کے پی کے کو کتنے صوبوں میں تقسیم کیا جانا چاہیے؟
عنوان: کے پی کے کو کتنے صوبوں میں تقسیم کیا جانا چاہیے؟
🔺 قومی معاملات میں اختلافِ رائے فطری ہے، مگر سنجیدہ بحث اور قومی اتفاقِ رائے ہی سے مسائل کا حل ممکن ہے۔
تحریر و تحقیق: سید شایان
خیبر پختونخوا، جسے ماضی میں صوبہ سرحد اور تاریخی طور پر خطۂ گندھارا و افغانیہ کے نام سے جانا جاتا رہا ہے،کی موجودہ جغرافیائی شکل بنیادی طور پر 31 مئی 2018ء کو وجود میں آئی، جب 25ویں آئینی ترمیم کے ذریعے سابق فاٹا کو خیبر پختونخوا میں ضم کر دیا گیا۔ اس سے پہلے فاٹا کے پی کے کا حصہ نہیں بلکہ وفاق کے زیرِ انتظام ایک الگ علاقہ تھا۔
البتہ اس صوبے کا نام صوبہ سرحد سے خیبر پختونخوا 2010ء میں 18ویں آئینی ترمیم کے ذریعے تبدیل ہوا ۔
ہمارے تھنک ٹینک کے ابتدائی تجزیے کی بنیاد پر خیبر پختونخوا کے لیے 5 صوبوں کا ماڈل آبادی، جغرافیے، معاشی صلاحیت اور انتظامی توازن کے اعتبار سے زیادہ قابلِ عمل دکھائی دیتا ہے، جس کی تفصیلات درج ذیل ہیں۔
🔘 صوبہ پشاور
▫️اضلاع: پشاور، نوشہرہ، چارسدہ، مردان، صوابی
▫️آبادی 2023: 1 کروڑ 29 لاکھ 74 ہزار 469
▫️کل رقبہ: 7,437 مربع کلومیٹر
پشاور کو الگ صوبہ بنانے کی بڑی وجہ یہ ہے کہ پشاور، نوشہرہ، چارسدہ، مردان اور صوابی ایک ہی جغرافیائی خطے میں واقع ہیں اور آپس میں مضبوط سڑکوں اور آمدورفت کے نظام سے منسلک ہیں۔ پشاور، چارسدہ اور نوشہرہ تاریخی طور پر وادیٔ پشاور کے شہری، زرعی اور تجارتی نظام کا حصہ رہے ہیں، جبکہ مردان اور صوابی بھی اسی علاقے کی معیشت اور روزمرہ زندگی سے گہرا تعلق رکھتے ہیں۔
یہ خطہ رقبے میں زیادہ بڑا نہیں، لیکن آبادی بہت زیادہ ہے اور تعلیم، صحت، صنعت، تجارت، زراعت اور سرکاری سہولتوں کے لحاظ سے پورے خیبر پختونخوا میں خاص اہمیت رکھتا ہے۔
پشاور تعلیم، علاج، روزگار، کاروبار اور سرکاری کاموں کا سب سے بڑا مرکز ہے۔ نوشہرہ صنعت، دفاعی تنصیبات اور زراعت کے لحاظ سے اہم ہے، چارسدہ زراعت اور خوراک سے متعلق کاروبار میں نمایاں ہے، جبکہ مردان اور صوابی تعلیم، صنعت اور زرعی پیداوار میں مضبوط مقام رکھتے ہیں۔ اگر ان علاقوں کو ملا کر الگ صوبہ بنایا جائے تو موجودہ خیبر پختونخوا پر انتظامی بوجھ کم ہوگا اور اس خطے کی ضروریات کے مطابق فیصلے زیادہ تیزی اور بہتر انداز میں کیے جا سکیں گے۔
🔘 صوبہ ہزارہ
▫️اضلاع: ایبٹ آباد، ہری پور، مانسہرہ، بٹگرام، تورغر، کولائی پالس، اپر کوہستان، لوئر کوہستان
▫️آبادی 2023: 61 لاکھ 88 ہزار 736
▫️کل رقبہ: 17,064 مربع کلومیٹر
ہزارہ کو الگ صوبہ بنانے کا مطالبہ نیا نہیں بلکہ کئی دہائیوں سے اس خطے کی سیاست اور عوامی بحث کا حصہ ہے۔ یہاں کے لوگ طویل عرصے سے یہ مؤقف رکھتے آئے ہیں کہ ہزارہ کی اپنی تاریخی، جغرافیائی اور علاقائی شناخت ہے، اس لیے اسے الگ صوبے کا درجہ ملنا چاہیے۔
