بلوچستان میں کتنے صوبے بنائے جا سکتے ہیں؟
بلوچستان کے ایک شہری کو اگر اپنے سرکاری کام کے لیے گوادر، تربت یا خضدار جیسے دور دراز علاقوں سے 900 کلومیٹر دور کوئٹہ جانا پڑے، تو آنے جانے کا سفر تقریباً 1,800 کلومیٹر بن جاتا ہے اور دو سے تین دن صرف راستوں اور سفر میں گزر جاتے ہیں۔
سوال یہ ہے کہ کیا ایک صوبائی دارالحکومت اپنے شہری سے اتنا دور ہونا چاہیے؟
موضوع: کیا پاکستان میں نئے صوبے بننا ضروری ہیں؟ | قسط: 6
عنوان: بلوچستان میں کتنے صوبے بنائے جا سکتے ہیں؟
🔺 پاکستان کا مسئلہ صرف صوبوں کی تعداد نہیں، بلکہ حکومت اور عوام کے درمیان بڑھتا ہوا فاصلہ ہے۔ میری تحقیق کا بنیادی نتیجہ یہی ہے کہ صوبے اتنے بڑے نہ ہوں کہ عام شہری کے لیے اپنا دارالحکومت ہی ایک الگ دنیا محسوس ہو۔
تحریر و تحقیق: سید شایان
بلوچستان میں نئے صوبے بنانے کا مطالبہ نیا نہیں۔ ماضی میں پشتون اکثریتی علاقوں کے لیے الگ صوبے اور حالیہ برسوں میں جنوبی بلوچستان کو الگ صوبہ بنانے کی تجاویز سامنے آتی رہی ہیں۔
تاہم پورے بلوچستان کے 6 صوبوں کا زیرِ تحریر ماڈل ہمارے تھنک ٹینک کا ایک نیا انتظامی تصور ہے، جسے تاریخی مطالبات، جغرافیہ، آبادی، فاصلوں اور معاشی امکانات کو سامنے رکھتے ہوئے تیار کیا گیا ہے۔
8 جولائی 2026 کو بلوچستان حکومت کے Revenue Department کے نوٹیفکیشن کے بعد بلوچستان میں 11 ڈویژن اور 41 اضلاع ہو گئے ہیں۔ کوئٹہ کو East Quetta اور West Quetta میں تقسیم کیا گیا ہے، مستونگ کو کوئٹہ ڈویژن میں شامل کیا گیا ہے، اور پشین، خضدار، لسبیلہ اور کوہِ سلیمان سمیت 4 نئے ڈویژن بنائے گئے ہیں، جن کی ترتیب یہ ہے۔
1۔ کوئٹہ ڈویژن: 3 اضلاع
مشرقی کوئٹہ، مغربی کوئٹہ، مستونگ
2۔ پشین ڈویژن: 4 اضلاع
پشین، قلعہ عبداللہ، چمن، برشور
3۔ خضدار ڈویژن: 4 اضلاع
خضدار، قلات، سوراب، وڈھ
4۔ لسبیلہ ڈویژن: 3 اضلاع
لسبیلہ، حب، آواران
5۔ رخشان ڈویژن: 4 اضلاع
چاغی، خاران، نوشکی، واشک
6۔ مکران ڈویژن: 4 اضلاع
کیچ، گوادر، پنجگور، تمپ
7۔ نصیرآباد ڈویژن: 5 اضلاع
نصیرآباد، جعفرآباد، جھل مگسی، صحبت پور، اوستہ محمد
8۔ سیوی (Sevi) ڈویژن (سابقہ نام سبّی): 3 اضلاع
سیوی، کچھی، جنوبی ڈیرہ بگٹی
9۔ ژوب ڈویژن: 3 اضلاع
ژوب، قلعہ سیف اللہ، شیرانی
10۔ لورالائی ڈویژن: 5 اضلاع
لورالائی، دکی، موسیٰ خیل، زیارت، ہرنائی
11۔ کوہِ سلیمان ڈویژن: 3 اضلاع
کوہلو، بارکھان، شمالی ڈیرہ بگٹی
کل: 11 ڈویژن اور 41 اضلاع۔
