عوامی تحقیقاتی سلسلہ
قسط نمبر 53

نیپرا نے کس آئی پی پی کو کیا کپیسٹی پیمنٹس کیں اور کس آئی پی پی نے کتنی بجلی پیدا کی؟

🔲 عوامی تحقیقاتی سلسلہ | قسط 53 | بجلی بحران
🔳 پاکستان کے بجلی بحران اور کیپیسٹی چارجز کی اصل حقیقت سامنے آ گئی ۔ نیپرا کی رپورٹ سے سامنے آنے والے چونکا دینے والے انکشافات
▫
پاکستان میں آج تک عمومی تاثر یہ دیا جاتا رہا ہے کہ کیپیسٹی چارجز کی مد میں عوام سے وصول ہونے والی بیشتر رقم غیر ملکی کمپنیوں یا نجی مالکان کے آئی پی پیز کو جا رہی ہے۔ لیکن اس رپورٹ سے واضح ہوتا ہے کہ کیپیسٹی چارجز میں سب سے بڑا حصہ خود سرکاری شعبے کا ہے۔ نیپرا کے اعداد و شمار بتا رہے ہیں کہ اس سال کی دوسری سہ ماہی یعنی اپریل سے جون کے تین مہینوں کے مجموعی کیپیسٹی چارجز کا 40.4 فیصد، یعنی 190.7 ارب روپے، وفاقی اور صوبائی حکومتوں کے پاور پلانٹس کو جا رہا ہے، جبکہ غیر ملکی ملکیت والے پاور پلانٹس کا حصہ صرف 26.5 فیصد ہے۔
▫
حکومت عوام کو یہ کہہ کر ڈراتی ہے کہ پاور معاہدے ختم کیے تو بین الاقوامی ثالثی (International Arbitration) کا سامنا ہوگا اور ماضی میں کیے گئے نجی معاہدوں نے اس کے ہاتھ باندھ رکھے ہیں، لیکن اپریل سے جون کی سہ ماہی رپورٹ اس بیانیے کی نفی کرتی ہے۔ یہ اعداد و شمار ظاہر کرتے ہیں کہ بحران کی ایک بڑی وجہ خود حکومت کی ناقص منصوبہ بندی، انتظامی نااہلی اور بدانتظامی ہے۔
▫
جدید تھرمل پلانٹس (RLNG/Coal) بھکی میں 95.2 فیصد، تریموں میں 84.3 فیصد اور نندی پور میں 86.6 فیصد کم بجلی پیداوار کے باوجود بھاری کیپیسٹی پیمنٹس کی ادائیگی سے اندازہ ہوتا ہے کہ یا تو گیس اور آر ایل این جی سے بجلی پیدا کرنا بہت مہنگا ہے، یا ہماری ٹرانسمیشن لائنیں ان پلانٹس کی پوری بجلی منتقل کرنے کی اہل نہیں ہیں۔ یہ صورت حال ظاہر کرتی ہے کہ پاکستان کا پاور سیکٹر شدید بدانتظامی اور ناقص منصوبہ بندی کا شکار ہے پیپرا (PPRA) یا فیول سپلائی چین کی منصوبہ بندی مکمل طور پر ناکام رہی ہے۔
نیلم جہلم کے 964.5 میگاواٹ صلاحیت کے باوجود بجلی کی صفر فراہمی منصوبے کی مکمل بندش ظاہر کرتی ہے
▫
105 میں سے 70 منصوبے مکمل طور پر مقامی (Local) یا سرکاری ہیں، جن کا بین الاقوامی معاہدوں یا غیر ملکی قانون سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ ان پر حکومت اپنے ملکی قوانین کے تحت سستا یا بہتر معاہدہ فوراً نافذ کر سکتی ہے۔
▫
اپریل سے جون تک کارخانوں، اے سی اور گھریلو صارفین کی بجلی کی طلب عروج پر ہوتی ہے، لیکن ان مہینوں میں بھی مُلک کی مجموعی پیداواری صلاحیت کا 53.8 فیصد استعمال نہ ہونا ہمارے بجلی کے نظام کے Structural Collapse کو ظاہر کرتا ہے۔
اس سے واضح ہوتا ہے کہ اصل مسئلہ بجلی پیدا کرنے کی صلاحیت کی کمی نہیں، بلکہ ضرورت سے زیادہ پلانٹس، ناقص منصوبہ بندی اور ناکارہ نظام ہے۔ ہم نے ایسے پاور پلانٹس لگا رکھے ہیں جن کی شدید گرمیوں میں بھی ضرورت نہیں پڑتی، مگر بجلی لیے بغیر سال بھر ان کی موجودگی کا بھاری کرایہ ادا کرنا پڑتا ہے۔
▫
ہماری اس رپورٹ کے بعد حکومت کو فوری طور پر اپنے پبلک سیکٹر پاور پلانٹس (GENCOs) کا ازسرنو جائزہ لینا ہوگا اور مقامی نجی پلانٹس کے ساتھ معاشی اصلاحات کرنی ہوں گی، تاکہ بین الاقوامی سائننگ کلازز کو چھیڑے بغیر ہی کیپیسٹی چارجز کے % 60 سے زائد بوجھ میں واضح کمی لائی جا سکے-
🔲 عوامی تحقیقاتی سلسلہ | قسط 53
موضوع: پاکستان کا بجلی کا نظام کیسے ٹھیک ہوگا؟
عنوان: نیپرا نے کس آئی پی پی کو کیا کپیسٹی پیمنٹس کیں اور کس آئی پی پی نے کتنی بجلی پیدا کی؟
🔺 نجی اور سرکاری بجلی گھروں کو ایک ہی IPP نظام میں لانے کے بعد سوال یہ ہے کہ حکومت یہ نظام بدلنا بھی چاہتی ہے، یا اسے بجلی کے بلوں کی شکل میں عوام کی جیب سے پیسہ نکالنے کا آسان ذریعہ مل گیا ہے؟
تحریر و تحقیق: سید شایان
جب میں نے ڈیڑھ دو سال پہلے آئی پی پیز پر تحقیق شروع کی تو میرے نزدیک آئی پی پی (IPP) سے مراد بجلی پیدا کرنے والی ایک آزاد نجی کمپنی تھی۔ میرا یہ تصور کچھ ایسا بے بنیاد بھی نہیں تھا۔
بے نظیر بھٹو کے دور میں مارچ 1994 کی سرکاری پالیسی کا نام ہی
“Policy Framework and Package of Incentives for Private Sector Power Generation Projects in Pakistan”
تھا۔ وزیراعظم نے سرکاری بجلی پالیسی کے دیباچے میں بھی صاف لکھا کہ اس پالیسی کا مقصد “foreign and domestic entrepreneurs” یعنی غیر ملکی اور پاکستانی نجی سرمایہ کاروں کو بجلی کے منصوبوں میں لانا ہے۔ ورلڈ بینک نے بھی پاکستان کے اس تجربے کو “Independent Private Power Experience”
کا نام دیا اور ان منصوبوں کے لیے
“Independent Private Power Projects”
کے الفاظ استعمال کیے۔
اس ترکیب میں Private، Power اور Projects، تینوں الفاظ تین P سے شروع ہوتے ہیں۔ میں اس وقت بھی سوچتا تھا کہ جب یہاں تین P ہیں تو ہم اسے IPPP کے بجائے IPP کیوں کہتے ہیں۔
بہرحال، میرے ذہن میں بنیادی تصور بالکل واضح تھا کہ آئی پی پی ایک آزاد نجی بجلی منصوبہ ہے، خواہ اس کا سرمایہ پاکستانی ہو یا غیر ملکی۔
پھر 2015 میں نواز شریف حکومت نے سرکاری بجلی منصوبوں کو بھی IPP mode میں لانے اور PPIB کے ذریعے انہیں نجی آئی پی پیز جیسی سہولتیں فراہم کرنے کا راستہ کھول دیا۔
اس وقت بھی میرا خیال تھا کہ شاید سرکاری منصوبوں کو صرف انتظامی سہولت کے لیے آئی پی پی کہا جارہا ہے، لیکن انہیں وہ تمام مالی فوائد نہیں مل رہے ہوں گے جو نجی یا غیر ملکی سرمایہ کاروں کے لیے رکھے گئے تھے۔
آخر غیر ملکی سرمایہ کار، پاکستانی نجی کمپنی اور سرکاری ملکیت کے پاور پلانٹس (بجلی گھر) ایک ہی چیز کیسے ہوسکتے تھے؟
حکومت پنجاب کی سو فیصد ملکیت قائداعظم تھرمل پاور کمپنی کو جب نیپرا نے “thermal Independent Power Producer” لکھا تو میں نے اسے بھی معمول کی سرکاری اصطلاح سمجھ کر زیادہ اہمیت نہیں دی تھی۔
