Home

This article is available in two languages:

بلوچستان میں کتنے صوبے بنائے جا سکتے ہیں؟

بلوچستان میں کتنے صوبے بنائے جا سکتے ہیں؟

🔳 کوئٹہ۔۔۔ 900 کلومیٹر دور
بلوچستان کے ایک شہری کو اگر اپنے سرکاری کام کے لیے گوادر، تربت یا خضدار جیسے دور دراز علاقوں سے 900 کلومیٹر دور کوئٹہ جانا پڑے، تو آنے جانے کا سفر تقریباً 1,800 کلومیٹر بن جاتا ہے اور دو سے تین دن صرف راستوں اور سفر میں گزر جاتے ہیں۔
سوال یہ ہے کہ کیا ایک صوبائی دارالحکومت اپنے شہری سے اتنا دور ہونا چاہیے؟
  
موضوع: کیا پاکستان میں نئے صوبے بننا ضروری ہیں؟ | قسط: 6
 
عنوان: بلوچستان میں کتنے صوبے بنائے جا سکتے ہیں؟
 
🔺 پاکستان کا مسئلہ صرف صوبوں کی تعداد نہیں، بلکہ حکومت اور عوام کے درمیان بڑھتا ہوا فاصلہ ہے۔ میری تحقیق کا بنیادی نتیجہ یہی ہے کہ صوبے اتنے بڑے نہ ہوں کہ عام شہری کے لیے اپنا دارالحکومت ہی ایک الگ دنیا محسوس ہو۔
 
تحریر و تحقیق: سید شایان
 
بلوچستان میں نئے صوبے بنانے کا مطالبہ نیا نہیں۔ ماضی میں پشتون اکثریتی علاقوں کے لیے الگ صوبے اور حالیہ برسوں میں جنوبی بلوچستان کو الگ صوبہ بنانے کی تجاویز سامنے آتی رہی ہیں۔
 
تاہم پورے بلوچستان کے 6 صوبوں کا زیرِ تحریر ماڈل ہمارے تھنک ٹینک کا ایک نیا انتظامی تصور ہے، جسے تاریخی مطالبات، جغرافیہ، آبادی، فاصلوں اور معاشی امکانات کو سامنے رکھتے ہوئے تیار کیا گیا ہے۔
 
8 جولائی 2026 کو بلوچستان حکومت کے Revenue Department کے نوٹیفکیشن کے بعد بلوچستان میں 11 ڈویژن اور 41 اضلاع ہو گئے ہیں۔ کوئٹہ کو East Quetta اور West Quetta میں تقسیم کیا گیا ہے، مستونگ کو کوئٹہ ڈویژن میں شامل کیا گیا ہے، اور پشین، خضدار، لسبیلہ اور کوہِ سلیمان سمیت 4 نئے ڈویژن بنائے گئے ہیں، جن کی ترتیب یہ ہے۔
 
1۔ کوئٹہ ڈویژن: 3 اضلاع
مشرقی کوئٹہ، مغربی کوئٹہ، مستونگ
 
2۔ پشین ڈویژن: 4 اضلاع
پشین، قلعہ عبداللہ، چمن، برشور
 
3۔ خضدار ڈویژن: 4 اضلاع
خضدار، قلات، سوراب، وڈھ
 
4۔ لسبیلہ ڈویژن: 3 اضلاع
لسبیلہ، حب، آواران
 
5۔ رخشان ڈویژن: 4 اضلاع
چاغی، خاران، نوشکی، واشک
 
6۔ مکران ڈویژن: 4 اضلاع
کیچ، گوادر، پنجگور، تمپ
 
7۔ نصیرآباد ڈویژن: 5 اضلاع
نصیرآباد، جعفرآباد، جھل مگسی، صحبت پور، اوستہ محمد
 
8۔ سیوی (Sevi) ڈویژن (سابقہ نام سبّی): 3 اضلاع
سیوی، کچھی، جنوبی ڈیرہ بگٹی
 
9۔ ژوب ڈویژن: 3 اضلاع
ژوب، قلعہ سیف اللہ، شیرانی
 
10۔ لورالائی ڈویژن: 5 اضلاع
لورالائی، دکی، موسیٰ خیل، زیارت، ہرنائی
 
11۔ کوہِ سلیمان ڈویژن: 3 اضلاع
کوہلو، بارکھان، شمالی ڈیرہ بگٹی
 
کل: 11 ڈویژن اور 41 اضلاع۔
 
اس نئی تشکیل میں کوئٹہ کو دو اضلاع میں تقسیم کیا گیا، قلات ڈویژن کی جگہ خضدار اور لسبیلہ ڈویژن بنائے گئے، جبکہ متعدد نئے اضلاع قائم کرکے ان کی نئی حدود بھی مقرر کی گئی ہیں۔
 
🔘 بلوچستان رقبے کے لحاظ سے پاکستان کا سب سے بڑا صوبہ ہے، جس کا کل رقبہ 347,190 مربع کلومیٹر اور 2023 کی مردم شماری کے مطابق آبادی 14,894,402 ہے۔
 
آبادی کی کثافت (Population Density) کے لحاظ سے بلوچستان باقی صوبوں سے بہت مختلف ہے۔ بلوچستان میں صرف 43 افراد فی مربع کلومیٹر رہتے ہیں، جبکہ پنجاب میں تقریباً 622، خیبر پختونخوا میں 402 اور سندھ میں تقریباً 395 افراد فی مربع کلومیٹر آباد ہیں۔
 
یہ فرق واضح کرتا ہے کہ بلوچستان کے انتظامی مسائل کو صرف آبادی کی بنیاد پر نہیں بلکہ وسیع رقبے، طویل فاصلوں اور منتشر آبادی کو سامنے رکھ کر دیکھنا ضروری ہے۔
اگر بلوچستان کے دور دراز علاقوں میں رہنے والے کسی شہری کو صوبائی سطح کے کسی کام کے لیے کوئٹہ آنا پڑے تو اسے کتنا سفر کرنا پڑتا ہے؟
 
مثال کے طور پر گوادر سے کوئٹہ کا زمینی فاصلہ تقریباً 900 کلومیٹر ہے اور سفر 12 سے 14 گھنٹے تک لے سکتا ہے۔ تربت سے کوئٹہ تقریباً 750 کلومیٹر، جبکہ ژوب سے تقریباً 330 کلومیٹر دور ہے۔ یعنی صوبے کے بعض علاقوں کے شہری کے لیے اپنے ہی صوبائی دارالحکومت تک رسائی ایک پورے دن کا سفر بن سکتی ہے۔
 
دنیا کے وسیع اور کم آبادی والے خطوں میں اس مسئلے کا حل شہری کو حکومت تک لانا نہیں، بلکہ حکومت کو شہری کے قریب لے جانا ہے۔ امریکہ، آسٹریلیا، بھارت اور چین نے اپنے اپنے انداز میں اختیارات اور انتظامی خدمات کو نچلی سطح تک پہنچایا ہے۔ آسٹریلیا تو باقاعدہ یہ بھی ناپتا ہے کہ کوئی آبادی بنیادی خدمات سے کتنی دور ہے۔
 
یہی اصول بلوچستان کے لیے بھی بنیادی سوال پیدا کرتا ہے: حکومت عوام سے کتنی دور ہونی چاہیے؟
 
یہیں سے بلوچستان کی نئی انتظامی تشکیل کا سوال پیدا ہوتا ہے۔ اگر مقصد حکومت کو عوام کے قریب لانا ہے تو کیا صرف نئے اضلاع بنانا کافی ہوگا، یا اتنے وسیع صوبے میں نئے صوبائی مراکز بھی قائم کرنا ہوں گے؟ اور اگر نئے صوبے بننے چاہئیں تو ان کی تعداد کتنی ہو، حدود کیا ہوں اور ان کے دارالحکومت کہاں ہوں؟
 
اس کا جواب صرف آبادی نہیں، بلکہ رقبے، فاصلے، سفری وقت، معاشی وسائل اور علاقائی و ثقافتی حقائق کو سامنے رکھ کر تلاش کرنا ہوگا۔

 
بلوچستان کی نئی انتظامی تشکیل سے پہلے اس کی لسانی و ثقافتی ساخت (Linguistic & Cultural Composition) کو سمجھنا ضروری ہے۔
 
2023 کی مردم شماری قومیت کے بجائے مادری زبان شمار کرتی ہے، جس کے مطابق صوبے میں بلوچی، پشتو اور براہوی بولنے والے بڑے گروہ ہیں، جبکہ سندھی، سرائیکی، اردو اور دیگر زبانیں بولنے والی آبادیاں بھی موجود ہیں۔
 
بلوچی بولنے والی آبادی زیادہ تر مکران، رخشان اور جنوب مغربی بلوچستان میں، پشتو بولنے والی آبادی کوئٹہ، پشین، چمن، ژوب، قلعہ سیف اللہ اور شمالی علاقوں میں، جبکہ براہوی بولنے والی آبادی قلات، خضدار، مستونگ اور وسطی بلوچستان میں زیادہ مرتکز ہے۔ کئی علاقوں میں یہ آبادیاں باہم ملی جلی بھی ہیں۔
 
اسی لیے ہمیں یہ محسوس ہوتا ہے کہ نئے صوبے صرف رقبے اور فاصلے کی بنیاد پر نہیں بن سکتیں۔ لسانی حساسیت (Linguistic Sensitivity)، علاقائی شناخت (Regional Identity) اور سماجی ہم آہنگی (Social Cohesion) کو بھی سامنے رکھنا ضروری ہے، تاکہ انتظامی اصلاح کسی بڑے گروہ میں محرومی یا علیحدگی کے احساس کو جنم نہ دے۔
 
انہی باتوں کو سامنے رکھتے ہوئے بلوچستان کے علاقوں، موجودہ ڈویژنوں، آبادیوں کے باہمی تعلق، فاصلے، روزگار اور آمدنی کے مواقع کو دیکھا گیا اور پھر 6 صوبوں کا یہ ماڈل بنایا گیا۔ کوشش یہ ہے کہ اس ماڈل سے لوگوں کے لیے سرکاری کام آسان ہوں اور کسی علاقے یا برادری کو بلاوجہ الگ نہ کیا جائے۔
 
● 1۔ صوبہ مکران   (مجوزہ)
 
موجودہ ڈویژن: مکران ڈویژن
 
اضلاع: گوادر، کیچ، پنجگور، تمپ
 
مجوزہ دارالحکومت: تربت
 
آبادی 2023: تقریباً 18.76 لاکھ
 
رقبہ: 52,067 مربع کلومیٹر
 
آبادی کی کثافت: تقریباً 36 افراد فی مربع کلومیٹر
 
زبانیں اور ثقافت : اس خطے میں بلوچی بولنے والی آبادی نمایاں ہے، جبکہ مختلف علاقوں میں دیگر مقامی زبانیں اور بولیاں بولنے والی آبادیاں بھی موجود ہیں۔ مکران اپنی مخصوص بلوچی زبان، ثقافت، ساحلی روایات اور تاریخی علاقائی شناخت کے حوالے سے بلوچستان کے نمایاں خطوں میں شمار ہوتا ہے۔
 
نمایاں قبائل و برادریاں: گچکی، بلیدی، بزنجو، دشتی، ہوت، رند اور دیگر مقامی بلوچ قبائل و برادریاں۔
 
صوبہ تجویز کرنے کی وجوہات : مکران ایک قدرتی طور پر مربوط ساحلی اور جنوب مغربی خطہ ہے، جس کے اضلاع کے درمیان تاریخی، لسانی، ثقافتی اور معاشی روابط پہلے سے موجود ہیں۔ گوادر اپنی بندرگاہ، ساحلی معیشت اور بین الاقوامی تجارتی اہمیت کے باعث اس مجوزہ صوبے کا سب سے اہم معاشی مرکز بن سکتا ہے، جبکہ کیچ، پنجگور اور تمپ زراعت، سرحدی تجارت اور مقامی معیشت کے حوالے سے اہم ہیں۔
 
واضح رہے کہ گوادر کی بجائے تربت کو مجوزہ صوبائی دارالحکومت تجویز کرنے کی بنیادی وجہ انتظامی رسائی اور جغرافیائی توازن ہے۔ گوادر اس خطے کا اہم ترین بندرگاہی، معاشی اور تجارتی مرکز ہے، لیکن تربت مکران کے اندر نسبتاً مرکزی مقام رکھتا ہے اور پنجگور، کیچ، تمپ اور گوادر کے درمیان زیادہ متوازن رسائی فراہم کرتا ہے۔ اس لیے گوادر معاشی مرکز، جبکہ تربت انتظامی دارالحکومت کے طور پر زیادہ موزوں تقسیمِ کردار پیش کرتے ہیں۔
 
نوٹ: تمپ 2023 Census کے وقت ضلع کیچ کا حصہ تھا اور بعد میں الگ ضلع بنا، اس لیے 2023 کی مجموعی آبادی اور رقبے کے حساب میں سابق ضلع کیچ کے مکمل اعداد شمار کیے گئے ہیں۔
 
● 2۔ صوبہ رخشان  (مجوزہ)
 
موجودہ ڈویژن: رخشان ڈویژن
 
اضلاع: چاغی، نوشکی، خاران، واشک
 
مجوزہ دارالحکومت: خاران
 
آبادی 2023: تقریباً 10.40 لاکھ
 
رقبہ: 98,596 مربع کلومیٹر
 
آبادی کی کثافت: تقریباً 11 افراد فی مربع کلومیٹر
 
زبانیں اور ثقافت : اس خطے میں بلوچی بولنے والی آبادی نمایاں ہے، جبکہ براہوی اور دیگر زبانیں بولنے والی آبادیاں بھی موجود ہیں۔
 
نمایاں قبائل و برادریاں: رخشانی، نوشیروانی، سنجرانی، محمد حسنی، بادینی، جمالدینی، ریکی اور دیگر مقامی بلوچ و براہوی قبائل و برادریاں۔
صوبہ تجویز کرنے کی وجوہات : رخشان بلوچستان کے انتہائی وسیع اور کم آبادی والے خطوں میں شامل ہے۔ چاغی کے معدنی وسائل، ایران و افغانستان سے سرحدی قربت، نوشکی کی رابطہ حیثیت اور خاران و واشک کا وسیع جغرافیہ اسے الگ صوبائی اکائی بنانے کی مضبوط بنیاد فراہم کرتا ہے۔
 
خاران اپنے نسبتاً مرکزی محلِ وقوع کی وجہ سے مجوزہ دارالحکومت کے لیے موزوں ہے، تاکہ اس وسیع خطے کے مختلف علاقوں کو نسبتاً متوازن انتظامی رسائی حاصل ہو۔
 
● 3۔ صوبہ خضدار   (مجوزہ)
 
