عوامی تحقیقاتی سلسلہ
قسط نمبر 55

پاکستان میں بجلی بنانے والے یہ ’PPs‘ آخر ہیں کتنے؟

🔲 عوامی تحقیقاتی سلسلہ | قسط 55 | بجلی بحران
� آئی پی پیز کے علاوہ مزید پاور ماڈلز جو اب تک نظروں سے اوجھل رہے اور جنہیں حکومت کی طرف سے بجلی پیدا کرنے کے لیے الگ بھاری رقوم ادا کی گئیں۔
🔲 عوامی تحقیقاتی سلسلہ | قسط 55
موضوع: پاکستان کا بجلی کا نظام کیسے ٹھیک ہوگا؟
عنوان: پاکستان میں بجلی بنانے والے یہ ’PPs‘ آخر ہیں کتنے؟
🔺 تحقیق میں سامنے آیا کہ پاکستان میں IPPs کے علاوہ بھی کم از کم 5 الگ ماڈلز کے تحت بجلی پیدا اور فروخت کی جاتی رہی، مگر عام بحث میں سب کو تقریباً IPPs ہی سمجھ لیا گیا۔
تحریر و تحقیق: سید شایان
اپنی آج تک کی تحقیقات کے بعد میں اس نتیجے پر پہنچا ہوں کہ پاکستان کے بجلی کے نظام جیسا گھمبیر معاملہ شاید کسی ایک فرد کے بس کا کام نہیں۔ میں نے تحقیق کا آغاز صرف IPPs، یعنی Independent Power Producers، سے کیا تھا، لیکن جیسے جیسے اس سفر میں آگے بڑھتا گیا، ایک کے بعد ایک نئی تہہ کھلتی گئی۔
اب معلوم ہوا ہے کہ یہاں صرف IPPs ہی نہیں، RPPs یعنی Rental Power Projects بھی تھے، SPPs یعنی Small Power Producers بھی، CPPs یعنی Captive Power Producers بھی، پھر New Captive Power Producers اور Short Term IPPs جیسے الگ الگ بجلی بنانے کے ماڈل بھی سامنے آتے چلے گئے، جنہیں ہماری حکومتیں بجلی خریدنے کے نام پر بھاری تعداد میں رقوم ادا کرتی رہی ہیں۔
ایک مرحلے پر مجھے یوں محسوس ہوا جیسے میں ہاتھ کھڑے کر دوں کہ آخر اس نظام کو سمجھا کیسے جائے۔
آئیے، سب سے پہلے یہ سمجھتے ہیں کہ پاکستان میں بجلی پیدا کرنے والے ادارے صرف IPPs یا سرکاری پاور پلانٹس نہیں تھے۔ ہماری تحقیق میں کم از کم 6 الگ ماڈل سامنے آئے ہیں جو مختلف ادوار میں بجلی پیدا کرتے اور قومی نظام کو فراہم کرتے رہے۔ ان میں سب سے معروف IPPs ہیں، جبکہ اس کے بعد RPPs، SPPs، CPPs، N CPPs اور آخر میں STIPPs جیسے الگ انتظامات بھی موجود رہے۔ تفصیلات یہ ہیں۔
1۔ بجلی پیدا کرنے والے نجی ادارے
(Independent Power Producers
▫
IPPs)
کمپنیاں جو طویل مدتی معاہدوں کے تحت قومی گرڈ کو بجلی فروخت کرتی ہیں۔ پاکستان میں 1994 کے بعد یہ ماڈل تیزی سے پھیلا۔ 2026 کے سرکاری ریکارڈ میں 105 پاور معاہدوں/پروڈیوسرز کا ذکر ہے۔ یہ نظام آج بھی جاری ہے۔
2۔ رینٹل پاور منصوبے
(Rental Power Projects
▫
RPPs)
عارضی یا کرائے کی بنیاد پر بجلی دینے والے پلانٹس اور پاور شپس۔ مجموعی طور پر 19 منصوبے سامنے آئے، جن کی مجوزہ صلاحیت تقریباً 2,734 MW تھی۔ سپریم کورٹ نے 30 مارچ 2012 کو ان کے معاہدے منسوخ کر دیے اور یہ ماڈل عملاً ختم ہوگیا۔
3۔ چھوٹے بجلی پیدا کرنے والے ادارے
(Small Power Producers
▫
SPPs)
زیادہ تر صنعتی اداروں کے نسبتاً چھوٹے پاور پلانٹس، جو اپنی اور قریبی صنعتوں کی ضروریات پوری کرتے یا بجلی فروخت کرتے تھے۔ 2004 میں NEPRA نے بتایا کہ ملک میں تقریباً 360 یا اس سے زیادہ self-generation facilities موجود تھیں، جن کی مجموعی صلاحیت تقریباً 2,000 MW تھی۔ اسی وقت 25 SPPs کو generation licences دیے جا چکے تھے۔ یہ category مکمل طور پر ختم نہیں ہوئی اور NEPRA کے ریکارڈ میں اب بھی موجود ہے۔
4۔ ذاتی صنعتی بجلی گھر
(Captive Power Producers
▫
CPPs)
