کیا پاکستان میں نئے صوبوں کا بنایا جانا لازمی قرار دیا گیا ہے؟
مختلف عالمی تحقیقات سے یہ بات ثابت ہوئی ہے کہ جب نئے صوبے بنتے ہیں تو لوگ صحت، روزگار اور عدالتوں کے کاموں کے لیے بڑے شہروں کی طرف نقل مکانی کم کرتے ہیں، جس سے معاشی سرگرمیاں پورے ملک میں پھیل جاتی ہیں۔
▫️پاکستان میں رہنے والوں کو یہ سمجھنا ہوگا کہ صوبہ کوئی الگ ریاست نہیں، بلکہ ریاست کے نظام کو چلانے کی ایک اکائی ہوتا ہے۔
▫️انتظامی تقسیم کو سیاسی تقسیم نہیں کہا جا سکتا۔ جس طرح ایک بڑے ادارے، بینک یا کمپنی کو بہتر طریقے سے چلانے کے لیے اس کے مختلف زونز یا برانچز بنائی جاتی ہیں، بالکل اسی طرح صوبے بھی صرف گورننس کو بہتر بنانے کا ایک ذریعہ ہیں۔
▫️عوام اس بات کے شدید حامی ہیں کہ ان کے ٹیکس کا پیسہ ان کے اپنے خطے پر خرچ ہو۔ جتنا صوبہ چھوٹا اور ان کے قریب ہوگا، فنڈز کے ضیاع اور کرپشن کو چیک کرنا اتنا ہی آسان ہوگا۔
▫️جب انتظامی اکائیاں چھوٹی اور بااختیار ہوتی ہیں تو مرکزی اور صوبائی حکومتوں کا بوجھ کم ہوتا ہے اور وفاق زیادہ مستحکم ہوتا ہے، کیونکہ عوام کو اپنے حقوق کے لیے مرکز یا دور دراز دارالحکومت پر انحصار نہیں کرنا پڑتا۔
▫️مختلف نسلی، لسانی یا جغرافیائی تنوع (Diversity) والے ممالک میں جب نئے صوبے بنائے گئے یا علاقائی خودمختاری دی گئی تو مرکزی حکومت کے خلاف بغاوت اور محرومی کے احساس میں واضح کمی دیکھی گئی۔
▫️عالمی سطح پر کیے گئے سرویز اور تحقیقی رپورٹس میں جب لوگوں سے صوبوں کی تشکیل اور اختیارات کے بارے میں پوچھا گیا تو 70 فیصد سے زائد لوگوں نے یہ تسلیم کیا کہ چھوٹے اور بااختیار صوبوں میں تعلیم، صحت اور پولیسنگ کا نظام بڑے اور مرکز سے دور صوبوں کے مقابلے میں کہیں زیادہ مؤثر اور تیز ہوتا ہے۔
🔳 موضوع: کیا پاکستان میں نئے صوبوں کا بنایا جانا لازمی قرار دیا گیا ہے؟ | قسط 5
عنوان:کیا پاکستان میں نئے صوبوں کا بنایا جانا واقعی ضروری ہے؟
🔺 قومی معاملات میں اختلافِ رائے فطری ہے، مگر سنجیدہ بحث اور قومی اتفاقِ رائے ہی سے مسائل کا حل ممکن ہے۔
تحریر و تحقیق: سید شایان
صوبے بنانے کا مقصد حکومت تک عوام کی آسان رسائی اور اپنے علاقے کے ماحول کے مطابق قانون سازی ہے۔
اس کے سات (7)بڑے فائدے تو یہ ہیں:
1۔ حکومت قریب آتی ہے
آج بہت سے لوگوں کو اپنے سرکاری کام، شکایت یا مسئلے کے لیے سینکڑوں کلومیٹر دور صوبائی دارالحکومت جانا پڑتا ہے۔ نیا صوبہ بننے سے حکومت، سیکرٹریٹ اور بڑے ادارے ان کے قریب آ جاتے ہیں۔
2۔ علاقے کے فیصلے علاقے میں ہوتے ہیں
