اسلام آباد کو صوبہ یا اپنی اسمبلی دینا آئینی طور پر ممکن ہے؟
▫️ خدارا، اسلام آباد کو Federal Territory ہی رہنے دیجیے، کم از کم اس شہر کے ساتھ کوئی کھلواڑ نہ کریں۔ اس کی شناخت کسی صوبائی سیاست کے ساتھ جوڑنے کے بجائے وفاق کے مشترکہ دارالحکومت (Federal District) کے طور پر برقرار رہنی چاہیے۔
▫️ دارالحکومت تمام صوبوں کا سانجھا مرکز ہوتا ہے۔ اسے کسی ایک صوبے کی حیثیت دینے سے وفاقی غیر جانبداری متاثر ہونے کا خدشہ رہتا ہے۔ وفاقی اداروں، غیر ملکی سفارت خانوں اور وفاقی حکومت کے مرکزی دفاتر کی حفاظت اور انتظام وفاق کے پاس ہونا آئینی ضرورت سمجھا جاتا ہے۔
▫️ اس موقع پر اسلام آباد کی سول سوسائٹی، رہائشیوں، ماہرین، وکلا، تھنک ٹینکس اور منتخب نمائندوں کو خاموش نہیں رہنا چاہیے۔ کسی نئی قانون سازی سے پہلے اس منصوبے پر کھلی Public Consultation ہونی چاہیے اور پورا ماڈل قوم کے سامنے آنا چاہیے۔
🔳 موضوع: کیا پاکستان میں نئے صوبوں کا بننا ضروری ہے؟ | قسط 8
عنوان: اسلام آباد کو صوبہ یا اپنی اسمبلی دینا آئینی طور پر ممکن ہے؟
🔺 قومی معاملات میں اختلافِ رائے فطری ہے، مگر سنجیدہ بحث اور قومی اتفاقِ رائے ہی سے مسائل کا حل ممکن ہے۔
تحریر و تحقیق: سید شایان
پاکستان میں نئے صوبوں کی بحث کے دوران ایک ایسا موڑ بھی سامنے آیا ہے جسے میرے خیال میں ابھی رک کر پوری سنجیدگی سے سمجھنے اور ایڈریس کرنے کی ضرورت ہے۔
جون 2026 میں وفاقی وزیر منصوبہ بندی احسن اقبال نے اسلام آباد کے لیے ایک نئی صوبائی اسمبلی کی تجویز پیش کی ہے۔ سرکاری تجویز کے مطابق اسلام آباد میں 27 رکنی Islamabad Capital Territory Assembly بن سکتی ہے، جس میں 21 ارکان براہِ راست منتخب ہوں گے، 5 نشستیں خواتین اور ایک اقلیتوں کے لیے ہوگی۔
یہ اسمبلی اپنا چیف منسٹر یا میئر منتخب کرے گی اور نئی ICT Government کو صحت، تعلیم، ماحولیات اور شہری خدمات میں صوبائی حکومت جیسی انتظامی اور مالی خودمختاری دی جا سکتی ہے، جبکہ امن و امان اور ماسٹر پلاننگ وفاق کے پاس رکھنے کی تجویز ہے۔
یہاں میرا وزیر منصوبہ بندی احسن اقبال سے ایک بنیادی سوال ہے:
اسلام آباد اگر Federal Territory ہے تو پھر اس کے اندر صوبائی طرز کی ایک اور حکومت کھڑی کرنے کی ضرورت کیا ہے؟
اسلام آباد کو صوبہ نہیں، ایک مضبوط اور بااختیار Metropolitan Government دی جائے۔ پانی، صفائی، سڑکیں، پارک، ٹرانسپورٹ، صحت، تعلیم اور دوسری شہری سہولتوں کے فیصلے اسلام آباد کے منتخب نمائندے کریں۔ عوام اپنا میئر منتخب کریں، جس کے پاس واضح اختیارات اور بجٹ ہو، اور شہری اپنے روزمرہ مسائل کے لیے اسی حکومت سے جواب مانگ سکیں۔
2023 کی مردم شماری کے مطابق اسلام آباد کی آبادی تقریباً 23.6 لاکھ ہو چکی ہے، اس لیے یہاں مضبوط منتخب مقامی حکومت کی ضرورت سے انکار نہیں کیا جا سکتا۔
لیکن اس مقصد کے لیے صوبائی طرز کی اسمبلی، چیف منسٹر، نئی حکومت اور مزید اداروں کی پوری قطار کھڑی کرنا کیوں ضروری ہے؟
