By Riaz Hussain
تحریر: ریاض حسین
Published: May 4, 2026 - 10:12 AM
پبلشنگ کی تاریخ: 4 مئی 2026 - 10:12 AM
حکومت کا REITs کے فروغ سے سرمایہ کاری بڑھانے کا منصوبہ کیسے کامیاب ہوگا؟
حکومت کا REITs کے فروغ سے سرمایہ کاری بڑھانے کا منصوبہ کیسے کامیاب ہوگا؟
پاکستان کا رئیل اسٹیٹ سیکٹر کچھ عرصے سے تقریباً جمود کا شکار رہا، جہاں سرمایہ کاری کے باوجود پیداواری سرگرمیوں میں خاطر...
پاکستان کا رئیل اسٹیٹ سیکٹر کچھ عرصے سے تقریباً جمود کا شکار رہا، جہاں سرمایہ کاری کے باوجود پیداواری سرگرمیوں میں خاطر...
'رئیل اسٹیٹ انویسٹمنٹ ٹرسٹس' دراصل ایک ایسا مالیاتی ڈھانچہ ہے جس کے تحت سرمایہ کار مشترکہ طور پر جائیداد کے منصوبوں میں سرمایہ کاری کرتے ہیں اور حاصل ہونے والی آمدن کو منافع کی صورت میں تقسیم کیا جاتا ہے۔ پاکستان میں سکیورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن آف پاکستان (SECP) پہلے ہی REIT ریگولیشنز متعارف کرا چکا ہے، تاہم اس ماڈل کو عملی طور پر وسعت دینے میں مختلف انتظامی، ٹیکس اور اعتماد سے متعلق رکاوٹیں حائل رہی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ملکی رئیل اسٹیٹ مارکیٹ اب بھی زیادہ تر غیر دستاویزی لین دین، قیاس آرائی اور غیر پیداواری سرمایہ کاری کے گرد گھومتی ہے۔
حکومت کی حالیہ کوششوں میں ٹیکس مراعات، قواعد و ضوابط میں نرمی اور سرمایہ کار دوست پالیسیوں کا عندیہ شامل ہے، جو بظاہر اس شعبے میں نئی جان ڈالنے کی صلاحیت رکھتی ہیں۔ تاہم ماضی کے تجربات یہ بھی ظاہر کرتے ہیں کہ صرف مراعاتی پیکیجز کافی نہیں ہوتے، جب تک کہ ان کے ساتھ مضبوط قانونی نفاذ، شفاف نگرانی اور تیز رفتار تنازعات کے حل کا نظام موجود نہ ہو۔ REITs کی کامیابی کا انحصار اس بات پر ہے کہ آیا سرمایہ کاروں کو اپنے سرمائے کے تحفظ، منافع کی شفاف تقسیم اور ریگولیٹری استحکام پر اعتماد حاصل ہوتا ہے یا نہیں۔
قانونی نقطہ نظر سے دیکھا جائے تو REITs کا مؤثر نفاذ پاکستان کے پراپرٹی قوانین، ٹیکس نظام اور مالیاتی ریگولیشنز کے درمیان ہم آہنگی کا متقاضی ہے۔ اگر ان قوانین میں تضاد یا ابہام برقرار رہا تو نہ صرف سرمایہ کاروں کا اعتماد متاثر ہوگا بلکہ ممکنہ طور پر تنازعات اور قانونی پیچیدگیاں بھی بڑھ سکتی ہیں۔ اس لیے ضروری ہے کہ ایس ای سی پی ، فیڈرل بورڈ آف ریونیو اور صوبائی لینڈ اتھارٹیز کے درمیان ایک مربوط فریم ورک تشکیل دیا جائے، جو نہ صرف پالیسی کے تسلسل کو یقینی بنائے بلکہ عملدرآمد میں رکاوٹوں کو بھی کم کرے۔
