Home

This article is available in two languages:

پاکستان کے مجوزہ 23 صوبے۔

پاکستان کے مجوزہ 23 صوبے۔

🔳 اگر پاکستان کے 23 صوبے ہوں تو ملک کیسا نظر آئے گا؟
 
▫️ نئے صوبے زبان یا سیاست کی بنیاد پر نہیں، بلکہ آبادی، جغرافیہ، فاصلے اور مالی خود کفالت (Financial Viability) کو دیکھ کر بننے چاہئیں، تاکہ انتظام بہتر ہو اور ملک آگے بڑھے۔
 
▫️ہماری نظر میں نئے صوبوں کی بحث صرف یہ نہیں کہ پاکستان کو کتنے حصوں میں تقسیم کیا جائے۔ اصل سوال یہ ہونا چاہیے کہ ہر صوبے میں ایسا مکمل معاشی نظام کیسے قائم کیا جائے جو وہاں کے لوگوں کو روزگار، کاروبار اور خوشحال زندگی دے سکے۔ اگر ہم نے صرف زبان، ثقافت، دریا یا فصلیں دیکھ کر نئے صوبے بنا دیے، لیکن ان کے اندر ایک مکمل معاشی نظام (Economic Ecosystem) نہ بنایا، تو ہم صرف نقشہ بدلیں گے، پاکستان نہیں
 
▫️بغیر عوامی قبولیت، سیاسی اتفاقِ رائے اور سنجیدہ تحقیق کے کیے گئے انتظامی تجربات حکومتوں کے ساتھ ہی ختم ہو جاتے ہیں۔
 
▫️وفاق اور اکائیوں کے درمیان اختیارات و وسائل کی تقسیم کا کام عالمی سطح پر تسلیم شدہ اصولوں کی روشنی میں ہونا چاہیے۔
 
▫️اگر یہ سمجھا جا رہا ہے کہ صرف نئے صوبے بنانے سے پاکستان کے انتظامی مسائل حل ہو جائیں گے تو یہ درست نہیں۔ نئے صوبوں کے ساتھ بااختیار لوکل گورنمنٹ  یا سٹی ڈسٹرکٹ گورنمنٹ کا نظام بھی لازمی ہونا چاہیے، تاکہ اختیارات اور وسائل واقعی نچلی سطح تک منتقل ہوں۔
 
▫️عوامی و پارلیمانی بحث کے لیے ہمارا تھنک ٹینک اس تحقیق کو قومی اسمبلی، سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے بین الصوبائی رابطہ (Inter-Provincial Coordination) اور مختلف پریس کلبز/یونیورسٹیز میں سیمینارز کی صورت میں پیش کرنے کا ارادہ رکھتا ہے۔اس کے لیے پڑھنے والوں کی راۓ درکار ہے۔
 
🔘 موضوع: کیا پاکستان میں نئے صوبوں کا بننا ضروری ہے؟ | آخری قسط۔
 
🔺 عنوان: پاکستان کے مجوزہ 23 صوبے۔
 
یہ نئے صوبوں کے موضوع پر میری تحقیق کی آخری قسط ہے۔
 
پچھلی 10 اقساط میں ہم نے پاکستان کے مختلف حصوں کا الگ الگ جائزہ لیا اور انتظامی، جغرافیائی اور معاشی حقائق کو سامنے رکھتے ہوئے نئے صوبوں اور انتظامی اکائیوں کی تجاویز پیش کیں۔
 
اب ان تمام تجاویز کو یکجا کیا جائے تو ہمارے سامنے پاکستان کا یہ مجوزہ انتظامی نقشہ آتا ہے، جس میں 23 صوبےاور 1 وفاقی دارالحکومت تجویز کیے گئے ہیں، اور جسے آپ اس مضمون میں دیکھ سکتے ہیں۔
 
یہ ہماری تحقیق اور مطالعے کی بنیاد پر ایک تجویز ہے۔ اب یہ اربابِ اختیار اور پالیسی سازوں کا کام ہے کہ وہ اس تحقیق کو کس حد تک قابلِ عمل سمجھتے ہیں اور مستقبل کی انتظامی اصلاحات میں اس سے کس حد تک رہنمائی لینا چاہتے ہیں۔
 
تحقیق کے اس سلسلے میں ہم نے اپنے تھنک ٹینک میں ہونے والی ریسرچ، اپنے تجربات و مشاہدات اور دستیاب اعداد و شمار کی روشنی میں پاکستان کو ایک نئے اور مختلف زاویے سے دیکھنے کی کوشش کی ہے۔
 
ہمارا مقصد نہ کسی لسانی یا علاقائی تقسیم کی حمایت تھا اور نہ اپنی تجاویز کو حتمی حل قرار دینا۔ ہم نے صرف یہ جاننے کی کوشش کی کہ اگر پاکستان میں نئے صوبے بنانے ہی ہیں تو کیا انہیں زبان اور سیاست کے بجائے جغرافیہ، آبادی، فاصلے، وسائل، معاشی استعداد اور انتظامی ضرورت کی بنیاد پر بھی دیکھا جا سکتا ہے؟
 
ہماری اس تحقیق سے اختلاف بھی ہوا، تنقید بھی ہوئی اور بہت حوصلہ افزائی بھی ملی۔ یہ فطری بات ہے۔ ہر خیال کے سب لوگ ہمنوا نہیں ہو سکتے۔ ہم نے نیک نیتی سے سوال اٹھائے، نقشے بنائے، اعداد و شمار دیکھے اور جہاں کوئی بات ملک و قوم کے لیے قابلِ غور محسوس ہوئی، اسے اپنے پڑھنے والوں کے سامنے رکھ دیا۔
 
اس سلسلے میں ہمارے لیے ایک اور بالکل نیا تجربہ Cartography یعنی باقاعدہ نقشہ سازی بھی تھا۔ ہماری UI/UX اور Art ٹیم نے Britannica Atlas، مختلف مستند ذرائع، جغرافیائی معلومات اور ڈیجیٹل ٹولز کی مدد سے ان نقشوں پر بہت محنت کی، اور ہر قسط کے ساتھ نقشوں کو زیادہ واضح، درست اور معیاری بنانے پر مسلسل کام کیا۔ الحمدللہ ہم اس تجربے میں کامیاب ہوئے اور ہماری ٹیم نے ثابت کیا کہ مناسب تحقیق اور محنت کے ساتھ ہم معیاری Cartographic Design بھی تیار کر سکتے ہیں۔
 
اس پورے کام میں ہمیں یہ احساس بھی مسلسل رہا کہ پاکستان کا سرکاری سیاسی نقشہ ایک حساس اور قانونی اہمیت رکھنے والا معاملہ ہے، اس لیے ہماری کوشش تھی کہ Survey of Pakistan کے جاری کردہ سرکاری نقشے اور اس کی بنیادی پوزیشن سے کوئی غیر ضروری انحراف نہ ہو۔
 
آج AI کے دور میں نقشے بنانا آسان لگتا ہے، مگر سنجیدہ نقشہ سازی صرف AI سے نہیں ہو سکتی۔ ہمارے نقشے AI generated نہیں تھے، انہیں ہماری UI/UX اور Art ٹیم نے مستند ذرائع، گرافک ڈیزائن اور دیگر ڈیجیٹل ٹولز کی مدد سے تیار کیا، جبکہ AI صرف معاون ٹول کے طور پر استعمال ہوا۔
 
آج اس آخری قسط میں، میں پورے موضوع کو سمیٹتے ہوئے صرف یہ دیکھنا چاہتا ہوں کہ تمام  قسطوں کی تصویر ہمارے سامنے کیا بنتی ہے۔
 
چنانچہ ہم نے کئی دہائیوں کی اپنی تحقیق اور کام کو اب باقاعدہ کتابی شکل میں شائع کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ اس سلسلے کی قسطوں میں ہم نے اسی تحقیق کی چند جھلکیاں شیئر کیں، تاکہ نئے صوبوں جیسے اہم موضوع پر سنجیدہ عوامی بحث اور آگاہی پیدا ہو۔
 
لیکن اس پوری بحث کو سمیٹتے ہوئے یہ سمجھنا بھی ضروری ہے کہ دنیا میں نئے صوبے یا وفاقی اکائیاں بنانے کے بنیادی اصول کیا ہیں۔
 
نیا صوبہ کیسے بنایا جائے، حدود کس بنیاد پر طے ہوں، کون سے علاقے ایک ساتھ رکھے جائیں، اور اختیارات وفاق اور صوبے کے درمیان کیسے تقسیم ہوں، ان چاروں پہلوؤں کو کوئی ایک ہی کتاب مکمل طور پر cover نہیں کرتی۔ البتہ معروف مصنف W. Elliot Bulmer کی کتاب Federalism: Constitution-Building Primer 12، جسے International IDEA نے شائع کیا ہے، اس موضوع پر بہت جامع رہنمائی فراہم کرتی ہے۔
 
اس کتاب میں یہ سمجھایا گیا ہے کہ وفاق کے اندر مختلف صوبوں یا علاقوں کی حدیں کس بنیاد پر طے ہونی چاہئیں، ان کے پاس کتنے اور کون سے اختیارات ہوں، آمدنی اور وسائل کی تقسیم کیسے ہو، اور اگر کچھ علاقوں کو دوسروں سے مختلف اختیارات دینے ہوں تو اس کا طریقہ کیا ہو۔
اگر آپ واقعی یہ سمجھنا چاہتے ہیں کہ نئے صوبے بناتے وقت کن باتوں کا خیال رکھا جائے، تو یہ کتاب اس کام میں براہِ راست مدد دیتی ہے۔
 
بھارت کی مثال بھی اس حوالے سے خاصی اہم ہے۔ آزادی کے صرف چھ سال بعد، 1953 میں پنڈت جواہر لال نہرو کی حکومت نے جسٹس فضل علی کی سربراہی میں States Reorganisation Commission قائم کیا، جس کا کام یہ طے کرنا تھا کہ ملک کی ریاستوں کی نئی حدود کن اصولوں پر بنائی جائیں۔
 
کمیشن نے تقریباً دو سال تحقیق کی اور 1955 میں اپنی رپورٹ پیش کی۔ اس کا کہنا تھا کہ لوگوں کی زبان، ثقافت اور مقامی شناخت اہم ضرور ہیں، لیکن صرف انہی بنیادوں پر نئی ریاست نہیں بنائی جا سکتی۔ اس کے لیے یہ بھی دیکھنا ضروری ہے کہ علاقہ انتظامی طور پر کتنا قابلِ عمل ہے، اس کی معیشت کیسی ہے، جغرافیہ کیا ہے، مختلف علاقوں کا آپس میں رابطہ کتنا ہے اور وہاں کے لوگ کیا چاہتے ہیں۔ خاص طور پر یہ بات اہم سمجھی گئی کہ نئی ریاست مالی طور پر اپنے اخراجات اٹھانے کے قابل بھی ہو۔

 
اسی رپورٹ کے بعد 1956 میں States Reorganisation Act منظور کیا گیا اور آئین میں Seventh Amendment کے ذریعے بھارت کے ریاستی نقشے میں بڑے پیمانے پر تبدیلیاں کی گئیں۔
 
اسی تنظیمِ نو کے نتیجے میں Kerala ایک نئی ریاست کے طور پر وجود میں آیا، Mysore کو مختلف علاقوں کو ملا کر نئی شکل دی گئی، جبکہ Bombay سمیت کئی دوسری ریاستوں کی حدود بھی ازسرِنو ترتیب دی گئیں۔ یعنی ہر جگہ ایک ہی پیمانہ نہیں لگایا گیا بلکہ ہر علاقے کے حالات الگ دیکھے گئے۔
 
یہ رپورٹ آج بھی بھارت کی وزارت داخلہ کے سرکاری ریکارڈ میں موجود ہے اور ریاستوں کی تنظیم نو کے بنیادی تاریخی حوالوں میں شمار ہوتی ہے۔ (Ministry of Home Affairs)
 
جسٹس فضل علی کمیشن کی مثال دینے کا مقصد بھارت کی نقل کرنا نہیں، بلکہ یہ دکھانا ہے کہ ملک کا انتظامی نقشہ بدلنے سے پہلے تحقیق، واضح معیار اور باقاعدہ منصوبہ بندی ضروری ہوتی ہے۔ بھارت نے 1953 میں کمیشن بنایا، دو سال غور کیا، پھر 1956 میں ریاستوں کی تنظیمِ نو کی۔ سوال یہ ہے کہ پاکستان اگر نئے صوبے بنانے جا رہا ہے تو اس سے پہلے ہماری ایسی تحقیق کہاں ہے؟
 
یہی سوال میں نے اپنی ایک قسط میں وزیر داخلہ محسن نقوی کے نام کھلے خط میں 15 سوالات کی صورت میں اٹھایا تھا۔ یہ کوئی پیچیدہ علمی سوالات نہیں تھے، بلکہ ایسے بنیادی سوالات تھے جو نئے صوبوں کی بات کرنے والا ہر شخص پہلے خود سے پوچھے گا۔ حدود کس بنیاد پر بنیں گی؟ مالی نظام کیا ہوگا؟ اختیارات کیسے تقسیم ہوں گے؟ نئی اکائیاں اپنا خرچ کیسے چلائیں گی؟ اور عوام سے مشاورت کہاں ہے؟
 
اگر حکومت ان بنیادی سوالوں کے جواب بھی قوم کے سامنے نہیں رکھ سکتی تو پھر پورا منصوبہ کس بنیاد پر کھڑا ہوگا؟
 
پاکستان کی تاریخ ہمیں بار بار یہی سبق دیتی ہے کہ بڑے نظام صرف اقتدار کے زور پر زیادہ دیر نہیں چلتے۔ ایوب خان کا نظام ہو، بھٹو دور کی بعض بڑی انتظامی تبدیلیاں ہوں، ضیاء الحق کا نظام ہو یا پرویز مشرف کا مقامی حکومتوں کا منصوبہ، جو اصلاح عوامی اور سیاسی بنیاد نہ بنا سکے، وہ حکومت بدلنے کے ساتھ کمزور پڑ گئی یا ختم ہو گئی۔
 
اس لیے نئے صوبے صرف ایک حکومتی اعلان سے نہیں بنیں گے۔ انہیں تحقیق، قومی اتفاق، سیاسی تسلسل اور عوامی قبولیت کی بنیاد چاہیے۔ ورنہ خدشہ یہی ہے کہ مستقبل میں جب بھی موجودہ حکومت رخصت ہو گی، اس کے ساتھ ساتھ یہ منصوبہ بھی رخصت ہو جائے گا۔
 
یہ بھی یاد رہے کہ اگر یہ سمجھا جا رہا ہے کہ صرف نئے صوبے بنا دینے سے پاکستان کے انتظامی مسائل حل ہو جائیں گے تو یہ درست نہیں۔ اصل اصلاحات کے لیے دو کام ایک ساتھ ضروری ہیں: نئے صوبوں کی تشکیل اور ہر صوبے میں بااختیار Local Government یا City District Government کا لازمی نظام۔ جس طرح ایک صوبے کے لیے آئینی اور انتظامی ڈھانچہ ضروری ہے، اسی طرح مقامی حکومت بھی اس کا لازمی حصہ ہونی چاہیے۔ اگر اختیارات اور وسائل صوبائی دارالحکومت سے آگے اضلاع، شہروں اور یونین کونسلوں تک منتقل نہیں ہوتے تو صرف صوبوں کی تعداد بڑھانے سے عام آدمی کی زندگی میں بنیادی تبدیلی نہیں آئے گی۔
 
آخری بات یہ ہے کہ آج کل لوگ لمبی تحریریں کم پڑھتے ہیں اور نقشوں، تصویروں، ویڈیوز اور گرافکس کی طرف زیادہ توجہ دیتے ہیں۔ اسی لیے ہم نے بھی نئے صوبوں کے اس موضوع کو صرف تحریر تک محدود نہیں رکھا بلکہ نقشوں اور اعداد و شمار کے ذریعے آسان انداز میں سمجھانے کی کوشش کی۔
 
لیکن تحقیق یہ بھی بتاتی ہے کہ کسی سنجیدہ بات کو اچھی طرح سمجھنے اور یاد رکھنے کے لیے پڑھنے کی اہمیت اب بھی بہت زیادہ ہے۔ Pablo Delgado اور ان کے ساتھیوں کی معروف Meta Analysis “Don’t throw away your printed books” میں 2000 سے 2017 تک کی تحقیقات کا جائزہ لیا گیا اور یہ سامنے آیا کہ کئی صورتوں میں کاغذ پر پڑھنے سے بات اسکرین کے مقابلے میں بہتر سمجھ آتی ہے۔
 (ScienceDirect)
 
