تحریر: سید شایان
کل مطالعے کا دورانیہ: 5 منٹ 31 سیکنڈ (اب تک 33 قارئین نے یہ اردو مضمون پڑھا ہے )
[انگریزی ورژن کے اعداد و شمار الگ سے ریکارڈ کیے جا رہے ہیں]
کیا اسرائیل نیتن یاہو کے جنگی جرائم کا خمیازہ بھگت رہا ہے؟
اسرائیلی وزیرِاعظم بینجمن نیتن یاہو (Benjamin Netanyahu) حالیہ برسوں میں دنیا کے سب سے متنازع اور ناپسندیدہ سیاسی رہنماؤں میں شمار ہونے لگے ہیں۔ انہیں جرمن آمر ایڈولف ہٹلر سے مشابہ قرار دیا جا رہا ہے۔ یہ محض عوامی تاثر نہیں، بلکہ بین الاقوامی اداروں جیسے کہ امریکی تھنک ٹینک Pew Research Center اور Israel Democracy Institute کے سروے اس بات کی تصدیق کرتے ہیں کہ ان کی قیادت پر نہ صرف عالمی سطح پر، بلکہ خود اسرائیل کے اندر بھی اعتماد میں شدید کمی آئی ہے۔
حالانکہ نیتن یاہو مجموعی طور پر اب تک تقریباً 17 سال اسرائیل کے وزیرِاعظم کے طور پر خدمات انجام دے چکے ہیں۔ ان کا پہلا دور 1996 سے 1999 تک رہا، دوسرا طویل دور 2009 سے 2021 تک جاری رہا، اور تیسرا دور دسمبر 2022 سے اب تک جاری ہے۔ اس طرح وہ اسرائیل کی تاریخ کے سب سے طویل عرصے تک وزیرِاعظم رہنے والے رہنما بن چکے ہیں۔
اکتوبر 2023 کے حماس حملے سے قبل نیتن یاہو کو اسرائیل کا سب سے بڑا سیکیورٹی ماہر تصور کیا جاتا تھا، لیکن آج خود اسرائیل کے شہری ان کو مُلک کے لیے سب سے بڑا سیکیورٹی رسک قرار دے رہے ہیں۔
جب اسرائیلی حکومت نے حماس کے خلاف غزہ میں جوابی کارروائیاں شروع کیں، تو اقوامِ متحدہ اور انسانی حقوق کی عالمی تنظیموں نے انہیں حد سے زیادہ پُرتشدد اور بین الاقوامی قوانین کے منافی قرار دیا۔ ان کارروائیوں کے نتیجے میں غزہ میں ہزاروں شہری جاں بحق ہوئے، شہر کا بنیادی ڈھانچہ تباہ ہوگیا، اور خوراک و پانی جیسی بنیادی سہولتوں تک رسائی بھی ممکن نہ رہی۔ اقوامِ متحدہ کے سیکریٹری جنرل نے ان اقدامات کو غیر ضروری اور افسوسناک قرار دیا، جب کہ ہیومن رائٹس واچ اور ایمنسٹی انٹرنیشنل نے انہیں اجتماعی سزا کے مترادف قرار دیا۔
اگرچہ اس صورتحال میں اکثریتی یہودی آبادی اسرائیلی حکومت کی کارروائیوں کی حمایت کر رہی تھی، لیکن کئی یہودی شہریوں اور بائیں بازو کے گروہوں نے ان پالیسیوں پر شدید تنقید کی۔ “پیس ناؤ” (Peace Now)، “اسٹینڈنگ ٹوگیدر” (Standing Together)، اور دیگر انسانی حقوق کے یہودی گروہوں نے تل ابیب، حیفہ، اور بیت شیمش میں مظاہرے کیے اور غزہ میں پیدا ہونے والے انسانی بحران پر آواز بلند کی۔ “اسرائیل ڈیموکریسی انسٹیٹیوٹ” کے ایک حالیہ سروے کے مطابق، بائیں بازو کے 73 فیصد یہودی اسرائیلی دو ریاستی حل کی حمایت کرتے ہیں اور فلسطینیوں کے بنیادی انسانی حقوق کو تسلیم کرتے ہیں۔
2025 میں کئے گئے ایک عالمی سروے کے مطابق جسے Pew Research Center نے ترتیب دیا تھا، نیتن یاہو کے بارے میں دنیا کے 24 ممالک میں رائے لی گئی، جن میں امریکہ، ترکی، فرانس، جرمنی، انڈونیشیا، جنوبی افریقہ اور برازیل جیسے ممالک شامل تھے۔ ان میں بیشتر عوام نے کہا کہ نیتن یاہو عالمی معاملات میں درست فیصلے کرنے کے اہل نہیں ہیں۔ ترکی میں یہ شرح 93 فیصد تک جا پہنچی۔ امریکہ میں 53 فیصد بالغ شہریوں نے اسرائیل کو ناپسندیدہ قرار دیا، اور بڑی تعداد نے نیتن یاہو کو غیر قابلِ اعتماد لیڈر تسلیم کیا۔
