Home

This article is available in two languages:

سندھ کو کتنے صوبوں میں تقسیم کیا جانا چاہیے؟

سندھ کو کتنے صوبوں میں تقسیم کیا جانا چاہیے؟

🔳 جب بھی کراچی یا سندھ کے کسی حصے کو الگ صوبہ یا انتظامی اکائی بنانے کی بات ہوتی ہے تو اسے عوامی سطح پر سندھ کی تاریخی وحدت کے لیے خطرہ سمجھا جاتا ہے، خواہ اس میں عام آدمی کا کتنا ہی فائدہ کیوں نہ ہو۔ اور یہیں سے شاطر سیاست دان عوام کی تاریخ سے لاعلمی کا فائدہ اٹھاتے ہیں، حالانکہ قدیم سندھ سینکڑوں سال پہلے بھی انتظامی طور پر تین بڑی انتظامی اکائیوں (Administrative Regions) میں تقسیم تھا۔ بالائی سندھ سِرو، وسطی سندھ وِچولو اور زیریں سندھ لاڑ کے نام سے جانا جاتا تھا۔
 
▫️ سندھ میں زمین صرف ایک جغرافیائی رقبہ ہی نہیں بلکہ “سندھو دھرتی”کا ایک مقدس اور جذباتی تصور بھی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ یہاں کے عوام کا اپنی زمین سے تعلق سیاسی یا معاشی سے زیادہ وجودی (Existential) نوعیت کا ہے۔
 
🔳 موضوع: پاکستان میں صوبوں کی نئی تقسیم کیسے ممکن ہے؟ | قسط 3
عنوان: سندھ کو کتنے صوبوں میں تقسیم کیا جانا چاہیے؟
 
🔺 قومی معاملات میں اختلافِ رائے فطری ہے، مگر سنجیدہ بحث اور قومی اتفاقِ رائے ہی سے مسائل کا حل ممکن ہے۔
 
تحریر و تحقیق: سید شایان
 
سندھ کی تقسیم یا نئے صوبوں کے قیام پر کسی بھی بحث سے پہلے درج ذیل تاریخی پس منظر (Historical Context) کو سمجھنا ضروری ہے۔
 
🔳 23 جولائی 1948ء کو قائدِاعظم محمد علی جناح اور مرکزی قومی اسمبلی کے فیصلے کے تحت کراچی کے تقریباً 812 مربع میل علاقے کو سندھ سے الگ کر کے وفاقی حکومت کے حوالے کر دیا گیا۔ اور اسے پاکستان کا وفاقی دارالحکومت اور فیڈرل کیپیٹل ٹیریٹری (Federal Capital Territory) کا نام دیا گیا۔
 
1955ء میں ون یونٹ قائم ہونے کے باوجود کراچی کی الگ وفاقی حیثیت برقرار رہی۔ صدر ایوب خان کے دور میں دارالحکومت پہلے عارضی طور پر راولپنڈی اور بعد میں اسلام آباد منتقل کر دیا گیا۔
 
جولائی 1970ء میں جنرل یحییٰ خان نے ون یونٹ ختم کر کے صوبے بحال کیے تو کراچی کی وفاقی حیثیت ختم ہو گئی اور اسے دوبارہ سندھ میں شامل کر کے صوبائی دارالحکومت بنا دیا گیا۔
 
تاہم 1847ء میں انتظامی اور مالیاتی وجوہات کی بنا پر سندھ کو بمبئی پریذیڈنسی (Bombay Presidency) میں شامل کر دیا گیا۔ اسے ایک کمشنری (Commissionership) کا درجہ دے کر بمبئی کے گورنر کے ماتحت کر دیا گیا۔
 
اگر ہم سندھ کی تاریخ کو قیامِ پاکستان اور ون یونٹ سے پہلے دیکھیں تو اس کا آغاز 1839ء سے ہوتا ہے، جب ایسٹ انڈیا کمپنی نے کراچی پر قبضہ کیا۔
 
1843ء میں سر چارلس نیپیئر کی قیادت میں ایسٹ انڈیا کمپنی نے پورا سندھ فتح کیا اور 1847ء میں سندھ کو بمبئی پریذیڈنسی (Bombay Presidency) میں شامل کر کے اسے ایک کمشنری (Commissionership) کا درجہ دے کر بمبئی کے گورنر کے ماتحت کر دیا گیا اور یوں سندھ کے معاملات بمبئی سے چلائے جانے لگے۔
 
سندھ کو بمبئی سے الگ صوبہ بنانے کی ابتدائی آواز 1913ء میں سیٹھ ہرچند رائے وشن داس نے اٹھائی۔ بعد ازاں غلام محمد بھرگڑی، شیخ عبدالمجید سندھی، سر عبداللہ ہارون، شاہنواز بھٹو اور دیگر رہنماؤں نے اس مطالبے کو بھرپور سیاسی تحریک میں بدل دیا۔ قائدِاعظم محمد علی جناح نے بھی 1929ء میں اپنے مشہور چودہ نکات کے نکتہ نمبر 9 میں سندھ کو بمبئی پریذیڈنسی سے الگ کرنے کا واضح مطالبہ کیا۔
 
اس طویل جدوجہد کے نتیجے میں یکم اپریل 1936ء کو سندھ کو بمبئی پریذیڈنسی سے الگ کر کے ایک مستقل صوبہ بنا دیا گیا اور اسے اپنی قانون ساز اسمبلی مل گئی۔
 
تاریخ سے واضح ہوتا ہے کہ سندھ اور کراچی کی انتظامی حیثیت مختلف ادوار میں ریاستی ضروریات کے مطابق بدلتی رہی ہے۔ اس لیے آج اس صوبے کے لیے نئے صوبوں یا انتظامی تنظیمِ نو پر بحث کوئی غیر معمولی یا غیر آئینی بات نہیں ہے اور نہ ہی یہ دعویٰ کیا جا سکتا ہے کہ اس صوبے کی موجودہ حدود کو چھیڑا نہیں جا سکتا۔
 
پچھلی قسط میں ہم نے پنجاب کی آبادی، رقبے، معاشی صلاحیت اور انتظامی ضروریات کی بنیاد پر 6 مجوزہ صوبوں کا ماڈل پیش کیا تھا۔ اگر انتظامی اصلاحات کو واقعی قومی ایجنڈا بنانا ہے تو یہی اصول سندھ اور ملک کی دیگر انتظامی اکائیوں پر بھی یکساں طور پر لاگو ہونے چاہئیں۔
 
2023ء کی مردم شماری کے اعداد و شمار سندھ کی انتظامی صورتِ حال پر ایک بڑا سوالیہ نشان کھڑا کرتے ہیں۔ صوبے کی کل 5 کروڑ 56 لاکھ سے زائد آبادی میں سے اگر 2 کروڑ 3 لاکھ نفوس کے حامل کراچی ڈویژن کو الگ بھی رکھا جائے، تب بھی بقیہ سندھ کی آبادی 3 کروڑ 53 لاکھ سے تجاوز کرتی ہے۔
 