اسی طرح “Picture This: A Review of Research Relating to Narrative Processing by Moving Image versus Language” میں یہ بتایا گیا ہے کہ جب ہم تحریر پڑھتے ہیں تو ذہن خود اس کی تصویریں بناتا اور بات کو سمجھتا ہے، جبکہ ویڈیو میں زیادہ تر تصویریں پہلے ہی ہمارے سامنے موجود ہوتی ہیں۔ (Frontiers)
 
یعنی Visuals کسی بات کو جلدی سمجھانے اور توجہ حاصل کرنے کے لیے بہت مفید ہیں، لیکن کسی موضوع کو گہرائی سے سمجھنے کے لیے مطالعہ اور کتاب آج بھی ضروری ہیں۔
 
فیس بک پر اس موضوع کو اٹھانے کا مقصد بھی یہی تھا کہ نئے صوبوں جیسے اہم قومی معاملے کو آسان انداز میں لوگوں کے سامنے لایا جائے اور اس پر سنجیدہ بحث شروع ہو۔
 
اسی سوچ کے تحت ہماری ان اقساط پر مبنی کتاب اردو اور انگریزی زبان میں ترتیب و طباعت کے مراحل میں ہے اور بہت جلد قارئین کے سامنے ہو گی۔
 
ہماری کوشش ہے کہ یہ تحقیق صرف ایک کتاب تک محدود نہ رہے بلکہ اسے E Book کی صورت میں بھی دستیاب کیا جائے، تاکہ پاکستان اور بیرونِ ملک طلبہ، پالیسی ساز، سول بیوروکریسی، قانون دانوں، بین الاقوامی محققین (Think Tanks) اور اس موضوع میں دلچسپی رکھنے والے دوسرے لوگوں کے لیے اس تک رسائی آسان ہو۔
 
ان شاء اللہ یہ کتاب بہت جلد آپ کے سامنے ہوگی۔ اس کی اشاعت اور دستیابی کی تمام تفصیلات ہماری ویب سائٹ SyedShayan.com پر جاری کر دی جائیں گی۔
 
اس کے ساتھ ہی  نئے صوبوں پر ہماری دس اقساط پر مشتمل یہ تحقیقی سلسلہ مکمل ہوتا ہے۔
 
(اختتام)
 
⭕️ پاکستان میں نئے صوبوں کی تشکیل ایک اہم قومی بحث ہے۔ اس سلسلے میں آپ کی رائے، تجاویز اور اختلاف ہمارے لیے قابلِ قدر ہیں۔
مکمل مضمون اور اس کی تمام اقساط پڑھنے کے لیے ہمارے تھنک ٹینک اور ویب پورٹل SyedShayan.com پر لاگ اِن کرکے اس کی فری ممبرشپ حاصل کریں اور اپنی رائے و تجاویز کے ساتھ اس قومی بحث کا حصہ بنیں۔
3
0
Views
34
0

