عوامی تحقیقاتی سلسلہ
قسط نمبر 52

105 آئی پی پیز کو علیحدہ علیحدہ کیٹگری میں رکھا جاۓ۔

🔲 عوامی تحقیقاتی سلسلہ | قسط 52 | بجلی بحران
🔳 پاکستان کے 105 بجلی گھروں (IPPs) کے حکومتی معاہدے
▫
ہماری ریسرچ بتاتی ہے کہ 105 میں سے صرف 18 منصوبے مکمل غیر ملکی ہیں، 70 منصوبے سرکاری، فوجی فلاحی یا مکمل پاکستانی نجی ملکیت میں ہیں اور 17 مشترکہ منصوبے (جوائنٹ ونچر) شامل کیے جائیں تو 87 منصوبے مکمل یا جزوی پاکستانی ملکیت میں آتے ہیں۔
▫
حکومت 18 غیر ملکی منصوبوں سے بین الاقوامی قوانین کے مطابق مذاکرات کرے، لیکن باقی 87 معاہدوں کی الگ الگ جانچ کرکے غیر ضروری کیپیسٹی پیمنٹس، مراعات اور منافع کم کرے۔ اس طرح عوام کے بجلی کے بلوں میں کافی کمی کی جا سک گی ۔
▫
حکومت بارہا کہتی ہے کہ معاہدے تبدیل یا ختم کیے گئے تو یہ بجلی کمپنیاں بین الاقوامی ثالثی میں چلی جائیں گی۔سوال یہ ہے کہ ان 105 معاہدوں میں سے حقیقتاً کن بجلی گھروں کو یہ حق حاصل ہے؟ کیا سرکاری، فوجی فلاحی اور مکمل پاکستانی نجی ادارے بھی بیرونِ ملک ثالثی میں جا سکتے ہیں، یا یہ خطرہ صرف غیر ملکی سرمایہ کاروں سے متعلق ہے؟
عوام کو ہر معاہدے کی ملکیت، ثالثی کی شق اور اس کی تجدید کی قانونی و معاشی بنیاد جاننے کا حق ہے۔
اس قسط میں یہ واضح ہو جائے گا کہ 105 پاور معاہدوں میں سے کتنے فریق اب بھی بین الاقوامی ثالثی کا دروازہ کھٹکھٹا سکتے ہیں۔ عوام یہ بھی سمجھ سکیں گے کہ بین الاقوامی ثالثی کا حقیقی خطرہ کن معاہدوں میں اب بھی موجود ہے، اور حکومت نے مدت ختم ہونے کے بعد بعض آئی پی پیز کے معاہدوں کو کیوں برقرار رکھا اور ان کی تجدید کس بنیاد پر کی۔ آئیے، پوری تفصیل سمجھتے ہیں۔
🔲 عوامی تحقیقاتی سلسلہ | قسط 52
موضوع: پاکستان کا بجلی کا نظام کیسے ٹھیک ہوگا؟
عنوان: 105 آئی پی پیز کو علیحدہ علیحدہ کیٹگری میں رکھا جاۓ۔
🔺 نجی اور سرکاری بجلی گھروں کو ایک ہی IPP نظام میں لانے کے بعد سوال یہ ہے کہ حکومت یہ نظام بدلنا بھی چاہتی ہے، یا اسے بجلی کے بلوں کی شکل میں عوام کی جیب سے پیسہ نکالنے کا آسان ذریعہ مل گیا ہے؟
تحریر و تحقیق: سید شایان
پاکستان کے بجلی کے نظام اور آئی پی پیز پر کی جانے والی میری تحقیق کی 50ویں قسط شائع ہوئی تو بہت سے قارئین نے سوال کیا کہ ملک میں 105 آئی پی پیز یا پاور معاہدوں کی موجودگی کا ثبوت کیا ہے اور ان منصوبوں کے اصل مالکان کون ہیں؟
میں نے واضح کیا تھا کہ 105 پاور معاہدوں کا یہ سرکاری عدد وزارتِ توانائی نے پیش کیا تھا۔
قارئین کا دوسرا اور زیادہ اہم سوال یہ تھا کہ ان بجلی گھروں اور کمپنیوں کے اصل مالکان کون ہیں؟
اس قسط میں، میں ان تمام 105 پاور معاہدوں سے متعلق منصوبوں اور کمپنیوں کے نام باقاعدہ طور پر پیش کرنے جا رہا ہوں۔