ساڑھے 3 کروڑ سے زائد آبادی کسی بھی علاقے کو ایک بڑا اور گنجان آباد خطہ ثابت کرنے کے لیے کافی ہے۔ یہی حقیقت ہمیں یہ سوال اٹھانے پر مجبور کرتی ہے کہ کیا ایک صوبائی دارالحکومت سے چلنے والا موجودہ نظام اتنی بڑی اور مختلف ضروریات رکھنے والی آبادی کے مسائل حل کر پا رہا ہے؟ یا اب وقت آ گیا ہے کہ اختیارات کو نچلی سطح اور نئی انتظامی اکائیوں تک منتقل کر کے بنیادی سہولتیں عوام کے قریب پہنچائی جائیں؟
 
لیکن کیسے؟
 
سندھ کی آبادی، طویل فاصلے، معاشی رابطوں اور موجودہ انتظامی حدود کو سامنے رکھا جائے تو اسے 4 صوبائی اکائیوں میں منظم کرنا زیادہ مناسب دکھائی دیتا ہے۔ صرف کراچی کو الگ صوبہ بنانے سے کراچی کا مسئلہ تو کسی حد تک حل ہو سکتا ہے، لیکن باقی سندھ میں اختیارات کی مرکزیت، طویل فاصلے اور انتظامی مشکلات اپنی جگہ برقرار رہیں گی۔
سندھ اس وقت 6 ڈویژنز اور 30 اضلاع پر مشتمل ہے۔ اس لیے ہمارا مجوزہ ماڈل کسی ضلع کو تقسیم کرنے کے بجائے انہی موجودہ اضلاع کو 4 صوبائی اکائیوں میں منظم کرنے پر مبنی ہے۔
 
1۔ صوبہ کراچی
کراچی ڈویژن کے موجودہ 7 اضلاع کے ساتھ جامشورو ضلع۔
 
جامشورو کو شامل کرنے سے کراچی کو مستقبل میں پھیلاؤ کے لیے جگہ ملے گی اور کراچی، نوری آباد، کوٹری اور جامشورو کے صنعتی اور معاشی رابطے ایک ہی انتظامی نظام کے تحت آ جائیں گے۔

 
2۔ صوبہ حیدرآباد
حیدرآباد، مٹیاری، ٹنڈو الہ یار، ٹنڈو محمد خان، بدین، ٹھٹھہ اور سجاول۔
 
یہ اضلاع جغرافیائی، زرعی، آبی اور سفری اعتبار سے حیدرآباد سے قریبی تعلق رکھتے ہیں، اس لیے حیدرآباد ان کا قدرتی انتظامی مرکز بن سکتا ہے۔
 
3۔ صوبہ شہید بینظیر یا وسطی و مشرقی سندھ
شہید بینظیر آباد، سانگھڑ، میرپورخاص، عمرکوٹ اور تھرپارکر۔
 
یہ اکائی وسطی سندھ کے زرعی علاقوں کو مشرقی سندھ اور تھر سے ملائے گی۔ شہید بینظیر آباد کو مرکز بنانے سے اس صوبے کے مختلف حصوں کے درمیان نسبتاً بہتر توازن قائم ہو سکتا ہے۔
 
4۔ صوبہ سکھر یا بالائی سندھ
سکھر، خیرپور، گھوٹکی، نوشہرو فیروز، لاڑکانہ، قمبر شہدادکوٹ، شکارپور، جیکب آباد، کشمور اور دادو۔
 
نوشہرو فیروز کے سفری اور معاشی رابطے سکھر اور بالائی سندھ سے زیادہ مضبوط ہیں، جبکہ دادو کا رابطہ بھی دریائے سندھ کے مغربی کنارے پر واقع بالائی اضلاع سے بنتا ہے۔ اس لیے ان دونوں اضلاع کو اس صوبے میں شامل کرنا زیادہ مناسب ہوگا۔
 
اس ترتیب میں سندھ کے تمام 30 اضلاع شامل ہو جاتے ہیں، کوئی ضلع تقسیم نہیں ہوتا اور موجودہ ضلعی حدود بھی برقرار رہتی ہیں۔ اس طرح ہر صوبائی اکائی کو اپنا واضح انتظامی مرکز اور الگ معاشی بنیاد مل سکتی ہے۔
 
غور طلب بات یہ ہے کہ سندھ کی یہ جغرافیائی تقسیم کوئی نئی یا مصنوعی تجویز نہیں۔
 
قدیم مغلیہ اور ترخان ادوار میں سندھ کی تاریخ کا مطالعہ کیا جائے تو یہ بات واضح ہوتی ہے کہ انتظامی نقطۂ نظر سے سندھ کو ہمیشہ تین قدرتی، جغرافیائی اور انتظامی خطوں (Natural and Administrative Regions) میں تقسیم کر کے چلایا جاتا رہا ہے۔
 
1۔ سِرو (Upper Sindh): شکارپور، سکھر اور جیکب آباد کا بالائی علاقہ۔
 
2۔ وِچولو (Middle Sindh): حیدرآباد، نواب شاہ اور دادو کا وسطی خطہ۔
 
3۔ لاڑ (Lower Sindh): ٹھٹھہ، بدین اور کراچی کے ساحلی اور زیریں علاقے۔
 
ان تینوں خطوں کا اپنا نظامِ سلطنت، ، مقامی لب و لہجہ، یعنی سِرولی/سِروئکی (Siroli/Siroki)، وِچولی اور لاڑی، اور الگ جغرافیائی خصوصیات تھیں۔ حاکمِ وقت، خواہ وہ سومرا ہوں، کلہوڑا ہوں یا تالپور، انتظامی کنٹرول کے لیے ان خطوں کی علاقائی حیثیت کو تسلیم کرتے تھے۔
 
تالپور دور (1783ء–1843ء) میں تو سندھ کی اس انتظامی تقسیم کو باقاعدہ ریاستی سطح پر نافذ کیا گیا اور یہ نظام چلانے کے لیے باقاعدہ علاقائی و ضلعی حاکم مقرر کیے جاتے تھے، جنہیں اس دور کی اصطلاح میں "کاردار" یا "نواب" کہا جاتا تھا، اور ان کا کام وہی ہوتا تھا جو جدید دورِ حکومت میں ایک گورنر کا ہوتا ہے۔
 
چونکہ قدیم اور قرونِ وسطیٰ کے سندھ میں اتنے وسیع خطے کو ایک ہی مرکزی نقطے سے چلانا ناممکن سمجھا جاتا تھا، اسی لیے اس دور کی حکمرانی کا اصل فکری محور عدمِ مرکزیت (Decentralization) پر مبنی تھا۔
 
