کیا آزاد کشمیر کو پاکستان کا صوبہ بنا دینا چاہیے؟
▫️جسے آج ہم آزاد کشمیر کہتے ہیں، اس کا بیشتر علاقہ کبھی وادیٔ کشمیر کا حصہ نہیں رہا۔ میرپور، بھمبر اور کوٹلی کا جغرافیائی و ثقافتی رشتہ جہلم، پوٹھوہار اور جموں کے پہاڑی علاقوں سے تھا۔ پونچھ اور سدھنوتی پیر پنجال کے مغربی حصے میں تھے، جبکہ نیلم کا بالائی خطہ ہزارہ، کاغان اور شمالی پہاڑی علاقوں سے جغرافیائی طور پر زیادہ قریب اور منسلک تھا۔
▫️آج 79 سال بعد ہم اتنا سوال تو پوچھ ہی سکتے ہیں کہ آزاد کشمیر کی عبوری حیثیت کو 52 سال ہو چکے ہیں، آخر یہ کب تک عبوری رہے گی؟ ہر عبوری مدت کی کوئی نہ کوئی حد تو ہونی چاہیے۔
▫️آزاد کشمیر یا گلگت بلتستان کو مکمل صوبہ بنانے کے بجائے عارضی صوبائی درجہ دیا جا سکتا ہے، تاکہ انہیں قومی اسمبلی، سینیٹ اور NFC جیسے حقوق مل جائیں، مگر ساتھ یہ شرط رہے کہ کشمیر کا آخری فیصلہ بعد میں ہوگا۔
▫️حیرت ہے کہ آزاد کشمیر کے شہری کو تعلیم، صحت، پولیسنگ اور دیگر شعبوں میں فی کس سرکاری خرچ پنجاب اور بعض دیگر صوبوں کے مقابلے میں زیادہ مل رہا ہے، لیکن اس کے باوجود وہ پاکستان کے وفاقی آئینی نظام میں براہِ راست نمائندگی سے محروم ہے۔
▫️یہ تحریر بتاتی ہے کہ اگر آزاد کشمیر کے موجودہ انتظامی ڈھانچے کو تبدیل کر کے اسے پاکستان کا نیا صوبہ بنایا جائے تو اس کے معاشی اور سیاسی اثرات کیا ہوں گے۔
🔳 موضوع: کیا پاکستان میں نئے صوبوں کا بننا ضروری ہے؟ | قسط 9
عنوان: کیا آزاد کشمیر کو پاکستان کا صوبہ بنا دینا چاہیے؟
🔺پاکستان میں نئے صوبے بنانے کی بحث اور آزاد کشمیر
نئے صوبے بنائے جانے یا نہ بنائے جانے کے موضوع پر ہمارا تھنک ٹینک اب تک 8 اقساط شائع کر چکا ہے، یہ اس سلسلے کی نویں قسط ہے۔
5 نومبر 1973 کو سابق وزیراعظم ذوالفقار علی بھٹو نے مظفرآباد کے نیلم اسٹیڈیم میں ایک بڑے جلسۂ عام سے خطاب کرتے ہوئے کہا تھا کہ اگر آزاد کشمیر کے لوگ چاہیں تو انہیں پاکستان جیسا پارلیمانی نظام دیا جا سکتا ہے، آزاد کشمیر کو صوبائی نوعیت کی حیثیت دی جا سکتی ہے اور ریاست جموں و کشمیر کو پاکستان کی وفاقی مقننہ میں نمائندگی بھی مل سکتی ہے۔ سب سے اہم بات یہ تھی کہ بھٹو اسے مسئلۂ کشمیر کے حتمی فیصلے تک عبوری انتظام کے طور پر پیش کر رہے تھے، مستقل الحاق کے طور پر نہیں۔ اس کے ساتھ انہوں نے حقِ خودارادیت کے بارے میں پاکستان کے مؤقف کو بھی برقرار رکھنے کی بات کی۔ [حوالہ: Dawn Archives، 6 نومبر 1973]
بعد میں Institute of Policy Studies کی آزاد کشمیر کی آئینی تاریخ پر ایک تحقیق میں بھی لکھا گیا ہے کہ ذوالفقار علی بھٹو آزاد کشمیر کو پاکستان کے ساتھ زیادہ قریب آئینی طور پر جوڑنا چاہتے تھے اور انہوں نے آزاد کشمیر کے عوام کے سامنے پاکستان کا پانچواں صوبہ بننے کا آپشن بھی رکھا تھا۔