موجودہ ڈویژن: خضدار ڈویژن + لسبیلہ ڈویژن
 
اضلاع: خضدار، قلات، سوراب، وڈھ، لسبیلہ، حب، آواران
 
مجوزہ دارالحکومت: خضدار
 
آبادی 2023: تقریباً 24.08 لاکھ
 
رقبہ: 88,459 مربع کلومیٹر
 
آبادی کی کثافت: تقریباً 27 افراد فی مربع کلومیٹر
 
زبانیں اور ثقافت : اس خطے میں براہوی اور بلوچی بولنے والی آبادیاں نمایاں ہیں، جبکہ لسبیلہ اور حب میں لاسی، سندھی اور دیگر زبانیں بولنے والی آبادیاں بھی موجود ہیں۔
 
نمایاں قبائل و برادریاں: مینگل، زہری، بزنجو، محمد حسنی، سمالانی، ساجدی، جاموٹ، لاسی اور دیگر بلوچ، براہوی اور مقامی قبائل و برادریاں۔
 
صوبہ تجویز کرنے کی وجوہات: 

خضدار وسطی بلوچستان کا اہم انتظامی، تعلیمی اور تجارتی مرکز ہے۔ خضدار، قلات، سوراب اور وڈھ کے تاریخی و جغرافیائی روابط کے ساتھ لسبیلہ، حب اور آواران کو شامل کرنے سے ایک نسبتاً مربوط صوبائی اکائی بنتی ہے۔
 
حب اور لسبیلہ اسے کراچی کی صنعت، تجارت اور ساحلی معیشت سے جوڑتے ہیں، جبکہ خضدار اپنے نسبتاً مرکزی محلِ وقوع اور موجودہ شہری و انتظامی استعداد کی وجہ سے مجوزہ دارالحکومت کے لیے موزوں انتخاب ہے۔
 
نوٹ: وڈھ 2023 Census کے وقت ضلع خضدار کا حصہ تھا اور 2026 میں الگ ضلع بنایا گیا۔ اس لیے 2023 کی مجموعی آبادی اور رقبے کے حساب میں وڈھ کا علاقہ اور آبادی پہلے ہی ضلع خضدار کے اعداد میں شامل ہیں۔
 
● 4۔ صوبہ کوئٹہ   (مجوزہ)
 
موجودہ ڈویژن: کوئٹہ ڈویژن + پشین ڈویژن
 
اضلاع: مشرقی کوئٹہ، مغربی کوئٹہ، مستونگ، پشین، برشور، قلعہ عبداللہ، چمن
 
مجوزہ دارالحکومت: کوئٹہ
 
آبادی 2023: تقریباً 45.72 لاکھ
 
رقبہ: 17,867 مربع کلومیٹر
 
آبادی کی کثافت: تقریباً 256 افراد فی مربع کلومیٹر
 
زبانیں اور ثقافت : اس خطے میں پشتو بولنے والی آبادی نمایاں ہے، جبکہ کوئٹہ ایک کثیراللسانی اور کثیرالثقافتی شہری مرکز ہے، جہاں پشتون، بلوچ، براہوی، ہزارہ، اردو بولنے والی اور دیگر برادریاں آباد ہیں۔
 
نمایاں قبائل و برادریاں: اچکزئی، ترین، کاکڑ، کاسی اور دیگر پشتون قبائل و برادریاں، جبکہ کوئٹہ اور مستونگ میں بلوچ، براہوی، ہزارہ اور دیگر مقامی و شہری برادریاں بھی موجود ہیں۔
 
صوبہ تجویز کرنے کی وجوہات : 

کوئٹہ اور پشین کے دونوں مکمل ڈویژنوں کو ایک صوبائی اکائی میں رکھنے سے شمال مغربی بلوچستان کا باہم مربوط خطہ ایک ساتھ رہتا ہے اور کسی موجودہ ڈویژن کو تقسیم نہیں کرنا پڑتا۔
 
کوئٹہ پہلے ہی اس خطے کا سب سے بڑا انتظامی، تعلیمی، طبی اور تجارتی مرکز ہے اور صوبائی سطح کا بنیادی انفراسٹرکچر یہاں موجود ہے، اس لیے اسے مجوزہ دارالحکومت برقرار رکھنا سب سے موزوں انتخاب ہے۔
 
نوٹ: مشرقی و مغربی کوئٹہ اور برشور 2023 Census کے بعد موجودہ انتظامی شکل میں آئے، اس لیے 2023 کے اعداد سابقہ اضلاع کے مجموعی جغرافیے کو موجودہ حدود کے مطابق شمار کرکے مرتب کیے گئے ہیں۔
 
● 5۔ صوبہ سیوی۔نصیرآباد   (مجوزہ)
 
موجودہ ڈویژن: سیوی ڈویژن + نصیرآباد ڈویژن + کوہِ سلیمان ڈویژن
 
اضلاع: سیوی، کچھی، جنوبی ڈیرہ بگٹی، نصیرآباد، جعفرآباد، جھل مگسی، صحبت پور، اوستہ محمد، کوہلو، بارکھان، شمالی ڈیرہ بگٹی
 
مجوزہ دارالحکومت: سیوی
 
آبادی 2023: تقریباً 30.94 لاکھ
 
رقبہ: 43,534 مربع کلومیٹر
 
آبادی کی کثافت: تقریباً 71 افراد فی مربع کلومیٹر
 
زبانیں اور ثقافت : اس خطے میں بلوچ، براہوی، سندھی، سرائیکی اور دیگر مقامی آبادیاں موجود ہیں۔ کوہلو اور ڈیرہ بگٹی کے علاقوں میں بلوچ قبائلی آبادی نمایاں ہے، جبکہ بارکھان میں کھیتران اور دیگر مقامی برادریاں، اور نصیرآباد، جعفرآباد، صحبت پور اور اوستہ محمد کے میدانی علاقوں میں سندھی اور سرائیکی لسانی و ثقافتی اثر نمایاں ہے۔
 
نمایاں قبائل و برادریاں: مری، بگٹی، کھیتران، مگسی، جمالی، ڈومکی، عمرانی، رند، کھوسہ اور دیگر بلوچ و مقامی قبائل و برادریاں۔
 
صوبہ تجویز کرنے کی وجوہات : 
یہ بلوچستان کے مشرقی اور جنوب مشرقی علاقوں کی ایک بڑی مگر جغرافیائی طور پر مربوط اکائی بن سکتی ہے۔ نصیرآباد اور جعفرآباد زرعی پیداوار کے اہم مراکز ہیں، جبکہ ڈیرہ بگٹی قدرتی گیس اور معدنی وسائل، اور کوہلو و بارکھان لائیو اسٹاک اور دیگر قدرتی وسائل کے حوالے سے اہم ہیں۔
 
سیوی پہاڑی اور میدانی بلوچستان کے درمیان ایک قدرتی رابطہ اور نسبتاً متوازن مقام رکھتا ہے، اس لیے اسے مجوزہ صوبائی دارالحکومت رکھنا مناسب ہے۔ اس ترتیب میں تینوں موجودہ ڈویژن مکمل حالت میں رہتے ہیں اور کسی ضلع یا ڈویژن کو تقسیم نہیں کرنا پڑتا۔
 
نوٹ: شمالی اور جنوبی ڈیرہ بگٹی 2023 Census کے بعد الگ اضلاع کی موجودہ انتظامی شکل میں آئے، اس لیے 2023 کی مجموعی آبادی اور رقبے کے حساب میں سابق ضلع ڈیرہ بگٹی کے مکمل جغرافیے کے اعداد شامل کیے گئے ہیں۔
 
● 6۔ صوبہ ژوب۔لورالائی   (مجوزہ)
 
موجودہ ڈویژن: ژوب ڈویژن + لورالائی ڈویژن
 
اضلاع: ژوب، قلعہ سیف اللہ، شیرانی، لورالائی، دکی، موسیٰ خیل، زیارت، ہرنائی
 
مجوزہ دارالحکومت: لورالائی
 
آبادی 2023: تقریباً 19.04 لاکھ
 
رقبہ: 46,667 مربع کلومیٹر
 
آبادی کی کثافت: تقریباً 41 افراد فی مربع کلومیٹر
 
زبانیں اور ثقافت : اس خطے میں پشتو بولنے والی آبادی نمایاں ہے، جبکہ مختلف اضلاع میں مقامی لسانی، ثقافتی اور قبائلی تنوع بھی موجود ہے۔
نمایاں قبائل و برادریاں: کاکڑ، مندوخیل، شیرانی، موسیٰ خیل، لونی، ناصر اور دیگر پشتون و مقامی قبائل و برادریاں۔
 
صوبہ تجویز کرنے کی وجوہات : 
اگر نقشے پر دیکھیں تو ژوب اور لورالائی کے علاقے قدرتی طور پر ایک دوسرے سے جڑے ہوئے ہیں۔ یہاں کے لوگوں کا رہن سہن اور ماحول ایک جیسا ہے۔ اس نئے صوبے کو بنانے کا سب سے بڑا فائدہ یہ ہوگا کہ ژوب، شیرانی، قلعہ سیف اللہ اور موسیٰ خیل جیسے دور دراز علاقوں کے لوگوں کو اپنے چھوٹے چھوٹے سرکاری کاموں کے لیے اب کوئٹہ کے لمبے اور تھکا دینے والے سفر نہیں کرنے پڑیں گے۔
لورالائی کو دارالحکومت اس لیے تجویز کیا گیا ہے کیونکہ یہ ان تمام اضلاع کے بالکل بیچ میں پڑتا ہے۔ یہاں سے ہر ضلع کا راستہ آسان ہے اور تمام شہروں کے لوگوں کو صوبائی مرکز تک پہنچنے میں برابر سہولت رہے گی۔ اس طرح اس پورے علاقے کی پشتون آبادی کا اپس کا سماجی اور بھائی چارے کا رشتہ بھی ایک ہی صوبے کے اندر محفوظ رہے گا۔

سب سے اچھی بات یہ ہے کہ اس منصوبے میں موجودہ ژوب اور لورالائی ڈویژن کے کسی ایک بھی ضلع یا علاقے کو توڑا نہیں گیا، بلکہ دونوں ڈویژنوں کو جیسا ہے ویسا ہی ملا کر ایک نیا صوبہ بنا دیا گیا ہے۔
🔘 قارئین کرام! ان چھ مجوزہ صوبوں کی تشکیل میں رقبے، آبادی، سفری سہولت، موجودہ انتظامی ڈھانچے، معاشی خودمختاری، شہری استعداد اور جغرافیائی رابطوں کو بنیادی کسوٹی بنایا گیا ہے۔
 
اگرچہ زبان، ثقافت اور سرداری و قبائلی نظام  کو اس تقسیم کا معیار نہیں بنایا گیا، تاہم انہیں معاشرے کی ایک بنیادی حقیقت کے طور پر مدنظر ضرور رکھا گیا ہے تاکہ تاریخی طور پر جڑے ہوئے علاقوں کو بلاجواز تقسیم کر کے کوئی نیا تنازع پیدا نہ ہو۔
 
اسی لیے، جہاں تک ممکن ہو سکا، تاریخی اور انتظامی تسلسل کو برقرار رکھا گیا ہے:
 
مکران کے اضلاع کو یکجا رکھا گیا ہے۔
 
رخشان کو اس کی موجودہ انتظامی ہیئت میں قائم رکھا گیا ہے۔
 
قلات کے تاریخی وجود کو حتی الامکان محفوظ بنایا گیا ہے۔
 
کوئٹہ اور شمال مشرقی بلوچستان کی انتظامی تشکیلِ نو کرتے وقت جغرافیائی اتصال، فاصلوں، باہمی معاشی روابط اور مرکزی شہروں کی انتظامی صلاحیت کو پیشِ نظر رکھا گیا ہے۔
 
اس مضمون میں قبائلی نظام کا ذکر کسی قبائلی سوچ کی پذیرائی کے لیے نہیں، بلکہ بلوچستان کی تاریخ، جغرافیے اور سماجی واقعیت کو تسلیم کرنے کے لیے کیا گیا ہے، کیونکہ ان حقائق کو نظر انداز کر کے کوئی بھی انتظامی اصلاحات کامیاب نہیں ہو سکتیں۔
 
یہ کوئی حرفِ آخر یا حتمی نقشہ نہیں ہے۔ مقامی مشاورت اور مزید تحقیق کی روشنی میں ان حدود میں بہتری لائی جا سکتی ہے۔ اس پوری کاوش کا اصل اور واحد محور صرف اور صرف بہتر حکمرانی (Good Governance) کا قیام ہے۔
 
🔘 بلوچستان میں نئے صوبوں کے مطالبے کی تاریخ
 
بلوچستان میں نئے صوبے بنانے کی بات کوئی نئی نہیں ہے۔ 1947 میں جب پاکستان بنا، تو موجودہ بلوچستان اس شکل میں نہیں تھا۔ اس وقت انگریزوں کا زیرِ انتظام علاقہ الگ تھا، جبکہ قلات، مکران، لسبیلہ اور خاران کی ریاستوں کی اپنی الگ حیثیت تھی۔ پھر مختلف سیاسی مراحل سے گزرتے ہوئے اور 1970 میں ‘ون یونٹ’ ختم ہونے کے بعد بلوچستان کو وہ صوبائی شکل ملی جو ہم آج دیکھتے ہیں۔ یعنی موجودہ بلوچستان بھی ماضی میں کی گئی ایک انتظامی تبدیلی کا ہی نتیجہ ہے۔
 
1970 کے بعد سے شمالی بلوچستان کے پشتون علاقوں کے لیے الگ انتظامی شناخت کا مطالبہ بار بار سامنے آتا رہا۔ یہ آواز سب سے پہلے خان عبدالصمد خان اچکزئی نے اٹھائی اور بعد میں پشتونخوا ملی عوامی پارٹی اس مطالبے کو آگے بڑھاتی رہی:
 
دسمبر 2006: محمود خان اچکزئی نے پشتون علاقوں کو ایک الگ انتظامی یونٹ بنانے کی تجویز دی اور پختونخوا، پشتونستان یا افغانیہ جیسے نام سامنے رکھے۔
 
اکتوبر 2010: بلوچستان پشتون موومنٹ کے سربراہ ڈاکٹر میر حاجی ترین نے پشتو بولنے والے علاقوں پر مشتمل الگ صوبے کا مطالبہ کیا اور کہا کہ یہ علاقہ اپنے وسائل سے اپنے اخراجات خود اٹھا سکتا ہے۔
 
2016: خان عبدالصمد خان اچکزئی کی برسی کے موقع پر محمود خان اچکزئی نے ایک بار پھر پشتون آبادی کے لیے “افغانیہ صوبے” کا تصور پیش کیا۔
 
یوں دیکھا جائے تو بلوچستان میں سب سے مسلسل اور پرانا مطالبہ شمالی پشتون علاقوں کو الگ صوبہ یا انتظامی یونٹ بنانے کا رہا ہے۔
 