اس کے برعکس اگر اسرائیل کے اندر دیکھا جائے، تو عوامی ناراضگی کی شدت کہیں زیادہ نظر آتی ہے۔ مارچ 2025 میں اسرائیل کے انتہائی مؤثر تھنک ٹینک Israel Democracy Institute جو IDI کے نام سے بھی معروف ہے کے ایک قومی سروے میں 70 فیصد اسرائیلی شہریوں نے واضح طور پر کہا کہ نیتن یاہو کو وزیراعظم کے عہدے سے مستعفی ہو جانا چاہیے۔ اسی سروے میں 87 فیصد شہریوں نے انہیں 7 اکتوبر 2023 کے سیکیورٹی فیلئر کا براہِ راست ذمہ دار قرار دیا۔ اور محض 15 فیصد لوگ یہ چاہتے ہیں کہ وہ جنگ کے بعد بھی وزیراعظم رہیں۔
خبر رساں ادارے Reuters کے مطابق نیتن یاہو کی مقبولیت پچھلے ایک سال میں مسلسل گر رہی ہے۔ 2024 کے وسط سے ان کی approval rating محض 20 سے 35 فیصد کے درمیان رہی، جبکہ disapproval کی شرح 61 سے 71 فیصد تک پہنچ گئی۔
اس شدید عوامی ردعمل کی کئی وجوہات ہیں۔ غزہ پر حملوں کے نتیجے میں ہونے والی ہزاروں فلسطینی ہلاکتوں نے عالمی سطح پر غم و غصہ پیدا کیا۔ اقوامِ متحدہ، ایمنسٹی انٹرنیشنل اور ہیومن رائٹس واچ جیسی تنظیموں نے ان حملوں کو انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزی قرار دیا ہے۔ داخلی طور پر، عدالتی نظام کو کمزور کرنے کی کوشش، بدعنوانی کے الزامات اور مسلسل جنگی رویہ عوامی ناراضی کا سبب بنے ہیں۔
یہ اعداد و شمار ظاہر کرتے ہیں کہ نیتن یاہو کی شبیہ صرف مسلم دنیا تک محدود نہیں بلکہ ان کے اپنے ملک میں بھی ان کے اقدامات کو شدید تنقید کا سامنا ہے۔
بین الاقوامی سیاست میں ایک اہم موڑ اس وقت آیا جب 21 نومبر 2024 کو بین الاقوامی فوجداری عدالت (International Criminal Court – ICC) نے اسرائیلی وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو اور سابق وزیر دفاع یوآو گیلنٹ کے خلاف باقاعدہ گرفتاری کے وارنٹس جاری کیے۔ یہ وارنٹس غزہ کی جنگ کے دوران اسرائیلی حکومت کے مبینہ اقدامات پر مبنی ہیں، جن میں جنگی جرائم اور انسانیت کے خلاف جرائم شامل ہیں۔ الزامات میں بھوک کو بطور ہتھیار استعمال کرنا، شہری آبادی کو نشانہ بنانا، غیر مسلح افراد کا قتلِ عام، اور نسلی بنیادوں پر غیر انسانی سلوک جیسے سنگین جرائم شامل ہیں۔
یہ پہلا موقع ہے کہ کسی مغربی حمایت یافتہ جمہوری ریاست کے سربراہ کو بین الاقوامی عدالت نے اس نوعیت کے الزامات میں طلب کیا ہے۔ ماضی میں ایسی عدالتی کارروائیاں عموماً افریقی یا کمزور ریاستوں تک محدود رہتی تھیں، اس لیے اسے ایک تاریخی پیش رفت سمجھا جا رہا ہے۔
ان وارنٹس کے بعد نیتن یاہو ان 124 ممالک میں سفر نہیں کر سکتے جو ICC کے رکن ہیں، جن میں برطانیہ، فرانس، جرمنی، کینیڈا، جاپان اور برازیل جیسے بااثر ممالک شامل ہیں۔ ان پر قانونی ذمہ داری ہے کہ اگر نیتن یاہو ان کی حدود میں داخل ہوں تو انہیں گرفتار کر کے عدالت کے حوالے کریں۔ تاہم چونکہ امریکہ، چین، روس اور اسرائیل ICC کے رکن نہیں ہیں، اس لیے یہ وارنٹس وہاں نافذ نہیں ہوتے، اور نیتن یاہو فی الحال اسرائیل کے اندر قانونی تحفظ رکھتے ہیں۔
