گلگت بلتستان کو آئینی صوبہ بنانے میں رکاوٹ کیا ہے؟
▫️کیا گلگت بلتستان کو مسئلہ کشمیر سے جوڑنا ایک تاریخی غلطی تھی؟
▫️ نئے صوبے بنانے کا تو بہت شور ہے، مگر گلگت بلتستان کو صوبہ بنانے پر خاموشی کیوں؟
▫️پاکستان گلگت بلتستان کو اب تک باقاعدہ آئینی صوبہ کیوں نہیں بنا سکا؟ آخر وہ کون سی آئینی، سفارتی یا سیاسی رکاوٹیں ہیں جو اس فیصلے کو دہائیوں سے مؤخر کیے ہوئے ہیں؟
موضوع: کیا پاکستان میں نئے صوبے بننا ضروری ہیں؟ | قسط 7
عنوان: گلگت بلتستان کو آئینی صوبہ بنانے میں رکاوٹ کیا ہے؟
🔺 گلگت بلتستان کی آئینی حیثیت ایک حساس قومی معاملہ ہے، اس لیے موجودہ اسمبلی کی منظور کردہ قرارداد کی روشنی میں اسے عبوری آئینی صوبے کا درجہ دینے کے معاملے پر فوری پیش رفت ہونی چاہیے۔
تحریر و تحقیق: سید شایان
گلگت بلتستان اس وقت پاکستان کا باقاعدہ آئینی صوبہ نہیں بلکہ وفاق کے زیرِ انتظام ایک الگ خطہ ہے، جسے عام طور پر وفاقی انتظامی علاقہ (Administrative Unit) سمجھا جاتا ہے۔ 72,496 مربع کلومیٹر پر پھیلے اس دشوار گزار پہاڑی خطے کی 2023 کی مردم شماری کے مطابق آبادی تقریباً 17.1 لاکھ ہے، جبکہ اوسط آبادی کی کثافت (Population Density) تقریباً 24 افراد فی مربع کلومیٹر بنتی ہے۔
موجودہ انتظامی تقسیم میں گلگت بلتستان 3 ڈویژنوں، گلگت، بلتستان اور دیامر، اور 10 باقاعدہ اضلاع پر مشتمل ہے۔ گلگت ڈویژن میں گلگت، غذر، ہنزہ اور نگر شامل ہیں۔ بلتستان ڈویژن میں سکردو، شگر، گھانچے اور کھرمنگ شامل ہیں۔ دیامر ڈویژن میں دیامر اور استور شامل ہیں۔
گلگت بلتستان کے بنیادی اعداد
کل رقبہ: 72,496 مربع کلومیٹر
آبادی 2023: 1,709,049 یعنی تقریباً 17.09 لاکھ
ڈویژن: 3
اضلاع: 10
تحصیلیں: 34
اوسط آبادی کی کثافت: تقریباً 24 افراد فی مربع کلومیٹر
1۔ گلگت ڈویژن
ضلع گلگت
رقبہ: 4,208 مربع کلومیٹر
آبادی: 324,552
تحصیلیں: گلگت، دنیور، جگلوٹ
ضلع غذر
رقبہ: 12,381 مربع کلومیٹر
آبادی: 200,069
تحصیلیں: پونیال، اشکومن، گُپس، یاسین، پھنڈر
موجودہ 2026 کے سرکاری EMIS ریکارڈ میں گُپس اور یاسین بدستور ضلع غذر کے تحت دکھائے گئے ہیں۔
ضلع ہنزہ
رقبہ: 10,109 مربع کلومیٹر
آبادی: 65,497
تحصیلیں: علی آباد، گوجال، شناکی
ضلع نگر
رقبہ: 4,137 مربع کلومیٹر
آبادی: 87,410
تحصیلیں: نگر اول، سکندرآباد نگر دوم، چلت
2۔ بلتستان ڈویژن
ضلع سکردو
رقبہ: 10,168 مربع کلومیٹر
آبادی: 278,885
تحصیلیں: سکردو، گمبہ، روندو، گلتری
ضلع شگر
رقبہ: 4,173 مربع کلومیٹر
آبادی: 84,608
تحصیلیں: شگر، گلاب پور
ضلع کھرمنگ
رقبہ: 6,144 مربع کلومیٹر
آبادی: 61,304
تحصیل: کھرمنگ
ضلع گھانچے
رقبہ: 8,531 مربع کلومیٹر
آبادی: 157,822
تحصیلیں: خپلو، مشہ بروم، ڈغونی، چھوربٹ، کیرس، غواری
موجودہ سرکاری EMIS ریکارڈ میں غواری الگ تحصیل کے طور پر درج ہے، جبکہ ہلدی مشہ بروم تحصیل کے تحت آتا ہے۔
