پاکستان کے مجوزہ 23 صوبے۔
▫️ نئے صوبے زبان یا سیاست کی بنیاد پر نہیں، بلکہ آبادی، جغرافیہ، فاصلے اور مالی خود کفالت (Financial Viability) کو دیکھ کر بننے چاہئیں، تاکہ انتظام بہتر ہو اور ملک آگے بڑھے۔
▫️ہماری نظر میں نئے صوبوں کی بحث صرف یہ نہیں کہ پاکستان کو کتنے حصوں میں تقسیم کیا جائے۔ اصل سوال یہ ہونا چاہیے کہ ہر صوبے میں ایسا مکمل معاشی نظام کیسے قائم کیا جائے جو وہاں کے لوگوں کو روزگار، کاروبار اور خوشحال زندگی دے سکے۔ اگر ہم نے صرف زبان، ثقافت، دریا یا فصلیں دیکھ کر نئے صوبے بنا دیے، لیکن ان کے اندر ایک مکمل معاشی نظام (Economic Ecosystem) نہ بنایا، تو ہم صرف نقشہ بدلیں گے، پاکستان نہیں
▫️بغیر عوامی قبولیت، سیاسی اتفاقِ رائے اور سنجیدہ تحقیق کے کیے گئے انتظامی تجربات حکومتوں کے ساتھ ہی ختم ہو جاتے ہیں۔
▫️وفاق اور اکائیوں کے درمیان اختیارات و وسائل کی تقسیم کا کام عالمی سطح پر تسلیم شدہ اصولوں کی روشنی میں ہونا چاہیے۔
▫️اگر یہ سمجھا جا رہا ہے کہ صرف نئے صوبے بنانے سے پاکستان کے انتظامی مسائل حل ہو جائیں گے تو یہ درست نہیں۔ نئے صوبوں کے ساتھ بااختیار لوکل گورنمنٹ یا سٹی ڈسٹرکٹ گورنمنٹ کا نظام بھی لازمی ہونا چاہیے، تاکہ اختیارات اور وسائل واقعی نچلی سطح تک منتقل ہوں۔
▫️عوامی و پارلیمانی بحث کے لیے ہمارا تھنک ٹینک اس تحقیق کو قومی اسمبلی، سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے بین الصوبائی رابطہ (Inter-Provincial Coordination) اور مختلف پریس کلبز/یونیورسٹیز میں سیمینارز کی صورت میں پیش کرنے کا ارادہ رکھتا ہے۔اس کے لیے پڑھنے والوں کی راۓ درکار ہے۔
🔘 موضوع: کیا پاکستان میں نئے صوبوں کا بننا ضروری ہے؟ | آخری قسط۔
🔺 عنوان: پاکستان کے مجوزہ 23 صوبے۔
یہ نئے صوبوں کے موضوع پر میری تحقیق کی آخری قسط ہے۔
پچھلی 10 اقساط میں ہم نے پاکستان کے مختلف حصوں کا الگ الگ جائزہ لیا اور انتظامی، جغرافیائی اور معاشی حقائق کو سامنے رکھتے ہوئے نئے صوبوں اور انتظامی اکائیوں کی تجاویز پیش کیں۔
اب ان تمام تجاویز کو یکجا کیا جائے تو ہمارے سامنے پاکستان کا یہ مجوزہ انتظامی نقشہ آتا ہے، جس میں 23 صوبےاور 1 وفاقی دارالحکومت تجویز کیے گئے ہیں، اور جسے آپ اس مضمون میں دیکھ سکتے ہیں۔
یہ ہماری تحقیق اور مطالعے کی بنیاد پر ایک تجویز ہے۔ اب یہ اربابِ اختیار اور پالیسی سازوں کا کام ہے کہ وہ اس تحقیق کو کس حد تک قابلِ عمل سمجھتے ہیں اور مستقبل کی انتظامی اصلاحات میں اس سے کس حد تک رہنمائی لینا چاہتے ہیں۔
