عوامی تحقیقاتی سلسلہ
قسط نمبر 48

پاکستان کا بجلی کا نظام کیسے ٹھیک ہوگا؟

عوامی تحقیقاتی سلسلہ | قسط 48 | بجلی بحران
🔳 پاکستان میں سب سے زیادہ پاور پلانٹس کس گروپ کے ہیں؟
🔲 عوامی تحقیقاتی سلسلہ | قسط 48
موضوع: پاکستان کا بجلی کا نظام کیسے ٹھیک ہوگا؟
عنوان: پاکستان کے پانچ بڑے نجی پاور گروپس، ان کے بجلی گھر (IPPs)، مالکان اور کیپیسٹی پیمنٹ
🔺 پاکستان کے بجلی گھروں کی اصل ملکیت اور انہیں ملنے والی رقم عوام کے سامنے آنی چاہیے۔
تحریر و تحقیق: سید شایان
اس قسط میں ہم پاکستان میں کام کرنے والے پانچ بڑے نجی پاور گروپس کے بارے میں بات کریں گے۔ ہم آپ کو بتائیں گے کہ ہر گروپ کا مالک کون ہے، اس کے پاس کتنے پاور پلانٹس ہیں، وہ کہاں قائم ہیں، کتنی بجلی بنا سکتے ہیں، حقیقت میں کتنی بجلی بناتے ہیں اور انہیں کتنی کیپیسٹی پیمنٹ ملتی ہے۔
یہ فہرست پلانٹس کی تعداد کے حساب سے بنائی گئی ہے۔ کسی گروپ کے پاس زیادہ مگر چھوٹے پلانٹس ہیں اور کسی کے پاس کم مگر بہت بڑے۔ سرکاری بجلی گھر، واپڈا، ایٹمی پلانٹس اور کے الیکٹرک کے اپنے پلانٹس اس فہرست میں شامل نہیں ہیں۔
سرکاری ریکارڈ میں ہر پاور پلانٹ الگ کمپنی کے نام سے درج ہے۔ ہم نے ان کمپنیوں کے اصل مالکان اور بڑے کاروباری گروپس کو سامنے رکھ کر یہ فہرست بنائی ہے۔
پلانٹس کی تعداد کے لحاظ سے پانچ بڑے نجی پاور گروپس یہ ہیں:
1۔ حبکو گروپ: اس گروپ کے 6 منصوبے تھے۔ پرانا حب پلانٹ بند ہونے کے بعد اب 5 باقی ہیں۔
2۔ فوجی گروپ کے 5 منصوبے ہیں۔
3۔ منشا یا نشاط گروپ کے 4 منصوبے ہیں۔
4۔ چائنا تھری گورجز کے 4 منصوبے ہیں۔
5۔ اینگرو یا داؤد گروپ کے 3 بڑے منصوبے ہیں، تاہم ان میں سے بعض کی ملکیت تبدیل کی جا رہی ہے۔
1۔ حبکو گروپ
حبکو پاکستان کا سب سے بڑا نجی پاور گروپ ہے۔ اس کے چیئرمین حبیب اللہ خان ہیں، جبکہ ان سے منسلک Mega Conglomerate اس کا بڑا شیئر ہولڈر ہے۔
حبکو کے 6 منصوبے تھے۔ پرانے حب پاور پلانٹ کا معاہدہ ختم ہونے کے بعد اب اس کے 5 منصوبے باقی ہیں:
1۔ نارووال انرجی، پنجاب، 225 میگاواٹ
2۔ لارائب انرجی، آزاد کشمیر، 84 میگاواٹ
3۔ چائنا پاور حب، بلوچستان، 1,320 میگاواٹ
4۔ تھر انرجی، سندھ، 330 میگاواٹ
5۔ تھل نووا پاور، سندھ، 330 میگاواٹ
ان پانچ پلانٹس کی مجموعی صلاحیت 2,289 میگاواٹ ہے۔ اگر یہ پورا سال اپنی مکمل صلاحیت پر چلیں تو تقریباً 20 ارب یونٹ بجلی پیدا کرسکتے ہیں۔
لیکن مالی سال 2024۔25 میں ان پلانٹس نے صرف 4 ارب 44 کروڑ یونٹ بجلی پیدا کی۔ یعنی انہوں نے اپنی مجموعی صلاحیت کا تقریباً % 22 استعمال کیا۔
ہر پلانٹ کی صورتِ حال یہ رہی:
