٹس نے کمرشل آپریشن ڈیٹ (COD) میں ہیرا پھیری کر کے اپنی مکمل پیداواری صلاحیت کی جانچ کیے بغیر یا نامکمل ٹیسٹنگ کے باوجود Commercial Operation Date کا سرٹیفکیٹ حاصل کر لیا۔
اس کا خوفناک نتیجہ یہ نکلا کہ حکومت نے پلانٹس کے مکمل طور پر فعال نہ ہونے کے باوجود Capacity Payments کی مد میں اربوں روپے کی ادائیگیاں شروع کر دیں، حالانکہ یہ ادائیگیاں قانوناً مکمل ٹیسٹنگ کے بعد ہی شروع ہونی چاہیے تھیں۔
5۔ کمیٹی نے پایا کہ کئی آئی پی پیز نے اپنے پلانٹس کی تعمیر کے لیے مقامی یا غیر ملکی بینکوں سے جس شرحِ سود، یعنی KIBOR یا LIBOR، پر قرض حاصل کرنا ظاہر کیا تھا، بعد میں قرضوں کی تنظیمِ نو (Restructuring) کے ذریعے وہ شرح کم کروا لی۔
اس کے باوجود حکومت سے ادائیگیاں پرانی اور زیادہ شرحِ سود کے مطابق ہی وصول کی جاتی رہیں۔ شرحِ سود میں کمی کا فائدہ قومی خزانے کو منتقل کرنے کے بجائے براہِ راست مالکان کے منافع میں شامل کر لیا گیا۔
کمیٹی نے یہ بھی پایا کہ کئی آئی پی پیز نے اپنے پلانٹس کی تعمیر کے لیے مقامی اور بین الاقوامی قرضوں (Debt Financing) سے بھی خوب فائدہ اٹھایا۔ بینکوں سے شرحِ سود کم کروا لی گئی، لیکن حکومت سے ادائیگیاں پرانی اور زیادہ شرح کے مطابق وصول کی جاتی رہیں۔ یعنی قرض بھی رعایتی اور وصولی بھی پوری۔
🔘 محمد علی رپورٹ میں 18 بڑے آئی پی پیز کے پاور پلانٹس کی تعمیری لاگت، انوائسنگ، سرمایہ کاری اور منافع سے متعلق پیش کیے گئے اعداد و شمار اور مشاہدات نے بعض بڑے سرمایہ کار گروپس کے کردار پر سنگین سوالات اٹھاۓ ہیں اگر یہ مشاہدات درست ثابت ہوتے ہیں تو یہ پاکستان کے پاور سیکٹر کی تاریخ کے اہم ترین انکشافات میں شمار کیے جا سکتے ہیں۔
یہ وہ پاور پلانٹس ہیں جن کی ملکیت پاکستان کے معروف اور بڑے کاروباری و صنعتی گروپس کے پاس ہے، جن کے مالکان ملک کے بااثر اور نمایاں صنعت کاروں میں شمار ہوتے ہیں۔ اگر محمد علی رپورٹ میں ان منصوبوں کی تعمیری لاگت، انوائسنگ، سرمایہ کاری اور منافع سے متعلق اٹھائے گئے سوالات درست ثابت ہوتے ہیں، اور یہ ثابت ہو جائے کہ لاگت بڑھا چڑھا کر ظاہر کی گئی، حسابات میں ہیر پھیر کی گئی یا معاہدوں کے ذریعے ناجائز مالی فوائد حاصل کیے گئے، تو پھر ایسے منصوبوں کو مزید رعایت دینے کا اخلاقی اور قانونی جواز کیا رہ جاتا ہے؟
ان کمپنیوں کے معاملات نیب اور دیگر اداروں کے سامنے بھی آئے اور تحقیقات بھی ہوئیں، مگر فوجداری مقدمات قائم کرنے اور سزا دینے کے بجائے معاملہ صرف مذاکرات (Negotiations) تک محدود رکھا گیا۔ گویا حکومت نے ان سے کہا کہ سابقہ حکومتوں نے آپ کے ساتھ جو معاہدے کیے تھے، وہ غلط اور عوام دشمن تھے، اس لیے اب آپ ان معاہدوں میں کچھ کمی کر دیں، مدت گھٹا دیں، منافع میں تھوڑی رعایت دے دیں اور اس کے بدلے ہم آپ کے خلاف کوئی سخت قانونی کارروائی نہیں کریں گے۔
حالانکہ ایک سمجھدار حکومت کو ان تمام کمپنیوں کو بٹھا کر صاف کہنا چاہیے تھا کہ آپ نے 30 سال میں جتنا منافع حاصل کرنا تھا، وہ اوور انوائسنگ، بڑھا چڑھا کر دکھائی گئی لاگت اور بھاری ادائیگیوں کے ذریعے پہلے ہی حاصل کر چکے ہیں۔ اب حکومت آپ کے پاور پلانٹس قومی تحویل میں لے رہی ہے، اس لیے اپنا حساب لے کر یہاں سے چلے جائیں۔
یہ وہ موقع تھا جب عالمی عدالتیں بھی ان کمپنیوں کے حق میں آسانی سے کھڑی نہ ہوتیں، کیونکہ بین الاقوامی قانون بھی کرپشن، فراڈ اور غلط بیانی سے حاصل کیے گئے حقوق کو تحفظ نہیں دیتا۔
