پبلشنگ کی تاریخ:
14 مئی 2026 - 10:00 PM
اوورسیز پاکستانی پاکستان کی معیشت کے خاموش مگر مضبوط ستون ہیں۔ ہر سال اربوں ڈالر کی ترسیلات زر ملک میں بھیجنے والے...
اوورسیز پاکستانی پاکستان کی معیشت کے خاموش مگر مضبوط ستون ہیں۔ ہر سال اربوں ڈالر کی ترسیلات زر ملک میں بھیجنے والے...
اوورسیز پاکستانی پاکستان کی معیشت کے خاموش مگر مضبوط ستون ہیں۔ ہر سال اربوں ڈالر کی ترسیلات زر ملک میں بھیجنے والے یہ پاکستانی صرف اپنے خاندانوں کا سہارا نہیں بنتے بلکہ قومی زرمبادلہ، سرمایہ کاری اور معاشی استحکام میں بھی کلیدی کردار ادا کرتے ہیں۔ اس کے باوجود سب سے تلخ حقیقت یہ ہے کہ جب یہی پاکستانی اپنی جمع پونجی سے پاکستان میں گھر، پلاٹ یا کاروباری جائیداد خریدتے ہیں تو اکثر انہیں قبضوں، جعلی انتقالات، طویل عدالتی کارروائیوں اور انتظامی بے حسی کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔
یہی وجہ ہے کہ اوورسیز پاکستانیوں کی جائیدادوں کے تحفظ کے لیے خصوصی قانون سازی وقت کی اہم ضرورت ہے۔ وفاقی سطح پر اوورسیز پاکستانیز فاؤنڈیشن، او پی ایف کے ذریعے شکایات کے اندراج، آن لائن کمپلینٹ مینجمنٹ سسٹم، ہیلپ لائنز اور متعلقہ وفاقی اداروں سے رابطہ کاری جیسے اقدامات پہلے سے موجود ہیں۔ او پی ایف کے مطابق بیرونِ ملک مقیم پاکستانی اپنی شکایات آن لائن پورٹل، ای میل، فون اور واٹس ایپ کے ذریعے درج کرا سکتے ہیں۔
وفاقی حکومت کی جانب سے اوورسیز پاکستانیوں کے پراپرٹی مقدمات کے لیے خصوصی عدالتوں، ای فائلنگ، ویڈیو لنک کے ذریعے شہادت ریکارڈ کرانے اور سفارت خانوں یا قونصل خانوں کے ذریعے قانونی معاونت جیسے اقدامات بھی ایک مثبت پیش رفت ہیں۔ حالیہ قانون سازی میں یہ پہلو بھی سامنے آیا ہے کہ اوورسیز پاکستانی آن لائن درخواست دائر کر سکیں گے، ویڈیو لنک کے ذریعے بیان ریکارڈ کرا سکیں گے اور مقدمات مقررہ مدت میں نمٹانے کا نظام بنایا جائے گا۔
اسی طرح وفاقی سطح پر او پی ایف اور نیب کے درمیان رابطہ کاری کے لیے سہولت ڈیسک یا سیل کے قیام کا فیصلہ بھی اہم ہے، تاکہ اوورسیز پاکستانیوں کی جائیدادوں، دھوکہ دہی، قبضوں یا مالی فراڈ سے متعلق شکایات کو متعلقہ فورمز تک مؤثر انداز میں پہنچایا جا سکے۔ یہ قدم اس لحاظ سے اہم ہے کہ پراپرٹی فراڈ صرف سول تنازع نہیں رہتا بلکہ کئی معاملات میں منظم دھوکہ دہی، جعل سازی اور بااثر قبضہ مافیا سے بھی جڑ جاتا ہے۔
پنجاب میں بھی اوورسیز پاکستانیوں کے لیے ادارہ جاتی سطح پر خاصا کام کیا گیا ہے۔ پنجاب اوورسیز پاکستانیز کمیشن کے تحت شکایتی پورٹل، 24/7 ہیلپ لائن اور باقاعدہ ہیلپ ڈیسک کا نظام موجود ہے، جہاں دنیا کے کسی بھی ملک سے اوورسیز پاکستانی اپنی شکایت درج کرا سکتے ہیں۔ پنجاب حکومت نے جائیداد کے جائز مالکان کو تحفظ دینے کے لیے پنجاب پروٹیکشن آف اونرشپ آف امووایبل پراپرٹی آرڈیننس 2025 کے تحت بھی اقدامات کیے ہیں، جس کا مقصد زمین اور جائیداد پر غیر قانونی قبضوں کے خلاف فوری کارروائی اور ملکیت کے تحفظ کو یقینی بنانا ہے۔
