نئے صوبے بنانے سے پہلے ان 15 سوالات کے جواب قوم کے سامنے آنا ضروری ہیں۔
وفاقی وزیرِ داخلہ، حکومتِ پاکستان
اسلام آباد
السلام علیکم!
پاکستان میں نئے صوبوں کی تشکیل کا موضوع ایک بار پھر زیرِ بحث ہے۔ میری گزارش صرف اتنی ہے کہ اس فیصلے سے پہلے قوم کو یہ واضح بتایا جائے کہ نئے صوبے کیوں ضروری ہیں اور وہ کس ماڈل پر بنائے جائیں گے؟
اگر مقصد عوام کو بنیادی سہولتیں انہیں نزدیک ترین مقام سے فراہم کرنا ہے تو یہ کام مضبوط اور بااختیار لوکل گورنمنٹ کے ذریعے بھی کیا جا سکتا ہے۔ تو پھر نئے صوبوں کی ضرورت کہاں اور کیوں پیدا ہوئی ہے؟
اسی بنیادی سوال کے ساتھ میں اپنے تھنک ٹینک کی جانب سے آپ اور آپ کی حکومت کے سامنے 15 سوالات رکھ رہا ہوں۔ درخواست ہے کہ ان کے جوابات اور متعلقہ رپورٹس وزارتِ داخلہ اور دیگر متعلقہ سرکاری اداروں کی ویب سائٹس پر عوام کے لیے جاری کی جائیں، تاکہ یہ معاملہ سیاسی بیانات کے بجائے حقائق اور اعداد و شمار کی بنیاد پر زیرِ بحث آئے۔
🔘 15 بنیادی سوالات
1۔ نئے صوبوں کے بارے میں قومی سروے، عوامی مشاورت اور مکمل روڈ میپ کہاں ہے؟
دنیا میں نئے صوبے یا انتظامی اکائیاں بنانے جیسے بڑے فیصلے عموماً تفصیلی تحقیق، طویل عوامی مشاورت، ماہرین کی رائے اور واضح Transition Roadmap کے بعد کیے جاتے ہیں۔ کیا حکومتِ پاکستان نے بھی اس مقصد کے لیے کوئی باقاعدہ قومی کمیشن یا اعلیٰ سطحی کمیٹی قائم کی ہے؟ اگر ہاں تو اس کے ارکان کون ہیں، اس کا دائرۂ کار کیا ہے اور اس نے اب تک کیا سفارشات دی ہیں؟ کیا پورے پاکستان میں آبادی، رقبے، سفری فاصلوں، انتظامی مشکلات، معاشی روابط اور سرکاری خدمات تک عوام کی رسائی کا کوئی باقاعدہ سروے کیا گیا ہے؟ اور کیا نئے صوبوں کے قیام کا کوئی مرحلہ وار Roadmap تیار ہو چکا ہے؟ اگر یہ تمام تیاری موجود ہے تو اسے قوم کے سامنے رکھا جائے۔
2۔ کیا نئے صوبوں کی بابت عوام سے رائے لی گئی ہے؟
جن علاقوں یا خطوں میں نئے صوبے بنانے کی تجویز دی گئی ہے، کیا وہاں کے لوگوں سے باقاعدہ رائے لی گئی ہے؟ کیا منتخب نمائندوں، کاروباری حلقوں، ماہرین، جامعات، میڈیا، تھنک ٹینکس، سول سوسائٹی اور سیاسی جماعتوں سے بھی مشاورت کی گئی ہے؟ اور کیا حکومت نے کوئی ایسا قومی آن لائن پورٹل بنایا ہے جہاں پاکستان کے اندر اور بیرونِ ملک مقیم پاکستانی نئے صوبوں کی ضرورت، تعداد اور حدود کے بارے میں اپنی رائے دے سکیں؟ اگر نہیں، تو پھر اتنے بڑے قومی فیصلے میں عوام کی رائے کہاں اور کیسے لی جائے گی؟
3۔ صوبوں کی شناخت اور حدود کس بنیاد پر قائم ہوں گی؟
محسن نقوی صاحب!