نارووال انرجی نے تقریباً 3 کروڑ 79 لاکھ یونٹ بجلی پیدا کی اور صرف % 2 چلا۔ اسے تقریباً 4 ارب 48 کروڑ روپے کیپیسٹی پیمنٹ ملی۔
لارائب انرجی نے تقریباً 35 کروڑ 36 لاکھ یونٹ بجلی پیدا کی اور % 48 چلا۔ اسے تقریباً 8 ارب 11 کروڑ روپے کیپیسٹی پیمنٹ ملی۔
چائنا پاور حب نے تقریباً 67 کروڑ 17 لاکھ یونٹ بجلی پیدا کی اور صرف % 6 چلا۔ اس کے باوجود اسے تقریباً 124 ارب 46 کروڑ روپے کیپیسٹی پیمنٹ ملی۔
تھر انرجی نے تقریباً 1 ارب 60 کروڑ یونٹ بجلی پیدا کی اور % 61 چلا۔ اسے تقریباً 39 ارب 44 کروڑ روپے کیپیسٹی پیمنٹ ملی۔
تھل نووا نے تقریباً 1 ارب 78 کروڑ یونٹ بجلی پیدا کی اور % 68 چلا۔ اسے تقریباً 31 ارب 99 کروڑ روپے کیپیسٹی پیمنٹ ملی۔
یوں حبکو کے ان پانچ منصوبوں کو مالی سال 2024۔25 میں مجموعی طور پر تقریباً 208 ارب 48 کروڑ روپے کیپیسٹی پیمنٹس ملیں، جبکہ یہ اپنی مجموعی صلاحیت کا صرف % 22 استعمال کرکے تقریباً 4 ارب 44 کروڑ یونٹ بجلی پیدا کرسکے۔
چونکہ چائنا پاور حب، تھر انرجی اور تھل نووا میں دوسرے سرمایہ کار بھی شریک ہیں، اس لیے 208 ارب روپے کی پوری رقم صرف حبکو کی جیب میں نہیں گئی۔ یہ ان پانچوں منصوبوں کو ملنے والی مجموعی کیپیسٹی پیمنٹ ہے، جس میں سے حبکو کو اپنے حصص کے مطابق فائدہ پہنچا۔ تمام اعداد نیپرا کی مالی سال 2024۔25 کی پلانٹ وار کارکردگی رپورٹ سے لیے گئے ہیں۔
2۔ فوجی گروپ
فوجی گروپ کے پاور منصوبے فوجی فاؤنڈیشن اور فوجی فرٹیلائزر کمپنی سے منسلک ہیں۔ اس گروپ کے 5 بڑے پاور پلانٹس ہیں:
1۔ فوجی کبیر والا، پنجاب، 170 میگاواٹ
2۔ فاؤنڈیشن پاور ڈہرکی، سندھ، 179 میگاواٹ
3۔ فاؤنڈیشن ونڈ انرجی ون، سندھ، 50 میگاواٹ
4۔ فاؤنڈیشن ونڈ انرجی ٹو، سندھ، 50 میگاواٹ
5۔ ایف ایف سی انرجی، سندھ، 50 میگاواٹ
ان پانچ پلانٹس کی مجموعی صلاحیت تقریباً 499 میگاواٹ ہے۔ اگر یہ پورا سال مکمل صلاحیت پر چلیں تو تقریباً 4 ارب 37 کروڑ یونٹ بجلی پیدا کرسکتے ہیں۔
لیکن مالی سال 2024۔25 میں انہوں نے تقریباً 1 ارب 47 کروڑ یونٹ بجلی پیدا کی۔ یعنی مجموعی صلاحیت کا تقریباً % 34 استعمال ہوا۔
ہر پلانٹ کی صورتِ حال یہ رہی:
فوجی کبیر والا نے تقریباً 6 کروڑ 90 لاکھ یونٹ بجلی پیدا کی اور صرف % 5 چلا۔ اسے تقریباً 2 ارب 67 کروڑ روپے کیپیسٹی پیمنٹ ملی۔
فاؤنڈیشن پاور ڈہرکی نے تقریباً 1 ارب 12 کروڑ یونٹ بجلی پیدا کی اور % 77 چلا۔ اسے تقریباً 3 ارب 11 کروڑ روپے کیپیسٹی پیمنٹ ملی۔
فاؤنڈیشن ونڈ انرجی ون نے تقریباً 9 کروڑ 33 لاکھ یونٹ بجلی پیدا کی اور % 21 چلا۔ اسے تقریباً 4 ارب 63 کروڑ روپے کیپیسٹی پیمنٹ ملی۔
فاؤنڈیشن ونڈ انرجی ٹو نے تقریباً 10 کروڑ 54 لاکھ یونٹ بجلی پیدا کی اور % 24 چلا۔ اسے تقریباً 4 ارب 47 کروڑ روپے کیپیسٹی پیمنٹ ملی۔