قارئین کی آسانی کے لیے میں نے انہیں 5 بنیادی حصوں میں تقسیم کیا ہے:
1. وفاقی یا صوبائی حکومت کے زیرِ کنٹرول بجلی گھر اور منصوبے
2. فوجی فاؤنڈیشن، ایف ایف سی گروپ اور دیگر فوجی فلاحی اداروں سے وابستہ منصوبے
3. مکمل غیر ملکی ملکیت والے آئی پی پیز
4. پاکستانی اور غیر ملکی شراکت داری Joint venture والے آئی پی پیز
5. مکمل پاکستانی نجی ملکیت والے آئی پی پیز
اس تقسیم کا مقصد یہ واضح کرنا ہے کہ پاکستان کے پاور معاہدوں میں حکومت، فوجی فلاحی اداروں، غیر ملکی سرمایہ کاروں اور پاکستانی کاروباری گروپوں کا اصل حصہ کتنا ہے۔
امید ہے کہ یہ درجہ بندی 105 پاور معاہدوں کی ملکیت اور ساخت کو سمجھنے میں مدد دے گی اور اس موضوع پر پائی جانے والی الجھن کو کم کرے گی۔
1۔ وفاقی یا صوبائی حکومتوں کے زیرِ کنٹرول 21 منصوبے۔
یہ وہ منصوبے یا معاہدے ہیں جن کا بنیادی کنٹرول وفاقی حکومت، صوبائی حکومت، واپڈا، پاکستان اٹامک انرجی کمیشن، آزاد کشمیر یا کسی دوسرے ریاستی ادارے کے پاس ہے۔
نمبر 1: آزاد کشمیر جاگراں اوّل پن بجلی منصوبہ، آزاد جموں و کشمیر کا سرکاری ہائیڈل منصوبہ
نمبر 2: چشمہ نیوکلیئر پاور پلانٹ سی 1، پاکستان اٹامک انرجی کمیشن
نمبر 3: چشمہ نیوکلیئر پاور پلانٹ سی 2، پاکستان اٹامک انرجی کمیشن
نمبر 4: چشمہ نیوکلیئر پاور پلانٹ سی 3، پاکستان اٹامک انرجی کمیشن
نمبر 5: چشمہ نیوکلیئر پاور پلانٹ سی 4، پاکستان اٹامک انرجی کمیشن
نمبر 6: سینٹرل پاور جنریشن کمپنی، جینکو دوم، وفاقی سرکاری جنریشن کمپنی
نمبر 7: دارال خوڑ پن بجلی منصوبہ، خیبر پختونخوا، پیڈو
نمبر 8: جامشورو کول پاور منصوبہ، جامشورو پاور کمپنی، سرکاری شعبہ
نمبر 9: کراچی نیوکلیئر پاور پلانٹ کے 2، پاکستان اٹامک انرجی کمیشن
نمبر 10: کراچی نیوکلیئر پاور پلانٹ کے 3، پاکستان اٹامک انرجی کمیشن
نمبر 11: کوٹ ادو پاور کمپنی لمیٹڈ، کیپکو، واپڈا سب سے بڑا شیئر ہولڈر، ملازمین کے ٹرسٹ سمیت ریاستی اثر و کنٹرول
نمبر 12: مالاکنڈ سوم پن بجلی منصوبہ، خیبر پختونخوا کا سرکاری ہائیڈل منصوبہ
نمبر 13: نیلم جہلم پن بجلی منصوبہ، واپڈا، وفاقی سرکاری منصوبہ
نمبر 14: ناردرن پاور جنریشن کمپنی، جینکو سوم، وفاقی سرکاری جنریشن کمپنی
نمبر 15: نیشنل پاور پارکس مینجمنٹ کمپنی، بلوکی، وفاقی حکومت
نمبر 16: نیشنل پاور پارکس مینجمنٹ کمپنی، حویلی بہادر شاہ، وفاقی حکومت
نمبر 17: پنجاب تھرمل پاور، تریموں، حکومتِ پنجاب
نمبر 18: قائداعظم تھرمل پاور، بھکی، حکومتِ پنجاب
نمبر 19: قائداعظم سولر پاور پرائیویٹ لمیٹڈ، حکومتِ پنجاب
نمبر 20: رانیولیا پن بجلی کمپلیکس، خیبر پختونخوا، پیڈو
نمبر 21: واپڈا کے بجلی منصوبے، واپڈا کے متعدد ہائیڈل منصوبوں کا مجموعی اندراج