سب سے بنیادی سوال یہ ہے کہ پاکستان میں نئے صوبوں کی تشکیل کا اصول کیا ہوگا؟ کیا حدود زبان، نسل اور شناخت کی بنیاد پر طے ہوں گی، یا آبادی، جغرافیہ، وسائل، فاصلے اور بہتر حکمرانی (Good Governance) کو بنیاد بنایا جائے گا؟
دنیا میں مختلف ماڈل موجود ہیں۔ بھارت نے 1956 میں بڑی حد تک لسانی بنیاد پر ریاستوں کی تنظیمِ نو کی، جبکہ نائیجیریا نے انتظامی ضرورت کے تحت نئی ریاستیں بنائیں۔ ایتھوپیا کا نسلی وفاقی ماڈل یہ بھی دکھاتا ہے کہ شناخت کو حد سے زیادہ سیاسی بنیاد بنانے کے اپنے سنگین خطرات ہو سکتے ہیں۔
پاکستان کے موجودہ صوبوں کی شناخت بڑی حد تک تاریخی، لسانی اور علاقائی بنیادوں سے جڑی ہوئی ہے۔ پنجاب کا نام سنتے ہی پنجابی شناخت، سندھ کے ساتھ سندھی شناخت، خیبر پختونخوا کے ساتھ پختون شناخت اور بلوچستان کے ساتھ بلوچ شناخت ذہن میں آتی ہے۔ یہ ایک پرانا علاقائی و شناختی ماڈل ہے۔ سوال یہ ہے کہ کیا نئے صوبے بھی اسی تصور کے تحت بنائے جائیں گے، یا اب ایک جدید معاشی و انتظامی ماڈل اختیار کیا جائے گا جس میں زبان یا شناخت کے بجائے آبادی، رقبہ، سفری فاصلے، جغرافیائی تسلسل، قدرتی وسائل، زراعت، صنعت، تعلیم، روزگار اور معاشی روابط کو بنیادی اہمیت دی جائے؟
اور اگر جدید ماڈل اختیار کیا جا رہا ہے تو نئے صوبوں کی حدود طے کرنے کے لیے واضح معیار کیا ہوگا؟ کیا اس مقصد کے لیے کوئی آزاد اور غیر جانب دار Boundary & Economic Viability Commission قائم کیا گیا ہے؟ اگر ہاں، تو اس کے معیار، سفارشات اور رپورٹ قوم کے سامنے رکھی جائیں۔
4۔ آئینی طریقۂ کار کیا ہوگا؟
کیا نئے صوبے آئین کے آرٹیکل 239 کے تحت باقاعدہ آئینی طریقے سے بنائے جائیں گے، یا حکومت کسی انتظامی حکم یا کسی دوسرے راستے سے یہ عمل آگے بڑھانے کا ارادہ رکھتی ہے؟
اگر کسی صوبے کی حدود تبدیل کرنا مقصود ہیں تو متعلقہ صوبائی اسمبلی کی دو تہائی اکثریت سے منظوری ضروری ہے۔ اگر متعلقہ صوبائی اسمبلی اس تجویز کو منظور نہ کرے تو پھر حکومت کا آئینی راستہ کیا ہوگا؟ کیا منصوبہ وہیں رک جائے گا، دوبارہ مشاورت ہوگی، یا حکومت نے اس صورتِ حال کے لیے کوئی دوسرا آئینی طریقہ پہلے سے طے کر رکھا ہے؟
قوم کو پہلے ہی واضح طور پر بتایا جانا چاہیے کہ نئے صوبوں کی تشکیل کا پورا Constitutional Roadmap کیا ہے اور کسی اختلاف یا عدم منظوری کی صورت میں آگے کیسے بڑھا جائے گا۔
5۔ ہر نئے صوبے کا Financial Model کہاں ہے؟
نیا صوبہ اپنے پاؤں پر کھڑا ہونے کے لیے پیسہ کہاں سے کمائے گا؟ اس کا Own Source Revenue کتنا ہوگا ؟ اس کے ٹیکس اور دوسرے مستقل ذرائع آمدن کیا ہوں گے؟ اور وہ اپنے روزمرہ اخراجات کے لیے NFC اور وفاقی transfers پر کتنا انحصار کرے گا؟