پچھلی تحریریں

کیا آزاد کشمیر کو پاکستان کا صوبہ بنا دینا چاہیے؟

🔳 کیا 1970ء کی دہائی میں ذوالفقار علی بھٹو کی تجویز پر آزاد کشمیر کو پاکستان کا پانچواں صوبہ نہ بنانے سے کشمیری عوام کے حقوق، نمائندگی اور وفاق میں شمولیت کا ایک تاریخی موقع ضائع ہو گیا تھا؟ ▫️جسے آج ہم آزاد کشمیر کہتے ہیں، اس کا بیشتر علاقہ کبھی وادیٔ کشمیر کا حصہ نہیں رہا۔ میرپور، بھمبر اور کوٹلی کا جغرافیائی و ثقافتی رشتہ جہلم، پوٹھوہار اور جموں کے پہاڑی علاقوں سے تھا۔ پونچھ اور سدھنوتی پیر پنجال کے مغربی حصے میں تھے، جبکہ نیلم کا بالائی خطہ ہزارہ، کاغان اور شمالی پہاڑی علاقوں سے جغرافیائی طور پر زیادہ قریب اور منسلک تھا۔ ▫️آج 79 سال بعد ہم اتنا سوال تو پوچھ ہی سکتے ہیں کہ آزاد کشمیر کی عبوری حیثیت کو 52 سال ہو چکے ہیں، آخر یہ کب تک عبوری رہے گی؟ ہر عبوری مدت کی کوئی نہ کوئی حد تو ہونی چاہیے۔ ▫️آزاد کشمیر یا گلگت بلتستان کو مکمل صوبہ بنانے کے بجائے عارضی صوبائی درجہ دیا جا سکتا ہے، تاکہ انہیں قومی اسمبلی، سینیٹ اور NFC جیسے حقوق مل جائیں، مگر ساتھ یہ شرط رہے کہ کشمیر کا آخری فیصلہ بعد میں ہوگا۔ ▫️حیرت ہے کہ آزاد کشمیر کے شہری کو تعلیم، صحت، پولیسنگ اور دیگر شعبوں میں فی کس سرکاری خرچ پنجاب اور بعض دیگر صوبوں کے مقابلے میں زیادہ مل رہا ہے، لیکن اس کے باوجود وہ پاکستان کے وفاقی آئینی نظام میں براہِ راست نمائندگی سے محروم ہے۔ ▫️یہ تحریر بتاتی ہے کہ اگر آزاد کشمیر کے موجودہ انتظامی ڈھانچے کو تبدیل کر کے اسے پاکستان کا نیا صوبہ بنایا جائے تو اس کے معاشی اور سیاسی اثرات کیا ہوں گے۔ 🔳 موضوع: کیا پاکستان میں نئے صوبوں کا بننا ضروری ہے؟ | قسط 9 عنوان: کیا آزاد کشمیر کو پاکستان کا صوبہ بنا دینا چاہیے؟ 🔺پاکستان میں نئے صوبے بنانے کی بحث اور آزاد کشمیر نئے صوبے بنائے جانے یا نہ بنائے جانے کے موضوع پر ہمارا تھنک ٹینک اب تک 8 اقساط شائع کر چکا ہے، یہ اس سلسلے کی نویں قسط ہے۔ 5 نومبر 1973 کو سابق وزیراعظم ذوالفقار علی بھٹو نے مظفرآباد کے نیلم اسٹیڈیم میں ایک بڑے جلسۂ عام سے خطاب کرتے ہوئے کہا تھا کہ اگر آزاد کشمیر کے لوگ چاہیں تو انہیں پاکستان جیسا پارلیمانی نظام دیا جا سکتا ہے، آزاد کشمیر کو صوبائی نوعیت کی حیثیت دی جا سکتی ہے اور ریاست جموں و کشمیر کو پاکستان کی وفاقی مقننہ میں نمائندگی بھی مل سکتی ہے۔ سب سے اہم بات یہ تھی کہ بھٹو اسے مسئلۂ کشمیر کے حتمی فیصلے تک عبوری انتظام کے طور پر پیش کر رہے تھے، مستقل الحاق کے طور پر نہیں۔ اس کے ساتھ انہوں نے حقِ خودارادیت کے بارے میں پاکستان کے مؤقف کو بھی برقرار رکھنے کی بات کی۔ [حوالہ: Dawn Archives، 6 نومبر 1973] بعد میں Institute of Policy Studies کی آزاد کشمیر کی آئینی تاریخ پر ایک تحقیق میں بھی لکھا گیا ہے کہ ذوالفقار علی بھٹو آزاد کشمیر کو پاکستان کے ساتھ زیادہ قریب آئینی طور پر جوڑنا چاہتے تھے اور انہوں نے آزاد کشمیر کے عوام کے سامنے پاکستان کا پانچواں صوبہ بننے کا آپشن بھی رکھا تھا۔ [حوالہ: ارشاد محمود، “Status of AJK in Political Milieu”، Institute of Policy Studies (IPS)، اسلام آباد، 2006] لیکن آزاد کشمیر کی سیاسی قیادت کے ایک حصے، خصوصاً سردار محمد عبدالقیوم خان اور ان کی مسلم کانفرنس نے اس سوچ کی مخالفت کی۔ دوسرے قوم پرست اور کشمیری حلقوں میں بھی یہ خدشہ موجود تھا کہ آزاد کشمیر کو پاکستان کا صوبہ بنانے سے مسئلۂ کشمیر، حقِ خودارادیت اور رائے شماری کا مؤقف کمزور ہوگا اور بھارت کو بھی اپنے زیرِ انتظام کشمیر کو مستقل طور پر ضم کرنے کا جواز مل سکتا ہے۔ چنانچہ مکمل صوبہ بنانے کے بجائے ایک درمیانی راستہ نکالا گیا۔ کافی سیاسی بحث اور مذاکرات کے بعد 10 جون 1974 کو اسلام آباد میں بھٹو، آزاد کشمیر کے صدر سردار عبدالقیوم خان اور آزاد کشمیر کی سیاسی جماعتوں کے رہنماؤں کے درمیان نئے آئینی بندوبست پر اتفاق ہوا۔ اسی اتفاق کے نتیجے میں 1974 کا Azad Jammu and Kashmir Interim Constitution Act سامنے آیا، جس نے آزاد کشمیر میں پارلیمانی نظام قائم کیا اور پاکستان کے ساتھ تعلق کے لیے کشمیر کونسل کا نظام تشکیل دیا۔ 1974 کے آئین کے دیباچے میں لکھا گیا کہ جموں و کشمیر کی حتمی حیثیت ابھی طے ہونا باقی ہے، اور آزاد کشمیر کے بہتر انتظام کے لیے یہ بندوبست “until such time as the status of Jammu and Kashmir is determined” کیا جا رہا ہے۔ [حوالہ: AJ&K Interim Constitution, 1974، سرکاری متن] لیکن آج 2026 میں اس عبوری بندوبست کو 52 سال ہو چکے ہیں۔ نہ مسئلۂ کشمیر حل ہوا، نہ یہ عبوری حیثیت ختم ہوئی، نہ آزاد کشمیر پاکستان کا باقاعدہ صوبہ بنا اور نہ ہی اسے قومی اسمبلی اور سینیٹ میں صوبوں جیسی مکمل نمائندگی مل سکی۔ 1970ء کی دہائی میں یہ خدشہ تھا کہ اگر پاکستان آزاد کشمیر کو اپنا صوبہ بنا لیتا ہے تو بھارت بھی اپنے زیرِ انتظام کشمیر کو اپنے ملک میں شامل کرنے کا جواز بنا سکتا ہے۔ لیکن 5 اگست 2019 کو بھارت نے پاکستان کے کسی ایسے فیصلے کے بغیر ہی جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کر دی، اور بعد میں اسے جموں و کشمیر اور لداخ کے نام سے دو الگ وفاقی علاقوں میں تقسیم کر دیا۔ اب 52 سال بعد پاکستان کے سامنے ایک سیدھا سوال ہے۔ اگر وہ بنیادی خدشہ، جس کی وجہ سے آزاد کشمیر کو عبوری حیثیت میں رکھا گیا تھا، بدلتے ہوئے زمینی حالات میں اپنی پرانی شکل میں باقی نہیں رہا، تو پھر ہماری آئندہ پالیسی کیا ہونی چاہیے؟ ▫️کیا آزاد کشمیر مزید کئی دہائیاں اسی عبوری حیثیت میں رہے گا؟ ▫️کیا اسے پاکستان کی قومی اسمبلی اور سینیٹ میں باقاعدہ نمائندگی دی جائے گی؟ ▫️کیا اسے کسی واضح اور مستقل آئینی حیثیت کی طرف لے جایا جائے گا، یا موجودہ عبوری نظام ہی چلتا رہے گا؟ ▫️اور اگر یہی نظام برقرار رکھنا ہے تو پھر اس کی مدت اور آخری منزل کیا ہے؟ کیونکہ ایک طرف آزاد کشمیر کی حیثیت آج بھی عبوری ہے اور دوسری طرف اس کا انتظام، ترقیاتی اخراجات اور مالی ضروریات بڑی حد تک پاکستان کے ساتھ جڑی ہوئی ہیں۔ اس لیے اب صرف پرانی دلیل دہرانا کافی نہیں۔ 52 سال بعد اب ہماری حکومت کو یہ بتانا لازم ہو گیا ہے کہ آگے کا راستہ کیا ہے؟ اس سوال کا ایک اہم پہلو مالی بھی ہے۔ آزاد کشمیر کا موجودہ نظام پاکستان کے مالی تعاون کے بغیر آسانی سے نہیں چل پا رہا، جبکہ پاکستان خود بھی شدید معاشی دباؤ کا سامنا کر رہا ہے۔ ایسے میں یہ دیکھنا ضروری ہے کہ کشمیر کو دی جانے والی موجودہ مالی امداد کب تک اسی شکل میں جاری رہ سکتی ہے، اس کے بدلے آزاد کشمیر کی اپنی مالی ذمہ داری کیا ہے، اور مستقبل میں پاکستان اور آزاد کشمیر کے درمیان ایک زیادہ واضح، پائیدار اور جواب دہ مالی تعلق کس طرح قائم کیا جائے۔ 2025–26 کے بجٹ میں آزاد کشمیر کو Rs149 ارب Federal Variable Grant دی گئی، جبکہ Rs49 ارب ترقیاتی بجٹ کے لیے رکھے گئے۔ 2026–27 میں بھی پاکستان کی طرف سے یہ رقم جاری رہی، جس میں Rs146 ارب Federal Variable Grant اور Rs36 ارب ترقیاتی بجٹ شامل تھا۔ یعنی صرف ان دو مالی سالوں کے لیے 2025–26 میں تقریباً Rs198 ارب اور 2026–27 میں تقریباً Rs182 ارب پاکستان کی طرف سے آزاد کشمیر کے لیے رکھے گئے۔ مجھے سب سے زیادہ حیرت اس وقت ہوئی جب میں نے اس گرانٹ کو آزاد کشمیر کی آبادی پر تقسیم کر کے دیکھا۔ صحت، تعلیم اور پولیس جیسے کئی بنیادی شعبوں میں آزاد کشمیر کے ایک شہری پر سرکاری خرچ پنجاب جیسے بڑے صوبوں اور دیگر صوبوں کے شہریوں کے مقابلے میں کہیں زیادہ نکلتا ہے۔ یعنی ایک طرف آزاد کشمیر کا موجودہ مالی نظام بڑی حد تک پاکستان سے آنے والی وفاقی رقوم پر چل رہا ہے، اور دوسری طرف وہاں بعض شعبوں میں فی کس سرکاری خرچ پاکستان کے بڑے صوبوں سے بھی زیادہ ہے۔ سوال یہ نہیں کہ آزاد کشمیر کے شہری کو زیادہ سہولت کیوں مل رہی ہے، سہولت ضرور ملنی چاہیے۔ اصل سوال یہ ہے کہ جب پاکستان اتنا بڑا مالی بوجھ اٹھا رہا ہے تو پھر آزاد کشمیر کے شہری کو پاکستان کے وفاقی آئینی نظام میں مکمل نمائندگی اور جواب دہی کیوں حاصل نہیں؟ اب اصل سوال یہ ہے کہ یہ سلسلہ کب تک اور کس مقصد کے تحت چلتا رہے گا؟ پاکستان خود مہنگائی، قرضوں اور مالی دباؤ میں ہے۔ ایسے میں یہ پوچھنا ہرگز غلط نہیں کہا جا سکتا کہ جو پیسہ آزاد کشمیر پر خرچ ہو رہا ہے، وہ کس پالیسی اور کس مقصد کے تحت ہو رہا ہے؟ خاص طور پر اب جبکہ مسلم لیگ ن آزاد کشمیر میں حکومت بنانے کی پوزیشن میں ہے اور مزید سہولتوں اور ترقیاتی کاموں کی بات ہو رہی ہے، تو سیدھا سا سوال یہ ہے کہ اس سب کے لیے پیسہ کہاں سے آئے گا؟ اور اگر یہ پیسہ پاکستان سے آنا ہے تو پھر پاکستان کے اپنے لوگوں کی ضروریات اور آزاد کشمیر کے خرچ میں توازن کیسے رکھا جائے گا؟ اگر آزاد کشمیر کا موجودہ تعلق پاکستان کے ساتھ ہی برقرار رہنا ہے، تو پھر یہ بھی واضح ہونا چاہیے کہ اس کی آئینی حیثیت کیا ہوگی، وفاق میں اسے کتنی نمائندگی ملے گی، وہ اپنی آمدنی کیسے بڑھائے گا اور پاکستان اس پر کتنا خرچ کرے گا۔ یہ سب ایک واضح منصوبے کے تحت طے ہونا چاہیے، ورنہ 52 سال بعد بھی سوال یہی رہے گا کہ ہم آخر جا کہاں رہے ہیں؟ آزاد کشمیر کے پاس اپنی حکومت، اسمبلی، سپریم کورٹ، ہائی کورٹ، Board of Revenue، Inland Revenue Department اور اپنا ٹیکس نظام موجود ہے، لیکن مالی طور پر وہ مکمل خودمختار نہیں۔ 2018 کے بعد ٹیکس کے کئی اختیارات آزاد کشمیر حکومت کو منتقل ہوئے، مگر آج بھی اسے پاکستان کے وفاقی ٹیکسوں میں سے Variable Grant ملتی ہے اور ترقیاتی اخراجات میں بھی وفاقی مدد شامل رہتی ہے۔ آزاد کشمیر کے قوم پرست اور عوامی حلقوں میں ایک مؤقف بار بار سامنے آتا ہے کہ پاکستان آزاد کشمیر کو سالانہ جو رقم دیتا ہے، وہ ہمیں کوئی “بھیک” نہیں دیتا، بلکہ پانی، پن بجلی، ٹیکس اور دوسرے وسائل میں آزاد کشمیر کا اپنا حصہ بنتا ہے۔ ان حلقوں کا دعویٰ ہے کہ آزاد کشمیر سے پاکستان کو ملنے والا فائدہ اس مالی مدد سے کم نہیں جو واپس دی جاتی ہے۔ لیکن دستیاب سرکاری اعداد ابھی اس دعوے کا مکمل حساب ثابت نہیں کرتے۔ اس لیے اصل ضرورت ایک صاف اور audited حساب کی ہے کہ آزاد کشمیر پاکستان کو مجموعی طور پر کتنا دیتا ہے اور پاکستان اسے مجموعی طور پر کتنا دیتا ہے۔ جب تک یہ حساب سامنے نہیں آتا، دونوں طرف کے دعوے شکوک کا ماحول بنائے رکھیں گے۔ اس وقت ملک میں جب صوبوں کے رقبے، سرحدوں اور انتظامی ڈھانچے کی نئی ترتیب پر بحث ہو رہی ہے، تو یہی مناسب وقت ہے کہ آزاد کشمیر کی 52 سالہ عبوری حیثیت پر بھی واضح فیصلہ کیا جائے۔ آج اگر آئینی ترمیم کے ذریعے آزاد جموں و کشمیر کو پاکستان کا باقاعدہ صوبہ بنایا جائے تو موجودہ نظام مکمل طور پر ختم کرنے کے بجائے صوبائی شکل اختیار کر سکتا ہے۔ وزیراعظم کی جگہ وزیراعلیٰ، صدر کی جگہ گورنر اور موجودہ قانون ساز اسمبلی صوبائی اسمبلی بن سکتی ہے۔ اس صورت میں عام کشمیری کو یہ بڑے فوائد حاصل ہو سکتے ہیں: 1- قومی اسمبلی اور سینیٹ میں نمائندگی آزاد کشمیر کے لوگ پہلی مرتبہ پاکستان کی قومی اسمبلی اور سینیٹ میں براہِ راست آئینی نمائندگی حاصل کر سکیں گے اور وفاقی حکومت، قانون سازی اور قومی فیصلوں میں ان کا حصہ ہوگا۔ 2- پاکستان کی قومی سیاست میں مکمل شرکت کشمیری ووٹر صرف آزاد کشمیر کی مقامی سیاست تک محدود نہیں رہے گا بلکہ پاکستان کی حکومت بنانے، وزیراعظم کے انتخاب اور قومی پالیسیوں پر اثر انداز ہونے کا آئینی حق بھی حاصل کرے گا۔ ‏3- NFC اور وفاقی مالیاتی نظام میں باقاعدہ حصہ خصوصی گرانٹس اور عارضی مالی بندوبست کے بجائے آزاد کشمیر کا وفاق کے ساتھ مالی تعلق دوسرے صوبوں کی طرح آئینی اور مستقل بنیاد پر طے کیا جا سکے گا۔ 4- پن بجلی اور قدرتی وسائل کے حقوق واضح ہوں گے دریاؤں، پن بجلی، جنگلات، معدنیات اور دوسرے قدرتی وسائل سے حاصل ہونے والی آمدن میں آزاد کشمیر کے حصے اور حقوق کو آئینی اور مالی اصولوں کے تحت زیادہ واضح طریقے سے طے کیا جا سکے گا۔ 5- وفاقی ترقیاتی منصوبوں اور اداروں میں واضح حصہ سڑکوں، موٹرویز، ہسپتالوں، یونیورسٹیوں، بجلی، پانی اور دوسرے بڑے منصوبوں کے ساتھ وفاقی ملازمتوں اور قومی اداروں میں آزاد کشمیر کا حصہ زیادہ واضح آئینی بنیاد پر مقرر کیا جا سکے گا۔ 6- اپنی صوبائی حکومت بھی، وفاقی حقوق بھی آزاد کشمیر کی اپنی حکومت، وزیراعلیٰ، گورنر، صوبائی اسمبلی، ہائی کورٹ اور انتظامیہ موجود رہ سکتی ہے، لیکن اس کے ساتھ قومی اسمبلی، سینیٹ اور وفاقی مالیاتی نظام میں بھی مکمل حصہ مل جائے گا۔ 7- 52 سالہ عبوری حیثیت کا خاتمہ سب سے بڑا فائدہ یہ ہوگا کہ 1974 سے چلی آنے والی غیر واضح عبوری حیثیت ختم ہو کر آزاد کشمیر کی آئینی شناخت، وفاق سے تعلق، مالی حقوق اور سیاسی نمائندگی واضح طور پر پاکستان کے آئین میں درج ہو جائیں گے۔ ان سات نکات سے یہ واضح ضرور ہو جاتا ہے کہ صوبائی حیثیت آزاد کشمیر کے لوگوں کو سیاسی، مالی اور آئینی طور پر زیادہ واضح حقوق دے سکتی ہے۔ آزاد کشمیر کے معاملات کو باریک بینی سے سمجھنے کے لیے اس کے نقشے اور جغرافیائی شکل کو سمجھنا بھی ضروری ہے، کیونکہ اسی سے خطے کے امن، ترقی اور مستقبل کے بارے میں بہتر فیصلے کیے جا سکتے ہیں۔ اگر آزاد کشمیر کے نقشے کو ہم غور سے دیکھیں تو آزاد کشمیر ایک لمبی، تنگ اور کمان نما پٹی کی شکل میں بھمبر سے وادیٔ نیلم تک پھیلا ہوا نظر آتا ہے۔ اس کی شکل ایک دلچسپ کہانی سناتی ہے۔ یہ جنوب میں گجرات کے قریب بھمبر سے شروع ہوتا ہے، میرپور اور کوٹلی سے گزرتا ہوا پونچھ کی طرف مڑتا ہے، پھر مظفرآباد پہنچتا ہے اور وہاں سے وادیٔ نیلم کے ساتھ ساتھ بہت دور شمال مشرق تک چلا جاتا ہے۔ یوں یہ کوئی گول یا چوکور خطہ نہیں بلکہ پہاڑوں اور وادیوں کے درمیان پھیلی ہوئی ایک لمبی، پتلی اور جگہ جگہ مڑتی ہوئی زمینی پٹی ہے۔ ایک سرے سے دوسرے سرے تک اس کی لمبائی تقریباً 400 کلومیٹر بتائی جاتی ہے، جبکہ چوڑائی کہیں صرف چند درجن کلومیٹر رہ جاتی ہے اور کہیں نسبتاً زیادہ ہو جاتی ہے۔ کل رقبہ 13,297 مربع کلومیٹر ہے، جسے آج 3 ڈویژنز اور 10 اضلاع میں تقسیم کیا گیا ہے اور 2023 کے اندازوں کے مطابق یہاں تقریباً 44.6 لاکھ لوگ آباد ہیں۔ نقشہ سامنے رکھیں تو ایک اور دلچسپ بات فوراً ذہن میں آتی ہے: جس لمبی پٹی کو آج ہم “آزاد کشمیر” کہتے ہیں، کیا تاریخی اور جغرافیائی طور پر یہ سارا علاقہ واقعی وادیٔ کشمیر تھا؟ لیکن یہاں ایک تاریخی فرق سمجھنا ضروری ہے۔ موجودہ آزاد کشمیر کا بیشتر علاقہ جغرافیائی طور پر وادیٔ کشمیر کا حصہ نہیں تھا۔ اصل وادیٔ کشمیر سری نگر کے گرد پھیلی ہوئی وہ پیالہ نما وادی ہے جو آج بھارت کے زیرِ انتظام ہے۔ موجودہ آزاد کشمیر کے میرپور، بھمبر اور کوٹلی کے علاقے جموں اور پوٹھوہار سے جڑے ہوئے تھے، جبکہ پونچھ پیر پنجال کے مغربی حصے میں واقع تھا۔ البتہ 1947 میں یہ سب علاقے ریاست جموں و کشمیر کا حصہ تھے، اور اسی تاریخی نسبت سے آج انہیں آزاد جموں و کشمیر کہا جاتا ہے۔ اس فرق کو اسلام آباد کی ایک سادہ مثال سے سمجھیں۔ اسلام آباد کا قانونی رقبہ آج بھی تقریباً 906 مربع کلومیٹر ہے اور یہی اصل Islamabad Capital Territory ہے۔ لیکن اسلام آباد شہر پھیلتے پھیلتے اپنی قانونی حدود سے بہت آگے نکل چکا ہے۔ آج روات، چکری اور نئے اسلام آباد انٹرنیشنل ایئرپورٹ کے آس پاس بلکہ اس سے بھی آگے تک ہاؤسنگ سوسائٹیاں، کاروبار اور نئی آبادیاں اپنے نام اور پتے کے ساتھ “اسلام آباد” استعمال کر رہی ہیں۔ خود Islamabad International Airport کو ہی دیکھ لیجیے: نام اس کا اسلام آباد ہے، پورا ملک اسے اسلام آباد ایئرپورٹ کہتا ہے، لیکن جس زمین پر یہ بنا ہوا ہے وہ Islamabad Capital Territory کا حصہ نہیں بلکہ فتح جنگ اور راولپنڈی کی طرف پنجاب کی حدود میں واقع ہے۔ (Dawn) تو کیا صرف نام اسلام آباد رکھ دینے سے وہ زمین بھی اسلام آباد بن گئی؟ ہرگز نہیں۔ اسی طرح روات، چکری یا فتح جنگ کی طرف کسی علاقے کو کاروباری یا عام بول چال میں اسلام آباد کہنے سے اس کی اصل ضلعی اور صوبائی حیثیت ختم نہیں ہو جاتی۔ ہاں، اسلام آباد اور اس کے اردگرد پھیلتی ہوئی اس پوری آبادی کو سہولت کے لیے “گریٹر اسلام آباد” کہا جا سکتا ہے، مگر اس سے اصل اسلام آباد کی قانونی حدود تبدیل نہیں ہوتیں۔ یہی فرق ذہن میں رکھیں تو کشمیر کے نام اور وادیٔ کشمیر کے اصل جغرافیے کو سمجھنا بھی بہت آسان ہو جاتا ہے۔ بالکل اسی طرح “کشمیر” کا نام بھی جغرافیائی وادیٔ کشمیر سے کہیں بڑی سیاسی اور تاریخی شناخت بن گیا۔ اس کا مطلب یہ نہیں کہ آج کے آزاد کشمیر کے لوگوں کی شناخت کو رد کر دیا جائے؛ بات صرف اتنی ہے کہ وادیٔ کشمیر اور ریاست جموں و کشمیر دو الگ جغرافیائی تصورات تھے۔ اس فرق کو سمجھے بغیر ہم آج کے مسئلے کا حل بھی درست طریقے سے نہیں سوچ سکتے۔ قارئین! اس پوری بحث کا مقصد کسی تاریخی مؤقف کو رد کرنا یا کسی ایک فیصلے کو درست ثابت کرنا نہیں، بلکہ یہ پوچھنا ہے کہ 52 سال بعد بھی آزاد کشمیر کی آئینی اور سیاسی حیثیت اب تک کیوں واضح نہیں ہو سکی؟ اگر پاکستان کے ساتھ کشمیر کا مستقبل وابستہ ہے تو پھر اس کی نمائندگی، مالی حقوق، وسائل اور آئینی حیثیت کو ایک واضح اور قابلِ عمل فریم ورک میں طے کرنا ہوگا۔ اور اگر موجودہ عبوری حیثیت ہی برقرار رکھنی ہے تو پھر اس کی عبوری مدت کی آخری حد بھی عوام کے سامنے ہونی چاہیے۔ اس مسئلے کا ایک درمیانی راستہ یہ بھی ہو سکتا ہے کہ آزاد کشمیر کو فوری طور پر مکمل صوبہ بنانے کے بجائے عارضی صوبائی حیثیت دے دی جائے۔ یعنی مسئلہ کشمیر کے آخری فیصلے تک اس کی حیثیت عبوری ہی رہے، لیکن اس عبوری حیثیت کو واضح آئینی شکل دے دی جائے۔ اس کے لوگوں کو قومی اسمبلی اور سینیٹ میں نمائندگی، NFC میں حصہ اور دوسرے وفاقی حقوق مل جائیں۔ اس طرح پاکستان کا کشمیر پر مؤقف بھی برقرار رہ سکتا ہے اور آزاد کشمیر کے لوگ بھی ہمیشہ ایک غیر واضح عبوری بندوبست میں نہیں رہیں گے۔ سیدھی سی بات ہے: آخری فیصلہ جب ہونا ہے تب ہو، لیکن اس وقت تک لوگوں کے آئینی، سیاسی اور مالی حقوق کیوں رکے رہیں؟ میں نے گلگت بلتستان پر اپنی قسط میں بارہا یہ سوال اٹھایا ہے کہ جب گلگت بلتستان کی اسمبلی خود بار بار یہ کہہ چکی ہے کہ ہمیں پاکستان کا باقاعدہ آئینی حصہ بنایا جائے، تو پھر پاکستان کو آخر کیا چیز روک رہی ہے؟ وہاں تو کم از کم یہ بات واضح ہے کہ منتخب نمائندے کس سمت جانا چاہتے ہیں۔ کشمیر کا معاملہ اس سے مختلف ہے۔ وہاں حتمی فیصلہ لوگوں کی مرضی سے ہونا ہے۔ اگر کبھی ایسا مرحلہ آتا ہے تو پھر ریفرنڈم یا عوامی رائے ہی وہ راستہ ہے جس سے فیصلہ سامنے آ سکتا ہے۔ وقت آ گیا ہے کہ کشمیر کے مسئلے کو اب حقیقت پسندی اور زمینی حقائق کی روشنی میں دیکھا جاۓ۔ جذباتی بیانیوں اور 'کشمیر بنے گا پاکستان’ جیسے سلوگن کے سہارے 52 سال تو گزار دیے گئے، لیکن اب مزید زمینی حقائق سے آنکھیں چرانا ممکن نہیں رہا۔ بھارت تو اپنے حصے کا اقدام کر کے آگے نکل چکا، جبکہ ہم آج بھی نصف صدی پرانے بیانیے کا بوجھ اٹھائے بیٹھے ہیں۔ دنیا کی بدلتی ہوئی جیو پولیٹیکل صورتحال اور ملک کی انتظامی اصلاحات کا اب واحد تقاضا یہی ہے کہ جو ممکن ہے، اس حقیقت کو کھلے دل اور سنجیدگی سے تسلیم کیا جائے۔ محض نعروں سے اگر کوئی مسئلہ حل ہونا ہوتا تو 52 سال کا عرصہ کم نہ تھا۔ اب وقت آ گیا ہے کہ کشمیری عوام اور پاکستانی پالیسی ساز، دونوں الجھنوں سے نکل کر اس سچ کو قبول کریں کہ جو ہمارے ہاتھ میں ہے۔ (جاری ہے، باقی آئندہ قسط میں)