مزید برآں، REITs کے فروغ کے ساتھ ساتھ یہ پہلو بھی اہم ہے کہ کہیں یہ نظام محض بڑے سرمایہ کاروں کے لیے فائدہ مند نہ بن جائے۔ پالیسی سازوں کو اس بات کو یقینی بنانا ہوگا کہ چھوٹے سرمایہ کاروں کو بھی اس میں برابر کے مواقع ملیں، تاکہ سرمایہ کاری کا دائرہ وسیع ہو اور معیشت کے مختلف طبقات اس سے مستفید ہو سکیں۔
یہ امر بھی قابلِ غور ہے کہ عالمی سطح پر REITs نے شفافیت، ٹیکس نیوٹرلٹی اور ریگولیٹری استحکام کے باعث نمایاں کامیابی حاصل کی ہے۔ پاکستان اگر ان اصولوں کو مقامی تناظر میں مؤثر انداز میں نافذ کرنے میں کامیاب ہو جاتا ہے تو نہ صرف رئیل اسٹیٹ سیکٹر میں جمود ٹوٹ سکتا ہے بلکہ یہ شعبہ معیشت کی مجموعی ترقی میں بھی کلیدی کردار ادا کر سکتا ہے۔
بالآخر، حکومت کی یہ کوشش ایک مثبت سمت کی نشاندہی کرتی ہے، مگر اس کی کامیابی کا دارومدار صرف اعلانات پر نہیں بلکہ ٹھوس قانونی اصلاحات، ادارہ جاتی ہم آہنگی اور شفاف عملدرآمد پر ہوگا۔ اگر یہ عناصر یکجا ہو جائیں تو REITs واقعی پاکستان کے رئیل اسٹیٹ سیکٹر میں ایک نئے دور کا آغاز ثابت ہو سکتے ہیں، بصورت دیگر یہ بھی ماضی کی طرح ایک ادھورا خواب بن کر رہ جائے گا۔
The writer of this article, Riaz Hussain, has been associated with the field of journalism for nearly two decades. He lives in Lahore and is currently working as Head of Multimedia at ReNews Pakistan. In addition to real estate, he also writes on political and social issues, human rights, literature and culture. Riaz Hussain is an Old Ravian and holds a Master’s degree in Philosophy from Government College University, Lahore. (Editor)
'رئیل اسٹیٹ انویسٹمنٹ ٹرسٹس' دراصل ایک ایسا مالیاتی ڈھانچہ ہے جس کے تحت سرمایہ کار مشترکہ طور پر جائیداد کے منصوبوں میں سرمایہ کاری کرتے ہیں اور حاصل ہونے والی آمدن کو منافع کی صورت میں تقسیم کیا جاتا ہے۔ پاکستان میں سکیورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن آف پاکستان (SECP) پہلے ہی REIT ریگولیشنز متعارف کرا چکا ہے، تاہم اس ماڈل کو عملی طور پر وسعت دینے میں مختلف انتظامی، ٹیکس اور اعتماد سے متعلق رکاوٹیں حائل رہی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ملکی رئیل اسٹیٹ مارکیٹ اب بھی زیادہ تر غیر دستاویزی لین دین، قیاس آرائی اور غیر پیداواری سرمایہ کاری کے گرد گھومتی ہے۔