فیکٹریوں اور صنعتی گروپوں کے اپنے پاور پلانٹس، جن کا بنیادی مقصد اپنی صنعت کو بجلی فراہم کرنا تھا، اگرچہ بعض اضافی بجلی فروخت بھی کرتے تھے۔ یہ ایک بڑی اور مسلسل بدلتی category رہی، اس لیے اس کی کوئی ایک مستقل تاریخی تعداد نہیں؛ NEPRA آج بھی CPPs کے الگ licences دکھاتا ہے۔
5۔ نئے کیپٹو پاور پروڈیوسرز
(New Captive Power Producers
▫
N CPPs)
کیپٹو پاور کا الگ پالیسی ماڈل، جس کے تحت کیپٹو پلانٹس کی نئی generation capacity سے DISCOs کو بجلی فروخت کی جا سکتی تھی۔ NEPRA کی موجودہ فہرست میں کم از کم 10 نمایاں N CPP plants درج ہیں، جن میں Dadu Energy، Omni Power، Naudero Energy، Lucky Cement اور دیگر شامل ہیں۔ یہ category مکمل طور پر ختم نہیں ہوئی اور بعض licences میں 2025 تک modifications بھی ہوئی ہیں۔
6۔ مختصر مدتی آزاد بجلی پیدا کرنے والے ادارے
(Short Term Independent Power Producers
▫
STIPPs)
موجود یا دستیاب generation capacity کو مختصر مدت، عموماً 3 سال، کے لیے قومی گرڈ کو بجلی فراہم کرنے کے لیے استعمال کیا گیا۔ یہ مستقل IPP model نہیں تھا بلکہ فوری کمی پوری کرنے کے لیے عارضی انتظام تھا۔
سوال یہ ہے کہ جب ملک کی زیادہ سے زیادہ ضرورت ہی اس سطح پر ہے تو اتنی بڑی اضافی پیداواری صلاحیت کیوں کھڑی کی گئی، اور جو بجلی استعمال نہیں ہو رہی، اس کے باوجود مختلف معاہدوں کے تحت capacity charges کی ادائیگیاں کیوں جاری رہیں؟
اور معاملہ یہیں ختم نہیں ہوتا۔
ایک طرف ہم بڑے IPPs کو capacity charges اور دوسری ادائیگیاں کر رہے ہیں، دوسری طرف مختلف ادوار میں SPPs، CPPs، RPPs اور دوسرے پاور ماڈلز سے بھی بجلی خریدی جاتی رہی۔ یعنی ایک ایسا ملک جو مسلسل لوڈشیڈنگ، مہنگی بجلی اور گردشی قرضے کی شکایت کرتا رہا، اسی ملک میں بجلی پیدا کرنے اور خریدنے کے لیے ایک کے بعد ایک الگ راستہ کھولا جاتا رہا۔
آج ستارہ انرجی اور ستارہ کیمیکل کا معاملہ سامنے آیا۔ اور ایف آئی اے نے الزام لگایا کہ ایک طرف اسی گروپ کی بجلی نسبتاً مہنگے نرخ پر FESCO کو فروخت کی جا رہی تھی اور دوسری طرف متعلقہ صنعتی یونٹ FESCO سے نسبتاً سستی بجلی حاصل کر رہا تھا، اور اس arrangement سے قومی خزانے کو تقریباً 11.96 ارب روپے کا نقصان پہنچا۔
ستارہ انرجی کے چیئرمین میاں ادریس کی گرفتاری نے اس نظام کی پیچیدگی کا ایک اور دروازہ میرے آگے کھول دیا ہے۔ اور یہاں میرے ذہن میں ایک بنیادی سوال پیدا ہوا ہے کہ
یہ ملک بجلی پیدا کر رہا ہے، بجلی خرید رہا ہے، بجلی نہ خریدنے کی قیمت بھی دے رہا ہے، چھوٹے پروڈیوسرز سے بھی لے رہا ہے، captive plants سے بھی لے رہا ہے، رینٹل پلانٹس بھی لا چکا ہے، لیکن اس کے باوجود صارف کو مہنگی بجلی اور لوڈشیڈنگ ہی کیوں ملتی ہے؟
مجھے کبھی کبھی پورا نظام ایسا دکھائی دیتا ہے جیسے ایک ایسا گڑھا ہو جس میں مختلف ناموں، مختلف معاہدوں اور مختلف پالیسیوں کے تحت اربوں اور کھربوں روپے ڈالتے چلے گئے، مگر آخر میں صارف کے حصے میں پھر بھی مہنگا بل، گردشی قرضہ اور قسط شدہ بجلی ہی آئی۔
اسی مقام پر میری IPPs کی تحقیق ایک بڑی تحقیق میں تبدیل ہو گئی۔ اب سوال صرف یہ نہیں رہا کہ IPPs نے کتنا کمایا؟ سوال یہ ہے کہ گزشتہ تین دہائیوں میں پاکستان نے بجلی کے نام پر کتنے مختلف نظام بنائے، کس نے بنائے، کن لوگوں اور کمپنیوں کو فائدہ ہوا، قومی خزانے اور صارف نے کتنی قیمت ادا کی، اور ان سب کے باوجود بجلی کا مسئلہ حل کیوں نہ ہوا؟
(جاری ہے۔ باقی اگلی قسط میں)
0
Views
21
1
تمام اقساط پڑھیے

