By Riaz Hussain
تحریر: ریاض حسین
Published: April 17, 2026 - 12:53 PM
پبلشنگ کی تاریخ: 17 اپریل 2026 - 12:53 PM
2026 : کیا پاکستان میں رئیل اسٹیٹ کا منظر نامہ بدل رہا ہے؟
2026 : کیا پاکستان میں رئیل اسٹیٹ کا منظر نامہ بدل رہا ہے؟
پاکستان میں سال 2026 رئیل اسٹیٹ سیکٹر کے لیے اس لحاظ سے ایک اہم موڑ ثابت ہو رہا ہے کہ کوئی تین...
پاکستان میں سال 2026 رئیل اسٹیٹ سیکٹر کے لیے اس لحاظ سے ایک اہم موڑ ثابت ہو رہا ہے کہ کوئی تین...
اگر ہم دیکھیں تو معلوم ہوتا ہے کہ رئیل اسٹیٹ سیکٹر میں سب سے زیادہ زیر بحث قانون سیکشن 7E ہے، جس کے تحت غیر استعمال شدہ یا کرائے پر نہ دی گئی جائیداد پر بھی “فرضی آمدن” Deemed Income کے بنیاد پر ٹیکس عائد کیا جاتا ہے۔ اس قانون کے مطابق جائیداد کی مالیت کا تقریباً 1 فیصد سالانہ ٹیکس لیا جاتا ہے۔ رواں برس اس قانون کو عدالتوں میں چیلنج کیا گیا ہے اور اسے آئینی دائرہ اختیار سے باہر قرار دینے کی بحث جاری ہے۔ مختلف ہائیکورٹس کے بعد یہ معاملہ اب سپریم کورٹ کے آئینی بنچ میں زیر سماعت ہے۔ رئیل اسٹیٹ کمیونٹی کی نظریں اب سپریم کورٹ پر ہیں اور اسے ملک کی اعلیٰ عدالت سے فیصلہ اپنے حق میں ہونے کی قوی امید ہے۔ اسی کے ساتھ حکومت بھی اس پر نظرثانی یا ممکنہ خاتمے پر غور کر رہی ہے، جو سرمایہ کاروں کے لیے بلاشبہ ایک بڑی ریلیف ہو سکت ہے۔حکومت نے پراپرٹی ٹرانزیکشنز پر عائد ٹیکسز میں نرمی لانے کی سمت قدم اٹھائے ہیں مثال کے طور پر (1) سیکشن 236C اور 236K کے تحت ایڈوانس ٹیکس میں کمی کی تجاویز
(2) بعض کیسز میں رہائشی مالکان کے لیے ٹیکس چھوٹ
(3) نان فائلرز کے لیے سختی مگر اوورسیز پاکستانیوں کے لیے سہولت
یہ اقدامات اس لیے کیے جا رہے ہیں تاکہ پراپرٹی کی خرید و فروخت میں رکاوٹیں کم ہوں اور مارکیٹ میں لیکویڈیٹی بڑھے۔
اسی طرح سٹیمپ ڈیوٹی اور رجسٹری اصلاحات کرتے ہوئے پنجاب حکومت نے ایک اہم قانونی قدم اٹھاتے ہوئے۔ جیساکہ شہری اور دیہی علاقوں میں سٹیمپ ڈیوٹی کو یکساں 1 فیصد کر دیا، “Assignable Deed” کا تصور متعارف کرایا اور کم لاگت پر پراپرٹی ٹرانسفر کو ممکن بنایا۔ ان اصلاحات کا مقصد ٹرانزیکشن لاگت کم کرنا، کرپشن میں کمی اور قانونی تحفظ فراہم کرنا ہے ۔ رئیل اسٹیٹ مارکیٹ کیلئے ایک اور اہم اور خوش آئند بات یہ ہے کہ حکومت کی جانب سے ایک جامع رئیل اسٹیٹ ریلیف پیکیج بھی زیر غور ہے، جس میں شامل ہیں:
(1)کم شرح سود پر ہاؤسنگ فنانس (تقریباً 5%)
(2) اوورسیز پاکستانیوں کے لیے آسان سرمایہ کاری پالیسی
(3) اس شعبے کو فروغ دینے کیلئے "ریرا" کی طرز پر رئیل اسٹیٹ ریگولیٹری فریم ورک کی طرز پر تیاری۔