[حوالہ: ارشاد محمود، “Status of AJK in Political Milieu”، Institute of Policy Studies (IPS)، اسلام آباد، 2006]
لیکن آزاد کشمیر کی سیاسی قیادت کے ایک حصے، خصوصاً سردار محمد عبدالقیوم خان اور ان کی مسلم کانفرنس نے اس سوچ کی مخالفت کی۔ دوسرے قوم پرست اور کشمیری حلقوں میں بھی یہ خدشہ موجود تھا کہ آزاد کشمیر کو پاکستان کا صوبہ بنانے سے مسئلۂ کشمیر، حقِ خودارادیت اور رائے شماری کا مؤقف کمزور ہوگا اور بھارت کو بھی اپنے زیرِ انتظام کشمیر کو مستقل طور پر ضم کرنے کا جواز مل سکتا ہے۔
چنانچہ مکمل صوبہ بنانے کے بجائے ایک درمیانی راستہ نکالا گیا۔ کافی سیاسی بحث اور مذاکرات کے بعد 10 جون 1974 کو اسلام آباد میں بھٹو، آزاد کشمیر کے صدر سردار عبدالقیوم خان اور آزاد کشمیر کی سیاسی جماعتوں کے رہنماؤں کے درمیان نئے آئینی بندوبست پر اتفاق ہوا۔ اسی اتفاق کے نتیجے میں 1974 کا Azad Jammu and Kashmir Interim Constitution Act سامنے آیا، جس نے آزاد کشمیر میں پارلیمانی نظام قائم کیا اور پاکستان کے ساتھ تعلق کے لیے کشمیر کونسل کا نظام تشکیل دیا۔
1974 کے آئین کے دیباچے میں لکھا گیا کہ جموں و کشمیر کی حتمی حیثیت ابھی طے ہونا باقی ہے، اور آزاد کشمیر کے بہتر انتظام کے لیے یہ بندوبست “until such time as the status of Jammu and Kashmir is determined” کیا جا رہا ہے۔ [حوالہ: AJ&K Interim Constitution, 1974، سرکاری متن]
لیکن آج 2026 میں اس عبوری بندوبست کو 52 سال ہو چکے ہیں۔ نہ مسئلۂ کشمیر حل ہوا، نہ یہ عبوری حیثیت ختم ہوئی، نہ آزاد کشمیر پاکستان کا باقاعدہ صوبہ بنا اور نہ ہی اسے قومی اسمبلی اور سینیٹ میں صوبوں جیسی مکمل نمائندگی مل سکی۔
1970ء کی دہائی میں یہ خدشہ تھا کہ اگر پاکستان آزاد کشمیر کو اپنا صوبہ بنا لیتا ہے تو بھارت بھی اپنے زیرِ انتظام کشمیر کو اپنے ملک میں شامل کرنے کا جواز بنا سکتا ہے۔ لیکن 5 اگست 2019 کو بھارت نے پاکستان کے کسی ایسے فیصلے کے بغیر ہی جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کر دی، اور بعد میں اسے جموں و کشمیر اور لداخ کے نام سے دو الگ وفاقی علاقوں میں تقسیم کر دیا۔
اب 52 سال بعد پاکستان کے سامنے ایک سیدھا سوال ہے۔ اگر وہ بنیادی خدشہ، جس کی وجہ سے آزاد کشمیر کو عبوری حیثیت میں رکھا گیا تھا، بدلتے ہوئے زمینی حالات میں اپنی پرانی شکل میں باقی نہیں رہا، تو پھر ہماری آئندہ پالیسی کیا ہونی چاہیے؟
▫️کیا آزاد کشمیر مزید کئی دہائیاں اسی عبوری حیثیت میں رہے گا؟
▫️کیا اسے پاکستان کی قومی اسمبلی اور سینیٹ میں باقاعدہ نمائندگی دی جائے گی؟
▫️کیا اسے کسی واضح اور مستقل آئینی حیثیت کی طرف لے جایا جائے گا، یا موجودہ عبوری نظام ہی چلتا رہے گا؟
