عوامی تحقیقاتی سلسلہ
قسط نمبر 54

رینٹل پاور معاہدے، سپریم کورٹ کا فیصلہ اور عالمی ثالثی کا بھاری جرمانہ

🔲 عوامی تحقیقاتی سلسلہ | قسط 54 | بجلی بحران
🔳 جب پاکستان کی سپریم کورٹ نے رینٹل پاور پروجیکٹس (RPPs) کے معاہدوں کو غیر قانونی قرار دے کر منسوخ کر دیا تھا۔
🔲 عوامی تحقیقاتی سلسلہ | قسط 54
موضوع: پاکستان کا بجلی کا نظام کیسے ٹھیک ہوگا؟
عنوان: رینٹل پاور معاہدے، سپریم کورٹ کا فیصلہ اور عالمی ثالثی کا بھاری جرمانہ
🔺 سپریم کورٹ کے اس فیصلے کے خلاف ترک کمپنی Karkey Karadeniz نے عالمی ثالثی عدالت میں 2 ارب ڈالر کا دعویٰ کیا، جہاں پاکستان کے خلاف فیصلہ آیا اور تقریباً 490 ملین ڈالر معاوضہ عائد کیا گیا۔ واضح رہے کہ مذکورہ ترک کمپنی کراچی کے سمندر میں کھڑے اپنے بحری جہاز کے ذریعے بجلی سپلائی کرتی تھی۔
‏‎تحریر و تحقیق: سید شایان
پاکستان کی عدالتی تاریخ میں 30 مارچ 2012 کا دن ایک بڑا سنگِ میل ثابت ہوا، جب چیف جسٹس افتخار محمد چودھری اور جسٹس خلجی عارف حسین پر مشتمل سپریم کورٹ کے دو رکنی بینچ نے تمام رینٹل پاور پراجیکٹس (RPPs) کے معاہدوں کو کالعدم، غیر قانونی اور آئین کے برعکس قرار دیتے ہوئے فوری منسوخ کرنے کا حکم دیا تھا۔
عدالت نے اپنے فیصلے میں واضح کیا کہ رینٹل پاور کے معاہدوں میں شفافیت کی دھجیاں اڑائی گئیں اور اربوں روپے پیشگی (Advance/Mobilization Advance) ادا کر کے قوم کا پیسہ ضائع کیا گیا۔ سپریم کورٹ نے قومی احتساب بیورو (NAB) کو حکم دیا کہ وہ تمام ملوث افراد کے خلاف فوراً فوجداری تحقیقات کا آغاز کرے اور ریکوری کی کارروائی ملکی و غیر ملکی کمپنیوں سے کرے۔
اس حکم میں سابق وزیرِ پانی و بجلی اور اس وقت کے وزیرِ اعظم راجہ پرویز اشرف (جنہیں اس فیصلے کے بعد “راجہ رینٹل” کا لقب دیا گیا) شدید قانونی شکنجے میں آ گئے۔
سپریم کورٹ نے نیب کو اس وقت بحیثیت وزیراعظم راجہ پرویز اشرف سمیت تمام ملوث افراد کو گرفتار کر کے عدالت میں پیش کرنے کا حکم دیا۔ پاکستان کی تاریخ میں یہ پہلا موقع تھا کہ ایک وزیراعظم کے خلاف گرفتاری کے احکامات جاری ہوئے۔
نیب کے اس وقت کے چیئرمین فصیح البخاری نے گرفتاری سے انکار کرتے ہوئے مؤقف اختیار کیا کہ ان کے پاس شواہد نامکمل ہیں، جس پر سپریم کورٹ اور نیب کے درمیان شدید توہینِ عدالت کا تنازع پیدا ہوا۔
اس پورے معاملے کا سب سے خوفناک اور دردناک باب نیب کے اسسٹنٹ ڈائریکٹر کامران فیصل کی پراسرار موت تھی۔ کامران فیصل رینٹل پاور کیس کے بنیادی تفتیشی افسر تھے اور ان پر کیس کی فائلیں تبدیل کرنے اور اعلیٰ شخصیات کو بچانے کے لیے زبردست دباؤ تھا۔
18 جنوری 2013: اسلام آباد کے فیڈرل سروسز لاجز میں کامران فیصل کی لاش پنکھے سے لٹکی ہوئی ملی۔
حکومت نے اسے خودکشی قرار دیا، لیکن عوامی، عدالتی اور میڈیا کے حلقوں میں شدید شبہات پیدا ہوئے کہ انہیں کیس کے حقائق چھپانے کے لیے قتل کیا گیا۔ اس واقعے نے رینٹل پاور کیس کو خوفناک موڑ دے دیا۔
سپریم کورٹ کے حکم پر نیب نے راجہ پرویز اشرف، شوکت ترین (سابق وزیرِ خزانہ)، اسماعیل قریشی، شاہد رفیق، طارق نذیر اور دیگر اعلیٰ بیوروکریٹس و تکنیکی ماہرین کے خلاف متعدد ریفرنسز دائر کیے۔
سپریم کورٹ کا فیصلہ ملک کے اندر بدعنوان معاہدوں کو بے نقاب کرنے اور آئینی نظم قائم کرنے کی ایک اہم کوشش تھا، تاہم اس کے بعد آنے والا سیاسی دباؤ، تفتیشی افسر کامران فیصل کی پراسرار موت، اور بین الاقوامی ثالثی عدالت میں لگنے والے اربوں ڈالر کے جرمانے نے رینٹل پاور سکینڈل کو پاکستان کی توانائی اور عدالتی تاریخ کا سب سے پیچیدہ اور دردناک باب بنا دیا۔
طویل عرصے کے قانونی عمل، نیب ترمیمی آرڈیننسز اور شواہد کی عدم دستیابی کی بنیاد پر سال 2020 اور 2021 میں احتساب عدالتوں نے راجہ پرویز اشرف اور دیگر ملزمان کو رینٹل پاور کے تمام بنیادی ریفرنسز سے بری کر دیا۔
(جاری ہے۔ باقی اگلی قسط میں)
0
Views
12
5
تمام اقساط پڑھیے