لیکن جب دو ہفتے قبل قومی اسمبلی میں 105 بجلی معاہدوں کا ذکر سامنے آیا اور میں نے ان منصوبوں کی ملکیت، معاہدوں اور ادائیگیوں کو الگ الگ کرکے تجزیہ کیا تو میرے پاؤں تلے سے زمین نکل گئی۔
معلوم ہوا کہ آئی پی پی کے نام کے پیچھے وفاقی اور صوبائی حکومتوں کے منصوبے، فوجی فلاحی اداروں سے وابستہ پاور کمپنیاں، مکمل پاکستانی نجی کمپنیاں، پاکستانی اور غیر ملکی جوائنٹ ونچرز اور مکمل غیر ملکی کمپنیاں، سب موجود ہیں اور اپنے اپنے معاہدوں کے تحت فوائد اور ادائیگیاں وصول کررہے ہیں۔
مگر عوام کو مسلسل یہی خوف دکھایا جا رہا ہے کہ آئی پی پیز کے خلاف کوئی قدم اٹھایا تو غیر ملکی سرمایہ کار بین الاقوامی ثالثی میں چلے جائیں گے اور پاکستان کی بدنامی ہوگی۔ وزرا اور اعلیٰ عہدے دار بھی یہی ایک کہانی دہراتے رہے۔
اب تحقیق سے معلوم ہوا کہ 105 میں سے کم از کم 70 معاہدے سرکاری، فوجی فلاحی یا مکمل پاکستانی ملکیت کے منصوبوں سے متعلق ہیں۔ یہ سب پاکستان کو غیر ملکی ثالثی میں نہیں لے جاسکتے۔ یوں گالیاں اور بددعائیں ایک نامعلوم غیر ملکی آئی پی پی مافیا کو پڑتی رہیں، جبکہ اس کی آڑ میں اپنے سرکاری اور پاکستانی ادارے بھی اسی بہتی گنگا میں پورے اطمینان سے ہاتھ دھوتے رہے۔
کیپیسٹی چارجز کی مد میں یہ رپورٹ جو اس وقت آپ کے زیر نظر ہے اس سال کی دوسری سہ ماہی یعنی اپریل سے جون 2026 تک تین مہینوں کی پیمنٹ ادائیگی کی ہے۔
اس میں دیکھیے کہ صرف تین مہینوں میں کس بجلی گھر کے لیے کتنی بڑی رقمیں قابل ادائیگی ظاہر کی گئی ہیں۔
واضح رہے کہ نیپرا نے 105 منصوبوں اور ان کی رقوم کو ایک ہی جگہ درج کیا ہے مگر میں نے کافی وقت اور ہمت کر کے انہیں پانچ الگ کیٹگریز categories یا پانچ گروپوں میں تقسیم کیا ہے۔
سرکاری،
فوجی فلاحی،
مکمل غیر ملکی
جوائنٹ ونچر
مکمل پاکستانی نجی منصوبے
اس تقسیم سے اب بالکل واضح ہوگیا ہے کہ کس کیتگری یا گروپ کو کتنی رقم جارہی ہے۔
جن آئی پی پیز کو ہم مجموعی طور پر کوستے رہے، ان کی اصل حقیقت کچھ اور نکلی ہے۔ امید ہے یہ رپورٹ برسوں سے پھیلی ہوئی الجھن دور کرکے اصل تصویر عوام کے سامنے لے آئے گی
آئیے اب یہ رپورٹ دیکھتے ہیں۔
🔘 1۔ وفاقی اور صوبائی سرکاری پاور پلانٹس
– مجموعی کیپیسٹی چارجز: 190,725,568,746 روپے
(190 ارب 72 کروڑ 55 لاکھ 68 ہزار 746 روپے)
– بجلی پیدا کرنے کی مجموعی صلاحیت: 19,916.6 میگاواٹ
– اس سہ ماہی میں اوسطاً فراہم کردہ بجلی: 8,531 میگاواٹ
– مکمل صلاحیت کے مقابلے میں پیداوار: 57.2 فیصد کم
▫
سرکاری پاور پلانٹس کے نام
1۔ کراچی نیوکلیئر پاور پلانٹ یونٹ 3
– کیپیسٹی چارجز: 37,953,682,507 روپے
(37 ارب 95 کروڑ 36 لاکھ 82 ہزار 507 روپے)
– بجلی پیدا کرنے کی صلاحیت: 1,017.5 میگاواٹ
– اس سہ ماہی میں اوسطاً فراہم کردہ بجلی: 628.4 میگاواٹ
– مکمل صلاحیت کے مقابلے میں پیداوار: 38.2 فیصد کم
2۔ کراچی نیوکلیئر پاور پلانٹ یونٹ 2
– کیپیسٹی چارجز: 36,773,231,994 روپے
(36 ارب 77 کروڑ 32 لاکھ 31 ہزار 994 روپے)
– بجلی پیدا کرنے کی صلاحیت: 1,017.5 میگاواٹ
– اس سہ ماہی میں اوسطاً فراہم کردہ بجلی: 971.9 میگاواٹ
– مکمل صلاحیت کے مقابلے میں پیداوار: 4.5 فیصد کم
3۔ واپڈا کے پن بجلی منصوبے
– کیپیسٹی چارجز: 35,661,577,770 روپے
(35 ارب 66 کروڑ 15 لاکھ 77 ہزار 770 روپے)
– بجلی پیدا کرنے کی صلاحیت: 8,400.1 میگاواٹ
– اس سہ ماہی میں اوسطاً فراہم کردہ بجلی: 3,729.6 میگاواٹ
– مکمل صلاحیت کے مقابلے میں پیداوار: 55.6 فیصد کم
4۔ سینٹرل پاور جنریشن کمپنی لمیٹڈ، جینکو 2
– کیپیسٹی چارجز: 18,098,343,566 روپے
(18 ارب 9 کروڑ 83 لاکھ 43 ہزار 566 روپے)
– بجلی پیدا کرنے کی صلاحیت: 721 میگاواٹ
– اس سہ ماہی میں اوسطاً فراہم کردہ بجلی: 316 میگاواٹ
– مکمل صلاحیت کے مقابلے میں پیداوار: 56.2 فیصد کم
5۔ چشمہ نیوکلیئر پاور پلانٹ سی 3
– کیپیسٹی چارجز: 11,937,309,115 روپے
(11 ارب 93 کروڑ 73 لاکھ 9 ہزار 115 روپے)
– بجلی پیدا کرنے کی صلاحیت: 314.2 میگاواٹ
– اس سہ ماہی میں اوسطاً فراہم کردہ بجلی: 306.1 میگاواٹ
– مکمل صلاحیت کے مقابلے میں پیداوار: 2.6 فیصد کم
6۔ چشمہ نیوکلیئر پاور پلانٹ سی 4
– کیپیسٹی چارجز: 10,404,488,457 روپے
(10 ارب 40 کروڑ 44 لاکھ 88 ہزار 457 روپے)
– بجلی پیدا کرنے کی صلاحیت: 314.2 میگاواٹ
– اس سہ ماہی میں اوسطاً فراہم کردہ بجلی: 170.8 میگاواٹ
– مکمل صلاحیت کے مقابلے میں پیداوار: 45.6 فیصد کم
7۔ پنجاب تھرمل پاور پرائیویٹ لمیٹڈ، تریموں
– کیپیسٹی چارجز: 7,788,639,060 روپے
(7 ارب 78 کروڑ 86 لاکھ 39 ہزار 60 روپے)
– بجلی پیدا کرنے کی صلاحیت: 1,244 میگاواٹ
– اس سہ ماہی میں اوسطاً فراہم کردہ بجلی: 195 میگاواٹ
– مکمل صلاحیت کے مقابلے میں پیداوار: 84.3 فیصد کم
8۔ نیشنل پاور پارکس مینجمنٹ کمپنی، بلوکی
– کیپیسٹی چارجز: 6,894,621,793 روپے
(6 ارب 89 کروڑ 46 لاکھ 21 ہزار 793 روپے)
– بجلی پیدا کرنے کی صلاحیت: 1,154 میگاواٹ
– اس سہ ماہی میں اوسطاً فراہم کردہ بجلی: 628.3 میگاواٹ
– مکمل صلاحیت کے مقابلے میں پیداوار: 45.6 فیصد کم
9۔ چشمہ نیوکلیئر پاور پلانٹ سی 1
– کیپیسٹی چارجز: 5,393,591,863 روپے
(5 ارب 39 کروڑ 35 لاکھ 91 ہزار 863 روپے)
– بجلی پیدا کرنے کی صلاحیت: 301.2 میگاواٹ
– اس سہ ماہی میں اوسطاً فراہم کردہ بجلی: 291.1 میگاواٹ
– مکمل صلاحیت کے مقابلے میں پیداوار: 3.3 فیصد کم
10۔ چشمہ نیوکلیئر پاور پلانٹ سی 2
– کیپیسٹی چارجز: 4,969,623,746 روپے
(4 ارب 96 کروڑ 96 لاکھ 23 ہزار 746 روپے)
– بجلی پیدا کرنے کی صلاحیت: 301 میگاواٹ
– اس سہ ماہی میں اوسطاً فراہم کردہ بجلی: 240.9 میگاواٹ
– مکمل صلاحیت کے مقابلے میں پیداوار: 19.9 فیصد کم
11۔ جامشورو پاور کمپنی لمیٹڈ، کول فائرڈ پاور پلانٹ
– کیپیسٹی چارجز: 4,556,289,052 روپے
(4 ارب 55 کروڑ 62 لاکھ 89 ہزار 52 روپے)
– بجلی پیدا کرنے کی صلاحیت: 628 میگاواٹ
– اس سہ ماہی میں اوسطاً فراہم کردہ بجلی: 239.9 میگاواٹ
– مکمل صلاحیت کے مقابلے میں پیداوار: 61.8 فیصد کم
