عوامی تحقیقاتی سلسلہ
قسط نمبر 47

پاکستان کا بجلی کا نظام کیسے ٹھیک ہوگا؟

عوامی تحقیقاتی سلسلہ | قسط 47 | بجلی بحران
🔳 لیجیے، مبارک ہو! ملک کی 11 بجلی کمپنیوں نے نیپرا کو اپنے تین ماہ کے حسابات پیش کر دیے ہیں۔ ان میں سے آٹھ کمپنیوں کا کہنا ہے کہ ان کے اخراجات اندازے سے زیادہ ہو گئے، اس لیے انہیں یہ رقم عوام کے آئندہ بجلی بلوں سے وصول کرنے کی اجازت دی جائے۔
نیپرا کے مطابق یہ رقم تقریباً 33 ارب 78 کروڑ روپے بنتی ہے۔ اگر نیپرا نے یہ مطالبہ من و عن منظور کر لیا تو ستمبر 2026 کے بلنگ ماہ میں بجلی کا بل اگست کے بلنگ ماہ کے مقابلے میں تقریباً ساڑھے 3 روپے فی یونٹ زیادہ ہو گا۔ اس میں تقریباً 2 روپے کا پرانا ریلیف ختم ہونے اور مزید 1 روپیہ 34 پیسے کی ممکنہ وصولی شامل ہے۔
ریگولیٹر کا بنیادی کام عوام کے مفادات کا تحفظ اور بجلی کمپنیوں کی کارکردگی کا احتساب ہے۔ لیکن نیپرا کا موجودہ طرزِعمل یہ تاثر دے رہا ہے کہ بجلی تقسیم کار کمپنیاں اور CPPA جو اعداد پیش کر دیں، نیپرا طویل دفتری کارروائی اور سماعت کے بعد انہی اخراجات کو صارفین کے بلوں میں منتقل کرنے کا راستہ نکال دیتا ہے۔
اپریل، مئی اور جون 2026 کے حساب میں ٹیسکو، کیسکو اور حیسکو کے اخراجات پہلے لگائے گئے اندازے سے کم نکلے۔ اگر پاکستان میں ہر بجلی کمپنی کا حساب الگ الگ رکھا جاتا تو سابق قبائلی اضلاع یعنی فاٹا، کوئٹہ و بلوچستان اور حیدرآباد ریجن کے صارفین کو بلوں میں اس مرتبہ کافی کمی مل سکتی تھی۔ لیکن ان کمپنیوں کے اخراجات کی کمی بھی قومی حساب میں شامل کرکے باقی کمپنیوں کے اضافی اخراجات میں برابر کر دی گئی۔
🔲 عوامی تحقیقاتی سلسلہ | قسط 47
موضوع: پاکستان کا بجلی کا نظام کیسے ٹھیک ہوگا؟
عنوان: عوام سے 33 ارب روپے کی وصولی، نیپرا کی دستاویزات میں تین مختلف رقمیں کیوں؟
🔺 جب ادارے حقائق صاف طور پر فراہم نہ کریں تو سچ تک پہنچنا عوام کی ذمہ داری بن جاتا ہے۔
تحریر و تحقیق: سید شایان
ملک میں بجلی تقسیم کرنے والی 11 سرکاری کمپنیوں (DISCOs) نے نیپرا کو اپنے تین ماہ کے حسابات، یعنی سہ ماہی ایڈجسٹمنٹ (Quarterly Tariff Adjustment — QTA)، پیش کیے ہیں۔ ان میں سے آٹھ کمپنیوں کا کہنا ہے کہ ان تین مہینوں میں ان کے اخراجات پہلے لگائے گئے اندازے سے زیادہ ہو گئے، اس لیے انہیں یہ اضافی رقم صارفین کے آئندہ بجلی بلوں سے وصول کرنے کی اجازت دی جائے۔