▫️اور اگر یہی نظام برقرار رکھنا ہے تو پھر اس کی مدت اور آخری منزل کیا ہے؟
کیونکہ ایک طرف آزاد کشمیر کی حیثیت آج بھی عبوری ہے اور دوسری طرف اس کا انتظام، ترقیاتی اخراجات اور مالی ضروریات بڑی حد تک پاکستان کے ساتھ جڑی ہوئی ہیں۔ اس لیے اب صرف پرانی دلیل دہرانا کافی نہیں۔ 52 سال بعد اب ہماری حکومت کو یہ بتانا لازم ہو گیا ہے کہ آگے کا راستہ کیا ہے؟
اس سوال کا ایک اہم پہلو مالی بھی ہے۔ آزاد کشمیر کا موجودہ نظام پاکستان کے مالی تعاون کے بغیر آسانی سے نہیں چل پا رہا، جبکہ پاکستان خود بھی شدید معاشی دباؤ کا سامنا کر رہا ہے۔ ایسے میں یہ دیکھنا ضروری ہے کہ کشمیر کو دی جانے والی موجودہ مالی امداد کب تک اسی شکل میں جاری رہ سکتی ہے، اس کے بدلے آزاد کشمیر کی اپنی مالی ذمہ داری کیا ہے، اور مستقبل میں پاکستان اور آزاد کشمیر کے درمیان ایک زیادہ واضح، پائیدار اور جواب دہ مالی تعلق کس طرح قائم کیا جائے۔
2025–26 کے بجٹ میں آزاد کشمیر کو Rs149 ارب Federal Variable Grant دی گئی، جبکہ Rs49 ارب ترقیاتی بجٹ کے لیے رکھے گئے۔ 2026–27 میں بھی پاکستان کی طرف سے یہ رقم جاری رہی، جس میں Rs146 ارب Federal Variable Grant اور Rs36 ارب ترقیاتی بجٹ شامل تھا۔ یعنی صرف ان دو مالی سالوں کے لیے 2025–26 میں تقریباً Rs198 ارب اور 2026–27 میں تقریباً Rs182 ارب پاکستان کی طرف سے آزاد کشمیر کے لیے رکھے گئے۔
مجھے سب سے زیادہ حیرت اس وقت ہوئی جب میں نے اس گرانٹ کو آزاد کشمیر کی آبادی پر تقسیم کر کے دیکھا۔ صحت، تعلیم اور پولیس جیسے کئی بنیادی شعبوں میں آزاد کشمیر کے ایک شہری پر سرکاری خرچ پنجاب جیسے بڑے صوبوں اور دیگر صوبوں کے شہریوں کے مقابلے میں کہیں زیادہ نکلتا ہے۔
یعنی ایک طرف آزاد کشمیر کا موجودہ مالی نظام بڑی حد تک پاکستان سے آنے والی وفاقی رقوم پر چل رہا ہے، اور دوسری طرف وہاں بعض شعبوں میں فی کس سرکاری خرچ پاکستان کے بڑے صوبوں سے بھی زیادہ ہے۔ سوال یہ نہیں کہ آزاد کشمیر کے شہری کو زیادہ سہولت کیوں مل رہی ہے، سہولت ضرور ملنی چاہیے۔ اصل سوال یہ ہے کہ جب پاکستان اتنا بڑا مالی بوجھ اٹھا رہا ہے تو پھر آزاد کشمیر کے شہری کو پاکستان کے وفاقی آئینی نظام میں مکمل نمائندگی اور جواب دہی کیوں حاصل نہیں؟
اب اصل سوال یہ ہے کہ یہ سلسلہ کب تک اور کس مقصد کے تحت چلتا رہے گا؟ پاکستان خود مہنگائی، قرضوں اور مالی دباؤ میں ہے۔ ایسے میں یہ پوچھنا ہرگز غلط نہیں کہا جا سکتا کہ جو پیسہ آزاد کشمیر پر خرچ ہو رہا ہے، وہ کس پالیسی اور کس مقصد کے تحت ہو رہا ہے؟