مزید مضامین

قسط نمبر 56

قسط نمبر 56

نیپرا نے اگلے گیارہ برس کے لیے بجلی بنانے اور ترسیل کا ایک بڑا منصوبہ منظور کیا ہے۔ اس پر تقریباً 58 ارب ڈالر خرچ ہوں گے۔

قسط نمبر 55

قسط نمبر 55

� آئی پی پیز کے علاوہ مزید پاور ماڈلز جو اب تک نظروں سے اوجھل رہے اور جنہیں حکومت کی طرف سے بجلی پیدا کرنے کے لیے الگ بھاری رقوم ادا کی گئیں۔

قسط نمبر 53

قسط نمبر 53

پاکستان کے بجلی بحران اور کیپیسٹی چارجز کی اصل حقیقت سامنے آ گئی ۔ نیپرا کی رپورٹ سے سامنے آنے والے چونکا دینے والے انکشافات

قسط نمبر 52

قسط نمبر 52

پاکستان کے 105 بجلی گھروں (IPPs) کے حکومتی معاہدے

قسط نمبر 51

قسط نمبر 51

پاکستان میں بجلی کے بحران سے نمٹنے کے لیے ہم نے ہمیشہ فوری اور عارضی حل تلاش کیے۔ جب بجلی کم پڑی تو ہم نے نئے پاور پلانٹس لگائے، IPPs کے ساتھ طویل مدتی معاہدے کیے اور آنے والے برسوں کی کپیسٹی خریدنے کے وعدے کر لیے۔ لیکن اس دوران ہم یہ بھول گئے کہ ہماری آنے والی نسلوں کے لیے سستی، پائیدار اور ماحول دوست توانائی کہاں سے آئے گی۔