Home
پاکستان کی نئی انتظامی تقسیم کیسے ممکن ہے؟

پاکستان کی نئی انتظامی تقسیم کیسے ممکن ہے؟

🌴 اگر پنجاب کو 6 صوبوں میں تقسیم کیا جائے تو ؟؟
اور پاکستان کو مجموعی طور پر 22 صوبوں میں تقسیم کیا جاۓ تو  ؟؟

▫️ نئے صوبوں کی تشکیل سیاسی، لسانی یا نسلی بنیادوں کے بجائے آبادی، معاشی کلسٹرز اور زمینی فاصلوں کو سامنے رکھ کر کی جائے تو اس سے حکومت اور  عوام کے درمیان دوری کم ہو گی، علاقائی معیشتیں مضبوط ہوں گی اور قومی یکجہتی بھی بہتر ہو سکتی ہے۔

▫️ جب تک معیاری ہسپتال، کالج، یونیورسٹیاں اور روزگار کے مواقع ہر علاقے میں دستیاب نہیں ہوں گے، لوگ بہتر سہولتوں کی تلاش میں بڑے شہروں کا رخ کرتے رہیں گے۔ نتیجتاً بڑے شہر آبادی کے غیر معمولی دباؤ اور انتظامی مشکلات کا شکار رہیں گے، جبکہ دور دراز علاقے ترقی اور بنیادی سہولتوں سے محروم رہیں گے۔

▫️افغانستان رقبے میں پاکستان سے نسبتاً چھوٹا ہے، مگر وہاں 34 صوبے ہیں، جبکہ پاکستان صرف 4 صوبوں میں تقسیم ہے۔ ہمارے ہاں نئے صوبوں کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ سیاست دانوں کی ہوسِ اقتدار ہے، جو بہتر انتظام اور عوامی سہولت کے بجائے بڑے صوبوں پر اپنی حکمرانی اور اثر و رسوخ برقرار رکھنا چاہتے ہیں

موضوع: پاکستان کی نئی انتظامی تقسیم کیسے ممکن ہے؟  | قسط 1
عنوان: پنجاب کو کتنے صوبوں میں تقسیم کیا جانا چاہیے؟

🔺 قومی معاملات میں اختلافِ رائے فطری ہے، مگر مستقل انتشار حل نہیں۔ عوام، سیاسی جماعتوں اور ریاستی اداروں کی ذمہ داری ہے کہ کھلی بحث کے بعد واضح قومی اتفاقِ رائے تک پہنچیں۔

تحریر و تحقیق: سید شایان

میں گزشتہ کچھ عرصے سے پاکستان کے آئی پی پیز اور توانائی کے بحران پر تحقیقی سلسلہ شائع کر رہا ہوں۔ تاہم نئے صوبوں کی بحث چونکہ ہمارے تھنک ٹینک کے بنیادی دائرۂ کار، یعنی Urban and Regional Development اور Governance، سے براہِ راست متعلق ہے، اس لیے آئی پی پیز کا سلسلہ عارضی طور پر روک کر اس اہم قومی موضوع پر میں اپنی راۓ قارئین کے سامنے پیش کر رہا ہوں۔

🔳 پاکستان میں ان دنوں نئے صوبوں کے قیام سے متعلق مختلف تجاویز زیرِ بحث ہیں۔ اسی تناظر میں ہمارے تھنک ٹینک نے بھی ایک فکری مشق (Academic Debate) کے طور پر صوبہ پنجاب کی ممکنہ انتظامی تقسیم کا نقشہ اور تجزیہ تیار کیا ہے۔ یہ کسی حکومتی منصوبے یا سرکاری تجویز کی نمائندگی نہیں کرتا، بلکہ انتظامی اصلاحات پر جاری علمی بحث میں ایک نیا تحقیقی نقطۂ نظر پیش کرتا ہے۔

آج پاکستان کی آبادی 26 کروڑ تک جا پہنچی ہے۔ صرف صوبہ پنجاب کی آبادی 12 کروڑ سے زیادہ ہے، جو دنیا کے کئی بڑے ممالک کی آبادی سے بھی زیادہ ہے۔ اسی طرح بلوچستان رقبے کے لحاظ سے ملک کا 44 فیصد حصہ ہے، مگر اس کا انتظامی مرکز، کوئٹہ، بعض علاقوں سے سینکڑوں کلومیٹر دور ہے۔

پاکستان میں نئے صوبوں کی تشکیل ایک طویل عرصے سے قومی اور عوامی بحث کا موضوع رہی ہے۔ اس کے حامیوں کا مؤقف ہے کہ چھوٹے صوبوں سے وسائل کی منصفانہ تقسیم، بہتر گورننس، عوامی خدمات تک آسان رسائی اور دور دراز علاقوں کی ترقی ممکن ہوگی۔ اس سے لاہور اور کراچی جیسے بڑے شہروں پر آبادی اور انتظامی دباؤ بھی کم ہو سکتا ہے۔