ایف ایف سی انرجی نے تقریباً 7 کروڑ 64 لاکھ یونٹ بجلی پیدا کی اور % 18 چلا۔ اسے تقریباً 2 ارب 5 کروڑ روپے کیپیسٹی پیمنٹ ملی۔
یوں فوجی گروپ کے ان پانچ منصوبوں کو مالی سال 2024۔25 میں مجموعی طور پر تقریباً 16 ارب 93 کروڑ روپے کیپیسٹی پیمنٹس ملیں، جبکہ انہوں نے تقریباً 1 ارب 47 کروڑ یونٹ بجلی پیدا کی۔ تمام اعداد نیپرا کی مالی سال 2024۔25 کی پلانٹ وار رپورٹ سے لیے گئے ہیں۔
3۔ میاں محمد منشا اور ان کے خاندان کا نشاط گروپ
اس گروپ سے 4 بڑے پاور پلانٹس منسلک رہے ہیں۔ نشاط چونیاں پاور میاں منشا کے بھانجے شہزاد سلیم کے نام سے منسلک ہے، جبکہ نومبر 2024 میں حصص کی منتقلی کے بعد نشاط ملز بھی اس میں اہم حصص دار بن گئی۔
1۔ نشاط پاور، قصور، 200 میگاواٹ
2۔ نشاط چونیاں پاور، قصور، 200 میگاواٹ
3۔ لال پیر پاور، مظفرگڑھ، 362 میگاواٹ
4۔ پاک جین پاور، مظفرگڑھ، 365 میگاواٹ
ان چاروں پلانٹس کی مجموعی صلاحیت تقریباً 1,127 میگاواٹ تھی۔ اگر یہ پورا سال مکمل صلاحیت پر چلتے تو تقریباً 9 ارب 87 کروڑ یونٹ بجلی پیدا کرسکتے تھے۔
لیکن مالی سال 2024۔25 میں انہوں نے صرف تقریباً 15 کروڑ 16 لاکھ یونٹ بجلی پیدا کی۔
نشاط پاور نے تقریباً 8 کروڑ 67 لاکھ یونٹ بجلی پیدا کی اور صرف % 5 چلا۔ اسے تقریباً 4 ارب 1 کروڑ روپے کیپیسٹی پیمنٹ ملی۔
نشاط چونیاں پاور نے تقریباً 5 کروڑ 72 لاکھ یونٹ بجلی پیدا کی اور صرف % 3 چلا۔ اسے تقریباً 4 ارب 5 کروڑ روپے کیپیسٹی پیمنٹ ملی۔
لال پیر پاور نے کوئی بجلی پیدا نہیں کی، لیکن اسے تقریباً 2 ارب 67 کروڑ روپے کیپیسٹی پیمنٹ ملی۔ اس کا حکومتی معاہدہ 30 ستمبر 2024 کو ختم ہوگیا تھا۔
پاک جین پاور نے صرف تقریباً 77 لاکھ یونٹ بجلی پیدا کی اور % 1 سے بھی کم چلا۔ اسے تقریباً 5 ارب 73 کروڑ روپے کیپیسٹی پیمنٹ ملی۔ اس کا معاہدہ 31 جنوری 2025 کو ختم ہوا۔
یوں منشا خاندان سے منسلک ان چار پلانٹس نے مالی سال 2024۔25 میں صرف 15 کروڑ 16 لاکھ یونٹ بجلی دی، جبکہ انہیں مجموعی طور پر تقریباً 16 ارب 45 کروڑ روپے کیپیسٹی پیمنٹس ملیں۔
یہ بات بھی سامنے رہنی چاہیے کہ لال پیر اور پاک جین کے معاہدے اسی مالی سال کے دوران ختم ہوگئے تھے۔ اس لیے انہیں پورے سال فعال پلانٹس سمجھ کر حساب نہیں کیا جاسکتا۔ تمام اعداد نیپرا کی مالی سال 2024۔25 کی رپورٹ سے لیے گئے ہیں۔
4۔ چائنا تھری گورجز
چائنا تھری گورجز کارپوریشن چین کی سرکاری کمپنی ہے اور اس کی ملکیت چینی حکومت کے پاس ہے۔ پاکستان میں اس کے 4 بڑے منصوبے ہیں:
1۔ کروٹ ہائیڈرو پاور، دریائے جہلم، 720 میگاواٹ
2۔ تھری گورجز فرسٹ ونڈ فارم، سندھ، 49.5 میگاواٹ
3۔ تھری گورجز سیکنڈ ونڈ فارم، سندھ، 49.5 میگاواٹ