ان 21 سرکاری منصوبوں کی فہرست سے واضح ہوتا ہے کہ صارف ان کی بجلی، قرض، مقررہ اخراجات، کیپیسٹی چارجز اور بعض صورتوں میں سرمایہ کاری پر باقائدہ منافع ادا کرتا ہے۔ اس لیے عوام یہ پوچھنے میں حق بجانب ہیں کہ سرکاری منصوبوں کو کیپیسٹی چارجز اور منافع کس بنیاد پر، کس شرح سے اور کس مقصد کے لیے دیا جا رہا ہے؟
2۔ فوجی فلاحی اداروں کے زیرِ کنٹرول 5 منصوبے
یہ پاک فوج کے دفاعی بجٹ کے براہِ راست ادارے نہیں بلکہ فوجی فلاحی ٹرسٹوں اور ان کی کمرشل کمپنیوں کے کاروباری منصوبے ہیں۔ اس فہرست میں بنیادی نام فوجی فاؤنڈیشن اور فوجی فرٹیلائزر کمپنی سے متعلق ہیں۔
نمبر 1: فوجی کبیر والا پاور کمپنی لمیٹڈ، فوجی فاؤنڈیشن
نمبر 2: ایف ایف سی انرجی لمیٹڈ، فوجی فرٹیلائزر کمپنی
نمبر 3: فاؤنڈیشن پاور کمپنی ڈہرکی لمیٹڈ، فوجی فاؤنڈیشن
نمبر 4: فاؤنڈیشن ونڈ انرجی اوّل لمیٹڈ، فوجی فاؤنڈیشن
نمبر 5: فاؤنڈیشن ونڈ انرجی دوم لمیٹڈ، فوجی فاؤنڈیشن
ان 5 منصوبوں کو صارفین کے بجلی کے بلوں سے کیپیسٹی چارجز، ٹیرف میں شامل منافع اور سرمایہ کاری پر منافع کیوں اور کس شرح سے دیا جا رہا ہے؟ یہ منصوبے غیر ملکی سرمایہ کاروں کے نہیں بلکہ ہمارے اپنے فوجی فلاحی اداروں کے زیرِ کنٹرول ہیں۔ حکومت یہ بھی واضح کرے کہ کیا ان کے معاہدوں میں واقعی بیرونِ ملک ثالثی کا حق موجود ہے؟ اگر نہیں تو انہیں بین الاقوامی ثالثی کے خطرے میں کیوں شامل کیا جاتا ہے؟
3۔ سو فیصد غیر ملکی ملکیت کے منصوبے، 18
یہ وہ منصوبے ہیں جن میں کوئی پاکستانی اسٹریٹجک ایکویٹی شریک سامنے نہیں آتا یا حقیقی اور فائدہ مند ملکیت عملاً مکمل غیر ملکی ہے۔ محض پاکستان میں کمپنی رجسٹر ہونے سے اسے پاکستانی منصوبہ نہیں سمجھا گیا۔
نمبر 1: اپولو سولر ڈویلپمنٹ پاکستان لمیٹڈ، چینی اور ہانگ کانگ اسپانسر
نمبر 2: بیسٹ گرین انرجی پاکستان لمیٹڈ، چینی اسپانسر
نمبر 3: کریسٹ انرجی پاکستان لمیٹڈ، چینی اسپانسر
نمبر 4: ہالمور پاور جنریشن کمپنی لمیٹڈ، برطانوی فائدہ مند ملکیت، مرکزی مالک تقریباً 99.9 فیصد
نمبر 5: ہوا انرجی پرائیویٹ لمیٹڈ، غیر ملکی ہولڈنگ، جے سی ایم اور متعلقہ بیرونی سرمایہ کار
نمبر 6: ساہیوال کول پاور ، ہوانینگ شانڈونگ رویی انرجی پرائیویٹ لمیٹڈ، چین
نمبر 7: جھمپیر پاور پرائیویٹ لمیٹڈ، سنگاپور ہولڈنگ، کینیڈین جے سی ایم اور دبئی سے متعلق سرمایہ
نمبر 8: کروٹ پاور کمپنی پرائیویٹ لمیٹڈ، چائنا تھری گورجز گروپ
نمبر 9: میرا پاور لمیٹڈ، گلپور، کوریائی اسپانسرز
نمبر 10: پورٹ قاسم الیکٹرک پاور کمپنی پرائیویٹ لمیٹڈ، چین اور قطر، دونوں حصے غیر ملکی
نمبر 11: اسٹار ہائیڈرو پاور لمیٹڈ، کوریائی اسپانسرز، پترینڈ پن بجلی منصوبہ