اس نئی تشکیل میں کوئٹہ کو دو اضلاع میں تقسیم کیا گیا، قلات ڈویژن کی جگہ خضدار اور لسبیلہ ڈویژن بنائے گئے، جبکہ متعدد نئے اضلاع قائم کرکے ان کی نئی حدود بھی مقرر کی گئی ہیں۔
🔘 بلوچستان رقبے کے لحاظ سے پاکستان کا سب سے بڑا صوبہ ہے، جس کا کل رقبہ 347,190 مربع کلومیٹر اور 2023 کی مردم شماری کے مطابق آبادی 14,894,402 ہے۔
آبادی کی کثافت (Population Density) کے لحاظ سے بلوچستان باقی صوبوں سے بہت مختلف ہے۔ بلوچستان میں صرف 43 افراد فی مربع کلومیٹر رہتے ہیں، جبکہ پنجاب میں تقریباً 622، خیبر پختونخوا میں 402 اور سندھ میں تقریباً 395 افراد فی مربع کلومیٹر آباد ہیں۔
یہ فرق واضح کرتا ہے کہ بلوچستان کے انتظامی مسائل کو صرف آبادی کی بنیاد پر نہیں بلکہ وسیع رقبے، طویل فاصلوں اور منتشر آبادی کو سامنے رکھ کر دیکھنا ضروری ہے۔
اگر بلوچستان کے دور دراز علاقوں میں رہنے والے کسی شہری کو صوبائی سطح کے کسی کام کے لیے کوئٹہ آنا پڑے تو اسے کتنا سفر کرنا پڑتا ہے؟
مثال کے طور پر گوادر سے کوئٹہ کا زمینی فاصلہ تقریباً 900 کلومیٹر ہے اور سفر 12 سے 14 گھنٹے تک لے سکتا ہے۔ تربت سے کوئٹہ تقریباً 750 کلومیٹر، جبکہ ژوب سے تقریباً 330 کلومیٹر دور ہے۔ یعنی صوبے کے بعض علاقوں کے شہری کے لیے اپنے ہی صوبائی دارالحکومت تک رسائی ایک پورے دن کا سفر بن سکتی ہے۔
دنیا کے وسیع اور کم آبادی والے خطوں میں اس مسئلے کا حل شہری کو حکومت تک لانا نہیں، بلکہ حکومت کو شہری کے قریب لے جانا ہے۔ امریکہ، آسٹریلیا، بھارت اور چین نے اپنے اپنے انداز میں اختیارات اور انتظامی خدمات کو نچلی سطح تک پہنچایا ہے۔ آسٹریلیا تو باقاعدہ یہ بھی ناپتا ہے کہ کوئی آبادی بنیادی خدمات سے کتنی دور ہے۔
یہی اصول بلوچستان کے لیے بھی بنیادی سوال پیدا کرتا ہے: حکومت عوام سے کتنی دور ہونی چاہیے؟
یہیں سے بلوچستان کی نئی انتظامی تشکیل کا سوال پیدا ہوتا ہے۔ اگر مقصد حکومت کو عوام کے قریب لانا ہے تو کیا صرف نئے اضلاع بنانا کافی ہوگا، یا اتنے وسیع صوبے میں نئے صوبائی مراکز بھی قائم کرنا ہوں گے؟ اور اگر نئے صوبے بننے چاہئیں تو ان کی تعداد کتنی ہو، حدود کیا ہوں اور ان کے دارالحکومت کہاں ہوں؟
اس کا جواب صرف آبادی نہیں، بلکہ رقبے، فاصلے، سفری وقت، معاشی وسائل اور علاقائی و ثقافتی حقائق کو سامنے رکھ کر تلاش کرنا ہوگا۔
بلوچستان کی نئی انتظامی تشکیل سے پہلے اس کی لسانی و ثقافتی ساخت (Linguistic & Cultural Composition) کو سمجھنا ضروری ہے۔