یہ اقدامات مارکیٹ کو دستاویزی بنانے اور بڑے پیمانے پر سرمایہ کاری کو راغب کرنے کے لیے کیے جا رہے ہیں۔ یہ بھی 2026 میں کئے گئے اقدامات کی کا حصہ ہے کہ شفافیت کیلئے پراپرٹی ریکارڈ کی ڈیجیٹلا ئزیشن پر توجہ دی ہے، جس کے تحتلینڈ ریکارڈ کو آن لائن کیا جا رہا ہے،ٹیکس فائلنگ اور ویریفیکیشن کو ڈیجیٹل بنایا گیا اورالیکٹرانک انوائسنگ سسٹم کو وسعت دی گئی۔
یہ اقدامات بدعنوانی کم کرنے اور عوام کا اعتماد بڑھانے میں مددگار ثابت ہو رہے ہیں۔
اگرچہ ان اصلاحات کی رفتار تیز ہوئی ہے، مگر چند مسائل اب بھی موجود ہیں: مثلاً
ٹیکس قوانین میں بار بار تبدیلی سے غیر یقینی صورتحال پیدا ہوتی ہے، عدالتی کیسز (خاص طور پر 7E) عدالتوں میں زیرِ سماعت ہیں، تعمیراتی لاگت میں اضافہ ہوا ہے جبکہ متوسط طبقے کے لیے فنانسنگ کی کمی دیکھنے میں آئی ہے ۔
گویا 2026 میں پاکستان کا رئیل اسٹیٹ سیکٹر ایک اہم تبدیلی کے مرحلے میں داخل ہو چکا ہے جہاں حکومت قانونی اصلاحات، ٹیکس میں نرمی اور ڈیجیٹلائزیشن کے ذریعے اس شعبے کو جدید اور شفاف بنانے کی کوشش کر رہی ہے۔ اگر سیکشن 7E جیسے متنازع قوانین میں واضح فیصلہ ہو جاتا ہے اور مجوزہ ریلیف پیکیج مکمل طور پر نافذ ہو جاتا ہے، تو یہ سال پاکستان کی پراپرٹی مارکیٹ کے لیے “ٹرننگ پوائنٹ” ثابت ہو سکتا ہے۔
The writer of this article, Riaz Hussain, has been associated with the field of journalism for nearly two decades. He lives in Lahore and is currently working as Head of Multimedia at ReNews Pakistan. In addition to real estate, he also writes on political and social issues, human rights, literature and culture. Riaz Hussain is an Old Ravian and holds a Master’s degree in Philosophy from Government College University, Lahore. (Editor)
اگر ہم دیکھیں تو معلوم ہوتا ہے کہ رئیل اسٹیٹ سیکٹر میں سب سے زیادہ زیر بحث قانون سیکشن 7E ہے، جس کے تحت غیر استعمال شدہ یا کرائے پر نہ دی گئی جائیداد پر بھی “فرضی آمدن” Deemed Income کے بنیاد پر ٹیکس عائد کیا جاتا ہے۔ اس قانون کے مطابق جائیداد کی مالیت کا تقریباً 1 فیصد سالانہ ٹیکس لیا جاتا ہے۔ رواں برس اس قانون کو عدالتوں میں چیلنج کیا گیا ہے اور اسے آئینی دائرہ اختیار سے باہر قرار دینے کی بحث جاری ہے۔ مختلف ہائیکورٹس کے بعد یہ معاملہ اب سپریم کورٹ کے آئینی بنچ میں زیر سماعت ہے۔ رئیل اسٹیٹ کمیونٹی کی نظریں اب سپریم کورٹ پر ہیں اور اسے ملک کی اعلیٰ عدالت سے فیصلہ اپنے حق میں ہونے کی قوی امید ہے۔ اسی کے ساتھ حکومت بھی اس پر نظرثانی یا ممکنہ خاتمے پر غور کر رہی ہے، جو سرمایہ کاروں کے لیے بلاشبہ ایک بڑی ریلیف ہو سکت ہے۔حکومت نے پراپرٹی ٹرانزیکشنز پر عائد ٹیکسز میں نرمی لانے کی سمت قدم اٹھائے ہیں مثال کے طور پر (1) سیکشن 236C اور 236K کے تحت ایڈوانس ٹیکس میں کمی کی تجاویز
(2) بعض کیسز میں رہائشی مالکان کے لیے ٹیکس چھوٹ
