Home
پبلشنگ کی تاریخ: 23 جون, 2025
تحریر: سید شایان
Image

کل مطالعے کا دورانیہ: 1 گھنٹے 2 منٹ (اب تک 32 قارئین نے یہ اردو مضمون پڑھا ہے )

[انگریزی ورژن کے اعداد و شمار الگ سے ریکارڈ کیے جا رہے ہیں]

ایران کی ایٹمی تنصیبات پر امریکی حملے کے بعد آئندہ 72 گھنٹے تابکاری کے پھیلاؤ کے حوالے سے ایران، پاکستان اور اس خطے کے ممالک کے لیے بہت اہم ہیں۔

قسط 2

 

تابکاری کے پھیلاؤ، اس کی نوعیت اور اس کی شناخت سے متعلق اصول نیوکلیئر فزکس (Nuclear Physics) اور ریڈی ایشن سائنس (Radiation Science) کے بنیادی ستون ہیں، جن کی تصدیق بین الاقوامی ادارے جیسے IAEA (International Atomic Energy Agency) اور CTBTO (Comprehensive Nuclear-Test-Ban Treaty Organization) کرتے ہیں۔ ان اصولوں کے مطابق ہر تابکار مادہ مخصوص شعاعیں خارج کرتا ہے، جنہیں زمین، پانی یا فضا کے ذریعے پھیلنے سے روکا نہیں جا سکتا۔ عالمی سطح پر موجود انتہائی حساس سینسرز معمولی تابکاری کا بھی سراغ لگا لیتے ہیں، چاہے وہ زمین کی گہرائی میں ہو یا کسی بند تنصیب میں۔ یہی وجہ ہے کہ اگر کسی نیوکلیئر سائٹ پر واقعی تباہی ہوئی ہو، تو اس کے اثرات کو مکمل طور پر چھپانا سائنسی طور پر ممکن نہیں۔

 

اب اس اصول کو سامنے رکھ کر اگر امریکہ کا یہ دعویٰ مان لیا جائے کہ اس نے ایران کی تینوں ایٹمی سائٹس تباہ کر دی ہیں، تو سوال یہ ہے کہ اگر واقعی تباہی ہوئی ہے، تو تابکاری کے شواہد کہاں ہیں؟ اور اگر تابکاری نظر نہیں آ رہی، تو پھر امریکی دعوے کی حقیقت کیا ہے؟

 

نیو کلیئر فزکس یہ واضح مؤقف رکھتی ہے کہ تابکاری کبھی چھپ نہیں سکتی۔ چاہے کوئی نیوکلیئر واقعہ زمین کے نیچے ہو، کسی عمارت میں ہو یا خفیہ جگہ پر، تابکاری لازماً اپنا نشان چھوڑتی ہے۔ اس کی موجودگی کا پتہ صرف ماہر سائنس دان ہی نہیں، بلکہ بین الاقوامی ادارے بھی فوری طور پر لگا لیتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ کسی نیوکلیئر سائٹ کی تباہی یا دھماکے کو طویل عرصے تک خفیہ رکھنا سائنسی طور پر ناممکن ہے۔

 

ہاں، یہ بات مانی جا سکتی ہے کہ اگر جوہری تنصیبات زمین کی گہرائی میں واقع ہوں اور انہیں تباہ کیا جائے، تو تابکاری کے اثرات فوری طور پر سطح پر ظاہر نہیں ہوتے۔ نیو کلیئر فزکس کے اصولوں کے مطابق تابکار مواد لازماً شعاعیں خارج کرتا ہے، جو یا تو گیس، پانی یا زمینی دراڑوں کے ذریعے بالآخر باہر آ جاتی ہیں۔ اگر تباہی کئی سو فٹ نیچے کی گئی ہو، تو اس کے اثرات کو سطح پر پہنچنے میں چند گھنٹے سے چند دن لگ سکتے ہیں، مگر مکمل خاموشی ممکن نہیں۔ خاص طور پر اگر زیر زمین کوئی ہوا یا پانی کا راستہ موجود ہو، جیسا کہ بیشتر نیوکلیئر تنصیبات میں کولنگ سسٹمز ہوتے ہیں، تو تابکاری کا رساؤ زیادہ تیزی سے ہوتا ہے اور عالمی سطح پر موجود نیوکلیئر سینسرز، جیسے IAEA اور CTBTO کے آلات، اس کا فوراً سراغ لگا لیتے ہیں۔ اسی لیے اگر ایران کی تنصیبات میں واقعی فعال ری ایکٹرز یا تابکار مواد موجود ہوتا، اور انہیں مکمل طور پر تباہ کیا گیا ہوتا، تو 22 گھنٹے کے بعد اب تک دنیا کو اس کی سائنسی علامات ضرور مل گئی ہوتیں۔

 