خاص طور پر اب جبکہ مسلم لیگ ن آزاد کشمیر میں حکومت بنانے کی پوزیشن میں ہے اور مزید سہولتوں اور ترقیاتی کاموں کی بات ہو رہی ہے، تو سیدھا سا سوال یہ ہے کہ اس سب کے لیے پیسہ کہاں سے آئے گا؟ اور اگر یہ پیسہ پاکستان سے آنا ہے تو پھر پاکستان کے اپنے لوگوں کی ضروریات اور آزاد کشمیر کے خرچ میں توازن کیسے رکھا جائے گا؟
اگر آزاد کشمیر کا موجودہ تعلق پاکستان کے ساتھ ہی برقرار رہنا ہے، تو پھر یہ بھی واضح ہونا چاہیے کہ اس کی آئینی حیثیت کیا ہوگی، وفاق میں اسے کتنی نمائندگی ملے گی، وہ اپنی آمدنی کیسے بڑھائے گا اور پاکستان اس پر کتنا خرچ کرے گا۔ یہ سب ایک واضح منصوبے کے تحت طے ہونا چاہیے، ورنہ 52 سال بعد بھی سوال یہی رہے گا کہ ہم آخر جا کہاں رہے ہیں؟
آزاد کشمیر کے پاس اپنی حکومت، اسمبلی، سپریم کورٹ، ہائی کورٹ، Board of Revenue، Inland Revenue Department اور اپنا ٹیکس نظام موجود ہے، لیکن مالی طور پر وہ مکمل خودمختار نہیں۔ 2018 کے بعد ٹیکس کے کئی اختیارات آزاد کشمیر حکومت کو منتقل ہوئے، مگر آج بھی اسے پاکستان کے وفاقی ٹیکسوں میں سے Variable Grant ملتی ہے اور ترقیاتی اخراجات میں بھی وفاقی مدد شامل رہتی ہے۔
آزاد کشمیر کے قوم پرست اور عوامی حلقوں میں ایک مؤقف بار بار سامنے آتا ہے کہ پاکستان آزاد کشمیر کو سالانہ جو رقم دیتا ہے، وہ ہمیں کوئی “بھیک” نہیں دیتا، بلکہ پانی، پن بجلی، ٹیکس اور دوسرے وسائل میں آزاد کشمیر کا اپنا حصہ بنتا ہے۔ ان حلقوں کا دعویٰ ہے کہ آزاد کشمیر سے پاکستان کو ملنے والا فائدہ اس مالی مدد سے کم نہیں جو واپس دی جاتی ہے۔
لیکن دستیاب سرکاری اعداد ابھی اس دعوے کا مکمل حساب ثابت نہیں کرتے۔ اس لیے اصل ضرورت ایک صاف اور audited حساب کی ہے کہ آزاد کشمیر پاکستان کو مجموعی طور پر کتنا دیتا ہے اور پاکستان اسے مجموعی طور پر کتنا دیتا ہے۔ جب تک یہ حساب سامنے نہیں آتا، دونوں طرف کے دعوے شکوک کا ماحول بنائے رکھیں گے۔
اس وقت ملک میں جب صوبوں کے رقبے، سرحدوں اور انتظامی ڈھانچے کی نئی ترتیب پر بحث ہو رہی ہے، تو یہی مناسب وقت ہے کہ آزاد کشمیر کی 52 سالہ عبوری حیثیت پر بھی واضح فیصلہ کیا جائے۔
آج اگر آئینی ترمیم کے ذریعے آزاد جموں و کشمیر کو پاکستان کا باقاعدہ صوبہ بنایا جائے تو موجودہ نظام مکمل طور پر ختم کرنے کے بجائے صوبائی شکل اختیار کر سکتا ہے۔ وزیراعظم کی جگہ وزیراعلیٰ، صدر کی جگہ گورنر اور موجودہ قانون ساز اسمبلی صوبائی اسمبلی بن سکتی ہے۔ اس صورت میں عام کشمیری کو یہ بڑے فوائد حاصل ہو سکتے ہیں:
1- قومی اسمبلی اور سینیٹ میں نمائندگی
آزاد کشمیر کے لوگ پہلی مرتبہ پاکستان کی قومی اسمبلی اور سینیٹ میں براہِ راست آئینی نمائندگی حاصل کر سکیں گے اور وفاقی حکومت، قانون سازی اور قومی فیصلوں میں ان کا حصہ ہوگا۔
2- پاکستان کی قومی سیاست میں مکمل شرکت