نیپرا کی ویب سائٹ پر دی گئی مجموعی رقم تقریباً 33 ارب 78 کروڑ روپے ہے۔ اگر نیپرا نے یہ رقم وصول کرنے کی اجازت دے دی تو صارفین پر تقریباً 1 روپیہ 34 پیسے فی یونٹ کا نیا بوجھ پڑ سکتا ہے۔
لیکن ستمبر کا بل صرف 1 روپیہ 34 پیسے فی یونٹ ہی مہنگا نہیں ہوگا۔ جون، جولائی اور اگست کے بلوں میں صارفین کو تقریباً 1 روپیہ 99 پیسے فی یونٹ کا جو سہ ماہی ریلیف مل رہا تھا، وہ بھی ختم ہو گیا ہے۔ اس طرح ستمبر کا بجلی بل اگست کے مقابلے میں مجموعی طور پر تقریباً 3 روپے 33 پیسے فی یونٹ تک زیادہ ہو سکتا ہے۔
اگر 3 روپے 33 پیسے فی یونٹ کے اس ممکنہ اضافے پر 18 فیصد سیلز ٹیکس بھی شامل کر لیا جائے تو صارفین پر اضافی بوجھ کا تخمینہ یہ ہوگا:
* 200 یونٹ استعمال کرنے والے گھر کا بل تقریباً 785 روپے بڑھ سکتا ہے۔
* 300 یونٹ استعمال کرنے والے گھر کا بل تقریباً 1,177 روپے بڑھ سکتا ہے۔
* 500 یونٹ استعمال کرنے والے گھر کا بل تقریباً 1,962 روپے بڑھ سکتا ہے۔
یہ حساب ہر صارف کی کیٹیگری اور بل میں شامل دوسرے ٹیکسوں کی وجہ سے کچھ مختلف ہو سکتا ہے۔ ماہانہ فیول پرائس ایڈجسٹمنٹ بھی الگ ہوگی، جس سے بل بڑھ بھی سکتا ہے اور کم بھی۔
نیپرا اس درخواست پر 12 اگست 2026 کو عوامی سماعت (Public Hearing) کر چکا ہے، لیکن ابھی حتمی فیصلہ نہیں آیا۔ اس لیے 3 روپے 33 پیسے فی یونٹ کا ممکنہ اضافہ فی الحال صرف ایک اندازہ ہے۔ اصل صورتِ حال نیپرا کا حتمی فیصلہ آنے کے بعد ہی سامنے آئے گی، جو رواں ماہ کسی بھی روز جاری ہو سکتا ہے
میں اپنے پڑھنے والوں کی آسانی کے لیے یہ بھی بتاتا چلوں کہ پاکستان میں بجلی کی قیمت کس طرح مقرر کی جاتی ہے اور نیپرا صارفین سے بلوں کی وصولی کے لیے کیا طریقہ اختیار کرتا ہے۔
سال کے آغاز میں اندازہ لگایا جاتا ہے کہ پورے سال کے دوران بجلی خریدنے، بجلی گھروں کو کپیسٹی چارجز دینے، ترسیلی نظام چلانے اور دوسرے متعلقہ اخراجات پر کتنی رقم خرچ ہوگی۔ اسی اندازے کی بنیاد پر بجلی کی قیمت مقرر کرکے صارفین سے بل وصول کیے جاتے ہیں۔
اس کے بعد ہر تین ماہ بعد دیکھا جاتا ہے کہ ان تین مہینوں کے اصل اخراجات پہلے لگائے گئے اندازے سے کتنے زیادہ یا کم رہے۔ اگر اصل خرچ زیادہ نکلے تو بجلی کمپنیاں فرق کی رقم صارفین کے آئندہ بلوں سے وصول کرنے کی اجازت مانگتی ہیں، اور اگر خرچ کم نکلے تو اتنی رقم صارفین کے بلوں میں کم ہونی چاہیے۔
اندازے اور اصل اخراجات کے اسی فرق کو سہ ماہی ایڈجسٹمنٹ کہا جاتا ہے۔
اب آئیے اپریل، مئی اور جون 2026 کے تازہ حساب کی طرف۔