اسلام آباد کو صوبہ یا اپنی اسمبلی دینا آئینی طور پر ممکن ہے؟

🔳 اسلام آباد کو صوبائی اسمبلی کیوں چاہیے؟ وفاقی دارالحکومت کو صوبہ بنانے کا مطالبہ کیوں کیا گیا؟ ▫️ خدارا، اسلام آباد کو Federal Territory ہی رہنے دیجیے، کم از کم اس شہر کے ساتھ کوئی کھلواڑ نہ کریں۔ اس کی شناخت کسی صوبائی سیاست کے ساتھ جوڑنے کے بجائے وفاق کے مشترکہ دارالحکومت (Federal District) کے طور پر برقرار رہنی چاہیے۔ ▫️ دارالحکومت تمام صوبوں کا سانجھا مرکز ہوتا ہے۔ اسے کسی ایک صوبے کی حیثیت دینے سے وفاقی غیر جانبداری متاثر ہونے کا خدشہ رہتا ہے۔ وفاقی اداروں، غیر ملکی سفارت خانوں اور وفاقی حکومت کے مرکزی دفاتر کی حفاظت اور انتظام وفاق کے پاس ہونا آئینی ضرورت سمجھا جاتا ہے۔ ▫️ اس موقع پر اسلام آباد کی سول سوسائٹی، رہائشیوں، ماہرین، وکلا، تھنک ٹینکس اور منتخب نمائندوں کو خاموش نہیں رہنا چاہیے۔ کسی نئی قانون سازی سے پہلے اس منصوبے پر کھلی Public Consultation ہونی چاہیے اور پورا ماڈل قوم کے سامنے آنا چاہیے۔ 🔳 موضوع: کیا پاکستان میں نئے صوبوں کا بننا ضروری ہے؟ | قسط 8 عنوان: اسلام آباد کو صوبہ یا اپنی اسمبلی دینا آئینی طور پر ممکن ہے؟ 🔺 قومی معاملات میں اختلافِ رائے فطری ہے، مگر سنجیدہ بحث اور قومی اتفاقِ رائے ہی سے مسائل کا حل ممکن ہے۔ تحریر و تحقیق: سید شایان پاکستان میں نئے صوبوں کی بحث کے دوران ایک ایسا موڑ بھی سامنے آیا ہے جسے میرے خیال میں ابھی رک کر پوری سنجیدگی سے سمجھنے اور ایڈریس کرنے کی ضرورت ہے۔ جون 2026 میں وفاقی وزیر منصوبہ بندی احسن اقبال نے اسلام آباد کے لیے ایک نئی صوبائی اسمبلی کی تجویز پیش کی ہے۔ سرکاری تجویز کے مطابق اسلام آباد میں 27 رکنی Islamabad Capital Territory Assembly بن سکتی ہے، جس میں 21 ارکان براہِ راست منتخب ہوں گے، 5 نشستیں خواتین اور ایک اقلیتوں کے لیے ہوگی۔ یہ اسمبلی اپنا چیف منسٹر یا میئر منتخب کرے گی اور نئی ICT Government کو صحت، تعلیم، ماحولیات اور شہری خدمات میں صوبائی حکومت جیسی انتظامی اور مالی خودمختاری دی جا سکتی ہے، جبکہ امن و امان اور ماسٹر پلاننگ وفاق کے پاس رکھنے کی تجویز ہے۔ یہاں میرا وزیر منصوبہ بندی احسن اقبال سے ایک بنیادی سوال ہے: اسلام آباد اگر Federal Territory ہے تو پھر اس کے اندر صوبائی طرز کی ایک اور حکومت کھڑی کرنے کی ضرورت کیا ہے؟ اسلام آباد کو صوبہ نہیں، ایک مضبوط اور بااختیار Metropolitan Government دی جائے۔ پانی، صفائی، سڑکیں، پارک، ٹرانسپورٹ، صحت، تعلیم اور دوسری شہری سہولتوں کے فیصلے اسلام آباد کے منتخب نمائندے کریں۔ عوام اپنا میئر منتخب کریں، جس کے پاس واضح اختیارات اور بجٹ ہو، اور شہری اپنے روزمرہ مسائل کے لیے اسی حکومت سے جواب مانگ سکیں۔ 2023 کی مردم شماری کے مطابق اسلام آباد کی آبادی تقریباً 23.6 لاکھ ہو چکی ہے، اس لیے یہاں مضبوط منتخب مقامی حکومت کی ضرورت سے انکار نہیں کیا جا سکتا۔ لیکن اس مقصد کے لیے صوبائی طرز کی اسمبلی، چیف منسٹر، نئی حکومت اور مزید اداروں کی پوری قطار کھڑی کرنا کیوں ضروری ہے؟ یہ سوال اس لیے بھی اہم ہے کہ اسلام آباد کے لیے نئی صوبائی اسمبلی تجویز کرنے والے وفاقی وزیر منصوبہ بندی احسن اقبال 2013 سے 2018 کے دور میں بھی اسی وزارت کے سربراہ تھے، جب CPEC کے تحت ساہیوال اور پورٹ قاسم جیسے بڑے کوئلے کے منصوبے تیزی سے آگے بڑھائے گئے۔ آج سوال یہ ہے کہ کیا کبھی ان فیصلوں کا باقاعدہ Post Project Evaluation ہوا کہ کون سی planning درست نکلی، کون سی مہنگی پڑی اور اس کی قیمت کس نے ادا کی؟ اگر ماضی کے بڑے فیصلوں کا حساب سامنے نہ آئے تو نئے فیصلوں پر اعتماد کیسے قائم ہوگا؟ واضح رہے کہ اسلام آباد کے شہری قومی سیاست سے باہر بھی نہیں ہیں۔ اسلام آباد کی حدود سے قومی اسمبلی کی 3 نشستیں (NA-46, NA-47, NA-48) ہیں، جہاں سے عوام اپنے اراکینِ قومی اسمبلی (NA) چن کر ایوان میں بھیجتے ہیں۔ صوبائی اسمبلی کے لیے ووٹ نہ دینے کی وجہ یہ ہے کہ اسلام آباد کسی صوبے کا حصہ نہیں بلکہ آئین کے آرٹیکل 1 کے تحت الگ Islamabad Capital Territory اور Federal Capital ہے۔ جہاں اسلام آباد کے شہری صوبہ نہ ہونے اور مکمل صوبائی نمائندگی نہ ملنے کا گلہ کرتے ہیں، وہیں دنیا کی سب سے بڑی اور بااثر جمہوریتوں میں سے ایک امریکہ کے دارالحکومت واشنگٹن ڈی سی کے شہری بھی ایک غیر معمولی آئینی صورتِ حال کا سامنا کر رہے ہیں۔ واشنگٹن ڈی سی کسی امریکی ریاست کا حصہ نہیں بلکہ براہِ راست وفاقی اختیار میں ہے۔ اسی وجہ سے وہاں کے شہری وفاقی ٹیکس تو پورا دیتے ہیں، مگر امریکی سینیٹ میں ان کا کوئی سینیٹر نہیں اور ایوانِ نمائندگان میں ان کے منتخب Delegate کو حتمی قانون سازی پر مکمل ووٹ کا حق حاصل نہیں۔ اسی محرومی کے خلاف ڈی سی کو امریکہ کی 51 ویں ریاست بنانے کی تحریک جاری ہے، اور واشنگٹن ڈی سی کی سرکاری نمبر پلیٹس پر بھی “End Taxation Without Representation” کا نعرہ درج کیا جاتا ہے۔ (ہمیں نمائندگی دیے بغیر ہم سے ٹیکس لیا جا رہا ہے)۔ اسلام آباد کو صوبہ بنانے کا تصور نیا نہیں۔ دستیاب اخباری ریکارڈ کے مطابق جنوری 2011ء میں وفاقی وزیرِ قانون ڈاکٹر بابر اعوان نے اسلام آباد کو صوبائی طرز کی قانون ساز اسمبلی اور خود حکمرانی دینے کی تجویز پیش کی۔ 22 جنوری 2011ء کو روزنامہ Dawn نے اپنے اداریے میں اس اعلان کو اسلام آباد کو ایک نئے صوبے کی سمت لے جانے والی تجویز قرار دیتے ہوئے اس کے آئینی اور انتظامی جواز پر سوال اٹھایا تھا۔ بعد میں PPP کے بعض حلقوں میں اسے پانچواں صوبہ بنانے اور ICT کو دو اضلاع میں تقسیم کرنے پر بھی غور ہوا۔ مارچ 2011ء میں بابر اعوان نے کہا کہ پہلے دو اضلاع قائم کیے جائیں گے، جس کے بعد صوبائی حیثیت اور مقننہ کے منصوبے کو آگے بڑھایا جائے گا۔ دنیا بھر میں دارالحکومتوں کے انتظام کے لیے بنیادی طور پر تین ماڈل استعمال کیے جاتے ہیں۔ پہلا ماڈل ‘خصوصی وفاقی ضلع’ (Federal District) کا ہے، جیسے امریکہ میں واشنگٹن ڈی سی، آسٹریلیا میں کینبرا اور برازیل میں برازیلیا؛ اس طریقے میں دارالحکومت کو کسی صوبے میں شامل کرنے کے بجائے براہِ راست وفاق کے زیرِ انتظام رکھا جاتا ہے تاکہ تمام اکائیوں کے درمیان توازن قائم رہے۔ دوسرا ماڈل ‘خود مختار شہر یا صوبائی درجے’ (City-State / Province) کا ہے، جس کی مثالیں جرمنی میں برلن اور آسٹریا میں ویانا ہیں؛ برلن ایک وفاقی ریاست بھی ہے اور شہر بھی، جبکہ ویانا بھی آسٹریا کی 9 ریاستوں میں سے ایک ہے۔ تیسرا ماڈل وہ ہے جہاں دارالحکومت عام علاقائی یا بلدیاتی نظام کے تحت چلتا ہے، جیسے کینیڈا میں اوٹاوا، جو صوبہ Ontario کے اندر واقع ہے اور اپنی منتخب City Council رکھتا ہے، جبکہ لندن کے لیے Greater London کی سطح پر Mayor اور London Assembly پر مشتمل الگ metropolitan نظام قائم ہے۔ درج بالا تینوں ماڈلز میں اسلام آباد کا موجودہ نظام پہلے ماڈل کے تحت آتا ہے، جو امریکہ میں واشنگٹن ڈی سی اور آسٹریلیا میں کینبرا میں رائج ہے۔ اسلام آباد کو 1960ء کی دہائی میں اس اصول کے تحت وفاقی دارالحکومت بنایا گیا کہ ملک کا مرکزی شہر کسی ایک صوبے کے سیاسی یا انتظامی اثر میں نہ ہو۔ اسی لیے اسے الگ وفاقی علاقہ (Federal Territory) رکھا گیا تاکہ وفاقی حکومت، آئینی ادارے، سفارت خانے اور اہم سیکیورٹی تنصیبات براہِ راست وفاق کے زیرِ انتظام رہیں۔ اسلام آباد کو وفاقی علاقہ رکھنے کے حق میں بنیادی دلیل یہی ہے کہ وہ تمام وفاقی اکائیوں کا مشترکہ اور غیر جانبدار مرکز رہے۔ تاہم آبادی میں تیزی سے اضافے اور شہر کے پھیلاؤ کے باعث اب یہ سوال بھی اٹھتا ہے کہ شہریوں کو زیادہ مقامی اختیارات، بہتر بلدیاتی نظام اور قانون سازی میں مؤثر نمائندگی کیسے دی جائے۔ اصل بحث یہ ہے کہ یہ اختیارات اسلام آباد کو صوبہ بنائے بغیر دیے جائیں یا اسے صوبائی طرز کا نیا انتظامی ڈھانچہ دیا جائے۔ اس مضمون میں ہم نے اسلام آباد کا ایک cartographic نقشہ بھی تیار کیا ہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ پاکستان کے قومی نقشے میں پنجاب، سندھ، خیبر پختونخوا، بلوچستان، آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان اپنی جغرافیائی حدود کے ساتھ نظر آتے ہیں، مگر اسلام آباد اکثر پورے نقشے کی صورت میں دکھائی نہیں دیتا اور اس کی جگہ عموماً صرف ایک سرخ نقطہ، ستارہ یا Capital Symbol نظر آتا ہے۔ اس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ پاکستان کے تقریباً 882,000 مربع کلومیٹر رقبے کے مقابلے میں اسلام آباد صرف 906 مربع کلومیٹر، یعنی تقریباً 0.1 فیصد ہے، اس لیے قومی نقشے کے scale پر اس کی جغرافیائی شکل تقریباً مٹ جاتی ہے۔ اسی لیے ہم نے اس نقشے میں کوشش کی ہے کہ اسلام آباد کی اصل جغرافیائی شکل اور حدود کو زیادہ واضح انداز میں دکھایا جا سکے۔ (جاری ہے، باقی آئندہ قسط میں)