یہ سوال اس لیے بھی اہم ہے کہ اسلام آباد کے لیے نئی صوبائی اسمبلی تجویز کرنے والے وفاقی وزیر منصوبہ بندی احسن اقبال 2013 سے 2018 کے دور میں بھی اسی وزارت کے سربراہ تھے، جب CPEC کے تحت ساہیوال اور پورٹ قاسم جیسے بڑے کوئلے کے منصوبے تیزی سے آگے بڑھائے گئے۔ آج سوال یہ ہے کہ کیا کبھی ان فیصلوں کا باقاعدہ Post Project Evaluation ہوا کہ کون سی planning درست نکلی، کون سی مہنگی پڑی اور اس کی قیمت کس نے ادا کی؟ اگر ماضی کے بڑے فیصلوں کا حساب سامنے نہ آئے تو نئے فیصلوں پر اعتماد کیسے قائم ہوگا؟
واضح رہے کہ اسلام آباد کے شہری قومی سیاست سے باہر بھی نہیں ہیں۔ اسلام آباد کی حدود سے قومی اسمبلی کی 3 نشستیں (NA-46, NA-47, NA-48) ہیں، جہاں سے عوام اپنے اراکینِ قومی اسمبلی (NA) چن کر ایوان میں بھیجتے ہیں۔ صوبائی اسمبلی کے لیے ووٹ نہ دینے کی وجہ یہ ہے کہ اسلام آباد کسی صوبے کا حصہ نہیں بلکہ آئین کے آرٹیکل 1 کے تحت الگ Islamabad Capital Territory اور Federal Capital ہے۔
جہاں اسلام آباد کے شہری صوبہ نہ ہونے اور مکمل صوبائی نمائندگی نہ ملنے کا گلہ کرتے ہیں، وہیں دنیا کی سب سے بڑی اور بااثر جمہوریتوں میں سے ایک امریکہ کے دارالحکومت واشنگٹن ڈی سی کے شہری بھی ایک غیر معمولی آئینی صورتِ حال کا سامنا کر رہے ہیں۔
واشنگٹن ڈی سی کسی امریکی ریاست کا حصہ نہیں بلکہ براہِ راست وفاقی اختیار میں ہے۔ اسی وجہ سے وہاں کے شہری وفاقی ٹیکس تو پورا دیتے ہیں، مگر امریکی سینیٹ میں ان کا کوئی سینیٹر نہیں اور ایوانِ نمائندگان میں ان کے منتخب Delegate کو حتمی قانون سازی پر مکمل ووٹ کا حق حاصل نہیں۔
اسی محرومی کے خلاف ڈی سی کو امریکہ کی 51 ویں ریاست بنانے کی تحریک جاری ہے، اور واشنگٹن ڈی سی کی سرکاری نمبر پلیٹس پر بھی “End Taxation Without Representation” کا نعرہ درج کیا جاتا ہے۔
(ہمیں نمائندگی دیے بغیر ہم سے ٹیکس لیا جا رہا ہے)۔
اسلام آباد کو صوبہ بنانے کا تصور نیا نہیں۔ دستیاب اخباری ریکارڈ کے مطابق جنوری 2011ء میں وفاقی وزیرِ قانون ڈاکٹر بابر اعوان نے اسلام آباد کو صوبائی طرز کی قانون ساز اسمبلی اور خود حکمرانی دینے کی تجویز پیش کی۔ 22 جنوری 2011ء کو روزنامہ Dawn نے اپنے اداریے میں اس اعلان کو اسلام آباد کو ایک نئے صوبے کی سمت لے جانے والی تجویز قرار دیتے ہوئے اس کے آئینی اور انتظامی جواز پر سوال اٹھایا تھا۔ بعد میں PPP کے بعض حلقوں میں اسے پانچواں صوبہ بنانے اور ICT کو دو اضلاع میں تقسیم کرنے پر بھی غور ہوا۔ مارچ 2011ء میں بابر اعوان نے کہا کہ پہلے دو اضلاع قائم کیے جائیں گے، جس کے بعد صوبائی حیثیت اور مقننہ کے منصوبے کو آگے بڑھایا جائے گا۔
