عوامی تحقیقاتی سلسلہ
قسط نمبر 56

58 ارب ڈالر کا بجلی منصوبہ: کیا اتنا بڑا فیصلہ صرف نیپرا جیسا ایک حکومتی ادارہ کر سکتا ہے؟

🔲 عوامی تحقیقاتی سلسلہ | قسط 56 | بجلی بحران
🔳 نیپرا نے اگلے گیارہ برس کے لیے بجلی بنانے اور ترسیل کا ایک بڑا منصوبہ منظور کیا ہے۔ اس پر تقریباً 58 ارب ڈالر خرچ ہوں گے۔
▫
جب حکومت خود مانتی ہے کہ مُلک میں بجلی بنانے کی موجودہ صلاحیت ضرورت سے زیادہ ہے اور بیسیوں بجلی گھروں کو کم چلنے کی وجہ سے اربوں روپے کے کیپیسٹی چارجز دیے جا رہے ہیں، تو 2035 تک مزید بجلی پیدا کرنے اور نئے بجلی گھر لگانے کی ضرورت اچانک کیوں پیش آ گئی؟
▫
منصوبے کی لاگت کا تخمینہ 58 ارب ڈالر تو سامنے آ گیا ہے، مگر اتنی خطیر رقم کی مکمل فنڈنگ کہاں سے آئے گی، یہ واضح نہیں۔ البتہ NEPRA نے صارفین کے بجلی کے ٹیرف پر اس منصوبے کے اثرات کا حساب شامل کرنے کی ہدایت دی ہے۔ اس سے خدشہ پیدا ہوتا ہے کہ اس نئی سرمایہ کاری کا بوجھ صارفین کے بلوں پر ہی ڈالا جائے گا۔
عوامی تحقیقاتی سلسلہ | قسط 56
موضوع: پاکستان کا بجلی کا نظام کیسے ٹھیک ہوگا؟
عنوان: 58 ارب ڈالر کا بجلی منصوبہ: کیا اتنا بڑا فیصلہ صرف نیپرا جیسا ایک حکومتی ادارہ کر سکتا ہے؟
🔺 جب ہر ترقیاتی منصوبے کی لاگت عوام سے یوٹیلٹی بلوں کے ذریعے وصول کی جائے گی تو اس ملک میں حکومت کو فضول اور مہنگے منصوبے بنانے سے کون روکے گا؟
تحریر و تحقیق: سید شایان
نیپرا نے ستمبر میں پاکستان کے بجلی نظام میں نئی بجلی شامل کرنے کے لیے 2025 سے 2035 تک کا ایک گیارہ سالہ میگا منصوبہ منظور کیا ہے۔
اس منصوبے میں بجلی پیدا کرنے والے نئے پاور پلانٹس اور ٹرانسمیشن (بجلی پہنچانے والی ترسیلی لائنوں) پر مجموعی طور پر تقریباً 58 ارب ڈالر خرچ ہونے کا تخمینہ لگایا گیا ہے، جو موجودہ شرحِ تبادلہ کے مطابق تقریباً 16 لاکھ 7 ہزار کروڑ پاکستانی روپے بنتے ہیں۔
مجھے حیرت ہوتی ہے کہ جو ملک اس مرتبہ صرف 1.3 ارب ڈالر کے لیے آئی ایم ایف کے پاس مدد کے لیے گیا تھا، وہ بجلی کے شعبے میں 58 ارب ڈالر کا منصوبہ کیا سوچ کر بنا رہا ہے؟ اور یہ کون لوگ ہیں جو اس طرح کے منصوبے سوچ بھی لیتے ہیں۔
یہ جانتے ہوئے بھی کہ عوام پہلے ہی مہنگی بجلی اور بھاری بلوں کے نیچے دبے ہوئے ہیں کیا سوچ کر ایسے مہنگے ترین منصوبے اناؤنس کیے جاتے ہیں ۔
منصوبے کے مطابق حکومتی ماہرین کا خیال ہے کہ چونکہ مارچ 2025 میں ملک میں بجلی کی بلند ترین طلب 26,950 میگاواٹ تھی، لہٰذا اس حساب سے 2035 میں بڑھ کر 35,521 میگاواٹ ہو جائے گی۔
چنانچہ اس اضافے کو پورا کرنے کے لیے 26,045 میگاواٹ نئی پیداواری صلاحیت شامل کرنے کے لیے یہ منصوبہ بنایا گیا ہے، جبکہ موجودہ صلاحیت میں سے 2,577 میگاواٹ ریٹائر کی جائے گی۔ ان تبدیلیوں کے بعد ملک میں بجلی کی پیداواری صلاحیت 62,657 میگاواٹ ہونے کا تخمینہ بھی ہے۔ اس میں 8,120 میگاواٹ نیٹ میٹرنگ بھی شامل ہے۔
منصوبے کے مطابق، نئے پاور پلانٹس لگانے کے لیے 47.08 ارب ڈالر جبکہ بجلی کو ملک بھر میں پہنچانے والے ترسیلی نظام (ٹرانسمیشن) کے لیے 10.65 ارب ڈالر درکار ہوں گے۔ ان دونوں اخراجات کی مجموعی مالیت 57.73 ارب ڈالر، یعنی تقریباً 58 ارب ڈالر بنتی ہے۔
مجھے بجلی کے شعبے کے لیے 58 ارب ڈالر کا یہ منصوبہ نہایت تشویش ناک محسوس ہو رہا ہے۔
موازنے کے لیے میں اگر دیکھوں تو سی پیک کا ابتدائی اعلان 2015 میں 46 ارب ڈالر کے سرمایہ کاری پروگرام کے طور پر ہوا تھا۔ اُس وقت اسے ملکی تاریخ کا سب سے بڑا ترقیاتی پروگرام قرار دیا گیا تھا۔ بعد میں اس کی مجموعی مالیت تقریباً 62 ارب ڈالر بتائی گئی۔ سی پیک ایک وسیع پروگرام تھا، جس میں سڑکوں، پلوں، بندرگاہوں، بجلی گھروں اور دوسرے شعبوں کے متعدد منصوبے شامل تھے۔ اس کے مقابلے میں یہاں تقریباً 58 ارب ڈالر صرف بجلی بنانے اور اسے پہنچانے کے نظام پر خرچ ہونے کا تخمینہ ہے۔