ملک کی 11 بجلی تقسیم کار کمپنیوں نے اپنے اپنے حساب نیپرا کو پیش کیے۔ ان میں سے آٹھ کمپنیوں نے کہا کہ ان تین مہینوں میں ان کے اخراجات پہلے لگائے گئے اندازے سے بڑھ گئے، اس لیے انہیں اضافی رقم صارفین کے آئندہ بلوں سے وصول کرنے کی اجازت دی جائے۔
نیپرا کی سرکاری ویب سائٹ پر موجود درخواستوں کے مطابق آٹھ بجلی کمپنیوں نے صارفین سے جو مزید رقم وصول کرنے کی اجازت مانگی ہے، اس کی تفصیلات یہ ہیں۔
1۔ لیسکو (LESCO)
ریجن: لاہور، قصور، شیخوپورہ، ننکانہ صاحب اور اوکاڑہ
مطالبہ: 2 ارب 95 کروڑ 30 لاکھ روپے
2۔ فیسکو (FESCO)
ریجن: فیصل آباد، سرگودھا، جھنگ، ٹوبہ ٹیک سنگھ، میانوالی، بھکر، خوشاب اور چنیوٹ
مطالبہ: 5 ارب 35 کروڑ 80 لاکھ روپے
3۔ گیپکو (GEPCO)
ریجن: گوجرانوالہ، سیالکوٹ، گجرات، نارووال، حافظ آباد اور منڈی بہاؤالدین
مطالبہ: 4 ارب 99 کروڑ 20 لاکھ روپے
4۔ آئیسکو (IESCO)
ریجن: اسلام آباد، راولپنڈی، اٹک، چکوال اور جہلم
مطالبہ: 4 ارب 87 کروڑ 20 لاکھ روپے
5۔ میپکو (MEPCO
)
ریجن: ملتان، بہاولپور، رحیم یار خان، ڈیرہ غازی خان، مظفرگڑھ، وہاڑی، ساہیوال، بہاولنگر، خانیوال، لودھراں، لیہ اور راجن پور سمیت جنوبی پنجاب
مطالبہ: 5 ارب 9 کروڑ روپے
6۔ پیسکو (PESCO)
ریجن: پشاور، مردان، صوابی، نوشہرہ، چارسدہ، سوات، بنوں، کوہاٹ اور خیبر پختونخوا کے بیشتر علاقے
مطالبہ: 6 ارب 29 کروڑ 40 لاکھ روپے
7۔ سیپکو (SEPCO)
ریجن: سکھر، لاڑکانہ، خیرپور، گھوٹکی، شکارپور، جیکب آباد، کشمور اور بالائی سندھ کے دیگر علاقے
مطالبہ: 13 ارب 72 کروڑ 40 لاکھ روپے
8۔ ہزارہ الیکٹرک سپلائی کمپنی، ہیزکو (HAZECO)
ریجن: ایبٹ آباد، ہری پور، مانسہرہ، بٹگرام، تورغر اور ہزارہ کے دیگر علاقے
مطالبہ: 1 ارب 23 کروڑ 90 لاکھ روپے
باقی تین کمپنیوں کے اسی سہ ماہی حساب میں اضافی وصولی کے بجائے کمی نکلی:
1۔ ٹیسکو (TESCO)
ریجن: خیبر، کرم، اورکزئی، مہمند، باجوڑ، شمالی وزیرستان اور جنوبی وزیرستان کے سابق قبائلی اضلاع
حساب میں کمی: 4 ارب 39 کروڑ 40 لاکھ روپے
2۔ کیسکو (QESCO)
ریجن: کوئٹہ سمیت بلوچستان کے بیشتر اضلاع
حساب میں کمی: 3 ارب 64 کروڑ 70 لاکھ روپے
3۔ حیسکو (HESCO)
ریجن: حیدرآباد، میرپورخاص، بدین، ٹھٹھہ، سجاول، تھرپارکر، عمرکوٹ، سانگھڑ اور زیریں سندھ کے دوسرے علاقے
حساب میں کمی: 2 ارب 8 کروڑ 30 لاکھ روپے
رقم کا مطالبہ کرنے والی 8 کمپنیوں کا کہنا ہے کہ گزشتہ سہ ماہی میں بجلی کی خریداری اور دوسرے اخراجات کے لیے پہلے جو اندازہ لگایا گیا تھا، اصل حساب اس سے زیادہ نکلا۔