سب سے بنیادی سوال یہ ہے کہ نئے صوبے اسی پرانے ماڈل پر بنائے جا رہے ہیں یا دنیا کے جدید تجربات کو سامنے رکھ کر کوئی نیا Smart Provincial Model تیار کیا گیا ہے؟
اگر ہر نئے صوبے کے ساتھ نئی اسمبلی، گورنر ہاؤس، سیکرٹریٹ اور بیوروکریسی کھڑی کرکے اس کا خرچ بھی وفاق اور NFC پر ڈالنا ہے تو جتنے صوبے بڑھیں گے، وفاق پر اتنا ہی مالی بوجھ بڑھے گا۔ لیکن اگر مقصد ایک جدید، مالی طور پر ذمہ دار صوبہ بنانا ہے تو اس کا ماڈل ایسا ہونا چاہیے کہ صوبہ اپنی معیشت بڑھائے، اپنی آمدن خود پیدا کرے، اپنے اخراجات کا زیادہ سے زیادہ حصہ خود اٹھائے، وفاقی ذمہ داریوں میں اپنا حصہ ڈالے اور عوام کو ایک ایک روپے کے حساب پر براہِ راست جواب دہ ہو۔ اس لیے قوم کو پہلے یہ بتایا جائے کہ ہم صرف نئے صوبے بنا رہے ہیں یا پاکستان کے لیے ایک نیا صوبائی نظام بھی بنا رہے ہیں؟
6۔ نئے صوبوں کے بعد NFC کیسے چلے گا؟
اگر چار صوبوں کی تعداد بڑھتی ہے تو وفاق اور صوبوں کے درمیان مالی وسائل کی تقسیم بھی بدلے گی۔ کیا حکومت نے حساب لگایا ہے کہ نئے صوبوں کے بعد NFC کا فارمولا کیا ہوگا اور موجودہ صوبوں کے حصے پر اس کے کیا اثرات مرتب ہوں گے؟
7۔ مالی طور پر کمزور صوبے کا Safety Net کیا ہوگا؟
اگر کوئی نیا صوبہ اپنے اخراجات پورے نہ کرسکے، مسلسل خسارے میں چلا جائے یا کسی معاشی بحران کا شکار ہو جائے تو اسے کون سنبھالے گا؟ کیا اس کے لیے پہلے سے کوئی Equalization، Fiscal Support یا Bailout Framework ہوگا، یا ہر بحران کا بوجھ آخرکار وفاقی خزانے پر ڈال دیا جائے گا؟
8۔ نیا صوبہ قائم کرنے کی One Time Cost کتنی ہوگی؟
نئی اسمبلی، سیکرٹریٹ، پولیس کمانڈ، عدالتی سہولتوں، سرکاری دفاتر، رہائش، آئی ٹی سسٹم اور دوسری بنیادی ضروریات پر کتنے ارب روپے خرچ ہوں گے؟ یہ رقم کہاں سے آئے گی؟ کیا اس کے لیے تعلیم، صحت اور ترقیاتی منصوبوں کے بجٹ متاثر ہوں گے؟
9۔ مستقل سرکاری خرچ کتنا بڑھے گا؟
نئے وزرا، اسمبلی، محکموں، افسران، تنخواہوں، پنشن، گاڑیوں اور سرکاری عمارتوں پر سالانہ اضافی خرچ کتنا ہوگا؟ کیا حکومت نے روایتی بھاری بھرکم بیوروکریسی کے بجائے Lean & Digital Government کا کوئی ماڈل تیار کیا ہے؟
10۔ اثاثے، قرضے اور ملازمین کیسے تقسیم ہوں گے؟
موجودہ صوبے کے سرکاری اثاثوں، قرضوں، واجبات، اداروں، ملازمین، پنشن اور جاری ترقیاتی منصوبوں کو پرانے اور نئے صوبوں کے درمیان کس فارمولے کے تحت تقسیم کیا جائے گا؟ کیا Asset & Liability Division کا کوئی تحریری فریم ورک موجود ہے؟
11۔ پانی اور قدرتی وسائل کے حقوق کیسے طے ہوں گے؟
پانی، ڈیم، بجلی، تیل، گیس، معدنیات، royalties اور مشترکہ انفراسٹرکچر پر نئے اور پرانے صوبوں کے حقوق کس بنیاد پر طے ہوں گے؟ کیا اس کا قانونی فارمولا صوبہ بنانے سے پہلے طے کیا جائے گا تاکہ بعد میں نئے بین الصوبائی تنازعات پیدا نہ ہوں؟