2023 کی مردم شماری قومیت کے بجائے مادری زبان شمار کرتی ہے، جس کے مطابق صوبے میں بلوچی، پشتو اور براہوی بولنے والے بڑے گروہ ہیں، جبکہ سندھی، سرائیکی، اردو اور دیگر زبانیں بولنے والی آبادیاں بھی موجود ہیں۔
بلوچی بولنے والی آبادی زیادہ تر مکران، رخشان اور جنوب مغربی بلوچستان میں، پشتو بولنے والی آبادی کوئٹہ، پشین، چمن، ژوب، قلعہ سیف اللہ اور شمالی علاقوں میں، جبکہ براہوی بولنے والی آبادی قلات، خضدار، مستونگ اور وسطی بلوچستان میں زیادہ مرتکز ہے۔ کئی علاقوں میں یہ آبادیاں باہم ملی جلی بھی ہیں۔
اسی لیے ہمیں یہ محسوس ہوتا ہے کہ نئے صوبے صرف رقبے اور فاصلے کی بنیاد پر نہیں بن سکتیں۔ لسانی حساسیت (Linguistic Sensitivity)، علاقائی شناخت (Regional Identity) اور سماجی ہم آہنگی (Social Cohesion) کو بھی سامنے رکھنا ضروری ہے، تاکہ انتظامی اصلاح کسی بڑے گروہ میں محرومی یا علیحدگی کے احساس کو جنم نہ دے۔
انہی باتوں کو سامنے رکھتے ہوئے بلوچستان کے علاقوں، موجودہ ڈویژنوں، آبادیوں کے باہمی تعلق، فاصلے، روزگار اور آمدنی کے مواقع کو دیکھا گیا اور پھر 6 صوبوں کا یہ ماڈل بنایا گیا۔ کوشش یہ ہے کہ اس ماڈل سے لوگوں کے لیے سرکاری کام آسان ہوں اور کسی علاقے یا برادری کو بلاوجہ الگ نہ کیا جائے۔
● 1۔ صوبہ مکران (مجوزہ)
موجودہ ڈویژن: مکران ڈویژن
اضلاع: گوادر، کیچ، پنجگور، تمپ
مجوزہ دارالحکومت: تربت
آبادی 2023: تقریباً 18.76 لاکھ
رقبہ: 52,067 مربع کلومیٹر
آبادی کی کثافت: تقریباً 36 افراد فی مربع کلومیٹر
زبانیں اور ثقافت : اس خطے میں بلوچی بولنے والی آبادی نمایاں ہے، جبکہ مختلف علاقوں میں دیگر مقامی زبانیں اور بولیاں بولنے والی آبادیاں بھی موجود ہیں۔ مکران اپنی مخصوص بلوچی زبان، ثقافت، ساحلی روایات اور تاریخی علاقائی شناخت کے حوالے سے بلوچستان کے نمایاں خطوں میں شمار ہوتا ہے۔
نمایاں قبائل و برادریاں: گچکی، بلیدی، بزنجو، دشتی، ہوت، رند اور دیگر مقامی بلوچ قبائل و برادریاں۔
صوبہ تجویز کرنے کی وجوہات : مکران ایک قدرتی طور پر مربوط ساحلی اور جنوب مغربی خطہ ہے، جس کے اضلاع کے درمیان تاریخی، لسانی، ثقافتی اور معاشی روابط پہلے سے موجود ہیں۔ گوادر اپنی بندرگاہ، ساحلی معیشت اور بین الاقوامی تجارتی اہمیت کے باعث اس مجوزہ صوبے کا سب سے اہم معاشی مرکز بن سکتا ہے، جبکہ کیچ، پنجگور اور تمپ زراعت، سرحدی تجارت اور مقامی معیشت کے حوالے سے اہم ہیں۔