▫️اس پورے مضمون میں میری کوشش صرف یہ سمجھانے کی رہی ہے کہ یہ جو  آج پاکستان میں نئے صوبوں پر سنجیدہ بحث ہو رہی ہے تو سندھ کو بھی اس کی اپنی قدیم تاریخ تہذیب اور جغرافیائی ساخت کی روشنی میں دیکھا جانا چاہیے۔
 
قدیم سندھ بھی پرانے وقتوں میں  ایک ہی انتظامی مرکز سے نہیں چلتا تھا بلکہ اسے سِرو، وِچولو اور لاڑ جیسے تین قدرتی اور انتظامی خطوں میں تقسیم کیا گیا تھا، کیونکہ اس زمانے کے حکمران بھی جانتے تھے کہ اتنے بڑے خطے کو مقامی انتظام کے بغیر مؤثر طور پر نہیں چلایا جا سکتا۔
 
اگر آج انہی تاریخی بنیادوں پر سندھ میں تین انتظامی صوبے قائم کرکے ان کے نام بھی سِرو، وِچولو اور لاڑ رکھ دیے جائیں تو اسے سندھ کی تقسیم کیسے کہا جا سکتا ہے؟
 
یہ تو قدیم سندھ کو جدید دور کے تقاضوں کے مطابق دوبارہ بحال کرنا کہلاۓ گا۔
 
البتہ کراچی کی غیر معمولی آبادی، معیشت اور مسلسل پھیلاؤ کے باعث اسے جامشورو کے ساتھ ایک چوتھی انتظامی اکائی کے طور پر تجویز کیا گیا ہے۔ یوں سندھ نہ اپنی تاریخ سے جدا ہوگا، نہ اپنی تہذیبی شناخت سے۔
 