سوال یہ ہے کہ حکومت نے بجلی کی طلب میں اضافے کا یہ اندازہ کن شواہد اور مفروضوں کی بنیاد پر لگایا ہے کہ 2035 تک پاکستان میں بجلی کی طلب میں 8500 میگاواٹ بجلی کا اضافہ ہو جائے گا؟
دیکھا جائے تو گزشتہ چند برسوں میں پاکستان کی صنعتوں کو شدید مشکلات کا سامنا رہا ہے۔ بجلی کے بلند نرخ اور کمزور کاروباری حالات کے باعث صنعتوں کی گرڈ سے بجلی کی کھپت بھی مسلسل کم ہوئی۔
پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف ڈیولپمنٹ اکنامکس PIDE کے مطابق صنعتوں کی گرڈ سے بجلی کی کھپت میں مالی سال 2022-23 میں 8 فیصد، 2023-24 میں 12 فیصد اور 2024-25 میں مزید 6 فیصد کمی ہوئی۔ یعنی تقریباً 26 فیصد۔
تاہم مالی سال 2025-26 کے پہلے نو ماہ میں یہ رجحان بدلا اور پاکستان اکنامک سروے کے مطابق اس عرصے میں صنعتی کھپت گزشتہ سال کے اسی عرصے کے مقابلے میں تقریباً 24 فیصد بڑھ گئی۔
اس اضافے کی ایک وجہ صنعتوں کا اپنی بجلی بنانے کے بجائے دوبارہ گرڈ سے بجلی لینا بھی ہو سکتی ہے۔ اس لیے 2025-26 کے اعداد یہ دکھاتے ہیں کہ صنعتی گرڈ طلب میں بحالی شروع ہوئی، مگر یہ نہیں بتاتے کہ آگے بھی اسی رفتار سے اضافہ یقینی ہے یا نہیں؟
یہاں ایک اور بنیادی سوال پیدا ہوتا ہے۔ اگر پاکستان میں بجلی کی طلب واقعی 2035 تک 35,521 میگاواٹ تک پہنچنے کی توقع ہے، تو حکومت کو یہ بھی واضح کرنا چاہیے کہ یہ اضافی طلب کہاں سے آئے گی۔ کیا ملک میں ایلومینیم سمیلٹر (Aluminium Smelter) جیسی بجلی پینے والی بھاری صنعتیں یا بڑے اے آئی ڈیٹا سینٹر قائم کیے جانے کا منصوبہ ہے؟ یا ملک میں پرانی بند پڑی صنعت کی بحالی کی توقع ہے؟ اگر ہاں، تو حکومت ان منصوبوں اور ان کی متوقع بجلی کی کھپت کی تفصیل عوام کے سامنے رکھے۔
صرف آبادی بڑھنے یا معیشت بہتر ہونے کا عمومی اندازہ کافی نہیں ہونا چاہیے۔ 58 ارب ڈالر جیسے بڑے منصوبے کے لیے یہ واضح ہونا ضروری ہے کہ اضافی بجلی کا اصل صارف کون ہوگا اور اس کی طلب کب پیدا ہوگی۔
دوسری طرف پاکستان کے موجودہ بجلی کے نظام میں پہلے ہی بڑی پیداواری صلاحیت موجود ہے، مگر اس صلاحیت کا ایک اہم حصہ مکمل طور پر استعمال نہیں ہو رہا۔ اس کے باوجود بجلی گھروں کو دستیابی کی مد میں capacity charges ادا کیے جا رہے ہیں۔ اگر نئی پیداواری صلاحیت بھی طلب سے زیادہ نکل آئی تو پاکستان ایک بار پھر اسی مسئلے کو مزید بڑے پیمانے پر دہرا سکتا ہے۔
اس منصوبے کا ایک اور پہلو بھی توجہ طلب ہے۔ 2035 تک بجلی کی طلب کے یہ اندازے نئے قائم کیے گئے Independent System and Market Operator یعنی ISMO نے تیار کیے ہیں، جسے حکومت نے بجلی کے نظام اور مارکیٹ کی منصوبہ بندی کی اہم ذمہ داریاں منتقل کی ہیں۔
اس بالکل نوزائیدہ ادارے نے مستقبل کی GDP growth کے مختلف مفروضوں کی بنیاد پر بجلی کی طلب کا اندازہ لگایا اور انہی اعداد و شمار پر اربوں ڈالر کی نئی پیداواری اور ترسیلی صلاحیت کی منصوبہ بندی کی گئی ہے۔
سوال یہ ہے کہ ایک ایسے ادارے کے طویل المدت اندازوں پر، جس کا اپنا عملی track record ابھی محدود ہے، پاکستان تقریباً 58 ارب ڈالر کے اتنے بڑے منصوبے کی بنیاد کس حد تک رکھ سکتا ہے؟
اس سے پہلے یہ واضح ہونا چاہیے کہ ان forecasts کو تیار کرنے والے ماہرین کون ہیں، ان کے مفروضوں کی آزادانہ جانچ کس نے کی، گزشتہ اعداد و شمار کے مقابلے میں ان کے forecasting models کتنے قابل اعتماد ثابت ہوئے، اور اگر GDP growth یا بجلی کی اصل طلب ان اندازوں سے کم رہی تو اس غلط تخمینے کی مالی قیمت کون ادا کرے گا؟
(جاری ہے۔ باقی اگلی قسط میں)
0
Views
13
10
تمام اقساط پڑھیے