جنوبی بلوچستان اور حکومت کا اپنا تجربہ
 
اس بحث کا دوسرا پہلو جنوبی بلوچستان کا ہے۔ 2020 میں وفاقی حکومت نے واشک، خاران، پنجگور، کیچ، لسبیلہ، آواران، خضدار اور گوادر جیسے اضلاع کی ترقی کے لیے ایک خاص منصوبے کا اعلان کیا۔ وزیراعظم عمران خان نے تربت جا کر اس ترقیاتی پیکیج کا افتتاح کیا۔ اگرچہ یہ کوئی نیا صوبہ بنانے کا اعلان نہیں تھا، لیکن اس سے یہ بات ضرور ثابت ہوئی کہ حکومت بھی جنوبی بلوچستان کو مختلف مسائل اور ضرورتوں والا ایک الگ علاقہ تسلیم کرتی ہے۔
 
اس کے بعد جولائی 2026 میں خود بلوچستان حکومت نے انتظامی سطح پر بڑا قدم اٹھایا۔ کوئٹہ کو دو حصوں (ایسٹ کوئٹہ اور ویسٹ کوئٹہ) میں تقسیم کیا گیا، نئے اضلاع اور ڈویژن بنائے گئے، جس کے بعد صوبے میں ڈویژنوں کی تعداد 11 اور اضلاع 41 ہو گئے۔
 
بلوچستان پاکستان کے تقریباً 44 فیصد رقبے پر پھیلا ہوا ہے۔ گوادر، ریکوڈک، سونے اور تانبے کی کانیں، اور سمندری تجارت آنے والے وقت میں اس خطے کو بہت بڑا معاشی مرکز بنا دیں گی۔ اسی لیے بلوچستان کے نظام کا فیصلہ صرف آج کو دیکھ کر نہیں، بلکہ اگلے 50 یا 100 سال کے مستقبل اور آنے والی نسلوں کی ضروریات کو ذہن میں رکھ کر کرنا ہوگا۔
 
(جاری ہے، باقی اگلی قسط میں)
4
0
Views
22
1

پچھلی تحریریں

کیا پاکستان میں نئے صوبوں کا بنایا جانا لازمی قرار دیا گیا ہے؟

🔳 پاکستان میں نئے صوبوں کی بحث بلاشبہ غلط وقت پر چھیڑا گیا ایک درست موضوع ہے۔ مختلف عالمی تحقیقات سے یہ بات ثابت ہوئی ہے کہ جب نئے صوبے بنتے ہیں تو لوگ صحت، روزگار اور عدالتوں کے کاموں کے لیے بڑے شہروں کی طرف نقل مکانی کم کرتے ہیں، جس سے معاشی سرگرمیاں پورے ملک میں پھیل جاتی ہیں۔ ▫️پاکستان میں رہنے والوں کو یہ سمجھنا ہوگا کہ صوبہ کوئی الگ ریاست نہیں، بلکہ ریاست کے نظام کو چلانے کی ایک اکائی ہوتا ہے۔ ▫️انتظامی تقسیم کو سیاسی تقسیم نہیں کہا جا سکتا۔ جس طرح ایک بڑے ادارے، بینک یا کمپنی کو بہتر طریقے سے چلانے کے لیے اس کے مختلف زونز یا برانچز بنائی جاتی ہیں، بالکل اسی طرح صوبے بھی صرف گورننس کو بہتر بنانے کا ایک ذریعہ ہیں۔ ▫️عوام اس بات کے شدید حامی ہیں کہ ان کے ٹیکس کا پیسہ ان کے اپنے خطے پر خرچ ہو۔ جتنا صوبہ چھوٹا اور ان کے قریب ہوگا، فنڈز کے ضیاع اور کرپشن کو چیک کرنا اتنا ہی آسان ہوگا۔ ▫️جب انتظامی اکائیاں چھوٹی اور بااختیار ہوتی ہیں تو مرکزی اور صوبائی حکومتوں کا بوجھ کم ہوتا ہے اور وفاق زیادہ مستحکم ہوتا ہے، کیونکہ عوام کو اپنے حقوق کے لیے مرکز یا دور دراز دارالحکومت پر انحصار نہیں کرنا پڑتا۔ ▫️مختلف نسلی، لسانی یا جغرافیائی تنوع (Diversity) والے ممالک میں جب نئے صوبے بنائے گئے یا علاقائی خودمختاری دی گئی تو مرکزی حکومت کے خلاف بغاوت اور محرومی کے احساس میں واضح کمی دیکھی گئی۔ ▫️عالمی سطح پر کیے گئے سرویز اور تحقیقی رپورٹس میں جب لوگوں سے صوبوں کی تشکیل اور اختیارات کے بارے میں پوچھا گیا تو 70 فیصد سے زائد لوگوں نے یہ تسلیم کیا کہ چھوٹے اور بااختیار صوبوں میں تعلیم، صحت اور پولیسنگ کا نظام بڑے اور مرکز سے دور صوبوں کے مقابلے میں کہیں زیادہ مؤثر اور تیز ہوتا ہے۔ 🔳 موضوع: کیا پاکستان میں نئے صوبوں کا بنایا جانا لازمی قرار دیا گیا ہے؟ | قسط 5 عنوان:کیا پاکستان میں نئے صوبوں کا بنایا جانا واقعی ضروری ہے؟ 🔺 قومی معاملات میں اختلافِ رائے فطری ہے، مگر سنجیدہ بحث اور قومی اتفاقِ رائے ہی سے مسائل کا حل ممکن ہے۔ تحریر و تحقیق: سید شایان صوبے بنانے کا مقصد حکومت تک عوام کی آسان رسائی اور اپنے علاقے کے ماحول کے مطابق قانون سازی ہے۔ اس کے سات (7)بڑے فائدے تو یہ ہیں: 1۔ حکومت قریب آتی ہے آج بہت سے لوگوں کو اپنے سرکاری کام، شکایت یا مسئلے کے لیے سینکڑوں کلومیٹر دور صوبائی دارالحکومت جانا پڑتا ہے۔ نیا صوبہ بننے سے حکومت، سیکرٹریٹ اور بڑے ادارے ان کے قریب آ جاتے ہیں۔ 2۔ علاقے کے فیصلے علاقے میں ہوتے ہیں پہاڑی علاقے، زرعی علاقے، صنعتی شہر اور صحرائی خطے ایک جیسے نہیں ہوتے۔ جب ہر خطے کی اپنی حکومت ہو تو فیصلے اس علاقے کی اصل ضرورت کے مطابق ہوتے ہیں۔ 3۔ بجٹ بڑے شہروں تک محدود نہیں رہتا بڑے صوبوں میں زیادہ تر پیسہ دارالحکومت اور چند بڑے شہروں پر خرچ ہو جاتا ہے۔ نیا صوبہ بننے سے اس علاقے کا اپنا بجٹ ہوتا ہے اور رقم مقامی سڑکوں، ہسپتالوں، سکولوں اور روزگار پر خرچ ہوتی ہے۔ 4۔ کام جلد ہوتا ہے جب ایک حکومت کو بہت بڑی آبادی اور وسیع علاقے کو سنبھالنا پڑے تو فیصلے سست ہو جاتے ہیں۔ چھوٹا اور منظم صوبہ اپنے مسائل کو جلد سمجھتا اور جلد حل کرتا ہے۔ 5۔ ذمہ دار شخص سامنے ہوتا ہے جب حکومت دور ہو تو ہر ادارہ دوسرے کو ذمہ دار ٹھہراتا ہے۔ حکومت قریب ہو تو عوام کو معلوم ہوتا ہے کہ سڑک، پانی، سکول، ہسپتال اور امن و امان کا جواب کس نے دینا ہے۔ 6۔ ترقی صرف ایک شہر تک محدود نہیں رہتی نئے صوبے بننے سے نئے دارالحکومت، یونیورسٹیاں، ہسپتال، عدالتیں، سرکاری دفاتر، صنعتیں اور روزگار کے مراکز بنتے ہیں۔ اس طرح ترقی دو یا چار شہروں کے بجائے پورے ملک میں پھیلتی ہے۔ 7۔ قومی یکجہتی اور وفاق کا استحکام جب چھوٹے اور محروم خطوں کے لوگوں کو اپنے معاملات کے فیصلے خود کرنے اور اپنے وسائل کے استعمال میں مؤثر اختیار ملتا ہے تو ان کا احساسِ محرومی کم ہوتا ہے۔ اس سے مرکز کے خلاف بے چینی میں کمی آتی ہے، قومی یکجہتی بڑھتی ہے اور وفاق مضبوط ہوتا ہے۔ میری یہ باتیں پڑھ کر بہت سے لوگوں کے دل میں یہ خیال آئے گا کہ نئے صوبے کے قیام کے جو فوائد بیان کیے جا رہے ہیں، ان میں سے بیشتر فوائد تو ایک بااختیار اور مؤثر بلدیاتی نظام کے ذریعے بھی حاصل کیے جا سکتے ہیں۔ ترقیاتی منصوبے اور شہری سہولیات بنیادی طور پر لوکل گورنمنٹ کے دائرۂ کار میں آتی ہیں۔ پھر ان سہولیات کو نئے صوبے کے فوائد کے طور پر پیش کرنا کہاں تک درست ہے؟ جبکہ نئے صوبے بنانے کے بجائے مضبوط اور بااختیار بلدیاتی نظام (Local Government) قائم کرنا زیادہ آسان اور کم خرچ حل ہے۔ تو اس کی وضاحت کچھ یوں ہے کہ: بلدیاتی نظام نچلی سطح کی سہولیات، جیسے گلی، نالی اور صفائی کے انتظامی امور دیکھتا ہے، لیکن اُس کے پاس قانون سازی اور وسیع انتظامی اختیارات (Legislative & Administrative Power) نہیں ہوتے، کیونکہ پولیس، ریونیو، صوبائی ٹیکس اور پالیسی سازی جیسے تمام کلیدی شعبے صوبے کے کنٹرول میں ہوتے ہیں۔ دوسرا بڑا فرق مالی خودمختاری (Financial Autonomy) کا ہے۔ بلدیاتی ادارے فنڈز کے لیے صوبائی حکومت کے مرہونِ منت ہوتے ہیں، جبکہ صوبہ آئینی طور پر اپنا این ایف سی شیئر حاصل کرتا ہے۔ سب سے اہم بات یہ ہے کہ بلدیاتی ادارے صوبائی حکومت کے رحم و کرم پر ہوتے ہیں اور انہیں قانون کے تحت ختم، معطل یا ان کے اختیارات محدود کیے جا سکتے ہیں، جبکہ ایک صوبہ اپنے خطے کو آئینی تحفظ (Constitutional Protection) اور حقیقی اقتدار و اختیارات (Power & Authority) فراہم کرتا ہے۔ تو پھر سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اگر نئے صوبوں سے عام شہری کو سہولت ملتی ہے تو پھر لوگ نئے صوبوں کی مخالفت کیوں کرتے ہیں؟ حقیقت یہ ہے کہ نئے صوبوں سے سب سے زیادہ فائدہ عام آدمی کو ہی ہوتا ہے۔ اسے ہر چھوٹے بڑے کام کے لیے ایم این اے یا ایم پی اے کے دروازے پر نہیں جانا پڑتا، بلکہ بہت سے کام اداروں کے ذریعے براہِ راست ہونے لگتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ بعض سیاسی لوگوں کو ایسا ہونے سے اپنی اہمیت اور اثر و رسوخ کم ہوتا نظر آتا ہے۔ پھر مخالفت کا شور وہ خود یا ان کے حامی حلقے مچاتے ہیں، جبکہ عام آدمی کے لیے انتظامیہ کا قریب آنا نقصان نہیں بلکہ ایک بڑی سہولت ہے۔ صوبے بنانے کا مقصد حکومت تک عوام کی آسان رسائی اور اپنے علاقے کے ماحول کے مطابق قانون سازی ہے۔ 🔘 آئیے اس نفسیات کا جائزہ لیتے ہیں کہ نئے صوبے بنانے کے متعدد معاشی اور انتظامی فوائد کے باوجود سیاسی جماعتیں اور عوام اکثر اس کی مخالفت کیوں کرتے ہیں یا اس میں دلچسپی کیوں نہیں لیتے۔ اس کی اہم وجوہات درج ذیل ہیں: ▫️سیاسی اثر و رسوخ کا خوف: برسرِ اقتدار اور بڑی علاقائی جماعتوں کو خدشہ ہوتا ہے کہ صوبے کی تقسیم سے ان کا ووٹ بینک اور سیاسی طاقت تقسیم ہو جائے گی۔ نئے صوبے بننے سے قائم شدہ سیاسی اجارہ داری ختم ہونے کا ڈر ہوتا ہے۔ ▫️وسائل اور فنڈز کی تقسیم پر نزاع: قدرتی وسائل، مثلاً پانی، معدنیات اور گیس، اور مالیاتی بجٹ، خصوصاً این ایف سی ایوارڈ، کی تقسیم پر پرانے اور نئے علاقوں کے درمیان تنازعات جنم لیتے ہیں۔ کوئی بھی خطہ اپنے موجودہ حصے سے دستبردار ہونے پر تیار نہیں ہوتا۔ ▫️لسانی اور ثقافتی یکجہتی کو خطرہ: صوبوں کی بنیاد اکثر زبان یا جغرافیے پر ہوتی ہے۔ صوبے کی تقسیم سے مقامی لوگ یہ محسوس کرتے ہیں کہ ان کی تاریخی، ثقافتی اور لسانی پہچان کمزور یا تقسیم ہو جائے گی۔ ▫️بھاری انتظامی اخراجات: نیا صوبہ قائم کرنے کے لیے نئی صوبائی اسمبلی، گورنر ہاؤس، وزیرِ اعلیٰ ہاؤس، سیکرٹریٹ اور انتظامی ڈھانچہ قائم کرنا پڑتا ہے۔ اس کے لیے اربوں روپے کے اضافی اخراجات درکار ہوتے ہیں، جو ملکی معیشت پر بوجھ بن سکتے ہیں۔ ▫️طاقت کی مرکزیت: برسرِ اقتدار طبقہ اور بیوروکریسی اختیارات کی نچلی سطح پر منتقلی میں عموماً دلچسپی نہیں رکھتے، کیونکہ نئے صوبے بننے سے ان کا مرکزی کنٹرول کم ہو سکتا ہے۔ ▫️پیچیدہ آئینی اور قانون سازی کا عمل: نیا صوبہ بنانا ایک انتہائی پیچیدہ اور طویل آئینی عمل ہے، جس کے لیے پارلیمنٹ اور متعلقہ صوبائی اسمبلی میں دو تہائی اکثریت کی ضرورت ہوتی ہے۔ تمام سیاسی دھڑوں کے درمیان اس پر اتفاقِ رائے پیدا کرنا انتہائی مشکل ہوتا ہے۔ یہ وہ بنیادی وجوہات ہیں جن کی بنا پر نئے صوبوں کی بحث اکثر انتظامی ضرورت سے نکل کر سیاسی تنازع بن جاتی ہے۔ پاکستان میں موجودہ بحث کے ساتھ ایک اضافی مسئلہ اس کے وقت کا بھی ہے۔ نئے صوبے بنانے کی یہ بحث ایسے وقت میں شروع کی گئی جب حکومت کی عوامی ساکھ اور ملکی حالات خود شدید سوالات کی زد میں ہیں۔ یوں ایک سنجیدہ قومی معاملہ غیر ضروری طور پر متنازع بنا دیا گیا۔ تاہم اب جبکہ بات شروع ہو چکی ہے تو اسے دلیل و تحقیق کے ساتھ آگے بڑھنا چاہیے۔ اس بحث کو آگے بڑھانے سے پہلے ایک بنیادی بات سمجھنا ضروری ہے کہ پاکستان میں رہنے والوں کو صوبے اور ریاست کے فرق کو واضح طور پر سمجھنا ہوگا۔ صوبہ کوئی الگ ریاست نہیں، بلکہ ریاست کے نظام کو چلانے کی ایک انتظامی اکائی ہوتا ہے۔ مثال کے طور پر اگر ایک خاندان پانچ افراد پر مشتمل ہو تو ایک گھر، ایک کچن، ایک ڈرائنگ روم اور ایک ڈائننگ روم ان کے لیے کافی ہوتے ہیں۔ لیکن وقت کے ساتھ وہی خاندان بڑھ کر پچاس افراد کا ہو جائے تو ظاہر ہے کہ ایک ہی گھر سب کے لیے کافی نہیں رہے گا۔ پھر خاندان کے کچھ افراد دوسرا گھر بنا لیتے ہیں اور کچھ تیسرا۔ کیا اس سے خاندان ٹوٹ جاتا ہے؟ ہرگز نہیں۔ بلکہ اس کا مطلب صرف یہ ہوتا ہے کہ خاندان بڑا ہو گیا ہے، اس لیے اس کے انتظام کو بھی وسعت دینا پڑی۔ بالکل یہی اصول ریاست پر بھی لاگو ہوتا ہے۔ جیسے جیسے آبادی بڑھتی ہے، ویسے ویسے انتظامی نظم و نسق کو بھی وسعت دینا پڑتی ہے، تاکہ حکومت عوام کے قریب ہو، فیصلے مقامی ضروریات کے مطابق ہوں اور لوگوں کو اپنے کاموں کے لیے دور دراز دارالحکومتوں کے چکر نہ لگانے پڑیں۔ خاندان بڑا ہو تو گھر بڑھتے ہیں، ملک بڑا ہو تو ملکی انتظام بڑھتا ہے؛ نہ خاندان ٹوٹتا ہے، نہ ملک۔ ایک اور اہم بات یہ ہے کہ لوگ اکثر لوکل گورنمنٹ، ضلع، ڈویژن اور صوبے کو ایک ہی چیز سمجھ لیتے ہیں، حالانکہ ان سب کی ذمہ داریاں الگ الگ ہیں۔ لوکل گورنمنٹ مقامی مسائل کے لیے ہوتی ہے، ضلع اور ڈویژن انتظامی سہولت کے لیے ہوتے ہیں، جبکہ صوبہ وہ سطح ہے جہاں سیکرٹریٹ، وزیرِ اعلیٰ، کابینہ، ہائی کورٹ، پولیس، صحت، تعلیم، بجٹ اور بڑے انتظامی فیصلے ہوتے ہیں۔ اسی لیے جب کسی شہری کو صحت، تعلیم یا کسی بڑے قانونی و انتظامی مسئلے کا سامنا ہوتا ہے تو وہ یونین کونسل یا ڈویژن کے بجائے اکثر صوبائی سطح کے اداروں سے رجوع کرتا ہے، اور بعض معاملات میں اسے اسلام آباد تک جانا پڑتا ہے۔ نئے صوبے بنانے کی بحث کو سمجھنے کے لیے اسلامی تاریخ کی کچھ اہم مثالیں بھی ہمارے سامنے ہیں۔ جب ریاستِ مدینہ کی حدود وسیع ہوئیں اور مکہ، طائف، یمن، بحرین، خیبر اور دیگر علاقے اسلامی ریاست میں شامل ہونے لگے تو نبی کریم ﷺ نے تمام معاملات کو صرف مدینہ منورہ سے چلانے کے بجائے مختلف علاقوں میں والی (گورنر)، عامل اور دیگر ذمہ دار مقرر فرمائے۔ اس انتظام کا مقصد یہ تھا کہ مقامی معاملات مقامی سطح پر حل ہوں، لوگوں کو انصاف اور حکومتی سہولتیں اپنے قریب میسر آئیں اور انہیں ہر چھوٹے بڑے مسئلے کے لیے مدینہ منورہ کا سفر نہ کرنا پڑے۔ اس سے یہ اصول سامنے آتا ہے کہ جیسے جیسے ریاست کا دائرہ اور آبادی بڑھتی ہے، ویسے ویسے انتظامی ذمہ داریاں بھی تقسیم کی جاتی ہیں تاکہ ریاستی نظام مؤثر رہے اور حکمرانوں اور عوام کے درمیان فاصلے کم ہوں۔ بعد میں حضرت عمر فاروقؓ کے دور میں جب اسلامی ریاست عراق، شام، مصر اور فارس تک پھیل گئی تو اسی اصول کو مزید منظم شکل دی گئی۔ ریاست کے مختلف علاقوں کے لیے الگ والی، قاضی، بیت المال اور دیگر انتظامی ذمہ دار مقرر کیے گئے۔ اسی دور میں کوفہ، بصرہ اور فسطاط جیسے نئے انتظامی مراکز بھی قائم کیے گئے تاکہ عوام کو اپنے مسائل کے حل کے لیے ہر بار مدینہ منورہ نہ جانا پڑے، بلکہ انصاف، انتظام اور حکومتی سہولتیں ان کے اپنے علاقوں میں ہی میسر ہوں۔ حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کے دور میں ولایات (صوبوں)، جُند (عسکری چھاؤنیاں)، دیوان (مالیاتی و انتظامی دفاتر) اور نظامِ محاسبہ کی تشکیل سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ ریاستی انتظام کے اصول جامد نہیں ہوتے، بلکہ آبادی اور جغرافیائی پھیلاؤ کے ساتھ ان میں توسیع اور اصلاح ناگزیر ہوتی ہے۔ ولایت عربی اصطلاح ہے، جس سے مراد زیرِ انتظام علاقہ ہے، جبکہ “والی” اس کے منتظم یا حاکم کو کہا جاتا ہے۔ آج اسے صوبے اور گورنر کے قریب ترین انتظامی مفہوم میں سمجھا جا سکتا ہے۔ اس سے واضح ہوتا ہے کہ اسلامی طرزِ حکمرانی میں بھی جیسے جیسے ریاست اور آبادی بڑھتی ہے، ویسے ویسے انتظامی نظام کو بھی وسعت دی جاتی ہے تاکہ عوام کو بہتر سہولت اور بروقت انصاف فراہم کیا جا سکے۔ (جاری ہے، باقی آئندہ قسط میں)

