تحریر: سید شایان
کل مطالعے کا دورانیہ: 7 منٹ 13 سیکنڈ (اب تک 9 قارئین نے یہ اردو مضمون پڑھا ہے )
[انگریزی ورژن کے اعداد و شمار الگ سے ریکارڈ کیے جا رہے ہیں]
ماڈل ٹاؤن لاہور ایک جدید رہائشی سوسائٹی جو لاہور کے قدیمی جنگل میں بسائی گئی
ماڈل ٹاؤن سوسائٹی کے لیے زمین کی خریداری اور حصول بھی ایک نہایت دلچسپ اور ولولہ انگیز مرحلہ تھا۔ اس مرحلے کو دیوان کھیم چند اور ان کے ساتھیوں نے غیر معمولی عزم اور منصوبہ بندی کے ساتھ نبھایا۔ وہ دن رات لاہور کے نواحی دیہات ستو کٹل، کالا کھتری اور چوپڑہ کی خاک چھانتے رہے۔ اس دوران انہوں نے متعدد زرعی زمینوں کے مالکان اور کسانوں سے خریداری کے معاہدے مکمل کیے، مگر جس بڑے قطعۂ زمین (tract) کی انہیں ضرورت تھی، اس کا فیصلہ نہیں ہو پا رہا تھا۔
ایک روز، جب دیوان کھیم چند اپنے ساتھیوں کے ہمراہ سوسائٹی کے لیے زمین کی تلاش کرتے ہوئے رکھ کوٹ لکھپت میں واقع جنگل میں جا نکلے تو وہاں کے درختوں اور فضا کے قدرتی حسن نے انہیں وہیں مجسم کر دیا۔
وہ اس جنگل میں کچھ دیر خاموش کھڑے رہے۔ انہیں یوں محسوس ہوا کہ جس رہائشی بستی کا خواب وہ برسوں سے اپنے ذہن میں سجائے ہوئے تھے، آج اپنی آنکھوں کے سامنے اسے جنم لیتے اور سانس لیتے دیکھ رہے ہیں۔
رکھ کوٹ لکھپت کے اس جنگل میں بڑ، شیشم، توت اور بیری کے بلند قامت درخت اپنی سایہ دار شاخوں سمیت جیسے آگے بڑھ کر ان کا خیرمقدم کر رہے تھے۔ فضا میں ایک خاموش پیغام گونج رہا تھا،
گویا یہ زمین خود انہیں دعوت دے رہی ہو کہ “یہی وہ خطۂ زمین ہے جس کی تمہیں سالوں سے تلاش تھی۔”
اور یہی وہ لمحہ تھا جب دیوان کھیم چند نے فیصلہ کیا کہ وہ اسی مقام پر ماڈل ٹاؤن کی بستی آباد کریں گے۔
تاریخی اعتبار سے یہ وہی علاقہ تھا جو اُس زمانے میں “رکھ کوٹ لکھپت” کے نام سے سرکاری جنگلات کی زمین (Rakh Land) کے طور پر درج تھا۔ “رکھ” دراصل برطانوی پنجاب کے سرکاری ریکارڈ میں ایک مخصوص اصطلاح تھی، جو اُس زمین کے لیے استعمال ہوتی تھی جو حکومت کی ملکیت میں ہو، درختوں، جھاڑیوں یا قدرتی سبزے سے ڈھکی ہو اور جسے محکمہ جنگلات یا ریونیو ڈپارٹمنٹ کے زیرِ انتظام رکھا گیا ہو۔ یہ زمینیں چراگاہ یا لکڑی کے ذخیرے کے لیے کام آتی تھیں۔
رکھ کوٹ لکھپت کا یہ علاقہ اُس وقت لاہور تحصیل کی حدود میں شامل تھا اور اسے Forest & Waste Lands of Lahore District کی فہرست میں شمار کیا جاتا تھا، جو برطانوی سرکاری نقشوں میں Wooded Tract کے طور پر درج تھا۔