تحقیق کے اس سلسلے میں ہم نے اپنے تھنک ٹینک میں ہونے والی ریسرچ، اپنے تجربات و مشاہدات اور دستیاب اعداد و شمار کی روشنی میں پاکستان کو ایک نئے اور مختلف زاویے سے دیکھنے کی کوشش کی ہے۔
ہمارا مقصد نہ کسی لسانی یا علاقائی تقسیم کی حمایت تھا اور نہ اپنی تجاویز کو حتمی حل قرار دینا۔ ہم نے صرف یہ جاننے کی کوشش کی کہ اگر پاکستان میں نئے صوبے بنانے ہی ہیں تو کیا انہیں زبان اور سیاست کے بجائے جغرافیہ، آبادی، فاصلے، وسائل، معاشی استعداد اور انتظامی ضرورت کی بنیاد پر بھی دیکھا جا سکتا ہے؟
ہماری اس تحقیق سے اختلاف بھی ہوا، تنقید بھی ہوئی اور بہت حوصلہ افزائی بھی ملی۔ یہ فطری بات ہے۔ ہر خیال کے سب لوگ ہمنوا نہیں ہو سکتے۔ ہم نے نیک نیتی سے سوال اٹھائے، نقشے بنائے، اعداد و شمار دیکھے اور جہاں کوئی بات ملک و قوم کے لیے قابلِ غور محسوس ہوئی، اسے اپنے پڑھنے والوں کے سامنے رکھ دیا۔
اس سلسلے میں ہمارے لیے ایک اور بالکل نیا تجربہ Cartography یعنی باقاعدہ نقشہ سازی بھی تھا۔ ہماری UI/UX اور Art ٹیم نے Britannica Atlas، مختلف مستند ذرائع، جغرافیائی معلومات اور ڈیجیٹل ٹولز کی مدد سے ان نقشوں پر بہت محنت کی، اور ہر قسط کے ساتھ نقشوں کو زیادہ واضح، درست اور معیاری بنانے پر مسلسل کام کیا۔ الحمدللہ ہم اس تجربے میں کامیاب ہوئے اور ہماری ٹیم نے ثابت کیا کہ مناسب تحقیق اور محنت کے ساتھ ہم معیاری Cartographic Design بھی تیار کر سکتے ہیں۔
اس پورے کام میں ہمیں یہ احساس بھی مسلسل رہا کہ پاکستان کا سرکاری سیاسی نقشہ ایک حساس اور قانونی اہمیت رکھنے والا معاملہ ہے، اس لیے ہماری کوشش تھی کہ Survey of Pakistan کے جاری کردہ سرکاری نقشے اور اس کی بنیادی پوزیشن سے کوئی غیر ضروری انحراف نہ ہو۔
آج AI کے دور میں نقشے بنانا آسان لگتا ہے، مگر سنجیدہ نقشہ سازی صرف AI سے نہیں ہو سکتی۔ ہمارے نقشے AI generated نہیں تھے، انہیں ہماری UI/UX اور Art ٹیم نے مستند ذرائع، گرافک ڈیزائن اور دیگر ڈیجیٹل ٹولز کی مدد سے تیار کیا، جبکہ AI صرف معاون ٹول کے طور پر استعمال ہوا۔
آج اس آخری قسط میں، میں پورے موضوع کو سمیٹتے ہوئے صرف یہ دیکھنا چاہتا ہوں کہ تمام قسطوں کی تصویر ہمارے سامنے کیا بنتی ہے۔
چنانچہ ہم نے کئی دہائیوں کی اپنی تحقیق اور کام کو اب باقاعدہ کتابی شکل میں شائع کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ اس سلسلے کی قسطوں میں ہم نے اسی تحقیق کی چند جھلکیاں شیئر کیں، تاکہ نئے صوبوں جیسے اہم موضوع پر سنجیدہ عوامی بحث اور آگاہی پیدا ہو۔