ہزارہ پہلے ہی ایک مکمل انتظامی ڈویژن ہے، اس لیے اگر اسے صوبہ بنایا جائے تو موجودہ انتظامی بنیاد کو زیادہ بڑے پیمانے پر استعمال کیا جا سکتا ہے۔ پشاور سے زیادہ فاصلے اور پہاڑی راستوں کی وجہ سے خصوصاً کوہستان، تورغر اور بٹگرام کے لوگوں کے لیے صوبائی دارالحکومت تک پہنچنا آسان نہیں۔ معاشی لحاظ سے بھی ہزارہ مضبوط بنیاد رکھتا ہے۔
ناران، کاغان، شوگران، بالاکوٹ اور گلیات جیسے سیاحتی علاقے، تربیلا ڈیم، پن بجلی کے دیگر منصوبے، معدنی وسائل، جنگلات اور سی پیک کا شمالی راستہ اس خطے کی بڑی طاقت ہیں۔ اگر ایبٹ آباد کو صوبائی دارالحکومت بنایا جائے تو دور دراز اور دشوار گزار علاقوں تک سرکاری خدمات، بنیادی سہولتیں اور ترقیاتی وسائل زیادہ مؤثر انداز میں پہنچائے جا سکتے ہیں۔
🔘 صوبہ ملاکنڈ
▫️اضلاع: سوات، بونیر، شانگلہ، دیر بالا، دیر زیریں، ملاکنڈ، اپر چترال، لوئر چترال
▫️آبادی 2023: 86 لاکھ 71 ہزار 439
▫️کل رقبہ: 29,872 مربع کلومیٹر
ملاکنڈ کو الگ صوبہ بنانے کی کوئی باقاعدہ اور مضبوط سیاسی تحریک ابھی سامنے نہیں آئی، لیکن اپنی تاریخی، جغرافیائی اور انتظامی خصوصیات کی وجہ سے یہ خطہ الگ صوبے کے لیے ایک مضبوط بنیاد رکھتا ہے۔
سوات، دیر اور چترال کی سابق ریاستیں تاریخی طور پر ملاکنڈ کے ایک مشترکہ انتظامی نظام کا حصہ رہی ہیں، جبکہ آج سوات، دیر، چترال، بونیر، شانگلہ اور ملاکنڈ مل کر ایک واضح پہاڑی خطہ بناتے ہیں۔ دشوار گزار راستوں اور طویل فاصلوں کی وجہ سے خاص طور پر چترال اور بالائی دیر کے لوگوں کے لیے پشاور تک پہنچنا مشکل اور وقت طلب ہے۔
اس علاقے کی زیادہ تر آبادی پہاڑی وادیوں میں رہتی ہے، جہاں سڑکوں، پانی، صحت، تعلیم اور سرکاری سہولتوں کی ضروریات میدانی علاقوں سے مختلف ہیں۔ سیاحت، پن بجلی، جنگلات، پھلوں کے باغات، معدنیات، زمرد اور دوسرے قیمتی پتھر اس خطے کی اہم معاشی طاقت ہیں۔
چترال کی کیلاش وادیاں بھی اسے ایک منفرد ثقافتی اور سیاحتی شناخت دیتی ہیں۔ الگ صوبہ بننے کی صورت میں دور دراز پہاڑی اضلاع کے لوگوں کو عدالتوں، ہسپتالوں، تعلیمی اداروں اور سرکاری دفاتر تک بہتر رسائی مل سکتی ہے اور فیصلے بھی اس علاقے کی اپنی ضروریات کو سامنے رکھ کر کیے جا سکیں گے۔
🔘 صوبہ فاٹا
▫️اضلاع: باجوڑ، مہمند، خیبر، اورکزئی، کرم، شمالی وزیرستان، جنوبی وزیرستان
▫️آبادی 2023: 57 لاکھ 43 ہزار 162
▫️کل رقبہ: 22,407 مربع کلومیٹر
فاٹا کو الگ صوبہ بنانے کا مطالبہ ماضی میں بھی سامنے آتا رہا ہے، لیکن اس پر قبائلی علاقوں میں مکمل سیاسی اتفاق نہیں تھا۔ ایک بڑا حلقہ خیبر پختونخوا میں انضمام چاہتا تھا، جبکہ بعض رہنما اور مقامی گروہ فاٹا کو اس کی تاریخی اور جغرافیائی حیثیت کی بنیاد پر الگ صوبہ بنانے کے حامی تھے۔
یہ خطہ طویل عرصے تک پاکستان کے باقی علاقوں سے مختلف آئینی، قانونی اور انتظامی نظام کے تحت چلتا رہا۔
2018ء میں 25ویں آئینی ترمیم کے ذریعے اسے خیبر پختونخوا میں ضم کر دیا گیا، لیکن باجوڑ سے جنوبی وزیرستان تک پھیلے ہوئے قبائلی اضلاع کی سرحدی، سماجی، سکیورٹی اور ترقیاتی ضروریات آج بھی باقی صوبے سے مختلف ہیں۔
