Home
پبلشنگ کی تاریخ: 25 جون, 2025
تحریر: سید شایان
Image

کل مطالعے کا دورانیہ: 15 منٹ 47 سیکنڈ (اب تک 24 قارئین نے یہ اردو مضمون پڑھا ہے )

[انگریزی ورژن کے اعداد و شمار الگ سے ریکارڈ کیے جا رہے ہیں]

آج کی ڈیجیٹل دنیا کا سب سے طاقتور لفظ Algorithm الخوارزمی کے لاطینی نام Algorithmi سے نکلا ہے

 

الخوارزمی وہ پہلے مسلمان سائنسدان تھے جنہوں نے حساب کا ایک منظم اور مرحلہ وار طریقہ لکھا، جسے آج ہم “الگوردم” (Algorithm) کے نام سے جانتے ہیں۔ انہوں نے ایسے ریاضیاتی اصول متعارف کروائے جو آج کمپیوٹر سائنس کی بنیاد بن چکے ہیں۔ “Algorithm” دراصل ان کے نام Al-Khwarizmi کی لاطینی شکل “Algoritmi” سے نکلا ہے۔

 

آج جب ہم کمپیوٹر، سافٹ ویئر یا مصنوعی ذہانت (AI) اور AR (اوگمینٹڈ رئیلٹی) کی بات کرتے ہیں تو چند بڑے نام جو فوراً ذہن میں آتے ہیں، ان میں سر فہرست بل گیٹس، اسٹیو جابز، لیری پیج، سرگے برن، جیف بیزوس، ایلون مسک، مارک زکربرگ اور سیم آلٹمین کے نام شامل ہیں۔ ان میں سے ہر ایک نے موجودہ ٹیکنالوجی کی کسی ایک شکل کی بنیاد رکھی۔

 

بل گیٹس نے مائیکروسافٹ کے ذریعے ونڈوز آپریٹنگ سسٹم متعارف کرایا، جو آج بھی دنیا کے کروڑوں کمپیوٹروں کا بنیادی نظام ہے۔ اسٹیو جابز نے ایپل کے تحت میک کمپیوٹرز، آئی فون اور آئی او ایس جیسے سسٹمز پیش کیے، جنہوں نے کمپیوٹنگ اور موبائل ڈیوائسز کو نئی جہت دی۔ لیری پیج اور سرگے برن نے گوگل کی بنیاد رکھی، جس کا سرچ انجن دنیا بھر میں سب سے زیادہ استعمال ہوتا ہے اور جس کے پیچھے پیچیدہ الگوردمز کام کرتے ہیں۔ جیف بیزوس نے ایمیزون کو محض ایک آن لائن بک اسٹور سے دنیا کی سب سے بڑی ای کامرس اور کلاؤڈ کمپنی میں تبدیل کیا۔ ایلون مسک نے ٹیسلا اور اسپیس ایکس کے ذریعے مصنوعی ذہانت (AI)، برقی گاڑیوں اور خلائی ٹیکنالوجی میں مستقبل کی راہیں کھولیں۔ مارک زکربرگ نے فیس بک کے ذریعے دنیا کے سوشل تعلقات کو ڈیجیٹل بنا دیا، اور اب میٹا کے ذریعے ورچوئل ریئلٹی کی طرف بڑھ رہے ہیں۔


اور Sam Altman (سیَم آلٹمین) وہ شخص ہیں جنہوں نے ChatGPT کے ذریعے AI کو دنیا بھر میں عام کیا۔
انہوں نے AI کو تحقیق سے نکال کر ایک روزمرہ پروڈکٹ میں بدل دیا۔

یہ تمام شخصیات موجودہ دور کے ٹیکنالوجی لیڈر ضرور ہیں، لیکن اگر ان کے کام کی جڑ تلاش کی جائے، تو وہ ہمیں نویں صدی کے مسلمان سائنسدان الخوارزمی کے ہاں ملتی ہے، جنہوں نے حساب و منطق کو ایک منظم طریقہ کار (Procedure) میں ڈھالا—جسے آج الگوردم (Algorithm) کہا جاتا ہے، اور جو آج کی تمام ایجادات کی ماں ہے۔

 