مزید مضامین

قسط نمبر 56

قسط نمبر 56

نیپرا نے اگلے گیارہ برس کے لیے بجلی بنانے اور ترسیل کا ایک بڑا منصوبہ منظور کیا ہے۔ اس پر تقریباً 58 ارب ڈالر خرچ ہوں گے۔

قسط نمبر 54

قسط نمبر 54

جب پاکستان کی سپریم کورٹ نے رینٹل پاور پروجیکٹس (RPPs) کے معاہدوں کو غیر قانونی قرار دے کر منسوخ کر دیا تھا۔

قسط نمبر 53

قسط نمبر 53

پاکستان کے بجلی بحران اور کیپیسٹی چارجز کی اصل حقیقت سامنے آ گئی ۔ نیپرا کی رپورٹ سے سامنے آنے والے چونکا دینے والے انکشافات

قسط نمبر 52

قسط نمبر 52

پاکستان کے 105 بجلی گھروں (IPPs) کے حکومتی معاہدے

قسط نمبر 51

قسط نمبر 51

پاکستان میں بجلی کے بحران سے نمٹنے کے لیے ہم نے ہمیشہ فوری اور عارضی حل تلاش کیے۔ جب بجلی کم پڑی تو ہم نے نئے پاور پلانٹس لگائے، IPPs کے ساتھ طویل مدتی معاہدے کیے اور آنے والے برسوں کی کپیسٹی خریدنے کے وعدے کر لیے۔ لیکن اس دوران ہم یہ بھول گئے کہ ہماری آنے والی نسلوں کے لیے سستی، پائیدار اور ماحول دوست توانائی کہاں سے آئے گی۔