کے پی کے کو کتنے صوبوں میں تقسیم کیا جانا چاہیے؟

🔳 موضوع: کیا پاکستان میں نئے صوبوں کا بنایا جانا واقعتاً ضروری ہے؟ | قسط 4 عنوان: کے پی کے کو کتنے صوبوں میں تقسیم کیا جانا چاہیے؟ 🔺 قومی معاملات میں اختلافِ رائے فطری ہے، مگر سنجیدہ بحث اور قومی اتفاقِ رائے ہی سے مسائل کا حل ممکن ہے۔ تحریر و تحقیق: سید شایان خیبر پختونخوا، جسے ماضی میں صوبہ سرحد اور تاریخی طور پر خطۂ گندھارا و افغانیہ کے نام سے جانا جاتا رہا ہے،کی موجودہ جغرافیائی شکل بنیادی طور پر 31 مئی 2018ء کو وجود میں آئی، جب 25ویں آئینی ترمیم کے ذریعے سابق فاٹا کو خیبر پختونخوا میں ضم کر دیا گیا۔ اس سے پہلے فاٹا کے پی کے کا حصہ نہیں بلکہ وفاق کے زیرِ انتظام ایک الگ علاقہ تھا۔ البتہ اس صوبے کا نام صوبہ سرحد سے خیبر پختونخوا 2010ء میں 18ویں آئینی ترمیم کے ذریعے تبدیل ہوا ۔ ہمارے تھنک ٹینک کے ابتدائی تجزیے کی بنیاد پر خیبر پختونخوا کے لیے 5 صوبوں کا ماڈل آبادی، جغرافیے، معاشی صلاحیت اور انتظامی توازن کے اعتبار سے زیادہ قابلِ عمل دکھائی دیتا ہے، جس کی تفصیلات درج ذیل ہیں۔ 🔘 صوبہ پشاور ▫️اضلاع: پشاور، نوشہرہ، چارسدہ، مردان، صوابی ▫️آبادی 2023: 1 کروڑ 29 لاکھ 74 ہزار 469 ▫️کل رقبہ: 7,437 مربع کلومیٹر پشاور کو الگ صوبہ بنانے کی بڑی وجہ یہ ہے کہ پشاور، نوشہرہ، چارسدہ، مردان اور صوابی ایک ہی جغرافیائی خطے میں واقع ہیں اور آپس میں مضبوط سڑکوں اور آمدورفت کے نظام سے منسلک ہیں۔ پشاور، چارسدہ اور نوشہرہ تاریخی طور پر وادیٔ پشاور کے شہری، زرعی اور تجارتی نظام کا حصہ رہے ہیں، جبکہ مردان اور صوابی بھی اسی علاقے کی معیشت اور روزمرہ زندگی سے گہرا تعلق رکھتے ہیں۔ یہ خطہ رقبے میں زیادہ بڑا نہیں، لیکن آبادی بہت زیادہ ہے اور تعلیم، صحت، صنعت، تجارت، زراعت اور سرکاری سہولتوں کے لحاظ سے پورے خیبر پختونخوا میں خاص اہمیت رکھتا ہے۔ پشاور تعلیم، علاج، روزگار، کاروبار اور سرکاری کاموں کا سب سے بڑا مرکز ہے۔ نوشہرہ صنعت، دفاعی تنصیبات اور زراعت کے لحاظ سے اہم ہے، چارسدہ زراعت اور خوراک سے متعلق کاروبار میں نمایاں ہے، جبکہ مردان اور صوابی تعلیم، صنعت اور زرعی پیداوار میں مضبوط مقام رکھتے ہیں۔ اگر ان علاقوں کو ملا کر الگ صوبہ بنایا جائے تو موجودہ خیبر پختونخوا پر انتظامی بوجھ کم ہوگا اور اس خطے کی ضروریات کے مطابق فیصلے زیادہ تیزی اور بہتر انداز میں کیے جا سکیں گے۔ 🔘 صوبہ ہزارہ ▫️اضلاع: ایبٹ آباد، ہری پور، مانسہرہ، بٹگرام، تورغر، کولائی پالس، اپر کوہستان، لوئر کوہستان ▫️آبادی 2023: 61 لاکھ 88 ہزار 736 ▫️کل رقبہ: 17,064 مربع کلومیٹر ہزارہ کو الگ صوبہ بنانے کا مطالبہ نیا نہیں بلکہ کئی دہائیوں سے اس خطے کی سیاست اور عوامی بحث کا حصہ ہے۔ یہاں کے لوگ طویل عرصے سے یہ مؤقف رکھتے آئے ہیں کہ ہزارہ کی اپنی تاریخی، جغرافیائی اور علاقائی شناخت ہے، اس لیے اسے الگ صوبے کا درجہ ملنا چاہیے۔ ہزارہ پہلے ہی ایک مکمل انتظامی ڈویژن ہے، اس لیے اگر اسے صوبہ بنایا جائے تو موجودہ انتظامی بنیاد کو زیادہ بڑے پیمانے پر استعمال کیا جا سکتا ہے۔ پشاور سے زیادہ فاصلے اور پہاڑی راستوں کی وجہ سے خصوصاً کوہستان، تورغر اور بٹگرام کے لوگوں کے لیے صوبائی دارالحکومت تک پہنچنا آسان نہیں۔ معاشی لحاظ سے بھی ہزارہ مضبوط بنیاد رکھتا ہے۔ ناران، کاغان، شوگران، بالاکوٹ اور گلیات جیسے سیاحتی علاقے، تربیلا ڈیم، پن بجلی کے دیگر منصوبے، معدنی وسائل، جنگلات اور سی پیک کا شمالی راستہ اس خطے کی بڑی طاقت ہیں۔ اگر ایبٹ آباد کو صوبائی دارالحکومت بنایا جائے تو دور دراز اور دشوار گزار علاقوں تک سرکاری خدمات، بنیادی سہولتیں اور ترقیاتی وسائل زیادہ مؤثر انداز میں پہنچائے جا سکتے ہیں۔ 🔘 صوبہ ملاکنڈ ▫️اضلاع: سوات، بونیر، شانگلہ، دیر بالا، دیر زیریں، ملاکنڈ، اپر چترال، لوئر چترال ▫️آبادی 2023: 86 لاکھ 71 ہزار 439 ▫️کل رقبہ: 29,872 مربع کلومیٹر ملاکنڈ کو الگ صوبہ بنانے کی کوئی باقاعدہ اور مضبوط سیاسی تحریک ابھی سامنے نہیں آئی، لیکن اپنی تاریخی، جغرافیائی اور انتظامی خصوصیات کی وجہ سے یہ خطہ الگ صوبے کے لیے ایک مضبوط بنیاد رکھتا ہے۔ سوات، دیر اور چترال کی سابق ریاستیں تاریخی طور پر ملاکنڈ کے ایک مشترکہ انتظامی نظام کا حصہ رہی ہیں، جبکہ آج سوات، دیر، چترال، بونیر، شانگلہ اور ملاکنڈ مل کر ایک واضح پہاڑی خطہ بناتے ہیں۔ دشوار گزار راستوں اور طویل فاصلوں کی وجہ سے خاص طور پر چترال اور بالائی دیر کے لوگوں کے لیے پشاور تک پہنچنا مشکل اور وقت طلب ہے۔ اس علاقے کی زیادہ تر آبادی پہاڑی وادیوں میں رہتی ہے، جہاں سڑکوں، پانی، صحت، تعلیم اور سرکاری سہولتوں کی ضروریات میدانی علاقوں سے مختلف ہیں۔ سیاحت، پن بجلی، جنگلات، پھلوں کے باغات، معدنیات، زمرد اور دوسرے قیمتی پتھر اس خطے کی اہم معاشی طاقت ہیں۔ چترال کی کیلاش وادیاں بھی اسے ایک منفرد ثقافتی اور سیاحتی شناخت دیتی ہیں۔ الگ صوبہ بننے کی صورت میں دور دراز پہاڑی اضلاع کے لوگوں کو عدالتوں، ہسپتالوں، تعلیمی اداروں اور سرکاری دفاتر تک بہتر رسائی مل سکتی ہے اور فیصلے بھی اس علاقے کی اپنی ضروریات کو سامنے رکھ کر کیے جا سکیں گے۔ 🔘 صوبہ فاٹا ▫️اضلاع: باجوڑ، مہمند، خیبر، اورکزئی، کرم، شمالی وزیرستان، جنوبی وزیرستان ▫️آبادی 2023: 57 لاکھ 43 ہزار 162 ▫️کل رقبہ: 22,407 مربع کلومیٹر فاٹا کو الگ صوبہ بنانے کا مطالبہ ماضی میں بھی سامنے آتا رہا ہے، لیکن اس پر قبائلی علاقوں میں مکمل سیاسی اتفاق نہیں تھا۔ ایک بڑا حلقہ خیبر پختونخوا میں انضمام چاہتا تھا، جبکہ بعض رہنما اور مقامی گروہ فاٹا کو اس کی تاریخی اور جغرافیائی حیثیت کی بنیاد پر الگ صوبہ بنانے کے حامی تھے۔ یہ خطہ طویل عرصے تک پاکستان کے باقی علاقوں سے مختلف آئینی، قانونی اور انتظامی نظام کے تحت چلتا رہا۔ 2018ء میں 25ویں آئینی ترمیم کے ذریعے اسے خیبر پختونخوا میں ضم کر دیا گیا، لیکن باجوڑ سے جنوبی وزیرستان تک پھیلے ہوئے قبائلی اضلاع کی سرحدی، سماجی، سکیورٹی اور ترقیاتی ضروریات آج بھی باقی صوبے سے مختلف ہیں۔ یہ علاقہ افغانستان کے ساتھ پاکستان کی اہم ترین سرحدی پٹی ہے اور کئی دہائیوں تک سابق وفاق کے زیرِ انتظام قبائلی علاقہ، یعنی فاٹا، کا حصہ رہا ہے۔ طورخم اور دوسری سرحدی گزرگاہیں افغانستان اور وسطی ایشیا کے ساتھ تجارت کے لیے بنیادی اہمیت رکھتی ہیں۔ اگرچہ کسٹمز سے حاصل ہونے والی آمدن وفاق کے پاس جاتی ہے، لیکن تجارت، ٹرانسپورٹ، گوداموں، منڈیوں، صنعت، معدنیات، سیاحت اور مقامی خدمات کو ترقی دے کر اس خطے کی اپنی معیشت مضبوط بنائی جا سکتی ہے۔ الگ صوبائی حکومت قائم ہونے کی صورت میں قبائلی اضلاع کو وفاقی مالیاتی تقسیم، صوبائی بجٹ، ترقیاتی منصوبوں اور سیاسی نمائندگی میں زیادہ واضح اور براہِ راست حصہ مل سکتا ہے۔ اس سے سرحدی سلامتی، سڑکوں اور دوسرے بنیادی ڈھانچے، تعلیم، صحت، روزگار اور جنگ سے متاثرہ علاقوں کی بحالی کے فیصلے بھی مقامی ضروریات کے مطابق کیے جا سکیں گے۔ اس کو الگ صوبہ بنانے کا سب سے بڑا فائدہ یہ ہو سکتا ہے کہ اس خطے پر پوری توجہ دی جائے اور اس کے فیصلے مقامی سطح پر کیے جائیں۔ اگر وفاق ابتدائی برسوں میں ضروری مالی مدد اور ترقیاتی سرمایہ فراہم کرے تو وقت کے ساتھ سرحدی تجارت، معدنیات، سیاحت اور مقامی معیشت کی بدولت یہ صوبہ اپنے پاؤں پر کھڑا ہو سکتا ہے۔ ایک مضبوط اور ترقی یافتہ سرحدی صوبہ نہ صرف وہاں کے عوام کے لیے فائدہ مند ہوگا بلکہ افغانستان کی سرحد پر پاکستان کے لیے ایک مضبوط دفاعی اور معاشی حصار بھی ثابت ہو سکتا ہے۔ 🔘 صوبہ بنوں یا جنوبی خیبر ▫️اضلاع: کوہاٹ، ہنگو، کرک، بنوں، لکی مروت، ٹانک، ڈیرہ اسماعیل خان ▫️آبادی 2023: 72 لاکھ 78 ہزار 291 ▫️کل رقبہ: 24,961 مربع کلومیٹر بنوں یا جنوبی خیبر کو الگ صوبہ بنانے کی بڑی وجہ یہ ہے کہ اس خطے کی ضروریات پشاور اور شمالی اضلاع سے کافی مختلف ہیں۔ کوہاٹ، ہنگو، کرک، بنوں، لکی مروت، ٹانک اور ڈیرہ اسماعیل خان جغرافیائی طور پر ایک دوسرے سے جڑے ہوئے ہیں اور ان کے درمیان تجارتی، معاشی اور سماجی روابط پہلے سے موجود ہیں۔ پشاور سے زیادہ فاصلے کی وجہ سے ان علاقوں کے لوگوں کے لیے صوبائی دارالحکومت تک پہنچنا وقت طلب اور مشکل ہوتا ہے۔ کرک اور کوہاٹ تیل، گیس، معدنی وسائل اور صنعت کے لیے اہم ہیں، جبکہ بنوں، لکی مروت، ٹانک اور ڈیرہ اسماعیل خان زراعت، لائیو اسٹاک، پھلوں اور اجناس کی پیداوار کے بڑے مراکز ہیں۔ ڈیرہ اسماعیل خان سی پیک کے مغربی راستے پر واقع ہونے کے ساتھ پنجاب، بلوچستان، خیبر پختونخوا اور قبائلی اضلاع کو آپس میں ملانے والا ایک اہم تجارتی مرکز بھی بن سکتا ہے۔ اگر اس خطے کو الگ صوبہ بنایا جائے تو مقامی وسائل، تیل و گیس، زراعت، صنعت اور ترقیاتی منصوبوں پر زیادہ توجہ دی جا سکے گی، جبکہ عوام کو سرکاری دفاتر، عدالتوں، ہسپتالوں اور تعلیمی اداروں تک بہتر رسائی حاصل ہوگی۔ (جاری ہے، باقی اگلی قسط میں)