3۔ دیامر ڈویژن
ضلع دیامر
رقبہ: 7,234 مربع کلومیٹر
آبادی: 337,329
تحصیلیں: چلاس، داریل، تانگیر، بابوسر، گوہر آباد
موجودہ 2026 کے سرکاری ریکارڈ میں داریل اور تانگیر بدستور ضلع دیامر کے تحت دکھائے گئے ہیں۔
ضلع استور
رقبہ: 5,411 مربع کلومیٹر
آبادی: 111,573
تحصیلیں: استور، شونٹر
درج بالا ڈویژنوں، اضلاع اور تحصیلوں کی تفصیل پڑھ کر اندازہ ہوتا ہے کہ گلگت بلتستان میں ایک باقاعدہ حکومتی نظام پہلے سے موجود ہے۔ اب اصل سوال صرف یہ ہے کہ اسے آئینی صوبے کا درجہ کب ملتا ہے؟
گلگت بلتستان کے عوام کا کئی دہائیوں سے یہ دیرینہ اور مسلسل مطالبہ ہے کہ اس خطے کو پاکستان کا آئینی صوبہ تسلیم کیا جائے، تاکہ یہاں کے شہریوں کو قومی اسمبلی، سینیٹ اور دیگر آئینی اداروں (مثلاً NFC اور CCI) میں مکمل اور باقاعدہ نمائندگی حاصل ہو سکے۔
اس عوامی اور سیاسی مطالبے کی سب سے مضبوط قانونی بنیاد 11 اگست 2015ء کی گلگت بلتستان قانون ساز اسمبلی کی وہ متفقہ قرارداد ہے، جس میں وفاق سے مطالبہ کیا گیا تھا کہ مسئلہ کشمیر کے حتمی اور عالمی فیصلے تک گلگت بلتستان کو ’عبوری آئینی صوبہ‘ (Provisional Province) قرار دیا جائے، تاکہ بین الاقوامی موقف کو نقصان پہنچائے بغیر شہریوں کو تمام بنیادی آئینی حقوق مل سکیں۔
یہ قرارداد محض ایک رسمی بیان نہیں تھی۔ اس میں واضح طور پر کہا گیا تھا کہ گلگت بلتستان کے عوام نے 1947-48 میں ڈوگرہ راج سے آزادی حاصل کر کے بغیر کسی شرط کے پاکستان سے الحاق کیا۔ تب سے اب تک یہاں کے لوگ پاکستانی پاسپورٹ استعمال کرتے ہیں اور ریاستِ پاکستان کے انتظامی نظام کا حصہ ہیں، مگر آئینی طور پر وہ اب بھی وفاقی ڈھانچے سے باہر ہیں۔
2015 کے بعد بھی یہ مطالبہ بار بار دہرایا گیا۔ مارچ 2021 میں گلگت بلتستان اسمبلی نے ایک بار پھر متفقہ قرارداد پاس کی اور عبوری صوبائی حیثیت کا مطالبہ کیا۔
اس سال جولائی 2026 میں بھی اسمبلی نے متفقہ طور پر یہی موقف دہرایا اور سرتاج عزیز کمیٹی کی سفارشات پر عمل درآمد کا مطالبہ کیا۔ اس کمیٹی نے بھی عبوری صوبائی حیثیت دینے کی سفارش کی تھی تاکہ کشمیر کے حتمی فیصلے تک پاکستان کا بین الاقوامی موقف محفوظ رہے۔
یہاں کے عوام بھی ایک طویل عرصے سے آئینی حقوق اور مکمل قومی نمائندگی کا مطالبہ کر رہے ہیں، تو پھر گلگت بلتستان کو پاکستان کا باقاعدہ آئینی صوبہ (Constitutional Province) بنانے کے معاملے کو مزید مؤخر کرنے کے بجائے سنجیدگی سے حتمی فیصلے تک پہنچنا چاہیے۔
تو پھر سوال یہ ہے کہ پاکستان کیوں گلگت بلتستان کو اپنا قانونی صوبہ نہیں بناتا؟
پاکستان دراصل گلگت بلتستان کو باقاعدہ آئینی صوبہ اس لیے نہیں بناتا کہ اس کا بنیادی تعلق مسئلہ کشمیر سے ہے۔ سرکاری موقف یہ ہے کہ اگر آئین کے آرٹیکل 1 میں ترمیم کر کے اسے مستقل صوبہ قرار دے دیا جائے تو بین الاقوامی سطح پر یہ تاثر پیدا ہو سکتا ہے کہ پاکستان نے اس خطے کو حتمی طور پر اپنے اندر ضم کر لیا ہے، جس سے اقوام متحدہ کی قراردادوں کے تحت کشمیر کے حقِ خودارادیت کے موقف کو نقصان پہنچنے کا اندیشہ ہے۔