12۔ نیشنل پاور پارکس مینجمنٹ کمپنی، حویلی بہادر شاہ
– کیپیسٹی چارجز: 3,694,722,227 روپے
(3 ارب 69 کروڑ 47 لاکھ 22 ہزار 227 روپے)
– بجلی پیدا کرنے کی صلاحیت: 1,163 میگاواٹ
– اس سہ ماہی میں اوسطاً فراہم کردہ بجلی: 482.5 میگاواٹ
– مکمل صلاحیت کے مقابلے میں پیداوار: 58.5 فیصد کم
13۔ قائداعظم تھرمل پاور پرائیویٹ لمیٹڈ، بھکی
– کیپیسٹی چارجز: 3,359,991,923 روپے
(3 ارب 35 کروڑ 99 لاکھ 91 ہزار 923 روپے)
– بجلی پیدا کرنے کی صلاحیت: 1,109 میگاواٹ
– اس سہ ماہی میں اوسطاً فراہم کردہ بجلی: 53 میگاواٹ
– مکمل صلاحیت کے مقابلے میں پیداوار: 95.2 فیصد کم
14۔ مالاکنڈ 3 پن بجلی منصوبہ، پیڈو
– کیپیسٹی چارجز: 1,119,442,378 روپے
(1 ارب 11 کروڑ 94 لاکھ 42 ہزار 378 روپے)
– بجلی پیدا کرنے کی صلاحیت: 81.5 میگاواٹ
– اس سہ ماہی میں اوسطاً فراہم کردہ بجلی: 51.9 میگاواٹ
– مکمل صلاحیت کے مقابلے میں پیداوار: 36.3 فیصد کم
15۔ قائداعظم سولر پاور پرائیویٹ لمیٹڈ
– کیپیسٹی چارجز: 1,034,794,841 روپے
(1 ارب 3 کروڑ 47 لاکھ 94 ہزار 841 روپے)
– بجلی پیدا کرنے کی صلاحیت: 100 میگاواٹ
– اس سہ ماہی میں اوسطاً فراہم کردہ بجلی: 19.6 میگاواٹ
– مکمل صلاحیت کے مقابلے میں پیداوار: 80.4 فیصد کم
16۔ کوٹ ادو پاور کمپنی لمیٹڈ، کیپکو
– کیپیسٹی چارجز: 825,927,706 روپے
(82 کروڑ 59 لاکھ 27 ہزار 706 روپے)
– بجلی پیدا کرنے کی صلاحیت: 495 میگاواٹ
– اس سہ ماہی میں اوسطاً فراہم کردہ بجلی: 83.9 میگاواٹ
– مکمل صلاحیت کے مقابلے میں پیداوار: 83 فیصد کم
17۔ ناردرن پاور جنریشن کمپنی لمیٹڈ، جینکو 3 نندی پور
– کیپیسٹی چارجز: 274,656,706 روپے
(27 کروڑ 46 لاکھ 56 ہزار 706 روپے)
– بجلی پیدا کرنے کی صلاحیت: 507 میگاواٹ
– اس سہ ماہی میں اوسطاً فراہم کردہ بجلی: 68 میگاواٹ
– مکمل صلاحیت کے مقابلے میں پیداوار: 86.6 فیصد کم
18۔ دارال خوڑ پن بجلی منصوبہ
– کیپیسٹی چارجز: (15,365,958) روپے
(منفی 1 کروڑ 53 لاکھ 65 ہزار 958 روپے)
– بجلی پیدا کرنے کی صلاحیت: 36.6 میگاواٹ
– اس سہ ماہی میں اوسطاً فراہم کردہ بجلی: 32.9 میگاواٹ
– مکمل صلاحیت کے مقابلے میں پیداوار: 10.2 فیصد کم
19۔ جاگراں پن بجلی منصوبہ
– کیپیسٹی چارجز: الگ اندراج موجود نہیں
– بجلی پیدا کرنے کی صلاحیت: 30.4 میگاواٹ
– اس سہ ماہی میں اوسطاً فراہم کردہ بجلی: 21.3 میگاواٹ
– مکمل صلاحیت کے مقابلے میں پیداوار: 29.9 فیصد کم
20۔ نیلم جہلم پن بجلی منصوبہ
– کیپیسٹی چارجز: الگ اندراج موجود نہیں
– بجلی پیدا کرنے کی صلاحیت: 964.5 میگاواٹ
– اس سہ ماہی میں اوسطاً فراہم کردہ بجلی: 0 میگاواٹ
– مکمل صلاحیت کے مقابلے میں پیداوار: 100 فیصد کم
21۔ رانیولیا پن بجلی منصوبہ
– کیپیسٹی چارجز: الگ اندراج موجود نہیں
– بجلی پیدا کرنے کی صلاحیت: 17 میگاواٹ
– اس سہ ماہی میں اوسطاً فراہم کردہ بجلی: 0 میگاواٹ
– مکمل صلاحیت کے مقابلے میں پیداوار: 100 فیصد کم
🔘 2۔ فوجی فلاحی اداروں کے پاور پلانٹس:
– مجموعی کیپیسٹی چارجز: 3,478,330,139 روپے
(3 ارب 47 کروڑ 83 لاکھ 30 ہزار 139 روپے)
– بجلی پیدا کرنے کی مجموعی صلاحیت: 467 میگاواٹ
– اس سہ ماہی میں اوسطاً فراہم کردہ بجلی: 179.3 میگاواٹ
– مکمل صلاحیت کے مقابلے میں پیداوار: 61.6 فیصد کم
1۔ فاؤنڈیشن پاور کمپنی ڈہرکی لمیٹڈ
– کیپیسٹی چارجز: 1,644,221,065 روپے
(1 ارب 64 کروڑ 42 لاکھ 21 ہزار 65 روپے)
– بجلی پیدا کرنے کی صلاحیت: 167 میگاواٹ
– اس سہ ماہی میں اوسطاً فراہم کردہ بجلی: 121.2 میگاواٹ
– مکمل صلاحیت کے مقابلے میں پیداوار: 27.4 فیصد کم
2۔ فاؤنڈیشن ونڈ انرجی 1 لمیٹڈ
– کیپیسٹی چارجز: 1,334,730,243 روپے
(1 ارب 33 کروڑ 47 لاکھ 30 ہزار 243 روپے)
– بجلی پیدا کرنے کی صلاحیت: 49.5 میگاواٹ
– اس سہ ماہی میں اوسطاً فراہم کردہ بجلی: 18 میگاواٹ
– مکمل صلاحیت کے مقابلے میں پیداوار: 63.7 فیصد کم
3۔ فاؤنڈیشن ونڈ انرجی 2 لمیٹڈ
– کیپیسٹی چارجز: 1,238,337,461 روپے
(1 ارب 23 کروڑ 83 لاکھ 37 ہزار 461 روپے)
– بجلی پیدا کرنے کی صلاحیت: 50 میگاواٹ
– اس سہ ماہی میں اوسطاً فراہم کردہ بجلی: 19.5 میگاواٹ
– مکمل صلاحیت کے مقابلے میں پیداوار: 60.9 فیصد کم
4۔ ایف ایف سی انرجی لمیٹڈ
– کیپیسٹی چارجز: 875,211,381 روپے
(87 کروڑ 52 لاکھ 11 ہزار 381 روپے)
– بجلی پیدا کرنے کی صلاحیت: 49.5 میگاواٹ
– اس سہ ماہی میں اوسطاً فراہم کردہ بجلی: 16.2 میگاواٹ
– مکمل صلاحیت کے مقابلے میں پیداوار: 67.3 فیصد کم
5۔ فوجی کبیر والا پاور کمپنی لمیٹڈ
– کیپیسٹی چارجز: (1,614,170,011) روپے
(منفی 1 ارب 61 کروڑ 41 لاکھ 70 ہزار 11 روپے)
– بجلی پیدا کرنے کی صلاحیت: 151 میگاواٹ
– اس سہ ماہی میں اوسطاً فراہم کردہ بجلی: 4.4 میگاواٹ
– مکمل صلاحیت کے مقابلے میں پیداوار: 97.1 فیصد کم
🔘 3۔ غیر ملکی ملکیت کے پاور پلانٹس اور ان کے نام:
– مجموعی کیپیسٹی چارجز: 125,028,051,185 روپے
(125 ارب 2 کروڑ 80 لاکھ 51 ہزار 185 روپے)
– بجلی پیدا کرنے کی مجموعی صلاحیت: 5,787.9 میگاواٹ
– اس سہ ماہی میں اوسطاً فراہم کردہ بجلی: 3,272.8 میگاواٹ
– مکمل صلاحیت کے مقابلے میں پیداوار: 43.5 فیصد کم
1۔ تھر کول بلاک 1 پاور جنریشن کمپنی پرائیویٹ لمیٹڈ
– کیپیسٹی چارجز: 29,742,015,955 روپے
(29 ارب 74 کروڑ 20 لاکھ 15 ہزار 955 روپے)
– بجلی پیدا کرنے کی صلاحیت: 1,231.3 میگاواٹ
– اس سہ ماہی میں اوسطاً فراہم کردہ بجلی: 1,010.8 میگاواٹ
– مکمل صلاحیت کے مقابلے میں پیداوار: 17.9 فیصد کم
2۔ ہوانینگ شانڈونگ رویی انرجی پرائیویٹ لمیٹڈ، ساہیوال
– کیپیسٹی چارجز: 26,138,723,795 روپے
(26 ارب 13 کروڑ 87 لاکھ 23 ہزار 795 روپے)
– بجلی پیدا کرنے کی صلاحیت: 1,244 میگاواٹ
– اس سہ ماہی میں اوسطاً فراہم کردہ بجلی: 900.8 میگاواٹ
– مکمل صلاحیت کے مقابلے میں پیداوار: 27.6 فیصد کم
3۔ پورٹ قاسم الیکٹرک پاور کمپنی پرائیویٹ لمیٹڈ
– کیپیسٹی چارجز: 26,079,422,572 روپے