پہاڑی علاقے، زرعی علاقے، صنعتی شہر اور صحرائی خطے ایک جیسے نہیں ہوتے۔ جب ہر خطے کی اپنی حکومت ہو تو فیصلے اس علاقے کی اصل ضرورت کے مطابق ہوتے ہیں۔
3۔ بجٹ بڑے شہروں تک محدود نہیں رہتا
بڑے صوبوں میں زیادہ تر پیسہ دارالحکومت اور چند بڑے شہروں پر خرچ ہو جاتا ہے۔ نیا صوبہ بننے سے اس علاقے کا اپنا بجٹ ہوتا ہے اور رقم مقامی سڑکوں، ہسپتالوں، سکولوں اور روزگار پر خرچ ہوتی ہے۔
4۔ کام جلد ہوتا ہے
جب ایک حکومت کو بہت بڑی آبادی اور وسیع علاقے کو سنبھالنا پڑے تو فیصلے سست ہو جاتے ہیں۔ چھوٹا اور منظم صوبہ اپنے مسائل کو جلد سمجھتا اور جلد حل کرتا ہے۔
5۔ ذمہ دار شخص سامنے ہوتا ہے
جب حکومت دور ہو تو ہر ادارہ دوسرے کو ذمہ دار ٹھہراتا ہے۔ حکومت قریب ہو تو عوام کو معلوم ہوتا ہے کہ سڑک، پانی، سکول، ہسپتال اور امن و امان کا جواب کس نے دینا ہے۔
6۔ ترقی صرف ایک شہر تک محدود نہیں رہتی
نئے صوبے بننے سے نئے دارالحکومت، یونیورسٹیاں، ہسپتال، عدالتیں، سرکاری دفاتر، صنعتیں اور روزگار کے مراکز بنتے ہیں۔ اس طرح ترقی دو یا چار شہروں کے بجائے پورے ملک میں پھیلتی ہے۔
7۔ قومی یکجہتی اور وفاق کا استحکام
جب چھوٹے اور محروم خطوں کے لوگوں کو اپنے معاملات کے فیصلے خود کرنے اور اپنے وسائل کے استعمال میں مؤثر اختیار ملتا ہے تو ان کا احساسِ محرومی کم ہوتا ہے۔ اس سے مرکز کے خلاف بے چینی میں کمی آتی ہے، قومی یکجہتی بڑھتی ہے اور وفاق مضبوط ہوتا ہے۔
میری یہ باتیں پڑھ کر بہت سے لوگوں کے دل میں یہ خیال آئے گا کہ نئے صوبے کے قیام کے جو فوائد بیان کیے جا رہے ہیں، ان میں سے بیشتر فوائد تو ایک بااختیار اور مؤثر بلدیاتی نظام کے ذریعے بھی حاصل کیے جا سکتے ہیں۔
ترقیاتی منصوبے اور شہری سہولیات بنیادی طور پر لوکل گورنمنٹ کے دائرۂ کار میں آتی ہیں۔ پھر ان سہولیات کو نئے صوبے کے فوائد کے طور پر پیش کرنا کہاں تک درست ہے؟ جبکہ نئے صوبے بنانے کے بجائے مضبوط اور بااختیار بلدیاتی نظام (Local Government) قائم کرنا زیادہ آسان اور کم خرچ حل ہے۔
تو اس کی وضاحت کچھ یوں ہے کہ:
بلدیاتی نظام نچلی سطح کی سہولیات، جیسے گلی، نالی اور صفائی کے انتظامی امور دیکھتا ہے، لیکن اُس کے پاس قانون سازی اور وسیع انتظامی اختیارات (Legislative & Administrative Power) نہیں ہوتے، کیونکہ پولیس، ریونیو، صوبائی ٹیکس اور پالیسی سازی جیسے تمام کلیدی شعبے صوبے کے کنٹرول میں ہوتے ہیں۔