سائنسی اصولوں کے مطابق اگر جوہری تنصیبات زمین کی گہرائی میں ہوں یا ان میں کوئی تکنیکی پیچیدگیاں موجود ہوں، تو تابکاری کے سطح پر ظاہر ہونے میں کچھ وقت لگ سکتا ہے۔ ایسی صورت میں آئندہ 72 گھنٹے اس پورے خطے کے لیے نہایت اہم ہیں، کیونکہ تابکاری اگر باہر آنی ہے، تو اس کا مطلب یہ ہوگا کہ واقعی کوئی فعال جوہری نظام تباہ کیا گیا ہے، اور اس کی ذمہ داری براہِ راست امریکہ پر عائد ہوگی، جس نے نہ صرف ایران بلکہ خطے کے دیگر پڑوسی ممالک، ان کے ماحول، ہوا، پانی، انسانی غذا، صحت، سمندری زندگی—سب کو ناقابلِ استعمال کر دیا۔ تابکاری کے اثرات طویل المدت اور غیر محسوس ہوتے ہیں۔ یہ فضا، پانی اور مٹی کے ذریعے پھیلتی ہے، اور کینسر، پیدائشی نقص، اور ماحولیاتی تباہی جیسے نتائج چھوڑتی ہے جو دہائیوں تک برقرار رہ سکتے ہیں۔ ایک ایٹم بم فوری دھماکے اور آگ کے ذریعے تباہی مچاتا ہے، جبکہ تابکاری خاموشی سے زندگی کو زہر آلود کرتی ہے — اکثر بغیر کسی فوری علامت کے۔ یہی وجہ ہے کہ نیوکلیئر سائٹس پر ہونے والے حملے، خواہ ان میں کوئی دھماکہ نظر نہ بھی آئے، پھر بھی نہایت خطرناک تصور کیے جاتے ہیں۔

 

اگر واقعی امریکہ نے ایران کے جنوبی شہر بوشہر (Bushehr) میں موجود نیوکلیئر پاور ری ایکٹر کو تباہ کر دیا ہوتا، تو اس کے اثرات فوری طور پر فضا، پانی، اور زرعی زمینوں میں محسوس کیے جاتے۔ بوشہر کا یہ ری ایکٹر روسی ڈیزائن VVER-1000 پر بنایا گیا ہے، جہاں ہزاروں کلوگرام تابکار ایندھن اور ویسٹ ذخیرہ ہوتا ہے۔ اس تنصیب کی تباہی کا مطلب ہوتا چرنوبل (Chernobyl) جیسے خطرناک سانحے کا دہرانا، جس کے اثرات دہائیوں تک باقی رہ سکتے ہیں۔

 

اسی طرح نطنز (Natanz)، جو اصفہان (Isfahan) کے قریب واقع ہے، ایران کا سب سے بڑا یورینیم افزودگی کا مرکز ہے، جہاں ہزاروں سینٹری فیوجز کام کرتے ہیں۔ اگرچہ وہاں کوئی پاور ری ایکٹر موجود نہیں، مگر افزودہ یورینیم کی موجودگی تابکاری کے ممکنہ خطرات کو بڑھاتی ہے۔

 

تیسرا اہم مقام فردو (Fordow) ہے، جو شہر قم (Qom) کے قریب ایک پہاڑی کے نیچے بنایا گیا ہے۔ اس کی زیر زمین ساخت اسے فضائی حملوں سے خاصا محفوظ بناتی ہے۔ اگر ان تینوں مقامات پر بیک وقت حملہ ہوتا اور واقعی تباہی ہوتی، تو بین الاقوامی ادارے جیسے IAEA اور CTBTO، جن کے دنیا بھر میں سینسر موجود ہیں، فوراً تابکاری کی موجودگی رپورٹ کرتے۔ لیکن ابھی تک ایسی کوئی مصدقہ رپورٹ سامنے نہیں آئی، جو تابکاری کے پھیلاؤ کو ثابت کرے۔ سوال یہ ہے کہ اگر واقعی تباہی ہوئی ہے، تو تابکاری کے شواہد کہاں ہیں؟ اور اگر تابکاری نظر نہیں آ رہی، تو پھر ان دعووں کی حقیقت کیا ہے؟

 

ہم پاکستانیوں کو سائنسی حقائق پر یقین کرنا چاہیے اور نیوکلیئر خطرات سے بچنے کے لیے آواز اٹھانی چاہیے۔

 

میری ایک تجویز ہے کہ ہم پاکستانیوں اور خطے کے دیگر افراد کو IAEA اور CTBTO کی رپورٹس پر نظر رکھنی چاہیے۔ اگر تابکاری کے شواہد سامنے آتے ہیں، تو اس کے سنگین ماحولیاتی اور صحت کے اثرات ہو سکتے ہیں۔ فی الحال، سائنسی شواہد کی بنیاد پر فوری خطرے کا امکان کم ہے، لیکن احتیاط ضروری ہے۔

آپ کیا سوچتے ہیں؟ کمنٹس میں بتائیں

 

(جاری ہے)

1
0
Views
32
0

مصنف کے سب سے زیادہ پڑھے جانے والے آرٹیکلز

Article Image

سمجھدار قیادت گالی کا جواب کبھی طاقت یا سختی سے نہیں، عقلمندی سے دیتی ہے۔

لاہوری چاچا، ایک شخص نہیں، ایک استعارہ بن گیا ہے، ایک ایسا آئینہ جس میں بہت سے من چلے اور مایوس افراد اپنا چہرہ دیکھ رہے ہیں۔


Article Image

دریا کی زمین ۔ پہلی قسط

لاہور میں دریا کی زمین (River Bed) پر ہاؤسنگ اسکیمیں بنانے کا انکشاف ▫️پارک ویو سوسائٹی اور Ruda (راوی اربن ڈویلپمنٹ اتھارٹی) کی منظور شدہ سوسائیٹیز کا مستقبل کیا ہے؟


Article Image

کیا قربانی جانوروں کی نسل کو خطرے میں ڈال رہی ہے یا ان کی افزائش میں مدد دیتی ہے؟

پاکستان میں ہر سال عید الاضحیٰ کے موقع پر لاکھوں جانور قربان کیے جاتے ہیں۔ سال 2024 میں، پاکستان ٹینرز ایسوسی ایشن کے مطابق تقریباً 68 لاکھ (6.8 ملین) جانور قربان کیے گئے، جن کی تفصیل درج ذیل ہے: