2015 میں نواز شریف حکومت نے ایک بنیادی تبدیلی کی۔ آئی پی پی کا نظام، جو پاکستان میں بنیادی طور پر نجی سرمایہ کاری کے لیے شروع ہوا تھا، سرکاری بجلی منصوبوں تک بھی پھیلا دیا گیا۔ قانون اور پاور پالیسی میں تبدیلی کرکے سرکاری ملکیت کے بجلی گھروں کو بھی IPP Mode میں لانے کا راستہ کھولا گیا۔
حکومت کا مؤقف تھا کہ اس سے بجلی کے منصوبے تیزی سے مکمل ہوں گے اور بعد میں ان کی نجکاری بھی آسان ہوگی۔
لیکن اس فیصلے سے ایک بنیادی سوال ضرور پیدا ہوا کہ جب سرمایہ بھی حکومت کا تھا اور بجلی گھر بھی حکومت کا، تو اسے نجی آئی پی پیز والے طریقے پر چلانے کی ضرورت کیوں پیش آئی؟
🔲 عوامی تحقیقاتی سلسلہ | قسط 50
موضوع: پاکستان کا بجلی کا نظام کیسے ٹھیک ہوگا؟
عنوان: سرکاری پاور پلانٹس کو نجی IPPs والی شرائط اور سہولتیں کیوں دی گئیں؟
🔺 نجی اور سرکاری بجلی گھروں کو ایک ہی IPP نظام میں لانے کے بعد سوال یہ ہے کہ حکومت یہ نظام بدلنا بھی چاہتی ہے، یا اسے بجلی کے بلوں کی شکل میں عوام کی جیب سے پیسہ نکالنے کا آسان ذریعہ مل گیا ہے؟
تحریر و تحقیق: سید شایان
پاکستان میں پاور پلانٹس کی تعداد 105 تک پہنچ جانے پر اب تفصیل سے یہ سمجھنا ضروری ہو گیا ہے کہ آئی پی پی دراصل ہیں کیا؟ اور جب ہمارے ملک کی ضروریات زیادہ سے زیادہ سات یا آٹھ پاور پلانٹس سے پوری ہو سکتی تھیں تو اتنے زیادہ پاور پلانٹس لگانے کا مقصد کیا تھا؟
آئی پی پی (IPP) کا مطلب Independent Power Producer یعنی ایسا بجلی پیدا کرنے والا ادارہ ہے جو روایتی سرکاری بجلی پیدا کرنے والے سسٹم سے الگ ایک کمپنی کے طور پر کام کرتا ہے۔
پاکستان میں جب یہ نظام شروع ہوا تو Independent سے مراد بنیادی طور پر نجی بجلی گھر تھے۔
1994 میں بینظیر بھٹو حکومت نے آئی پی پی نظام متعارف کرایا تو اس کا مقصد ہی ملکی اور غیر ملکی نجی سرمایہ کاروں سے بجلی گھر لگوانا تھا۔
اسی لیے اس وقت کی سرکاری پالیسی بھی نجی شعبے میں بجلی پیدا کرنے سے متعلق تھی، جبکہ ورلڈ بینک نے پاکستان کے اس تجربے کے لیے “Independent Private Power” کی اصطلاح استعمال کی اور ان منصوبوں کو “Independent Private Power Projects (IPPs)” لکھا۔ اس لیے پاکستان میں شروع سے آئی پی پیز سے عمومی طور پر نجی بجلی گھر ہی مراد لیے جاتے رہے۔
لیکن 2015 میں نواز شریف حکومت کے دور میں یہ صورت بدل گئی۔
آئی پی پیز کا جو تصور پاکستان میں 1994 سے نجی بجلی گھروں کے طور پر چلا آرہا تھا، اس کا دائرہ وسیع ہوگیا۔
وفاقی اور صوبائی حکومتوں کے بجلی منصوبوں اور سرکاری ملکیت یا کنٹرول میں قائم کمپنیوں کو بھی اسی طرح کے تجارتی اور معاہداتی نظام میں لانے کا راستہ کھول دیا گیا۔
ان سرکاری منصوبوں کے لیے Public Sector Power Projects یعنی PSPPs کی اصطلاح استعمال ہوئی، جبکہ بعض منصوبوں کو آئی پی پیز کی طرز پر، یعنی IPP Mode میں چلایا گیا۔ یوں نجی آئی پی پیز اور سرکاری بجلی منصوبوں کے درمیان جو فرق پہلے نسبتاً واضح تھا، وہ عملی طور پر دھندلا گیا۔
اس لیے آج اس پورے نظام کو آسان لفظوں میں دو بڑی قسموں میں سمجھا جاسکتا ہے۔
1۔ نجی آئی پی پیز
یہ وہ بجلی گھر ہیں جو پاکستانی یا غیر ملکی نجی سرمایہ کاروں نے لگائے اور حکومت یا بجلی خریدنے والے سرکاری اداروں کے ساتھ معاہدوں کے تحت بجلی فروخت کرتے ہیں۔
2۔ سرکاری منصوبے جو آئی پی پی طرز کے نظام میں شامل کر دیے گئے ہیں۔
یہ وہ بجلی گھر ہیں جو وفاقی یا صوبائی حکومت، یا سرکاری ملکیت اور کنٹرول میں موجود کمپنیوں سے تعلق رکھتے ہیں، لیکن بجلی کی فروخت، ٹیرف اور معاہدوں کے اسی بڑے تجارتی نظام میں شامل ہیں۔
اسی وجہ سے سرکاری دستاویزات اور فہرستوں میں ایسے منصوبے بھی آئی پی پیز کے ساتھ شمار ہوتے نظر آتے ہیں۔
یہ فرق سمجھنا اس لیے بہت ضروری ہے کہ جب حکومت آج 105 آئی پی پیز کے معاہدوں کی بات کرتی ہے تو اس کا یہ مطلب نہیں کہ 105 کے 105 بجلی گھر نجی سرمایہ کاروں کی ملکیت ہیں۔
اس تعداد میں مختلف ملکیت اور مختلف نوعیت کے بجلی منصوبے شامل ہیں۔ جیسا کہ چائنا پاور حب، پورٹ قاسم اور ساہیوال کول جیسے بڑے نجی بجلی منصوبے بھی اس میں شامل ہیں، جبکہ حویلی بہادر شاہ، بلوکی اور چشمہ نیوکلیئر جیسے سرکاری بجلی منصوبے بھی اسی وسیع فہرست کا حصہ ہیں۔
یہی وجہ ہے کہ سرکاری طور پر بتائی جانے والی آئی پی پیز کی تعداد بھی وقت کے مطابق بدلتی رہی ہے۔ 2023 میں سینیٹ کی ایک کمیٹی کو پاور ڈویژن نے 104 آئی پی پیز کی تعداد بتائی تھی، جبکہ نومبر 2024 میں قومی اسمبلی میں پیش کیے گئے ایک سرکاری جواب میں 93 آپریشنل آئی پی پیز بتائے گئے تھے۔ اب ستمبر 2026 میں پارلیمنٹ کے سامنے پیش کی گئی تازہ معلومات میں 105 آئی پی پیز کے موجودہ معاہدوں کا ذکر کیا گیا ہے۔
(جاری ہے۔ باقی اگلی قسط میں)