نئے صوبے بنانے سے پہلے ان 15 سوالات کے جواب قوم کے سامنے آنا ضروری ہیں۔

محترم جناب محسن نقوی صاحب وفاقی وزیرِ داخلہ، حکومتِ پاکستان اسلام آباد السلام علیکم! پاکستان میں نئے صوبوں کی تشکیل کا موضوع ایک بار پھر زیرِ بحث ہے۔ میری گزارش صرف اتنی ہے کہ اس فیصلے سے پہلے قوم کو یہ واضح بتایا جائے کہ نئے صوبے کیوں ضروری ہیں اور وہ کس ماڈل پر بنائے جائیں گے؟ اگر مقصد عوام کو بنیادی سہولتیں انہیں نزدیک ترین مقام سے فراہم کرنا ہے تو یہ کام مضبوط اور بااختیار لوکل گورنمنٹ کے ذریعے بھی کیا جا سکتا ہے۔ تو پھر نئے صوبوں کی ضرورت کہاں اور کیوں پیدا ہوئی ہے؟ اسی بنیادی سوال کے ساتھ میں اپنے تھنک ٹینک کی جانب سے آپ اور آپ کی حکومت کے سامنے 15 سوالات رکھ رہا ہوں۔ درخواست ہے کہ ان کے جوابات اور متعلقہ رپورٹس وزارتِ داخلہ اور دیگر متعلقہ سرکاری اداروں کی ویب سائٹس پر عوام کے لیے جاری کی جائیں، تاکہ یہ معاملہ سیاسی بیانات کے بجائے حقائق اور اعداد و شمار کی بنیاد پر زیرِ بحث آئے۔ 🔘 15 بنیادی سوالات 1۔ نئے صوبوں کے بارے میں قومی سروے، عوامی مشاورت اور مکمل روڈ میپ کہاں ہے؟ دنیا میں نئے صوبے یا انتظامی اکائیاں بنانے جیسے بڑے فیصلے عموماً تفصیلی تحقیق، طویل عوامی مشاورت، ماہرین کی رائے اور واضح Transition Roadmap کے بعد کیے جاتے ہیں۔ کیا حکومتِ پاکستان نے بھی اس مقصد کے لیے کوئی باقاعدہ قومی کمیشن یا اعلیٰ سطحی کمیٹی قائم کی ہے؟ اگر ہاں تو اس کے ارکان کون ہیں، اس کا دائرۂ کار کیا ہے اور اس نے اب تک کیا سفارشات دی ہیں؟ کیا پورے پاکستان میں آبادی، رقبے، سفری فاصلوں، انتظامی مشکلات، معاشی روابط اور سرکاری خدمات تک عوام کی رسائی کا کوئی باقاعدہ سروے کیا گیا ہے؟ اور کیا نئے صوبوں کے قیام کا کوئی مرحلہ وار Roadmap تیار ہو چکا ہے؟ اگر یہ تمام تیاری موجود ہے تو اسے قوم کے سامنے رکھا جائے۔ 2۔ کیا نئے صوبوں کی بابت عوام سے رائے لی گئی ہے؟ جن علاقوں یا خطوں میں نئے صوبے بنانے کی تجویز دی گئی ہے، کیا وہاں کے لوگوں سے باقاعدہ رائے لی گئی ہے؟ کیا منتخب نمائندوں، کاروباری حلقوں، ماہرین، جامعات، میڈیا، تھنک ٹینکس، سول سوسائٹی اور سیاسی جماعتوں سے بھی مشاورت کی گئی ہے؟ اور کیا حکومت نے کوئی ایسا قومی آن لائن پورٹل بنایا ہے جہاں پاکستان کے اندر اور بیرونِ ملک مقیم پاکستانی نئے صوبوں کی ضرورت، تعداد اور حدود کے بارے میں اپنی رائے دے سکیں؟ اگر نہیں، تو پھر اتنے بڑے قومی فیصلے میں عوام کی رائے کہاں اور کیسے لی جائے گی؟ 3۔ صوبوں کی شناخت اور حدود کس بنیاد پر قائم ہوں گی؟ محسن نقوی صاحب! سب سے بنیادی سوال یہ ہے کہ پاکستان میں نئے صوبوں کی تشکیل کا اصول کیا ہوگا؟ کیا حدود زبان، نسل اور شناخت کی بنیاد پر طے ہوں گی، یا آبادی، جغرافیہ، وسائل، فاصلے اور بہتر حکمرانی (Good Governance) کو بنیاد بنایا جائے گا؟ دنیا میں مختلف ماڈل موجود ہیں۔ بھارت نے 1956 میں بڑی حد تک لسانی بنیاد پر ریاستوں کی تنظیمِ نو کی، جبکہ نائیجیریا نے انتظامی ضرورت کے تحت نئی ریاستیں بنائیں۔ ایتھوپیا کا نسلی وفاقی ماڈل یہ بھی دکھاتا ہے کہ شناخت کو حد سے زیادہ سیاسی بنیاد بنانے کے اپنے سنگین خطرات ہو سکتے ہیں۔ پاکستان کے موجودہ صوبوں کی شناخت بڑی حد تک تاریخی، لسانی اور علاقائی بنیادوں سے جڑی ہوئی ہے۔ پنجاب کا نام سنتے ہی پنجابی شناخت، سندھ کے ساتھ سندھی شناخت، خیبر پختونخوا کے ساتھ پختون شناخت اور بلوچستان کے ساتھ بلوچ شناخت ذہن میں آتی ہے۔ یہ ایک پرانا علاقائی و شناختی ماڈل ہے۔ سوال یہ ہے کہ کیا نئے صوبے بھی اسی تصور کے تحت بنائے جائیں گے، یا اب ایک جدید معاشی و انتظامی ماڈل اختیار کیا جائے گا جس میں زبان یا شناخت کے بجائے آبادی، رقبہ، سفری فاصلے، جغرافیائی تسلسل، قدرتی وسائل، زراعت، صنعت، تعلیم، روزگار اور معاشی روابط کو بنیادی اہمیت دی جائے؟ اور اگر جدید ماڈل اختیار کیا جا رہا ہے تو نئے صوبوں کی حدود طے کرنے کے لیے واضح معیار کیا ہوگا؟ کیا اس مقصد کے لیے کوئی آزاد اور غیر جانب دار Boundary & Economic Viability Commission قائم کیا گیا ہے؟ اگر ہاں، تو اس کے معیار، سفارشات اور رپورٹ قوم کے سامنے رکھی جائیں۔ 4۔ آئینی طریقۂ کار کیا ہوگا؟ کیا نئے صوبے آئین کے آرٹیکل 239 کے تحت باقاعدہ آئینی طریقے سے بنائے جائیں گے، یا حکومت کسی انتظامی حکم یا کسی دوسرے راستے سے یہ عمل آگے بڑھانے کا ارادہ رکھتی ہے؟ اگر کسی صوبے کی حدود تبدیل کرنا مقصود ہیں تو متعلقہ صوبائی اسمبلی کی دو تہائی اکثریت سے منظوری ضروری ہے۔ اگر متعلقہ صوبائی اسمبلی اس تجویز کو منظور نہ کرے تو پھر حکومت کا آئینی راستہ کیا ہوگا؟ کیا منصوبہ وہیں رک جائے گا، دوبارہ مشاورت ہوگی، یا حکومت نے اس صورتِ حال کے لیے کوئی دوسرا آئینی طریقہ پہلے سے طے کر رکھا ہے؟ قوم کو پہلے ہی واضح طور پر بتایا جانا چاہیے کہ نئے صوبوں کی تشکیل کا پورا Constitutional Roadmap کیا ہے اور کسی اختلاف یا عدم منظوری کی صورت میں آگے کیسے بڑھا جائے گا۔ 5۔ ہر نئے صوبے کا Financial Model کہاں ہے؟ نیا صوبہ اپنے پاؤں پر کھڑا ہونے کے لیے پیسہ کہاں سے کمائے گا؟ اس کا Own Source Revenue کتنا ہوگا ؟ اس کے ٹیکس اور دوسرے مستقل ذرائع آمدن کیا ہوں گے؟ اور وہ اپنے روزمرہ اخراجات کے لیے NFC اور وفاقی transfers پر کتنا انحصار کرے گا؟ سب سے بنیادی سوال یہ ہے کہ نئے صوبے اسی پرانے ماڈل پر بنائے جا رہے ہیں یا دنیا کے جدید تجربات کو سامنے رکھ کر کوئی نیا Smart Provincial Model تیار کیا گیا ہے؟ اگر ہر نئے صوبے کے ساتھ نئی اسمبلی، گورنر ہاؤس، سیکرٹریٹ اور بیوروکریسی کھڑی کرکے اس کا خرچ بھی وفاق اور NFC پر ڈالنا ہے تو جتنے صوبے بڑھیں گے، وفاق پر اتنا ہی مالی بوجھ بڑھے گا۔ لیکن اگر مقصد ایک جدید، مالی طور پر ذمہ دار صوبہ بنانا ہے تو اس کا ماڈل ایسا ہونا چاہیے کہ صوبہ اپنی معیشت بڑھائے، اپنی آمدن خود پیدا کرے، اپنے اخراجات کا زیادہ سے زیادہ حصہ خود اٹھائے، وفاقی ذمہ داریوں میں اپنا حصہ ڈالے اور عوام کو ایک ایک روپے کے حساب پر براہِ راست جواب دہ ہو۔ اس لیے قوم کو پہلے یہ بتایا جائے کہ ہم صرف نئے صوبے بنا رہے ہیں یا پاکستان کے لیے ایک نیا صوبائی نظام بھی بنا رہے ہیں؟ 6۔ نئے صوبوں کے بعد NFC کیسے چلے گا؟ اگر چار صوبوں کی تعداد بڑھتی ہے تو وفاق اور صوبوں کے درمیان مالی وسائل کی تقسیم بھی بدلے گی۔ کیا حکومت نے حساب لگایا ہے کہ نئے صوبوں کے بعد NFC کا فارمولا کیا ہوگا اور موجودہ صوبوں کے حصے پر اس کے کیا اثرات مرتب ہوں گے؟ 7۔ مالی طور پر کمزور صوبے کا Safety Net کیا ہوگا؟ اگر کوئی نیا صوبہ اپنے اخراجات پورے نہ کرسکے، مسلسل خسارے میں چلا جائے یا کسی معاشی بحران کا شکار ہو جائے تو اسے کون سنبھالے گا؟ کیا اس کے لیے پہلے سے کوئی Equalization، Fiscal Support یا Bailout Framework ہوگا، یا ہر بحران کا بوجھ آخرکار وفاقی خزانے پر ڈال دیا جائے گا؟ 8۔ نیا صوبہ قائم کرنے کی One Time Cost کتنی ہوگی؟ نئی اسمبلی، سیکرٹریٹ، پولیس کمانڈ، عدالتی سہولتوں، سرکاری دفاتر، رہائش، آئی ٹی سسٹم اور دوسری بنیادی ضروریات پر کتنے ارب روپے خرچ ہوں گے؟ یہ رقم کہاں سے آئے گی؟ کیا اس کے لیے تعلیم، صحت اور ترقیاتی منصوبوں کے بجٹ متاثر ہوں گے؟ 9۔ مستقل سرکاری خرچ کتنا بڑھے گا؟ نئے وزرا، اسمبلی، محکموں، افسران، تنخواہوں، پنشن، گاڑیوں اور سرکاری عمارتوں پر سالانہ اضافی خرچ کتنا ہوگا؟ کیا حکومت نے روایتی بھاری بھرکم بیوروکریسی کے بجائے Lean & Digital Government کا کوئی ماڈل تیار کیا ہے؟ 10۔ اثاثے، قرضے اور ملازمین کیسے تقسیم ہوں گے؟ موجودہ صوبے کے سرکاری اثاثوں، قرضوں، واجبات، اداروں، ملازمین، پنشن اور جاری ترقیاتی منصوبوں کو پرانے اور نئے صوبوں کے درمیان کس فارمولے کے تحت تقسیم کیا جائے گا؟ کیا Asset & Liability Division کا کوئی تحریری فریم ورک موجود ہے؟ 11۔ پانی اور قدرتی وسائل کے حقوق کیسے طے ہوں گے؟ پانی، ڈیم، بجلی، تیل، گیس، معدنیات، royalties اور مشترکہ انفراسٹرکچر پر نئے اور پرانے صوبوں کے حقوق کس بنیاد پر طے ہوں گے؟ کیا اس کا قانونی فارمولا صوبہ بنانے سے پہلے طے کیا جائے گا تاکہ بعد میں نئے بین الصوبائی تنازعات پیدا نہ ہوں؟ 12۔ اختیارات اضلاع اور شہروں تک کیسے پہنچیں گے؟ صرف صوبے چھوٹے کرنا کافی نہیں۔ اگر تمام اختیارات دوبارہ نئے صوبائی دارالحکومت میں جمع ہوگئے تو لاہور یا کراچی کی جگہ صرف ایک اور طاقتور مرکزی شہر پیدا ہو جائے گا۔ کیا آرٹیکل 140A کے مطابق بااختیار مقامی حکومتیں، منتخب میئرز اور ضلع حکومتیں قائم ہوں گی؟ اور کیا District Finance Commission کے ذریعے ان کے مالی وسائل محفوظ کیے جائیں گے؟ 13۔ عام شہری کو عملی فائدہ کیا ہوگا؟ نیا صوبہ بننے سے شہری کے سرکاری دفتر تک سفر میں کتنی کمی آئے گی؟ زمین کے ریکارڈ، پولیس، تعلیم، صحت اور دوسری بنیادی خدمات کتنی تیز ہوں گی؟ کیا حکومت ان فوائد کے لیے قابلِ پیمائش اہداف (Measurable Targets) مقرر کرے گی تاکہ چند سال بعد معلوم کیا جا سکے کہ نیا صوبہ کامیاب ہوا یا ناکام؟ 14۔ Governance اور Accountability کیسے ہوگی؟ اگر کوئی نیا صوبہ ٹیکس وصول کرنے میں ناکام رہے، غیر ضروری قرض بڑھائے، بیوروکریسی پھیلاتا جائے، مالی بدانتظامی کرے یا کرپشن اور نااہلی کا شکار ہو جائے تو اسے روکنے کا کیا قانونی نظام ہوگا؟ کیا آزاد Audit، Performance Indicators، Fiscal Responsibility اور Early Warning Mechanism پہلے سے اس ماڈل کا حصہ ہوں گے؟ 15۔ پاکستان میں نئے صوبوں کے منصوبے پر کام کب شروع ہوا؟ یہ کام کس کمیٹی، کمیشن یا ادارے کے سپرد کیا گیا ہے؟ اس کے ارکان کون ہیں؟ دنیا میں کسی نئے صوبے، ریاست یا بڑی انتظامی اکائی کی تشکیل ایک دن میں نہیں ہوتی۔ اس کے لیے تحقیق، مشاورت، مالی جائزہ، حدود، قانون سازی اور پورے نظام کی منتقلی پر مہینوں بلکہ بعض اوقات برسوں کام کیا جاتا ہے۔ مثال کے طور پر بھارت کی States Reorganisation Commission نے تقریباً دو سال کام کرنے کے بعد اپنی رپورٹ دی، جبکہ برطانیہ میں بھی بڑے انتظامی اور devolution فیصلوں سے پہلے White Papers، consultation اور مرحلہ وار planning کی جاتی رہی ہے۔ تو حکومت یہ بتانا پسند کرے گی کہ پاکستان میں نئے صوبوں کے منصوبے پر کام کب شروع ہوا؟ یہ کام کس ادارے یا کمیٹی کے سپرد ہے؟ اس ٹیم کے ارکان کون ہیں، ان کی مہارت کیا ہے اور انہوں نے اب تک کیا کام کیا ہے؟ اگر واقعی تیاری مکمل ہے تو ایک جامع White Paper قوم کے سامنے رکھا جائے، جس میں ہر مجوزہ صوبے کی آبادی، رقبہ، حدود، ممکنہ دارالحکومت، آمدن، سالانہ اخراجات، NFC پر انحصار، One Time Cost، اثاثوں اور قرضوں کی تقسیم، قدرتی وسائل، مقامی حکومتوں کا نظام اور مکمل Transition Plan موجود ہو۔ اور اگر یہ سب کچھ ابھی تیار ہی نہیں ہوا، تو پھر قوم یہ جاننے کا حق رکھتی ہے کہ نئے صوبوں کے نقشے آخر کس تحقیق، کس ٹیم اور کس منصوبہ بندی کی بنیاد پر سامنے آ رہے ہیں؟ محسن نقوی صاحب! یہ 15 سوالات آپ کے سامنے اس لیے رکھے گئے ہیں کہ اگر پاکستان نے اپنے صوبائی نظام میں اتنی بڑی تبدیلی کرنی ہے تو یہ فیصلہ صرف آج کی ضرورت کو سامنے رکھ کر نہیں ہونا چاہیے۔ دنیا میں قومیں اپنے بنیادی نظام پانچ یا دس سال کے لیے نہیں بناتیں، بلکہ آنے والی کئی دہائیوں اور نسلوں کو سامنے رکھ کر منصوبہ بندی کرتی ہیں۔ ہمیں بھی ایسا صوبائی نظام بنانا ہوگا جو صرف آج کے مسائل حل نہ کرے بلکہ اگلے 50 یا 100 سال کی ضروریات بھی پوری کر سکے۔ پاکستان ماضی میں ون یونٹ سے لے کر سٹی ڈسٹرکٹ گورنمنٹ تک کئی بڑے انتظامی تجربات کر چکا ہے۔ کئی نظام ایک حکومت کے ساتھ آئے اور حکومت بدلنے کے بعد ختم یا تبدیل ہوگئے۔ نئے صوبوں کے معاملے میں ہمیں یہ غلطی دوبارہ نہیں کرنی چاہیے۔ اس بار ایسا نظام بننا چاہیے جو مکمل تحقیق، درست اعداد و شمار، عوامی مشاورت اور وسیع آئینی اتفاقِ رائے کے بعد وجود میں آئے اور حکومتیں بدلنے کے باوجود قائم رہے۔ میں گزشتہ کئی برسوں سے پاکستان کے پاور سیکٹر اور IPPs پر تحقیق کر رہا ہوں۔ اس تحقیق سے ایک بات بہت واضح ہوئی کہ بڑے قومی فیصلے اگر مکمل تحقیق، کھلی بحث اور عوامی مشاورت کے بغیر کیے جائیں تو ان کی قیمت صرف ایک نسل نہیں بلکہ آنے والی نسلیں بھی ادا کرتی ہیں۔ نئے صوبوں کے معاملے میں ہمیں پہلے ہی یہ دیکھ لینا چاہیے کہ کہیں آج کا فیصلہ کل عوام کے لیے ایک نیا مستقل مالی بوجھ نہ بن جائے۔ اسی لیے سب سے اہم سوال یہ ہے کہ ہم صرف نئے صوبے بنا رہے ہیں یا پاکستان کے لیے ایک نیا صوبائی نظام بھی بنا رہے ہیں؟ ہماری رائے میں نئے صوبوں کے لیے ایک نیا تصور سامنے آنا چاہیے۔ Smart & Fiscally Autonomous Province یعنی ایسا صوبہ جو اپنی معیشت بڑھائے، اپنی آمدن (Own Source Revenue) پیدا کرے اور اپنے اخراجات خود اٹھانے کے قابل ہو۔ اس کی انتظامیہ کم خرچ اور جدید ہو اور وفاق پر غیر ضروری مالی انحصار نہ کرے۔ یہی اصول سرکاری محکموں پر بھی لاگو ہونا چاہیے۔ ہر محکمے کے اخراجات، آمدن اور کارکردگی کے واضح سالانہ اہداف ہوں اور ہر روپے کا حساب عوام کے سامنے ہو۔ پرائیویٹ سیکٹر کی کمپنیاں اس لیے بہتر نتائج دیتی ہیں کہ ان کی انتظامیہ کے سامنے واضح اہداف ہوتے ہیں۔ انہیں آمدن بڑھانی، اخراجات قابو میں رکھنے اور نتائج دینے ہوتے ہیں۔ سرکاری نظام میں بھی یہی جواب دہی لانا ہوگی۔ کسی افسر کی کامیابی صرف اس بات سے نہیں ناپی جانی چاہیے کہ اس نے اپنی مدت پوری کر لی، بلکہ اس سے کہ اس نے اپنے ادارے کی کارکردگی کتنی بہتر کی، اخراجات کتنے کم کیے اور عوام کو کیا نتیجہ دیا۔ مالی طور پر کمزور علاقوں کے لیے ایک واضح اور شفاف مالی معاونت کا نظام (Equalization System) رکھا جا سکتا ہے تاکہ کسی علاقے کے لوگ صرف اس وجہ سے بنیادی سہولتوں سے محروم نہ رہیں کہ وہاں آمدن کے ذرائع کم ہیں۔ ہماری تجویز ہے کہ کسی ایک یا دو صوبوں سے آغاز کرنے کے بجائے پہلے پورے پاکستان کا National Administrative & Provincial Review کرایا جائے۔ یہ دیکھا جائے کہ نئے صوبوں کی ضرورت کہاں ہے اور کیوں ہے، ہر مجوزہ صوبہ مالی طور پر اپنے پاؤں پر کھڑا ہو سکتا ہے یا نہیں، اسے قائم کرنے اور چلانے کی لاگت کتنی ہوگی اور اختیارات نئے صوبائی دارالحکومت میں جمع ہونے کے بجائے ضلع، شہر اور مقامی حکومت تک کیسے پہنچیں گے۔ حتمی نقشہ بنانے سے پہلے اسے عوام، پارلیمنٹ، صوبائی اسمبلیوں، ماہرین، جامعات، تھنک ٹینکس اور متعلقہ علاقوں کے لوگوں کے سامنے رکھا جائے۔ پاکستان کو مزید صوبوں کی ضرورت ہو سکتی ہے، لیکن مزید بھاری سیکرٹریٹس، غیر ضروری پروٹوکول، بڑی بیوروکریسی اور مستقل مالی خساروں کی ضرورت نہیں۔ اگر نئے صوبے بنانے ہیں تو ایسا نظام بنایا جائے جو آنے والی نسلوں کے لیے ہو، کسی ایک حکومت کے دور کے لیے نہیں۔ ایسا نظام جس میں حکومت عوام کے قریب ہو، فیصلے تیز ہوں، مقامی حکومت مضبوط ہو، مالی ذمہ داریاں سب پر واضح ہوں اور ہر ایک خرچ کا حساب دیا جا سکے۔ زمانہ بدل چکا ہے۔ پاکستان کو بھی اپنے صوبائی نظام کے بارے میں اگلے انتخابات تک نہیں بلکہ اگلی کئی نسلوں کو سامنے رکھ کر فیصلہ کرنا ہوگا۔ ہمارا ادارہ SyedShayan.com ایک آزاد تھنک ٹینک کے طور پر شہری و علاقائی ترقی، قدرتی وسائل، صارفین سے متعلق پالیسی اور پاکستان کے اہم قومی و انتظامی معاملات پر تحقیق کر رہا ہے۔ ہمارا مقصد ایسے بڑے قومی فیصلوں سے پہلے وہ بنیادی سوالات اٹھانا ہے جن کے جواب جاننا پاکستانی عوام کا حق ہے۔ احترام کے ساتھ، سید شایان Founder & President, SyedShayan.com Think Tank for Urban and Regional Development, Natural Resources and Consumer Policy لاہور، پاکستان 11 اگست 2026

