سندھ کو کتنے صوبوں میں تقسیم کیا جانا چاہیے؟
▫️ سندھ میں زمین صرف ایک جغرافیائی رقبہ ہی نہیں بلکہ “سندھو دھرتی”کا ایک مقدس اور جذباتی تصور بھی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ یہاں کے عوام کا اپنی زمین سے تعلق سیاسی یا معاشی سے زیادہ وجودی (Existential) نوعیت کا ہے۔
🔳 موضوع: پاکستان میں صوبوں کی نئی تقسیم کیسے ممکن ہے؟ | قسط 3
عنوان: سندھ کو کتنے صوبوں میں تقسیم کیا جانا چاہیے؟
🔺 قومی معاملات میں اختلافِ رائے فطری ہے، مگر سنجیدہ بحث اور قومی اتفاقِ رائے ہی سے مسائل کا حل ممکن ہے۔
تحریر و تحقیق: سید شایان
سندھ کی تقسیم یا نئے صوبوں کے قیام پر کسی بھی بحث سے پہلے درج ذیل تاریخی پس منظر (Historical Context) کو سمجھنا ضروری ہے۔
🔳 23 جولائی 1948ء کو قائدِاعظم محمد علی جناح اور مرکزی قومی اسمبلی کے فیصلے کے تحت کراچی کے تقریباً 812 مربع میل علاقے کو سندھ سے الگ کر کے وفاقی حکومت کے حوالے کر دیا گیا۔ اور اسے پاکستان کا وفاقی دارالحکومت اور فیڈرل کیپیٹل ٹیریٹری (Federal Capital Territory) کا نام دیا گیا۔
1955ء میں ون یونٹ قائم ہونے کے باوجود کراچی کی الگ وفاقی حیثیت برقرار رہی۔ صدر ایوب خان کے دور میں دارالحکومت پہلے عارضی طور پر راولپنڈی اور بعد میں اسلام آباد منتقل کر دیا گیا۔
جولائی 1970ء میں جنرل یحییٰ خان نے ون یونٹ ختم کر کے صوبے بحال کیے تو کراچی کی وفاقی حیثیت ختم ہو گئی اور اسے دوبارہ سندھ میں شامل کر کے صوبائی دارالحکومت بنا دیا گیا۔
تاہم 1847ء میں انتظامی اور مالیاتی وجوہات کی بنا پر سندھ کو بمبئی پریذیڈنسی (Bombay Presidency) میں شامل کر دیا گیا۔ اسے ایک کمشنری (Commissionership) کا درجہ دے کر بمبئی کے گورنر کے ماتحت کر دیا گیا۔
اگر ہم سندھ کی تاریخ کو قیامِ پاکستان اور ون یونٹ سے پہلے دیکھیں تو اس کا آغاز 1839ء سے ہوتا ہے، جب ایسٹ انڈیا کمپنی نے کراچی پر قبضہ کیا۔
1843ء میں سر چارلس نیپیئر کی قیادت میں ایسٹ انڈیا کمپنی نے پورا سندھ فتح کیا اور 1847ء میں سندھ کو بمبئی پریذیڈنسی (Bombay Presidency) میں شامل کر کے اسے ایک کمشنری (Commissionership) کا درجہ دے کر بمبئی کے گورنر کے ماتحت کر دیا گیا اور یوں سندھ کے معاملات بمبئی سے چلائے جانے لگے۔
سندھ کو بمبئی سے الگ صوبہ بنانے کی ابتدائی آواز 1913ء میں سیٹھ ہرچند رائے وشن داس نے اٹھائی۔ بعد ازاں غلام محمد بھرگڑی، شیخ عبدالمجید سندھی، سر عبداللہ ہارون، شاہنواز بھٹو اور دیگر رہنماؤں نے اس مطالبے کو بھرپور سیاسی تحریک میں بدل دیا۔ قائدِاعظم محمد علی جناح نے بھی 1929ء میں اپنے مشہور چودہ نکات کے نکتہ نمبر 9 میں سندھ کو بمبئی پریذیڈنسی سے الگ کرنے کا واضح مطالبہ کیا۔
اس طویل جدوجہد کے نتیجے میں یکم اپریل 1936ء کو سندھ کو بمبئی پریذیڈنسی سے الگ کر کے ایک مستقل صوبہ بنا دیا گیا اور اسے اپنی قانون ساز اسمبلی مل گئی۔