یوں بھی کہا جا سکتا ہے کہ اگر بل گیٹس، اسٹیو جابز اور سیم آلٹمین آج کے ٹیکنالوجی ہیرو ہیں، تو الخوارزمی اس پورے نظام کے معمار اور روحِ رواں تھے، جن کا نام Al-Khwarizmi لاطینی زبان میں Algoritmi بن کر ہمیشہ کے لیے امر ہو گیا۔

 

الخوارزمی، جن کا پورا نام محمد بن موسیٰ الخوارزمی تھا، نویں صدی کے ایک ممتاز مسلمان ریاضی دان، فلکیات دان اور جغرافیہ دان تھے۔ وہ عباسی دورِ خلافت میں بغداد میں قائم مشہور علمی ادارے بیت الحکمہ (House of Wisdom) سے وابستہ تھے، جو اُس وقت دنیا کا سب سے اہم علمی اور تحقیقی مرکز تھا۔

 

الخوارزمی نے ریاضی، الجبرا، اور حساب پر اہم کتابیں لکھیں۔ ان کی سب سے مشہور کتاب:
الکتاب المختصر فی حساب الجبر والمقابلہ
(یہ الجبرا کی پہلی باقاعدہ کتاب مانی جاتی ہے، جس سے لفظ “Algebra” نکلا)۔ محمد بن موسیٰ الخوارزمی کو “بابائے الجبرا” (Father of Algebra) بھی کہا جاتا ہے کیونکہ انہوں نے عددی نظام اور صفر (0) کے استعمال کو بھی منظم کیا، جس سے ہندسوں کی جدید بنیاد رکھی گئی۔

 

الخوارزمی کے انتقال کے تقریباً چار سو سال بعد، ان کی کتابوں کا لاطینی زبان میں ترجمہ اسپین (اندلس) اور سیسیلی جیسے علمی مراکز میں کیا گیا، جہاں مسلمان، یہودی اور عیسائی مترجمین مل کر تراجم کا کام کر رہے تھے۔ انہی ترجموں میں الخوارزمی کا نام “Algoritmi” لکھا گیا، جو آگے چل کر “Algorithm” میں ڈھل گیا اور آج کمپیوٹر سائنس، مشین لرننگ اور آرٹیفیشل انٹیلیجنس کا بنیادی تصور بن چکا ہے۔ یوں سمجھئیے کہ آج کی ڈیجیٹل دنیا کا تقریباً ہر نظام الگوردمز (Algorithms) کے سہارے ہی کام کر رہا ہے۔

جب 1258ء میں ہلاکو خان نے بغداد پر حملہ کیا (الخوارزمی کے انتقال کے 408 سال بعد) اور مسلمانوں کے علمی ادارے اور کتب خانے تباہ کیے، تو اُس وقت تک الخوارزمی کی کتابیں یورپ میں منتقل ہو چکی تھیں اور لاطینی زبان میں محفوظ تھیں، اسی لیے وہ اس تباہی سے بچ گئیں۔ یوں اسلامی سنہری دور کی یہ علمی روشنی مغرب کے ذریعے آگے بڑھی، اور آج بھی دنیا کے جدید ترین سسٹمز میں الخوارزمی کا نام روشن ہے۔

 

آج کے دور میں اگر عباسی خلافت کے “بیت الحکمہ” یا House of Wisdom کی کوئی ہم عصر شکل تلاش کی جائے — یعنی ایسا علمی و تحقیقی مرکز جو مختلف علوم کو یکجا کرے، زبانوں کے تراجم، سائنسی تحقیق، اور انسانی فلاح کے لیے علم کا عملی اطلاق کرے — تو کئی ادارے اس نقشِ قدم پر چلتے دکھائی دیتے ہیں، لیکن ان میں ایک نمایاں ترین ادارہ MIT (Massachusetts Institute of Technology) ہے، جو جدید سائنس، انجینئرنگ، مصنوعی ذہانت، اور عالمی تحقیق میں اپنی ہمہ جہتی مہارت کی وجہ سے بلاشبہ عصرِ حاضر کا “سنٹر آف ایکسیلنس” کہلایا جا سکتا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ Stanford University، Google DeepMind اور OpenAI جیسے ادارے بھی انسانی فکر، ٹیکنالوجی، اور زبانوں کی فہم میں گراں قدر کردار ادا کر رہے ہیں۔