(جاری ہے۔۔۔ اگلی قسط میں)
6
0
Views
30
2

پچھلی تحریریں

پنجاب کو کتنے صوبوں میں تقسیم کیا جانا چاہیے؟

🔳 کیا آپ جانتے ہیں کہ پاکستان کے صوبہ پنجاب کا رقبہ گریٹ برطانیہ (Great Britain)، یعنی انگلینڈ، اسکاٹ لینڈ اور ویلز، کے مجموعی رقبے کے تقریباً برابر ہے، جبکہ آبادی کے لحاظ سے پنجاب، گریٹ برطانیہ سے تقریباً دو گنا بڑا ہے؟ ▫️پاکستانی صوبہ پنجاب دنیا کے 180 سے زیادہ ممالک سے آبادی میں بڑا ہے اور برطانیہ، فرانس، اٹلی، اسپین، کینیڈا، سعودی عرب، آسٹریلیا، جاپان، فلپائن، مصر، ویت نام اور ایران جیسے بڑے اور گنجان آباد ممالک سے بھی زیادہ آبادی (12 کروڑ 77 لاکھ) رکھتا ہے۔ ▫️آبادی کا یہ عالم ہے کہ ہمارا پیارا صوبہ پنجاب، جس کی آبادی 13 کروڑ 50 لاکھ تک جا پہنچی ہے، دنیا کے دسویں سب سے زیادہ آبادی والے ملک میکسیکو کے تقریباً برابر ہے، جس کی آبادی بھی لگ بھگ 13.5 کروڑ ہے۔ میکسیکو کو چلانے کے لیے 31 الگ ریاستیں (States) اور ایک وفاقی ضلع موجود ہے، جبکہ پنجاب کا پورا انتظامی نظام صرف ایک صوبائی مرکز، لاہور، کے زیرِ اثر ہے۔ ▫️بھارت نے 1947 کے بعد انتظامی ضرورت اور عوامی مطالبات کے تحت مختلف ادوار میں 17 نئی ریاستیں قائم کیں یا بعض علاقوں کو مکمل ریاستی درجہ دیا۔ ان میں گجرات، ہریانہ، ناگالینڈ، میگھالیہ، چھتیس گڑھ، جھارکھنڈ، اتراکھنڈ اور تلنگانہ نمایاں مثالیں ہیں۔ آج بھارت 28 ریاستوں اور 8 وفاقی اکائیوں پر مشتمل ملک ہے، جبکہ پاکستان اب بھی بنیادی طور پر صرف 4 صوبوں اور 3 وفاقی اکائیوں تک محدود ہے۔ 🔳 موضوع: آج پاکستان میں صوبوں کی نئی تقسیم کیسے ممکن ہے؟ | قسط 2 عنوان: پنجاب کو کتنے صوبوں میں تقسیم کیا جانا چاہیے؟ 🔺 قومی معاملات میں اختلافِ رائے فطری ہے، مگر مستقل انتشار کسی مسئلے کا حل نہیں۔ عوام، سیاسی جماعتوں اور ریاستی اداروں کی مشترکہ ذمہ داری ہے کہ سنجیدہ اور شفاف بحث کے بعد ایک واضح قومی اتفاقِ رائے تک پہنچیں۔ تحریر و تحقیق: سید شایان پچھلی قسط میں ہم نے یہ سوال اٹھایا تھا کہ عوام کی سرکاری اداروں تک آسان رسائی کے لیے صرف مضبوط بلدیاتی نظام کافی ہے یا نئے صوبے بھی ضروری ہیں۔ آج ہم اسی سلسلے کو آگے بڑھاتے ہوئے پنجاب کو 6 نئے صوبوں میں تقسیم کرنے کے اپنے مجوزہ ماڈل اور اس کے فکری و عملی جواز (Rationale) کا جائزہ لیں گے۔ ساتھ ہی اس قسط میں یہ بنیادی سوال بھی زیرِ بحث آئے گا کہ پاکستان جیسے بڑے اور متنوع وفاق میں بہتر حکمرانی کے لیے کون سا ماڈل زیادہ مؤثر ثابت ہو سکتا ہے: 1۔ کیا موجودہ بڑے صوبے برقرار رکھے جائیں؟ 2۔ کیا موجودہ ڈویژنوں کو بااختیار انتظامی اکائیوں (Empowered Administrative Units) میں تبدیل کر دیا جائے؟ 3۔ کیا نئے صوبوں کو باقاعدہ وفاقی اکائیوں (Federating Units) کی حیثیت دی جائے؟ 4۔ یا بلدیاتی نظام (Local Government System) کے ذریعے اختیارات کو نچلی سطح تک منتقل کیا جائے؟ اگر ہم زمینی حقائق دیکھیں تو پنجاب کا موجودہ رقبہ 205,344 مربع کلومیٹر اور آبادی تقریباً 13 کروڑ 50 لاکھ سے تجاوز کر چکی ہے (2023 کی مردم شماری میں سرکاری آبادی 12 کروڑ 77 لاکھ تھی)، جو رقبے کے لحاظ سے تقریباً برطانیہ کے برابر ہے، مگر اس کی آبادی برطانیہ سے تقریباً دو گنا ہے۔ اور دنیا کے 110 سے زائد ممالک (جیسے بنگلہ دیش، جنوبی کوریا، یونان اور پرتگال) سے رقبے میں بڑا ہے۔ آبادی کے معاملے میں تو ہمارا پنجاب دنیا کے 190 سے زیادہ ممالک کو پیچھے چھوڑ دیتا ہے اور برطانیہ، فرانس، اٹلی، اسپین، کینیڈا، سعودی عرب اور آسٹریلیا جیسے متعدد بڑے ممالک سے بھی آبادی میں کہیں آگے ہے۔ یہاں تک کہ یورپ کا سب سے زیادہ آبادی والا ملک جرمنی بھی آبادی کے لحاظ سے اس کے سامنے چھوٹا نظر آتا ہے۔ جب ہم برطانیہ کا ذکر کرتے ہیں تو ہمارے ذہن میں ایک بہت بڑے ملک کا تصور ابھرتا ہے، لیکن حقیقت یہ ہے کہ پورے گریٹ برطانیہ، یعنی انگلینڈ، اسکاٹ لینڈ اور ویلز، کا مجموعی رقبہ تقریباً 2 لاکھ 9 ہزار مربع کلومیٹر ہے، جبکہ ہمارے اکیلے پنجاب کا رقبہ تقریباً 2 لاکھ 5 ہزار مربع کلومیٹر ہے۔ یعنی رقبے کے لحاظ سے پنجاب پورے گریٹ برطانیہ کے تقریباً 98 فیصد کے برابر ہے۔ فرق یہ ہے کہ تقریباً 6 کروڑ 70 لاکھ آبادی پر مشتمل گریٹ برطانیہ نے بہتر حکمرانی، سائنس، ٹیکنالوجی، صنعت اور مضبوط اداروں کی بدولت خود کو دنیا کی بڑی معاشی طاقتوں میں شامل کر رکھا ہے، جبکہ تقریباً 13 کروڑ 50 لاکھ آبادی والا پنجاب اپنی زرخیز زمین، وسیع نہری نظام اور بے پناہ انسانی و قدرتی وسائل کے باوجود بدانتظامی، ناقص منصوبہ بندی اور شدید معاشی مسائل کا شکار ہے۔ سوچنے کی بات یہ ہے کہ پنجاب رقبے میں تقریباً پورے گریٹ برطانیہ کے برابر اور آبادی میں دنیا کے کئی بڑے ممالک سے بھی آگے ہے۔ ایسے میں ایک ہی صوبائی دارالحکومت سے اتنے وسیع علاقے اور کروڑوں لوگوں کے لیے انصاف، صحت، تعلیم اور امن و امان کا نظام مؤثر طریقے سے چلانا کیسے ممکن ہے؟ اور اب جب یہ واضح بھی ہو چکا ہے کہ پنجاب رقبے اور آبادی کے لحاظ سے کس قدر بڑا صوبہ بن چکا ہے، تو اسے مختلف صوبوں یا وفاقی اکائیوں میں تقسیم کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔ اگر اس کے باوجود ایسا نہیں کیا جاتا، تو یہ تاثر مزید مضبوط ہوگا کہ قومی مفاد پر سیاسی مفادات کو ترجیح دی جا رہی ہے۔ لیکن اب اصل سوال یہ ہے کہ پنجاب کو کتنے نئے صوبوں، یعنی وفاقی اکائیوں (Federating Units)، میں تقسیم کیا جائے؟ اس حوالے سے ایک پرانا اور نمایاں مطالبہ یہ رہا ہے کہ ملتان اور اس کے گردونواح پر مشتمل سرائیکی صوبہ قائم کیا جائے، سابق ریاست بہاولپور کو الگ صوبائی حیثیت دی جائے اور باقی پنجاب کو ایک علیحدہ صوبے کے طور پر برقرار رکھا جائے۔ اس فارمولے کے تحت موجودہ پنجاب 3 صوبوں میں تقسیم ہو جاتا ہے۔ تاہم صوبوں کی نئی تقسیم صرف تاریخی مطالبات یا علاقائی شناخت کی بنیاد پر نہیں ہونی چاہیے۔ اس فیصلے میں آبادی، رقبہ، انتظامی معاملات، معاشی صلاحیت، مواصلاتی رابطوں، دستیاب وسائل اور مستقبل میں آبادی کے ممکنہ پھیلاؤ کو بھی بنیادی اہمیت دینی ہوگی۔ اس لیے یہ دیکھنا ضروری ہے کہ آیا 3 صوبوں کا یہ ماڈل واقعی ایک دیرپا اور کامیاب تجربہ ثابت ہو سکتا ہے یا پنجاب کو اس سے بھی زیادہ صوبوں میں تقسیم کرنے کی ضرورت ہے۔ آج بنیادی سوال یہ ہے کہ پنجاب کو کتنے صوبوں میں تقسیم کیا جائے: 3، 6 یا 10؟ تین (3) صوبوں کی تجویز ایک عرصے سے زیرِ بحث ہے۔ ہمارا تھنک ٹینک اس کے مقابلے میں 6 صوبوں کا ماڈل پیش کر رہا ہے، جس میں پنجاب کی آبادی، مختلف علاقوں کے باہمی فاصلے، انتظامی ضروریات اور معاشی معاملات کو بنیاد بنایا گیا ہے۔ ایک تیسری تجویز یہ بھی ہے کہ پنجاب کے موجودہ 10 ڈویژنوں کو ہی الگ صوبوں میں تبدیل کر دیا جائے۔ ہم نے یہ تجویز محض اندازوں یا زبانی بحث کی بنیاد پر پیش نہیں کی، بلکہ ہم نے اور ہماری ٹیم نے پنجاب کے مختلف شہروں، دیہی علاقوں اور ان کی معیشت و تجارتی سرگرمیوں کا طویل عرصے تک قریب سے جائزہ لیا ہے۔ اس جائزے کا مقصد یہ سمجھنا تھا کہ پنجاب کے کن شہروں اور علاقوں کو ملا کر ایسے صوبے بنائے جا سکتے ہیں جو انتظامی طور پر بہتر ہوں اور اپنی معیشت بھی آزادانہ سنبھال سکیں۔ اسی مقصد کے لیے چین کے صنعتی و معاشی کلسٹرز (Economic Clusters) کے ماڈل کا بھی جائزہ لیا گیا۔ چین کی غیر معمولی معاشی ترقی کا ایک اہم سبب یہ بھی ہے کہ اس نے مختلف شہروں اور علاقوں کو مخصوص صنعتوں کے گرد منظم کیا اور وہاں مکمل صنعتی ایکوسسٹم قائم کیے۔ مثال کے طور پر چانگ چُن، شنگھائی، گوانگ ژو، ووہان اور چونگ چنگ گاڑیوں کی صنعت کے بڑے مراکز ہیں۔ چانگ چُن میں صرف گاڑیاں تیار نہیں ہوتیں بلکہ اس کے گرد آٹو پارٹس، بیٹریاں، انجینئرنگ، تحقیق، ہنرمند افرادی قوت اور سپلائی کا پورا نظام موجود ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اسے چین کے اہم آٹوموبائل کلسٹرز میں شمار کیا جاتا ہے۔ اسی طرح شانتو کا چنگ ہائی ضلع کھلونوں کی تیاری، پیکجنگ اور برآمد کے لیے مشہور ہے۔ شینژن اور ڈونگ گوان الیکٹرانکس، موبائل فونز، ڈرونز اور سیمی کنڈکٹرز کے بڑے مراکز ہیں، جبکہ شنگھائی کیمیکل انڈسٹری پارک پیٹروکیمیکل اور کیمیکل صنعت کے لیے مخصوص ہے۔ چین کے اس ماڈل میں ہر شہر اپنی مخصوص صنعت پر توجہ دیتا ہے۔ ہر شہر ہر چیز بنانے کی کوشش نہیں کرتا بلکہ اپنی مخصوص معاشی شناخت قائم کرتا ہے۔ اس سے سرمایہ کاروں کو تیار انفراسٹرکچر، ہنرمند افراد، سپلائرز اور منڈی ایک ہی خطے میں مل جاتی ہے۔ نتیجتاً پیداواری لاگت کم، معیار بہتر اور برآمدی صلاحیت زیادہ ہو جاتی ہے۔ اسی تحقیق اور مشاہدے کے بعد پنجاب کو 6 صوبوں میں تقسیم کرنے کی یہ تجویز پیش کی گئی ہے۔ اسی لیے پنجاب کے 6 مجوزہ صوبوں کی ہماری تجویز صرف انتظامی تقسیم نہیں بلکہ ایسے معاشی ریجنوں (Economic Regions) کی تشکیل کی کوشش ہے جو مستقبل میں اپنے وسائل، صنعت، زراعت، تجارت اور سرمایہ کاری کی بنیاد پر خود کو پائیدار انداز میں آگے بڑھا سکیں۔ اس تصور کی تشکیل میں چین سمیت مختلف ممالک کے علاقائی معاشی ماڈلز کا بھی مطالعہ کیا گیا ہے 🔳 پنجاب کے 6 مجوزہ صوبے: انتظامی و معاشی خدوخال 1۔ صوبہ راولپنڈی ▫️یہ مجوزہ صوبہ خطۂ پوٹھوہار پر مشتمل ہوگا، جو اپنے منفرد جغرافیے، خدمات کے شعبے، دفاعی تنصیبات، تیل و گیس، معدنی وسائل اور سیاحت کی وجہ سے ایک الگ معاشی شناخت رکھتا ہے۔ راولپنڈی کو دارالحکومت بنانے سے اس خطے کے لوگوں کی صوبائی اداروں تک رسائی پہلے کے مقابلے میں زیادہ آسان اور تیز ہو جائے گی۔ ▫️اضلاع: راولپنڈی، مری، اٹک، چکوال، تلہ گنگ اور جہلم ▫️دارالحکومت: راولپنڈی ▫️معاشی بنیاد: خدمات، دفاع، سیاحت، بارانی زراعت، تیل، گیس اور معدنیات ▫️کل رقبہ: تقریباً 22,255 مربع کلومیٹر ▫️آبادی: تقریباً 1 کروڑ 14 لاکھ، مردم شماری 2023 کے مطابق (مردم شماری 2023 میں مری کی آبادی راولپنڈی ضلع اور تلہ گنگ کی آبادی چکوال ضلع کے اعداد میں شامل تھی۔) 2۔ صوبہ لاہور ▫️یہ مجوزہ صوبہ پنجاب کے سب سے بڑے صنعتی، تجارتی اور ٹیکنالوجی کے مرکز پر مشتمل ہوگا۔ لاہور کی آئی ٹی انڈسٹری، مالیاتی سرگرمیاں، اعلیٰ تعلیم اور خدمات کے شعبے کو گوجرانوالہ کی لائٹ انجینئرنگ، سیالکوٹ کی سرجیکل اور کھیلوں کی صنعت، گجرات کے پنکھوں اور فرنیچر، حافظ آباد اور منڈی بہاؤالدین کی زراعت، جبکہ قصور، اوکاڑہ، ساہیوال اور پاکپتن کی ڈیری، لائیو اسٹاک اور فوڈ پروسیسنگ سے جوڑا جائے گا۔ اس طرح یہ صوبہ پاکستان کا سب سے بڑا صنعتی، برآمدی اور ٹیکنالوجی کا معاشی کلسٹر (Economic Cluster) بن سکتا ہے۔ ▫️اضلاع: لاہور، قصور، شیخوپورہ، اوکاڑہ، ساہیوال، پاکپتن، گوجرانوالہ، گجرات، سیالکوٹ، نارووال، حافظ آباد، منڈی بہاؤالدین اور وزیرآباد ▫️دارالحکومت: لاہور ▫️معاشی بنیاد: آئی ٹی، مالیات، تعلیم، خدمات، لائٹ انجینئرنگ، سرجیکل آلات، کھیلوں کا سامان، پنکھے، فرنیچر، زراعت، ڈیری، لائیو اسٹاک، فوڈ پروسیسنگ اور برآمدات ▫️کل رقبہ: تقریباً 37,020 مربع کلومیٹر ▫️آبادی: تقریباً 4 کروڑ 85 لاکھ، مردم شماری 2023 کے مطابق 3۔ صوبہ فیصل آباد ▫️یہ مجوزہ صوبہ وسطی پنجاب کے ایک بڑے صنعتی اور زرعی خطے پر مشتمل ہوگا۔ فیصل آباد کی ٹیکسٹائل صنعت، سرگودھا کے کینو، خوشاب کے معدنی وسائل، چنیوٹ کی فرنیچر سازی جبکہ جھنگ، ٹوبہ ٹیک سنگھ اور ننکانہ صاحب کی زراعت اور لائیو اسٹاک اس خطے کو ایک متوازن صنعتی اور زرعی معیشت فراہم کریں گے۔ صنعت، زراعت، فوڈ پروسیسنگ اور برآمدات کو ایک ہی خطے میں جوڑ کر اسے پنجاب کا ایک اہم معاشی کلسٹر (Economic Cluster) بنایا جا سکتا ہے۔ ▫️اضلاع: فیصل آباد، ننکانہ صاحب، جھنگ، ٹوبہ ٹیک سنگھ، چنیوٹ، سرگودھا اور خوشاب ▫️دارالحکومت: فیصل آباد ▫️معاشی بنیاد: ٹیکسٹائل، فرنیچر، زراعت، کینو، گندم، لائیو اسٹاک، فوڈ پروسیسنگ، معدنیات، صنعت اور برآمدات ▫️کل رقبہ: 32,501 مربع کلومیٹر ▫️آبادی: تقریباً 2 کروڑ 37 لاکھ، مردم شماری 2023 کے مطابق 4۔ صوبہ ملتان ▫️یہ مجوزہ صوبہ جنوبی پنجاب کے ایک بڑے زرعی، تجارتی اور صنعتی خطے پر مشتمل ہوگا۔ ملتان کی تجارت، تعلیم، صحت اور خدمات، خانیوال اور وہاڑی کی کپاس و گندم، لودھراں کی زراعت جبکہ مظفرگڑھ اور کوٹ ادو کی زرعی پیداوار، توانائی اور صنعتی سرگرمیاں اس خطے کو ایک مضبوط معاشی بنیاد فراہم کریں گی۔ زراعت، ٹیکسٹائل، فوڈ پروسیسنگ، تجارت اور توانائی کو ایک ہی خطے میں جوڑ کر اسے جنوبی پنجاب کا ایک اہم معاشی کلسٹر (Economic Cluster) بنایا جا سکتا ہے۔ ▫️اضلاع: ملتان، خانیوال، وہاڑی، لودھراں، مظفرگڑھ اور کوٹ ادو ▫️دارالحکومت: ملتان ▫️معاشی بنیاد: کپاس، گندم، زراعت، ٹیکسٹائل، فوڈ پروسیسنگ، لائیو اسٹاک، تجارت، خدمات، صنعت اور توانائی ▫️کل رقبہ: 23,460 مربع کلومیٹر ▫️آبادی: تقریباً 1 کروڑ 91 لاکھ، مردم شماری 2023 کے مطابق نوٹ: مردم شماری 2023 میں کوٹ ادو اور چوک سرور شہید کی آبادی اور رقبہ مظفرگڑھ ضلع کے مجموعی اعداد میں شامل تھے۔ 5۔ صوبہ بہاولپور ▫️یہ مجوزہ صوبہ سابق ریاست بہاولپور کے تاریخی اور انتظامی خطے پر مشتمل ہوگا۔ بہاولپور، بہاولنگر اور رحیم یار خان زراعت، صنعت، تجارت اور توانائی کے لحاظ سے ایک دوسرے سے جڑے ہوئے ہیں۔ کپاس، گندم، گنا، فوڈ پروسیسنگ، لائیو اسٹاک اور رحیم یار خان کی صنعتی و تجارتی سرگرمیوں کے ساتھ چولستان کی زمین، معدنی وسائل اور شمسی توانائی اس خطے کو ایک مضبوط معاشی بنیاد فراہم کر سکتے ہیں۔ ▫️سابق ریاست بہاولپور میں اپنا حکومتی نظام، تعلیمی ادارے، آبپاشی کا مضبوط نہری نظام اور ترقی کا ایک مؤثر انتظامی ڈھانچہ موجود تھا۔ آج بھی یہ خطہ زراعت، صنعت اور تجارت کے ساتھ ساتھ چولستان کی وسیع زمین، لائیو اسٹاک، معدنی وسائل اور شمسی توانائی کی غیر معمولی صلاحیت رکھتا ہے۔ بہاولپور میں قائم قائداعظم سولر پارک اس کی ایک عملی مثال ہے، جبکہ لال سوہانرا نیشنل پارک سیاحت، جنگلی حیات اور ماحولیات کے حوالے سے اس خطے کی منفرد شناخت ہے۔ ▫️اس تجویز کا مقصد ماضی کو واپس لانا نہیں بلکہ اس تاریخی تجربے اور مقامی وسائل کو جدید دور کی ضروریات کے مطابق بروئے کار لانا ہے۔ درست منصوبہ بندی اور سرمایہ کاری کے ذریعے بہاولپور زراعت، فوڈ پروسیسنگ، صنعت، سیاحت اور شمسی توانائی کا ایک مضبوط معاشی مرکز بن سکتا ہے۔ ▫️اضلاع: بہاولپور، بہاولنگر اور رحیم یار خان ▫️دارالحکومت: بہاولپور ▫️معاشی بنیاد: زراعت، کپاس، گندم، گنا، چینی، فوڈ پروسیسنگ، لائیو اسٹاک، صنعت، تجارت، معدنیات، چولستان اور شمسی توانائی ▫️کل رقبہ: 45,588 مربع کلومیٹر ▫️آبادی: تقریباً 1 کروڑ 34 لاکھ، مردم شماری 2023 کے مطابق 6۔ صوبہ ڈیرہ تھل ▫️یہ مجوزہ صوبہ ڈیرہ جات اور تھل کے تاریخی و جغرافیائی خطوں پر مشتمل ہوگا۔ ڈیرہ غازی خان، راجن پور اور تونسہ کے معدنی وسائل، کوہِ سلیمان، توانائی اور لائیو اسٹاک کو لیہ، بھکر اور میانوالی کی زراعت، دریائے سندھ اور تھل کے وسیع میدانوں کے ساتھ جوڑ کر ایک مربوط علاقائی معیشت تشکیل دی جا سکتی ہے۔ زراعت، معدنیات، توانائی، لائیو اسٹاک، دریائے سندھ اور سیاحت کی بنیاد پر یہ خطہ مغربی پنجاب کا ایک مضبوط معاشی کلسٹر (Economic Cluster) بن سکتا ہے۔ ▫️اضلاع: ڈیرہ غازی خان، راجن پور، تونسہ، لیہ، بھکر اور میانوالی ▫️دارالحکومت: لیہ ▫️معاشی بنیاد: زراعت، دریائے سندھ، لائیو اسٹاک، معدنیات، تیل و گیس، توانائی، کوہِ سلیمان، تھل اور سیاحت ▫️کل رقبہ: تقریباً 57,400 مربع کلومیٹر ▫️آبادی: تقریباً 1 کروڑ 38 لاکھ، مردم شماری 2023 کے مطابق (جاری ہے، باقی اگلی قسط میں)

