اپریل، مئی اور جون 2026 کے حساب میں ٹیسکو، کیسکو اور حیسکو کے اخراجات پہلے لگائے گئے اندازے سے کم نکلے۔ اگر پاکستان میں ہر بجلی کمپنی کا حساب الگ الگ رکھا جاتا تو سابق قبائلی اضلاع یعنی فاٹا، کوئٹہ و بلوچستان اور حیدرآباد ریجن کے صارفین کو بلوں میں اس مرتبہ کافی کمی مل سکتی تھی۔ لیکن ان کمپنیوں کے اخراجات کی کمی بھی قومی حساب میں شامل کرکے باقی کمپنیوں کے اضافی اخراجات میں برابر کر دی گئی۔
🔲 عوامی تحقیقاتی سلسلہ | قسط 47
موضوع: پاکستان کا بجلی کا نظام کیسے ٹھیک ہوگا؟
عنوان: عوام سے 33 ارب روپے کی وصولی، نیپرا کی دستاویزات میں تین مختلف رقمیں کیوں؟
🔺 جب ادارے حقائق صاف طور پر فراہم نہ کریں تو سچ تک پہنچنا عوام کی ذمہ داری بن جاتا ہے۔
تحریر و تحقیق: سید شایان
ملک میں بجلی تقسیم کرنے والی 11 سرکاری کمپنیوں (DISCOs) نے نیپرا کو اپنے تین ماہ کے حسابات، یعنی سہ ماہی ایڈجسٹمنٹ (Quarterly Tariff Adjustment — QTA)، پیش کیے ہیں۔ ان میں سے آٹھ کمپنیوں کا کہنا ہے کہ ان تین مہینوں میں ان کے اخراجات پہلے لگائے گئے اندازے سے زیادہ ہو گئے، اس لیے انہیں یہ اضافی رقم صارفین کے آئندہ بجلی بلوں سے وصول کرنے کی اجازت دی جائے۔
نیپرا کی ویب سائٹ پر دی گئی مجموعی رقم تقریباً 33 ارب 78 کروڑ روپے ہے۔ اگر نیپرا نے یہ رقم وصول کرنے کی اجازت دے دی تو صارفین پر تقریباً 1 روپیہ 34 پیسے فی یونٹ کا نیا بوجھ پڑ سکتا ہے۔
لیکن ستمبر کا بل صرف 1 روپیہ 34 پیسے فی یونٹ ہی مہنگا نہیں ہوگا۔ جون، جولائی اور اگست کے بلوں میں صارفین کو تقریباً 1 روپیہ 99 پیسے فی یونٹ کا جو سہ ماہی ریلیف مل رہا تھا، وہ بھی ختم ہو گیا ہے۔ اس طرح ستمبر کا بجلی بل اگست کے مقابلے میں مجموعی طور پر تقریباً 3 روپے 33 پیسے فی یونٹ تک زیادہ ہو سکتا ہے۔
اگر 3 روپے 33 پیسے فی یونٹ کے اس ممکنہ اضافے پر 18 فیصد سیلز ٹیکس بھی شامل کر لیا جائے تو صارفین پر اضافی بوجھ کا تخمینہ یہ ہوگا:
* 200 یونٹ استعمال کرنے والے گھر کا بل تقریباً 785 روپے بڑھ سکتا ہے۔
* 300 یونٹ استعمال کرنے والے گھر کا بل تقریباً 1,177 روپے بڑھ سکتا ہے۔
* 500 یونٹ استعمال کرنے والے گھر کا بل تقریباً 1,962 روپے بڑھ سکتا ہے۔
یہ حساب ہر صارف کی کیٹیگری اور بل میں شامل دوسرے ٹیکسوں کی وجہ سے کچھ مختلف ہو سکتا ہے۔ ماہانہ فیول پرائس ایڈجسٹمنٹ بھی الگ ہوگی، جس سے بل بڑھ بھی سکتا ہے اور کم بھی۔
نیپرا اس درخواست پر 12 اگست 2026 کو عوامی سماعت (Public Hearing) کر چکا ہے، لیکن ابھی حتمی فیصلہ نہیں آیا۔ اس لیے 3 روپے 33 پیسے فی یونٹ کا ممکنہ اضافہ فی الحال صرف ایک اندازہ ہے۔ اصل صورتِ حال نیپرا کا حتمی فیصلہ آنے کے بعد ہی سامنے آئے گی، جو رواں ماہ کسی بھی روز جاری ہو سکتا ہے
میں اپنے پڑھنے والوں کی آسانی کے لیے یہ بھی بتاتا چلوں کہ پاکستان میں بجلی کی قیمت کس طرح مقرر کی جاتی ہے اور نیپرا صارفین سے بلوں کی وصولی کے لیے کیا طریقہ اختیار کرتا ہے۔
سال کے آغاز میں اندازہ لگایا جاتا ہے کہ پورے سال کے دوران بجلی خریدنے، بجلی گھروں کو کپیسٹی چارجز دینے، ترسیلی نظام چلانے اور دوسرے متعلقہ اخراجات پر کتنی رقم خرچ ہوگی۔ اسی اندازے کی بنیاد پر بجلی کی قیمت مقرر کرکے صارفین سے بل وصول کیے جاتے ہیں۔