اس فیصلے نے عالمی سطح پر شدید ردعمل کو جنم دیا ہے۔ انسانی حقوق کی تنظیموں اور بین الاقوامی میڈیا نے اسے انصاف کی سمت ایک تاریخی پیش رفت قرار دیا، جبکہ امریکہ، برطانیہ اور بعض یورپی ممالک نے اس پر تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے اسے اسرائیل کے خلاف ممکنہ جانبداری سے تعبیر کیا ہے۔
اگرچہ بین الاقوامی قانون نے اب تک نیتن یاہو کے اقدامات کو نسل کشی قرار نہیں دیا، مگر غزہ میں ہزاروں بچوں اور شہریوں کا قتل، پانی اور خوراک کی بندش، اور صحت کے نظام کی تباہی اخلاقی طور پر کسی بھی نسل کشی سے کم نہیں۔ ہٹلر نے جو کچھ یہودیوں کے ساتھ کیا وہ قانونی طور پر نسل کشی تسلیم کیا گیا، اور اگر دنیا نیتن یاہو کے مظالم پر خاموش رہی تو تاریخ ایک دن خود فیصلہ کرے گی کہ نسل کشی صرف عدالتوں سے نہیں، مظلوموں کی چیخوں سے بھی پہچانی جاتی ہے۔
بینجمن نیتن یاہو کی سیاسی حکمتِ عملی اور پالیسیاں دنیا بھر میں شدید بحث اور تنازعات کا باعث بنی ہیں۔ ان پر خاص طور پر فلسطین، غزہ، اور مغربی کنارے میں کی جانے والی کارروائیوں کے حوالے سے سخت تنقید کی جاتی ہے۔ انسانی حقوق کی تنظیمیں ان کی پالیسیوں کو جابرانہ، ناانصافی پر مبنی، اور بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی قرار دیتی ہیں۔ ان کے ناقدین انہیں ایک ایسا رہنما سمجھتے ہیں جس کی ترجیحات میں امن یا انسانی فلاح شامل نہیں، بلکہ وہ طاقت، قبضے، اور قوم پرستی کو ترجیح دیتے ہیں۔ دوسری طرف، ان کے حامی انہیں اسرائیل کی سلامتی کا ضامن اور ایک مضبوط قومی رہنما کہتے ہیں۔
حالیہ برسوں میں نیتن یاہو کا موازنہ ایڈولف ہٹلر سے کیا جا رہا ہے، حالانکہ دونوں کی نوعیت میں فرق ہے۔ ہٹلر نے نسل پرستی کی بنیاد پر منظم نسل کشی کی، جس میں 60 لاکھ سے زائد یہودی اور دیگر اقلیتیں ماری گئیں ۔ نیتن یاہو پر غزہ پر حملوں، فوجی محاصرے، اور انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں پر شدید تنقید ہوئی ہے اور ICC نے ان پر جنگی جرائم کے وارنٹس جاری کیے ہیں۔ تاہم، قانونی طور پر انہیں نسل کشی کا مجرم قرار نہیں دیا جا سکا کیونکہ مقدمے کی سماعت عرصہ دراز سے رُکی ہوئی ہے۔
اپریل 2025 میں جب ایران نے اسرائیل کے خلاف ایک غیر معمولی جوابی کارروائی کی، تو یہ صرف ایک عسکری ردعمل نہیں تھا، بلکہ ایک اسٹریٹجک پیغام بھی تھا: “ہم خاموش نہیں بیٹھیں گے۔” ایران نے “فتح” ہائپرسونک میزائل، “خرمشہر” بیلسٹک میزائل، اور درجنوں جدید ڈرونز کے ذریعے تل ابیب، حیفہ اور عسقلان جیسے اہم اسرائیلی شہروں کو نشانہ بنایا، جس کے نتیجے میں نہ صرف فوجی تنصیبات بلکہ شہری انفراسٹرکچر بھی بری طرح متاثر ہوا۔ پاور گرڈز تباہ ہوئے، ہوائی اڈے معطل ہوئے، اور روزمرہ زندگی کا نظام مفلوج ہو گیا۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ اس تصادم سے پہلے کئی اسرائیلی بزرگ رہنما اور پالیسی تھنک ٹینکس بارہا خبردار کر چکے تھے کہ ایران سے بلاوجہ محاذ آرائی اسرائیل کے لیے تباہ کن ثابت ہو سکتی ہے۔ ان کا مؤقف تھا: “نہ ہم ایران کو مٹا سکتے ہیں، نہ وہ ہمیں، تو پھر اس جنگ کا حاصل کیا؟” لیکن جب ایران نے کچھ دیر خاموشی کے بعد اچانک شدید حملہ کیا، تو اسرائیلی قیادت نہ صرف اس کی شدت کا اندازہ نہ لگا سکی بلکہ عوامی سطح پر اس کی ساکھ بھی بری طرح مجروح ہوئی۔