4۔ تھری گورجز تھرڈ ونڈ فارم، سندھ، 49.5 میگاواٹ
ان چاروں پلانٹس کی مجموعی صلاحیت تقریباً 868.5 میگاواٹ ہے۔ اگر یہ پورا سال مکمل صلاحیت پر چلیں تو تقریباً 7 ارب 61 کروڑ یونٹ بجلی پیدا کرسکتے ہیں۔
مالی سال 2024۔25 میں انہوں نے تقریباً 2 ارب 99 کروڑ یونٹ بجلی پیدا کی۔ یعنی مجموعی صلاحیت کا تقریباً % 39 استعمال ہوا۔
ہر پلانٹ کی صورتِ حال یہ رہی:
کروٹ ہائیڈرو پاور نے تقریباً 2 ارب 74 کروڑ یونٹ بجلی پیدا کی اور % 43 چلا۔ اسے تقریباً 101 ارب 11 کروڑ روپے کیپیسٹی پیمنٹ ملی۔
تھری گورجز فرسٹ ونڈ فارم نے تقریباً 8 کروڑ 56 لاکھ یونٹ بجلی پیدا کی اور تقریباً % 20 چلا۔ اسے تقریباً 2 ارب 72 کروڑ روپے کیپیسٹی پیمنٹ ملی۔
تھری گورجز سیکنڈ ونڈ فارم نے تقریباً 8 کروڑ 45 لاکھ یونٹ بجلی پیدا کی اور تقریباً % 20 چلا۔ اسے تقریباً 3 ارب 83 کروڑ روپے کیپیسٹی پیمنٹ ملی۔
تھری گورجز تھرڈ ونڈ فارم نے تقریباً 8 کروڑ 62 لاکھ یونٹ بجلی پیدا کی اور تقریباً % 20 چلا۔ اسے تقریباً 3 ارب 95 کروڑ روپے کیپیسٹی پیمنٹ ملی۔
یوں چائنا تھری گورجز کے ان چار منصوبوں نے مالی سال 2024۔25 میں تقریباً 2 ارب 99 کروڑ یونٹ بجلی پیدا کی، جبکہ انہیں مجموعی طور پر تقریباً 111 ارب 62 کروڑ روپے کیپیسٹی پیمنٹس ملیں۔ تمام اعداد نیپرا کی مالی سال 2024۔25 کی رپورٹ سے لیے گئے ہیں۔
5۔ اینگرو یا داؤد گروپ
اینگرو پاکستان کا کاروباری گروپ ہے جس کی قیادت حسین داؤد اور ان کا خاندان کرتا ہے۔ حسین داؤد کے صاحبزادے عبدالصمد داؤد بھی گروپ کے اہم عہدوں پر کام کرتے ہیں۔ اسے عبدالرزاق داؤد کے ڈیسکون گروپ سے الگ سمجھنا چاہیے۔
اس کے پاور منصوبے اینگرو انرجی کے ذریعے قائم کیے گئے۔ بعد میں اس نے اپنے تھرمل پاور منصوبوں کے حصص Liberty Power، Soorty Enterprises اور Procon Engineering کے پاکستانی گروپ کو فروخت کرنے کا معاہدہ کیا۔
اس گروپ سے 3 بڑے پاور پلانٹس منسلک رہے ہیں:
1۔ اینگرو پاورجن قادرپور، گھوٹکی، 217 میگاواٹ
2۔ اینگرو پاورجن تھر، سندھ، 660 میگاواٹ
3۔ ٹیناگا جنراسی ونڈ پاور، سندھ، 49.5 میگاواٹ
ان تینوں پلانٹس کی مجموعی صلاحیت تقریباً 926.5 میگاواٹ ہے۔ اگر یہ پورا سال مکمل صلاحیت پر چلیں تو تقریباً 8 ارب 12 کروڑ یونٹ بجلی پیدا کرسکتے ہیں۔
مالی سال 2024۔25 میں انہوں نے تقریباً 4 ارب 72 کروڑ یونٹ بجلی پیدا کی۔ یعنی مجموعی صلاحیت کا تقریباً % 58 استعمال ہوا۔
ہر پلانٹ کی صورتِ حال یہ رہی:
اینگرو پاورجن قادرپور نے تقریباً 77 کروڑ 43 لاکھ یونٹ بجلی پیدا کی اور % 42 چلا۔ اسے تقریباً 2 ارب 56 کروڑ روپے کیپیسٹی پیمنٹ ملی۔