تاریخ سے واضح ہوتا ہے کہ سندھ اور کراچی کی انتظامی حیثیت مختلف ادوار میں ریاستی ضروریات کے مطابق بدلتی رہی ہے۔ اس لیے آج اس صوبے کے لیے نئے صوبوں یا انتظامی تنظیمِ نو پر بحث کوئی غیر معمولی یا غیر آئینی بات نہیں ہے اور نہ ہی یہ دعویٰ کیا جا سکتا ہے کہ اس صوبے کی موجودہ حدود کو چھیڑا نہیں جا سکتا۔
پچھلی قسط میں ہم نے پنجاب کی آبادی، رقبے، معاشی صلاحیت اور انتظامی ضروریات کی بنیاد پر 6 مجوزہ صوبوں کا ماڈل پیش کیا تھا۔ اگر انتظامی اصلاحات کو واقعی قومی ایجنڈا بنانا ہے تو یہی اصول سندھ اور ملک کی دیگر انتظامی اکائیوں پر بھی یکساں طور پر لاگو ہونے چاہئیں۔
2023ء کی مردم شماری کے اعداد و شمار سندھ کی انتظامی صورتِ حال پر ایک بڑا سوالیہ نشان کھڑا کرتے ہیں۔ صوبے کی کل 5 کروڑ 56 لاکھ سے زائد آبادی میں سے اگر 2 کروڑ 3 لاکھ نفوس کے حامل کراچی ڈویژن کو الگ بھی رکھا جائے، تب بھی بقیہ سندھ کی آبادی 3 کروڑ 53 لاکھ سے تجاوز کرتی ہے۔
ساڑھے 3 کروڑ سے زائد آبادی کسی بھی علاقے کو ایک بڑا اور گنجان آباد خطہ ثابت کرنے کے لیے کافی ہے۔ یہی حقیقت ہمیں یہ سوال اٹھانے پر مجبور کرتی ہے کہ کیا ایک صوبائی دارالحکومت سے چلنے والا موجودہ نظام اتنی بڑی اور مختلف ضروریات رکھنے والی آبادی کے مسائل حل کر پا رہا ہے؟ یا اب وقت آ گیا ہے کہ اختیارات کو نچلی سطح اور نئی انتظامی اکائیوں تک منتقل کر کے بنیادی سہولتیں عوام کے قریب پہنچائی جائیں؟
لیکن کیسے؟
سندھ کی آبادی، طویل فاصلے، معاشی رابطوں اور موجودہ انتظامی حدود کو سامنے رکھا جائے تو اسے 4 صوبائی اکائیوں میں منظم کرنا زیادہ مناسب دکھائی دیتا ہے۔ صرف کراچی کو الگ صوبہ بنانے سے کراچی کا مسئلہ تو کسی حد تک حل ہو سکتا ہے، لیکن باقی سندھ میں اختیارات کی مرکزیت، طویل فاصلے اور انتظامی مشکلات اپنی جگہ برقرار رہیں گی۔
سندھ اس وقت 6 ڈویژنز اور 30 اضلاع پر مشتمل ہے۔ اس لیے ہمارا مجوزہ ماڈل کسی ضلع کو تقسیم کرنے کے بجائے انہی موجودہ اضلاع کو 4 صوبائی اکائیوں میں منظم کرنے پر مبنی ہے۔
1۔ صوبہ کراچی
کراچی ڈویژن کے موجودہ 7 اضلاع کے ساتھ جامشورو ضلع۔
جامشورو کو شامل کرنے سے کراچی کو مستقبل میں پھیلاؤ کے لیے جگہ ملے گی اور کراچی، نوری آباد، کوٹری اور جامشورو کے صنعتی اور معاشی رابطے ایک ہی انتظامی نظام کے تحت آ جائیں گے۔
2۔ صوبہ حیدرآباد
حیدرآباد، مٹیاری، ٹنڈو الہ یار، ٹنڈو محمد خان، بدین، ٹھٹھہ اور سجاول۔
یہ اضلاع جغرافیائی، زرعی، آبی اور سفری اعتبار سے حیدرآباد سے قریبی تعلق رکھتے ہیں، اس لیے حیدرآباد ان کا قدرتی انتظامی مرکز بن سکتا ہے۔
3۔ صوبہ شہید بینظیر یا وسطی و مشرقی سندھ
شہید بینظیر آباد، سانگھڑ، میرپورخاص، عمرکوٹ اور تھرپارکر۔
یہ اکائی وسطی سندھ کے زرعی علاقوں کو مشرقی سندھ اور تھر سے ملائے گی۔ شہید بینظیر آباد کو مرکز بنانے سے اس صوبے کے مختلف حصوں کے درمیان نسبتاً بہتر توازن قائم ہو سکتا ہے۔
4۔ صوبہ سکھر یا بالائی سندھ
سکھر، خیرپور، گھوٹکی، نوشہرو فیروز، لاڑکانہ، قمبر شہدادکوٹ، شکارپور، جیکب آباد، کشمور اور دادو۔