سندھ کو کتنے صوبوں میں تقسیم کیا جانا چاہیے؟

🔳 جب بھی کراچی یا سندھ کے کسی حصے کو الگ صوبہ یا انتظامی اکائی بنانے کی بات ہوتی ہے تو اسے عوامی سطح پر سندھ کی تاریخی وحدت کے لیے خطرہ سمجھا جاتا ہے، خواہ اس میں عام آدمی کا کتنا ہی فائدہ کیوں نہ ہو۔ اور یہیں سے شاطر سیاست دان عوام کی تاریخ سے لاعلمی کا فائدہ اٹھاتے ہیں، حالانکہ قدیم سندھ سینکڑوں سال پہلے بھی انتظامی طور پر تین بڑی انتظامی اکائیوں (Administrative Regions) میں تقسیم تھا۔ بالائی سندھ سِرو، وسطی سندھ وِچولو اور زیریں سندھ لاڑ کے نام سے جانا جاتا تھا۔ ▫️ سندھ میں زمین صرف ایک جغرافیائی رقبہ ہی نہیں بلکہ “سندھو دھرتی”کا ایک مقدس اور جذباتی تصور بھی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ یہاں کے عوام کا اپنی زمین سے تعلق سیاسی یا معاشی سے زیادہ وجودی (Existential) نوعیت کا ہے۔ 🔳 موضوع: پاکستان میں صوبوں کی نئی تقسیم کیسے ممکن ہے؟ | قسط 3 عنوان: سندھ کو کتنے صوبوں میں تقسیم کیا جانا چاہیے؟ 🔺 قومی معاملات میں اختلافِ رائے فطری ہے، مگر سنجیدہ بحث اور قومی اتفاقِ رائے ہی سے مسائل کا حل ممکن ہے۔ تحریر و تحقیق: سید شایان سندھ کی تقسیم یا نئے صوبوں کے قیام پر کسی بھی بحث سے پہلے درج ذیل تاریخی پس منظر (Historical Context) کو سمجھنا ضروری ہے۔ 🔳 23 جولائی 1948ء کو قائدِاعظم محمد علی جناح اور مرکزی قومی اسمبلی کے فیصلے کے تحت کراچی کے تقریباً 812 مربع میل علاقے کو سندھ سے الگ کر کے وفاقی حکومت کے حوالے کر دیا گیا۔ اور اسے پاکستان کا وفاقی دارالحکومت اور فیڈرل کیپیٹل ٹیریٹری (Federal Capital Territory) کا نام دیا گیا۔ 1955ء میں ون یونٹ قائم ہونے کے باوجود کراچی کی الگ وفاقی حیثیت برقرار رہی۔ صدر ایوب خان کے دور میں دارالحکومت پہلے عارضی طور پر راولپنڈی اور بعد میں اسلام آباد منتقل کر دیا گیا۔ جولائی 1970ء میں جنرل یحییٰ خان نے ون یونٹ ختم کر کے صوبے بحال کیے تو کراچی کی وفاقی حیثیت ختم ہو گئی اور اسے دوبارہ سندھ میں شامل کر کے صوبائی دارالحکومت بنا دیا گیا۔ تاہم 1847ء میں انتظامی اور مالیاتی وجوہات کی بنا پر سندھ کو بمبئی پریذیڈنسی (Bombay Presidency) میں شامل کر دیا گیا۔ اسے ایک کمشنری (Commissionership) کا درجہ دے کر بمبئی کے گورنر کے ماتحت کر دیا گیا۔ اگر ہم سندھ کی تاریخ کو قیامِ پاکستان اور ون یونٹ سے پہلے دیکھیں تو اس کا آغاز 1839ء سے ہوتا ہے، جب ایسٹ انڈیا کمپنی نے کراچی پر قبضہ کیا۔ 1843ء میں سر چارلس نیپیئر کی قیادت میں ایسٹ انڈیا کمپنی نے پورا سندھ فتح کیا اور 1847ء میں سندھ کو بمبئی پریذیڈنسی (Bombay Presidency) میں شامل کر کے اسے ایک کمشنری (Commissionership) کا درجہ دے کر بمبئی کے گورنر کے ماتحت کر دیا گیا اور یوں سندھ کے معاملات بمبئی سے چلائے جانے لگے۔ سندھ کو بمبئی سے الگ صوبہ بنانے کی ابتدائی آواز 1913ء میں سیٹھ ہرچند رائے وشن داس نے اٹھائی۔ بعد ازاں غلام محمد بھرگڑی، شیخ عبدالمجید سندھی، سر عبداللہ ہارون، شاہنواز بھٹو اور دیگر رہنماؤں نے اس مطالبے کو بھرپور سیاسی تحریک میں بدل دیا۔ قائدِاعظم محمد علی جناح نے بھی 1929ء میں اپنے مشہور چودہ نکات کے نکتہ نمبر 9 میں سندھ کو بمبئی پریذیڈنسی سے الگ کرنے کا واضح مطالبہ کیا۔ اس طویل جدوجہد کے نتیجے میں یکم اپریل 1936ء کو سندھ کو بمبئی پریذیڈنسی سے الگ کر کے ایک مستقل صوبہ بنا دیا گیا اور اسے اپنی قانون ساز اسمبلی مل گئی۔ تاریخ سے واضح ہوتا ہے کہ سندھ اور کراچی کی انتظامی حیثیت مختلف ادوار میں ریاستی ضروریات کے مطابق بدلتی رہی ہے۔ اس لیے آج اس صوبے کے لیے نئے صوبوں یا انتظامی تنظیمِ نو پر بحث کوئی غیر معمولی یا غیر آئینی بات نہیں ہے اور نہ ہی یہ دعویٰ کیا جا سکتا ہے کہ اس صوبے کی موجودہ حدود کو چھیڑا نہیں جا سکتا۔ پچھلی قسط میں ہم نے پنجاب کی آبادی، رقبے، معاشی صلاحیت اور انتظامی ضروریات کی بنیاد پر 6 مجوزہ صوبوں کا ماڈل پیش کیا تھا۔ اگر انتظامی اصلاحات کو واقعی قومی ایجنڈا بنانا ہے تو یہی اصول سندھ اور ملک کی دیگر انتظامی اکائیوں پر بھی یکساں طور پر لاگو ہونے چاہئیں۔ 2023ء کی مردم شماری کے اعداد و شمار سندھ کی انتظامی صورتِ حال پر ایک بڑا سوالیہ نشان کھڑا کرتے ہیں۔ صوبے کی کل 5 کروڑ 56 لاکھ سے زائد آبادی میں سے اگر 2 کروڑ 3 لاکھ نفوس کے حامل کراچی ڈویژن کو الگ بھی رکھا جائے، تب بھی بقیہ سندھ کی آبادی 3 کروڑ 53 لاکھ سے تجاوز کرتی ہے۔ ساڑھے 3 کروڑ سے زائد آبادی کسی بھی علاقے کو ایک بڑا اور گنجان آباد خطہ ثابت کرنے کے لیے کافی ہے۔ یہی حقیقت ہمیں یہ سوال اٹھانے پر مجبور کرتی ہے کہ کیا ایک صوبائی دارالحکومت سے چلنے والا موجودہ نظام اتنی بڑی اور مختلف ضروریات رکھنے والی آبادی کے مسائل حل کر پا رہا ہے؟ یا اب وقت آ گیا ہے کہ اختیارات کو نچلی سطح اور نئی انتظامی اکائیوں تک منتقل کر کے بنیادی سہولتیں عوام کے قریب پہنچائی جائیں؟ لیکن کیسے؟ سندھ کی آبادی، طویل فاصلے، معاشی رابطوں اور موجودہ انتظامی حدود کو سامنے رکھا جائے تو اسے 4 صوبائی اکائیوں میں منظم کرنا زیادہ مناسب دکھائی دیتا ہے۔ صرف کراچی کو الگ صوبہ بنانے سے کراچی کا مسئلہ تو کسی حد تک حل ہو سکتا ہے، لیکن باقی سندھ میں اختیارات کی مرکزیت، طویل فاصلے اور انتظامی مشکلات اپنی جگہ برقرار رہیں گی۔ سندھ اس وقت 6 ڈویژنز اور 30 اضلاع پر مشتمل ہے۔ اس لیے ہمارا مجوزہ ماڈل کسی ضلع کو تقسیم کرنے کے بجائے انہی موجودہ اضلاع کو 4 صوبائی اکائیوں میں منظم کرنے پر مبنی ہے۔ 1۔ صوبہ کراچی کراچی ڈویژن کے موجودہ 7 اضلاع کے ساتھ جامشورو ضلع۔ جامشورو کو شامل کرنے سے کراچی کو مستقبل میں پھیلاؤ کے لیے جگہ ملے گی اور کراچی، نوری آباد، کوٹری اور جامشورو کے صنعتی اور معاشی رابطے ایک ہی انتظامی نظام کے تحت آ جائیں گے۔ 2۔ صوبہ حیدرآباد حیدرآباد، مٹیاری، ٹنڈو الہ یار، ٹنڈو محمد خان، بدین، ٹھٹھہ اور سجاول۔ یہ اضلاع جغرافیائی، زرعی، آبی اور سفری اعتبار سے حیدرآباد سے قریبی تعلق رکھتے ہیں، اس لیے حیدرآباد ان کا قدرتی انتظامی مرکز بن سکتا ہے۔ 3۔ صوبہ شہید بینظیر یا وسطی و مشرقی سندھ شہید بینظیر آباد، سانگھڑ، میرپورخاص، عمرکوٹ اور تھرپارکر۔ یہ اکائی وسطی سندھ کے زرعی علاقوں کو مشرقی سندھ اور تھر سے ملائے گی۔ شہید بینظیر آباد کو مرکز بنانے سے اس صوبے کے مختلف حصوں کے درمیان نسبتاً بہتر توازن قائم ہو سکتا ہے۔ 4۔ صوبہ سکھر یا بالائی سندھ سکھر، خیرپور، گھوٹکی، نوشہرو فیروز، لاڑکانہ، قمبر شہدادکوٹ، شکارپور، جیکب آباد، کشمور اور دادو۔ نوشہرو فیروز کے سفری اور معاشی رابطے سکھر اور بالائی سندھ سے زیادہ مضبوط ہیں، جبکہ دادو کا رابطہ بھی دریائے سندھ کے مغربی کنارے پر واقع بالائی اضلاع سے بنتا ہے۔ اس لیے ان دونوں اضلاع کو اس صوبے میں شامل کرنا زیادہ مناسب ہوگا۔ اس ترتیب میں سندھ کے تمام 30 اضلاع شامل ہو جاتے ہیں، کوئی ضلع تقسیم نہیں ہوتا اور موجودہ ضلعی حدود بھی برقرار رہتی ہیں۔ اس طرح ہر صوبائی اکائی کو اپنا واضح انتظامی مرکز اور الگ معاشی بنیاد مل سکتی ہے۔ غور طلب بات یہ ہے کہ سندھ کی یہ جغرافیائی تقسیم کوئی نئی یا مصنوعی تجویز نہیں۔ قدیم مغلیہ اور ترخان ادوار میں سندھ کی تاریخ کا مطالعہ کیا جائے تو یہ بات واضح ہوتی ہے کہ انتظامی نقطۂ نظر سے سندھ کو ہمیشہ تین قدرتی، جغرافیائی اور انتظامی خطوں (Natural and Administrative Regions) میں تقسیم کر کے چلایا جاتا رہا ہے۔ 1۔ سِرو (Upper Sindh): شکارپور، سکھر اور جیکب آباد کا بالائی علاقہ۔ 2۔ وِچولو (Middle Sindh): حیدرآباد، نواب شاہ اور دادو کا وسطی خطہ۔ 3۔ لاڑ (Lower Sindh): ٹھٹھہ، بدین اور کراچی کے ساحلی اور زیریں علاقے۔ ان تینوں خطوں کا اپنا نظامِ سلطنت، ، مقامی لب و لہجہ، یعنی سِرولی/سِروئکی (Siroli/Siroki)، وِچولی اور لاڑی، اور الگ جغرافیائی خصوصیات تھیں۔ حاکمِ وقت، خواہ وہ سومرا ہوں، کلہوڑا ہوں یا تالپور، انتظامی کنٹرول کے لیے ان خطوں کی علاقائی حیثیت کو تسلیم کرتے تھے۔ تالپور دور (1783ء–1843ء) میں تو سندھ کی اس انتظامی تقسیم کو باقاعدہ ریاستی سطح پر نافذ کیا گیا اور یہ نظام چلانے کے لیے باقاعدہ علاقائی و ضلعی حاکم مقرر کیے جاتے تھے، جنہیں اس دور کی اصطلاح میں "کاردار" یا "نواب" کہا جاتا تھا، اور ان کا کام وہی ہوتا تھا جو جدید دورِ حکومت میں ایک گورنر کا ہوتا ہے۔ چونکہ قدیم اور قرونِ وسطیٰ کے سندھ میں اتنے وسیع خطے کو ایک ہی مرکزی نقطے سے چلانا ناممکن سمجھا جاتا تھا، اسی لیے اس دور کی حکمرانی کا اصل فکری محور عدمِ مرکزیت (Decentralization) پر مبنی تھا۔ ▫️اس پورے مضمون میں میری کوشش صرف یہ سمجھانے کی رہی ہے کہ یہ جو آج پاکستان میں نئے صوبوں پر سنجیدہ بحث ہو رہی ہے تو سندھ کو بھی اس کی اپنی قدیم تاریخ تہذیب اور جغرافیائی ساخت کی روشنی میں دیکھا جانا چاہیے۔ قدیم سندھ بھی پرانے وقتوں میں ایک ہی انتظامی مرکز سے نہیں چلتا تھا بلکہ اسے سِرو، وِچولو اور لاڑ جیسے تین قدرتی اور انتظامی خطوں میں تقسیم کیا گیا تھا، کیونکہ اس زمانے کے حکمران بھی جانتے تھے کہ اتنے بڑے خطے کو مقامی انتظام کے بغیر مؤثر طور پر نہیں چلایا جا سکتا۔ اگر آج انہی تاریخی بنیادوں پر سندھ میں تین انتظامی صوبے قائم کرکے ان کے نام بھی سِرو، وِچولو اور لاڑ رکھ دیے جائیں تو اسے سندھ کی تقسیم کیسے کہا جا سکتا ہے؟ یہ تو قدیم سندھ کو جدید دور کے تقاضوں کے مطابق دوبارہ بحال کرنا کہلاۓ گا۔ البتہ کراچی کی غیر معمولی آبادی، معیشت اور مسلسل پھیلاؤ کے باعث اسے جامشورو کے ساتھ ایک چوتھی انتظامی اکائی کے طور پر تجویز کیا گیا ہے۔ یوں سندھ نہ اپنی تاریخ سے جدا ہوگا، نہ اپنی تہذیبی شناخت سے۔ (جاری ہے۔۔۔ اگلی قسط میں)