لیکن اس پوری بحث کو سمیٹتے ہوئے یہ سمجھنا بھی ضروری ہے کہ دنیا میں نئے صوبے یا وفاقی اکائیاں بنانے کے بنیادی اصول کیا ہیں۔
نیا صوبہ کیسے بنایا جائے، حدود کس بنیاد پر طے ہوں، کون سے علاقے ایک ساتھ رکھے جائیں، اور اختیارات وفاق اور صوبے کے درمیان کیسے تقسیم ہوں، ان چاروں پہلوؤں کو کوئی ایک ہی کتاب مکمل طور پر cover نہیں کرتی۔ البتہ معروف مصنف W. Elliot Bulmer کی کتاب Federalism: Constitution-Building Primer 12، جسے International IDEA نے شائع کیا ہے، اس موضوع پر بہت جامع رہنمائی فراہم کرتی ہے۔
اس کتاب میں یہ سمجھایا گیا ہے کہ وفاق کے اندر مختلف صوبوں یا علاقوں کی حدیں کس بنیاد پر طے ہونی چاہئیں، ان کے پاس کتنے اور کون سے اختیارات ہوں، آمدنی اور وسائل کی تقسیم کیسے ہو، اور اگر کچھ علاقوں کو دوسروں سے مختلف اختیارات دینے ہوں تو اس کا طریقہ کیا ہو۔
اگر آپ واقعی یہ سمجھنا چاہتے ہیں کہ نئے صوبے بناتے وقت کن باتوں کا خیال رکھا جائے، تو یہ کتاب اس کام میں براہِ راست مدد دیتی ہے۔
بھارت کی مثال بھی اس حوالے سے خاصی اہم ہے۔ آزادی کے صرف چھ سال بعد، 1953 میں پنڈت جواہر لال نہرو کی حکومت نے جسٹس فضل علی کی سربراہی میں States Reorganisation Commission قائم کیا، جس کا کام یہ طے کرنا تھا کہ ملک کی ریاستوں کی نئی حدود کن اصولوں پر بنائی جائیں۔
کمیشن نے تقریباً دو سال تحقیق کی اور 1955 میں اپنی رپورٹ پیش کی۔ اس کا کہنا تھا کہ لوگوں کی زبان، ثقافت اور مقامی شناخت اہم ضرور ہیں، لیکن صرف انہی بنیادوں پر نئی ریاست نہیں بنائی جا سکتی۔ اس کے لیے یہ بھی دیکھنا ضروری ہے کہ علاقہ انتظامی طور پر کتنا قابلِ عمل ہے، اس کی معیشت کیسی ہے، جغرافیہ کیا ہے، مختلف علاقوں کا آپس میں رابطہ کتنا ہے اور وہاں کے لوگ کیا چاہتے ہیں۔ خاص طور پر یہ بات اہم سمجھی گئی کہ نئی ریاست مالی طور پر اپنے اخراجات اٹھانے کے قابل بھی ہو۔
اسی رپورٹ کے بعد 1956 میں States Reorganisation Act منظور کیا گیا اور آئین میں Seventh Amendment کے ذریعے بھارت کے ریاستی نقشے میں بڑے پیمانے پر تبدیلیاں کی گئیں۔
اسی تنظیمِ نو کے نتیجے میں Kerala ایک نئی ریاست کے طور پر وجود میں آیا، Mysore کو مختلف علاقوں کو ملا کر نئی شکل دی گئی، جبکہ Bombay سمیت کئی دوسری ریاستوں کی حدود بھی ازسرِنو ترتیب دی گئیں۔ یعنی ہر جگہ ایک ہی پیمانہ نہیں لگایا گیا بلکہ ہر علاقے کے حالات الگ دیکھے گئے۔