روایت کے مطابق مہاراجہ رنجیت سنگھ کے دورِ حکومت (1810–1830) میں اس رکھ کو مہاراجہ کی شکارگاہ کے طور پر بھی استعمال کیا جاتا رہا۔
مہاراجہ رنجیت سنگھ کے درباری مورخ لالہ سوہن لال سوری نے اپنی فارسی تصنیف “اُمدتُ التواریخ” میں لاہور دربار کے سیاسی، سماجی اور فوجی حالات تفصیل سے بیان کیے، جنہیں بعد میں ڈاکٹر سیتا رام کوہلی نے مرتب کر کے “Khalsa Darbar Records” کے نام سے شائع کیا۔
انہی درباری ریکارڈز میں اس بات کا ذکر ملتا ہے کہ مہاراجہ رنجیت سنگھ نے اچھرہ سے آگے کے جنگلات کو لاہور کا قدرتی دفاع قرار دیا تھا اور ان کے بارے میں کہا تھا کہ “یہ قدیم اور مقدس درخت ہیں اور ہمیں پاکیزہ ہوا مہیا کرتے ہیں۔”
رکھ کوٹ لکھپت کے جنگلات پر برطانوی مؤرخ آئن ٹالبٹ (Ian Talbot) اور پاکستانی محقق ڈاکٹر طاہر کامران اپنی مشترکہ تصنیف
Colonial Lahore: A History of the City and Beyond میں لکھتے ہیں
“Rabbits, jackals and deer initially shared the 2,000 acre tract of forest at Rakh Kot Lakhpat.”
یعنی اُس دور میں یہ علاقہ تقریباً دو ہزار ایکڑ پر پھیلا ہوا ایک گھنا جنگل تھا، جہاں خرگوش، لومڑیاں اور ہرن آزادانہ گھومتے پھرتے تھے۔ یہ جنگل لاہور کے ماحول کو تازہ رکھنے اور شہر کے گرد قدرتی سبز حصار بنائے رکھنے میں اہم کردار ادا کرتا تھا اور جنگلی حیات کی پناہ گاہ تھا۔
دیوان کھیم چند اور ان کے ساتھیوں کو رکھ کوٹ لکھپت کا علاقہ بے پناہ پسند آیا تھا۔ یہ اسی طرح کی زمین تھی جس کا تصور ایبنیزر ہاورڈ (Ebenezer Howard) کی گارڈن سٹی تحریک میں پیش کیا گیا تھا — ایک ایسا ماڈل جہاں نیچر اور انسانی رہائش کو یکجا کیا گیا تھا۔ لیکن کھیم چند یہ بھی جانتے تھے کہ ممکن ہے یہ جگہ انہیں نہ مل سکے، کیونکہ اس زمین کی اپنی تاریخی حیثیت اور ماحولیاتی اہمیت بھی تھی۔ دوسرا یہ کہ یہ جنگلات پنجاب حکومت کے زیرِ انتظام Crown Land (سرکاری ملکیت) میں شامل تھے، جس کے باعث اسے آسانی سے حاصل نہیں کیا جا سکتا تھا۔
چنانچہ دیوان کھیم چند نے اپنے قریبی رفیق اور سوسائٹی کے رکن سر گنگا رام سے رجوع کیا۔ سر گنگا رام، جو اُس وقت لاہور کی تعمیرِ نو کے معمار، انجینئر اور ایک دوراندیش شہری منصوبہ ساز کے طور پر شہرت رکھتے تھے، اور نئے نئے ماڈل ٹاؤن کوآپریٹو سوسائٹی کے صدر بھی منتخب ہوئے تھے۔