کشمیری ووٹر صرف آزاد کشمیر کی مقامی سیاست تک محدود نہیں رہے گا بلکہ پاکستان کی حکومت بنانے، وزیراعظم کے انتخاب اور قومی پالیسیوں پر اثر انداز ہونے کا آئینی حق بھی حاصل کرے گا۔
3- NFC اور وفاقی مالیاتی نظام میں باقاعدہ حصہ
خصوصی گرانٹس اور عارضی مالی بندوبست کے بجائے آزاد کشمیر کا وفاق کے ساتھ مالی تعلق دوسرے صوبوں کی طرح آئینی اور مستقل بنیاد پر طے کیا جا سکے گا۔
4- پن بجلی اور قدرتی وسائل کے حقوق واضح ہوں گے
دریاؤں، پن بجلی، جنگلات، معدنیات اور دوسرے قدرتی وسائل سے حاصل ہونے والی آمدن میں آزاد کشمیر کے حصے اور حقوق کو آئینی اور مالی اصولوں کے تحت زیادہ واضح طریقے سے طے کیا جا سکے گا۔
5- وفاقی ترقیاتی منصوبوں اور اداروں میں واضح حصہ
سڑکوں، موٹرویز، ہسپتالوں، یونیورسٹیوں، بجلی، پانی اور دوسرے بڑے منصوبوں کے ساتھ وفاقی ملازمتوں اور قومی اداروں میں آزاد کشمیر کا حصہ زیادہ واضح آئینی بنیاد پر مقرر کیا جا سکے گا۔
6- اپنی صوبائی حکومت بھی، وفاقی حقوق بھی
آزاد کشمیر کی اپنی حکومت، وزیراعلیٰ، گورنر، صوبائی اسمبلی، ہائی کورٹ اور انتظامیہ موجود رہ سکتی ہے، لیکن اس کے ساتھ قومی اسمبلی، سینیٹ اور وفاقی مالیاتی نظام میں بھی مکمل حصہ مل جائے گا۔
7- 52 سالہ عبوری حیثیت کا خاتمہ
سب سے بڑا فائدہ یہ ہوگا کہ 1974 سے چلی آنے والی غیر واضح عبوری حیثیت ختم ہو کر آزاد کشمیر کی آئینی شناخت، وفاق سے تعلق، مالی حقوق اور سیاسی نمائندگی واضح طور پر پاکستان کے آئین میں درج ہو جائیں گے۔
ان سات نکات سے یہ واضح ضرور ہو جاتا ہے کہ صوبائی حیثیت آزاد کشمیر کے لوگوں کو سیاسی، مالی اور آئینی طور پر زیادہ واضح حقوق دے سکتی ہے۔ آزاد کشمیر کے معاملات کو باریک بینی سے سمجھنے کے لیے اس کے نقشے اور جغرافیائی شکل کو سمجھنا بھی ضروری ہے، کیونکہ اسی سے خطے کے امن، ترقی اور مستقبل کے بارے میں بہتر فیصلے کیے جا سکتے ہیں۔
اگر آزاد کشمیر کے نقشے کو ہم غور سے دیکھیں تو آزاد کشمیر ایک لمبی، تنگ اور کمان نما پٹی کی شکل میں بھمبر سے وادیٔ نیلم تک پھیلا ہوا نظر آتا ہے۔ اس کی شکل ایک دلچسپ کہانی سناتی ہے۔ یہ جنوب میں گجرات کے قریب بھمبر سے شروع ہوتا ہے، میرپور اور کوٹلی سے گزرتا ہوا پونچھ کی طرف مڑتا ہے، پھر مظفرآباد پہنچتا ہے اور وہاں سے وادیٔ نیلم کے ساتھ ساتھ بہت دور شمال مشرق تک چلا جاتا ہے۔ یوں یہ کوئی گول یا چوکور خطہ نہیں بلکہ پہاڑوں اور وادیوں کے درمیان پھیلی ہوئی ایک لمبی، پتلی اور جگہ جگہ مڑتی ہوئی زمینی پٹی ہے۔ ایک سرے سے دوسرے سرے تک اس کی لمبائی تقریباً 400 کلومیٹر بتائی جاتی ہے، جبکہ چوڑائی کہیں صرف چند درجن کلومیٹر رہ جاتی ہے اور کہیں نسبتاً زیادہ ہو جاتی ہے۔ کل رقبہ 13,297 مربع کلومیٹر ہے، جسے آج 3 ڈویژنز اور 10 اضلاع میں تقسیم کیا گیا ہے اور 2023 کے اندازوں کے مطابق یہاں تقریباً 44.6 لاکھ لوگ آباد ہیں۔ نقشہ سامنے رکھیں تو ایک اور دلچسپ بات فوراً ذہن میں آتی ہے: جس لمبی پٹی کو آج ہم “آزاد کشمیر” کہتے ہیں، کیا تاریخی اور جغرافیائی طور پر یہ سارا علاقہ واقعی وادیٔ کشمیر تھا؟