نمبر 12: توانیر ایران، ایرانی سرکاری بجلی فراہم کنندہ، پاکستان کے اندر آئی پی پی نہیں بلکہ درآمدی معاہدہ
نمبر 13: تھر کول بلاک 1 پاور جنریشن کمپنی، شنگھائی الیکٹرک اور چینی اسپانسر
نمبر 14: تھری گورجز فرسٹ ونڈ فارم پاکستان، چائنا تھری گورجز
نمبر 15: تھری گورجز سیکنڈ ونڈ فارم پاکستان، چائنا تھری گورجز
نمبر 16: تھری گورجز تھرڈ ونڈ فارم پاکستان، چائنا تھری گورجز
نمبر 17: یو ای پی ونڈ پاور پرائیویٹ لمیٹڈ، چینی ملکیت
نمبر 18: زورلو انرجی پاکستان لمیٹڈ، زورلو انرجی، ترکی
ان 18 منصوبوں اور معاہدوں میں بین الاقوامی ثالثی اور غیر ملکی سرمایہ کاری کے قانونی تحفظ کا سوال سب سے زیادہ اہم ہے۔ عوام کو یہ جاننے کا حق ہے کہ ان میں سے کون سے منصوبے واقعی بین الاقوامی ثالثی میں جا سکتے ہیں، انہیں کس معاہدے یا قانون کے تحت یہ حق حاصل ہے اور حکومت نے ان کی شرائط تبدیل کرنے یا مدت پوری ہونے پر انہیں ختم کرنے کے بجائے کس بنیاد پر برقرار رکھا؟ محض غیر ملکی ملکیت حکومت کو ہر شرط تسلیم کرنے کا لامحدود جواز نہیں دیتی۔
4۔ پاکستانی اور غیر ملکی مشترکہ ملکیت کے 17 منصوبے
یہ سب سے زیادہ غلط فہمی پیدا کرنے والا خانہ ہے۔ ان منصوبوں کو کبھی مکمل غیر ملکی بنا کر پیش کیا جاتا ہے اور کبھی صرف پاکستانی گروپ کے نام سے۔ حقیقت یہ ہے کہ ان میں پاکستانی اور غیر ملکی اسٹریٹجک سرمایہ دونوں موجود ہیں۔ اس لیے کسی تنازعے، معاہدے میں تبدیلی یا ثالثی کے خطرے کا جائزہ لیتے وقت پاکستانی شریک کا حصہ بھی عوام کے سامنے ہونا چاہیے۔
نمبر 1: اٹک جین لمیٹڈ، اٹک گروپ کے پاکستانی کارپوریٹ ادارے اور بیرونِ ملک ہولڈنگ اور فائدہ مند ملکیت
نمبر 2: چائنا پاور حب جنریشن کمپنی پرائیویٹ لمیٹڈ، چائنا پاور اور پاکستانی حبکو
نمبر 3: اینگرو پاور جین تھر پرائیویٹ لمیٹڈ، پاکستانی اسپانسرز کے ساتھ چینی سی ایم ای سی کا حصہ
نمبر 4: گل احمد ونڈ پاور لمیٹڈ، پاکستانی گل احمد گروپ کے ساتھ انفراکو ایشیا اور بین الاقوامی سرمایہ
نمبر 5: ہڑپہ سولر پرائیویٹ لمیٹڈ، پاکستانی اکثریت کے ساتھ سری لنکن ونڈ فورس کا حصہ
نمبر 6: ہیلیوس پاور پرائیویٹ لمیٹڈ، ناروے کی اسکیٹک اور پاکستانی نظام انرجی
نمبر 7: ایچ این ڈی ایس انرجی پرائیویٹ لمیٹڈ، ناروے کی اسکیٹک اور پاکستانی نظام انرجی
نمبر 8: ہائیڈرو چائنا داؤد پاور پرائیویٹ لمیٹڈ، چینی ہائیڈرو چائنا اور پاکستانی داؤد شریک
نمبر 9: میریڈین انرجی پرائیویٹ لمیٹڈ، ناروے کی اسکیٹک اور پاکستانی نظام انرجی
نمبر 10: میٹرو پاور کمپنی لمیٹڈ، پاکستانی علی محمد خاندان اور انفراکو ایشیا
نمبر 11: ایس کے ہائیڈرو پرائیویٹ لمیٹڈ، سکی کناری، چینی گیزوبا اکثریت اور پاکستانی اقلیتی شریک