واضح رہے کہ گوادر کی بجائے تربت کو مجوزہ صوبائی دارالحکومت تجویز کرنے کی بنیادی وجہ انتظامی رسائی اور جغرافیائی توازن ہے۔ گوادر اس خطے کا اہم ترین بندرگاہی، معاشی اور تجارتی مرکز ہے، لیکن تربت مکران کے اندر نسبتاً مرکزی مقام رکھتا ہے اور پنجگور، کیچ، تمپ اور گوادر کے درمیان زیادہ متوازن رسائی فراہم کرتا ہے۔ اس لیے گوادر معاشی مرکز، جبکہ تربت انتظامی دارالحکومت کے طور پر زیادہ موزوں تقسیمِ کردار پیش کرتے ہیں۔
نوٹ: تمپ 2023 Census کے وقت ضلع کیچ کا حصہ تھا اور بعد میں الگ ضلع بنا، اس لیے 2023 کی مجموعی آبادی اور رقبے کے حساب میں سابق ضلع کیچ کے مکمل اعداد شمار کیے گئے ہیں۔
● 2۔ صوبہ رخشان (مجوزہ)
موجودہ ڈویژن: رخشان ڈویژن
اضلاع: چاغی، نوشکی، خاران، واشک
مجوزہ دارالحکومت: خاران
آبادی 2023: تقریباً 10.40 لاکھ
رقبہ: 98,596 مربع کلومیٹر
آبادی کی کثافت: تقریباً 11 افراد فی مربع کلومیٹر
زبانیں اور ثقافت : اس خطے میں بلوچی بولنے والی آبادی نمایاں ہے، جبکہ براہوی اور دیگر زبانیں بولنے والی آبادیاں بھی موجود ہیں۔
نمایاں قبائل و برادریاں: رخشانی، نوشیروانی، سنجرانی، محمد حسنی، بادینی، جمالدینی، ریکی اور دیگر مقامی بلوچ و براہوی قبائل و برادریاں۔
صوبہ تجویز کرنے کی وجوہات : رخشان بلوچستان کے انتہائی وسیع اور کم آبادی والے خطوں میں شامل ہے۔ چاغی کے معدنی وسائل، ایران و افغانستان سے سرحدی قربت، نوشکی کی رابطہ حیثیت اور خاران و واشک کا وسیع جغرافیہ اسے الگ صوبائی اکائی بنانے کی مضبوط بنیاد فراہم کرتا ہے۔
خاران اپنے نسبتاً مرکزی محلِ وقوع کی وجہ سے مجوزہ دارالحکومت کے لیے موزوں ہے، تاکہ اس وسیع خطے کے مختلف علاقوں کو نسبتاً متوازن انتظامی رسائی حاصل ہو۔
● 3۔ صوبہ خضدار (مجوزہ)
موجودہ ڈویژن: خضدار ڈویژن + لسبیلہ ڈویژن
اضلاع: خضدار، قلات، سوراب، وڈھ، لسبیلہ، حب، آواران
مجوزہ دارالحکومت: خضدار
آبادی 2023: تقریباً 24.08 لاکھ
رقبہ: 88,459 مربع کلومیٹر
آبادی کی کثافت: تقریباً 27 افراد فی مربع کلومیٹر
زبانیں اور ثقافت : اس خطے میں براہوی اور بلوچی بولنے والی آبادیاں نمایاں ہیں، جبکہ لسبیلہ اور حب میں لاسی، سندھی اور دیگر زبانیں بولنے والی آبادیاں بھی موجود ہیں۔
نمایاں قبائل و برادریاں: مینگل، زہری، بزنجو، محمد حسنی، سمالانی، ساجدی، جاموٹ، لاسی اور دیگر بلوچ، براہوی اور مقامی قبائل و برادریاں۔
صوبہ تجویز کرنے کی وجوہات:
خضدار وسطی بلوچستان کا اہم انتظامی، تعلیمی اور تجارتی مرکز ہے۔ خضدار، قلات، سوراب اور وڈھ کے تاریخی و جغرافیائی روابط کے ساتھ لسبیلہ، حب اور آواران کو شامل کرنے سے ایک نسبتاً مربوط صوبائی اکائی بنتی ہے۔
حب اور لسبیلہ اسے کراچی کی صنعت، تجارت اور ساحلی معیشت سے جوڑتے ہیں، جبکہ خضدار اپنے نسبتاً مرکزی محلِ وقوع اور موجودہ شہری و انتظامی استعداد کی وجہ سے مجوزہ دارالحکومت کے لیے موزوں انتخاب ہے۔
نوٹ: وڈھ 2023 Census کے وقت ضلع خضدار کا حصہ تھا اور 2026 میں الگ ضلع بنایا گیا۔ اس لیے 2023 کی مجموعی آبادی اور رقبے کے حساب میں وڈھ کا علاقہ اور آبادی پہلے ہی ضلع خضدار کے اعداد میں شامل ہیں۔
● 4۔ صوبہ کوئٹہ (مجوزہ)
موجودہ ڈویژن: کوئٹہ ڈویژن + پشین ڈویژن
اضلاع: مشرقی کوئٹہ، مغربی کوئٹہ، مستونگ، پشین، برشور، قلعہ عبداللہ، چمن
مجوزہ دارالحکومت: کوئٹہ
آبادی 2023: تقریباً 45.72 لاکھ
رقبہ: 17,867 مربع کلومیٹر
آبادی کی کثافت: تقریباً 256 افراد فی مربع کلومیٹر
زبانیں اور ثقافت : اس خطے میں پشتو بولنے والی آبادی نمایاں ہے، جبکہ کوئٹہ ایک کثیراللسانی اور کثیرالثقافتی شہری مرکز ہے، جہاں پشتون، بلوچ، براہوی، ہزارہ، اردو بولنے والی اور دیگر برادریاں آباد ہیں۔
نمایاں قبائل و برادریاں: اچکزئی، ترین، کاکڑ، کاسی اور دیگر پشتون قبائل و برادریاں، جبکہ کوئٹہ اور مستونگ میں بلوچ، براہوی، ہزارہ اور دیگر مقامی و شہری برادریاں بھی موجود ہیں۔
صوبہ تجویز کرنے کی وجوہات :
کوئٹہ اور پشین کے دونوں مکمل ڈویژنوں کو ایک صوبائی اکائی میں رکھنے سے شمال مغربی بلوچستان کا باہم مربوط خطہ ایک ساتھ رہتا ہے اور کسی موجودہ ڈویژن کو تقسیم نہیں کرنا پڑتا۔
کوئٹہ پہلے ہی اس خطے کا سب سے بڑا انتظامی، تعلیمی، طبی اور تجارتی مرکز ہے اور صوبائی سطح کا بنیادی انفراسٹرکچر یہاں موجود ہے، اس لیے اسے مجوزہ دارالحکومت برقرار رکھنا سب سے موزوں انتخاب ہے۔
نوٹ: مشرقی و مغربی کوئٹہ اور برشور 2023 Census کے بعد موجودہ انتظامی شکل میں آئے، اس لیے 2023 کے اعداد سابقہ اضلاع کے مجموعی جغرافیے کو موجودہ حدود کے مطابق شمار کرکے مرتب کیے گئے ہیں۔
● 5۔ صوبہ سیوی۔نصیرآباد (مجوزہ)
موجودہ ڈویژن: سیوی ڈویژن + نصیرآباد ڈویژن + کوہِ سلیمان ڈویژن
اضلاع: سیوی، کچھی، جنوبی ڈیرہ بگٹی، نصیرآباد، جعفرآباد، جھل مگسی، صحبت پور، اوستہ محمد، کوہلو، بارکھان، شمالی ڈیرہ بگٹی
مجوزہ دارالحکومت: سیوی
آبادی 2023: تقریباً 30.94 لاکھ
رقبہ: 43,534 مربع کلومیٹر
آبادی کی کثافت: تقریباً 71 افراد فی مربع کلومیٹر