لیکن یہاں ایک تاریخی فرق سمجھنا ضروری ہے۔ موجودہ آزاد کشمیر کا بیشتر علاقہ جغرافیائی طور پر وادیٔ کشمیر کا حصہ نہیں تھا۔ اصل وادیٔ کشمیر سری نگر کے گرد پھیلی ہوئی وہ پیالہ نما وادی ہے جو آج بھارت کے زیرِ انتظام ہے۔ موجودہ آزاد کشمیر کے میرپور، بھمبر اور کوٹلی کے علاقے جموں اور پوٹھوہار سے جڑے ہوئے تھے، جبکہ پونچھ پیر پنجال کے مغربی حصے میں واقع تھا۔ البتہ 1947 میں یہ سب علاقے ریاست جموں و کشمیر کا حصہ تھے، اور اسی تاریخی نسبت سے آج انہیں آزاد جموں و کشمیر کہا جاتا ہے۔
اس فرق کو اسلام آباد کی ایک سادہ مثال سے سمجھیں۔ اسلام آباد کا قانونی رقبہ آج بھی تقریباً 906 مربع کلومیٹر ہے اور یہی اصل Islamabad Capital Territory ہے۔ لیکن اسلام آباد شہر پھیلتے پھیلتے اپنی قانونی حدود سے بہت آگے نکل چکا ہے۔ آج روات، چکری اور نئے اسلام آباد انٹرنیشنل ایئرپورٹ کے آس پاس بلکہ اس سے بھی آگے تک ہاؤسنگ سوسائٹیاں، کاروبار اور نئی آبادیاں اپنے نام اور پتے کے ساتھ “اسلام آباد” استعمال کر رہی ہیں۔ خود Islamabad International Airport کو ہی دیکھ لیجیے: نام اس کا اسلام آباد ہے، پورا ملک اسے اسلام آباد ایئرپورٹ کہتا ہے، لیکن جس زمین پر یہ بنا ہوا ہے وہ Islamabad Capital Territory کا حصہ نہیں بلکہ فتح جنگ اور راولپنڈی کی طرف پنجاب کی حدود میں واقع ہے۔ (Dawn) تو کیا صرف نام اسلام آباد رکھ دینے سے وہ زمین بھی اسلام آباد بن گئی؟ ہرگز نہیں۔ اسی طرح روات، چکری یا فتح جنگ کی طرف کسی علاقے کو کاروباری یا عام بول چال میں اسلام آباد کہنے سے اس کی اصل ضلعی اور صوبائی حیثیت ختم نہیں ہو جاتی۔ ہاں، اسلام آباد اور اس کے اردگرد پھیلتی ہوئی اس پوری آبادی کو سہولت کے لیے “گریٹر اسلام آباد” کہا جا سکتا ہے، مگر اس سے اصل اسلام آباد کی قانونی حدود تبدیل نہیں ہوتیں۔ یہی فرق ذہن میں رکھیں تو کشمیر کے نام اور وادیٔ کشمیر کے اصل جغرافیے کو سمجھنا بھی بہت آسان ہو جاتا ہے۔
بالکل اسی طرح “کشمیر” کا نام بھی جغرافیائی وادیٔ کشمیر سے کہیں بڑی سیاسی اور تاریخی شناخت بن گیا۔ اس کا مطلب یہ نہیں کہ آج کے آزاد کشمیر کے لوگوں کی شناخت کو رد کر دیا جائے؛ بات صرف اتنی ہے کہ وادیٔ کشمیر اور ریاست جموں و کشمیر دو الگ جغرافیائی تصورات تھے۔ اس فرق کو سمجھے بغیر ہم آج کے مسئلے کا حل بھی درست طریقے سے نہیں سوچ سکتے۔
قارئین!