نمبر 12: تھل نووا پاور تھر پرائیویٹ لمیٹڈ، حبکو، تھل، نووا اور ڈیسکون کے ساتھ چینی سی ایم ای سی
نمبر 13: تھر انرجی لمیٹڈ، حبکو اور ایف ایف سی کے ساتھ چینی سی ایم ای سی
نمبر 14: ٹرائیکون بوسٹن اے، پاکستانی سیفائر اور ٹرائیکون اور غیر ملکی اسٹریٹجک شریک
نمبر 15: ٹرائیکون بوسٹن بی، پاکستانی سیفائر اور ٹرائیکون اور غیر ملکی اسٹریٹجک شریک
نمبر 16: ٹرائیکون بوسٹن سی، پاکستانی سیفائر اور ٹرائیکون اور غیر ملکی اسٹریٹجک شریک
نمبر 17: زیفر پاور پرائیویٹ لمیٹڈ، پاکستانی خلیلی، اقبال اور دوسہ خاندان، اور برٹش انٹرنیشنل انویسٹمنٹ، سابقہ سی ڈی سی گروپ
اس کیٹگری میں 17 منصوبے شامل ہیں۔ حکومت کو ہر منصوبے کے بارے میں صاف بتانا چاہیے کہ اس میں پاکستانی سرمایہ کاروں کا کتنا حصہ ہے اور غیر ملکی سرمایہ کاروں کا کتنا۔ یہ بھی واضح کیا جائے کہ معاہدہ کون تبدیل کر سکتا ہے اور تنازع پیدا ہونے پر فیصلہ پاکستان میں ہوگا یا بیرون ملک۔ جس منصوبے میں پاکستانی اور غیر ملکی دونوں شریک ہوں، اسے مکمل غیر ملکی یا مکمل پاکستانی کہنا غلط ہے
5۔ مکمل پاکستانی نجی ملکیت کے 44 پاور پراجیکٹس
یہ وہ منصوبے ہیں جن کے معلوم اسٹریٹجک اسپانسر پاکستانی نجی گروپ، خاندان، صنعت یا پاکستانی کمپنی ہیں اور کسی واضح غیر ملکی اسٹریٹجک ایکویٹی پارٹنر کی نشاندہی نہیں ہوتی۔ یہاں پاکستانی سے مراد منصوبے کا اسٹریٹجک کنٹرول ہے، نہ کہ لسٹڈ کمپنی کے روزانہ بدلتے معمولی پبلک فلوٹ کی قومیت۔
نمبر 1: اے سی ٹی ونڈ پرائیویٹ لمیٹڈ، ٹپال گروپ و دیگر پاکستانی گروپ
نمبر 2: اے سی ٹی 2 ڈِن ونڈ پرائیویٹ لمیٹڈ، اختر، اسماعیل اور تاپال گروپس
نمبر 3: اے جے پاور پرائیویٹ لمیٹڈ، پاکستانی نجی اسپانسرز
نمبر 4: المعیز انڈسٹریز لمیٹڈ، پاکستانی شوگر اور انڈسٹری گروپ
نمبر 5: آرٹسٹک انرجی پرائیویٹ لمیٹڈ، آرٹسٹک ملینرز
نمبر 6: آرٹسٹک ونڈ پاور پرائیویٹ لمیٹڈ، آرٹسٹک ملینرز
نمبر 7: اٹلس سولر لمیٹڈ، اٹلس اور شیرازی گروپ، سابق چینی اثاثہ اب پاکستانی کنٹرول میں
نمبر 8: چنار انرجی لمیٹڈ، پاکستانی نجی اسپانسر
نمبر 9: چنیوٹ پاور لمیٹڈ، پاکستانی شوگر گروپ
نمبر 10: دین نرجی لمیٹڈ، دین گروپ
نمبر 11: اینگرو پاور جین قادرپور لمیٹڈ، موجودہ پاکستانی اسپانسر، لبرٹی گروپ
نمبر 12: گل احمد الیکٹرک لمیٹڈ، گل احمد گروپ
نمبر 13: حمزہ شوگر ملز لمیٹڈ، پاکستانی شوگر گروپ
نمبر 14: انڈس ونڈ انرجی لمیٹڈ، انڈس گروپ
نمبر 15: جے ڈی ڈبلیو شوگر ملز یونٹ دوم، پاکستانی نجی گروپ
نمبر 16: جے ڈی ڈبلیو شوگر ملز یونٹ سوم، پاکستانی نجی گروپ
نمبر 17: کوہ نور انرجی لمیٹڈ، پاکستانی نجی گروپ
نمبر 18: لیک سائیڈ انرجی لمیٹڈ، نوینہ اور پاکستانی گروپ