12۔ اختیارات اضلاع اور شہروں تک کیسے پہنچیں گے؟
صرف صوبے چھوٹے کرنا کافی نہیں۔ اگر تمام اختیارات دوبارہ نئے صوبائی دارالحکومت میں جمع ہوگئے تو لاہور یا کراچی کی جگہ صرف ایک اور طاقتور مرکزی شہر پیدا ہو جائے گا۔ کیا آرٹیکل 140A کے مطابق بااختیار مقامی حکومتیں، منتخب میئرز اور ضلع حکومتیں قائم ہوں گی؟ اور کیا District Finance Commission کے ذریعے ان کے مالی وسائل محفوظ کیے جائیں گے؟
13۔ عام شہری کو عملی فائدہ کیا ہوگا؟
نیا صوبہ بننے سے شہری کے سرکاری دفتر تک سفر میں کتنی کمی آئے گی؟ زمین کے ریکارڈ، پولیس، تعلیم، صحت اور دوسری بنیادی خدمات کتنی تیز ہوں گی؟ کیا حکومت ان فوائد کے لیے قابلِ پیمائش اہداف (Measurable Targets) مقرر کرے گی تاکہ چند سال بعد معلوم کیا جا سکے کہ نیا صوبہ کامیاب ہوا یا ناکام؟
14۔ Governance اور Accountability کیسے ہوگی؟
اگر کوئی نیا صوبہ ٹیکس وصول کرنے میں ناکام رہے، غیر ضروری قرض بڑھائے، بیوروکریسی پھیلاتا جائے، مالی بدانتظامی کرے یا کرپشن اور نااہلی کا شکار ہو جائے تو اسے روکنے کا کیا قانونی نظام ہوگا؟ کیا آزاد Audit، Performance Indicators، Fiscal Responsibility اور Early Warning Mechanism پہلے سے اس ماڈل کا حصہ ہوں گے؟
15۔ پاکستان میں نئے صوبوں کے منصوبے پر کام کب شروع ہوا؟ یہ کام کس کمیٹی، کمیشن یا ادارے کے سپرد کیا گیا ہے؟ اس کے ارکان کون ہیں؟
دنیا میں کسی نئے صوبے، ریاست یا بڑی انتظامی اکائی کی تشکیل ایک دن میں نہیں ہوتی۔ اس کے لیے تحقیق، مشاورت، مالی جائزہ، حدود، قانون سازی اور پورے نظام کی منتقلی پر مہینوں بلکہ بعض اوقات برسوں کام کیا جاتا ہے۔ مثال کے طور پر بھارت کی States Reorganisation Commission نے تقریباً دو سال کام کرنے کے بعد اپنی رپورٹ دی، جبکہ برطانیہ میں بھی بڑے انتظامی اور devolution فیصلوں سے پہلے White Papers، consultation اور مرحلہ وار planning کی جاتی رہی ہے۔
تو حکومت یہ بتانا پسند کرے گی کہ پاکستان میں نئے صوبوں کے منصوبے پر کام کب شروع ہوا؟ یہ کام کس ادارے یا کمیٹی کے سپرد ہے؟ اس ٹیم کے ارکان کون ہیں، ان کی مہارت کیا ہے اور انہوں نے اب تک کیا کام کیا ہے؟
اگر واقعی تیاری مکمل ہے تو ایک جامع White Paper قوم کے سامنے رکھا جائے، جس میں ہر مجوزہ صوبے کی آبادی، رقبہ، حدود، ممکنہ دارالحکومت، آمدن، سالانہ اخراجات، NFC پر انحصار، One Time Cost، اثاثوں اور قرضوں کی تقسیم، قدرتی وسائل، مقامی حکومتوں کا نظام اور مکمل Transition Plan موجود ہو۔
اور اگر یہ سب کچھ ابھی تیار ہی نہیں ہوا، تو پھر قوم یہ جاننے کا حق رکھتی ہے کہ نئے صوبوں کے نقشے آخر کس تحقیق، کس ٹیم اور کس منصوبہ بندی کی بنیاد پر سامنے آ رہے ہیں؟
محسن نقوی صاحب!