 

 یوں کہا جا سکتا ہے کہ “بیت الحکمہ” کا چراغ بجھا نہیں، بلکہ اس کی روشنی آج ان جدید اداروں میں نئی شکل میں روشن ہے۔

 

آج پاکستان میں، جہاں نوجوان زیادہ تر انسٹاگرام، ٹک ٹاک اور یوٹیوب پر سرگرم ہیں، وہاں یہی پلیٹ فارمز اس پیغام کو پہنچانے کا بہترین ذریعہ بن سکتے ہیں کہ آئی ٹی امریکہ اور یورپ نے ضرور سیکھی، لیکن اس کی بنیاد اور ایجاد ہم مسلمانوں نے رکھی۔ اس مقصد کے لیے ہمیں الخوارزمی کو ایک سپر ہیرو کے طور پر پیش کرنا ہوگا۔ ایک ایسا ہیرو جس کے ہاتھ میں قلم بھی ہے، کمپیوٹر بھی، اور کوڈ بھی۔ انسٹاگرام ریلز اور ٹک ٹاک ویڈیوز میں جدید گرافکس کے ذریعے یہ دکھایا جائے کہ وہ کس طرح دنیا کو الگوردم دے کر بدل دیتا ہے۔ اسی طرح، یونیورسٹیوں، آئی ٹی انسٹیٹیوٹس اور ٹیکنالوجی پارکس میں ایسے پوسٹرز اور وال آرٹ بنائے جائیں جو bold رنگوں اور جدید فونٹس کے ساتھ نوجوانوں کو بار بار یہ یاد دلائیں کہ یورپ نے صرف آئی ٹی سیکھی، لیکن ایجاد ہم نے کی تھی۔ اس کے ساتھ، معروف آئی ٹی یوٹیوبرز اور انسٹرکٹرز کے ساتھ کولیبریشنز کیے جائیں تاکہ یہ پیغام صرف علم ہی نہیں، بلکہ جذبے کے ساتھ ہر نوجوان کے دل تک پہنچے  اور وہ یہ پہچان سکے کہ وہ صرف سیکھنے والا نہیں، بلکہ ایک فکری وراثت کا وارث ہے۔ اور اب ہم پیچھے نہیں رہیں گے۔ ہم آگے بڑھ رہے ہیں، اور ایک بار پھر آئی ٹی کی دنیا میں کچھ نیا کرنے کے لیے تیار ہیں۔
 

1
0
Views
24
0

مصنف کے سب سے زیادہ پڑھے جانے والے آرٹیکلز

Article Image

سمجھدار قیادت گالی کا جواب کبھی طاقت یا سختی سے نہیں، عقلمندی سے دیتی ہے۔

لاہوری چاچا، ایک شخص نہیں، ایک استعارہ بن گیا ہے، ایک ایسا آئینہ جس میں بہت سے من چلے اور مایوس افراد اپنا چہرہ دیکھ رہے ہیں۔


Article Image

ماڈل ٹاؤن لاہور کا ماسٹر پلان تیار کرنے والے ٹاؤن پلانر / آرکیٹکٹ کو 800 روپے معاوضہ دیا گیا تھا۔

پچھلی قسط 11 میں ہم نے یہ دیکھا کہ ماڈل ٹاؤن سوسائٹی کو رکھ کوٹ لکھپت کے ریزروڈ فاریسٹ علاقے کی زمین جون 1922 میں ایک باقاعدہ مالی اور قانونی عمل کے تحت الاٹ ہوئی۔ اور حیازت (possession) کا عمل مکمل ہونے کے بعد اگلا مرحلہ تھا منصوبہ بندی (Planning) اور بن


Article Image

دریا کی زمین ۔ پہلی قسط

لاہور میں دریا کی زمین (River Bed) پر ہاؤسنگ اسکیمیں بنانے کا انکشاف ▫️پارک ویو سوسائٹی اور Ruda (راوی اربن ڈویلپمنٹ اتھارٹی) کی منظور شدہ سوسائیٹیز کا مستقبل کیا ہے؟