اب یہ کمپنیاں اس فرق کی رقم صارفین کے بجلی بلوں سے وصول کرنے کی اجازت مانگ رہی ہیں۔ ان کے پیش کردہ حساب کا تخمینہ یہ ہے۔
46 ارب 38 کروڑ روپے کپیسٹی چارجز کی مد میں مانگے گئے۔
4 ارب 97 کروڑ 40 لاکھ روپے بجلی گھروں کو چلانے اور ان کی دیکھ بھال کے اخراجات کے طور پر مانگے گئے۔
3 ارب 8 کروڑ روپے بجلی کی ترسیل اور تقسیم کے نقصانات کے باعث مانگے گئے۔
14 ارب 23 کروڑ 10 لاکھ روپے چھوٹے اور صنعتی بجلی گھروں کے پہلے وصول نہ ہونے والے اخراجات کے طور پر شامل کیے گئے۔
اب اگر ان 8 بجلی کمپنیوں کے بتاۓ گئے ان چاروں قسم کے اخراجات کو جمع کیا جائے تو مجموعی رقم 68 ارب 66 کروڑ 50 لاکھ روپے بنتی ہے۔ لیکن حیرت کی بات یہ ہے کہ ایک طرف یہ کمپنیاں اپنے اخراجات 68 ارب 66 کروڑ 50 لاکھ روپے بتا رہی ہیں، جبکہ دوسری طرف انہی 8 کمپنیوں کے الگ الگ رقم کے مطالبات کو جمع کیا جائے تو رقم 44 ارب 52 کروڑ 20 لاکھ روپے بنتی ہے۔
مزید حیرت یہ ہے کہ نیپرا نے اپنی ویب سائٹ پر بجلی ڈسٹری بیوشن کمپنیوں کا مجموعی مطالبہ 33 ارب 77 کروڑ 80 لاکھ روپے لکھا ہے۔ اب یہ سمجھ میں نہیں آتا کہ نیپرا نے یہ رقم کس حساب سے نکالی ہے۔
اگر ہم یہ بھی سمجھ لیں کہ چونکہ ٹیسکو، کیسکو اور حیسکو اضافی رقم نہیں مانگ رہیں، اور ان کے اخراجات میں مجموعی طور پر 10 ارب 12 کروڑ 40 لاکھ روپے کی کمی ہوئی ہے، اور یہ رقم باقی 8 کمپنیوں کے 44 ارب 52 کروڑ 20 لاکھ روپے کے مطالبے سے نکال دیں، تو پھر بھی 34 ارب 39 کروڑ 80 لاکھ روپے باقی رہتے ہیں۔ اس حساب اور نیپرا کی بتائی ہوئی رقم کے درمیان اب بھی 62 کروڑ روپے کا فرق موجود ہے۔
اب سمجھ میں نہیں آ رہا کہ کمپنیوں نے اخراجات کا تخمینہ کچھ اور دیا، رقم کچھ اور مانگی اور نیپرا نے مجموعی مطالبہ کچھ اور لکھ دیا۔ اگر کوئی پڑھنے والا ان تین مختلف رقموں کی وجہ سمجھتا ہے تو ہماری رہنمائی ضرور کرے۔
اپریل، مئی اور جون 2026 کے حساب میں جن 3 بجلی کمپنیوں، ٹیسکو، کیسکو اور حیسکو، کے اخراجات پہلے لگائے گئے اندازے سے کم رہے، ان میں اگر ہر کمپنی کا ٹیرف الگ طے ہوتا تو ان علاقوں کے صارفین کو بجلی کے بلوں میں کمی مل سکتی تھی۔
لیکن Uniform National Tariff کے نظام نے ان کا یہ ممکنہ ریلیف بھی دوسری کمپنیوں کے بڑھے ہوئے اخراجات میں برابر کر دیا۔