انہوں نے حکومتِ پنجاب کو باضابطہ درخواست پیش کی کہ رکھ کوٹ لکھپت کی یہ زمین سوسائٹی کو لیز یا فروخت کے لیے الاٹ کی جائے تاکہ یہاں ایک منظم اور جدید رہائشی بستی قائم کی جا سکے۔ تاہم، فاریسٹ ڈیپارٹمنٹ نے اس درخواست کی سخت مخالفت کی، کیونکہ اس زمین کو ایک قدرتی جنگل اور قیمتی ماحولیاتی اثاثہ سمجھا جاتا تھا۔
رکھ کوٹ لکھپت کی زمین کے حصول پر مختلف سرکاری محکموں کے درمیان دو برس تک طویل بحث و مباحثہ جاری رہا۔ فاریسٹ ڈیپارٹمنٹ نے اسے جنگلی حیات اور جنگل کی زمین قرار دے کر فروخت کی مخالفت کی، ریونیو ڈیپارٹمنٹ نے اسے سرکاری ملکیت (Crown Land) کہہ کر قانونی رکاوٹ پیش کی، جبکہ پبلک ورکس اور لوکل گورنمنٹ نے اسے شہری منصوبہ بندی کے لحاظ سے غیر موزوں علاقہ قرار دیا۔ ان تمام اداروں کی مخالفت کے باوجود، سر گنگا رام اور دیوان کھیم چند نے دلائل، نقشوں اور مفصل منصوبہ بندی کے ذریعے یہ ثابت کیا کہ یہ بستی لاہور کے مستقبل کی پہلی جدید رہائشی مثال بن سکتی ہے۔ ساتھ ہی انہوں نے تحریری طور پر انگریز حکومت کو یقین دلایا کہ اگر رکھ کوٹ لکھپت کی یہ زمین سوسائٹی کو الاٹ کر دی جائے تو قدیم جنگل کے وسیع و عریض زمینی قطعہ (tract) پر اُگے سینکڑوں سال پرانے نصف سے زیادہ درخت محفوظ رکھے جائیں گے تاکہ قدرتی ماحول اور سبز فضا بھی برقرار رہے۔
مختلف محکموں کی مخالفت اور قانونی پیچیدگیوں کے باعث معاملہ دو سال تک زیرِ بحث رہا، حتیٰ کہ دیوان کھیم چند اور سر گنگا رام نے خود گورنر پنجاب سر ایڈورڈ ڈگلس میکلاگن (Sir Edward Douglas Maclagan) کو ایک مفصل یادداشت پیش کی، جس میں سوسائٹی کے مقاصد، منصوبے کی فلاحی نوعیت اور جنگلاتی تحفظ کی ضمانت کو واضح کیا گیا۔ اب معاملہ گورنر پنجاب کے زیرِ غور تھا۔
۔۔۔ باقی آئندہ قسط میں
( یہ مضمون ماڈل ٹاؤن لاہور پر میری زیرِ طبع کتاب
The Birth of Model Town in Colonial Lahore
“برطانوی لاہور میں ماڈل ٹاؤن کا جنم” سے اخذ شدہ ہے۔
یہ کتاب بہت جلد رئیل اسٹیٹ تھنک ٹینک اور ویب پورٹل SyedShayan.com پر دستیاب ہو گی۔ اسی موضوع پر ایک جامع ڈاکومنٹری بھی ریفرنس کے لیے تیاری کے آخری مراحل میں ہے۔
اگر کوئی فرد یا ادارہ تاریخی دستاویزات، تحقیقی مواد یا تصویری ریکارڈ شیئر کرنا چاہے تو میں انہیں خوش آمدید کہوں گا، یہ مواد تحقیقی استناد اور علمی استفادے کے لیے نہایت قیمتی ہوگا۔
ماڈل ٹاؤن کے موجودہ یا سابقہ رہائشی حضرات اگر اس تاریخی کتاب یا ڈاکومنٹری کے لیے اپنی کوئی یاد، تصویر یا تاثرات شیئر کرانا چاہیں تو براہ کرم رابطہ کریں:
mail@syedshayan.com