اسی لیے 2015 میں سرتاج عزیز کمیٹی نے عبوری آئینی صوبے کی سفارش کی تھی۔ بعد ازاں 2020 میں عمران خان نے بھی گلگت بلتستان کو عبوری صوبے کا درجہ دینے کا اعلان کیا تھا، مگر آئینی ترمیم کبھی مکمل نہ ہو سکی۔ یہی فارمولا اب بھی زیرِ بحث ہے تاکہ شہریوں کو نمائندگی اور حقوق مل سکیں مگر پاکستان کا بین الاقوامی موقف محفوظ رہے۔
اگر گلگت بلتستان کو عبوری آئینی صوبہ بنایا جاتا ہے تو موجودہ 3 ڈویژن، گلگت، بلتستان اور دیامر، فی الحال کافی اور متوازن نظر آتے ہیں۔ کسی چوتھے یا پانچویں ڈویژن کا مضبوط اور مستقل مطالبہ سامنے نہیں آتا، اس لیے بہتر ہوگا کہ ابتدا موجودہ حدود سے ہی کی جائے۔ گلگت صوبائی دارالحکومت رہے، جبکہ سکردو میں مستقل دوسرا سیکرٹریٹ یا اسمبلی کا موسمی اجلاس رکھا جا سکتا ہے، تاکہ بلتستان کے لوگوں کو بھی انتظامی سہولت حاصل ہو۔
میں تاریخ اور سیاسیات کے طالب علم کی حیثیت سے اکثر سوچتا ہوں کہ کیا گلگت بلتستان کو مسئلہ کشمیر کے ساتھ جوڑنا ہمارے سابقہ حکمرانوں کی ایک تاریخی غلطی تھی؟
تو واقعتاً میرا خیال ہے کہ گلگت بلتستان کو مسئلہ کشمیر کے ساتھ مشروط کرنا ایک ایسا سیاسی فیصلہ ثابت ہوا جس نے اس خطے کے عوام کو دہائیوں تک آئینی طور پر معلق رکھا۔ اگر تاریخ کو پیچھے جا کر دیکھا جائے تو اس خطے کی اپنی الگ سیاسی، جغرافیائی اور ثقافتی شناخت تو بہت پرانی ہے۔
7ویں اور 8ویں صدی کے تاریخی ریکارڈ میں بلتستان کے لیے Great Bolor اور گلگت کے علاقوں کے لیے Little Bolor جیسے نام ملتے ہیں۔ معروف مؤرخ ڈاکٹر احمد حسن دانی بھی اپنی کتاب History of Northern Areas of Pakistan میں اس خطے کی جداگانہ تاریخی شناخت بیان کرتے ہیں اور واضح کرتے ہیں کہ پورے گلگت بلتستان کا کشمیر کے ساتھ کوئی ایک مسلسل اور مستقل تاریخی آئینی تعلق نہیں رہا۔
19ویں صدی میں ڈوگرہ حکمرانوں نے فوجی طاقت کے ذریعے گلگت اور بلتستان کے مختلف علاقوں پر اپنا اقتدار قائم کیا۔ لیکن چند دہائیوں کے اس اقتدار کو صدیوں پر محیط اس خطے کی الگ تاریخی شناخت کا متبادل نہیں سمجھا جا سکتا۔ 1947 میں گلگت میں ڈوگرہ اقتدار کے خلاف بغاوت ہوئی اور یکم نومبر کو آزادی کا اعلان کیا گیا، جس کے بعد مقامی قیادت نے پاکستان کے ساتھ وابستگی کا راستہ اختیار کیا۔
اس کے باوجود 1949 کے کراچی معاہدے میں گلگت بلتستان کی کوئی براہِ راست نمائندگی موجود نہیں تھی، لیکن اس کے انتظامی معاملات حکومتِ پاکستان کے سپرد کیے گئے اور اس کی آئینی حیثیت مسئلہ کشمیر کے ساتھ جڑی رہی۔ میری نظر میں یہ ہمارے سابق حکمرانوں کی تاریخ سے لاپرواہی اور سیاسی دوراندیشی کی کمی تھی۔ اگر اس خطے کی طویل اور جداگانہ تاریخ کو اس وقت پوری طرح سامنے رکھا جاتا تو شاید گلگت بلتستان کو مسئلہ کشمیر کے ساتھ اس طرح منسلک نہ کیا جاتا۔
