تحریر: سید شایان
کل مطالعے کا دورانیہ: 0 منٹ 45 سیکنڈ (اب تک 19 قارئین نے یہ اردو مضمون پڑھا ہے )
[انگریزی ورژن کے اعداد و شمار الگ سے ریکارڈ کیے جا رہے ہیں]
ایران کی نیوکلیئر سائتس پر ہونے والے حالیہ حملوں کے بعد دنیا بھر میں یہ سوال گونج رہا ہے کہ کیا واقعی امریکہ نے ایران کے نیو کلئیر پروگرام کو مکمل طور پر تباہ کر دیا ہے؟
امریکہ کے اس اقدام پر، ان جوہری تنصیبات کی تباہی کی صورت میں جو تابکاری (Radiation) ایران اور آس پاس کے ممالک میں پھیلے گی، وہ اس خطے کی ہوا، پانی، خوراک اور سمندری حیات کو آلودہ و ناقابلِ استعمال کر دے گی۔ کسی نیوکلیئر سائٹ کو تباہ کرنے پر تابکاری پھیلنے سے جو تباہی آتی ہے، کیا عالمی قیادت کو اس کا ادراک ہے؟ (قسط 1)
لیکن نامعلوم کیوں، مجھے یقین ہے کہ امریکہ ایران کے جوہری مراکز تباہ کرنے میں ناکام رہا ہے۔ میرے اس یقین کی بنیاد دو وجوہات ہیں۔
پہلی یہ کہ انٹرنیشنل اٹامک انرجی ایجنسی (IAEA)، جو دنیا بھر میں نیوکلیئر سرگرمیوں کی نگرانی کرنے والا معتبر ادارہ ہے، اس نے کسی بھی ایسی “مکمل تباہی” کی تصدیق نہیں کی۔ اگر ایران کے تین بڑے نیوکلیئر مراکز نطنز، فردو اور بوشہر واقعی مکمل طور پر تباہ ہو چکے ہوتے، تو IAEA کے عالمی سینسرز اور رپورٹس میں اس کی نشاندہی ضرور ہوتی۔ ادارے کے ڈائریکٹر جنرل، رافائل گروسّی (Rafael Grossi)، نے تصدیق کی ہے کہ اگرچہ نطنز میں اوپر کی چند عمارتوں کو نقصان پہنچا، تاہم زیرِ زمین حساس تنصیبات محفوظ رہیں۔
اسی طرح، اصفہان میں چار عمارتیں متاثر ہوئیں، لیکن وہاں بھی تابکاری کے اخراج یا ماحولیاتی آلودگی کے کوئی شواہد سامنے نہیں آئے۔ فردو، جو پہاڑ کے اندر قائم ایک محفوظ تنصیب ہے، وہاں سے بھی تابکاری کے کوئی اشارے موصول نہیں ہوئے۔ ان تمام تفصیلات سے واضح ہوتا ہے کہ یا تو حملے سطحی نوعیت کے تھے،
یا پھر نشانہ بننے والی جگہیں وہ نہیں تھیں جنہیں جوہری مراکز ظاہر کیا جا رہا ہے۔
دوسری، اور اس سے بھی زیادہ اہم وجہ یہ ہے کہ کسی بھی بڑے نیوکلیئر حادثے یا حملے کے بعد تابکاری (Radiation) کے اثرات فوری طور پر ظاہر ہونا شروع ہو جاتے ہیں۔
نیو کلیئر فزکس کا ایک بنیادی اصول ہے کہ جب ایک بار جوہری ردِعمل (nuclear reaction) شروع ہو جائے، تو اسے فوراً روکا نہیں جا سکتا۔ یہ ردِعمل ایک سلسلہ وار عمل ہوتا ہے، جو بہت تیزی سے پھیلتا ہے اور خود بخود توانائی خارج کرتا ہے۔ اسی لیے اگر کسی فعال نیوکلیئر ری ایکٹر پر حملہ ہو، تو اس کا اثر صرف اُس جگہ تک محدود نہیں رہتا بلکہ اس کے تابکار اثرات فضا، پانی، اور مٹی کے ذریعے دور تک پھیل جاتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ دنیا بھر میں نیوکلیئر تنصیبات کو حساس اور خطرناک سمجھا جاتا ہے، اور ان پر کسی بھی حملے کے بعد تابکاری کے اثرات فوراً نظر آنے لگتے ہیں۔
اب یہ دونوں باتیں اس بات کا واضح ثبوت فراہم کرتی نظر آتی ہیں کہ یا تو حملہ محدود نوعیت کا تھا، یا ممکن ہے کہ حملہ غلط مقام پر کیا گیا ہو۔ کیونکہ سائنسی طور پر یہ بات طے شدہ ہے کہ اگر واقعی کسی فعال جوہری تنصیب کو نشانہ بنایا گیا ہو، تو اس کے نتیجے میں تابکاری (Radiation) کا پھیلنا لازمی امر ہے۔
تابکار مواد کی موجودگی میں دھماکے کے فوراً بعد فضا، پانی، اور مٹی میں اس کے اثرات نمایاں ہونے لگتے ہیں۔ اس لیے اگر تابکاری کے کوئی آثار موجود نہیں، تو یہ پھر امریکی صدر ٹرمپ کا یہ دعویٰ یا تو غلط فہمی پر مبنی ہے، یا جان بوجھ کر بڑھا چڑھا کر پیش کیا جا رہا ہے کہ امریکہ نے ایران کے تینوں جوہری مراکز کو تباہ کر دیا ہے۔
اگر امریکہ کے حملے میں ایران کی تنصیبات واقعی مکمل طور پر تباہ ہو چکی ہوتیں، اور وہاں فعال جوہری ری ایکٹرز یا تابکار مواد موجود ہوتا، تو اس کے اثرات اب تک ہوا کے ساتھ بہہ کر افغانستان، پاکستان، عراق، ترکی اور خلیجی ممالک کو متاثر کر رہے ہوتے۔
اور اگر ہوائیں شمال یا مشرق کی طرف ہوتیں، تو تابکاری (radiation) وسطی ایشیا، روس کے جنوبی علاقے، چین کے مغربی حصے اور بھارت کے شمال مغربی علاقوں تک بھی پہنچ سکتی تھی، جیسا کہ تاریخ میں یوکرین کے شہر چرنوبل (1986) اس کی سب سے واضح مثال ہے، جہاں پیش آنے والے جوہری حادثے کے اثرات نہ صرف مشرقی یورپ بلکہ مغربی یورپ تک جا پہنچے تھے اور سوئیڈن، جرمنی، اٹلی، اور یہاں تک کہ برطانیہ میں بھی تابکاری (Radiation) کے اثرات ریکارڈ کیے گئے۔ اقوامِ متحدہ کی 2006 کی Chernobyl Forum Report اس بات کی تصدیق کرتی ہے۔
اسی طرح فوکوشیما (2011) میں جاپان کی ایک نیوکلیئر تنصیب کو زلزلے اور سونامی کے بعد شدید نقصان پہنچا، اور اس کی تابکاری بحرالکاہل کے پانیوں میں شامل ہو کر امریکہ کے مغربی ساحل تک جا پہنچی تھی جیسا کہ WHO اور IAEA کی رپورٹس سے ظاہر ہوتا ہے۔
(جاری ہے)