اور “قائدِ اعظم” سیریز مخصوص قومی خدمات یا شعبوں سے متعلق ہو سکتی ہے۔
“قائدِ اعظم” سیریز کے اعزازات عموماً اُن افراد کو دیے جاتے ہیں جنہوں نے پاکستان کے لیے غیر معمولی قومی خدمات یا نمایاں کارکردگی کا مظاہرہ کیا ہو۔
آپ نے دیکھا کہ اسی درجہ بندی کے مطابق نشانِ پاکستان اعلیٰ ترین سول اعزازات میں شمار ہوتا ہے، جبکہ تمغۂ خدمت نسبتاً کم درجے کے اعزازات میں شامل ہے۔
اب آئیے حکومتِ پاکستان کی جانب سے پاور سیکٹر کو بیک وقت 19 سول اعزازات اور تمغے دیے جانے کے اُس غیر معمولی واقعے کا جائزہ لیتے ہیں، جو ایک ایسے وقت میں پیش آیا کہ جب پاور سیکٹر مہنگی بجلی، کپیسٹی چارجز، گردشی قرضوں، لوڈشیڈنگ اور صنعتی تباہی کے باعث شدید عوامی تنقید کا نشانہ بنا ہوا ہے۔
حکومتی بیانیہ یہ ہے کہ سردار اویس احمد خان لغاری کو ہلالِ امتیاز کا اعزاز اس لیے دیا گیا کہ انہوں نے مالی سال 2024 25 کے دوران توانائی کے شعبے میں اصلاحات، گردشی قرضے میں 780 ارب روپے کی کمی، صنعت کے لیے بجلی سہولت پیکج، اور NTDC کی تنظیمِ نو جیسے اقدامات کیے۔
مگر سوال یہ ہے کہ اگر یہ واقعی تاریخی اصلاحات تھیں تو عام صارف کے بجلی بل میں حقیقی ریلیف کہاں نظر آ رہا ہے؟ پاکستان کے پاور سیکٹر میں بہتری کے آثار کہاں نمودار ہوئے؟ وہ اصلاحات آخر کہاں ہیں؟ کیا بجلی واقعی سستی ہوئی؟ کیا گردشی قرضہ حقیقتاً کم ہوا؟ کیا IPPs کے capacity payments کا بوجھ گھٹا؟ کیا لائن لاسز اور بجلی چوری میں نمایاں کمی آئی؟
اگر اس صورتحال کا بغور جائزہ لیا جائے تو زمینی حقائق کچھ اور کہانی بیان کر رہے ہیں۔
موجودہ وفاقی وزیرِ توانائی نے جب اپنے منصب کا چارج سنبھالا تو پاور سیکٹر کا گردشی قرضہ تقریباً 2.4 سے 2.68 ٹریلین روپے، یعنی 2400 سے 2680 ارب روپے، کے درمیان بتایا جا رہا تھا۔ جون 2025 تک اسے کم کر کے 1.614 ٹریلین روپے، یعنی 1614 ارب روپے، ظاہر کیا گیا۔ مگر اگلے مالی سال میں یہی قرضہ دوبارہ بڑھ کر فروری 2026 میں 1.837 ٹریلین روپے اور مارچ 2026 میں 1.798 ٹریلین روپے تک پہنچ گیا۔
یہیں سے اصل سوال پیدا ہوتا ہے کہ 780 ارب روپے کی کمی کو مستقل اصلاحات کی کامیابی کیسے کہا جا سکتا ہے؟
دستیاب رپورٹس کے مطابق حکومت نے پاور سیکٹر کے گردشی قرضے کو کم کرنے کے لیے 18 بینکوں کے کنسورشیم سے تقریباً 1.225 ٹریلین روپے، یعنی 1225 ارب روپے (تقریباً 4.3 ارب امریکی ڈالر)، کی فنانسنگ حاصل کی۔ اس فنانسنگ کا مقصد آئی پی پیز اور پاور پروڈیوسرز کے واجبات کو سیٹل کرنا تھا، جبکہ اس کی ادائیگی چھ سال میں 24 سہ ماہی قسطوں کے ذریعے ہونی ہے۔