اس فیصلے کا نتیجہ یہ ہے کہ آج بھی گلگت بلتستان آئینِ پاکستان میں ایک مکمل صوبے کی حیثیت نہیں رکھتا، قومی اسمبلی اور سینیٹ میں صوبوں جیسی آئینی نمائندگی حاصل نہیں اور NFC سمیت اہم وفاقی آئینی اداروں میں اس کا مقام واضح نہیں۔
بھارت کے 2019 کے اقدام نے اس خطے کی سیاسی صورتِ حال بدل دی، جب اس نے اپنے زیرِ انتظام جموں و کشمیر کی خصوصی آئینی حیثیت ختم کر کے اسے اپنے وفاقی نظام میں شامل کر لیا۔ اس کے بعد پاکستان میں بھی یہ نقطۂ نظر ابھرا کہ جوابی اقدام کے طور پر (اقوامِ متحدہ کے موقف کو متاثر کیے بغیر) گلگت بلتستان کو عارضی صوبائی حیثیت دے دی جائے، تاکہ علاقے کے عوام کو آئینی حقوق مل سکیں اور اس کی نامکمل انتظامی حیثیت کا مسئلہ حل ہو سکے۔ سوال یہ ہے کہ گلگت بلتستان کو آخر کب تک موجودہ انتظامی حیثیت (Administrative Status) میں رکھا جائے گا؟
گلگت بلتستان کوئی عام علاقہ نہیں۔ K2 سمیت دنیا کی بلند ترین چوٹیاں، قراقرم اور ہمالیہ کے عظیم پہاڑی سلسلے، بڑے گلیشیئرز، شاہراہِ قراقرم، چین کے ساتھ زمینی رابطہ (Land Link) اور دیامر بھاشا ڈیم جیسے قومی اثاثے اسی خطے میں موجود ہیں۔ یہ علاقہ پاکستان کے قدرتی خزانوں کے ساتھ ساتھ پانی، توانائی، سیاحت اور قومی سلامتی (National Security) کے لیے بھی غیر معمولی اہمیت رکھتا ہے۔
اگر ہم اس خطے کے معاشی اور معدنیات کے پوٹینشل پر ایک نظر ڈالیں تو گلگت بلتستان
قیمتی پتھروں (Rubies, Emeralds, Topaz) اور اہم صنعتی و نایاب معدنیات، جیسے کاپر، سونا اور نایاب زمینی عناصر (Rare Earth Elements)، کے وسیع ذخائر کا حامل خطہ ہے۔
اگر اس کی صرف Tourism Economy کی بات کی جائے تو سالانہ لاکھوں ملکی و غیر ملکی سیاح اس خطے کا رخ کرتے ہیں، جس سے مقامی معیشت میں اربوں روپے کی گردش ہوتی ہے۔ اگر اس خطے کو این ایف سی (NFC) ایوارڈ کے تحت باقاعدہ مالی حصہ ملے اور مقامی معدنیات و سیاحت کے لیے واضح صوبائی قوانین بنیں، تو یہ خطہ وفاق پر بوجھ بننے کے بجائے خود کفیل ہو کر قومی خزانے میں اربوں روپے کا اضافہ کر سکتا ہے
تو پھر سوال یہ ہے کہ اتنی غیر معمولی جغرافیائی، معاشی اور دفاعی اہمیت رکھنے والے خطے کو صرف وفاق کے زیرِ انتظام ایک انتظامی اکائی (Administrative Unit) کی حیثیت میں رکھنا کہاں تک مناسب ہے؟
اب وقت آ گیا ہے کہ اس تاریخی معاملے کا ازسرِنو جائزہ لیا جائے اور گلگت بلتستان کو عبوری آئینی صوبے کا درجہ دے کر پاکستان کے آئینی نظام میں واضح مقام، پارلیمانی نمائندگی اور مکمل آئینی حقوق فراہم کیے جائیں۔ اور گلگت بلتستان کی آئینی حیثیت پر ایک واضح اور سنجیدہ قومی فیصلہ کیا جائے۔
(جاری ہے، باقی اگلی قسط میں)
No comments yet.