STIPPs)
موجود یا دستیاب generation capacity کو مختصر مدت، عموماً 3 سال، کے لیے قومی گرڈ کو بجلی فراہم کرنے کے لیے استعمال کیا گیا۔ یہ مستقل IPP model نہیں تھا بلکہ فوری کمی پوری کرنے کے لیے عارضی انتظام تھا۔
سوال یہ ہے کہ جب ملک کی زیادہ سے زیادہ ضرورت ہی اس سطح پر ہے تو اتنی بڑی اضافی پیداواری صلاحیت کیوں کھڑی کی گئی، اور جو بجلی استعمال نہیں ہو رہی، اس کے باوجود مختلف معاہدوں کے تحت capacity charges کی ادائیگیاں کیوں جاری رہیں؟
اور معاملہ یہیں ختم نہیں ہوتا۔
ایک طرف ہم بڑے IPPs کو capacity charges اور دوسری ادائیگیاں کر رہے ہیں، دوسری طرف مختلف ادوار میں SPPs، CPPs، RPPs اور دوسرے پاور ماڈلز سے بھی بجلی خریدی جاتی رہی۔ یعنی ایک ایسا ملک جو مسلسل لوڈشیڈنگ، مہنگی بجلی اور گردشی قرضے کی شکایت کرتا رہا، اسی ملک میں بجلی پیدا کرنے اور خریدنے کے لیے ایک کے بعد ایک الگ راستہ کھولا جاتا رہا۔
آج ستارہ انرجی اور ستارہ کیمیکل کا معاملہ سامنے آیا۔ اور ایف آئی اے نے الزام لگایا کہ ایک طرف اسی گروپ کی بجلی نسبتاً مہنگے نرخ پر FESCO کو فروخت کی جا رہی تھی اور دوسری طرف متعلقہ صنعتی یونٹ FESCO سے نسبتاً سستی بجلی حاصل کر رہا تھا، اور اس arrangement سے قومی خزانے کو تقریباً 11.96 ارب روپے کا نقصان پہنچا۔
ستارہ انرجی کے چیئرمین میاں ادریس کی گرفتاری نے اس نظام کی پیچیدگی کا ایک اور دروازہ میرے آگے کھول دیا ہے۔ اور یہاں میرے ذہن میں ایک بنیادی سوال پیدا ہوا ہے کہ
یہ ملک بجلی پیدا کر رہا ہے، بجلی خرید رہا ہے، بجلی نہ خریدنے کی قیمت بھی دے رہا ہے، چھوٹے پروڈیوسرز سے بھی لے رہا ہے، captive plants سے بھی لے رہا ہے، رینٹل پلانٹس بھی لا چکا ہے، لیکن اس کے باوجود صارف کو مہنگی بجلی اور لوڈشیڈنگ ہی کیوں ملتی ہے؟
مجھے کبھی کبھی پورا نظام ایسا دکھائی دیتا ہے جیسے ایک ایسا گڑھا ہو جس میں مختلف ناموں، مختلف معاہدوں اور مختلف پالیسیوں کے تحت اربوں اور کھربوں روپے ڈالتے چلے گئے، مگر آخر میں صارف کے حصے میں پھر بھی مہنگا بل، گردشی قرضہ اور قسط شدہ بجلی ہی آئی۔
اسی مقام پر میری IPPs کی تحقیق ایک بڑی تحقیق میں تبدیل ہو گئی۔ اب سوال صرف یہ نہیں رہا کہ IPPs نے کتنا کمایا؟ سوال یہ ہے کہ گزشتہ تین دہائیوں میں پاکستان نے بجلی کے نام پر کتنے مختلف نظام بنائے، کس نے بنائے، کن لوگوں اور کمپنیوں کو فائدہ ہوا، قومی خزانے اور صارف نے کتنی قیمت ادا کی، اور ان سب کے باوجود بجلی کا مسئلہ حل کیوں نہ ہوا؟
(جاری ہے۔ باقی اگلی قسط میں)