(26 ارب 7 کروڑ 94 لاکھ 22 ہزار 572 روپے)
– بجلی پیدا کرنے کی صلاحیت: 1,243 میگاواٹ
– اس سہ ماہی میں اوسطاً فراہم کردہ بجلی: 322.6 میگاواٹ
– مکمل صلاحیت کے مقابلے میں پیداوار: 74 فیصد کم
4۔ کروٹ پاور کمپنی پرائیویٹ لمیٹڈ
– کیپیسٹی چارجز: 16,504,196,621 روپے
(16 ارب 50 کروڑ 41 لاکھ 96 ہزار 621 روپے)
– بجلی پیدا کرنے کی صلاحیت: 712.8 میگاواٹ
– اس سہ ماہی میں اوسطاً فراہم کردہ بجلی: 587.2 میگاواٹ
– مکمل صلاحیت کے مقابلے میں پیداوار: 17.6 فیصد کم
5۔ یو ای پی ونڈ پاور پرائیویٹ لمیٹڈ
– کیپیسٹی چارجز: 3,807,103,591 روپے
(3 ارب 80 کروڑ 71 لاکھ 3 ہزار 591 روپے)
– بجلی پیدا کرنے کی صلاحیت: 99 میگاواٹ
– اس سہ ماہی میں اوسطاً فراہم کردہ بجلی: 35.1 میگاواٹ
– مکمل صلاحیت کے مقابلے میں پیداوار: 64.5 فیصد کم
6۔ میرا پاور لمیٹڈ، گلپور
– کیپیسٹی چارجز: 3,215,099,375 روپے
(3 ارب 21 کروڑ 50 لاکھ 99 ہزار 375 روپے)
– بجلی پیدا کرنے کی صلاحیت: 102 میگاواٹ
– اس سہ ماہی میں اوسطاً فراہم کردہ بجلی: 34.8 میگاواٹ
– مکمل صلاحیت کے مقابلے میں پیداوار: 65.9 فیصد کم
7۔ زورلو انرجی پاکستان لمیٹڈ
– کیپیسٹی چارجز: 2,174,644,088 روپے
(2 ارب 17 کروڑ 46 لاکھ 44 ہزار 88 روپے)
– بجلی پیدا کرنے کی صلاحیت: 56.4 میگاواٹ
– اس سہ ماہی میں اوسطاً فراہم کردہ بجلی: 19.8 میگاواٹ
– مکمل صلاحیت کے مقابلے میں پیداوار: 64.8 فیصد کم
8۔ کریسٹ انرجی پاکستان لمیٹڈ
– کیپیسٹی چارجز: 2,162,758,476 روپے
(2 ارب 16 کروڑ 27 لاکھ 58 ہزار 476 روپے)
– بجلی پیدا کرنے کی صلاحیت: 100 میگاواٹ
– اس سہ ماہی میں اوسطاً فراہم کردہ بجلی: 20.3 میگاواٹ
– مکمل صلاحیت کے مقابلے میں پیداوار: 79.7 فیصد کم
9۔ بیسٹ گرین انرجی پاکستان لمیٹڈ
– کیپیسٹی چارجز: 2,104,246,095 روپے
(2 ارب 10 کروڑ 42 لاکھ 46 ہزار 95 روپے)
– بجلی پیدا کرنے کی صلاحیت: 100 میگاواٹ
– اس سہ ماہی میں اوسطاً فراہم کردہ بجلی: 19.9 میگاواٹ
– مکمل صلاحیت کے مقابلے میں پیداوار: 80.1 فیصد کم
10۔ جھمپیر پاور پرائیویٹ لمیٹڈ
– کیپیسٹی چارجز: 1,983,236,116 روپے
(1 ارب 98 کروڑ 32 لاکھ 36 ہزار 116 روپے)
– بجلی پیدا کرنے کی صلاحیت: 50 میگاواٹ
– اس سہ ماہی میں اوسطاً فراہم کردہ بجلی: 23 میگاواٹ
– مکمل صلاحیت کے مقابلے میں پیداوار: 54 فیصد کم
11۔ ہوا انرجی پرائیویٹ لمیٹڈ
– کیپیسٹی چارجز: 1,908,230,600 روپے
(1 ارب 90 کروڑ 82 لاکھ 30 ہزار 600 روپے)
– بجلی پیدا کرنے کی صلاحیت: 50 میگاواٹ
– اس سہ ماہی میں اوسطاً فراہم کردہ بجلی: 22 میگاواٹ
– مکمل صلاحیت کے مقابلے میں پیداوار: 56 فیصد کم
12۔ اپولو سولر ڈویلپمنٹ پاکستان لمیٹڈ
– کیپیسٹی چارجز: 1,641,939,898 روپے
(1 ارب 64 کروڑ 19 لاکھ 39 ہزار 898 روپے)
– بجلی پیدا کرنے کی صلاحیت: 100 میگاواٹ
– اس سہ ماہی میں اوسطاً فراہم کردہ بجلی: 20.1 میگاواٹ
– مکمل صلاحیت کے مقابلے میں پیداوار: 79.9 فیصد کم
13۔ تھری گورجز تھرڈ ونڈ فارم پاکستان پرائیویٹ لمیٹڈ
– کیپیسٹی چارجز: 1,609,261,672 روپے
(1 ارب 60 کروڑ 92 لاکھ 61 ہزار 672 روپے)
– بجلی پیدا کرنے کی صلاحیت: 49.5 میگاواٹ
– اس سہ ماہی میں اوسطاً فراہم کردہ بجلی: 18.8 میگاواٹ
– مکمل صلاحیت کے مقابلے میں پیداوار: 62 فیصد کم
14۔ تھری گورجز سیکنڈ ونڈ فارم پاکستان لمیٹڈ
– کیپیسٹی چارجز: 1,549,770,020 روپے
(1 ارب 54 کروڑ 97 لاکھ 70 ہزار 20 روپے)
– بجلی پیدا کرنے کی صلاحیت: 49.5 میگاواٹ
– اس سہ ماہی میں اوسطاً فراہم کردہ بجلی: 18.6 میگاواٹ
– مکمل صلاحیت کے مقابلے میں پیداوار: 62.5 فیصد کم
15۔ اسٹار ہائیڈرو پاور لمیٹڈ
– کیپیسٹی چارجز: 1,484,685,101 روپے
(1 ارب 48 کروڑ 46 لاکھ 85 ہزار 101 روپے)
– بجلی پیدا کرنے کی صلاحیت: 147 میگاواٹ
– اس سہ ماہی میں اوسطاً فراہم کردہ بجلی: 118.8 میگاواٹ
– مکمل صلاحیت کے مقابلے میں پیداوار: 19.2 فیصد کم
16۔ ہالمور پاور جنریشن کمپنی لمیٹڈ
– کیپیسٹی چارجز: 1,268,170,523 روپے
(1 ارب 26 کروڑ 81 لاکھ 70 ہزار 523 روپے)
– بجلی پیدا کرنے کی صلاحیت: 200 میگاواٹ
– اس سہ ماہی میں اوسطاً فراہم کردہ بجلی: 29.9 میگاواٹ
– مکمل صلاحیت کے مقابلے میں پیداوار: 85 فیصد کم
17۔ تھری گورجز فرسٹ ونڈ فارم پاکستان پرائیویٹ لمیٹڈ
– کیپیسٹی چارجز: 1,175,992,437 روپے
(1 ارب 17 کروڑ 59 لاکھ 92 ہزار 437 روپے)
– بجلی پیدا کرنے کی صلاحیت: 49.5 میگاواٹ
– اس سہ ماہی میں اوسطاً فراہم کردہ بجلی: 17.2 میگاواٹ
– مکمل صلاحیت کے مقابلے میں پیداوار: 65.2 فیصد کم
18۔ توانیر ایران
– کیپیسٹی چارجز: 478,554,250 روپے
(47 کروڑ 85 لاکھ 54 ہزار 250 روپے)
– بجلی فراہم کرنے کی صلاحیت: 204 میگاواٹ
– اس سہ ماہی میں اوسطاً فراہم کردہ بجلی: 52.9 میگاواٹ
– مکمل صلاحیت کے مقابلے میں فراہمی: 74 فیصد کم
🔘 4۔ پاکستانی اور غیر ملکی مشترکہ پاور پلانٹس
(Joint Ventures)
(کل تعداد 17)
اس سہ ماہی کے کل کیپیسٹی چارجز: 100,946,645,608 روپے
(100 ارب 94 کروڑ 66 لاکھ 45 ہزار 608 روپے)
بجلی پیدا کرنے کی مجموعی صلاحیت: 4,008.95 میگاواٹ
اس سہ ماہی میں اوسطاً فراہم کردہ بجلی: 2,171.1 میگاواٹ
مکمل صلاحیت کے مقابلے میں پیداوار: 45.8 فیصد کم
1۔ چائنا پاور حب جنریشن کمپنی پرائیویٹ لمیٹڈ
– کیپیسٹی چارجز: 30,814,758,877 روپے
(30 ارب 81 کروڑ 47 لاکھ 58 ہزار 877 روپے)
– بجلی پیدا کرنے کی صلاحیت: 1,249 میگاواٹ
– اس سہ ماہی میں اوسطاً فراہم کردہ بجلی: 347.2 میگاواٹ
– مکمل صلاحیت کے مقابلے میں پیداوار: 72.2 فیصد کم
2۔ ایس کے ہائیڈرو پرائیویٹ لمیٹڈ (سکی کناری)
– کیپیسٹی چارجز: 23,254,979,772 روپے
(23 ارب 25 کروڑ 49 لاکھ 79 ہزار 772 روپے)
– بجلی پیدا کرنے کی صلاحیت: 883.017 میگاواٹ
– اس سہ ماہی میں اوسطاً فراہم کردہ بجلی: 637.8 میگاواٹ
– مکمل صلاحیت کے مقابلے میں پیداوار: 27.8 فیصد کم
3۔ اینگرو پاورجن تھر پرائیویٹ لمیٹڈ