گلگت بلتستان کو آئینی صوبہ بنانے میں رکاوٹ کیا ہے؟

🔳 اگر زمینی حقائق دیکھے جائیں تو کشمیر کی جگہ آج گلگت بلتستان پاکستان کے لیے شہ رگ کی حیثیت رکھتا ہے، کیونکہ چین کے ساتھ زمینی رابطہ، سی پیک (CPEC)، اربوں کی سرمایہ کاری، بھاشا ڈیم اور اہم دفاعی راستے اسی خطے میں موجود ہیں۔ اس لیے اسے موجودہ غیر واضح وفاقی حیثیت (Federal Territory) میں رکھنے کے بجائے باقاعدہ آئینی صوبہ قرار دینا وقت کا اہم تقاضا ہے۔ ▫️کیا گلگت بلتستان کو مسئلہ کشمیر سے جوڑنا ایک تاریخی غلطی تھی؟ ▫️ نئے صوبے بنانے کا تو بہت شور ہے، مگر گلگت بلتستان کو صوبہ بنانے پر خاموشی کیوں؟ ▫️پاکستان گلگت بلتستان کو اب تک باقاعدہ آئینی صوبہ کیوں نہیں بنا سکا؟ آخر وہ کون سی آئینی، سفارتی یا سیاسی رکاوٹیں ہیں جو اس فیصلے کو دہائیوں سے مؤخر کیے ہوئے ہیں؟ موضوع: کیا پاکستان میں نئے صوبے بننا ضروری ہیں؟ | قسط 7 عنوان: گلگت بلتستان کو آئینی صوبہ بنانے میں رکاوٹ کیا ہے؟ 🔺 گلگت بلتستان کی آئینی حیثیت ایک حساس قومی معاملہ ہے، اس لیے موجودہ اسمبلی کی منظور کردہ قرارداد کی روشنی میں اسے عبوری آئینی صوبے کا درجہ دینے کے معاملے پر فوری پیش رفت ہونی چاہیے۔ تحریر و تحقیق: سید شایان گلگت بلتستان اس وقت پاکستان کا باقاعدہ آئینی صوبہ نہیں بلکہ وفاق کے زیرِ انتظام ایک الگ خطہ ہے، جسے عام طور پر وفاقی انتظامی علاقہ (Administrative Unit) سمجھا جاتا ہے۔ 72,496 مربع کلومیٹر پر پھیلے اس دشوار گزار پہاڑی خطے کی 2023 کی مردم شماری کے مطابق آبادی تقریباً 17.1 لاکھ ہے، جبکہ اوسط آبادی کی کثافت (Population Density) تقریباً 24 افراد فی مربع کلومیٹر بنتی ہے۔ موجودہ انتظامی تقسیم میں گلگت بلتستان 3 ڈویژنوں، گلگت، بلتستان اور دیامر، اور 10 باقاعدہ اضلاع پر مشتمل ہے۔ گلگت ڈویژن میں گلگت، غذر، ہنزہ اور نگر شامل ہیں۔ بلتستان ڈویژن میں سکردو، شگر، گھانچے اور کھرمنگ شامل ہیں۔ دیامر ڈویژن میں دیامر اور استور شامل ہیں۔ گلگت بلتستان کے بنیادی اعداد کل رقبہ: 72,496 مربع کلومیٹر آبادی 2023: 1,709,049 یعنی تقریباً 17.09 لاکھ ڈویژن: 3 اضلاع: 10 تحصیلیں: 34 اوسط آبادی کی کثافت: تقریباً 24 افراد فی مربع کلومیٹر 1۔ گلگت ڈویژن ضلع گلگت رقبہ: 4,208 مربع کلومیٹر آبادی: 324,552 تحصیلیں: گلگت، دنیور، جگلوٹ ضلع غذر رقبہ: 12,381 مربع کلومیٹر آبادی: 200,069 تحصیلیں: پونیال، اشکومن، گُپس، یاسین، پھنڈر موجودہ 2026 کے سرکاری EMIS ریکارڈ میں گُپس اور یاسین بدستور ضلع غذر کے تحت دکھائے گئے ہیں۔ ضلع ہنزہ رقبہ: 10,109 مربع کلومیٹر آبادی: 65,497 تحصیلیں: علی آباد، گوجال، شناکی ضلع نگر رقبہ: 4,137 مربع کلومیٹر آبادی: 87,410 تحصیلیں: نگر اول، سکندرآباد نگر دوم، چلت 2۔ بلتستان ڈویژن ضلع سکردو رقبہ: 10,168 مربع کلومیٹر آبادی: 278,885 تحصیلیں: سکردو، گمبہ، روندو، گلتری ضلع شگر رقبہ: 4,173 مربع کلومیٹر آبادی: 84,608 تحصیلیں: شگر، گلاب پور ضلع کھرمنگ رقبہ: 6,144 مربع کلومیٹر آبادی: 61,304 تحصیل: کھرمنگ ضلع گھانچے رقبہ: 8,531 مربع کلومیٹر آبادی: 157,822 تحصیلیں: خپلو، مشہ بروم، ڈغونی، چھوربٹ، کیرس، غواری موجودہ سرکاری EMIS ریکارڈ میں غواری الگ تحصیل کے طور پر درج ہے، جبکہ ہلدی مشہ بروم تحصیل کے تحت آتا ہے۔ 3۔ دیامر ڈویژن ضلع دیامر رقبہ: 7,234 مربع کلومیٹر آبادی: 337,329 تحصیلیں: چلاس، داریل، تانگیر، بابوسر، گوہر آباد موجودہ 2026 کے سرکاری ریکارڈ میں داریل اور تانگیر بدستور ضلع دیامر کے تحت دکھائے گئے ہیں۔ ضلع استور رقبہ: 5,411 مربع کلومیٹر آبادی: 111,573 تحصیلیں: استور، شونٹر درج بالا ڈویژنوں، اضلاع اور تحصیلوں کی تفصیل پڑھ کر اندازہ ہوتا ہے کہ گلگت بلتستان میں ایک باقاعدہ حکومتی نظام پہلے سے موجود ہے۔ اب اصل سوال صرف یہ ہے کہ اسے آئینی صوبے کا درجہ کب ملتا ہے؟ گلگت بلتستان کے عوام کا کئی دہائیوں سے یہ دیرینہ اور مسلسل مطالبہ ہے کہ اس خطے کو پاکستان کا آئینی صوبہ تسلیم کیا جائے، تاکہ یہاں کے شہریوں کو قومی اسمبلی، سینیٹ اور دیگر آئینی اداروں (مثلاً NFC اور CCI) میں مکمل اور باقاعدہ نمائندگی حاصل ہو سکے۔ اس عوامی اور سیاسی مطالبے کی سب سے مضبوط قانونی بنیاد 11 اگست 2015ء کی گلگت بلتستان قانون ساز اسمبلی کی وہ متفقہ قرارداد ہے، جس میں وفاق سے مطالبہ کیا گیا تھا کہ مسئلہ کشمیر کے حتمی اور عالمی فیصلے تک گلگت بلتستان کو ’عبوری آئینی صوبہ‘ (Provisional Province) قرار دیا جائے، تاکہ بین الاقوامی موقف کو نقصان پہنچائے بغیر شہریوں کو تمام بنیادی آئینی حقوق مل سکیں۔ یہ قرارداد محض ایک رسمی بیان نہیں تھی۔ اس میں واضح طور پر کہا گیا تھا کہ گلگت بلتستان کے عوام نے 1947-48 میں ڈوگرہ راج سے آزادی حاصل کر کے بغیر کسی شرط کے پاکستان سے الحاق کیا۔ تب سے اب تک یہاں کے لوگ پاکستانی پاسپورٹ استعمال کرتے ہیں اور ریاستِ پاکستان کے انتظامی نظام کا حصہ ہیں، مگر آئینی طور پر وہ اب بھی وفاقی ڈھانچے سے باہر ہیں۔ 2015 کے بعد بھی یہ مطالبہ بار بار دہرایا گیا۔ مارچ 2021 میں گلگت بلتستان اسمبلی نے ایک بار پھر متفقہ قرارداد پاس کی اور عبوری صوبائی حیثیت کا مطالبہ کیا۔ اس سال جولائی 2026 میں بھی اسمبلی نے متفقہ طور پر یہی موقف دہرایا اور سرتاج عزیز کمیٹی کی سفارشات پر عمل درآمد کا مطالبہ کیا۔ اس کمیٹی نے بھی عبوری صوبائی حیثیت دینے کی سفارش کی تھی تاکہ کشمیر کے حتمی فیصلے تک پاکستان کا بین الاقوامی موقف محفوظ رہے۔ یہاں کے عوام بھی ایک طویل عرصے سے آئینی حقوق اور مکمل قومی نمائندگی کا مطالبہ کر رہے ہیں، تو پھر گلگت بلتستان کو پاکستان کا باقاعدہ آئینی صوبہ (Constitutional Province) بنانے کے معاملے کو مزید مؤخر کرنے کے بجائے سنجیدگی سے حتمی فیصلے تک پہنچنا چاہیے۔ تو پھر سوال یہ ہے کہ پاکستان کیوں گلگت بلتستان کو اپنا قانونی صوبہ نہیں بناتا؟ پاکستان دراصل گلگت بلتستان کو باقاعدہ آئینی صوبہ اس لیے نہیں بناتا کہ اس کا بنیادی تعلق مسئلہ کشمیر سے ہے۔ سرکاری موقف یہ ہے کہ اگر آئین کے آرٹیکل 1 میں ترمیم کر کے اسے مستقل صوبہ قرار دے دیا جائے تو بین الاقوامی سطح پر یہ تاثر پیدا ہو سکتا ہے کہ پاکستان نے اس خطے کو حتمی طور پر اپنے اندر ضم کر لیا ہے، جس سے اقوام متحدہ کی قراردادوں کے تحت کشمیر کے حقِ خودارادیت کے موقف کو نقصان پہنچنے کا اندیشہ ہے۔ اسی لیے 2015 میں سرتاج عزیز کمیٹی نے عبوری آئینی صوبے کی سفارش کی تھی۔ بعد ازاں 2020 میں عمران خان نے بھی گلگت بلتستان کو عبوری صوبے کا درجہ دینے کا اعلان کیا تھا، مگر آئینی ترمیم کبھی مکمل نہ ہو سکی۔ یہی فارمولا اب بھی زیرِ بحث ہے تاکہ شہریوں کو نمائندگی اور حقوق مل سکیں مگر پاکستان کا بین الاقوامی موقف محفوظ رہے۔ اگر گلگت بلتستان کو عبوری آئینی صوبہ بنایا جاتا ہے تو موجودہ 3 ڈویژن، گلگت، بلتستان اور دیامر، فی الحال کافی اور متوازن نظر آتے ہیں۔ کسی چوتھے یا پانچویں ڈویژن کا مضبوط اور مستقل مطالبہ سامنے نہیں آتا، اس لیے بہتر ہوگا کہ ابتدا موجودہ حدود سے ہی کی جائے۔ گلگت صوبائی دارالحکومت رہے، جبکہ سکردو میں مستقل دوسرا سیکرٹریٹ یا اسمبلی کا موسمی اجلاس رکھا جا سکتا ہے، تاکہ بلتستان کے لوگوں کو بھی انتظامی سہولت حاصل ہو۔ میں تاریخ اور سیاسیات کے طالب علم کی حیثیت سے اکثر سوچتا ہوں کہ کیا گلگت بلتستان کو مسئلہ کشمیر کے ساتھ جوڑنا ہمارے سابقہ حکمرانوں کی ایک تاریخی غلطی تھی؟ تو واقعتاً میرا خیال ہے کہ گلگت بلتستان کو مسئلہ کشمیر کے ساتھ مشروط کرنا ایک ایسا سیاسی فیصلہ ثابت ہوا جس نے اس خطے کے عوام کو دہائیوں تک آئینی طور پر معلق رکھا۔ اگر تاریخ کو پیچھے جا کر دیکھا جائے تو اس خطے کی اپنی الگ سیاسی، جغرافیائی اور ثقافتی شناخت تو بہت پرانی ہے۔ 7ویں اور 8ویں صدی کے تاریخی ریکارڈ میں بلتستان کے لیے Great Bolor اور گلگت کے علاقوں کے لیے Little Bolor جیسے نام ملتے ہیں۔ معروف مؤرخ ڈاکٹر احمد حسن دانی بھی اپنی کتاب History of Northern Areas of Pakistan میں اس خطے کی جداگانہ تاریخی شناخت بیان کرتے ہیں اور واضح کرتے ہیں کہ پورے گلگت بلتستان کا کشمیر کے ساتھ کوئی ایک مسلسل اور مستقل تاریخی آئینی تعلق نہیں رہا۔ 19ویں صدی میں ڈوگرہ حکمرانوں نے فوجی طاقت کے ذریعے گلگت اور بلتستان کے مختلف علاقوں پر اپنا اقتدار قائم کیا۔ لیکن چند دہائیوں کے اس اقتدار کو صدیوں پر محیط اس خطے کی الگ تاریخی شناخت کا متبادل نہیں سمجھا جا سکتا۔ 1947 میں گلگت میں ڈوگرہ اقتدار کے خلاف بغاوت ہوئی اور یکم نومبر کو آزادی کا اعلان کیا گیا، جس کے بعد مقامی قیادت نے پاکستان کے ساتھ وابستگی کا راستہ اختیار کیا۔ اس کے باوجود 1949 کے کراچی معاہدے میں گلگت بلتستان کی کوئی براہِ راست نمائندگی موجود نہیں تھی، لیکن اس کے انتظامی معاملات حکومتِ پاکستان کے سپرد کیے گئے اور اس کی آئینی حیثیت مسئلہ کشمیر کے ساتھ جڑی رہی۔ میری نظر میں یہ ہمارے سابق حکمرانوں کی تاریخ سے لاپرواہی اور سیاسی دوراندیشی کی کمی تھی۔ اگر اس خطے کی طویل اور جداگانہ تاریخ کو اس وقت پوری طرح سامنے رکھا جاتا تو شاید گلگت بلتستان کو مسئلہ کشمیر کے ساتھ اس طرح منسلک نہ کیا جاتا۔ اس فیصلے کا نتیجہ یہ ہے کہ آج بھی گلگت بلتستان آئینِ پاکستان میں ایک مکمل صوبے کی حیثیت نہیں رکھتا، قومی اسمبلی اور سینیٹ میں صوبوں جیسی آئینی نمائندگی حاصل نہیں اور NFC سمیت اہم وفاقی آئینی اداروں میں اس کا مقام واضح نہیں۔ بھارت کے 2019 کے اقدام نے اس خطے کی سیاسی صورتِ حال بدل دی، جب اس نے اپنے زیرِ انتظام جموں و کشمیر کی خصوصی آئینی حیثیت ختم کر کے اسے اپنے وفاقی نظام میں شامل کر لیا۔ اس کے بعد پاکستان میں بھی یہ نقطۂ نظر ابھرا کہ جوابی اقدام کے طور پر (اقوامِ متحدہ کے موقف کو متاثر کیے بغیر) گلگت بلتستان کو عارضی صوبائی حیثیت دے دی جائے، تاکہ علاقے کے عوام کو آئینی حقوق مل سکیں اور اس کی نامکمل انتظامی حیثیت کا مسئلہ حل ہو سکے۔ سوال یہ ہے کہ گلگت بلتستان کو آخر کب تک موجودہ انتظامی حیثیت (Administrative Status) میں رکھا جائے گا؟ گلگت بلتستان کوئی عام علاقہ نہیں۔ K2 سمیت دنیا کی بلند ترین چوٹیاں، قراقرم اور ہمالیہ کے عظیم پہاڑی سلسلے، بڑے گلیشیئرز، شاہراہِ قراقرم، چین کے ساتھ زمینی رابطہ (Land Link) اور دیامر بھاشا ڈیم جیسے قومی اثاثے اسی خطے میں موجود ہیں۔ یہ علاقہ پاکستان کے قدرتی خزانوں کے ساتھ ساتھ پانی، توانائی، سیاحت اور قومی سلامتی (National Security) کے لیے بھی غیر معمولی اہمیت رکھتا ہے۔ اگر ہم اس خطے کے معاشی اور معدنیات کے پوٹینشل پر ایک نظر ڈالیں تو گلگت بلتستان قیمتی پتھروں (Rubies, Emeralds, Topaz) اور اہم صنعتی و نایاب معدنیات، جیسے کاپر، سونا اور نایاب زمینی عناصر (Rare Earth Elements)، کے وسیع ذخائر کا حامل خطہ ہے۔ اگر اس کی صرف Tourism Economy کی بات کی جائے تو سالانہ لاکھوں ملکی و غیر ملکی سیاح اس خطے کا رخ کرتے ہیں، جس سے مقامی معیشت میں اربوں روپے کی گردش ہوتی ہے۔ اگر اس خطے کو این ایف سی (NFC) ایوارڈ کے تحت باقاعدہ مالی حصہ ملے اور مقامی معدنیات و سیاحت کے لیے واضح صوبائی قوانین بنیں، تو یہ خطہ وفاق پر بوجھ بننے کے بجائے خود کفیل ہو کر قومی خزانے میں اربوں روپے کا اضافہ کر سکتا ہے تو پھر سوال یہ ہے کہ اتنی غیر معمولی جغرافیائی، معاشی اور دفاعی اہمیت رکھنے والے خطے کو صرف وفاق کے زیرِ انتظام ایک انتظامی اکائی (Administrative Unit) کی حیثیت میں رکھنا کہاں تک مناسب ہے؟ اب وقت آ گیا ہے کہ اس تاریخی معاملے کا ازسرِنو جائزہ لیا جائے اور گلگت بلتستان کو عبوری آئینی صوبے کا درجہ دے کر پاکستان کے آئینی نظام میں واضح مقام، پارلیمانی نمائندگی اور مکمل آئینی حقوق فراہم کیے جائیں۔ اور گلگت بلتستان کی آئینی حیثیت پر ایک واضح اور سنجیدہ قومی فیصلہ کیا جائے۔ (جاری ہے، باقی اگلی قسط میں)

