تحریر: سید شایان
کل مطالعے کا دورانیہ: 17 منٹ 18 سیکنڈ (اب تک 7 قارئین نے یہ اردو مضمون پڑھا ہے )
[انگریزی ورژن کے اعداد و شمار الگ سے ریکارڈ کیے جا رہے ہیں]
ماڈل ٹاؤن لاہور ابتدا میں اس سوسائٹی کو دریائے راوی کے پار شاہدرہ میں آباد کرنے کا منصوبہ تھا
ماڈل ٹاؤن لاہور کے لیے زمین کا انتخاب ابتدا میں اُس مقام پر نہیں کیا گیا تھا جہاں آج یہ بستی آباد ہے۔ دیوان کھیم چند کا پمفلٹ Suburban Town of Lahore (1919) اگرچہ ایک جدید رہائشی سوسائٹی کے قیام کا پہلا تحریری تصور تھا، لیکن معتبر تحقیق کے مطابق اس منصوبے کے لیے ابتدا میں دریائے راوی کے پار، شاہدرہ کے نزدیک ایک زمینی قطعہ پر غور کیا گیا تھا۔ جو 1000 ایکڑ پر مشتمل تھا اور سیٹھ ساکھی شاہ کی ملکیت تھی۔ یہ جگہ ریلوے لائن اور شاہدرہ روڈ کے قریب ہونے کے باعث پرکشش سمجھی گئی۔
سوسائٹی کے نمائندوں نے اس کے لئے فی ایکڑ 350 سے 400 روپے کی پیشکش بھی کی، مگر سیٹھ ساکھی شاہ نے 600 روپے فی ایکڑ مانگے، اور بات آگے نہ بڑھ سکی۔
اس اثنا میں سر گنگا رام کی تجویز پر کیے گئے topographical survey سے معلوم ہوا کہ یہ زمین دریائے راوی کے سیلابی دائرے (Flood Plain) میں آتی ہے اور ماضی میں کئی بار زیرِ آب آ چکی ہے۔ رپورٹ میں اس کی
“soil formation unstable”
قرار دی گئی، لہٰذا سوسائٹی نے اسے رہائشی منصوبے کے لیے ناموزوں سمجھ کر رد کر دیا
اُس زمانے میں دریائے راوی کا شمالی کنارہ اور شاہدرہ کے آس پاس کا علاقہ عمومی طور پر “upland terrace” سمجھا جاتا تھا، یعنی یہاں زمین نسبتاً اونچی اور ریتیلی تھی مگر پانی کی کمی اور سیلابی دائرے کے قریب ہونے کے باعث وہاں تعمیرات کے لیے پائیدار بنیادیں ممکن نہیں تھیں۔ مزید یہ کہ دریا کے بہاؤ کی مسلسل تبدیلی کے باعث یہ علاقہ سیلابی خطرے (flood spill risk) کی زد میں رہتا تھا، جیسا کہ 1908 اور 1917 کے بڑے سیلابوں میں واضح طور پر دیکھا گیا۔
ان عوامل کے باعث ماڈل ٹاؤن منصوبے کے انجینئروں اور منتظمین نے اس علاقے میں بستی بسانے کا ارادہ ترک کر دیا اور متفقہ طور پر یہ قرار دیا کہ دریائے راوی کا سیلابی دائرہ (river bed) طویل المدت رہائشی منصوبوں کے لیے کسی طور پر موزوں نہیں۔
شاہدرہ کے بعد بعض ماہرین نے ماڈل ٹاؤن کے لیے لاہور کے شمال مشرقی حصے باغبانپورہ، شالامار باغ اور گجرپورہ کے درمیانی علاقے کو موزوں قرار دیا۔ اس خطے کی خصوصیت یہ تھی کہ یہاں تاریخی عمارات، سرسبز کھیت، نہریں اور ریلوے اسٹیشن تک آسان رسائی موجود تھی۔
1920 تک باغبانپورہ لاہور کی میونسپل حدود سے باہر واقع تھا اور اپنی نوعیت میں ایک نیم دیہی و نیم شہری بستی سمجھا جاتا تھا۔ شالامار باغ کے اردگرد کئی چھوٹے دیہات آباد تھے، جیسے باغبانپورہ، داروغہ والا، گجرپورہ اور بھوگیوال۔ یہاں کے زیادہ تر باشندے باغبانی، پھلوں کی کاشت اور سبزیوں کی پیداوار سے وابستہ تھے۔ راوی کے قریب ہونے کے باعث زمین زرخیز تھی اور نہری آبپاشی سے سیراب رہتی تھی۔