– کیپیسٹی چارجز: 14,355,724,054 روپے
(14 ارب 35 کروڑ 57 لاکھ 24 ہزار 54 روپے)
– بجلی پیدا کرنے کی صلاحیت: 603 میگاواٹ
– اس سہ ماہی میں اوسطاً فراہم کردہ بجلی: 478.4 میگاواٹ
– مکمل صلاحیت کے مقابلے میں پیداوار: 20.7 فیصد کم
4۔ تھل نووا پاور تھر پرائیویٹ لمیٹڈ
– کیپیسٹی چارجز: 8,108,823,670 روپے
(8 ارب 10 کروڑ 88 لاکھ 23 ہزار 670 روپے)
– بجلی پیدا کرنے کی صلاحیت: 300.7 میگاواٹ
– اس سہ ماہی میں اوسطاً فراہم کردہ بجلی: 237.8 میگاواٹ
– مکمل صلاحیت کے مقابلے میں پیداوار: 20.9 فیصد کم
5۔ تھر انرجی لمیٹڈ
– کیپیسٹی چارجز: 8,058,994,059 روپے
(8 ارب 5 کروڑ 89 لاکھ 94 ہزار 59 روپے)
– بجلی پیدا کرنے کی صلاحیت: 300.733 میگاواٹ
– اس سہ ماہی میں اوسطاً فراہم کردہ بجلی: 248.4 میگاواٹ
– مکمل صلاحیت کے مقابلے میں پیداوار: 17.4 فیصد کم
6۔ ٹرائیکون بوسٹن کنسلٹنگ کارپوریشن پرائیویٹ لمیٹڈ، منصوبہ اے
– کیپیسٹی چارجز: 2,321,384,932 روپے
(2 ارب 32 کروڑ 13 لاکھ 84 ہزار 932 روپے)
– بجلی پیدا کرنے کی صلاحیت: 50 میگاواٹ
– اس سہ ماہی میں اوسطاً فراہم کردہ بجلی: 25.1 میگاواٹ
– مکمل صلاحیت کے مقابلے میں پیداوار: 49.7 فیصد کم
7۔ ٹرائیکون بوسٹن کنسلٹنگ کارپوریشن پرائیویٹ لمیٹڈ، منصوبہ سی
– کیپیسٹی چارجز: 2,234,138,564 روپے
(2 ارب 23 کروڑ 41 لاکھ 38 ہزار 564 روپے)
– بجلی پیدا کرنے کی صلاحیت: 50 میگاواٹ
– اس سہ ماہی میں اوسطاً فراہم کردہ بجلی: 24.1 میگاواٹ
– مکمل صلاحیت کے مقابلے میں پیداوار: 51.9 فیصد کم
8۔ ٹرائیکون بوسٹن کنسلٹنگ کارپوریشن پرائیویٹ لمیٹڈ، منصوبہ بی
– کیپیسٹی چارجز: 2,213,133,593 روپے
(2 ارب 21 کروڑ 31 لاکھ 33 ہزار 593 روپے)
– بجلی پیدا کرنے کی صلاحیت: 50 میگاواٹ
– اس سہ ماہی میں اوسطاً فراہم کردہ بجلی: 23.9 میگاواٹ
– مکمل صلاحیت کے مقابلے میں پیداوار: 52.3 فیصد کم
9۔ زیفر پاور پرائیویٹ لمیٹڈ
– کیپیسٹی چارجز: 2,099,086,742 روپے
(2 ارب 9 کروڑ 90 لاکھ 86 ہزار 742 روپے)
– بجلی پیدا کرنے کی صلاحیت: 50 میگاواٹ
– اس سہ ماہی میں اوسطاً فراہم کردہ بجلی: 25.1 میگاواٹ
– مکمل صلاحیت کے مقابلے میں پیداوار: 49.8 فیصد کم
10۔ ہائیڈرو چائنا داؤد پاور پرائیویٹ لمیٹڈ
– کیپیسٹی چارجز: 1,996,488,072 روپے
(1 ارب 99 کروڑ 64 لاکھ 88 ہزار 72 روپے)
– بجلی پیدا کرنے کی صلاحیت: 49.5 میگاواٹ
– اس سہ ماہی میں اوسطاً فراہم کردہ بجلی: 18.4 میگاواٹ
– مکمل صلاحیت کے مقابلے میں پیداوار: 62.8 فیصد کم
11۔ میٹرو پاور کمپنی لمیٹڈ
– کیپیسٹی چارجز: 1,906,836,395 روپے
(1 ارب 90 کروڑ 68 لاکھ 36 ہزار 395 روپے)
– بجلی پیدا کرنے کی صلاحیت: 49.5 میگاواٹ
– اس سہ ماہی میں اوسطاً فراہم کردہ بجلی: 18.2 میگاواٹ
– مکمل صلاحیت کے مقابلے میں پیداوار: 63.2 فیصد کم
12۔ گل احمد ونڈ پاور لمیٹڈ
– کیپیسٹی چارجز: 1,684,154,846 روپے
(1 ارب 68 کروڑ 41 لاکھ 54 ہزار 846 روپے)
– بجلی پیدا کرنے کی صلاحیت: 49.5 میگاواٹ
– اس سہ ماہی میں اوسطاً فراہم کردہ بجلی: 17.8 میگاواٹ
– مکمل صلاحیت کے مقابلے میں پیداوار: 64 فیصد کم
13۔ اٹک جن لمیٹڈ
– کیپیسٹی چارجز: 527,513,150 روپے
(52 کروڑ 75 لاکھ 13 ہزار 150 روپے)
– بجلی پیدا کرنے کی صلاحیت: 156 میگاواٹ
– اس سہ ماہی میں اوسطاً فراہم کردہ بجلی: 22.8 میگاواٹ
– مکمل صلاحیت کے مقابلے میں پیداوار: 85.4 فیصد کم
14۔ میریڈین انرجی لمیٹڈ
– کیپیسٹی چارجز: 352,395,715 روپے
(35 کروڑ 23 لاکھ 95 ہزار 715 روپے)
– بجلی پیدا کرنے کی صلاحیت: 50 میگاواٹ
– اس سہ ماہی میں اوسطاً فراہم کردہ بجلی: 13.9 میگاواٹ
– مکمل صلاحیت کے مقابلے میں پیداوار: 72.3 فیصد کم
15۔ ہیلیوس پاور لمیٹڈ
– کیپیسٹی چارجز: 351,574,668 روپے
(35 کروڑ 15 لاکھ 74 ہزار 668 روپے)
– بجلی پیدا کرنے کی صلاحیت: 50 میگاواٹ
– اس سہ ماہی میں اوسطاً فراہم کردہ بجلی: 13.8 میگاواٹ
– مکمل صلاحیت کے مقابلے میں پیداوار: 72.4 فیصد کم
16۔ ایچ این ڈی ایس انرجی لمیٹڈ
– کیپیسٹی چارجز: 350,102,611 روپے
(35 کروڑ 1 لاکھ 2 ہزار 611 روپے)
– بجلی پیدا کرنے کی صلاحیت: 50 میگاواٹ
– اس سہ ماہی میں اوسطاً فراہم کردہ بجلی: 13.8 میگاواٹ
– مکمل صلاحیت کے مقابلے میں پیداوار: 72.5 فیصد کم
17۔ ہڑپہ سولر پرائیویٹ لمیٹڈ
– کیپیسٹی چارجز: 316,555,888 روپے
(31 کروڑ 65 لاکھ 55 ہزار 888 روپے)
– بجلی پیدا کرنے کی صلاحیت: 18 میگاواٹ
– اس سہ ماہی میں اوسطاً فراہم کردہ بجلی: 4.6 میگاواٹ
– مکمل صلاحیت کے مقابلے میں پیداوار: 74.2 فیصد کم
🔘 5۔ مکمل پاکستانی نجی پاور پلانٹس(کُل تعداد 44)
اس سہ ماہی کے کل کیپیسٹی چارجز: 52,049,277,638 روپے
(52 ارب 4 کروڑ 92 لاکھ 77 ہزار 638 روپے)
بجلی پیدا کرنے کی مجموعی صلاحیت: 5,054.747 میگاواٹ
اس سہ ماہی میں اوسطاً فراہم کردہ بجلی: 2,131.6 میگاواٹ
مکمل صلاحیت کے مقابلے میں پیداوار: 57.8 فیصد کم
1۔ لکی الیکٹرک پاور کمپنی لمیٹڈ
– کیپیسٹی چارجز: 13,600,857,568 روپے
(13 ارب 60 کروڑ 8 لاکھ 57 ہزار 568 روپے)
– بجلی پیدا کرنے کی صلاحیت: 606.8 میگاواٹ
– اس سہ ماہی میں اوسطاً فراہم کردہ بجلی: 366.2 میگاواٹ
– مکمل صلاحیت کے مقابلے میں پیداوار: 39.6 فیصد کم
2۔ سچل انرجی ڈویلپمنٹ پرائیویٹ لمیٹڈ
– کیپیسٹی چارجز: 2,089,668,695 روپے
(2 ارب 8 کروڑ 96 لاکھ 68 ہزار 695 روپے)
– بجلی پیدا کرنے کی صلاحیت: 49.5 میگاواٹ
– اس سہ ماہی میں اوسطاً فراہم کردہ بجلی: 16.3 میگاواٹ
– مکمل صلاحیت کے مقابلے میں پیداوار: 67 فیصد کم
3۔ نارووال انرجی لمیٹڈ
– کیپیسٹی چارجز: 2,061,612,529 روپے
(2 ارب 6 کروڑ 16 لاکھ 12 ہزار 529 روپے)
– بجلی پیدا کرنے کی صلاحیت: 214 میگاواٹ
– اس سہ ماہی میں اوسطاً فراہم کردہ بجلی: 36.7 میگاواٹ
– مکمل صلاحیت کے مقابلے میں پیداوار: 82.9 فیصد کم
4۔ تیناگا جنراسی لمیٹڈ
– کیپیسٹی چارجز: 1,834,428,983 روپے
(1 ارب 83 کروڑ 44 لاکھ 28 ہزار 983 روپے)
– بجلی پیدا کرنے کی صلاحیت: 49.5 میگاواٹ