پاکستان کی نئی انتظامی تقسیم کیسے ممکن ہے؟

🌴 اگر پنجاب کو 6 صوبوں میں تقسیم کیا جائے تو ؟؟ اور پاکستان کو مجموعی طور پر 22 صوبوں میں تقسیم کیا جاۓ تو ؟؟ ▫️ نئے صوبوں کی تشکیل سیاسی، لسانی یا نسلی بنیادوں کے بجائے آبادی، معاشی کلسٹرز اور زمینی فاصلوں کو سامنے رکھ کر کی جائے تو اس سے حکومت اور عوام کے درمیان دوری کم ہو گی، علاقائی معیشتیں مضبوط ہوں گی اور قومی یکجہتی بھی بہتر ہو سکتی ہے۔ ▫️ جب تک معیاری ہسپتال، کالج، یونیورسٹیاں اور روزگار کے مواقع ہر علاقے میں دستیاب نہیں ہوں گے، لوگ بہتر سہولتوں کی تلاش میں بڑے شہروں کا رخ کرتے رہیں گے۔ نتیجتاً بڑے شہر آبادی کے غیر معمولی دباؤ اور انتظامی مشکلات کا شکار رہیں گے، جبکہ دور دراز علاقے ترقی اور بنیادی سہولتوں سے محروم رہیں گے۔ ▫️افغانستان رقبے میں پاکستان سے نسبتاً چھوٹا ہے، مگر وہاں 34 صوبے ہیں، جبکہ پاکستان صرف 4 صوبوں میں تقسیم ہے۔ ہمارے ہاں نئے صوبوں کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ سیاست دانوں کی ہوسِ اقتدار ہے، جو بہتر انتظام اور عوامی سہولت کے بجائے بڑے صوبوں پر اپنی حکمرانی اور اثر و رسوخ برقرار رکھنا چاہتے ہیں موضوع: پاکستان کی نئی انتظامی تقسیم کیسے ممکن ہے؟ | قسط 1 عنوان: پنجاب کو کتنے صوبوں میں تقسیم کیا جانا چاہیے؟ 🔺 قومی معاملات میں اختلافِ رائے فطری ہے، مگر مستقل انتشار حل نہیں۔ عوام، سیاسی جماعتوں اور ریاستی اداروں کی ذمہ داری ہے کہ کھلی بحث کے بعد واضح قومی اتفاقِ رائے تک پہنچیں۔ تحریر و تحقیق: سید شایان میں گزشتہ کچھ عرصے سے پاکستان کے آئی پی پیز اور توانائی کے بحران پر تحقیقی سلسلہ شائع کر رہا ہوں۔ تاہم نئے صوبوں کی بحث چونکہ ہمارے تھنک ٹینک کے بنیادی دائرۂ کار، یعنی Urban and Regional Development اور Governance، سے براہِ راست متعلق ہے، اس لیے آئی پی پیز کا سلسلہ عارضی طور پر روک کر اس اہم قومی موضوع پر میں اپنی راۓ قارئین کے سامنے پیش کر رہا ہوں۔ 🔳 پاکستان میں ان دنوں نئے صوبوں کے قیام سے متعلق مختلف تجاویز زیرِ بحث ہیں۔ اسی تناظر میں ہمارے تھنک ٹینک نے بھی ایک فکری مشق (Academic Debate) کے طور پر صوبہ پنجاب کی ممکنہ انتظامی تقسیم کا نقشہ اور تجزیہ تیار کیا ہے۔ یہ کسی حکومتی منصوبے یا سرکاری تجویز کی نمائندگی نہیں کرتا، بلکہ انتظامی اصلاحات پر جاری علمی بحث میں ایک نیا تحقیقی نقطۂ نظر پیش کرتا ہے۔ آج پاکستان کی آبادی 26 کروڑ تک جا پہنچی ہے۔ صرف صوبہ پنجاب کی آبادی 12 کروڑ سے زیادہ ہے، جو دنیا کے کئی بڑے ممالک کی آبادی سے بھی زیادہ ہے۔ اسی طرح بلوچستان رقبے کے لحاظ سے ملک کا 44 فیصد حصہ ہے، مگر اس کا انتظامی مرکز، کوئٹہ، بعض علاقوں سے سینکڑوں کلومیٹر دور ہے۔ پاکستان میں نئے صوبوں کی تشکیل ایک طویل عرصے سے قومی اور عوامی بحث کا موضوع رہی ہے۔ اس کے حامیوں کا مؤقف ہے کہ چھوٹے صوبوں سے وسائل کی منصفانہ تقسیم، بہتر گورننس، عوامی خدمات تک آسان رسائی اور دور دراز علاقوں کی ترقی ممکن ہوگی۔ اس سے لاہور اور کراچی جیسے بڑے شہروں پر آبادی اور انتظامی دباؤ بھی کم ہو سکتا ہے۔ نئے صوبوں کے مخالفین کا مؤقف ہے کہ اس عمل میں آئینی اور سیاسی رکاوٹیں، لسانی تنازعات اور بھاری انتظامی اخراجات شامل ہیں۔ ان کے نزدیک نئے گورنر ہاؤس، اسمبلیوں، کابیناؤں اور سیکرٹریٹ قائم کرنے کے بجائے بااختیار مقامی حکومتوں کو فنڈز اور اختیارات دے کر یہی مقاصد کم خرچ اور زیادہ مؤثر انداز میں حاصل کیے جا سکتے ہیں نئے صوبے بنانے کا حامی ایک بڑا حلقہ طویل عرصے سے یہ تجویز دیتا آ رہا ہے کہ اگر پاکستان کو 12 سے 14 انتظامی یونٹس یا صوبوں میں تقسیم کر دیا جائے تو گورننس میں بہتری اور وسائل کی منصفانہ تقسیم ممکن ہو سکتی ہے۔ 2025 میں انوار الحق کاکڑ اور گوہر اعجاز کے قائم کردہ Economic Policy and Business Development Think Tank نے پاکستان کو 12 سے 20 صوبوں یا موجودہ ڈویژنوں کی بنیاد پر تقریباً 38 انتظامی یونٹس میں تقسیم کرنے کے مختلف ماڈل پیش کیے تھے۔ اس تھنک ٹینک کے سی ای او سابق بیوروکریٹ احمد نواز سکھیرا ہیں۔ 2023 میں ڈپٹی چیئرمین سینیٹ مرزا محمد آفریدی نے پنجاب اور بلوچستان کے 3،3 صوبے بنانے کے ساتھ کراچی، ہزارہ اور سابق فاٹا کو الگ صوبوں کا درجہ دینے کی تجویز دی، جبکہ ڈاکٹر مہتاب ایس کریم نے 20 صوبوں یا انتظامی یونٹس کا خاکہ پیش کیا۔ اس کے علاوہ بہاولپور، جنوبی پنجاب، ہزارہ اور کراچی کو الگ صوبے بنانے کی تجاویز بھی مختلف اوقات میں سیاسی اور پارلیمانی سطح پر سامنے آتی رہی ہیں۔ اگر ہم ماضی پر نظر ڈالیں تو پاکستان میں صوبائی خودمختاری کا پہلا نمایاں مطالبہ مشرقی پاکستان، یعنی موجودہ بنگلہ دیش، سے سامنے آیا، جو اس وقت پاکستان کا مشرقی حصہ تھا۔ 