حکومتی بیانیے میں اسے پاکستان کی ایک بڑی financing/refinancing arrangement کہا گیا، مگر حقیقت یہ ہے کہ اگر پرانا گردشی قرضہ بینکوں کے نئے قرض سے ادا کیا گیا، اور اس نئے قرض کی واپسی صارفین سے 3.23 روپے فی یونٹ Debt Service Surcharge کے ذریعے ہونی ہے، تو پھر اسے اصلاح کہنا انتہائی ناجائز ہو گا۔
اس کا مطلب یہ ہے کہ گردشی قرضہ مکمل طور پر ختم نہیں ہوا، بلکہ اس کی شکل بدل دی گئی۔ high cost liabilities کو بینک فنانسنگ کے ذریعے restructure کیا گیا، اور ادائیگی کا بوجھ آخرکار بجلی صارفین کے بلوں میں منتقل ہو گیا۔
اگر ایک قرضہ ادا کرنے کے لیے دوسرا قرضہ لیا جائے تو قومی معیشت پر liability ختم نہیں ہوتی۔ اس لیے 780 ارب روپے کی کمی کو خالص “توانائی اصلاحات” کہنا گمراہ کن ہے۔ زیادہ درست بات یہ ہے کہ حکومت نے گردشی قرضے کا بڑا حصہ بینک قرض، ری فنانسنگ اور صارفین کے بلوں میں منتقل کر دیا۔
آج بجلی کا صارف ہر یونٹ پر 3.23 روپے اضافی ادا کر رہا ہے تاکہ یہ قرض اگلے پانچ سے چھ سال میں اتارا جا سکے۔
سوال یہ ہے کہ اگر اصلاحات واقعی کامیاب تھیں تو جون 2025 کے بعد گردشی قرضہ دوبارہ کیوں بڑھا؟ اور اگر قرضہ کم کرنے کے لیے تاریخ کا بڑا بینک قرض لیا گیا تو اسے کارکردگی کہا جائے یا مالیاتی ری پیکجنگ؟
آج کی دستیاب رپورٹس کے مطابق صرف پاور سیکٹر کے گردشی قرضے کی تازہ فگر تقریباً 1.764 ٹریلین روپے، یعنی 1764 ارب روپے، بتائی گئی ہے، جو IMF رپورٹ کے حوالے سے مئی 2026 میں رپورٹ ہوئی۔
مختصر حقیقت یہ ہے کہ گردشی قرضہ نہ مکمل طور پر ختم ہوا اور نہ ہی اس کی بنیادی وجوہات دور کی گئیں۔ صرف اس کی ادائیگی کا طریقہ تبدیل کیا گیا، جبکہ اس کا بوجھ بدستور عوام کے بجلی بلوں سے ہی وصول کیا جا رہا ہے۔ حقیقی اصلاحات اُس وقت شمار ہوں گی جب بجلی سستی ہو، لائن لاسز اور بجلی چوری کم ہو، DISCOs کی نااہلی ختم ہو، IPPs اور capacity payments کا دباؤ گھٹے، اور عام صارف کو اپنے بل میں حقیقی ریلیف محسوس ہو۔
میں یہ سمجھتا ہوں کہ بجلی کے بھاری بلوں، طویل لوڈشیڈنگ اور کپیسٹی چارجز کے بوجھ تلے سسکتی عوام جب سڑکوں اور سوشل میڈیا پر سراپا احتجاج ہو، سفید پوش گھرانے معاشی دباؤ کے باعث خودکشیوں تک پہنچ چکے ہوں، ایسے میں پاور سیکٹر کے شعبے میں یکدم 18 افراد کو سرکاری تمغوں اور سول اعزازات سے نوازنا جلتی پر تیل ڈالنے کے مترادف ہے۔