دنیا بھر میں دارالحکومتوں کے انتظام کے لیے بنیادی طور پر تین ماڈل استعمال کیے جاتے ہیں۔ پہلا ماڈل ‘خصوصی وفاقی ضلع’ (Federal District) کا ہے، جیسے امریکہ میں واشنگٹن ڈی سی، آسٹریلیا میں کینبرا اور برازیل میں برازیلیا؛ اس طریقے میں دارالحکومت کو کسی صوبے میں شامل کرنے کے بجائے براہِ راست وفاق کے زیرِ انتظام رکھا جاتا ہے تاکہ تمام اکائیوں کے درمیان توازن قائم رہے۔ دوسرا ماڈل ‘خود مختار شہر یا صوبائی درجے’ (City-State / Province) کا ہے، جس کی مثالیں جرمنی میں برلن اور آسٹریا میں ویانا ہیں؛ برلن ایک وفاقی ریاست بھی ہے اور شہر بھی، جبکہ ویانا بھی آسٹریا کی 9 ریاستوں میں سے ایک ہے۔ تیسرا ماڈل وہ ہے جہاں دارالحکومت عام علاقائی یا بلدیاتی نظام کے تحت چلتا ہے، جیسے کینیڈا میں اوٹاوا، جو صوبہ Ontario کے اندر واقع ہے اور اپنی منتخب City Council رکھتا ہے، جبکہ لندن کے لیے Greater London کی سطح پر Mayor اور London Assembly پر مشتمل الگ metropolitan نظام قائم ہے۔
درج بالا تینوں ماڈلز میں اسلام آباد کا موجودہ نظام پہلے ماڈل کے تحت آتا ہے، جو امریکہ میں واشنگٹن ڈی سی اور آسٹریلیا میں کینبرا میں رائج ہے۔
اسلام آباد کو 1960ء کی دہائی میں اس اصول کے تحت وفاقی دارالحکومت بنایا گیا کہ ملک کا مرکزی شہر کسی ایک صوبے کے سیاسی یا انتظامی اثر میں نہ ہو۔ اسی لیے اسے الگ وفاقی علاقہ (Federal Territory) رکھا گیا تاکہ وفاقی حکومت، آئینی ادارے، سفارت خانے اور اہم سیکیورٹی تنصیبات براہِ راست وفاق کے زیرِ انتظام رہیں۔
اسلام آباد کو وفاقی علاقہ رکھنے کے حق میں بنیادی دلیل یہی ہے کہ وہ تمام وفاقی اکائیوں کا مشترکہ اور غیر جانبدار مرکز رہے۔ تاہم آبادی میں تیزی سے اضافے اور شہر کے پھیلاؤ کے باعث اب یہ سوال بھی اٹھتا ہے کہ شہریوں کو زیادہ مقامی اختیارات، بہتر بلدیاتی نظام اور قانون سازی میں مؤثر نمائندگی کیسے دی جائے۔ اصل بحث یہ ہے کہ یہ اختیارات اسلام آباد کو صوبہ بنائے بغیر دیے جائیں یا اسے صوبائی طرز کا نیا انتظامی ڈھانچہ دیا جائے۔
اس مضمون میں ہم نے اسلام آباد کا ایک cartographic نقشہ بھی تیار کیا ہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ پاکستان کے قومی نقشے میں پنجاب، سندھ، خیبر پختونخوا، بلوچستان، آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان اپنی جغرافیائی حدود کے ساتھ نظر آتے ہیں، مگر اسلام آباد اکثر پورے نقشے کی صورت میں دکھائی نہیں دیتا اور اس کی جگہ عموماً صرف ایک سرخ نقطہ، ستارہ یا Capital Symbol نظر آتا ہے۔ اس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ پاکستان کے تقریباً 882,000 مربع کلومیٹر رقبے کے مقابلے میں اسلام آباد صرف 906 مربع کلومیٹر، یعنی تقریباً 0.1 فیصد ہے، اس لیے قومی نقشے کے scale پر اس کی جغرافیائی شکل تقریباً مٹ جاتی ہے۔ اسی لیے ہم نے اس نقشے میں کوشش کی ہے کہ اسلام آباد کی اصل جغرافیائی شکل اور حدود کو زیادہ واضح انداز میں دکھایا جا سکے۔
(جاری ہے، باقی آئندہ قسط میں)
No comments yet.