1949 میں وہاں یہ احساس بڑھ رہا تھا کہ ملک کی آبادی میں اکثریت رکھنے کے باوجود مشرقی پاکستان کو وفاقی حکومت، سرکاری ملازمتوں اور قومی وسائل میں اس کے جائز حصے کے مطابق نمائندگی اور اختیار حاصل نہیں۔ اسی سال مشرقی پاکستان کی مسلم لیگ پارلیمانی پارٹی نے صوبائی خودمختاری کا باضابطہ مطالبہ کیا، جبکہ حسین شہید سہروردی اور مولانا عبدالحمید خان بھاشانی اس تحریک کی نمایاں سیاسی آوازوں میں شامل تھے۔ مشرقی پاکستان سے صوبائی خودمختاری کے مطالبات زور پکڑنے لگے تو وفاقی پالیسی سازوں نے ایک مختلف راستہ اختیار کیا۔ 1955 میں پنجاب، سندھ، سرحد، بلوچستان اور مغربی پاکستان کی مختلف ریاستوں کو ملا کر ایک ہی انتظامی یونٹ، یعنی ون یونٹ، قائم کر دیا گیا۔ اس کا بنیادی مقصد مشرقی اور مغربی پاکستان کے درمیان سیاسی برابری قائم کرنا اور مغربی پاکستان کو ایک انتظامی اکائی میں تبدیل کرنا تھا۔ تاہم ون یونٹ کا تجربہ کامیاب نہ ہو سکا۔ مختلف زبانوں، ثقافتوں، تاریخی شناختوں اور سیاسی روایات رکھنے والے صوبوں کو ایک انتظامی اکائی میں ضم کرنے سے خصوصاً سندھ، سرحد اور بلوچستان میں اپنی صوبائی شناخت ختم ہونے کا احساس پیدا ہوا۔ اس دور کی مخالفت کا بنیادی محور معاشی معاملات سے زیادہ زبان، ثقافت، علاقائی شناخت اور قوم پرستی تھا۔ سندھ میں سندھی زبان، ثقافت اور صوبائی شناخت کے تحفظ کے لیے جی ایم سید، حیدر بخش جتوئی اور شیخ عبدالمجید سندھی جیسے رہنماؤں کے ساتھ طلبہ، ادیبوں اور قوم پرست سیاسی حلقوں نے سب سے منظم آواز اٹھائی۔ سرحد میں خان عبدالغفار خان اور خان عبدالولی خان، جبکہ بلوچستان میں میر غوث بخش بزنجو اور عبدالصمد خان اچکزئی جیسے رہنما صوبائی شناخت، خودمختاری اور سیاسی اختیارات کی بحالی کے مطالبات میں نمایاں رہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ وسائل اور سرکاری ملازمتوں میں حصے کا مطالبہ ضرور موجود تھا، مگر اسے زیادہ تر صوبائی شناخت اور مرکز کے بڑھتے ہوئے غلبے کے تناظر میں دیکھا جاتا تھا۔ اسی ماحول میں 1966 میں شیخ مجیب الرحمن نے اپنے چھ نکات پیش کیے، جن میں صوبوں، جنہیں آئینی زبان میں وفاقی اکائیاں یا Federating Units کہا جاتا ہے، کو وسیع سیاسی، مالی اور انتظامی خودمختاری دینے کا مطالبہ کیا گیا تھا۔ مسلسل سیاسی مخالفت کے نتیجے میں 1970 میں ون یونٹ ختم کر دیا گیا اور پنجاب، سندھ، سرحد اور بلوچستان کو دوبارہ صوبوں کی حیثیت دے دی گئی۔ اس کے بعد صوبائی خودمختاری اور نئے صوبوں کی بحث پاکستان کی سیاست کا مستقل موضوع بن گئی۔ کبھی نئے صوبوں کے نام پر، کبھی صوبائی خودمختاری کے نام پر اور کبھی مضبوط بلدیاتی نظام کے مطالبے کی صورت میں یہ سوال بار بار سامنے آتا رہا کہ اختیارات آخر عوام کے کتنے قریب ہونے چاہییں۔ آج 2026 میں بھی نئے صوبوں کی بحث کے پیچھے بنیادی سوال یہی ہے کہ دور دراز علاقوں میں رہنے والے ایک عام شہری کو اپنے روزمرہ مسائل اور بنیادی سہولتوں کے لیے صوبائی دارالحکومت کیوں جانا پڑے۔ پنجاب کے کسی دور افتادہ ضلع سے لاہور پہنچنا ہو، وفاقی معاملے کے لیے اسلام آباد جانا ہو، یا کسی مقدمے میں اعلیٰ عدالتوں تک رسائی حاصل کرنا ہو، یہ پورا نظام عام آدمی کے لیے مہنگا، مشکل اور وقت طلب ہے۔ اصل ضرورت ایسے انتظامی اور عدالتی ڈھانچے کی ہے جس میں زیادہ تر مسائل شہری کے اپنے شہر، ضلع یا قریبی علاقے ہی میں حل ہو سکیں۔ میری رائے شروع سے یہ رہی ہے کہ سیاست میں اصل اہمیت نچلی سطح کی حکمرانی (Grassroots Governance) کی ہے۔ حکومت اور اختیار جتنا عوام کے قریب ہوگا، لوگوں کو اتنا ہی محسوس ہوگا کہ ان کے مسائل کا حل ان کے اپنے شہر، ضلع یا تحصیل میں موجود ہے۔ اسی لیے میں مضبوط سٹی اور ڈسٹرکٹ گورنمنٹس کا حامی رہا ہوں۔ پرویز مشرف کے دور میں قائم کیا گیا سٹی ڈسٹرکٹ گورنمنٹ نظام یقیناً نچلی سطح تک اختیارات منتقل کرنے کی ایک اچھی کوشش تھی۔ مگر حکومت بدلتے ہی اس پورے نظام کو اس طرح ختم کر دیا گیا جیسے ریاستی پالیسی میں تسلسل کی کوئی اہمیت ہی نہ ہو۔ تحریکِ انصاف نے بھی نچلی سطح تک اختیارات منتقل کرنے کا وعدہ کیا، مگر اقتدار میں آنے کے بعد اس پر وہ عمل نہ ہوسکا جس کی توقع کی جا رہی تھی۔ اقتدار اور اختیارات کی حقیقی منتقلی کی بہترین شکل کیا ہونی چاہیے؟ کیا مضبوط بلدیاتی نظام، چھوٹے صوبے، یا دونوں کا کوئی مشترکہ ماڈل؟ اور اس سے بھی اہم سوال یہ ہے کہ ایسا آئینی اور انتظامی ڈھانچہ کیسے تشکیل دیا جائے جسے کوئی آنے والی حکومت، خواہ منتخب ہو یا غیر منتخب، اپنی سیاسی مصلحت کے تحت آسانی سے ختم یا کمزور نہ کر سکے؟ یہی وہ بنیادی سوال ہے جسے ہم اس سلسلے کی آئندہ اقساط میں تفصیل سے زیرِ بحث لائیں گے۔ اگلی قسط میں ہم پنجاب کو 6 صوبوں میں تقسیم کرنے کے اپنے مجوزہ ماڈل، اس کی منطق، حدود اور انتظامی بنیادوں کا تفصیلی جائزہ بھی پیش کریں گے۔ (جاری ہے باقی اگلی قسط میں)

تمام تحریریں دیکھیں