– اس سہ ماہی میں اوسطاً فراہم کردہ بجلی: 18.1 میگاواٹ
– مکمل صلاحیت کے مقابلے میں پیداوار: 63.5 فیصد کم
5۔ اوچ ٹو پاور پرائیویٹ لمیٹڈ
– کیپیسٹی چارجز: 1,803,165,415 روپے
(1 ارب 80 کروڑ 31 لاکھ 65 ہزار 415 روپے)
– بجلی پیدا کرنے کی صلاحیت: 365 میگاواٹ
– اس سہ ماہی میں اوسطاً فراہم کردہ بجلی: 177.1 میگاواٹ
– مکمل صلاحیت کے مقابلے میں پیداوار: 51.5 فیصد کم
6۔ ماسٹر ونڈ انرجی لمیٹڈ
– کیپیسٹی چارجز: 1,785,264,654 روپے
(1 ارب 78 کروڑ 52 لاکھ 64 ہزار 654 روپے)
– بجلی پیدا کرنے کی صلاحیت: 49.5 میگاواٹ
– اس سہ ماہی میں اوسطاً فراہم کردہ بجلی: 18.7 میگاواٹ
– مکمل صلاحیت کے مقابلے میں پیداوار: 62.2 فیصد کم
7۔ اوچ پاور پرائیویٹ لمیٹڈ
– کیپیسٹی چارجز: 1,680,096,752 روپے
(1 ارب 68 کروڑ 9 لاکھ 6 ہزار 752 روپے)
– بجلی پیدا کرنے کی صلاحیت: 548.17 میگاواٹ
– اس سہ ماہی میں اوسطاً فراہم کردہ بجلی: 481.4 میگاواٹ
– مکمل صلاحیت کے مقابلے میں پیداوار: 12.2 فیصد کم
8۔ اورینٹ پاور کمپنی پرائیویٹ لمیٹڈ
– کیپیسٹی چارجز: 1,629,366,803 روپے
(1 ارب 62 کروڑ 93 لاکھ 66 ہزار 803 روپے)
– بجلی پیدا کرنے کی صلاحیت: 206 میگاواٹ
– اس سہ ماہی میں اوسطاً فراہم کردہ بجلی: 48.5 میگاواٹ
– مکمل صلاحیت کے مقابلے میں پیداوار: 76.4 فیصد کم
9۔ یونس انرجی لمیٹڈ
– کیپیسٹی چارجز: 1,381,894,719 روپے
(1 ارب 38 کروڑ 18 لاکھ 94 ہزار 719 روپے)
– بجلی پیدا کرنے کی صلاحیت: 49.5 میگاواٹ
– اس سہ ماہی میں اوسطاً فراہم کردہ بجلی: 17.4 میگاواٹ
– مکمل صلاحیت کے مقابلے میں پیداوار: 64.9 فیصد کم
10۔ لیک سائیڈ انرجی لمیٹڈ
– کیپیسٹی چارجز: 1,351,974,846 روپے
(1 ارب 35 کروڑ 19 لاکھ 74 ہزار 846 روپے)
– بجلی پیدا کرنے کی صلاحیت: 50 میگاواٹ
– اس سہ ماہی میں اوسطاً فراہم کردہ بجلی: 26.6 میگاواٹ
– مکمل صلاحیت کے مقابلے میں پیداوار: 46.9 فیصد کم
11۔ آرٹسٹک انرجی پرائیویٹ لمیٹڈ
– کیپیسٹی چارجز: 1,289,867,892 روپے
(1 ارب 28 کروڑ 98 لاکھ 67 ہزار 892 روپے)
– بجلی پیدا کرنے کی صلاحیت: 50 میگاواٹ
– اس سہ ماہی میں اوسطاً فراہم کردہ بجلی: 26.9 میگاواٹ
– مکمل صلاحیت کے مقابلے میں پیداوار: 46.1 فیصد کم
12۔ گل احمد الیکٹرک لمیٹڈ
– کیپیسٹی چارجز: 1,264,238,849 روپے
(1 ارب 26 کروڑ 42 لاکھ 38 ہزار 849 روپے)
– بجلی پیدا کرنے کی صلاحیت: 50 میگاواٹ
– اس سہ ماہی میں اوسطاً فراہم کردہ بجلی: 27.2 میگاواٹ
– مکمل صلاحیت کے مقابلے میں پیداوار: 45.6 فیصد کم
13۔ لاریب انرجی لمیٹڈ
– کیپیسٹی چارجز: 1,257,864,930 روپے
(1 ارب 25 کروڑ 78 لاکھ 64 ہزار 930 روپے)
– بجلی پیدا کرنے کی صلاحیت: 84 میگاواٹ
– اس سہ ماہی میں اوسطاً فراہم کردہ بجلی: 63.1 میگاواٹ
– مکمل صلاحیت کے مقابلے میں پیداوار: 24.9 فیصد کم
14۔ ناسڈا گرین انرجی لمیٹڈ
– کیپیسٹی چارجز: 1,208,543,141 روپے
(1 ارب 20 کروڑ 85 لاکھ 43 ہزار 141 روپے)
– بجلی پیدا کرنے کی صلاحیت: 50 میگاواٹ
– اس سہ ماہی میں اوسطاً فراہم کردہ بجلی: 26 میگاواٹ
– مکمل صلاحیت کے مقابلے میں پیداوار: 48.1 فیصد کم
15۔ اے سی ٹی ٹو ڈِن ونڈ پرائیویٹ لمیٹڈ
– کیپیسٹی چارجز: 1,142,067,602 روپے
(1 ارب 14 کروڑ 20 لاکھ 67 ہزار 602 روپے)
– بجلی پیدا کرنے کی صلاحیت: 50 میگاواٹ
– اس سہ ماہی میں اوسطاً فراہم کردہ بجلی: 26.3 میگاواٹ
– مکمل صلاحیت کے مقابلے میں پیداوار: 47.4 فیصد کم
16۔ لبرٹی ونڈ پاور ون لمیٹڈ
– کیپیسٹی چارجز: 1,127,248,713 روپے
(1 ارب 12 کروڑ 72 لاکھ 48 ہزار 713 روپے)
– بجلی پیدا کرنے کی صلاحیت: 50 میگاواٹ
– اس سہ ماہی میں اوسطاً فراہم کردہ بجلی: 23.9 میگاواٹ
– مکمل صلاحیت کے مقابلے میں پیداوار: 52.1 فیصد کم
17۔ لبرٹی ونڈ پاور ٹو پرائیویٹ لمیٹڈ
– کیپیسٹی چارجز: 1,105,290,594 روپے
(1 ارب 10 کروڑ 52 لاکھ 90 ہزار 594 روپے)
– بجلی پیدا کرنے کی صلاحیت: 50 میگاواٹ
– اس سہ ماہی میں اوسطاً فراہم کردہ بجلی: 25.3 میگاواٹ
– مکمل صلاحیت کے مقابلے میں پیداوار: 49.5 فیصد کم
18۔ میٹرو ونڈ پاور لمیٹڈ
– کیپیسٹی چارجز: 1,079,434,719 روپے
(1 ارب 7 کروڑ 94 لاکھ 34 ہزار 719 روپے)
– بجلی پیدا کرنے کی صلاحیت: 50 میگاواٹ
– اس سہ ماہی میں اوسطاً فراہم کردہ بجلی: 33 میگاواٹ
– مکمل صلاحیت کے مقابلے میں پیداوار: 34 فیصد کم
19۔ سیفائر ونڈ پاور کمپنی لمیٹڈ
– کیپیسٹی چارجز: 1,069,741,663 روپے
(1 ارب 6 کروڑ 97 لاکھ 41 ہزار 663 روپے)
– بجلی پیدا کرنے کی صلاحیت: 52.8 میگاواٹ
– اس سہ ماہی میں اوسطاً فراہم کردہ بجلی: 17.4 میگاواٹ
– مکمل صلاحیت کے مقابلے میں پیداوار: 67 فیصد کم
20۔ آرٹسٹک ونڈ پاور پرائیویٹ لمیٹڈ
– کیپیسٹی چارجز: 1,016,498,555 روپے
(1 ارب 1 کروڑ 64 لاکھ 98 ہزار 555 روپے)
– بجلی پیدا کرنے کی صلاحیت: 50 میگاواٹ
– اس سہ ماہی میں اوسطاً فراہم کردہ بجلی: 25.6 میگاواٹ
– مکمل صلاحیت کے مقابلے میں پیداوار: 48.7 فیصد کم
21۔ لکی رینیوایبلز پرائیویٹ لمیٹڈ
– کیپیسٹی چارجز: 863,470,663 روپے
(86 کروڑ 34 لاکھ 70 ہزار 663 روپے)
– بجلی پیدا کرنے کی صلاحیت: 50 میگاواٹ
– اس سہ ماہی میں اوسطاً فراہم کردہ بجلی: 26 میگاواٹ
– مکمل صلاحیت کے مقابلے میں پیداوار: 48 فیصد کم
22۔ لبرٹی پاور ٹیک لمیٹڈ
– کیپیسٹی چارجز: 828,715,731 روپے
(82 کروڑ 87 لاکھ 15 ہزار 731 روپے)
– بجلی پیدا کرنے کی صلاحیت: 196 میگاواٹ
– اس سہ ماہی میں اوسطاً فراہم کردہ بجلی: 30.4 میگاواٹ
– مکمل صلاحیت کے مقابلے میں پیداوار: 84.5 فیصد کم
23۔ ڈِن انرجی لمیٹڈ
– کیپیسٹی چارجز: 826,016,051 روپے
(82 کروڑ 60 لاکھ 16 ہزار 51 روپے)
– بجلی پیدا کرنے کی صلاحیت: 50 میگاواٹ
– اس سہ ماہی میں اوسطاً فراہم کردہ بجلی: 24.9 میگاواٹ
– مکمل صلاحیت کے مقابلے میں پیداوار: 50.2 فیصد کم
24۔ اے سی ٹی ونڈ پرائیویٹ لمیٹڈ
– کیپیسٹی چارجز: 825,904,872 روپے
(82 کروڑ 59 لاکھ 4 ہزار 872 روپے)