یہ اقدامات بلاشبہ خوش آئند ہیں، مگر صرف قانون بنانا کافی نہیں۔ پاکستان میں اصل مسئلہ قانون کی عدم موجودگی سے زیادہ اس کے مؤثر نفاذ کا ہے۔ اگر خصوصی عدالتیں قائم ہو جائیں مگر زمین کا ریکارڈ مکمل طور پر ڈیجیٹل نہ ہو، ریونیو دفاتر میں شفافیت نہ آئے، پولیس فوری کارروائی نہ کرے اور قابضین کے خلاف عملی گرفت نہ ہو تو قانون بھی ایک رسمی اعلان بن کر رہ جائے گا۔ اوورسیز پاکستانیوں کو حقیقی تحفظ دینے کے لیے رجسٹری، انتقال، پاور آف اٹارنی، ملکیت کی تصدیق اور عدالتی کارروائی کے پورے نظام کو جدید، شفاف اور قابلِ اعتماد بنانا ہوگا۔
حکومت کو اوورسیز پاکستانیوں کے لیے صرف قانونی تحفظ نہیں بلکہ سرمایہ کاری کے واضح مراعاتی پیکج بھی دینے چاہئیں۔ محفوظ ہاؤسنگ سکیمیں، تصدیق شدہ رئیل اسٹیٹ پورٹل، ٹیکس میں محدود رعایت، ون ونڈو شکایتی مرکز، ڈیجیٹل ویری فکیشن سسٹم اور فراڈ کرنے والے ڈویلپرز کے خلاف سخت سزائیں اس اعتماد کو بحال کر سکتی ہیں جو برسوں کی بدانتظامی سے متاثر ہوا ہے۔
اوورسیز پاکستانی پاکستان سے جذباتی تعلق رکھتے ہیں، مگر سرمایہ ہمیشہ اعتماد دیکھتا ہے۔ اگر ریاست ان کی جائیداد کو محفوظ، مقدمات کو تیز، ریکارڈ کو شفاف اور نظام کو جواب دہ بنا دے تو یہ طبقہ پاکستان میں بڑے پیمانے پر سرمایہ کاری کے لیے تیار ہو سکتا ہے۔ اب ضرورت نعروں کی نہیں، قابلِ عمل پالیسی، تیز انصاف اور مضبوط نفاذ کی ہے۔ اوورسیز پاکستانیوں کا اعتماد جیتنا دراصل پاکستان کے معاشی مستقبل کو مضبوط بنانا ہے۔
The writer of this article, Riaz Hussain, has been associated with the field of journalism for nearly two decades. He lives in Lahore and is currently working as Head of Multimedia at ReNews Pakistan. In addition to real estate, he also writes on political and social issues, human rights, literature and culture. Riaz Hussain is an Old Ravian and holds a Master’s degree in Philosophy from Government College University, Lahore. (Editor)
اوورسیز پاکستانی پاکستان کی معیشت کے خاموش مگر مضبوط ستون ہیں۔ ہر سال اربوں ڈالر کی ترسیلات زر ملک میں بھیجنے والے یہ پاکستانی صرف اپنے خاندانوں کا سہارا نہیں بنتے بلکہ قومی زرمبادلہ، سرمایہ کاری اور معاشی استحکام میں بھی کلیدی کردار ادا کرتے ہیں۔ اس کے باوجود سب سے تلخ حقیقت یہ ہے کہ جب یہی پاکستانی اپنی جمع پونجی سے پاکستان میں گھر، پلاٹ یا کاروباری جائیداد خریدتے ہیں تو اکثر انہیں قبضوں، جعلی انتقالات، طویل عدالتی کارروائیوں اور انتظامی بے حسی کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔
یہی وجہ ہے کہ اوورسیز پاکستانیوں کی جائیدادوں کے تحفظ کے لیے خصوصی قانون سازی وقت کی اہم ضرورت ہے۔ وفاقی سطح پر اوورسیز پاکستانیز فاؤنڈیشن، او پی ایف کے ذریعے شکایات کے اندراج، آن لائن کمپلینٹ مینجمنٹ سسٹم، ہیلپ لائنز اور متعلقہ وفاقی اداروں سے رابطہ کاری جیسے اقدامات پہلے سے موجود ہیں۔ او پی ایف کے مطابق بیرونِ ملک مقیم پاکستانی اپنی شکایات آن لائن پورٹل، ای میل، فون اور واٹس ایپ کے ذریعے درج کرا سکتے ہیں۔
وفاقی حکومت کی جانب سے اوورسیز پاکستانیوں کے پراپرٹی مقدمات کے لیے خصوصی عدالتوں، ای فائلنگ، ویڈیو لنک کے ذریعے شہادت ریکارڈ کرانے اور سفارت خانوں یا قونصل خانوں کے ذریعے قانونی معاونت جیسے اقدامات بھی ایک مثبت پیش رفت ہیں۔ حالیہ قانون سازی میں یہ پہلو بھی سامنے آیا ہے کہ اوورسیز پاکستانی آن لائن درخواست دائر کر سکیں گے، ویڈیو لنک کے ذریعے بیان ریکارڈ کرا سکیں گے اور مقدمات مقررہ مدت میں نمٹانے کا نظام بنایا جائے گا۔