مزید مضامین

قسط نمبر 54

قسط نمبر 54

جب پاکستان کی سپریم کورٹ نے رینٹل پاور پروجیکٹس (RPPs) کے معاہدوں کو غیر قانونی قرار دے کر منسوخ کر دیا تھا۔

قسط نمبر 55

قسط نمبر 55

� آئی پی پیز کے علاوہ مزید پاور ماڈلز جو اب تک نظروں سے اوجھل رہے اور جنہیں حکومت کی طرف سے بجلی پیدا کرنے کے لیے الگ بھاری رقوم ادا کی گئیں۔

قسط نمبر 53

قسط نمبر 53

پاکستان کے بجلی بحران اور کیپیسٹی چارجز کی اصل حقیقت سامنے آ گئی ۔ نیپرا کی رپورٹ سے سامنے آنے والے چونکا دینے والے انکشافات

قسط نمبر 52

قسط نمبر 52

پاکستان کے 105 بجلی گھروں (IPPs) کے حکومتی معاہدے

قسط نمبر 51

قسط نمبر 51

پاکستان میں بجلی کے بحران سے نمٹنے کے لیے ہم نے ہمیشہ فوری اور عارضی حل تلاش کیے۔ جب بجلی کم پڑی تو ہم نے نئے پاور پلانٹس لگائے، IPPs کے ساتھ طویل مدتی معاہدے کیے اور آنے والے برسوں کی کپیسٹی خریدنے کے وعدے کر لیے۔ لیکن اس دوران ہم یہ بھول گئے کہ ہماری آنے والی نسلوں کے لیے سستی، پائیدار اور ماحول دوست توانائی کہاں سے آئے گی۔