– بجلی پیدا کرنے کی صلاحیت: 30.5 میگاواٹ
– اس سہ ماہی میں اوسطاً فراہم کردہ بجلی: 11.9 میگاواٹ
– مکمل صلاحیت کے مقابلے میں پیداوار: 60.9 فیصد کم
25۔ سیفائر الیکٹرک کمپنی لمیٹڈ
– کیپیسٹی چارجز: 785,731,819 روپے
(78 کروڑ 57 لاکھ 31 ہزار 819 روپے)
– بجلی پیدا کرنے کی صلاحیت: 203 میگاواٹ
– اس سہ ماہی میں اوسطاً فراہم کردہ بجلی: 26.3 میگاواٹ
– مکمل صلاحیت کے مقابلے میں پیداوار: 87 فیصد کم
26۔ اینگرو پاورجن قادرپور لمیٹڈ
– کیپیسٹی چارجز: 782,391,738 روپے
(78 کروڑ 23 لاکھ 91 ہزار 738 روپے)
– بجلی پیدا کرنے کی صلاحیت: 211.877 میگاواٹ
– اس سہ ماہی میں اوسطاً فراہم کردہ بجلی: 84 میگاواٹ
– مکمل صلاحیت کے مقابلے میں پیداوار: 60.4 فیصد کم
27۔ اٹلس سولر لمیٹڈ
– کیپیسٹی چارجز: 777,353,229 روپے
(77 کروڑ 73 لاکھ 53 ہزار 229 روپے)
– بجلی پیدا کرنے کی صلاحیت: 100 میگاواٹ
– اس سہ ماہی میں اوسطاً فراہم کردہ بجلی: 27.7 میگاواٹ
– مکمل صلاحیت کے مقابلے میں پیداوار: 72.3 فیصد کم
28۔ انڈس ونڈ انرجی لمیٹڈ
– کیپیسٹی چارجز: 761,149,495 روپے
(76 کروڑ 11 لاکھ 49 ہزار 495 روپے)
– بجلی پیدا کرنے کی صلاحیت: 50 میگاواٹ
– اس سہ ماہی میں اوسطاً فراہم کردہ بجلی: 26.2 میگاواٹ
– مکمل صلاحیت کے مقابلے میں پیداوار: 47.7 فیصد کم
29۔ ماسٹر گرین انرجی لمیٹڈ
– کیپیسٹی چارجز: 747,473,333 روپے
(74 کروڑ 74 لاکھ 73 ہزار 333 روپے)
– بجلی پیدا کرنے کی صلاحیت: 50 میگاواٹ
– اس سہ ماہی میں اوسطاً فراہم کردہ بجلی: 22.7 میگاواٹ
– مکمل صلاحیت کے مقابلے میں پیداوار: 54.6 فیصد کم
30۔ نشاط چونیاں پاور لمیٹڈ
– کیپیسٹی چارجز: 715,536,980 روپے
(71 کروڑ 55 لاکھ 36 ہزار 980 روپے)
– بجلی پیدا کرنے کی صلاحیت: 196 میگاواٹ
– اس سہ ماہی میں اوسطاً فراہم کردہ بجلی: 38.2 میگاواٹ
– مکمل صلاحیت کے مقابلے میں پیداوار: 80.5 فیصد کم
31۔ لبرٹی دہرکی پاور لمیٹڈ
– کیپیسٹی چارجز: 685,450,729 روپے
(68 کروڑ 54 لاکھ 50 ہزار 729 روپے)
– بجلی پیدا کرنے کی صلاحیت: 222.6 میگاواٹ
– اس سہ ماہی میں اوسطاً فراہم کردہ بجلی: 141.1 میگاواٹ
– مکمل صلاحیت کے مقابلے میں پیداوار: 36.6 فیصد کم
32۔ نشاط پاور لمیٹڈ
– کیپیسٹی چارجز: 656,398,461 روپے
(65 کروڑ 63 لاکھ 98 ہزار 461 روپے)
– بجلی پیدا کرنے کی صلاحیت: 195 میگاواٹ
– اس سہ ماہی میں اوسطاً فراہم کردہ بجلی: 48.2 میگاواٹ
– مکمل صلاحیت کے مقابلے میں پیداوار: 75.3 فیصد کم
33۔ اٹلس پاور لمیٹڈ
– کیپیسٹی چارجز: 635,699,000 روپے
(63 کروڑ 56 لاکھ 99 ہزار روپے)
– بجلی پیدا کرنے کی صلاحیت: 214 میگاواٹ
– اس سہ ماہی میں اوسطاً فراہم کردہ بجلی: 0 میگاواٹ
– مکمل صلاحیت کے مقابلے میں پیداوار: 100 فیصد کم
34۔ کوہ نور انرجی لمیٹڈ
– کیپیسٹی چارجز: 370,587,171 روپے
(37 کروڑ 5 لاکھ 87 ہزار 171 روپے)
– بجلی پیدا کرنے کی صلاحیت: 124 میگاواٹ
– اس سہ ماہی میں اوسطاً فراہم کردہ بجلی: 29.2 میگاواٹ
– مکمل صلاحیت کے مقابلے میں پیداوار: 76.4 فیصد کم
35۔ سیف پاور لمیٹڈ
– کیپیسٹی چارجز: 364,732,450 روپے
(36 کروڑ 47 لاکھ 32 ہزار 450 روپے)
– بجلی پیدا کرنے کی صلاحیت: 203 میگاواٹ
– اس سہ ماہی میں اوسطاً فراہم کردہ بجلی: 11.2 میگاواٹ
– مکمل صلاحیت کے مقابلے میں پیداوار: 94.5 فیصد کم
36۔ اے جے پاور پرائیویٹ لمیٹڈ
– کیپیسٹی چارجز: 168,383,619 روپے
(16 کروڑ 83 لاکھ 83 ہزار 619 روپے)
– بجلی پیدا کرنے کی صلاحیت: 12 میگاواٹ
– اس سہ ماہی میں اوسطاً فراہم کردہ بجلی: 2.4 میگاواٹ
– مکمل صلاحیت کے مقابلے میں پیداوار: 80 فیصد کم
37۔ تھل انڈسٹریز کارپوریشن لمیٹڈ
– کیپیسٹی چارجز: 153,634,379 روپے
(15 کروڑ 36 لاکھ 34 ہزار 379 روپے)
– بجلی پیدا کرنے کی صلاحیت: 22 میگاواٹ
– اس سہ ماہی میں اوسطاً فراہم کردہ بجلی: 10.3 میگاواٹ
– مکمل صلاحیت کے مقابلے میں پیداوار: 53 فیصد کم
38۔ المعیز انڈسٹریز لمیٹڈ
– کیپیسٹی چارجز: 85,834,720 روپے
(8 کروڑ 58 لاکھ 34 ہزار 720 روپے)
– بجلی پیدا کرنے کی صلاحیت: 21 میگاواٹ
– اس سہ ماہی میں اوسطاً فراہم کردہ بجلی: 5.7 میگاواٹ
– مکمل صلاحیت کے مقابلے میں پیداوار: 72.7 فیصد کم
39۔ چنیوٹ پاور لمیٹڈ
– کیپیسٹی چارجز: 70,199,227 روپے
(7 کروڑ 1 لاکھ 99 ہزار 227 روپے)
– بجلی پیدا کرنے کی صلاحیت: 57 میگاواٹ
– اس سہ ماہی میں اوسطاً فراہم کردہ بجلی: 10.9 میگاواٹ
– مکمل صلاحیت کے مقابلے میں پیداوار: 80.9 فیصد کم
40۔ جے ڈی ڈبلیو شوگر ملز لمیٹڈ، پلانٹ ٹو
– کیپیسٹی چارجز: 64,370,758 روپے
(6 کروڑ 43 لاکھ 70 ہزار 758 روپے)
– بجلی پیدا کرنے کی صلاحیت: 24 میگاواٹ
– اس سہ ماہی میں اوسطاً فراہم کردہ بجلی: 21.8 میگاواٹ
– مکمل صلاحیت کے مقابلے میں پیداوار: 9.4 فیصد کم
41۔ جے ڈی ڈبلیو شوگر ملز لمیٹڈ، پلانٹ تھری
– کیپیسٹی چارجز: 54,539,590 روپے
(5 کروڑ 45 لاکھ 39 ہزار 590 روپے)
– بجلی پیدا کرنے کی صلاحیت: 24 میگاواٹ
– اس سہ ماہی میں اوسطاً فراہم کردہ بجلی: 21 میگاواٹ
– مکمل صلاحیت کے مقابلے میں پیداوار: 12.3 فیصد کم
42۔ آر وائی کے ملز لمیٹڈ
– کیپیسٹی چارجز: 50,172,949 روپے
(5 کروڑ 1 لاکھ 72 ہزار 949 روپے)
– بجلی پیدا کرنے کی صلاحیت: 21 میگاواٹ
– اس سہ ماہی میں اوسطاً فراہم کردہ بجلی: 7.5 میگاواٹ
– مکمل صلاحیت کے مقابلے میں پیداوار: 64.1 فیصد کم
43۔ چنار انرجی لمیٹڈ
– کیپیسٹی چارجز: 480 روپے
(480 روپے)
– بجلی پیدا کرنے کی صلاحیت: 21 میگاواٹ
– اس سہ ماہی میں اوسطاً فراہم کردہ بجلی: 0 میگاواٹ
– مکمل صلاحیت کے مقابلے میں پیداوار: 100 فیصد کم
44۔ شاہ تاج شوگر ملز لمیٹڈ
– کیپیسٹی چارجز: (3,597,428) روپے
(منفی 35 لاکھ 97 ہزار 428 روپے)
– بجلی پیدا کرنے کی صلاحیت: 32 میگاواٹ
– اس سہ ماہی میں اوسطاً فراہم کردہ بجلی: 2.1 میگاواٹ
– مکمل صلاحیت کے مقابلے میں پیداوار: 93.5 فیصد کم
(جاری ہے۔ باقی اگلی قسط میں)
0
Views
48
3
تمام اقساط پڑھیے