عالمی ثالثی (International Arbitration) کے خوف کی وجہ سے حکومتیں اکثر سخت قدم اٹھانے سے کتراتی ہیں۔ تاہم، بین الاقوامی قانون (مثلاً ICSID) میں بھی “Doctrine of Clean Hands” اور “Fraud/Corruption Vitiates Contracts” جیسے اصول موجود ہیں، جن کے تحت اگر کسی معاہدے کی بنیاد ہی غلط بیانی یا دھوکا دہی پر ہو تو اسے کالعدم قرار دیا جا سکتا ہے۔
یہ بین الاقوامی قانون کا ایک اہم پہلو ہے جس پر ہمارے ہاں بہت کم بحث ہوتی ہے۔ آئی پی پیز (IPPs) کے معاہدوں کی منسوخی یا تبدیلی کی بات ہوتے ہی عموماً آئی سی ایس آئی ڈی (ICSID)، سنگاپور انٹرنیشنل آربیٹریشن سینٹر (SIAC)، لندن کورٹ آف انٹرنیشنل آربیٹریشن (LCIA) اور ریکوڈک (Reko Diq) جیسے مقدمات کا خوف سامنے لایا جاتا ہے۔ حالانکہ بین الاقوامی ثالثی (International Arbitration) میں “Clean Hands Doctrine” اور “Fraud Vitiates Everything” جیسے تسلیم شدہ قانونی اصول بھی موجود ہیں۔ اگر حکومت کے پاس مضبوط شواہد اور فارنزک آڈٹ ہو تو یہی اصول پاکستان کے لیے مؤثر قانونی دفاع بن سکتے ہیں۔
محمد علی رپورٹ میں فارنزک آڈٹ کی واضح سفارش کی گئی تھی، لیکن یہ آڈٹ کیوں نہیں کرایا گیا؟ اس سوال کا جواب اُس وقت کی حکومت اور متعلقہ ذمہ داران ہی بہتر دے سکتے ہیں۔
نتیجتاً، وہ قانونی راستہ اختیار ہی نہیں کیا گیا جس کے ذریعے رپورٹ میں اٹھائے گئے سوالات کا عدالتی اور فارنزک بنیادوں پر جائزہ لیا جا سکتا تھا۔ اس کے برعکس، حکومت نے مذاکرات اور معاہدوں پر نظرِ ثانی (Renegotiation) کا راستہ اختیار کیا۔
چنانچہ ہوا یہ کہ طاقتور کاروباری گروپس نہ صرف کسی مؤثر قانونی کارروائی سے بچ گئے بلکہ اپنے پاور پلانٹس کے مالک بھی رہے، اور چند رعایتیں دے کر باقی معاہدے بھی برقرار رکھنے میں کامیاب ہو گئے۔ جبکہ یہ تاثر مزید مضبوط ہوا کہ قانون طاقتور کے سامنے بےبس ہے اور عوام ایک بار پھر بے سہارا نظر آئے۔
1993 سے 2026 تک پورے 33 سال گزر چکے ہیں۔ اس عرصے میں سات سے آٹھ حکومتیں بدلی گئیں ایک فوجی دور بھی آیا، وزرائے اعظم آئے اور گئے، پالیسیاں بدلنے کے دعوے بھی ہوتے رہے، مگر بجلی کے شعبے میں آئی پی پیز (IPPs) کا بنیادی مسئلہ آج بھی جوں کا توں ہمارے سامنے موجود ہے۔
اس سے بھی زیادہ افسوس ناک صورتحال یہ ہے کہ ان تینتیس برسوں میں کوئی ایک آواز بھی نہ اٹھی جو پوری قوم کو بروقت متنبہ کرتی کہ ہم آئی پی پیز کے ساتھ ایک ایسے راستے پر چل پڑے ہیں جس کی قیمت آنے والی نسلوں کو بھی ادا کرنا پڑ سکتی ہے؟ کیا ہم نے کبھی بحیثیتِ قوم نوشتۂ دیوار پڑھنے کی کوشش کی؟
آج کل میری نظروں کے سامنے مختار مسعود کی مایۂ ناز کتاب “آوازِ دوست” کے مضمون “قحط الرجال” کا یہ اقتباس بار بار سامنے آتا ہے ۔
“قحط میں موت ارزاں ہوتی ہے اور قحط الرجال میں زندگی۔ مرگِ انبوہ کا جشن ہو تو قحط، حیاتِ بے مصرف کا ماتم ہو تو قحط الرجال۔ ایک عالم موت کی ناحق زحمت کا، دوسرا زندگی کی ناحق تہمت کا۔ ایک سماں حشر کا، دوسرا محض حشرات الارض کا۔”
سو پیارے قارئین ! جو ہو چکا، اسے بدلا نہیں جا سکتا۔ لیکن جو ابھی باقی ہے، اسے ضرور بدلا جا سکتا ہے۔ اگر ہم نے آج بھی آئی پی پیز IPPs کے مسئلے پر سنجیدگی سے غور نہ کیا، اس کے اسباب کو نہ سمجھا اور اس کے پائیدار حل پر قومی اتفاق رائے پیدا نہ کیا، تو آنے والے برسوں میں اس کی قیمت شاید 1971 کے مشرقی پاکستان کے سانحے سے کہیں زیادہ بھاری ہو۔ اب وقت الزام تراشی کا نہیں، بلکہ اصلاح اور قومی مکالمے کا ہے۔
(جاری ہے۔ باقی اگلی قسط میں)