دوسرا بڑا فرق مالی خودمختاری (Financial Autonomy) کا ہے۔ بلدیاتی ادارے فنڈز کے لیے صوبائی حکومت کے مرہونِ منت ہوتے ہیں، جبکہ صوبہ آئینی طور پر اپنا این ایف سی شیئر حاصل کرتا ہے۔ سب سے اہم بات یہ ہے کہ بلدیاتی ادارے صوبائی حکومت کے رحم و کرم پر ہوتے ہیں اور انہیں قانون کے تحت ختم، معطل یا ان کے اختیارات محدود کیے جا سکتے ہیں، جبکہ ایک صوبہ اپنے خطے کو آئینی تحفظ (Constitutional Protection) اور حقیقی اقتدار و اختیارات (Power & Authority) فراہم کرتا ہے۔
تو پھر سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اگر نئے صوبوں سے عام شہری کو سہولت ملتی ہے تو پھر لوگ نئے صوبوں کی مخالفت کیوں کرتے ہیں؟
حقیقت یہ ہے کہ نئے صوبوں سے سب سے زیادہ فائدہ عام آدمی کو ہی ہوتا ہے۔ اسے ہر چھوٹے بڑے کام کے لیے ایم این اے یا ایم پی اے کے دروازے پر نہیں جانا پڑتا، بلکہ بہت سے کام اداروں کے ذریعے براہِ راست ہونے لگتے ہیں۔
یہی وجہ ہے کہ بعض سیاسی لوگوں کو ایسا ہونے سے اپنی اہمیت اور اثر و رسوخ کم ہوتا نظر آتا ہے۔ پھر مخالفت کا شور وہ خود یا ان کے حامی حلقے مچاتے ہیں، جبکہ عام آدمی کے لیے انتظامیہ کا قریب آنا نقصان نہیں بلکہ ایک بڑی سہولت ہے۔
صوبے بنانے کا مقصد حکومت تک عوام کی آسان رسائی اور اپنے علاقے کے ماحول کے مطابق قانون سازی ہے۔
🔘 آئیے اس نفسیات کا جائزہ لیتے ہیں کہ نئے صوبے بنانے کے متعدد معاشی اور انتظامی فوائد کے باوجود سیاسی جماعتیں اور عوام اکثر اس کی مخالفت کیوں کرتے ہیں یا اس میں دلچسپی کیوں نہیں لیتے۔ اس کی اہم وجوہات درج ذیل ہیں:
▫️سیاسی اثر و رسوخ کا خوف:
برسرِ اقتدار اور بڑی علاقائی جماعتوں کو خدشہ ہوتا ہے کہ صوبے کی تقسیم سے ان کا ووٹ بینک اور سیاسی طاقت تقسیم ہو جائے گی۔ نئے صوبے بننے سے قائم شدہ سیاسی اجارہ داری ختم ہونے کا ڈر ہوتا ہے۔
▫️وسائل اور فنڈز کی تقسیم پر نزاع:
قدرتی وسائل، مثلاً پانی، معدنیات اور گیس، اور مالیاتی بجٹ، خصوصاً این ایف سی ایوارڈ، کی تقسیم پر پرانے اور نئے علاقوں کے درمیان تنازعات جنم لیتے ہیں۔ کوئی بھی خطہ اپنے موجودہ حصے سے دستبردار ہونے پر تیار نہیں ہوتا۔
▫️لسانی اور ثقافتی یکجہتی کو خطرہ:
صوبوں کی بنیاد اکثر زبان یا جغرافیے پر ہوتی ہے۔ صوبے کی تقسیم سے مقامی لوگ یہ محسوس کرتے ہیں کہ ان کی تاریخی، ثقافتی اور لسانی پہچان کمزور یا تقسیم ہو جائے گی۔
▫️بھاری انتظامی اخراجات:
نیا صوبہ قائم کرنے کے لیے نئی صوبائی اسمبلی، گورنر ہاؤس، وزیرِ اعلیٰ ہاؤس، سیکرٹریٹ اور انتظامی ڈھانچہ قائم کرنا پڑتا ہے۔ اس کے لیے اربوں روپے کے اضافی اخراجات درکار ہوتے ہیں، جو ملکی معیشت پر بوجھ بن سکتے ہیں۔
▫️طاقت کی مرکزیت:
برسرِ اقتدار طبقہ اور بیوروکریسی اختیارات کی نچلی سطح پر منتقلی میں عموماً دلچسپی نہیں رکھتے، کیونکہ نئے صوبے بننے سے ان کا مرکزی کنٹرول کم ہو سکتا ہے۔
▫️پیچیدہ آئینی اور قانون سازی کا عمل:
نیا صوبہ بنانا ایک انتہائی پیچیدہ اور طویل آئینی عمل ہے، جس کے لیے پارلیمنٹ اور متعلقہ صوبائی اسمبلی میں دو تہائی اکثریت کی ضرورت ہوتی ہے۔ تمام سیاسی دھڑوں کے درمیان اس پر اتفاقِ رائے پیدا کرنا انتہائی مشکل ہوتا ہے۔
یہ وہ بنیادی وجوہات ہیں جن کی بنا پر نئے صوبوں کی بحث اکثر انتظامی ضرورت سے نکل کر سیاسی تنازع بن جاتی ہے۔ پاکستان میں موجودہ بحث کے ساتھ ایک اضافی مسئلہ اس کے وقت کا بھی ہے۔
نئے صوبے بنانے کی یہ بحث ایسے وقت میں شروع کی گئی جب حکومت کی عوامی ساکھ اور ملکی حالات خود شدید سوالات کی زد میں ہیں۔ یوں ایک سنجیدہ قومی معاملہ غیر ضروری طور پر متنازع بنا دیا گیا۔ تاہم اب جبکہ بات شروع ہو چکی ہے تو اسے دلیل و تحقیق کے ساتھ آگے بڑھنا چاہیے۔
اس بحث کو آگے بڑھانے سے پہلے ایک بنیادی بات سمجھنا ضروری ہے کہ پاکستان میں رہنے والوں کو صوبے اور ریاست کے فرق کو واضح طور پر سمجھنا ہوگا۔ صوبہ کوئی الگ ریاست نہیں، بلکہ ریاست کے نظام کو چلانے کی ایک انتظامی اکائی ہوتا ہے۔
مثال کے طور پر اگر ایک خاندان پانچ افراد پر مشتمل ہو تو ایک گھر، ایک کچن، ایک ڈرائنگ روم اور ایک ڈائننگ روم ان کے لیے کافی ہوتے ہیں۔
لیکن وقت کے ساتھ وہی خاندان بڑھ کر پچاس افراد کا ہو جائے تو ظاہر ہے کہ ایک ہی گھر سب کے لیے کافی نہیں رہے گا۔ پھر خاندان کے کچھ افراد دوسرا گھر بنا لیتے ہیں اور کچھ تیسرا۔ کیا اس سے خاندان ٹوٹ جاتا ہے؟ ہرگز نہیں۔ بلکہ اس کا مطلب صرف یہ ہوتا ہے کہ خاندان بڑا ہو گیا ہے، اس لیے اس کے انتظام کو بھی وسعت دینا پڑی۔
بالکل یہی اصول ریاست پر بھی لاگو ہوتا ہے۔ جیسے جیسے آبادی بڑھتی ہے، ویسے ویسے انتظامی نظم و نسق کو بھی وسعت دینا پڑتی ہے، تاکہ حکومت عوام کے قریب ہو، فیصلے مقامی ضروریات کے مطابق ہوں اور لوگوں کو اپنے کاموں کے لیے دور دراز دارالحکومتوں کے چکر نہ لگانے پڑیں۔
خاندان بڑا ہو تو گھر بڑھتے ہیں، ملک بڑا ہو تو ملکی انتظام بڑھتا ہے؛ نہ خاندان ٹوٹتا ہے، نہ ملک۔
ایک اور اہم بات یہ ہے کہ لوگ اکثر لوکل گورنمنٹ، ضلع، ڈویژن اور صوبے کو ایک ہی چیز سمجھ لیتے ہیں، حالانکہ ان سب کی ذمہ داریاں الگ الگ ہیں۔
لوکل گورنمنٹ مقامی مسائل کے لیے ہوتی ہے، ضلع اور ڈویژن انتظامی سہولت کے لیے ہوتے ہیں، جبکہ صوبہ وہ سطح ہے جہاں سیکرٹریٹ، وزیرِ اعلیٰ، کابینہ، ہائی کورٹ، پولیس، صحت، تعلیم، بجٹ اور بڑے انتظامی فیصلے ہوتے ہیں۔