پنجاب کو کتنے صوبوں میں تقسیم کیا جانا چاہیے؟

🔳 کیا آپ جانتے ہیں کہ پاکستان کے صوبہ پنجاب کا رقبہ گریٹ برطانیہ (Great Britain)، یعنی انگلینڈ، اسکاٹ لینڈ اور ویلز، کے مجموعی رقبے کے تقریباً برابر ہے، جبکہ آبادی کے لحاظ سے پنجاب، گریٹ برطانیہ سے تقریباً دو گنا بڑا ہے؟ ▫️پاکستانی صوبہ پنجاب دنیا کے 180 سے زیادہ ممالک سے آبادی میں بڑا ہے اور برطانیہ، فرانس، اٹلی، اسپین، کینیڈا، سعودی عرب، آسٹریلیا، جاپان، فلپائن، مصر، ویت نام اور ایران جیسے بڑے اور گنجان آباد ممالک سے بھی زیادہ آبادی (12 کروڑ 77 لاکھ) رکھتا ہے۔ ▫️آبادی کا یہ عالم ہے کہ ہمارا پیارا صوبہ پنجاب، جس کی آبادی 13 کروڑ 50 لاکھ تک جا پہنچی ہے، دنیا کے دسویں سب سے زیادہ آبادی والے ملک میکسیکو کے تقریباً برابر ہے، جس کی آبادی بھی لگ بھگ 13.5 کروڑ ہے۔ میکسیکو کو چلانے کے لیے 31 الگ ریاستیں (States) اور ایک وفاقی ضلع موجود ہے، جبکہ پنجاب کا پورا انتظامی نظام صرف ایک صوبائی مرکز، لاہور، کے زیرِ اثر ہے۔ ▫️بھارت نے 1947 کے بعد انتظامی ضرورت اور عوامی مطالبات کے تحت مختلف ادوار میں 17 نئی ریاستیں قائم کیں یا بعض علاقوں کو مکمل ریاستی درجہ دیا۔ ان میں گجرات، ہریانہ، ناگالینڈ، میگھالیہ، چھتیس گڑھ، جھارکھنڈ، اتراکھنڈ اور تلنگانہ نمایاں مثالیں ہیں۔ آج بھارت 28 ریاستوں اور 8 وفاقی اکائیوں پر مشتمل ملک ہے، جبکہ پاکستان اب بھی بنیادی طور پر صرف 4 صوبوں اور 3 وفاقی اکائیوں تک محدود ہے۔ 🔳 موضوع: آج پاکستان میں صوبوں کی نئی تقسیم کیسے ممکن ہے؟ | قسط 2 عنوان: پنجاب کو کتنے صوبوں میں تقسیم کیا جانا چاہیے؟ 🔺 قومی معاملات میں اختلافِ رائے فطری ہے، مگر مستقل انتشار کسی مسئلے کا حل نہیں۔ عوام، سیاسی جماعتوں اور ریاستی اداروں کی مشترکہ ذمہ داری ہے کہ سنجیدہ اور شفاف بحث کے بعد ایک واضح قومی اتفاقِ رائے تک پہنچیں۔ تحریر و تحقیق: سید شایان پچھلی قسط میں ہم نے یہ سوال اٹھایا تھا کہ عوام کی سرکاری اداروں تک آسان رسائی کے لیے صرف مضبوط بلدیاتی نظام کافی ہے یا نئے صوبے بھی ضروری ہیں۔ آج ہم اسی سلسلے کو آگے بڑھاتے ہوئے پنجاب کو 6 نئے صوبوں میں تقسیم کرنے کے اپنے مجوزہ ماڈل اور اس کے فکری و عملی جواز (Rationale) کا جائزہ لیں گے۔ ساتھ ہی اس قسط میں یہ بنیادی سوال بھی زیرِ بحث آئے گا کہ پاکستان جیسے بڑے اور متنوع وفاق میں بہتر حکمرانی کے لیے کون سا ماڈل زیادہ مؤثر ثابت ہو سکتا ہے: 1۔ کیا موجودہ بڑے صوبے برقرار رکھے جائیں؟ 2۔ کیا موجودہ ڈویژنوں کو بااختیار انتظامی اکائیوں (Empowered Administrative Units) میں تبدیل کر دیا جائے؟ 3۔ کیا نئے صوبوں کو باقاعدہ وفاقی اکائیوں (Federating Units) کی حیثیت دی جائے؟ 4۔ یا بلدیاتی نظام (Local Government System) کے ذریعے اختیارات کو نچلی سطح تک منتقل کیا جائے؟ اگر ہم زمینی حقائق دیکھیں تو پنجاب کا موجودہ رقبہ 205,344 مربع کلومیٹر اور آبادی تقریباً 13 کروڑ 50 لاکھ سے تجاوز کر چکی ہے (2023 کی مردم شماری میں سرکاری آبادی 12 کروڑ 77 لاکھ تھی)، جو رقبے کے لحاظ سے تقریباً برطانیہ کے برابر ہے، مگر اس کی آبادی برطانیہ سے تقریباً دو گنا ہے۔ اور دنیا کے 110 سے زائد ممالک (جیسے بنگلہ دیش، جنوبی کوریا، یونان اور پرتگال) سے رقبے میں بڑا ہے۔ آبادی کے معاملے میں تو ہمارا پنجاب دنیا کے 190 سے زیادہ ممالک کو پیچھے چھوڑ دیتا ہے اور برطانیہ، فرانس، اٹلی، اسپین، کینیڈا، سعودی عرب اور آسٹریلیا جیسے متعدد بڑے ممالک سے بھی آبادی میں کہیں آگے ہے۔ یہاں تک کہ یورپ کا سب سے زیادہ آبادی والا ملک جرمنی بھی آبادی کے لحاظ سے اس کے سامنے چھوٹا نظر آتا ہے۔ جب ہم برطانیہ کا ذکر کرتے ہیں تو ہمارے ذہن میں ایک بہت بڑے ملک کا تصور ابھرتا ہے، لیکن حقیقت یہ ہے کہ پورے گریٹ برطانیہ، یعنی انگلینڈ، اسکاٹ لینڈ اور ویلز، کا مجموعی رقبہ تقریباً 2 لاکھ 9 ہزار مربع کلومیٹر ہے، جبکہ ہمارے اکیلے پنجاب کا رقبہ تقریباً 2 لاکھ 5 ہزار مربع کلومیٹر ہے۔ یعنی رقبے کے لحاظ سے پنجاب پورے گریٹ برطانیہ کے تقریباً 98 فیصد کے برابر ہے۔ فرق یہ ہے کہ تقریباً 6 کروڑ 70 لاکھ آبادی پر مشتمل گریٹ برطانیہ نے بہتر حکمرانی، سائنس، ٹیکنالوجی، صنعت اور مضبوط اداروں کی بدولت خود کو دنیا کی بڑی معاشی طاقتوں میں شامل کر رکھا ہے، جبکہ تقریباً 13 کروڑ 50 لاکھ آبادی والا پنجاب اپنی زرخیز زمین، وسیع نہری نظام اور بے پناہ انسانی و قدرتی وسائل کے باوجود بدانتظامی، ناقص منصوبہ بندی اور شدید معاشی مسائل کا شکار ہے۔ سوچنے کی بات یہ ہے کہ پنجاب رقبے میں تقریباً پورے گریٹ برطانیہ کے برابر اور آبادی میں دنیا کے کئی بڑے ممالک سے بھی آگے ہے۔ ایسے میں ایک ہی صوبائی دارالحکومت سے اتنے وسیع علاقے اور کروڑوں لوگوں کے لیے انصاف، صحت، تعلیم اور امن و امان کا نظام مؤثر طریقے سے چلانا کیسے ممکن ہے؟ اور اب جب یہ واضح بھی ہو چکا ہے کہ پنجاب رقبے اور آبادی کے لحاظ سے کس قدر بڑا صوبہ بن چکا ہے، تو اسے مختلف صوبوں یا وفاقی اکائیوں میں تقسیم کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔ اگر اس کے باوجود ایسا نہیں کیا جاتا، تو یہ تاثر مزید مضبوط ہوگا کہ قومی مفاد پر سیاسی مفادات کو ترجیح دی جا رہی ہے۔ لیکن اب اصل سوال یہ ہے کہ پنجاب کو کتنے نئے صوبوں، یعنی وفاقی اکائیوں (Federating Units)، میں تقسیم کیا جائے؟ اس حوالے سے ایک پرانا اور نمایاں مطالبہ یہ رہا ہے کہ ملتان اور اس کے گردونواح پر مشتمل سرائیکی صوبہ قائم کیا جائے، سابق ریاست بہاولپور کو الگ صوبائی حیثیت دی جائے اور باقی پنجاب کو ایک علیحدہ صوبے کے طور پر برقرار رکھا جائے۔ اس فارمولے کے تحت موجودہ پنجاب 3 صوبوں میں تقسیم ہو جاتا ہے۔ تاہم صوبوں کی نئی تقسیم صرف تاریخی مطالبات یا علاقائی شناخت کی بنیاد پر نہیں ہونی چاہیے۔ اس فیصلے میں آبادی، رقبہ، انتظامی معاملات، معاشی صلاحیت، مواصلاتی رابطوں، دستیاب وسائل اور مستقبل میں آبادی کے ممکنہ پھیلاؤ کو بھی بنیادی اہمیت دینی ہوگی۔ اس لیے یہ دیکھنا ضروری ہے کہ آیا 3 صوبوں کا یہ ماڈل واقعی ایک دیرپا اور کامیاب تجربہ ثابت ہو سکتا ہے یا پنجاب کو اس سے بھی زیادہ صوبوں میں تقسیم کرنے کی ضرورت ہے۔ آج بنیادی سوال یہ ہے کہ پنجاب کو کتنے صوبوں میں تقسیم کیا جائے: 3، 6 یا 10؟ تین (3) صوبوں کی تجویز ایک عرصے سے زیرِ بحث ہے۔ ہمارا تھنک ٹینک اس کے مقابلے میں 6 صوبوں کا ماڈل پیش کر رہا ہے، جس میں پنجاب کی آبادی، مختلف علاقوں کے باہمی فاصلے، انتظامی ضروریات اور معاشی معاملات کو بنیاد بنایا گیا ہے۔ ایک تیسری تجویز یہ بھی ہے کہ پنجاب کے موجودہ 10 ڈویژنوں کو ہی الگ صوبوں میں تبدیل کر دیا جائے۔ ہم نے یہ تجویز محض اندازوں یا زبانی بحث کی بنیاد پر پیش نہیں کی، بلکہ ہم نے اور ہماری ٹیم نے پنجاب کے مختلف شہروں، دیہی علاقوں اور ان کی معیشت و تجارتی سرگرمیوں کا طویل عرصے تک قریب سے جائزہ لیا ہے۔ اس جائزے کا مقصد یہ سمجھنا تھا کہ پنجاب کے کن شہروں اور علاقوں کو ملا کر ایسے صوبے بنائے جا سکتے ہیں جو انتظامی طور پر بہتر ہوں اور اپنی معیشت بھی آزادانہ سنبھال سکیں۔ اسی مقصد کے لیے چین کے صنعتی و معاشی کلسٹرز (Economic Clusters) کے ماڈل کا بھی جائزہ لیا گیا۔ چین کی غیر معمولی معاشی ترقی کا ایک اہم سبب یہ بھی ہے کہ اس نے مختلف شہروں اور علاقوں کو مخصوص صنعتوں کے گرد منظم کیا اور وہاں مکمل صنعتی ایکوسسٹم قائم کیے۔ مثال کے طور پر چانگ چُن، شنگھائی، گوانگ ژو، ووہان اور چونگ چنگ گاڑیوں کی صنعت کے بڑے مراکز ہیں۔ چانگ چُن میں صرف گاڑیاں تیار نہیں ہوتیں بلکہ اس کے گرد آٹو پارٹس، بیٹریاں، انجینئرنگ، تحقیق، ہنرمند افرادی قوت اور سپلائی کا پورا نظام موجود ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اسے چین کے اہم آٹوموبائل کلسٹرز میں شمار کیا جاتا ہے۔ اسی طرح شانتو کا چنگ ہائی ضلع کھلونوں کی تیاری، پیکجنگ اور برآمد کے لیے مشہور ہے۔ شینژن اور ڈونگ گوان الیکٹرانکس، موبائل فونز، ڈرونز اور سیمی کنڈکٹرز کے بڑے مراکز ہیں، جبکہ شنگھائی کیمیکل انڈسٹری پارک پیٹروکیمیکل اور کیمیکل صنعت کے لیے مخصوص ہے۔ چین کے اس ماڈل میں ہر شہر اپنی مخصوص صنعت پر توجہ دیتا ہے۔ ہر شہر ہر چیز بنانے کی کوشش نہیں کرتا بلکہ اپنی مخصوص معاشی شناخت قائم کرتا ہے۔ اس سے سرمایہ کاروں کو تیار انفراسٹرکچر، ہنرمند افراد، سپلائرز اور منڈی ایک ہی خطے میں مل جاتی ہے۔ نتیجتاً پیداواری لاگت کم، معیار بہتر اور برآمدی صلاحیت زیادہ ہو جاتی ہے۔ اسی تحقیق اور مشاہدے کے بعد پنجاب کو 6 صوبوں میں تقسیم کرنے کی یہ تجویز پیش کی گئی ہے۔ اسی لیے پنجاب کے 6 مجوزہ صوبوں کی ہماری تجویز صرف انتظامی تقسیم نہیں بلکہ ایسے معاشی ریجنوں (Economic Regions) کی تشکیل کی کوشش ہے جو مستقبل میں اپنے وسائل، صنعت، زراعت، تجارت اور سرمایہ کاری کی بنیاد پر خود کو پائیدار انداز میں آگے بڑھا سکیں۔ اس تصور کی تشکیل میں چین سمیت مختلف ممالک کے علاقائی معاشی ماڈلز کا بھی مطالعہ کیا گیا ہے 🔳 پنجاب کے 6 مجوزہ صوبے: انتظامی و معاشی خدوخال 1۔ صوبہ راولپنڈی ▫️یہ مجوزہ صوبہ خطۂ پوٹھوہار پر مشتمل ہوگا، جو اپنے منفرد جغرافیے، خدمات کے شعبے، دفاعی تنصیبات، تیل و گیس، معدنی وسائل اور سیاحت کی وجہ سے ایک الگ معاشی شناخت رکھتا ہے۔ راولپنڈی کو دارالحکومت بنانے سے اس خطے کے لوگوں کی صوبائی اداروں تک رسائی پہلے کے مقابلے میں زیادہ آسان اور تیز ہو جائے گی۔ ▫️اضلاع: راولپنڈی، مری، اٹک، چکوال، تلہ گنگ اور جہلم ▫️دارالحکومت: راولپنڈی ▫️معاشی بنیاد: خدمات، دفاع، سیاحت، بارانی زراعت، تیل، گیس اور معدنیات ▫️کل رقبہ: تقریباً 22,255 مربع کلومیٹر ▫️آبادی: تقریباً 1 کروڑ 14 لاکھ، مردم شماری 2023 کے مطابق (مردم شماری 2023 میں مری کی آبادی راولپنڈی ضلع اور تلہ گنگ کی آبادی چکوال ضلع کے اعداد میں شامل تھی۔) 2۔ صوبہ لاہور ▫️یہ مجوزہ صوبہ پنجاب کے سب سے بڑے صنعتی، تجارتی اور ٹیکنالوجی کے مرکز پر مشتمل ہوگا۔ لاہور کی آئی ٹی انڈسٹری، مالیاتی سرگرمیاں، اعلیٰ تعلیم اور خدمات کے شعبے کو گوجرانوالہ کی لائٹ انجینئرنگ، سیالکوٹ کی سرجیکل اور کھیلوں کی صنعت، گجرات کے پنکھوں اور فرنیچر، حافظ آباد اور منڈی بہاؤالدین کی زراعت، جبکہ قصور، اوکاڑہ، ساہیوال اور پاکپتن کی ڈیری، لائیو اسٹاک اور فوڈ پروسیسنگ سے جوڑا جائے گا۔ اس طرح یہ صوبہ پاکستان کا سب سے بڑا صنعتی، برآمدی اور ٹیکنالوجی کا معاشی کلسٹر (Economic Cluster) بن سکتا ہے۔ ▫️اضلاع: لاہور، قصور، شیخوپورہ، اوکاڑہ، ساہیوال، پاکپتن، گوجرانوالہ، گجرات، سیالکوٹ، نارووال، حافظ آباد، منڈی بہاؤالدین اور وزیرآباد ▫️دارالحکومت: لاہور ▫️معاشی بنیاد: آئی ٹی، مالیات، تعلیم، خدمات، لائٹ انجینئرنگ، سرجیکل آلات، کھیلوں کا سامان، پنکھے، فرنیچر، زراعت، ڈیری، لائیو اسٹاک، فوڈ پروسیسنگ اور برآمدات ▫️کل رقبہ: تقریباً 37,020 مربع کلومیٹر ▫️آبادی: تقریباً 4 کروڑ 85 لاکھ، مردم شماری 2023 کے مطابق 3۔ صوبہ فیصل آباد ▫️یہ مجوزہ صوبہ وسطی پنجاب کے ایک بڑے صنعتی اور زرعی خطے پر مشتمل ہوگا۔ فیصل آباد کی ٹیکسٹائل صنعت، سرگودھا کے کینو، خوشاب کے معدنی وسائل، چنیوٹ کی فرنیچر سازی جبکہ جھنگ، ٹوبہ ٹیک سنگھ اور ننکانہ صاحب کی زراعت اور لائیو اسٹاک اس خطے کو ایک متوازن صنعتی اور زرعی معیشت فراہم کریں گے۔ صنعت، زراعت، فوڈ پروسیسنگ اور برآمدات کو ایک ہی خطے میں جوڑ کر اسے پنجاب کا ایک اہم معاشی کلسٹر (Economic Cluster) بنایا جا سکتا ہے۔ ▫️اضلاع: فیصل آباد، ننکانہ صاحب، جھنگ، ٹوبہ ٹیک سنگھ، چنیوٹ، سرگودھا اور خوشاب ▫️دارالحکومت: فیصل آباد ▫️معاشی بنیاد: ٹیکسٹائل، فرنیچر، زراعت، کینو، گندم، لائیو اسٹاک، فوڈ پروسیسنگ، معدنیات، صنعت اور برآمدات ▫️کل رقبہ: 32,501 مربع کلومیٹر ▫️آبادی: تقریباً 2 کروڑ 37 لاکھ، مردم شماری 2023 کے مطابق 4۔ صوبہ ملتان ▫️یہ مجوزہ صوبہ جنوبی پنجاب کے ایک بڑے زرعی، تجارتی اور صنعتی خطے پر مشتمل ہوگا۔ ملتان کی تجارت، تعلیم، صحت اور خدمات، خانیوال اور وہاڑی کی کپاس و گندم، لودھراں کی زراعت جبکہ مظفرگڑھ اور کوٹ ادو کی زرعی پیداوار، توانائی اور صنعتی سرگرمیاں اس خطے کو ایک مضبوط معاشی بنیاد فراہم کریں گی۔ زراعت، ٹیکسٹائل، فوڈ پروسیسنگ، تجارت اور توانائی کو ایک ہی خطے میں جوڑ کر اسے جنوبی پنجاب کا ایک اہم معاشی کلسٹر (Economic Cluster) بنایا جا سکتا ہے۔ ▫️اضلاع: ملتان، خانیوال، وہاڑی، لودھراں، مظفرگڑھ اور کوٹ ادو ▫️دارالحکومت: ملتان ▫️معاشی بنیاد: کپاس، گندم، زراعت، ٹیکسٹائل، فوڈ پروسیسنگ، لائیو اسٹاک، تجارت، خدمات، صنعت اور توانائی ▫️کل رقبہ: 23,460 مربع کلومیٹر ▫️آبادی: تقریباً 1 کروڑ 91 لاکھ، مردم شماری 2023 کے مطابق نوٹ: مردم شماری 2023 میں کوٹ ادو اور چوک سرور شہید کی آبادی اور رقبہ مظفرگڑھ ضلع کے مجموعی اعداد میں شامل تھے۔ 5۔ صوبہ بہاولپور ▫️یہ مجوزہ صوبہ سابق ریاست بہاولپور کے تاریخی اور انتظامی خطے پر مشتمل ہوگا۔ بہاولپور، بہاولنگر اور رحیم یار خان زراعت، صنعت، تجارت اور توانائی کے لحاظ سے ایک دوسرے سے جڑے ہوئے ہیں۔ کپاس، گندم، گنا، فوڈ پروسیسنگ، لائیو اسٹاک اور رحیم یار خان کی صنعتی و تجارتی سرگرمیوں کے ساتھ چولستان کی زمین، معدنی وسائل اور شمسی توانائی اس خطے کو ایک مضبوط معاشی بنیاد فراہم کر سکتے ہیں۔ ▫️سابق ریاست بہاولپور میں اپنا حکومتی نظام، تعلیمی ادارے، آبپاشی کا مضبوط نہری نظام اور ترقی کا ایک مؤثر انتظامی ڈھانچہ موجود تھا۔ آج بھی یہ خطہ زراعت، صنعت اور تجارت کے ساتھ ساتھ چولستان کی وسیع زمین، لائیو اسٹاک، معدنی وسائل اور شمسی توانائی کی غیر معمولی صلاحیت رکھتا ہے۔ بہاولپور میں قائم قائداعظم سولر پارک اس کی ایک عملی مثال ہے، جبکہ لال سوہانرا نیشنل پارک سیاحت، جنگلی حیات اور ماحولیات کے حوالے سے اس خطے کی منفرد شناخت ہے۔ ▫️اس تجویز کا مقصد ماضی کو واپس لانا نہیں بلکہ اس تاریخی تجربے اور مقامی وسائل کو جدید دور کی ضروریات کے مطابق بروئے کار لانا ہے۔ درست منصوبہ بندی اور سرمایہ کاری کے ذریعے بہاولپور زراعت، فوڈ پروسیسنگ، صنعت، سیاحت اور شمسی توانائی کا ایک مضبوط معاشی مرکز بن سکتا ہے۔ ▫️اضلاع: بہاولپور، بہاولنگر اور رحیم یار خان ▫️دارالحکومت: بہاولپور ▫️معاشی بنیاد: زراعت، کپاس، گندم، گنا، چینی، فوڈ پروسیسنگ، لائیو اسٹاک، صنعت، تجارت، معدنیات، چولستان اور شمسی توانائی ▫️کل رقبہ: 45,588 مربع کلومیٹر ▫️آبادی: تقریباً 1 کروڑ 34 لاکھ، مردم شماری 2023 کے مطابق 6۔ صوبہ ڈیرہ تھل ▫️یہ مجوزہ صوبہ ڈیرہ جات اور تھل کے تاریخی و جغرافیائی خطوں پر مشتمل ہوگا۔ ڈیرہ غازی خان، راجن پور اور تونسہ کے معدنی وسائل، کوہِ سلیمان، توانائی اور لائیو اسٹاک کو لیہ، بھکر اور میانوالی کی زراعت، دریائے سندھ اور تھل کے وسیع میدانوں کے ساتھ جوڑ کر ایک مربوط علاقائی معیشت تشکیل دی جا سکتی ہے۔ زراعت، معدنیات، توانائی، لائیو اسٹاک، دریائے سندھ اور سیاحت کی بنیاد پر یہ خطہ مغربی پنجاب کا ایک مضبوط معاشی کلسٹر (Economic Cluster) بن سکتا ہے۔ ▫️اضلاع: ڈیرہ غازی خان، راجن پور، تونسہ، لیہ، بھکر اور میانوالی ▫️دارالحکومت: لیہ ▫️معاشی بنیاد: زراعت، دریائے سندھ، لائیو اسٹاک، معدنیات، تیل و گیس، توانائی، کوہِ سلیمان، تھل اور سیاحت ▫️کل رقبہ: تقریباً 57,400 مربع کلومیٹر ▫️آبادی: تقریباً 1 کروڑ 38 لاکھ، مردم شماری 2023 کے مطابق (جاری ہے، باقی اگلی قسط میں)