زبانیں اور ثقافت : اس خطے میں بلوچ، براہوی، سندھی، سرائیکی اور دیگر مقامی آبادیاں موجود ہیں۔ کوہلو اور ڈیرہ بگٹی کے علاقوں میں بلوچ قبائلی آبادی نمایاں ہے، جبکہ بارکھان میں کھیتران اور دیگر مقامی برادریاں، اور نصیرآباد، جعفرآباد، صحبت پور اور اوستہ محمد کے میدانی علاقوں میں سندھی اور سرائیکی لسانی و ثقافتی اثر نمایاں ہے۔
نمایاں قبائل و برادریاں: مری، بگٹی، کھیتران، مگسی، جمالی، ڈومکی، عمرانی، رند، کھوسہ اور دیگر بلوچ و مقامی قبائل و برادریاں۔
صوبہ تجویز کرنے کی وجوہات :
یہ بلوچستان کے مشرقی اور جنوب مشرقی علاقوں کی ایک بڑی مگر جغرافیائی طور پر مربوط اکائی بن سکتی ہے۔ نصیرآباد اور جعفرآباد زرعی پیداوار کے اہم مراکز ہیں، جبکہ ڈیرہ بگٹی قدرتی گیس اور معدنی وسائل، اور کوہلو و بارکھان لائیو اسٹاک اور دیگر قدرتی وسائل کے حوالے سے اہم ہیں۔
سیوی پہاڑی اور میدانی بلوچستان کے درمیان ایک قدرتی رابطہ اور نسبتاً متوازن مقام رکھتا ہے، اس لیے اسے مجوزہ صوبائی دارالحکومت رکھنا مناسب ہے۔ اس ترتیب میں تینوں موجودہ ڈویژن مکمل حالت میں رہتے ہیں اور کسی ضلع یا ڈویژن کو تقسیم نہیں کرنا پڑتا۔
نوٹ: شمالی اور جنوبی ڈیرہ بگٹی 2023 Census کے بعد الگ اضلاع کی موجودہ انتظامی شکل میں آئے، اس لیے 2023 کی مجموعی آبادی اور رقبے کے حساب میں سابق ضلع ڈیرہ بگٹی کے مکمل جغرافیے کے اعداد شامل کیے گئے ہیں۔
● 6۔ صوبہ ژوب۔لورالائی (مجوزہ)
موجودہ ڈویژن: ژوب ڈویژن + لورالائی ڈویژن
اضلاع: ژوب، قلعہ سیف اللہ، شیرانی، لورالائی، دکی، موسیٰ خیل، زیارت، ہرنائی
مجوزہ دارالحکومت: لورالائی
آبادی 2023: تقریباً 19.04 لاکھ
رقبہ: 46,667 مربع کلومیٹر
آبادی کی کثافت: تقریباً 41 افراد فی مربع کلومیٹر
زبانیں اور ثقافت : اس خطے میں پشتو بولنے والی آبادی نمایاں ہے، جبکہ مختلف اضلاع میں مقامی لسانی، ثقافتی اور قبائلی تنوع بھی موجود ہے۔
نمایاں قبائل و برادریاں: کاکڑ، مندوخیل، شیرانی، موسیٰ خیل، لونی، ناصر اور دیگر پشتون و مقامی قبائل و برادریاں۔
صوبہ تجویز کرنے کی وجوہات :
اگر نقشے پر دیکھیں تو ژوب اور لورالائی کے علاقے قدرتی طور پر ایک دوسرے سے جڑے ہوئے ہیں۔ یہاں کے لوگوں کا رہن سہن اور ماحول ایک جیسا ہے۔ اس نئے صوبے کو بنانے کا سب سے بڑا فائدہ یہ ہوگا کہ ژوب، شیرانی، قلعہ سیف اللہ اور موسیٰ خیل جیسے دور دراز علاقوں کے لوگوں کو اپنے چھوٹے چھوٹے سرکاری کاموں کے لیے اب کوئٹہ کے لمبے اور تھکا دینے والے سفر نہیں کرنے پڑیں گے۔