مزید مضامین

قسط نمبر 56

قسط نمبر 56

نیپرا نے اگلے گیارہ برس کے لیے بجلی بنانے اور ترسیل کا ایک بڑا منصوبہ منظور کیا ہے۔ اس پر تقریباً 58 ارب ڈالر خرچ ہوں گے۔

قسط نمبر 54

قسط نمبر 54

جب پاکستان کی سپریم کورٹ نے رینٹل پاور پروجیکٹس (RPPs) کے معاہدوں کو غیر قانونی قرار دے کر منسوخ کر دیا تھا۔

قسط نمبر 55

قسط نمبر 55

� آئی پی پیز کے علاوہ مزید پاور ماڈلز جو اب تک نظروں سے اوجھل رہے اور جنہیں حکومت کی طرف سے بجلی پیدا کرنے کے لیے الگ بھاری رقوم ادا کی گئیں۔

قسط نمبر 52

قسط نمبر 52

پاکستان کے 105 بجلی گھروں (IPPs) کے حکومتی معاہدے

قسط نمبر 51

قسط نمبر 51

پاکستان میں بجلی کے بحران سے نمٹنے کے لیے ہم نے ہمیشہ فوری اور عارضی حل تلاش کیے۔ جب بجلی کم پڑی تو ہم نے نئے پاور پلانٹس لگائے، IPPs کے ساتھ طویل مدتی معاہدے کیے اور آنے والے برسوں کی کپیسٹی خریدنے کے وعدے کر لیے۔ لیکن اس دوران ہم یہ بھول گئے کہ ہماری آنے والی نسلوں کے لیے سستی، پائیدار اور ماحول دوست توانائی کہاں سے آئے گی۔