اینگرو پاورجن تھر نے تقریباً 3 ارب 85 کروڑ یونٹ بجلی پیدا کی اور % 73 چلا۔ اسے تقریباً 59 ارب 99 کروڑ روپے کیپیسٹی پیمنٹ ملی۔
ٹیناگا جنراسی نے تقریباً 8 کروڑ 92 لاکھ یونٹ بجلی پیدا کی اور % 20 چلا۔ اسے تقریباً 4 ارب 37 کروڑ روپے کیپیسٹی پیمنٹ ملی۔
یوں اینگرو سے منسلک ان تین منصوبوں نے مالی سال 2024۔25 میں تقریباً 4 ارب 72 کروڑ یونٹ بجلی پیدا کی، جبکہ انہیں مجموعی طور پر تقریباً 66 ارب 93 کروڑ روپے کیپیسٹی پیمنٹس ملیں۔
یہ اعداد اینگرو کے قائم کردہ منصوبوں کے ہیں۔ جن منصوبوں کے حصص فروخت کیے جا چکے ہوں، ان کی موجودہ آمدنی نئے مالکان کو ان کے حصے کے مطابق ملتی ہے۔ تمام اعداد نیپرا کی مالی سال 2024۔25 کی رپورٹ سے لیے گئے ہیں۔
🔘 اس مضمون میں ہم نے ان پانچوں گروپس کو ملنے والی کیپیسٹی پیمنٹس کا خاص طور پر ذکر کیا ہے۔
کیپیسٹی پیمنٹ کو آسان لفظوں میں یوں سمجھیں کہ حکومت نے بجلی گھروں سے وعدہ کر رکھا ہے کہ وہ بجلی پیدا کریں یا نہ کریں، اگر ان کا پلانٹ بجلی بنانے کے لیے تیار اور دستیاب ہے تو حکومت انہیں طے شدہ رقم ضرور دے گی۔ اس رقم سے پلانٹ کے قرض، اخراجات اور مالکان کا منافع ادا کیا جاتا ہے۔ پوری رقم کمپنی کا خالص منافع نہیں ہوتی۔
مالی سال 2024۔25 میں سب سے زیادہ کیپیسٹی پیمنٹ لینے والے ان پانچ گروپس کی ترتیب یہ رہی:
1۔ حبکو کے منصوبوں کو تقریباً 208 ارب 48 کروڑ روپے ملے۔
2۔ چائنا تھری گورجز کے منصوبوں کو تقریباً 111 ارب 62 کروڑ روپے ملے۔
3۔ اینگرو اور داؤد گروپ سے منسلک منصوبوں کو تقریباً 66 ارب 93 کروڑ روپے ملے۔
4۔ فوجی گروپ کے منصوبوں کو تقریباً 16 ارب 93 کروڑ روپے ملے۔
5۔ منشا اور نشاط گروپ کے منصوبوں کو تقریباً 16 ارب 45 کروڑ روپے ملے۔
یوں مالی سال 2024۔25 میں صرف ان پانچ گروپس سے منسلک پلانٹس کو مجموعی طور پر تقریباً 420 ارب 40 کروڑ روپے کیپیسٹی پیمنٹس دی گئیں۔
ان میں کئی پلانٹس اپنی پوری صلاحیت کے مقابلے میں صرف % 5، % 10 یا % 20 چلے، لیکن انہیں معاہدوں کے مطابق اربوں روپے کیپیسٹی پیمنٹس ملتی رہیں۔ پاکستانی عوام مہنگے بجلی بل ادا کرتے رہے اور کم بجلی بنانے والے پلانٹس بھی اربوں روپے وصول کرتے رہے۔ یہ پاکستان کے پاور سیکٹر کی تاریخ کا ایک انتہائی تاریک پہلو ہے۔
جاری ہے۔۔۔ باقی اگلی قسط میں
0
Views
20
7
تمام اقساط پڑھیے

مزید مضامین

قسط نمبر 47

🔳 قرضے اور واجبات

قسط نمبر 46

🔳 قرضے اور واجبات

قسط نمبر 45

🔳 قرضے اور واجبات

قسط نمبر 44

🔳 پاکستان کے پاور سیکٹر میں بڑی پیش رفت، نیپرا نے ’ڈی ایچ اے انرجی‘ کو ڈسٹری بیوشن لائسنس جاری کر دیا۔

قسط نمبر 43

🔳 آئی پی پی معاہدوں کی اصل شرائط تقریباً 25 سال تک عوام سے چھپائی گئیں۔

© SyedShayan.com