(3) نان فائلرز کے لیے سختی مگر اوورسیز پاکستانیوں کے لیے سہولت
یہ اقدامات اس لیے کیے جا رہے ہیں تاکہ پراپرٹی کی خرید و فروخت میں رکاوٹیں کم ہوں اور مارکیٹ میں لیکویڈیٹی بڑھے۔
اسی طرح سٹیمپ ڈیوٹی اور رجسٹری اصلاحات کرتے ہوئے پنجاب حکومت نے ایک اہم قانونی قدم اٹھاتے ہوئے۔ جیساکہ شہری اور دیہی علاقوں میں سٹیمپ ڈیوٹی کو یکساں 1 فیصد کر دیا، “Assignable Deed” کا تصور متعارف کرایا اور کم لاگت پر پراپرٹی ٹرانسفر کو ممکن بنایا۔ ان اصلاحات کا مقصد ٹرانزیکشن لاگت کم کرنا، کرپشن میں کمی اور قانونی تحفظ فراہم کرنا ہے ۔ رئیل اسٹیٹ مارکیٹ کیلئے ایک اور اہم اور خوش آئند بات یہ ہے کہ حکومت کی جانب سے ایک جامع رئیل اسٹیٹ ریلیف پیکیج بھی زیر غور ہے، جس میں شامل ہیں:
(1)کم شرح سود پر ہاؤسنگ فنانس (تقریباً 5%)
(2) اوورسیز پاکستانیوں کے لیے آسان سرمایہ کاری پالیسی
(3) اس شعبے کو فروغ دینے کیلئے "ریرا" کی طرز پر رئیل اسٹیٹ ریگولیٹری فریم ورک کی طرز پر تیاری۔
یہ اقدامات مارکیٹ کو دستاویزی بنانے اور بڑے پیمانے پر سرمایہ کاری کو راغب کرنے کے لیے کیے جا رہے ہیں۔ یہ بھی 2026 میں کئے گئے اقدامات کی کا حصہ ہے کہ شفافیت کیلئے پراپرٹی ریکارڈ کی ڈیجیٹلا ئزیشن پر توجہ دی ہے، جس کے تحتلینڈ ریکارڈ کو آن لائن کیا جا رہا ہے،ٹیکس فائلنگ اور ویریفیکیشن کو ڈیجیٹل بنایا گیا اورالیکٹرانک انوائسنگ سسٹم کو وسعت دی گئی۔
یہ اقدامات بدعنوانی کم کرنے اور عوام کا اعتماد بڑھانے میں مددگار ثابت ہو رہے ہیں۔
اگرچہ ان اصلاحات کی رفتار تیز ہوئی ہے، مگر چند مسائل اب بھی موجود ہیں: مثلاً
ٹیکس قوانین میں بار بار تبدیلی سے غیر یقینی صورتحال پیدا ہوتی ہے، عدالتی کیسز (خاص طور پر 7E) عدالتوں میں زیرِ سماعت ہیں، تعمیراتی لاگت میں اضافہ ہوا ہے جبکہ متوسط طبقے کے لیے فنانسنگ کی کمی دیکھنے میں آئی ہے ۔
گویا 2026 میں پاکستان کا رئیل اسٹیٹ سیکٹر ایک اہم تبدیلی کے مرحلے میں داخل ہو چکا ہے جہاں حکومت قانونی اصلاحات، ٹیکس میں نرمی اور ڈیجیٹلائزیشن کے ذریعے اس شعبے کو جدید اور شفاف بنانے کی کوشش کر رہی ہے۔ اگر سیکشن 7E جیسے متنازع قوانین میں واضح فیصلہ ہو جاتا ہے اور مجوزہ ریلیف پیکیج مکمل طور پر نافذ ہو جاتا ہے، تو یہ سال پاکستان کی پراپرٹی مارکیٹ کے لیے “ٹرننگ پوائنٹ” ثابت ہو سکتا ہے۔
اس تحریر کے لکھاری ریاض حسین کم و بیش دو دہائیوں سے شعبہ صحافت سے وابستہ ہیں۔ لاہور میں رہتے ہیں اور آج کل 'ری نیوز پاکستان' میں بطور ہیڈ ملٹی میڈیا کام کر رہے ہیں۔ رئیل اسٹیٹ کے علاوہ سیاسی و سماجی موضوعات، انسانی حقوق اور ادب و ثقافت پر بھی لکھتے ہیں۔ ریاض حسین اولڈ راوین ہیں اور گورنمنٹ کالج لاہور یونیورسٹی سے فلسفے میں ایم اے کر رکھا ہے۔ (ادارہ)