اسی لیے جب کسی شہری کو صحت، تعلیم یا کسی بڑے قانونی و انتظامی مسئلے کا سامنا ہوتا ہے تو وہ یونین کونسل یا ڈویژن کے بجائے اکثر صوبائی سطح کے اداروں سے رجوع کرتا ہے، اور بعض معاملات میں اسے اسلام آباد تک جانا پڑتا ہے۔
نئے صوبے بنانے کی بحث کو سمجھنے کے لیے اسلامی تاریخ کی کچھ اہم مثالیں بھی ہمارے سامنے ہیں۔
جب ریاستِ مدینہ کی حدود وسیع ہوئیں اور مکہ، طائف، یمن، بحرین، خیبر اور دیگر علاقے اسلامی ریاست میں شامل ہونے لگے تو نبی کریم ﷺ نے تمام معاملات کو صرف مدینہ منورہ سے چلانے کے بجائے مختلف علاقوں میں والی (گورنر)، عامل اور دیگر ذمہ دار مقرر فرمائے۔ اس انتظام کا مقصد یہ تھا کہ مقامی معاملات مقامی سطح پر حل ہوں، لوگوں کو انصاف اور حکومتی سہولتیں اپنے قریب میسر آئیں اور انہیں ہر چھوٹے بڑے مسئلے کے لیے مدینہ منورہ کا سفر نہ کرنا پڑے۔
اس سے یہ اصول سامنے آتا ہے کہ جیسے جیسے ریاست کا دائرہ اور آبادی بڑھتی ہے، ویسے ویسے انتظامی ذمہ داریاں بھی تقسیم کی جاتی ہیں تاکہ ریاستی نظام مؤثر رہے اور حکمرانوں اور عوام کے درمیان فاصلے کم ہوں۔
بعد میں حضرت عمر فاروقؓ کے دور میں جب اسلامی ریاست عراق، شام، مصر اور فارس تک پھیل گئی تو اسی اصول کو مزید منظم شکل دی گئی۔ ریاست کے مختلف علاقوں کے لیے الگ والی، قاضی، بیت المال اور دیگر انتظامی ذمہ دار مقرر کیے گئے۔ اسی دور میں کوفہ، بصرہ اور فسطاط جیسے نئے انتظامی مراکز بھی قائم کیے گئے تاکہ عوام کو اپنے مسائل کے حل کے لیے ہر بار مدینہ منورہ نہ جانا پڑے، بلکہ انصاف، انتظام اور حکومتی سہولتیں ان کے اپنے علاقوں میں ہی میسر ہوں۔
حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کے دور میں ولایات (صوبوں)، جُند (عسکری چھاؤنیاں)، دیوان (مالیاتی و انتظامی دفاتر) اور نظامِ محاسبہ کی تشکیل سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ ریاستی انتظام کے اصول جامد نہیں ہوتے، بلکہ آبادی اور جغرافیائی پھیلاؤ کے ساتھ ان میں توسیع اور اصلاح ناگزیر ہوتی ہے۔
ولایت عربی اصطلاح ہے، جس سے مراد زیرِ انتظام علاقہ ہے، جبکہ “والی” اس کے منتظم یا حاکم کو کہا جاتا ہے۔ آج اسے صوبے اور گورنر کے قریب ترین انتظامی مفہوم میں سمجھا جا سکتا ہے۔
اس سے واضح ہوتا ہے کہ اسلامی طرزِ حکمرانی میں بھی جیسے جیسے ریاست اور آبادی بڑھتی ہے، ویسے ویسے انتظامی نظام کو بھی وسعت دی جاتی ہے تاکہ عوام کو بہتر سہولت اور بروقت انصاف فراہم کیا جا سکے۔
(جاری ہے، باقی آئندہ قسط میں)
No comments yet.