پاکستان کی نئی انتظامی تقسیم کیسے ممکن ہے؟

🌴 اگر پنجاب کو 6 صوبوں میں تقسیم کیا جائے تو ؟؟ اور پاکستان کو مجموعی طور پر 22 صوبوں میں تقسیم کیا جاۓ تو ؟؟ ▫️ نئے صوبوں کی تشکیل سیاسی، لسانی یا نسلی بنیادوں کے بجائے آبادی، معاشی کلسٹرز اور زمینی فاصلوں کو سامنے رکھ کر کی جائے تو اس سے حکومت اور عوام کے درمیان دوری کم ہو گی، علاقائی معیشتیں مضبوط ہوں گی اور قومی یکجہتی بھی بہتر ہو سکتی ہے۔ ▫️ جب تک معیاری ہسپتال، کالج، یونیورسٹیاں اور روزگار کے مواقع ہر علاقے میں دستیاب نہیں ہوں گے، لوگ بہتر سہولتوں کی تلاش میں بڑے شہروں کا رخ کرتے رہیں گے۔ نتیجتاً بڑے شہر آبادی کے غیر معمولی دباؤ اور انتظامی مشکلات کا شکار رہیں گے، جبکہ دور دراز علاقے ترقی اور بنیادی سہولتوں سے محروم رہیں گے۔ ▫️افغانستان رقبے میں پاکستان سے نسبتاً چھوٹا ہے، مگر وہاں 34 صوبے ہیں، جبکہ پاکستان صرف 4 صوبوں میں تقسیم ہے۔ ہمارے ہاں نئے صوبوں کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ سیاست دانوں کی ہوسِ اقتدار ہے، جو بہتر انتظام اور عوامی سہولت کے بجائے بڑے صوبوں پر اپنی حکمرانی اور اثر و رسوخ برقرار رکھنا چاہتے ہیں موضوع: پاکستان کی نئی انتظامی تقسیم کیسے ممکن ہے؟ | قسط 1 عنوان: پنجاب کو کتنے صوبوں میں تقسیم کیا جانا چاہیے؟ 🔺 قومی معاملات میں اختلافِ رائے فطری ہے، مگر مستقل انتشار حل نہیں۔ عوام، سیاسی جماعتوں اور ریاستی اداروں کی ذمہ داری ہے کہ کھلی بحث کے بعد واضح قومی اتفاقِ رائے تک پہنچیں۔ تحریر و تحقیق: سید شایان میں گزشتہ کچھ عرصے سے پاکستان کے آئی پی پیز اور توانائی کے بحران پر تحقیقی سلسلہ شائع کر رہا ہوں۔ تاہم نئے صوبوں کی بحث چونکہ ہمارے تھنک ٹینک کے بنیادی دائرۂ کار، یعنی Urban and Regional Development اور Governance، سے براہِ راست متعلق ہے، اس لیے آئی پی پیز کا سلسلہ عارضی طور پر روک کر اس اہم قومی موضوع پر میں اپنی راۓ قارئین کے سامنے پیش کر رہا ہوں۔ 🔳 پاکستان میں ان دنوں نئے صوبوں کے قیام سے متعلق مختلف تجاویز زیرِ بحث ہیں۔ اسی تناظر میں ہمارے تھنک ٹینک نے بھی ایک فکری مشق (Academic Debate) کے طور پر صوبہ پنجاب کی ممکنہ انتظامی تقسیم کا نقشہ اور تجزیہ تیار کیا ہے۔ یہ کسی حکومتی منصوبے یا سرکاری تجویز کی نمائندگی نہیں کرتا، بلکہ انتظامی اصلاحات پر جاری علمی بحث میں ایک نیا تحقیقی نقطۂ نظر پیش کرتا ہے۔ آج پاکستان کی آبادی 26 کروڑ تک جا پہنچی ہے۔ صرف صوبہ پنجاب کی آبادی 12 کروڑ سے زیادہ ہے، جو دنیا کے کئی بڑے ممالک کی آبادی سے بھی زیادہ ہے۔ اسی طرح بلوچستان رقبے کے لحاظ سے ملک کا 44 فیصد حصہ ہے، مگر اس کا انتظامی مرکز، کوئٹہ، بعض علاقوں سے سینکڑوں کلومیٹر دور ہے۔ پاکستان میں نئے صوبوں کی تشکیل ایک طویل عرصے سے قومی اور عوامی بحث کا موضوع رہی ہے۔ اس کے حامیوں کا مؤقف ہے کہ چھوٹے صوبوں سے وسائل کی منصفانہ تقسیم، بہتر گورننس، عوامی خدمات تک آسان رسائی اور دور دراز علاقوں کی ترقی ممکن ہوگی۔ اس سے لاہور اور کراچی جیسے بڑے شہروں پر آبادی اور انتظامی دباؤ بھی کم ہو سکتا ہے۔ نئے صوبوں کے مخالفین کا مؤقف ہے کہ اس عمل میں آئینی اور سیاسی رکاوٹیں، لسانی تنازعات اور بھاری انتظامی اخراجات شامل ہیں۔ ان کے نزدیک نئے گورنر ہاؤس، اسمبلیوں، کابیناؤں اور سیکرٹریٹ قائم کرنے کے بجائے بااختیار مقامی حکومتوں کو فنڈز اور اختیارات دے کر یہی مقاصد کم خرچ اور زیادہ مؤثر انداز میں حاصل کیے جا سکتے ہیں نئے صوبے بنانے کا حامی ایک بڑا حلقہ طویل عرصے سے یہ تجویز دیتا آ رہا ہے کہ اگر پاکستان کو 12 سے 14 انتظامی یونٹس یا صوبوں میں تقسیم کر دیا جائے تو گورننس میں بہتری اور وسائل کی منصفانہ تقسیم ممکن ہو سکتی ہے۔ 2025 میں انوار الحق کاکڑ اور گوہر اعجاز کے قائم کردہ Economic Policy and Business Development Think Tank نے پاکستان کو 12 سے 20 صوبوں یا موجودہ ڈویژنوں کی بنیاد پر تقریباً 38 انتظامی یونٹس میں تقسیم کرنے کے مختلف ماڈل پیش کیے تھے۔ اس تھنک ٹینک کے سی ای او سابق بیوروکریٹ احمد نواز سکھیرا ہیں۔ 2023 میں ڈپٹی چیئرمین سینیٹ مرزا محمد آفریدی نے پنجاب اور بلوچستان کے 3،3 صوبے بنانے کے ساتھ کراچی، ہزارہ اور سابق فاٹا کو الگ صوبوں کا درجہ دینے کی تجویز دی، جبکہ ڈاکٹر مہتاب ایس کریم نے 20 صوبوں یا انتظامی یونٹس کا خاکہ پیش کیا۔ اس کے علاوہ بہاولپور، جنوبی پنجاب، ہزارہ اور کراچی کو الگ صوبے بنانے کی تجاویز بھی مختلف اوقات میں سیاسی اور پارلیمانی سطح پر سامنے آتی رہی ہیں۔ اگر ہم ماضی پر نظر ڈالیں تو پاکستان میں صوبائی خودمختاری کا پہلا نمایاں مطالبہ مشرقی پاکستان، یعنی موجودہ بنگلہ دیش، سے سامنے آیا، جو اس وقت پاکستان کا مشرقی حصہ تھا۔ 1949 میں وہاں یہ احساس بڑھ رہا تھا کہ ملک کی آبادی میں اکثریت رکھنے کے باوجود مشرقی پاکستان کو وفاقی حکومت، سرکاری ملازمتوں اور قومی وسائل میں اس کے جائز حصے کے مطابق نمائندگی اور اختیار حاصل نہیں۔ اسی سال مشرقی پاکستان کی مسلم لیگ پارلیمانی پارٹی نے صوبائی خودمختاری کا باضابطہ مطالبہ کیا، جبکہ حسین شہید سہروردی اور مولانا عبدالحمید خان بھاشانی اس تحریک کی نمایاں سیاسی آوازوں میں شامل تھے۔ مشرقی پاکستان سے صوبائی خودمختاری کے مطالبات زور پکڑنے لگے تو وفاقی پالیسی سازوں نے ایک مختلف راستہ اختیار کیا۔ 1955 میں پنجاب، سندھ، سرحد، بلوچستان اور مغربی پاکستان کی مختلف ریاستوں کو ملا کر ایک ہی انتظامی یونٹ، یعنی ون یونٹ، قائم کر دیا گیا۔ اس کا بنیادی مقصد مشرقی اور مغربی پاکستان کے درمیان سیاسی برابری قائم کرنا اور مغربی پاکستان کو ایک انتظامی اکائی میں تبدیل کرنا تھا۔ تاہم ون یونٹ کا تجربہ کامیاب نہ ہو سکا۔ مختلف زبانوں، ثقافتوں، تاریخی شناختوں اور سیاسی روایات رکھنے والے صوبوں کو ایک انتظامی اکائی میں ضم کرنے سے خصوصاً سندھ، سرحد اور بلوچستان میں اپنی صوبائی شناخت ختم ہونے کا احساس پیدا ہوا۔ اس دور کی مخالفت کا بنیادی محور معاشی معاملات سے زیادہ زبان، ثقافت، علاقائی شناخت اور قوم پرستی تھا۔ سندھ میں سندھی زبان، ثقافت اور صوبائی شناخت کے تحفظ کے لیے جی ایم سید، حیدر بخش جتوئی اور شیخ عبدالمجید سندھی جیسے رہنماؤں کے ساتھ طلبہ، ادیبوں اور قوم پرست سیاسی حلقوں نے سب سے منظم آواز اٹھائی۔ سرحد میں خان عبدالغفار خان اور خان عبدالولی خان، جبکہ بلوچستان میں میر غوث بخش بزنجو اور عبدالصمد خان اچکزئی جیسے رہنما صوبائی شناخت، خودمختاری اور سیاسی اختیارات کی بحالی کے مطالبات میں نمایاں رہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ وسائل اور سرکاری ملازمتوں میں حصے کا مطالبہ ضرور موجود تھا، مگر اسے زیادہ تر صوبائی شناخت اور مرکز کے بڑھتے ہوئے غلبے کے تناظر میں دیکھا جاتا تھا۔ اسی ماحول میں 1966 میں شیخ مجیب الرحمن نے اپنے چھ نکات پیش کیے، جن میں صوبوں، جنہیں آئینی زبان میں وفاقی اکائیاں یا Federating Units کہا جاتا ہے، کو وسیع سیاسی، مالی اور انتظامی خودمختاری دینے کا مطالبہ کیا گیا تھا۔ مسلسل سیاسی مخالفت کے نتیجے میں 1970 میں ون یونٹ ختم کر دیا گیا اور پنجاب، سندھ، سرحد اور بلوچستان کو دوبارہ صوبوں کی حیثیت دے دی گئی۔ اس کے بعد صوبائی خودمختاری اور نئے صوبوں کی بحث پاکستان کی سیاست کا مستقل موضوع بن گئی۔ کبھی نئے صوبوں کے نام پر، کبھی صوبائی خودمختاری کے نام پر اور کبھی مضبوط بلدیاتی نظام کے مطالبے کی صورت میں یہ سوال بار بار سامنے آتا رہا کہ اختیارات آخر عوام کے کتنے قریب ہونے چاہییں۔ آج 2026 میں بھی نئے صوبوں کی بحث کے پیچھے بنیادی سوال یہی ہے کہ دور دراز علاقوں میں رہنے والے ایک عام شہری کو اپنے روزمرہ مسائل اور بنیادی سہولتوں کے لیے صوبائی دارالحکومت کیوں جانا پڑے۔ پنجاب کے کسی دور افتادہ ضلع سے لاہور پہنچنا ہو، وفاقی معاملے کے لیے اسلام آباد جانا ہو، یا کسی مقدمے میں اعلیٰ عدالتوں تک رسائی حاصل کرنا ہو، یہ پورا نظام عام آدمی کے لیے مہنگا، مشکل اور وقت طلب ہے۔ اصل ضرورت ایسے انتظامی اور عدالتی ڈھانچے کی ہے جس میں زیادہ تر مسائل شہری کے اپنے شہر، ضلع یا قریبی علاقے ہی میں حل ہو سکیں۔ میری رائے شروع سے یہ رہی ہے کہ سیاست میں اصل اہمیت نچلی سطح کی حکمرانی (Grassroots Governance) کی ہے۔ حکومت اور اختیار جتنا عوام کے قریب ہوگا، لوگوں کو اتنا ہی محسوس ہوگا کہ ان کے مسائل کا حل ان کے اپنے شہر، ضلع یا تحصیل میں موجود ہے۔ اسی لیے میں مضبوط سٹی اور ڈسٹرکٹ گورنمنٹس کا حامی رہا ہوں۔ پرویز مشرف کے دور میں قائم کیا گیا سٹی ڈسٹرکٹ گورنمنٹ نظام یقیناً نچلی سطح تک اختیارات منتقل کرنے کی ایک اچھی کوشش تھی۔ مگر حکومت بدلتے ہی اس پورے نظام کو اس طرح ختم کر دیا گیا جیسے ریاستی پالیسی میں تسلسل کی کوئی اہمیت ہی نہ ہو۔ تحریکِ انصاف نے بھی نچلی سطح تک اختیارات منتقل کرنے کا وعدہ کیا، مگر اقتدار میں آنے کے بعد اس پر وہ عمل نہ ہوسکا جس کی توقع کی جا رہی تھی۔ اقتدار اور اختیارات کی حقیقی منتقلی کی بہترین شکل کیا ہونی چاہیے؟ کیا مضبوط بلدیاتی نظام، چھوٹے صوبے، یا دونوں کا کوئی مشترکہ ماڈل؟ اور اس سے بھی اہم سوال یہ ہے کہ ایسا آئینی اور انتظامی ڈھانچہ کیسے تشکیل دیا جائے جسے کوئی آنے والی حکومت، خواہ منتخب ہو یا غیر منتخب، اپنی سیاسی مصلحت کے تحت آسانی سے ختم یا کمزور نہ کر سکے؟ یہی وہ بنیادی سوال ہے جسے ہم اس سلسلے کی آئندہ اقساط میں تفصیل سے زیرِ بحث لائیں گے۔ اگلی قسط میں ہم پنجاب کو 6 صوبوں میں تقسیم کرنے کے اپنے مجوزہ ماڈل، اس کی منطق، حدود اور انتظامی بنیادوں کا تفصیلی جائزہ بھی پیش کریں گے۔ (جاری ہے باقی اگلی قسط میں)

تمام تحریریں دیکھیں