ٹیسکو کے تحت باجوڑ، مہمند، خیبر، کرم، اورکزئی، شمالی وزیرستان اور جنوبی وزیرستان آتے ہیں۔ کیسکو کوئٹہ، پشین، چمن، ژوب، لورالائی، سبی، خضدار، تربت، گوادر اور بلوچستان کے بیشتر علاقوں کو بجلی فراہم کرتی ہے۔
حیسکو کے دائرے میں حیدرآباد، جامشورو، مٹیاری، ٹنڈو الہ یار، ٹنڈو محمد خان، بدین، ٹھٹھہ، سجاول، میرپورخاص، عمرکوٹ اور تھرپارکر سمیت اندرونِ سندھ کے کئی علاقے شامل ہیں۔
اب اصولی بات یہ ہے کہ ان تین کمپنیوں کے اخراجات اندازے سے کم نکلے تھے، اس لیے ان علاقوں کے لوگوں کو اس کمی کا فائدہ ملنا چاہیے تھا۔ لیکن Uniform National Tariff میں ان کی بچت کو دوسری کمپنیوں کے اضافی اخراجات سے منہا کر دیا گیا۔ نتیجہ یہ نکلا کہ سابق قبائلی اضلاع، بلوچستان اور اندرونِ سندھ کے صارفین کو اپنے حصے کا ممکنہ ریلیف نہیں ملا۔
سوال یہ ہے کہ جب ہر کمپنی کا انتظام، عملہ، اخراجات، لائن لاسز، بجلی چوری اور وصولیاں الگ ہیں تو ان سب کا حساب ایک کیوں کیا جاتا ہے؟ ایک کمپنی اخراجات کم رکھے اور دوسری اخراجات بڑھا دے، لیکن بل دونوں علاقوں کے لوگ برابر ادا کریں، یہ کیسا انصاف ہے؟
اس نظام میں بجلی کمپنیوں کا احتساب کیسے ہوگا؟ جس کمپنی کو معلوم ہو کہ اس کے اضافی اخراجات آخرکار پورے ملک کے صارفین سے وصول کر لیے جائیں گے، اسے اخراجات کم کرنے، وصولیاں بہتر بنانے اور بجلی چوری روکنے کی فکر کیوں ہوگی؟
ہونا یہ چاہئیے کہ جس بجلی کمپنی کے خرچے کم ہوئے، اس کا فائدہ اسی علاقے کے لوگوں کو ملنا چاہیے۔ اور جس کمپنی کے خرچے بڑھے، اس کے افسر بتائیں کہ پیسہ کہاں اور کیوں زیادہ خرچ ہوا۔ یہ انصاف نہیں کہ کمپنی غلطی کرے، اخراجات بڑھائے اور پھر اس کا سارا بوجھ عوام کے بجلی بلوں میں ڈال دیا جائے۔ ہر خسارہ عوام کی جیب سے پورا کرنا مسئلے کا حل نہیں، بلکہ کمپنیوں کی خراب کارکردگی پر پردہ ڈالنا ہے۔
جاری ہے۔۔۔ باقی اگلی قسط میں
0
Views
30
3
تمام اقساط پڑھیے

مزید مضامین

قسط نمبر 46

🔳 قرضے اور واجبات

قسط نمبر 45

🔳 قرضے اور واجبات

قسط نمبر 44

🔳 پاکستان کے پاور سیکٹر میں بڑی پیش رفت، نیپرا نے ’ڈی ایچ اے انرجی‘ کو ڈسٹری بیوشن لائسنس جاری کر دیا۔

قسط نمبر 43

🔳 آئی پی پی معاہدوں کی اصل شرائط تقریباً 25 سال تک عوام سے چھپائی گئیں۔

قسط نمبر 42

شاہد حسن خان کی سربراہی میں قائم اس ٹاسک فورس کے اراکین کے نام، جنہوں نے پاکستان میں نجی شعبے کے ذریعے بجلی کی پیداوار (IPPs) کی بنیاد رکھی، جس نے آنے والے وقتوں میں ملک کے پورے معاشی اور توانائی کے منظرنامے کو بدل کر رکھ دیا۔

© SyedShayan.com