یہ 15 سوالات آپ کے سامنے اس لیے رکھے گئے ہیں کہ اگر پاکستان نے اپنے صوبائی نظام میں اتنی بڑی تبدیلی کرنی ہے تو یہ فیصلہ صرف آج کی ضرورت کو سامنے رکھ کر نہیں ہونا چاہیے۔
دنیا میں قومیں اپنے بنیادی نظام پانچ یا دس سال کے لیے نہیں بناتیں، بلکہ آنے والی کئی دہائیوں اور نسلوں کو سامنے رکھ کر منصوبہ بندی کرتی ہیں۔ ہمیں بھی ایسا صوبائی نظام بنانا ہوگا جو صرف آج کے مسائل حل نہ کرے بلکہ اگلے 50 یا 100 سال کی ضروریات بھی پوری کر سکے۔
پاکستان ماضی میں ون یونٹ سے لے کر سٹی ڈسٹرکٹ گورنمنٹ تک کئی بڑے انتظامی تجربات کر چکا ہے۔ کئی نظام ایک حکومت کے ساتھ آئے اور حکومت بدلنے کے بعد ختم یا تبدیل ہوگئے۔ نئے صوبوں کے معاملے میں ہمیں یہ غلطی دوبارہ نہیں کرنی چاہیے۔ اس بار ایسا نظام بننا چاہیے جو مکمل تحقیق، درست اعداد و شمار، عوامی مشاورت اور وسیع آئینی اتفاقِ رائے کے بعد وجود میں آئے اور حکومتیں بدلنے کے باوجود قائم رہے۔
میں گزشتہ کئی برسوں سے پاکستان کے پاور سیکٹر اور IPPs پر تحقیق کر رہا ہوں۔ اس تحقیق سے ایک بات بہت واضح ہوئی کہ بڑے قومی فیصلے اگر مکمل تحقیق، کھلی بحث اور عوامی مشاورت کے بغیر کیے جائیں تو ان کی قیمت صرف ایک نسل نہیں بلکہ آنے والی نسلیں بھی ادا کرتی ہیں۔ نئے صوبوں کے معاملے میں ہمیں پہلے ہی یہ دیکھ لینا چاہیے کہ کہیں آج کا فیصلہ کل عوام کے لیے ایک نیا مستقل مالی بوجھ نہ بن جائے۔
اسی لیے سب سے اہم سوال یہ ہے کہ ہم صرف نئے صوبے بنا رہے ہیں یا پاکستان کے لیے ایک نیا صوبائی نظام بھی بنا رہے ہیں؟
ہماری رائے میں نئے صوبوں کے لیے ایک نیا تصور سامنے آنا چاہیے۔
Smart & Fiscally Autonomous Province
یعنی ایسا صوبہ جو اپنی معیشت بڑھائے، اپنی آمدن (Own Source Revenue) پیدا کرے اور اپنے اخراجات خود اٹھانے کے قابل ہو۔ اس کی انتظامیہ کم خرچ اور جدید ہو اور وفاق پر غیر ضروری مالی انحصار نہ کرے۔
یہی اصول سرکاری محکموں پر بھی لاگو ہونا چاہیے۔ ہر محکمے کے اخراجات، آمدن اور کارکردگی کے واضح سالانہ اہداف ہوں اور ہر روپے کا حساب عوام کے سامنے ہو۔