حکومت کی حالیہ کوششوں میں ٹیکس مراعات، قواعد و ضوابط میں نرمی اور سرمایہ کار دوست پالیسیوں کا عندیہ شامل ہے، جو بظاہر اس شعبے میں نئی جان ڈالنے کی صلاحیت رکھتی ہیں۔ تاہم ماضی کے تجربات یہ بھی ظاہر کرتے ہیں کہ صرف مراعاتی پیکیجز کافی نہیں ہوتے، جب تک کہ ان کے ساتھ مضبوط قانونی نفاذ، شفاف نگرانی اور تیز رفتار تنازعات کے حل کا نظام موجود نہ ہو۔ REITs کی کامیابی کا انحصار اس بات پر ہے کہ آیا سرمایہ کاروں کو اپنے سرمائے کے تحفظ، منافع کی شفاف تقسیم اور ریگولیٹری استحکام پر اعتماد حاصل ہوتا ہے یا نہیں۔
قانونی نقطہ نظر سے دیکھا جائے تو REITs کا مؤثر نفاذ پاکستان کے پراپرٹی قوانین، ٹیکس نظام اور مالیاتی ریگولیشنز کے درمیان ہم آہنگی کا متقاضی ہے۔ اگر ان قوانین میں تضاد یا ابہام برقرار رہا تو نہ صرف سرمایہ کاروں کا اعتماد متاثر ہوگا بلکہ ممکنہ طور پر تنازعات اور قانونی پیچیدگیاں بھی بڑھ سکتی ہیں۔ اس لیے ضروری ہے کہ ایس ای سی پی ، فیڈرل بورڈ آف ریونیو اور صوبائی لینڈ اتھارٹیز کے درمیان ایک مربوط فریم ورک تشکیل دیا جائے، جو نہ صرف پالیسی کے تسلسل کو یقینی بنائے بلکہ عملدرآمد میں رکاوٹوں کو بھی کم کرے۔
مزید برآں، REITs کے فروغ کے ساتھ ساتھ یہ پہلو بھی اہم ہے کہ کہیں یہ نظام محض بڑے سرمایہ کاروں کے لیے فائدہ مند نہ بن جائے۔ پالیسی سازوں کو اس بات کو یقینی بنانا ہوگا کہ چھوٹے سرمایہ کاروں کو بھی اس میں برابر کے مواقع ملیں، تاکہ سرمایہ کاری کا دائرہ وسیع ہو اور معیشت کے مختلف طبقات اس سے مستفید ہو سکیں۔
یہ امر بھی قابلِ غور ہے کہ عالمی سطح پر REITs نے شفافیت، ٹیکس نیوٹرلٹی اور ریگولیٹری استحکام کے باعث نمایاں کامیابی حاصل کی ہے۔ پاکستان اگر ان اصولوں کو مقامی تناظر میں مؤثر انداز میں نافذ کرنے میں کامیاب ہو جاتا ہے تو نہ صرف رئیل اسٹیٹ سیکٹر میں جمود ٹوٹ سکتا ہے بلکہ یہ شعبہ معیشت کی مجموعی ترقی میں بھی کلیدی کردار ادا کر سکتا ہے۔
بالآخر، حکومت کی یہ کوشش ایک مثبت سمت کی نشاندہی کرتی ہے، مگر اس کی کامیابی کا دارومدار صرف اعلانات پر نہیں بلکہ ٹھوس قانونی اصلاحات، ادارہ جاتی ہم آہنگی اور شفاف عملدرآمد پر ہوگا۔ اگر یہ عناصر یکجا ہو جائیں تو REITs واقعی پاکستان کے رئیل اسٹیٹ سیکٹر میں ایک نئے دور کا آغاز ثابت ہو سکتے ہیں، بصورت دیگر یہ بھی ماضی کی طرح ایک ادھورا خواب بن کر رہ جائے گا۔
اس تحریر کے لکھاری ریاض حسین کم و بیش دو دہائیوں سے شعبہ صحافت سے وابستہ ہیں۔ لاہور میں رہتے ہیں اور آج کل 'ری نیوز پاکستان' میں بطور ہیڈ ملٹی میڈیا کام کر رہے ہیں۔ رئیل اسٹیٹ کے علاوہ سیاسی و سماجی موضوعات، انسانی حقوق اور ادب و ثقافت پر بھی لکھتے ہیں۔ ریاض حسین اولڈ راوین ہیں اور گورنمنٹ کالج لاہور یونیورسٹی سے فلسفے میں ایم اے کر رکھا ہے۔ (ادارہ)