یہ علاقہ افغانستان کے ساتھ پاکستان کی اہم ترین سرحدی پٹی ہے اور کئی دہائیوں تک سابق وفاق کے زیرِ انتظام قبائلی علاقہ، یعنی فاٹا، کا حصہ رہا ہے۔ طورخم اور دوسری سرحدی گزرگاہیں افغانستان اور وسطی ایشیا کے ساتھ تجارت کے لیے بنیادی اہمیت رکھتی ہیں۔ اگرچہ کسٹمز سے حاصل ہونے والی آمدن وفاق کے پاس جاتی ہے، لیکن تجارت، ٹرانسپورٹ، گوداموں، منڈیوں، صنعت، معدنیات، سیاحت اور مقامی خدمات کو ترقی دے کر اس خطے کی اپنی معیشت مضبوط بنائی جا سکتی ہے۔ الگ صوبائی حکومت قائم ہونے کی صورت میں قبائلی اضلاع کو وفاقی مالیاتی تقسیم، صوبائی بجٹ، ترقیاتی منصوبوں اور سیاسی نمائندگی میں زیادہ واضح اور براہِ راست حصہ مل سکتا ہے۔ اس سے سرحدی سلامتی، سڑکوں اور دوسرے بنیادی ڈھانچے، تعلیم، صحت، روزگار اور جنگ سے متاثرہ علاقوں کی بحالی کے فیصلے بھی مقامی ضروریات کے مطابق کیے جا سکیں گے۔
اس کو الگ صوبہ بنانے کا سب سے بڑا فائدہ یہ ہو سکتا ہے کہ اس خطے پر پوری توجہ دی جائے اور اس کے فیصلے مقامی سطح پر کیے جائیں۔ اگر وفاق ابتدائی برسوں میں ضروری مالی مدد اور ترقیاتی سرمایہ فراہم کرے تو وقت کے ساتھ سرحدی تجارت، معدنیات، سیاحت اور مقامی معیشت کی بدولت یہ صوبہ اپنے پاؤں پر کھڑا ہو سکتا ہے۔
ایک مضبوط اور ترقی یافتہ سرحدی صوبہ نہ صرف وہاں کے عوام کے لیے فائدہ مند ہوگا بلکہ افغانستان کی سرحد پر پاکستان کے لیے ایک مضبوط دفاعی اور معاشی حصار بھی ثابت ہو سکتا ہے۔
🔘 صوبہ بنوں یا جنوبی خیبر
▫️اضلاع: کوہاٹ، ہنگو، کرک، بنوں، لکی مروت، ٹانک، ڈیرہ اسماعیل خان
▫️آبادی 2023: 72 لاکھ 78 ہزار 291
▫️کل رقبہ: 24,961 مربع کلومیٹر
بنوں یا جنوبی خیبر کو الگ صوبہ بنانے کی بڑی وجہ یہ ہے کہ اس خطے کی ضروریات پشاور اور شمالی اضلاع سے کافی مختلف ہیں۔
کوہاٹ، ہنگو، کرک، بنوں، لکی مروت، ٹانک اور ڈیرہ اسماعیل خان جغرافیائی طور پر ایک دوسرے سے جڑے ہوئے ہیں اور ان کے درمیان تجارتی، معاشی اور سماجی روابط پہلے سے موجود ہیں۔ پشاور سے زیادہ فاصلے کی وجہ سے ان علاقوں کے لوگوں کے لیے صوبائی دارالحکومت تک پہنچنا وقت طلب اور مشکل ہوتا ہے۔
کرک اور کوہاٹ تیل، گیس، معدنی وسائل اور صنعت کے لیے اہم ہیں، جبکہ بنوں، لکی مروت، ٹانک اور ڈیرہ اسماعیل خان زراعت، لائیو اسٹاک، پھلوں اور اجناس کی پیداوار کے بڑے مراکز ہیں۔ ڈیرہ اسماعیل خان سی پیک کے مغربی راستے پر واقع ہونے کے ساتھ پنجاب، بلوچستان، خیبر پختونخوا اور قبائلی اضلاع کو آپس میں ملانے والا ایک اہم تجارتی مرکز بھی بن سکتا ہے۔
اگر اس خطے کو الگ صوبہ بنایا جائے تو مقامی وسائل، تیل و گیس، زراعت، صنعت اور ترقیاتی منصوبوں پر زیادہ توجہ دی جا سکے گی، جبکہ عوام کو سرکاری دفاتر، عدالتوں، ہسپتالوں اور تعلیمی اداروں تک بہتر رسائی حاصل ہوگی۔
(جاری ہے، باقی اگلی قسط میں)
No comments yet.