اسی طرح وفاقی سطح پر او پی ایف اور نیب کے درمیان رابطہ کاری کے لیے سہولت ڈیسک یا سیل کے قیام کا فیصلہ بھی اہم ہے، تاکہ اوورسیز پاکستانیوں کی جائیدادوں، دھوکہ دہی، قبضوں یا مالی فراڈ سے متعلق شکایات کو متعلقہ فورمز تک مؤثر انداز میں پہنچایا جا سکے۔ یہ قدم اس لحاظ سے اہم ہے کہ پراپرٹی فراڈ صرف سول تنازع نہیں رہتا بلکہ کئی معاملات میں منظم دھوکہ دہی، جعل سازی اور بااثر قبضہ مافیا سے بھی جڑ جاتا ہے۔
پنجاب میں بھی اوورسیز پاکستانیوں کے لیے ادارہ جاتی سطح پر خاصا کام کیا گیا ہے۔ پنجاب اوورسیز پاکستانیز کمیشن کے تحت شکایتی پورٹل، 24/7 ہیلپ لائن اور باقاعدہ ہیلپ ڈیسک کا نظام موجود ہے، جہاں دنیا کے کسی بھی ملک سے اوورسیز پاکستانی اپنی شکایت درج کرا سکتے ہیں۔ پنجاب حکومت نے جائیداد کے جائز مالکان کو تحفظ دینے کے لیے پنجاب پروٹیکشن آف اونرشپ آف امووایبل پراپرٹی آرڈیننس 2025 کے تحت بھی اقدامات کیے ہیں، جس کا مقصد زمین اور جائیداد پر غیر قانونی قبضوں کے خلاف فوری کارروائی اور ملکیت کے تحفظ کو یقینی بنانا ہے۔
یہ اقدامات بلاشبہ خوش آئند ہیں، مگر صرف قانون بنانا کافی نہیں۔ پاکستان میں اصل مسئلہ قانون کی عدم موجودگی سے زیادہ اس کے مؤثر نفاذ کا ہے۔ اگر خصوصی عدالتیں قائم ہو جائیں مگر زمین کا ریکارڈ مکمل طور پر ڈیجیٹل نہ ہو، ریونیو دفاتر میں شفافیت نہ آئے، پولیس فوری کارروائی نہ کرے اور قابضین کے خلاف عملی گرفت نہ ہو تو قانون بھی ایک رسمی اعلان بن کر رہ جائے گا۔ اوورسیز پاکستانیوں کو حقیقی تحفظ دینے کے لیے رجسٹری، انتقال، پاور آف اٹارنی، ملکیت کی تصدیق اور عدالتی کارروائی کے پورے نظام کو جدید، شفاف اور قابلِ اعتماد بنانا ہوگا۔
حکومت کو اوورسیز پاکستانیوں کے لیے صرف قانونی تحفظ نہیں بلکہ سرمایہ کاری کے واضح مراعاتی پیکج بھی دینے چاہئیں۔ محفوظ ہاؤسنگ سکیمیں، تصدیق شدہ رئیل اسٹیٹ پورٹل، ٹیکس میں محدود رعایت، ون ونڈو شکایتی مرکز، ڈیجیٹل ویری فکیشن سسٹم اور فراڈ کرنے والے ڈویلپرز کے خلاف سخت سزائیں اس اعتماد کو بحال کر سکتی ہیں جو برسوں کی بدانتظامی سے متاثر ہوا ہے۔
اوورسیز پاکستانی پاکستان سے جذباتی تعلق رکھتے ہیں، مگر سرمایہ ہمیشہ اعتماد دیکھتا ہے۔ اگر ریاست ان کی جائیداد کو محفوظ، مقدمات کو تیز، ریکارڈ کو شفاف اور نظام کو جواب دہ بنا دے تو یہ طبقہ پاکستان میں بڑے پیمانے پر سرمایہ کاری کے لیے تیار ہو سکتا ہے۔ اب ضرورت نعروں کی نہیں، قابلِ عمل پالیسی، تیز انصاف اور مضبوط نفاذ کی ہے۔ اوورسیز پاکستانیوں کا اعتماد جیتنا دراصل پاکستان کے معاشی مستقبل کو مضبوط بنانا ہے۔
اس تحریر کے لکھاری ریاض حسین کم و بیش دو دہائیوں سے شعبہ صحافت سے وابستہ ہیں۔ لاہور میں رہتے ہیں اور آج کل 'ری نیوز پاکستان' میں بطور ہیڈ ملٹی میڈیا کام کر رہے ہیں۔ رئیل اسٹیٹ کے علاوہ سیاسی و سماجی موضوعات، انسانی حقوق اور ادب و ثقافت پر بھی لکھتے ہیں۔ ریاض حسین اولڈ راوین ہیں اور گورنمنٹ کالج لاہور یونیورسٹی سے فلسفے میں ایم اے کر رکھا ہے۔ (ادارہ)