بلوچستان میں کتنے صوبے بنائے جا سکتے ہیں؟

🔳 کوئٹہ۔۔۔ 900 کلومیٹر دور بلوچستان کے ایک شہری کو اگر اپنے سرکاری کام کے لیے گوادر، تربت یا خضدار جیسے دور دراز علاقوں سے 900 کلومیٹر دور کوئٹہ جانا پڑے، تو آنے جانے کا سفر تقریباً 1,800 کلومیٹر بن جاتا ہے اور دو سے تین دن صرف راستوں اور سفر میں گزر جاتے ہیں۔ سوال یہ ہے کہ کیا ایک صوبائی دارالحکومت اپنے شہری سے اتنا دور ہونا چاہیے؟ موضوع: کیا پاکستان میں نئے صوبے بننا ضروری ہیں؟ | قسط: 6 عنوان: بلوچستان میں کتنے صوبے بنائے جا سکتے ہیں؟ 🔺 پاکستان کا مسئلہ صرف صوبوں کی تعداد نہیں، بلکہ حکومت اور عوام کے درمیان بڑھتا ہوا فاصلہ ہے۔ میری تحقیق کا بنیادی نتیجہ یہی ہے کہ صوبے اتنے بڑے نہ ہوں کہ عام شہری کے لیے اپنا دارالحکومت ہی ایک الگ دنیا محسوس ہو۔ تحریر و تحقیق: سید شایان بلوچستان میں نئے صوبے بنانے کا مطالبہ نیا نہیں۔ ماضی میں پشتون اکثریتی علاقوں کے لیے الگ صوبے اور حالیہ برسوں میں جنوبی بلوچستان کو الگ صوبہ بنانے کی تجاویز سامنے آتی رہی ہیں۔ تاہم پورے بلوچستان کے 6 صوبوں کا زیرِ تحریر ماڈل ہمارے تھنک ٹینک کا ایک نیا انتظامی تصور ہے، جسے تاریخی مطالبات، جغرافیہ، آبادی، فاصلوں اور معاشی امکانات کو سامنے رکھتے ہوئے تیار کیا گیا ہے۔ 8 جولائی 2026 کو بلوچستان حکومت کے Revenue Department کے نوٹیفکیشن کے بعد بلوچستان میں 11 ڈویژن اور 41 اضلاع ہو گئے ہیں۔ کوئٹہ کو East Quetta اور West Quetta میں تقسیم کیا گیا ہے، مستونگ کو کوئٹہ ڈویژن میں شامل کیا گیا ہے، اور پشین، خضدار، لسبیلہ اور کوہِ سلیمان سمیت 4 نئے ڈویژن بنائے گئے ہیں، جن کی ترتیب یہ ہے۔ 1۔ کوئٹہ ڈویژن: 3 اضلاع مشرقی کوئٹہ، مغربی کوئٹہ، مستونگ 2۔ پشین ڈویژن: 4 اضلاع پشین، قلعہ عبداللہ، چمن، برشور 3۔ خضدار ڈویژن: 4 اضلاع خضدار، قلات، سوراب، وڈھ 4۔ لسبیلہ ڈویژن: 3 اضلاع لسبیلہ، حب، آواران 5۔ رخشان ڈویژن: 4 اضلاع چاغی، خاران، نوشکی، واشک 6۔ مکران ڈویژن: 4 اضلاع کیچ، گوادر، پنجگور، تمپ 7۔ نصیرآباد ڈویژن: 5 اضلاع نصیرآباد، جعفرآباد، جھل مگسی، صحبت پور، اوستہ محمد 8۔ سیوی (Sevi) ڈویژن (سابقہ نام سبّی): 3 اضلاع سیوی، کچھی، جنوبی ڈیرہ بگٹی 9۔ ژوب ڈویژن: 3 اضلاع ژوب، قلعہ سیف اللہ، شیرانی 10۔ لورالائی ڈویژن: 5 اضلاع لورالائی، دکی، موسیٰ خیل، زیارت، ہرنائی 11۔ کوہِ سلیمان ڈویژن: 3 اضلاع کوہلو، بارکھان، شمالی ڈیرہ بگٹی کل: 11 ڈویژن اور 41 اضلاع۔ اس نئی تشکیل میں کوئٹہ کو دو اضلاع میں تقسیم کیا گیا، قلات ڈویژن کی جگہ خضدار اور لسبیلہ ڈویژن بنائے گئے، جبکہ متعدد نئے اضلاع قائم کرکے ان کی نئی حدود بھی مقرر کی گئی ہیں۔ 🔘 بلوچستان رقبے کے لحاظ سے پاکستان کا سب سے بڑا صوبہ ہے، جس کا کل رقبہ 347,190 مربع کلومیٹر اور 2023 کی مردم شماری کے مطابق آبادی 14,894,402 ہے۔ آبادی کی کثافت (Population Density) کے لحاظ سے بلوچستان باقی صوبوں سے بہت مختلف ہے۔ بلوچستان میں صرف 43 افراد فی مربع کلومیٹر رہتے ہیں، جبکہ پنجاب میں تقریباً 622، خیبر پختونخوا میں 402 اور سندھ میں تقریباً 395 افراد فی مربع کلومیٹر آباد ہیں۔ یہ فرق واضح کرتا ہے کہ بلوچستان کے انتظامی مسائل کو صرف آبادی کی بنیاد پر نہیں بلکہ وسیع رقبے، طویل فاصلوں اور منتشر آبادی کو سامنے رکھ کر دیکھنا ضروری ہے۔ اگر بلوچستان کے دور دراز علاقوں میں رہنے والے کسی شہری کو صوبائی سطح کے کسی کام کے لیے کوئٹہ آنا پڑے تو اسے کتنا سفر کرنا پڑتا ہے؟ مثال کے طور پر گوادر سے کوئٹہ کا زمینی فاصلہ تقریباً 900 کلومیٹر ہے اور سفر 12 سے 14 گھنٹے تک لے سکتا ہے۔ تربت سے کوئٹہ تقریباً 750 کلومیٹر، جبکہ ژوب سے تقریباً 330 کلومیٹر دور ہے۔ یعنی صوبے کے بعض علاقوں کے شہری کے لیے اپنے ہی صوبائی دارالحکومت تک رسائی ایک پورے دن کا سفر بن سکتی ہے۔ دنیا کے وسیع اور کم آبادی والے خطوں میں اس مسئلے کا حل شہری کو حکومت تک لانا نہیں، بلکہ حکومت کو شہری کے قریب لے جانا ہے۔ امریکہ، آسٹریلیا، بھارت اور چین نے اپنے اپنے انداز میں اختیارات اور انتظامی خدمات کو نچلی سطح تک پہنچایا ہے۔ آسٹریلیا تو باقاعدہ یہ بھی ناپتا ہے کہ کوئی آبادی بنیادی خدمات سے کتنی دور ہے۔ یہی اصول بلوچستان کے لیے بھی بنیادی سوال پیدا کرتا ہے: حکومت عوام سے کتنی دور ہونی چاہیے؟ یہیں سے بلوچستان کی نئی انتظامی تشکیل کا سوال پیدا ہوتا ہے۔ اگر مقصد حکومت کو عوام کے قریب لانا ہے تو کیا صرف نئے اضلاع بنانا کافی ہوگا، یا اتنے وسیع صوبے میں نئے صوبائی مراکز بھی قائم کرنا ہوں گے؟ اور اگر نئے صوبے بننے چاہئیں تو ان کی تعداد کتنی ہو، حدود کیا ہوں اور ان کے دارالحکومت کہاں ہوں؟ اس کا جواب صرف آبادی نہیں، بلکہ رقبے، فاصلے، سفری وقت، معاشی وسائل اور علاقائی و ثقافتی حقائق کو سامنے رکھ کر تلاش کرنا ہوگا۔ بلوچستان کی نئی انتظامی تشکیل سے پہلے اس کی لسانی و ثقافتی ساخت (Linguistic & Cultural Composition) کو سمجھنا ضروری ہے۔ 2023 کی مردم شماری قومیت کے بجائے مادری زبان شمار کرتی ہے، جس کے مطابق صوبے میں بلوچی، پشتو اور براہوی بولنے والے بڑے گروہ ہیں، جبکہ سندھی، سرائیکی، اردو اور دیگر زبانیں بولنے والی آبادیاں بھی موجود ہیں۔ بلوچی بولنے والی آبادی زیادہ تر مکران، رخشان اور جنوب مغربی بلوچستان میں، پشتو بولنے والی آبادی کوئٹہ، پشین، چمن، ژوب، قلعہ سیف اللہ اور شمالی علاقوں میں، جبکہ براہوی بولنے والی آبادی قلات، خضدار، مستونگ اور وسطی بلوچستان میں زیادہ مرتکز ہے۔ کئی علاقوں میں یہ آبادیاں باہم ملی جلی بھی ہیں۔ اسی لیے ہمیں یہ محسوس ہوتا ہے کہ نئے صوبے صرف رقبے اور فاصلے کی بنیاد پر نہیں بن سکتیں۔ لسانی حساسیت (Linguistic Sensitivity)، علاقائی شناخت (Regional Identity) اور سماجی ہم آہنگی (Social Cohesion) کو بھی سامنے رکھنا ضروری ہے، تاکہ انتظامی اصلاح کسی بڑے گروہ میں محرومی یا علیحدگی کے احساس کو جنم نہ دے۔ انہی باتوں کو سامنے رکھتے ہوئے بلوچستان کے علاقوں، موجودہ ڈویژنوں، آبادیوں کے باہمی تعلق، فاصلے، روزگار اور آمدنی کے مواقع کو دیکھا گیا اور پھر 6 صوبوں کا یہ ماڈل بنایا گیا۔ کوشش یہ ہے کہ اس ماڈل سے لوگوں کے لیے سرکاری کام آسان ہوں اور کسی علاقے یا برادری کو بلاوجہ الگ نہ کیا جائے۔ ● 1۔ صوبہ مکران (مجوزہ) موجودہ ڈویژن: مکران ڈویژن اضلاع: گوادر، کیچ، پنجگور، تمپ مجوزہ دارالحکومت: تربت آبادی 2023: تقریباً 18.76 لاکھ رقبہ: 52,067 مربع کلومیٹر آبادی کی کثافت: تقریباً 36 افراد فی مربع کلومیٹر زبانیں اور ثقافت : اس خطے میں بلوچی بولنے والی آبادی نمایاں ہے، جبکہ مختلف علاقوں میں دیگر مقامی زبانیں اور بولیاں بولنے والی آبادیاں بھی موجود ہیں۔ مکران اپنی مخصوص بلوچی زبان، ثقافت، ساحلی روایات اور تاریخی علاقائی شناخت کے حوالے سے بلوچستان کے نمایاں خطوں میں شمار ہوتا ہے۔ نمایاں قبائل و برادریاں: گچکی، بلیدی، بزنجو، دشتی، ہوت، رند اور دیگر مقامی بلوچ قبائل و برادریاں۔ صوبہ تجویز کرنے کی وجوہات : مکران ایک قدرتی طور پر مربوط ساحلی اور جنوب مغربی خطہ ہے، جس کے اضلاع کے درمیان تاریخی، لسانی، ثقافتی اور معاشی روابط پہلے سے موجود ہیں۔ گوادر اپنی بندرگاہ، ساحلی معیشت اور بین الاقوامی تجارتی اہمیت کے باعث اس مجوزہ صوبے کا سب سے اہم معاشی مرکز بن سکتا ہے، جبکہ کیچ، پنجگور اور تمپ زراعت، سرحدی تجارت اور مقامی معیشت کے حوالے سے اہم ہیں۔ واضح رہے کہ گوادر کی بجائے تربت کو مجوزہ صوبائی دارالحکومت تجویز کرنے کی بنیادی وجہ انتظامی رسائی اور جغرافیائی توازن ہے۔ گوادر اس خطے کا اہم ترین بندرگاہی، معاشی اور تجارتی مرکز ہے، لیکن تربت مکران کے اندر نسبتاً مرکزی مقام رکھتا ہے اور پنجگور، کیچ، تمپ اور گوادر کے درمیان زیادہ متوازن رسائی فراہم کرتا ہے۔ اس لیے گوادر معاشی مرکز، جبکہ تربت انتظامی دارالحکومت کے طور پر زیادہ موزوں تقسیمِ کردار پیش کرتے ہیں۔ نوٹ: تمپ 2023 Census کے وقت ضلع کیچ کا حصہ تھا اور بعد میں الگ ضلع بنا، اس لیے 2023 کی مجموعی آبادی اور رقبے کے حساب میں سابق ضلع کیچ کے مکمل اعداد شمار کیے گئے ہیں۔ ● 2۔ صوبہ رخشان (مجوزہ) موجودہ ڈویژن: رخشان ڈویژن اضلاع: چاغی، نوشکی، خاران، واشک مجوزہ دارالحکومت: خاران آبادی 2023: تقریباً 10.40 لاکھ رقبہ: 98,596 مربع کلومیٹر آبادی کی کثافت: تقریباً 11 افراد فی مربع کلومیٹر زبانیں اور ثقافت : اس خطے میں بلوچی بولنے والی آبادی نمایاں ہے، جبکہ براہوی اور دیگر زبانیں بولنے والی آبادیاں بھی موجود ہیں۔ نمایاں قبائل و برادریاں: رخشانی، نوشیروانی، سنجرانی، محمد حسنی، بادینی، جمالدینی، ریکی اور دیگر مقامی بلوچ و براہوی قبائل و برادریاں۔ صوبہ تجویز کرنے کی وجوہات : رخشان بلوچستان کے انتہائی وسیع اور کم آبادی والے خطوں میں شامل ہے۔ چاغی کے معدنی وسائل، ایران و افغانستان سے سرحدی قربت، نوشکی کی رابطہ حیثیت اور خاران و واشک کا وسیع جغرافیہ اسے الگ صوبائی اکائی بنانے کی مضبوط بنیاد فراہم کرتا ہے۔ خاران اپنے نسبتاً مرکزی محلِ وقوع کی وجہ سے مجوزہ دارالحکومت کے لیے موزوں ہے، تاکہ اس وسیع خطے کے مختلف علاقوں کو نسبتاً متوازن انتظامی رسائی حاصل ہو۔ ● 3۔ صوبہ خضدار (مجوزہ) موجودہ ڈویژن: خضدار ڈویژن + لسبیلہ ڈویژن اضلاع: خضدار، قلات، سوراب، وڈھ، لسبیلہ، حب، آواران مجوزہ دارالحکومت: خضدار آبادی 2023: تقریباً 24.08 لاکھ رقبہ: 88,459 مربع کلومیٹر آبادی کی کثافت: تقریباً 27 افراد فی مربع کلومیٹر زبانیں اور ثقافت : اس خطے میں براہوی اور بلوچی بولنے والی آبادیاں نمایاں ہیں، جبکہ لسبیلہ اور حب میں لاسی، سندھی اور دیگر زبانیں بولنے والی آبادیاں بھی موجود ہیں۔ نمایاں قبائل و برادریاں: مینگل، زہری، بزنجو، محمد حسنی، سمالانی، ساجدی، جاموٹ، لاسی اور دیگر بلوچ، براہوی اور مقامی قبائل و برادریاں۔ صوبہ تجویز کرنے کی وجوہات: خضدار وسطی بلوچستان کا اہم انتظامی، تعلیمی اور تجارتی مرکز ہے۔ خضدار، قلات، سوراب اور وڈھ کے تاریخی و جغرافیائی روابط کے ساتھ لسبیلہ، حب اور آواران کو شامل کرنے سے ایک نسبتاً مربوط صوبائی اکائی بنتی ہے۔ حب اور لسبیلہ اسے کراچی کی صنعت، تجارت اور ساحلی معیشت سے جوڑتے ہیں، جبکہ خضدار اپنے نسبتاً مرکزی محلِ وقوع اور موجودہ شہری و انتظامی استعداد کی وجہ سے مجوزہ دارالحکومت کے لیے موزوں انتخاب ہے۔ نوٹ: وڈھ 2023 Census کے وقت ضلع خضدار کا حصہ تھا اور 2026 میں الگ ضلع بنایا گیا۔ اس لیے 2023 کی مجموعی آبادی اور رقبے کے حساب میں وڈھ کا علاقہ اور آبادی پہلے ہی ضلع خضدار کے اعداد میں شامل ہیں۔ ● 4۔ صوبہ کوئٹہ (مجوزہ) موجودہ ڈویژن: کوئٹہ ڈویژن + پشین ڈویژن اضلاع: مشرقی کوئٹہ، مغربی کوئٹہ، مستونگ، پشین، برشور، قلعہ عبداللہ، چمن مجوزہ دارالحکومت: کوئٹہ آبادی 2023: تقریباً 45.72 لاکھ رقبہ: 17,867 مربع کلومیٹر آبادی کی کثافت: تقریباً 256 افراد فی مربع کلومیٹر زبانیں اور ثقافت : اس خطے میں پشتو بولنے والی آبادی نمایاں ہے، جبکہ کوئٹہ ایک کثیراللسانی اور کثیرالثقافتی شہری مرکز ہے، جہاں پشتون، بلوچ، براہوی، ہزارہ، اردو بولنے والی اور دیگر برادریاں آباد ہیں۔ نمایاں قبائل و برادریاں: اچکزئی، ترین، کاکڑ، کاسی اور دیگر پشتون قبائل و برادریاں، جبکہ کوئٹہ اور مستونگ میں بلوچ، براہوی، ہزارہ اور دیگر مقامی و شہری برادریاں بھی موجود ہیں۔ صوبہ تجویز کرنے کی وجوہات : کوئٹہ اور پشین کے دونوں مکمل ڈویژنوں کو ایک صوبائی اکائی میں رکھنے سے شمال مغربی بلوچستان کا باہم مربوط خطہ ایک ساتھ رہتا ہے اور کسی موجودہ ڈویژن کو تقسیم نہیں کرنا پڑتا۔ کوئٹہ پہلے ہی اس خطے کا سب سے بڑا انتظامی، تعلیمی، طبی اور تجارتی مرکز ہے اور صوبائی سطح کا بنیادی انفراسٹرکچر یہاں موجود ہے، اس لیے اسے مجوزہ دارالحکومت برقرار رکھنا سب سے موزوں انتخاب ہے۔ نوٹ: مشرقی و مغربی کوئٹہ اور برشور 2023 Census کے بعد موجودہ انتظامی شکل میں آئے، اس لیے 2023 کے اعداد سابقہ اضلاع کے مجموعی جغرافیے کو موجودہ حدود کے مطابق شمار کرکے مرتب کیے گئے ہیں۔ ● 5۔ صوبہ سیوی۔نصیرآباد (مجوزہ) موجودہ ڈویژن: سیوی ڈویژن + نصیرآباد ڈویژن + کوہِ سلیمان ڈویژن اضلاع: سیوی، کچھی، جنوبی ڈیرہ بگٹی، نصیرآباد، جعفرآباد، جھل مگسی، صحبت پور، اوستہ محمد، کوہلو، بارکھان، شمالی ڈیرہ بگٹی مجوزہ دارالحکومت: سیوی آبادی 2023: تقریباً 30.94 لاکھ رقبہ: 43,534 مربع کلومیٹر آبادی کی کثافت: تقریباً 71 افراد فی مربع کلومیٹر زبانیں اور ثقافت : اس خطے میں بلوچ، براہوی، سندھی، سرائیکی اور دیگر مقامی آبادیاں موجود ہیں۔ کوہلو اور ڈیرہ بگٹی کے علاقوں میں بلوچ قبائلی آبادی نمایاں ہے، جبکہ بارکھان میں کھیتران اور دیگر مقامی برادریاں، اور نصیرآباد، جعفرآباد، صحبت پور اور اوستہ محمد کے میدانی علاقوں میں سندھی اور سرائیکی لسانی و ثقافتی اثر نمایاں ہے۔ نمایاں قبائل و برادریاں: مری، بگٹی، کھیتران، مگسی، جمالی، ڈومکی، عمرانی، رند، کھوسہ اور دیگر بلوچ و مقامی قبائل و برادریاں۔ صوبہ تجویز کرنے کی وجوہات : یہ بلوچستان کے مشرقی اور جنوب مشرقی علاقوں کی ایک بڑی مگر جغرافیائی طور پر مربوط اکائی بن سکتی ہے۔ نصیرآباد اور جعفرآباد زرعی پیداوار کے اہم مراکز ہیں، جبکہ ڈیرہ بگٹی قدرتی گیس اور معدنی وسائل، اور کوہلو و بارکھان لائیو اسٹاک اور دیگر قدرتی وسائل کے حوالے سے اہم ہیں۔ سیوی پہاڑی اور میدانی بلوچستان کے درمیان ایک قدرتی رابطہ اور نسبتاً متوازن مقام رکھتا ہے، اس لیے اسے مجوزہ صوبائی دارالحکومت رکھنا مناسب ہے۔ اس ترتیب میں تینوں موجودہ ڈویژن مکمل حالت میں رہتے ہیں اور کسی ضلع یا ڈویژن کو تقسیم نہیں کرنا پڑتا۔ نوٹ: شمالی اور جنوبی ڈیرہ بگٹی 2023 Census کے بعد الگ اضلاع کی موجودہ انتظامی شکل میں آئے، اس لیے 2023 کی مجموعی آبادی اور رقبے کے حساب میں سابق ضلع ڈیرہ بگٹی کے مکمل جغرافیے کے اعداد شامل کیے گئے ہیں۔ ● 6۔ صوبہ ژوب۔لورالائی (مجوزہ) موجودہ ڈویژن: ژوب ڈویژن + لورالائی ڈویژن اضلاع: ژوب، قلعہ سیف اللہ، شیرانی، لورالائی، دکی، موسیٰ خیل، زیارت، ہرنائی مجوزہ دارالحکومت: لورالائی آبادی 2023: تقریباً 19.04 لاکھ رقبہ: 46,667 مربع کلومیٹر آبادی کی کثافت: تقریباً 41 افراد فی مربع کلومیٹر زبانیں اور ثقافت : اس خطے میں پشتو بولنے والی آبادی نمایاں ہے، جبکہ مختلف اضلاع میں مقامی لسانی، ثقافتی اور قبائلی تنوع بھی موجود ہے۔ نمایاں قبائل و برادریاں: کاکڑ، مندوخیل، شیرانی، موسیٰ خیل، لونی، ناصر اور دیگر پشتون و مقامی قبائل و برادریاں۔ صوبہ تجویز کرنے کی وجوہات : اگر نقشے پر دیکھیں تو ژوب اور لورالائی کے علاقے قدرتی طور پر ایک دوسرے سے جڑے ہوئے ہیں۔ یہاں کے لوگوں کا رہن سہن اور ماحول ایک جیسا ہے۔ اس نئے صوبے کو بنانے کا سب سے بڑا فائدہ یہ ہوگا کہ ژوب، شیرانی، قلعہ سیف اللہ اور موسیٰ خیل جیسے دور دراز علاقوں کے لوگوں کو اپنے چھوٹے چھوٹے سرکاری کاموں کے لیے اب کوئٹہ کے لمبے اور تھکا دینے والے سفر نہیں کرنے پڑیں گے۔ لورالائی کو دارالحکومت اس لیے تجویز کیا گیا ہے کیونکہ یہ ان تمام اضلاع کے بالکل بیچ میں پڑتا ہے۔ یہاں سے ہر ضلع کا راستہ آسان ہے اور تمام شہروں کے لوگوں کو صوبائی مرکز تک پہنچنے میں برابر سہولت رہے گی۔ اس طرح اس پورے علاقے کی پشتون آبادی کا اپس کا سماجی اور بھائی چارے کا رشتہ بھی ایک ہی صوبے کے اندر محفوظ رہے گا۔ سب سے اچھی بات یہ ہے کہ اس منصوبے میں موجودہ ژوب اور لورالائی ڈویژن کے کسی ایک بھی ضلع یا علاقے کو توڑا نہیں گیا، بلکہ دونوں ڈویژنوں کو جیسا ہے ویسا ہی ملا کر ایک نیا صوبہ بنا دیا گیا ہے۔ 🔘 قارئین کرام! ان چھ مجوزہ صوبوں کی تشکیل میں رقبے، آبادی، سفری سہولت، موجودہ انتظامی ڈھانچے، معاشی خودمختاری، شہری استعداد اور جغرافیائی رابطوں کو بنیادی کسوٹی بنایا گیا ہے۔ اگرچہ زبان، ثقافت اور سرداری و قبائلی نظام کو اس تقسیم کا معیار نہیں بنایا گیا، تاہم انہیں معاشرے کی ایک بنیادی حقیقت کے طور پر مدنظر ضرور رکھا گیا ہے تاکہ تاریخی طور پر جڑے ہوئے علاقوں کو بلاجواز تقسیم کر کے کوئی نیا تنازع پیدا نہ ہو۔ اسی لیے، جہاں تک ممکن ہو سکا، تاریخی اور انتظامی تسلسل کو برقرار رکھا گیا ہے: مکران کے اضلاع کو یکجا رکھا گیا ہے۔ رخشان کو اس کی موجودہ انتظامی ہیئت میں قائم رکھا گیا ہے۔ قلات کے تاریخی وجود کو حتی الامکان محفوظ بنایا گیا ہے۔ کوئٹہ اور شمال مشرقی بلوچستان کی انتظامی تشکیلِ نو کرتے وقت جغرافیائی اتصال، فاصلوں، باہمی معاشی روابط اور مرکزی شہروں کی انتظامی صلاحیت کو پیشِ نظر رکھا گیا ہے۔ اس مضمون میں قبائلی نظام کا ذکر کسی قبائلی سوچ کی پذیرائی کے لیے نہیں، بلکہ بلوچستان کی تاریخ، جغرافیے اور سماجی واقعیت کو تسلیم کرنے کے لیے کیا گیا ہے، کیونکہ ان حقائق کو نظر انداز کر کے کوئی بھی انتظامی اصلاحات کامیاب نہیں ہو سکتیں۔ یہ کوئی حرفِ آخر یا حتمی نقشہ نہیں ہے۔ مقامی مشاورت اور مزید تحقیق کی روشنی میں ان حدود میں بہتری لائی جا سکتی ہے۔ اس پوری کاوش کا اصل اور واحد محور صرف اور صرف بہتر حکمرانی (Good Governance) کا قیام ہے۔ 🔘 بلوچستان میں نئے صوبوں کے مطالبے کی تاریخ بلوچستان میں نئے صوبے بنانے کی بات کوئی نئی نہیں ہے۔ 1947 میں جب پاکستان بنا، تو موجودہ بلوچستان اس شکل میں نہیں تھا۔ اس وقت انگریزوں کا زیرِ انتظام علاقہ الگ تھا، جبکہ قلات، مکران، لسبیلہ اور خاران کی ریاستوں کی اپنی الگ حیثیت تھی۔ پھر مختلف سیاسی مراحل سے گزرتے ہوئے اور 1970 میں ‘ون یونٹ’ ختم ہونے کے بعد بلوچستان کو وہ صوبائی شکل ملی جو ہم آج دیکھتے ہیں۔ یعنی موجودہ بلوچستان بھی ماضی میں کی گئی ایک انتظامی تبدیلی کا ہی نتیجہ ہے۔ 1970 کے بعد سے شمالی بلوچستان کے پشتون علاقوں کے لیے الگ انتظامی شناخت کا مطالبہ بار بار سامنے آتا رہا۔ یہ آواز سب سے پہلے خان عبدالصمد خان اچکزئی نے اٹھائی اور بعد میں پشتونخوا ملی عوامی پارٹی اس مطالبے کو آگے بڑھاتی رہی: دسمبر 2006: محمود خان اچکزئی نے پشتون علاقوں کو ایک الگ انتظامی یونٹ بنانے کی تجویز دی اور پختونخوا، پشتونستان یا افغانیہ جیسے نام سامنے رکھے۔ اکتوبر 2010: بلوچستان پشتون موومنٹ کے سربراہ ڈاکٹر میر حاجی ترین نے پشتو بولنے والے علاقوں پر مشتمل الگ صوبے کا مطالبہ کیا اور کہا کہ یہ علاقہ اپنے وسائل سے اپنے اخراجات خود اٹھا سکتا ہے۔ 2016: خان عبدالصمد خان اچکزئی کی برسی کے موقع پر محمود خان اچکزئی نے ایک بار پھر پشتون آبادی کے لیے “افغانیہ صوبے” کا تصور پیش کیا۔ یوں دیکھا جائے تو بلوچستان میں سب سے مسلسل اور پرانا مطالبہ شمالی پشتون علاقوں کو الگ صوبہ یا انتظامی یونٹ بنانے کا رہا ہے۔ جنوبی بلوچستان اور حکومت کا اپنا تجربہ اس بحث کا دوسرا پہلو جنوبی بلوچستان کا ہے۔ 2020 میں وفاقی حکومت نے واشک، خاران، پنجگور، کیچ، لسبیلہ، آواران، خضدار اور گوادر جیسے اضلاع کی ترقی کے لیے ایک خاص منصوبے کا اعلان کیا۔ وزیراعظم عمران خان نے تربت جا کر اس ترقیاتی پیکیج کا افتتاح کیا۔ اگرچہ یہ کوئی نیا صوبہ بنانے کا اعلان نہیں تھا، لیکن اس سے یہ بات ضرور ثابت ہوئی کہ حکومت بھی جنوبی بلوچستان کو مختلف مسائل اور ضرورتوں والا ایک الگ علاقہ تسلیم کرتی ہے۔ اس کے بعد جولائی 2026 میں خود بلوچستان حکومت نے انتظامی سطح پر بڑا قدم اٹھایا۔ کوئٹہ کو دو حصوں (ایسٹ کوئٹہ اور ویسٹ کوئٹہ) میں تقسیم کیا گیا، نئے اضلاع اور ڈویژن بنائے گئے، جس کے بعد صوبے میں ڈویژنوں کی تعداد 11 اور اضلاع 41 ہو گئے۔ بلوچستان پاکستان کے تقریباً 44 فیصد رقبے پر پھیلا ہوا ہے۔ گوادر، ریکوڈک، سونے اور تانبے کی کانیں، اور سمندری تجارت آنے والے وقت میں اس خطے کو بہت بڑا معاشی مرکز بنا دیں گی۔ اسی لیے بلوچستان کے نظام کا فیصلہ صرف آج کو دیکھ کر نہیں، بلکہ اگلے 50 یا 100 سال کے مستقبل اور آنے والی نسلوں کی ضروریات کو ذہن میں رکھ کر کرنا ہوگا۔ (جاری ہے، باقی اگلی قسط میں)

تمام تحریریں دیکھیں