لورالائی کو دارالحکومت اس لیے تجویز کیا گیا ہے کیونکہ یہ ان تمام اضلاع کے بالکل بیچ میں پڑتا ہے۔ یہاں سے ہر ضلع کا راستہ آسان ہے اور تمام شہروں کے لوگوں کو صوبائی مرکز تک پہنچنے میں برابر سہولت رہے گی۔ اس طرح اس پورے علاقے کی پشتون آبادی کا اپس کا سماجی اور بھائی چارے کا رشتہ بھی ایک ہی صوبے کے اندر محفوظ رہے گا۔
سب سے اچھی بات یہ ہے کہ اس منصوبے میں موجودہ ژوب اور لورالائی ڈویژن کے کسی ایک بھی ضلع یا علاقے کو توڑا نہیں گیا، بلکہ دونوں ڈویژنوں کو جیسا ہے ویسا ہی ملا کر ایک نیا صوبہ بنا دیا گیا ہے۔
🔘 قارئین کرام! ان چھ مجوزہ صوبوں کی تشکیل میں رقبے، آبادی، سفری سہولت، موجودہ انتظامی ڈھانچے، معاشی خودمختاری، شہری استعداد اور جغرافیائی رابطوں کو بنیادی کسوٹی بنایا گیا ہے۔
اگرچہ زبان، ثقافت اور سرداری و قبائلی نظام کو اس تقسیم کا معیار نہیں بنایا گیا، تاہم انہیں معاشرے کی ایک بنیادی حقیقت کے طور پر مدنظر ضرور رکھا گیا ہے تاکہ تاریخی طور پر جڑے ہوئے علاقوں کو بلاجواز تقسیم کر کے کوئی نیا تنازع پیدا نہ ہو۔
اسی لیے، جہاں تک ممکن ہو سکا، تاریخی اور انتظامی تسلسل کو برقرار رکھا گیا ہے:
مکران کے اضلاع کو یکجا رکھا گیا ہے۔
رخشان کو اس کی موجودہ انتظامی ہیئت میں قائم رکھا گیا ہے۔
قلات کے تاریخی وجود کو حتی الامکان محفوظ بنایا گیا ہے۔
کوئٹہ اور شمال مشرقی بلوچستان کی انتظامی تشکیلِ نو کرتے وقت جغرافیائی اتصال، فاصلوں، باہمی معاشی روابط اور مرکزی شہروں کی انتظامی صلاحیت کو پیشِ نظر رکھا گیا ہے۔
اس مضمون میں قبائلی نظام کا ذکر کسی قبائلی سوچ کی پذیرائی کے لیے نہیں، بلکہ بلوچستان کی تاریخ، جغرافیے اور سماجی واقعیت کو تسلیم کرنے کے لیے کیا گیا ہے، کیونکہ ان حقائق کو نظر انداز کر کے کوئی بھی انتظامی اصلاحات کامیاب نہیں ہو سکتیں۔
یہ کوئی حرفِ آخر یا حتمی نقشہ نہیں ہے۔ مقامی مشاورت اور مزید تحقیق کی روشنی میں ان حدود میں بہتری لائی جا سکتی ہے۔ اس پوری کاوش کا اصل اور واحد محور صرف اور صرف بہتر حکمرانی (Good Governance) کا قیام ہے۔
🔘 بلوچستان میں نئے صوبوں کے مطالبے کی تاریخ
بلوچستان میں نئے صوبے بنانے کی بات کوئی نئی نہیں ہے۔ 1947 میں جب پاکستان بنا، تو موجودہ بلوچستان اس شکل میں نہیں تھا۔ اس وقت انگریزوں کا زیرِ انتظام علاقہ الگ تھا، جبکہ قلات، مکران، لسبیلہ اور خاران کی ریاستوں کی اپنی الگ حیثیت تھی۔ پھر مختلف سیاسی مراحل سے گزرتے ہوئے اور 1970 میں ‘ون یونٹ’ ختم ہونے کے بعد بلوچستان کو وہ صوبائی شکل ملی جو ہم آج دیکھتے ہیں۔ یعنی موجودہ بلوچستان بھی ماضی میں کی گئی ایک انتظامی تبدیلی کا ہی نتیجہ ہے۔