پرائیویٹ سیکٹر کی کمپنیاں اس لیے بہتر نتائج دیتی ہیں کہ ان کی انتظامیہ کے سامنے واضح اہداف ہوتے ہیں۔ انہیں آمدن بڑھانی، اخراجات قابو میں رکھنے اور نتائج دینے ہوتے ہیں۔ سرکاری نظام میں بھی یہی جواب دہی لانا ہوگی۔ کسی افسر کی کامیابی صرف اس بات سے نہیں ناپی جانی چاہیے کہ اس نے اپنی مدت پوری کر لی، بلکہ اس سے کہ اس نے اپنے ادارے کی کارکردگی کتنی بہتر کی، اخراجات کتنے کم کیے اور عوام کو کیا نتیجہ دیا۔
مالی طور پر کمزور علاقوں کے لیے ایک واضح اور شفاف مالی معاونت کا نظام (Equalization System) رکھا جا سکتا ہے تاکہ کسی علاقے کے لوگ صرف اس وجہ سے بنیادی سہولتوں سے محروم نہ رہیں کہ وہاں آمدن کے ذرائع کم ہیں۔
ہماری تجویز ہے کہ کسی ایک یا دو صوبوں سے آغاز کرنے کے بجائے پہلے پورے پاکستان کا National Administrative & Provincial Review کرایا جائے۔ یہ دیکھا جائے کہ نئے صوبوں کی ضرورت کہاں ہے اور کیوں ہے، ہر مجوزہ صوبہ مالی طور پر اپنے پاؤں پر کھڑا ہو سکتا ہے یا نہیں، اسے قائم کرنے اور چلانے کی لاگت کتنی ہوگی اور اختیارات نئے صوبائی دارالحکومت میں جمع ہونے کے بجائے ضلع، شہر اور مقامی حکومت تک کیسے پہنچیں گے۔
حتمی نقشہ بنانے سے پہلے اسے عوام، پارلیمنٹ، صوبائی اسمبلیوں، ماہرین، جامعات، تھنک ٹینکس اور متعلقہ علاقوں کے لوگوں کے سامنے رکھا جائے۔
پاکستان کو مزید صوبوں کی ضرورت ہو سکتی ہے، لیکن مزید بھاری سیکرٹریٹس، غیر ضروری پروٹوکول، بڑی بیوروکریسی اور مستقل مالی خساروں کی ضرورت نہیں۔
اگر نئے صوبے بنانے ہیں تو ایسا نظام بنایا جائے جو آنے والی نسلوں کے لیے ہو، کسی ایک حکومت کے دور کے لیے نہیں۔ ایسا نظام جس میں حکومت عوام کے قریب ہو، فیصلے تیز ہوں، مقامی حکومت مضبوط ہو، مالی ذمہ داریاں سب پر واضح ہوں اور ہر ایک خرچ کا حساب دیا جا سکے۔
زمانہ بدل چکا ہے۔ پاکستان کو بھی اپنے صوبائی نظام کے بارے میں اگلے انتخابات تک نہیں بلکہ اگلی کئی نسلوں کو سامنے رکھ کر فیصلہ کرنا ہوگا۔
ہمارا ادارہ SyedShayan.com ایک آزاد تھنک ٹینک کے طور پر شہری و علاقائی ترقی، قدرتی وسائل، صارفین سے متعلق پالیسی اور پاکستان کے اہم قومی و انتظامی معاملات پر تحقیق کر رہا ہے۔ ہمارا مقصد ایسے بڑے قومی فیصلوں سے پہلے وہ بنیادی سوالات اٹھانا ہے جن کے جواب جاننا پاکستانی عوام کا حق ہے۔
احترام کے ساتھ،
سید شایان
Founder & President, SyedShayan.com
Think Tank for Urban and Regional Development, Natural Resources and Consumer Policy
لاہور، پاکستان
11 اگست 2026
No comments yet.