نوشہرو فیروز کے سفری اور معاشی رابطے سکھر اور بالائی سندھ سے زیادہ مضبوط ہیں، جبکہ دادو کا رابطہ بھی دریائے سندھ کے مغربی کنارے پر واقع بالائی اضلاع سے بنتا ہے۔ اس لیے ان دونوں اضلاع کو اس صوبے میں شامل کرنا زیادہ مناسب ہوگا۔
اس ترتیب میں سندھ کے تمام 30 اضلاع شامل ہو جاتے ہیں، کوئی ضلع تقسیم نہیں ہوتا اور موجودہ ضلعی حدود بھی برقرار رہتی ہیں۔ اس طرح ہر صوبائی اکائی کو اپنا واضح انتظامی مرکز اور الگ معاشی بنیاد مل سکتی ہے۔
غور طلب بات یہ ہے کہ سندھ کی یہ جغرافیائی تقسیم کوئی نئی یا مصنوعی تجویز نہیں۔
قدیم مغلیہ اور ترخان ادوار میں سندھ کی تاریخ کا مطالعہ کیا جائے تو یہ بات واضح ہوتی ہے کہ انتظامی نقطۂ نظر سے سندھ کو ہمیشہ تین قدرتی، جغرافیائی اور انتظامی خطوں (Natural and Administrative Regions) میں تقسیم کر کے چلایا جاتا رہا ہے۔
1۔ سِرو (Upper Sindh): شکارپور، سکھر اور جیکب آباد کا بالائی علاقہ۔
2۔ وِچولو (Middle Sindh): حیدرآباد، نواب شاہ اور دادو کا وسطی خطہ۔
3۔ لاڑ (Lower Sindh): ٹھٹھہ، بدین اور کراچی کے ساحلی اور زیریں علاقے۔
ان تینوں خطوں کا اپنا نظامِ سلطنت، ، مقامی لب و لہجہ، یعنی سِرولی/سِروئکی (Siroli/Siroki)، وِچولی اور لاڑی، اور الگ جغرافیائی خصوصیات تھیں۔ حاکمِ وقت، خواہ وہ سومرا ہوں، کلہوڑا ہوں یا تالپور، انتظامی کنٹرول کے لیے ان خطوں کی علاقائی حیثیت کو تسلیم کرتے تھے۔
تالپور دور (1783ء–1843ء) میں تو سندھ کی اس انتظامی تقسیم کو باقاعدہ ریاستی سطح پر نافذ کیا گیا اور یہ نظام چلانے کے لیے باقاعدہ علاقائی و ضلعی حاکم مقرر کیے جاتے تھے، جنہیں اس دور کی اصطلاح میں "کاردار" یا "نواب" کہا جاتا تھا، اور ان کا کام وہی ہوتا تھا جو جدید دورِ حکومت میں ایک گورنر کا ہوتا ہے۔
چونکہ قدیم اور قرونِ وسطیٰ کے سندھ میں اتنے وسیع خطے کو ایک ہی مرکزی نقطے سے چلانا ناممکن سمجھا جاتا تھا، اسی لیے اس دور کی حکمرانی کا اصل فکری محور عدمِ مرکزیت (Decentralization) پر مبنی تھا۔
▫️اس پورے مضمون میں میری کوشش صرف یہ سمجھانے کی رہی ہے کہ یہ جو آج پاکستان میں نئے صوبوں پر سنجیدہ بحث ہو رہی ہے تو سندھ کو بھی اس کی اپنی قدیم تاریخ تہذیب اور جغرافیائی ساخت کی روشنی میں دیکھا جانا چاہیے۔
قدیم سندھ بھی پرانے وقتوں میں ایک ہی انتظامی مرکز سے نہیں چلتا تھا بلکہ اسے سِرو، وِچولو اور لاڑ جیسے تین قدرتی اور انتظامی خطوں میں تقسیم کیا گیا تھا، کیونکہ اس زمانے کے حکمران بھی جانتے تھے کہ اتنے بڑے خطے کو مقامی انتظام کے بغیر مؤثر طور پر نہیں چلایا جا سکتا۔
اگر آج انہی تاریخی بنیادوں پر سندھ میں تین انتظامی صوبے قائم کرکے ان کے نام بھی سِرو، وِچولو اور لاڑ رکھ دیے جائیں تو اسے سندھ کی تقسیم کیسے کہا جا سکتا ہے؟
یہ تو قدیم سندھ کو جدید دور کے تقاضوں کے مطابق دوبارہ بحال کرنا کہلاۓ گا۔
البتہ کراچی کی غیر معمولی آبادی، معیشت اور مسلسل پھیلاؤ کے باعث اسے جامشورو کے ساتھ ایک چوتھی انتظامی اکائی کے طور پر تجویز کیا گیا ہے۔ یوں سندھ نہ اپنی تاریخ سے جدا ہوگا، نہ اپنی تہذیبی شناخت سے۔
(جاری ہے۔۔۔ اگلی قسط میں)
No comments yet.