اس پوری بحث کا مقصد کسی تاریخی مؤقف کو رد کرنا یا کسی ایک فیصلے کو درست ثابت کرنا نہیں، بلکہ یہ پوچھنا ہے کہ 52 سال بعد بھی آزاد کشمیر کی آئینی اور سیاسی حیثیت اب تک کیوں واضح نہیں ہو سکی؟
اگر پاکستان کے ساتھ کشمیر کا مستقبل وابستہ ہے تو پھر اس کی نمائندگی، مالی حقوق، وسائل اور آئینی حیثیت کو ایک واضح اور قابلِ عمل فریم ورک میں طے کرنا ہوگا۔ اور اگر موجودہ عبوری حیثیت ہی برقرار رکھنی ہے تو پھر اس کی عبوری مدت کی آخری حد بھی عوام کے سامنے ہونی چاہیے۔
اس مسئلے کا ایک درمیانی راستہ یہ بھی ہو سکتا ہے کہ آزاد کشمیر کو فوری طور پر مکمل صوبہ بنانے کے بجائے عارضی صوبائی حیثیت دے دی جائے۔ یعنی مسئلہ کشمیر کے آخری فیصلے تک اس کی حیثیت عبوری ہی رہے، لیکن اس عبوری حیثیت کو واضح آئینی شکل دے دی جائے۔ اس کے لوگوں کو قومی اسمبلی اور سینیٹ میں نمائندگی، NFC میں حصہ اور دوسرے وفاقی حقوق مل جائیں۔ اس طرح پاکستان کا کشمیر پر مؤقف بھی برقرار رہ سکتا ہے اور آزاد کشمیر کے لوگ بھی ہمیشہ ایک غیر واضح عبوری بندوبست میں نہیں رہیں گے۔ سیدھی سی بات ہے: آخری فیصلہ جب ہونا ہے تب ہو، لیکن اس وقت تک لوگوں کے آئینی، سیاسی اور مالی حقوق کیوں رکے رہیں؟
میں نے گلگت بلتستان پر اپنی قسط میں بارہا یہ سوال اٹھایا ہے کہ جب گلگت بلتستان کی اسمبلی خود بار بار یہ کہہ چکی ہے کہ ہمیں پاکستان کا باقاعدہ آئینی حصہ بنایا جائے، تو پھر پاکستان کو آخر کیا چیز روک رہی ہے؟ وہاں تو کم از کم یہ بات واضح ہے کہ منتخب نمائندے کس سمت جانا چاہتے ہیں۔ کشمیر کا معاملہ اس سے مختلف ہے۔ وہاں حتمی فیصلہ لوگوں کی مرضی سے ہونا ہے۔ اگر کبھی ایسا مرحلہ آتا ہے تو پھر ریفرنڈم یا عوامی رائے ہی وہ راستہ ہے جس سے فیصلہ سامنے آ سکتا ہے۔
وقت آ گیا ہے کہ کشمیر کے مسئلے کو اب حقیقت پسندی اور زمینی حقائق کی روشنی میں دیکھا جاۓ۔ جذباتی بیانیوں اور 'کشمیر بنے گا پاکستان’ جیسے سلوگن کے سہارے 52 سال تو گزار دیے گئے، لیکن اب مزید زمینی حقائق سے آنکھیں چرانا ممکن نہیں رہا۔
بھارت تو اپنے حصے کا اقدام کر کے آگے نکل چکا، جبکہ ہم آج بھی نصف صدی پرانے بیانیے کا بوجھ اٹھائے بیٹھے ہیں۔ دنیا کی بدلتی ہوئی جیو پولیٹیکل صورتحال اور ملک کی انتظامی اصلاحات کا اب واحد تقاضا یہی ہے کہ جو ممکن ہے، اس حقیقت کو کھلے دل اور سنجیدگی سے تسلیم کیا جائے۔
محض نعروں سے اگر کوئی مسئلہ حل ہونا ہوتا تو 52 سال کا عرصہ کم نہ تھا۔ اب وقت آ گیا ہے کہ کشمیری عوام اور پاکستانی پالیسی ساز، دونوں الجھنوں سے نکل کر اس سچ کو قبول کریں کہ جو ہمارے ہاتھ میں ہے۔
(جاری ہے، باقی آئندہ قسط میں)
No comments yet.