اس کے بعد ہر تین ماہ بعد دیکھا جاتا ہے کہ ان تین مہینوں کے اصل اخراجات پہلے لگائے گئے اندازے سے کتنے زیادہ یا کم رہے۔ اگر اصل خرچ زیادہ نکلے تو بجلی کمپنیاں فرق کی رقم صارفین کے آئندہ بلوں سے وصول کرنے کی اجازت مانگتی ہیں، اور اگر خرچ کم نکلے تو اتنی رقم صارفین کے بلوں میں کم ہونی چاہیے۔
اندازے اور اصل اخراجات کے اسی فرق کو سہ ماہی ایڈجسٹمنٹ کہا جاتا ہے۔
اب آئیے اپریل، مئی اور جون 2026 کے تازہ حساب کی طرف۔
ملک کی 11 بجلی تقسیم کار کمپنیوں نے اپنے اپنے حساب نیپرا کو پیش کیے۔ ان میں سے آٹھ کمپنیوں نے کہا کہ ان تین مہینوں میں ان کے اخراجات پہلے لگائے گئے اندازے سے بڑھ گئے، اس لیے انہیں اضافی رقم صارفین کے آئندہ بلوں سے وصول کرنے کی اجازت دی جائے۔
نیپرا کی سرکاری ویب سائٹ پر موجود درخواستوں کے مطابق آٹھ بجلی کمپنیوں نے صارفین سے جو مزید رقم وصول کرنے کی اجازت مانگی ہے، اس کی تفصیلات یہ ہیں۔
1۔ لیسکو (LESCO)
ریجن: لاہور، قصور، شیخوپورہ، ننکانہ صاحب اور اوکاڑہ
مطالبہ: 2 ارب 95 کروڑ 30 لاکھ روپے
2۔ فیسکو (FESCO)
ریجن: فیصل آباد، سرگودھا، جھنگ، ٹوبہ ٹیک سنگھ، میانوالی، بھکر، خوشاب اور چنیوٹ
مطالبہ: 5 ارب 35 کروڑ 80 لاکھ روپے
3۔ گیپکو (GEPCO)
ریجن: گوجرانوالہ، سیالکوٹ، گجرات، نارووال، حافظ آباد اور منڈی بہاؤالدین
مطالبہ: 4 ارب 99 کروڑ 20 لاکھ روپے
4۔ آئیسکو (IESCO)
ریجن: اسلام آباد، راولپنڈی، اٹک، چکوال اور جہلم
مطالبہ: 4 ارب 87 کروڑ 20 لاکھ روپے
5۔ میپکو (MEPCO
)
ریجن: ملتان، بہاولپور، رحیم یار خان، ڈیرہ غازی خان، مظفرگڑھ، وہاڑی، ساہیوال، بہاولنگر، خانیوال، لودھراں، لیہ اور راجن پور سمیت جنوبی پنجاب
مطالبہ: 5 ارب 9 کروڑ روپے
6۔ پیسکو (PESCO)
ریجن: پشاور، مردان، صوابی، نوشہرہ، چارسدہ، سوات، بنوں، کوہاٹ اور خیبر پختونخوا کے بیشتر علاقے
مطالبہ: 6 ارب 29 کروڑ 40 لاکھ روپے
7۔ سیپکو (SEPCO)
ریجن: سکھر، لاڑکانہ، خیرپور، گھوٹکی، شکارپور، جیکب آباد، کشمور اور بالائی سندھ کے دیگر علاقے
مطالبہ: 13 ارب 72 کروڑ 40 لاکھ روپے
8۔ ہزارہ الیکٹرک سپلائی کمپنی، ہیزکو (HAZECO)
ریجن: ایبٹ آباد، ہری پور، مانسہرہ، بٹگرام، تورغر اور ہزارہ کے دیگر علاقے
مطالبہ: 1 ارب 23 کروڑ 90 لاکھ روپے
باقی تین کمپنیوں کے اسی سہ ماہی حساب میں اضافی وصولی کے بجائے کمی نکلی:
1۔ ٹیسکو (TESCO)
ریجن: خیبر، کرم، اورکزئی، مہمند، باجوڑ، شمالی وزیرستان اور جنوبی وزیرستان کے سابق قبائلی اضلاع
حساب میں کمی: 4 ارب 39 کروڑ 40 لاکھ روپے
2۔ کیسکو (QESCO)
ریجن: کوئٹہ سمیت بلوچستان کے بیشتر اضلاع
حساب میں کمی: 3 ارب 64 کروڑ 70 لاکھ روپے
3۔ حیسکو (HESCO)
ریجن: حیدرآباد، میرپورخاص، بدین، ٹھٹھہ، سجاول، تھرپارکر، عمرکوٹ، سانگھڑ اور زیریں سندھ کے دوسرے علاقے
حساب میں کمی: 2 ارب 8 کروڑ 30 لاکھ روپے
رقم کا مطالبہ کرنے والی 8 کمپنیوں کا کہنا ہے کہ گزشتہ سہ ماہی میں بجلی کی خریداری اور دوسرے اخراجات کے لیے پہلے جو اندازہ لگایا گیا تھا، اصل حساب اس سے زیادہ نکلا۔
اب یہ کمپنیاں اس فرق کی رقم صارفین کے بجلی بلوں سے وصول کرنے کی اجازت مانگ رہی ہیں۔ ان کے پیش کردہ حساب کا تخمینہ یہ ہے۔