نمبر 19: لاریب انرجی لمیٹڈ، حبکو کا 74.95 فیصد کنٹرول، باقی معلوم اسپانسر بھی مقامی
نمبر 20: لبرٹی ڈہرکی پاور لمیٹڈ، لبرٹی گروپ، سابق ٹی این بی اثاثہ اب پاکستانی ملکیت
نمبر 21: لبرٹی پاور ٹیک لمیٹڈ، لبرٹی اور مکاٹی گروپ
نمبر 22: لبرٹی ونڈ پاور اوّل لمیٹڈ، لبرٹی گروپ
نمبر 23: لبرٹی ونڈ پاور دوم پرائیویٹ لمیٹڈ، لبرٹی گروپ
نمبر 24: لکی الیکٹرک پاور کمپنی لمیٹڈ، لکی اور یونس برادرز گروپ
نمبر 25: لکی رینیوایبلز پرائیویٹ لمیٹڈ، لکی گروپ، سابق ٹرائیکوم منصوبہ
نمبر 26: ماسٹر گرین انرجی لمیٹڈ، ماسٹر گروپ
نمبر 27: ماسٹر ونڈ انرجی لمیٹڈ، ماسٹر گروپ
نمبر 28: میٹرو ونڈ پاور لمیٹڈ، پاکستانی اقبال اور میٹرو گروپ
نمبر 29: نارووال انرجی لمیٹڈ، حبکو کی مکمل ملکیت
نمبر 30: ناسڈا گرین انرجی لمیٹڈ، صورتی گروپ
نمبر 31: نشاط چونیاں پاور لمیٹڈ، نشاط اور منشا گروپ
نمبر 32: نشاط پاور لمیٹڈ، نشاط اور منشا گروپ
نمبر 33: اورینٹ پاور کمپنی پرائیویٹ لمیٹڈ، پاکستانی نجی اسپانسرز
نمبر 34: آر وائی کے ملز لمیٹڈ، پاکستانی شوگر گروپ
نمبر 35: سچل انرجی ڈویلپمنٹ پرائیویٹ لمیٹڈ، عارف حبیب گروپ
نمبر 36: سیف پاور لمیٹڈ، سیف اللہ گروپ
نمبر 37: سیفائر الیکٹرک کمپنی لمیٹڈ، سیفائر گروپ
نمبر 38: سیفائر ونڈ پاور کمپنی لمیٹڈ، سیفائر ٹیکسٹائل اور بینک الفلاح
نمبر 39: شاہ تاج شوگر ملز لمیٹڈ، پاکستانی نجی اور پبلک شیئر ہولڈرز
نمبر 40: تیناگا جنراسی لمیٹڈ، پاکستانی داؤد لارنس پور اور متعلقہ گروپ
نمبر 41: تھل انڈسٹریز کارپوریشن لمیٹڈ، پاکستانی نجی گروپ
نمبر 42: اوچ پاور لمیٹڈ، 2024 کی خریداری کے بعد سیفائر فائبرز اور مائنڈ برج، دونوں پاکستانی
نمبر 43: اوچ دوم پاور پرائیویٹ لمیٹڈ، 2024 کی خریداری کے بعد سیفائر فائبرز اور مائنڈ برج، دونوں پاکستانی
نمبر 44: یونس انرجی لمیٹڈ، یونس برادرز اور لکی گروپ
یہ 44 منصوبوں پر مشتمل سب سے بڑی کیٹگری بہے۔ اس لیے یہ عمومی دعویٰ درست نہیں کہ تمام پاور معاہدوں کو صرف غیر ملکی سرمایہ کاروں کی بین الاقوامی ثالثی کے خوف سے تبدیل نہیں کیا جا سکتا۔
عوام کو یہ جاننے کا حق ہے کہ ان مکمل پاکستانی کمپنیوں میں سے کن کمپنیوں کے معاہدوں میں بیرونِ ملک ثالثی کی شق موجود ہے، انہیں کیپیسٹی چارجز اور سرمایہ کاری پر منافع کس بنیاد پر دیا جا رہا ہے اور مدت ختم ہونے کے بعد بعض معاہدوں کو کیوں برقرار رکھا گیا یا ان کی تجدید کیوں کی گئی؟
اس قسط کے آخر میں گذارش ہے کہ جب تک حکومت خود مکمل جدول جاری نہیں کرتی، یہ پانچ پوائنٹس یاد رکھیں۔
21 سرکاری + 5 فوجی فلاحی + 18 مکمل غیر ملکی + 17 مشترکہ + 44 مکمل پاکستانی = 105۔
(جاری ہے۔ باقی اگلی قسط میں)
0
Views
49
2
تمام اقساط پڑھیے

