ختم یا تصفیہ شدہ مالی ذمہ داری: تقریباً 846 ملین ڈالر
ترک کمپنی کارکے کارادینیز کا ثالثی ایوارڈ، جو 2019 کے تصفیے کے بعد پاکستان پر واجب الادا نہیں رہا۔
🔺 نتیجہ
دستیاب معلومات کے مطابق پاکستان کے پاور اور توانائی کے شعبے سے متعلق درج شدہ قرضوں، واجبات اور کیے گئے معاہدوں پر اٹھنے والے اخراجات کا مجموعہ تقریباً 9.10 بلین ڈالر بنتا ہے
(تقریباً 25 کھرب 27 ارب روپے)۔
اس کے علاوہ ایران پاکستان گیس پائپ لائن منصوبے سے متعلق تقریباً 18 بلین ڈالر کا ممکنہ جرمانہ ایک الگ قانونی اور مالی خطرہ ہے
(تقریباً 49 کھرب 98 ارب روپے)۔
یہ بھی واضح رہے کہ ان تمام رقوم کی نوعیت ایک جیسی نہیں۔ بعض رقوم قرض ہیں، بعض بقایاجات ہیں، بعض مستقبل کی معاہداتی ذمہ داریاں ہیں، جبکہ بعض صرف ممکنہ قانونی دعوے ہیں۔ اس لیے ان سب کو ایک ہی قسم کا قرض قرار دینا درست نہیں ہوگا۔
🔳 عالمی بینکوں، مالیاتی اداروں اور پاکستانی بینکوں کی پاور اور توانائی کے شعبے میں فنانسنگ
مختلف ممالک سے متعلق قرضوں، بقایاجات اور ممکنہ واجبات کے بعد اب ہم ان اداروں کی طرف آتے ہیں جنہوں نے پاکستان کے پاور اور توانائی کے منصوبوں کے لیے قرض اور فنانسنگ فراہم کی۔
اس فہرست میں چار عالمی مالیاتی ادارے شامل ہیں:
1۔ عالمی بینک
2۔ ایشیائی ترقیاتی بینک
3۔ ایشیائی انفراسٹرکچر انویسٹمنٹ بینک
4۔ اسلامی ترقیاتی بینک
پانچواں بڑا ذریعہ پاکستان کے 18 مقامی بینکوں کا کنسورشیم ہے، جس نے پاور سیکٹر کے گردشی قرض کی ادائیگی اور پرانے بینک قرضوں کی ری اسٹرکچرنگ کے لیے فنانسنگ فراہم کی۔
اس حصے میں ہم دیکھیں گے کہ پاکستان کے پاور اور توانائی کے شعبے کے لیے کن اداروں نے کتنی فنانسنگ فراہم کی، اس میں سے کتنی رقم قرض کی صورت میں ہے، اور ان قرضوں اور واجبات کی موجودہ پوزیشن کیا ہے۔
یہ وضاحت ضروری ہے کہ کسی منصوبے کے لیے منظور شدہ فنانسنگ اور موجودہ واجب الادا قرض ایک ہی چیز نہیں۔ منظور شدہ رقم کا کچھ حصہ ابھی جاری نہ ہوا ہو سکتا ہے، جبکہ جاری شدہ قرض میں سے بعض اقساط واپس بھی کی جا چکی ہوتی ہیں۔ اس لیے اصل بقایا قرض معلوم کرنے کے لیے جاری کی گئی رقم، واپس کی گئی اقساط، سود اور باقی واجبات کو الگ الگ دیکھنا ضروری ہے۔