1970 کے بعد سے شمالی بلوچستان کے پشتون علاقوں کے لیے الگ انتظامی شناخت کا مطالبہ بار بار سامنے آتا رہا۔ یہ آواز سب سے پہلے خان عبدالصمد خان اچکزئی نے اٹھائی اور بعد میں پشتونخوا ملی عوامی پارٹی اس مطالبے کو آگے بڑھاتی رہی:
دسمبر 2006: محمود خان اچکزئی نے پشتون علاقوں کو ایک الگ انتظامی یونٹ بنانے کی تجویز دی اور پختونخوا، پشتونستان یا افغانیہ جیسے نام سامنے رکھے۔
اکتوبر 2010: بلوچستان پشتون موومنٹ کے سربراہ ڈاکٹر میر حاجی ترین نے پشتو بولنے والے علاقوں پر مشتمل الگ صوبے کا مطالبہ کیا اور کہا کہ یہ علاقہ اپنے وسائل سے اپنے اخراجات خود اٹھا سکتا ہے۔
2016: خان عبدالصمد خان اچکزئی کی برسی کے موقع پر محمود خان اچکزئی نے ایک بار پھر پشتون آبادی کے لیے “افغانیہ صوبے” کا تصور پیش کیا۔
یوں دیکھا جائے تو بلوچستان میں سب سے مسلسل اور پرانا مطالبہ شمالی پشتون علاقوں کو الگ صوبہ یا انتظامی یونٹ بنانے کا رہا ہے۔
جنوبی بلوچستان اور حکومت کا اپنا تجربہ
اس بحث کا دوسرا پہلو جنوبی بلوچستان کا ہے۔ 2020 میں وفاقی حکومت نے واشک، خاران، پنجگور، کیچ، لسبیلہ، آواران، خضدار اور گوادر جیسے اضلاع کی ترقی کے لیے ایک خاص منصوبے کا اعلان کیا۔ وزیراعظم عمران خان نے تربت جا کر اس ترقیاتی پیکیج کا افتتاح کیا۔ اگرچہ یہ کوئی نیا صوبہ بنانے کا اعلان نہیں تھا، لیکن اس سے یہ بات ضرور ثابت ہوئی کہ حکومت بھی جنوبی بلوچستان کو مختلف مسائل اور ضرورتوں والا ایک الگ علاقہ تسلیم کرتی ہے۔
اس کے بعد جولائی 2026 میں خود بلوچستان حکومت نے انتظامی سطح پر بڑا قدم اٹھایا۔ کوئٹہ کو دو حصوں (ایسٹ کوئٹہ اور ویسٹ کوئٹہ) میں تقسیم کیا گیا، نئے اضلاع اور ڈویژن بنائے گئے، جس کے بعد صوبے میں ڈویژنوں کی تعداد 11 اور اضلاع 41 ہو گئے۔
بلوچستان پاکستان کے تقریباً 44 فیصد رقبے پر پھیلا ہوا ہے۔ گوادر، ریکوڈک، سونے اور تانبے کی کانیں، اور سمندری تجارت آنے والے وقت میں اس خطے کو بہت بڑا معاشی مرکز بنا دیں گی۔ اسی لیے بلوچستان کے نظام کا فیصلہ صرف آج کو دیکھ کر نہیں، بلکہ اگلے 50 یا 100 سال کے مستقبل اور آنے والی نسلوں کی ضروریات کو ذہن میں رکھ کر کرنا ہوگا۔
(جاری ہے، باقی اگلی قسط میں)
No comments yet.