نئے صوبوں کے مخالفین کا مؤقف ہے کہ اس عمل میں آئینی اور سیاسی رکاوٹیں، لسانی تنازعات اور بھاری انتظامی اخراجات شامل ہیں۔ ان کے نزدیک نئے گورنر ہاؤس، اسمبلیوں، کابیناؤں اور سیکرٹریٹ قائم کرنے کے بجائے بااختیار مقامی حکومتوں کو فنڈز اور اختیارات دے کر یہی مقاصد کم خرچ اور زیادہ مؤثر انداز میں حاصل کیے جا سکتے ہیں

نئے صوبے بنانے کا حامی ایک بڑا حلقہ طویل عرصے سے یہ تجویز دیتا آ رہا ہے کہ اگر پاکستان کو 12 سے 14 انتظامی یونٹس یا صوبوں میں تقسیم کر دیا جائے تو گورننس میں بہتری اور وسائل کی منصفانہ تقسیم ممکن ہو سکتی ہے۔

2025 میں انوار الحق کاکڑ اور گوہر اعجاز کے قائم کردہ Economic Policy and Business Development Think Tank نے پاکستان کو 12 سے 20 صوبوں یا موجودہ ڈویژنوں کی بنیاد پر تقریباً 38 انتظامی یونٹس میں تقسیم کرنے کے مختلف ماڈل پیش کیے تھے۔ اس تھنک ٹینک کے سی ای او سابق بیوروکریٹ احمد نواز سکھیرا ہیں۔

2023 میں ڈپٹی چیئرمین سینیٹ مرزا محمد آفریدی نے پنجاب اور بلوچستان کے 3،3 صوبے بنانے کے ساتھ کراچی، ہزارہ اور سابق فاٹا کو الگ صوبوں کا درجہ دینے کی تجویز دی، جبکہ ڈاکٹر مہتاب ایس کریم نے 20 صوبوں یا انتظامی یونٹس کا خاکہ پیش کیا۔ اس کے علاوہ بہاولپور، جنوبی پنجاب، ہزارہ اور کراچی کو الگ صوبے بنانے کی تجاویز بھی مختلف اوقات میں سیاسی اور پارلیمانی سطح پر سامنے آتی رہی ہیں۔

اگر ہم ماضی پر نظر ڈالیں تو پاکستان میں صوبائی خودمختاری کا پہلا نمایاں مطالبہ مشرقی پاکستان، یعنی موجودہ بنگلہ دیش، سے سامنے آیا، جو اس وقت پاکستان کا مشرقی حصہ تھا۔ 1949 میں وہاں یہ احساس بڑھ رہا تھا کہ ملک کی آبادی میں اکثریت رکھنے کے باوجود مشرقی پاکستان کو وفاقی حکومت، سرکاری ملازمتوں اور قومی وسائل  میں اس کے جائز حصے کے مطابق نمائندگی اور اختیار حاصل نہیں۔

اسی سال مشرقی پاکستان کی مسلم لیگ پارلیمانی پارٹی نے صوبائی خودمختاری کا باضابطہ مطالبہ کیا، جبکہ حسین شہید سہروردی اور مولانا عبدالحمید خان بھاشانی اس تحریک کی نمایاں سیاسی آوازوں میں شامل تھے۔

مشرقی پاکستان سے صوبائی خودمختاری کے مطالبات زور پکڑنے لگے تو وفاقی پالیسی سازوں نے ایک مختلف راستہ اختیار کیا۔ 1955 میں پنجاب، سندھ، سرحد، بلوچستان اور مغربی پاکستان کی مختلف ریاستوں کو ملا کر ایک ہی انتظامی یونٹ، یعنی ون یونٹ، قائم کر دیا گیا۔ اس کا بنیادی مقصد مشرقی اور مغربی پاکستان کے درمیان سیاسی برابری قائم کرنا اور مغربی پاکستان کو ایک انتظامی اکائی میں تبدیل کرنا تھا۔

تاہم ون یونٹ کا تجربہ کامیاب نہ ہو سکا۔ مختلف زبانوں، ثقافتوں، تاریخی شناختوں اور سیاسی روایات رکھنے والے صوبوں کو ایک انتظامی اکائی میں ضم کرنے سے خصوصاً سندھ، سرحد اور بلوچستان میں اپنی صوبائی شناخت ختم ہونے کا احساس پیدا ہوا۔ اس دور کی مخالفت کا بنیادی محور معاشی معاملات سے زیادہ زبان، ثقافت، علاقائی شناخت اور قوم پرستی تھا۔