کیا اربابِ حکومت میں سے کوئی یہ بتانے کی زحمت کرے گا کہ یہ عوامی جذبات سے لاعلمی ہے، بے حسی ہے یا پھر ایوانِ اقتدار سے دیا جانے والا یہ پیغام… کہ عوام چاہے جتنا بھی احتجاج کر لیں، یہاں سب کچھ معمول کے مطابق ہی چلتا رہے گا؟
حکومت کو اس حساس معاملے پر تدبر اور موزوں وقت کا انتخاب کرنا چاہیے تھا۔ اگر پاور سیکٹر میں بہتری آتی، عوام کو بجلی کے بلوں میں ریلیف ملتا اور لوڈشیڈنگ کم ہوتی، تو ایسے سازگار ماحول میں اعزازات دینا نہ صرف قابلِ فہم ہوتا بلکہ عوام بھی اسے تحسین کی نظر سے دیکھتے۔
میں تو یہ سمجھتا ہوں کہ وفاقی وزیرِ توانائی اور متعلقہ افسران کو خود آگے بڑھ کر یہ مؤقف اختیار کرنا چاہیے تھا کہ جب تک پاکستان کا بجلی کا نظام واقعی بہتر نہیں ہو جاتا، جب تک عوام کو صرف استعمال شدہ یونٹس کا شفاف بل نہیں ملتا، اور جب تک غیر ضروری ٹیکسز، اضافی سرچارجز، لائن لاسز، بجلی چوری اور “کپیسٹی پیمنٹس” جیسے مسائل پر مکمل قابو نہیں پا لیا جاتا؛ اور جب تک غلط پالیسیوں کے باعث عوام سے وصول کی گئی اضافی رقم کا آئی پی پیز سے حساب لے کر، قومی خزانے پر پڑنے والے حقیقی بوجھ کی تفصیلات قوم کے سامنے نہیں رکھ دی جاتیں، ہم خود کو ایسے کسی اعزاز کا مستحق نہیں سمجھتے۔
کیونکہ سول اعزازات اور تمغے محض دھات کے ٹکڑے نہیں ہوتے، بلکہ یہ قوم کے وقار اور اجتماعی احترام کی علامت ہوتے ہیں۔ فرانس کا “لیجن آف آنر” (Légion d’honneur) ہو یا برطانیہ کا “آرڈر آف میرٹ” (Order of Merit)، یہ اعزازات صرف اس لیے قابلِ احترام ہیں کیونکہ ان کے پیچھے ایک سخت اخلاقی اور میرٹ کا معیار رہا ہے۔ آج پاکستان کو بھی خود سے یہ سوال پوچھنا ہوگا کہ ہمارے قومی اعزازات کی پہچان کارکردگی کا اعلیٰ معیار ہے یا پھر محض قربت داری اور اقربا پروری؟
دنیا میں ایسی متعدد مثالیں موجود ہیں جہاں عظیم شخصیات نے اصولی بنیادوں پر بڑے بڑے اعزازات قبول کرنے سے صاف انکار کر دیا۔ ماحولیات، توانائی اور کلائمیٹ پالیسی سے متعلق ایک نمایاں مثال گریٹا تھنبرگ (Greta Thunberg) کی ہے۔ 2019 میں انہوں نے “نورڈک کونسل انوائرمنٹ پرائز” لینے سے یہ کہہ کر انکار کر دیا تھا کہ ماحولیاتی تحریک کو مزید ایوارڈز اور رنگا رنگ تقریبات کی ضرورت نہیں، بلکہ اس امر کی ضرورت ہے کہ حکومتیں، سیاست دان اور مقتدر طبقات سائنسی حقائق کو سنجیدگی سے لیں اور عملی اقدامات کریں۔ یہی وجہ ہے کہ آج دنیا انہیں محض ایک ایوارڈ یافتہ فرد کے طور پر نہیں، بلکہ ایک اٹل اور اصولی شخصیت کے طور پر یاد کرتی ہے۔
جاری ہے… باقی اگلی قسط میں)