شہری ترقی کے لحاظ سے اس زمانے تک لاہور ریلوے اسٹیشن (1862) قائم ہو چکا تھا، جس نے شہر اور نواحی علاقوں کے درمیان آمدورفت کو آسان بنا دیا۔ ریلوے لائن کے اردگرد چھوٹی فیکٹریاں اور ورکشاپس وجود میں آ رہی تھیں، مگر اس پورے خطے میں اب بھی کوئی منظم رہائشی منصوبہ یا شہری سوسائٹی موجود نہیں تھی۔ سڑکیں کچی، آبادیاں بکھری ہوئی، اور ماحول مکمل طور پر زرعی اور نیم شہری رنگ لیے ہوئے تھا
تاہم جب زمین کی عملی خریداری کا مرحلہ آیا تو مقامی زمینداروں نے غیرمعمولی قیمتیں طلب کیں اور ملکیتی تنازعات بھی سامنے آئے۔ اگرچہ سوسائٹی کے کچھ اراکین نے مغلپورہ اور داروغہ والا کے علاقوں میں متبادل زمین پر غور کیا، مگر ریلوے لائنوں اور صنعتی شور کے باعث انہیں بھی “صحت مند رہائشی بستی” کے لیے ناموزوں قرار دے دیا گیا
اسی عشرے کے آغاز میں، سن 1920 میں، لاہور کے جنوبی حصے میں ایک نئی نہر Lower Bari Doab Canal تعمیر ہوئی، جس نے شہر کے اردگرد کی زمینوں کی تقدیر بدل دی۔ دیوان کھیم چند، سر گنگا رام اور اُن کے رفقا، جو ایک جدید رہائشی بستی کے لیے مناسب زمین کی تلاش میں تھے، فطری طور پر اس نئی نہر کے کنارے کے علاقے کی طرف متوجہ ہوئے۔ رکھ کوٹ لکھپت کے جنگلات اور اس کے نواحی دیہات کا تفصیلی سروے کیا گیا، اور جلد ہی یہ واضح ہو گیا کہ یہی خطہ لاہور کی آئندہ شہری توسیع کے لیے سب سے موزوں مقام ہے۔
یہ زمین نہ صرف ہموار اور زرخیز تھی بلکہ نہر کے باعث مستقل پانی کی فراہمی اور سیلاب سے تحفظ بھی میسر تھا۔ انجینئرنگ کے نقطۂ نظر سے یہ علاقہ شہری منصوبہ بندی کے لیے ایک مثالی پس منظر رکھتا تھا۔ چنانچہ 1921 کے اواخر میں ماڈل ٹاؤن سوسائٹی کے بانیان نے فیصلہ کیا کہ یہی وہ مقام ہے جہاں لاہور کا پہلا جدید، منظم اور خودمختار رہائشی قصبہ قائم کیا جا سکتا ہے۔
نومبر 1921 میں سوسائٹی کی باقاعدہ رجسٹریشن کے بعد دیوان کھیم چند کی سربراہی میں سوسائٹی کی انتظامی کمیٹی نے لاہور کے مضافاتی دیہات، خصوصاً ستو کٹل، کالا کھتری اور چوپڑہ کے زمینداروں سے زمین کی خریداری کے سلسلے میں باضابطہ گفت و شنید کا آغاز کیا۔ اسی دوران رکھ کوٹ لکھپت کے تاریخی جنگل کی زمین کے حصول کے لیے پنجاب کی برطانوی حکومت سے بھی مذاکرات کیے گئے۔ ان مذاکرات کے نتیجے میں 1922 سے 1923 کے دوران تقریباً 1,700 ایکڑ زمین حاصل کی گئی، جبکہ بقیہ رقبہ اگلے سال مکمل طور پر سوسائٹی کے نام منتقل ہوا۔ یہ زمین جزوی طور پر لیز اور جزوی طور پر براہِ راست خریداری کے ذریعے سوسائٹی کی ملکیت میں آئی۔
۔۔۔ باقی آئندہ قسط میں
( یہ مضمون ماڈل ٹاؤن لاہور پر میری زیرِ طبع کتاب
The Birth of Model Town in Colonial Lahore
“برطانوی لاہور میں ماڈل ٹاؤن کا جنم” سے اخذ شدہ ہے۔
یہ کتاب بہت جلد رئیل اسٹیٹ تھنک ٹینک اور ویب پورٹل SyedShayan.com پر دستیاب ہو گی۔ اسی موضوع پر ایک جامع ڈاکومنٹری بھی ریفرنس کے لیے تیاری کے آخری مراحل میں ہے۔
اگر کوئی فرد یا ادارہ تاریخی دستاویزات، تحقیقی مواد یا تصویری ریکارڈ شیئر کرنا چاہے تو میں انہیں خوش آمدید کہوں گا، یہ مواد تحقیقی استناد اور علمی استفادے کے لیے نہایت قیمتی ہوگا۔
ماڈل ٹاؤن کے موجودہ یا سابقہ رہائشی حضرات اگر اس تاریخی کتاب یا ڈاکومنٹری کے لیے اپنی کوئی یاد، تصویر یا تاثرات شیئر کرانا چاہیں تو براہ کرم رابطہ کریں:
mail@syedshayan.com