یہ رپورٹ آج بھی بھارت کی وزارت داخلہ کے سرکاری ریکارڈ میں موجود ہے اور ریاستوں کی تنظیم نو کے بنیادی تاریخی حوالوں میں شمار ہوتی ہے۔ (Ministry of Home Affairs)
جسٹس فضل علی کمیشن کی مثال دینے کا مقصد بھارت کی نقل کرنا نہیں، بلکہ یہ دکھانا ہے کہ ملک کا انتظامی نقشہ بدلنے سے پہلے تحقیق، واضح معیار اور باقاعدہ منصوبہ بندی ضروری ہوتی ہے۔ بھارت نے 1953 میں کمیشن بنایا، دو سال غور کیا، پھر 1956 میں ریاستوں کی تنظیمِ نو کی۔ سوال یہ ہے کہ پاکستان اگر نئے صوبے بنانے جا رہا ہے تو اس سے پہلے ہماری ایسی تحقیق کہاں ہے؟
یہی سوال میں نے اپنی ایک قسط میں وزیر داخلہ محسن نقوی کے نام کھلے خط میں 15 سوالات کی صورت میں اٹھایا تھا۔ یہ کوئی پیچیدہ علمی سوالات نہیں تھے، بلکہ ایسے بنیادی سوالات تھے جو نئے صوبوں کی بات کرنے والا ہر شخص پہلے خود سے پوچھے گا۔ حدود کس بنیاد پر بنیں گی؟ مالی نظام کیا ہوگا؟ اختیارات کیسے تقسیم ہوں گے؟ نئی اکائیاں اپنا خرچ کیسے چلائیں گی؟ اور عوام سے مشاورت کہاں ہے؟
اگر حکومت ان بنیادی سوالوں کے جواب بھی قوم کے سامنے نہیں رکھ سکتی تو پھر پورا منصوبہ کس بنیاد پر کھڑا ہوگا؟
پاکستان کی تاریخ ہمیں بار بار یہی سبق دیتی ہے کہ بڑے نظام صرف اقتدار کے زور پر زیادہ دیر نہیں چلتے۔ ایوب خان کا نظام ہو، بھٹو دور کی بعض بڑی انتظامی تبدیلیاں ہوں، ضیاء الحق کا نظام ہو یا پرویز مشرف کا مقامی حکومتوں کا منصوبہ، جو اصلاح عوامی اور سیاسی بنیاد نہ بنا سکے، وہ حکومت بدلنے کے ساتھ کمزور پڑ گئی یا ختم ہو گئی۔
اس لیے نئے صوبے صرف ایک حکومتی اعلان سے نہیں بنیں گے۔ انہیں تحقیق، قومی اتفاق، سیاسی تسلسل اور عوامی قبولیت کی بنیاد چاہیے۔ ورنہ خدشہ یہی ہے کہ مستقبل میں جب بھی موجودہ حکومت رخصت ہو گی، اس کے ساتھ ساتھ یہ منصوبہ بھی رخصت ہو جائے گا۔
یہ بھی یاد رہے کہ اگر یہ سمجھا جا رہا ہے کہ صرف نئے صوبے بنا دینے سے پاکستان کے انتظامی مسائل حل ہو جائیں گے تو یہ درست نہیں۔ اصل اصلاحات کے لیے دو کام ایک ساتھ ضروری ہیں: نئے صوبوں کی تشکیل اور ہر صوبے میں بااختیار Local Government یا City District Government کا لازمی نظام۔ جس طرح ایک صوبے کے لیے آئینی اور انتظامی ڈھانچہ ضروری ہے، اسی طرح مقامی حکومت بھی اس کا لازمی حصہ ہونی چاہیے۔ اگر اختیارات اور وسائل صوبائی دارالحکومت سے آگے اضلاع، شہروں اور یونین کونسلوں تک منتقل نہیں ہوتے تو صرف صوبوں کی تعداد بڑھانے سے عام آدمی کی زندگی میں بنیادی تبدیلی نہیں آئے گی۔