سندھ میں سندھی زبان، ثقافت اور صوبائی شناخت کے تحفظ کے لیے جی ایم سید، حیدر بخش جتوئی اور شیخ عبدالمجید سندھی جیسے رہنماؤں کے ساتھ طلبہ، ادیبوں اور قوم پرست سیاسی حلقوں نے سب سے منظم آواز اٹھائی۔ سرحد میں خان عبدالغفار خان اور خان عبدالولی خان، جبکہ بلوچستان میں میر غوث بخش بزنجو اور عبدالصمد خان اچکزئی جیسے رہنما صوبائی شناخت، خودمختاری اور سیاسی اختیارات کی بحالی کے مطالبات میں نمایاں رہے۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ وسائل اور سرکاری ملازمتوں میں حصے کا مطالبہ ضرور موجود تھا، مگر اسے زیادہ تر صوبائی شناخت اور مرکز کے بڑھتے ہوئے غلبے کے تناظر میں دیکھا جاتا تھا۔ اسی ماحول میں 1966 میں شیخ مجیب الرحمن نے اپنے چھ نکات پیش کیے، جن میں صوبوں، جنہیں آئینی زبان میں وفاقی اکائیاں یا Federating Units کہا جاتا ہے، کو وسیع سیاسی، مالی اور انتظامی خودمختاری دینے کا مطالبہ کیا گیا تھا۔ مسلسل سیاسی مخالفت کے نتیجے میں 1970 میں ون یونٹ ختم کر دیا گیا اور پنجاب، سندھ، سرحد اور بلوچستان کو دوبارہ صوبوں کی حیثیت دے دی گئی۔ اس کے بعد صوبائی خودمختاری اور نئے صوبوں کی بحث پاکستان کی سیاست کا مستقل موضوع بن گئی۔ کبھی نئے صوبوں کے نام پر، کبھی صوبائی خودمختاری کے نام پر اور کبھی مضبوط بلدیاتی نظام کے مطالبے کی صورت میں یہ سوال بار بار سامنے آتا رہا کہ اختیارات آخر عوام کے کتنے قریب ہونے چاہییں۔ 

آج 2026 میں بھی نئے صوبوں کی بحث کے پیچھے بنیادی سوال یہی ہے کہ دور دراز علاقوں میں رہنے والے ایک عام شہری کو اپنے روزمرہ مسائل اور بنیادی سہولتوں کے لیے صوبائی دارالحکومت کیوں جانا پڑے۔ پنجاب کے کسی دور افتادہ ضلع سے لاہور پہنچنا ہو، وفاقی معاملے کے لیے اسلام آباد جانا ہو، یا کسی مقدمے میں اعلیٰ عدالتوں تک رسائی حاصل کرنا ہو، یہ پورا نظام عام آدمی کے لیے مہنگا، مشکل اور وقت طلب ہے۔ اصل ضرورت ایسے انتظامی اور عدالتی ڈھانچے کی ہے جس میں زیادہ تر مسائل شہری کے اپنے شہر، ضلع یا قریبی علاقے ہی میں حل ہو سکیں۔

میری رائے شروع سے یہ رہی ہے کہ سیاست میں اصل اہمیت نچلی سطح کی حکمرانی (Grassroots Governance) کی ہے۔ حکومت اور اختیار جتنا عوام کے قریب ہوگا، لوگوں کو اتنا ہی محسوس ہوگا کہ ان کے مسائل کا حل ان کے اپنے شہر، ضلع یا تحصیل میں موجود ہے۔ اسی لیے میں مضبوط سٹی اور ڈسٹرکٹ گورنمنٹس کا حامی رہا ہوں۔

پرویز مشرف کے دور میں قائم کیا گیا سٹی ڈسٹرکٹ گورنمنٹ نظام یقیناً نچلی سطح تک اختیارات منتقل کرنے کی ایک اچھی کوشش تھی۔ مگر حکومت بدلتے ہی اس پورے نظام کو اس طرح ختم کر دیا گیا جیسے ریاستی پالیسی میں تسلسل کی کوئی اہمیت ہی نہ ہو۔
تحریکِ انصاف نے بھی نچلی سطح تک اختیارات منتقل کرنے کا وعدہ کیا، مگر اقتدار میں آنے کے بعد اس پر وہ عمل نہ ہوسکا جس کی توقع کی جا رہی تھی۔

اقتدار اور اختیارات کی حقیقی منتقلی کی بہترین شکل کیا ہونی چاہیے؟ 

کیا مضبوط بلدیاتی نظام، چھوٹے صوبے، یا دونوں کا کوئی مشترکہ ماڈل؟ اور اس سے بھی اہم سوال یہ ہے کہ ایسا آئینی اور انتظامی ڈھانچہ کیسے تشکیل دیا جائے جسے کوئی آنے والی حکومت، خواہ منتخب ہو یا غیر منتخب، اپنی سیاسی مصلحت کے تحت آسانی سے ختم یا کمزور نہ کر سکے؟ 

یہی وہ بنیادی سوال ہے جسے ہم اس سلسلے کی آئندہ اقساط میں تفصیل سے زیرِ بحث لائیں گے۔ اگلی قسط میں ہم پنجاب کو 6 صوبوں میں تقسیم کرنے کے اپنے مجوزہ ماڈل، اس کی منطق، حدود اور انتظامی بنیادوں کا تفصیلی جائزہ  بھی پیش کریں گے۔

(جاری ہے باقی اگلی قسط میں)
1
0
Views
17
2
تمام تحریریں دیکھیں