مزید مضامین

قسط نمبر 56

قسط نمبر 56

نیپرا نے اگلے گیارہ برس کے لیے بجلی بنانے اور ترسیل کا ایک بڑا منصوبہ منظور کیا ہے۔ اس پر تقریباً 58 ارب ڈالر خرچ ہوں گے۔

قسط نمبر 54

قسط نمبر 54

جب پاکستان کی سپریم کورٹ نے رینٹل پاور پروجیکٹس (RPPs) کے معاہدوں کو غیر قانونی قرار دے کر منسوخ کر دیا تھا۔

قسط نمبر 55

قسط نمبر 55

� آئی پی پیز کے علاوہ مزید پاور ماڈلز جو اب تک نظروں سے اوجھل رہے اور جنہیں حکومت کی طرف سے بجلی پیدا کرنے کے لیے الگ بھاری رقوم ادا کی گئیں۔

قسط نمبر 53

قسط نمبر 53

پاکستان کے بجلی بحران اور کیپیسٹی چارجز کی اصل حقیقت سامنے آ گئی ۔ نیپرا کی رپورٹ سے سامنے آنے والے چونکا دینے والے انکشافات

قسط نمبر 51

قسط نمبر 51

پاکستان میں بجلی کے بحران سے نمٹنے کے لیے ہم نے ہمیشہ فوری اور عارضی حل تلاش کیے۔ جب بجلی کم پڑی تو ہم نے نئے پاور پلانٹس لگائے، IPPs کے ساتھ طویل مدتی معاہدے کیے اور آنے والے برسوں کی کپیسٹی خریدنے کے وعدے کر لیے۔ لیکن اس دوران ہم یہ بھول گئے کہ ہماری آنے والی نسلوں کے لیے سستی، پائیدار اور ماحول دوست توانائی کہاں سے آئے گی۔