آخری بات یہ ہے کہ آج کل لوگ لمبی تحریریں کم پڑھتے ہیں اور نقشوں، تصویروں، ویڈیوز اور گرافکس کی طرف زیادہ توجہ دیتے ہیں۔ اسی لیے ہم نے بھی نئے صوبوں کے اس موضوع کو صرف تحریر تک محدود نہیں رکھا بلکہ نقشوں اور اعداد و شمار کے ذریعے آسان انداز میں سمجھانے کی کوشش کی۔
لیکن تحقیق یہ بھی بتاتی ہے کہ کسی سنجیدہ بات کو اچھی طرح سمجھنے اور یاد رکھنے کے لیے پڑھنے کی اہمیت اب بھی بہت زیادہ ہے۔ Pablo Delgado اور ان کے ساتھیوں کی معروف Meta Analysis “Don’t throw away your printed books” میں 2000 سے 2017 تک کی تحقیقات کا جائزہ لیا گیا اور یہ سامنے آیا کہ کئی صورتوں میں کاغذ پر پڑھنے سے بات اسکرین کے مقابلے میں بہتر سمجھ آتی ہے۔
(ScienceDirect)
اسی طرح “Picture This: A Review of Research Relating to Narrative Processing by Moving Image versus Language” میں یہ بتایا گیا ہے کہ جب ہم تحریر پڑھتے ہیں تو ذہن خود اس کی تصویریں بناتا اور بات کو سمجھتا ہے، جبکہ ویڈیو میں زیادہ تر تصویریں پہلے ہی ہمارے سامنے موجود ہوتی ہیں۔ (Frontiers)
یعنی Visuals کسی بات کو جلدی سمجھانے اور توجہ حاصل کرنے کے لیے بہت مفید ہیں، لیکن کسی موضوع کو گہرائی سے سمجھنے کے لیے مطالعہ اور کتاب آج بھی ضروری ہیں۔
فیس بک پر اس موضوع کو اٹھانے کا مقصد بھی یہی تھا کہ نئے صوبوں جیسے اہم قومی معاملے کو آسان انداز میں لوگوں کے سامنے لایا جائے اور اس پر سنجیدہ بحث شروع ہو۔
اسی سوچ کے تحت ہماری ان اقساط پر مبنی کتاب اردو اور انگریزی زبان میں ترتیب و طباعت کے مراحل میں ہے اور بہت جلد قارئین کے سامنے ہو گی۔
ہماری کوشش ہے کہ یہ تحقیق صرف ایک کتاب تک محدود نہ رہے بلکہ اسے E Book کی صورت میں بھی دستیاب کیا جائے، تاکہ پاکستان اور بیرونِ ملک طلبہ، پالیسی ساز، سول بیوروکریسی، قانون دانوں، بین الاقوامی محققین (Think Tanks) اور اس موضوع میں دلچسپی رکھنے والے دوسرے لوگوں کے لیے اس تک رسائی آسان ہو۔
ان شاء اللہ یہ کتاب بہت جلد آپ کے سامنے ہوگی۔ اس کی اشاعت اور دستیابی کی تمام تفصیلات ہماری ویب سائٹ SyedShayan.com پر جاری کر دی جائیں گی۔
اس کے ساتھ ہی نئے صوبوں پر ہماری دس اقساط پر مشتمل یہ تحقیقی سلسلہ مکمل ہوتا ہے۔
(اختتام)
⭕️ پاکستان میں نئے صوبوں کی تشکیل ایک اہم قومی بحث ہے۔ اس سلسلے میں آپ کی رائے، تجاویز اور اختلاف ہمارے لیے قابلِ قدر ہیں۔
مکمل مضمون اور اس کی تمام اقساط پڑھنے کے لیے ہمارے تھنک ٹینک اور ویب پورٹل SyedShayan.com پر لاگ اِن کرکے اس کی فری ممبرشپ حاصل کریں اور اپنی رائے و تجاویز کے ساتھ اس قومی بحث کا حصہ بنیں۔
No comments yet.