Home
پبلشنگ کی تاریخ: 6 اگست, 2026
تحریر: سید شایان
Image

کل مطالعے کا دورانیہ: 0 منٹ 0 سیکنڈ (اب تک 0 قارئین نے یہ اردو مضمون پڑھا ہے )

[انگریزی ورژن کے اعداد و شمار الگ سے ریکارڈ کیے جا رہے ہیں]

ماڈل ٹاؤن لاہور ، برطانوی ہند میں نیا رہائشی استعارہ
قسط 3
یہ بات تاریخی ریکارڈ سے ثابت ہے کہ ماڈل ٹاؤن کوآپریٹو ہاؤسنگ سوسائٹی کے لیے تقریباً 1,963 ایکڑ زمین حاصل کی گئی تھی۔ یہ زمین اُس زمانے کے لاہور کے نواحی علاقوں، جیسے کالا کھتری، ستو کٹل اور چوپڑہ کے درمیان واقع تھی، اور اُس وقت  لاہور شہر کی حدود سے تقریباً پانچ  چھ میل باہر سمجھی جاتی تھی۔
1921 کے لاہور میں آبادی کا پھیلاؤ  اندرون شہر سے نکل کر انارکلی اور لکشمی چوک سے آگے  ایجرٹن روڈ  میکلوڈ روڈ چئیرنگ کراس سے لیکر مزنگ تک پہنچ چکا تھا۔ جبکہ انتظامی طور پر یہ علاقے شہر کی میونسپل حدود میں شامل نہیں تھے، 
لاہور میونسپل کمیٹی کے نقشے میں  لاہور کی قانونی حدود انارکلی اور لکشمی چوک تک  تھیں  ان کے آگے والے علاقوں میں اگرچہ رہائشی اور تجارتی سرگرمیوں شروع ہو چکی تھیں مگر کاغذوں میں وہ ابھی بھی شہر سے باہر شمار ہوتے تھے۔اور انہیں “Suburban Lahore” یا “Outskirts of the Municipal City” کہا جاتا تھا۔ 
یہ وہ دور تھا جب چئیرنگ کراس، جو آج لاہور کا مرکزی  مقام سمجھا جاتا ہے، برطانوی حکومت کے زیرِ انتظام تیزی سے ایک انتظامی، تعلیمی، عدالتی اور ثقافتی مرکز کے طور پر اُبھر رہا تھا۔ انگریز حکام نے اسے لاہور کا نیا Institutional Core قرار دیا  تھا یعنی ایسا خطہ جہاں نوآبادیاتی حکومت کے تمام بڑے سرکاری ادارے، عدالتیں، دفاتر اور اعلیٰ تعلیم کے مراکز یکجا کیے جائیں تاکہ شہر کی ترقی کو ایک منظم اور جدید طرزِ شہری نظم کے تحت ڈھالا جا سکے۔ ایچی سن کالج لاہور میوزیم ہائی کورٹ پنجاب اسمبلی بلڈنگ ٹاؤن ہال اور سیکریٹریٹ جیسی شاندار عمارتیں  نئی تعمیر ہوئیں تھیں جن کو آرام دہ بنانے کے لئیے بجلی کا نیا نیا استعمال شروع ہو رہا تھا 
اسی منصوبے کے تحت چئیرنگ کراس کے اطراف سرکاری ادارے قائم کیے گئے، جبکہ انگریز افسران اور ان کے اہلِ خانہ کی رہائش کے لیے سول لائنز جیسا جدید علاقہ اور قریب ہی باغِ جناح میں اشرافیہ کا جم خانہ کلب تعمیر کیا گیا
چئیرنگ کراس کے اردگرد سڑکوں کا جال نہایت منصوبہ بندی سے بچھایا گیا۔ مال روڈ، ایجرٹن روڈ، کوئینز روڈ اور ہال روڈ جیسی شاہراہیں یہاں سے نکلتی تھیں، جو شمالی لاہور (انارکلی، میکلوڈ روڈ) کو جنوبی علاقوں (مزنگ، ماڈل ٹاؤن کی سمت) سے جوڑتی تھیں۔ یہ شاہراہیں اس امر کا ثبوت تھیں کہ لاہور کی شہری ساخت اب ایک منظم، سرسبز اور جدید شہر کی سمت بڑھ رہی ہے
یوں برطانوی دور میں لاہور اپنی تاریخی فصیلوں اور اندرونِ شہر کی تنگ گلیوں سے نکل کر ایک ایسے شہر میں ڈھلنے لگا تھا، جس کی قدیم مشرقی روایات میں نئے مغربی کلچر کی لطیف آمیزش بھی جھلکنے لگی تھی
چئیرنگ کراس اس تبدیلی کا پہلا استعارہ تھا 
لاہور کے 1920 کے منظرنامے میں کچھ تعلیم یافتہ افراد  شہر میں یہ سب تبدیلیاں بڑی توجہ سے دیکھ رہے تھے۔
انگریز حکومت نے اپنی عسکری ضروریات کے تحت شہر کے مشرق میں لاہور کینٹ قائم کیا تاکہ فوجی چھاؤنیوں میں انگریز فوجی اور ان کے خاندان آباد ہو سکیں۔
دوسری جانب سول لائنز کا قیام عمل میں لایا گیا، جہاں انگریز سول افسران، ججوں اور اعلیٰ بیوروکریٹس کے لیے وسیع باغات، بلند درختوں اور کشادہ بنگلوں پر مشتمل ایک نیا رہائشی علاقہ تعمیر کیا گیا۔
ان تبدیلیوں کو لاہور کے تعلیم یافتہ اور باشعور طبقے نے بڑی سنجیدگی سے لیا وہ لوگ جو اندرونِ شہر کی تنگ گلیوں اور شور سے نکل کر ایک نئے رہائشی علاقے  کا خواب دیکھ رہے تھے۔ انہی مشاہدات نے بعد ازاں ماڈل ٹاؤن سوسائٹی لاہور  جیسے کسی جدید رہائشی منصوبے کے خیال کو جنم دیا۔ 
باقی آئندہ قسط 4 میں۔

0
0
Views
0
0

مصنف کے سب سے زیادہ پڑھے جانے والے آرٹیکلز

Article Image

سمجھدار قیادت گالی کا جواب کبھی طاقت یا سختی سے نہیں، عقلمندی سے دیتی ہے۔

لاہوری چاچا، ایک شخص نہیں، ایک استعارہ بن گیا ہے، ایک ایسا آئینہ جس میں بہت سے من چلے اور مایوس افراد اپنا چہرہ دیکھ رہے ہیں۔


Article Image

ماڈل ٹاؤن لاہور کا ماسٹر پلان تیار کرنے والے ٹاؤن پلانر / آرکیٹکٹ کو 800 روپے معاوضہ دیا گیا تھا۔

پچھلی قسط 11 میں ہم نے یہ دیکھا کہ ماڈل ٹاؤن سوسائٹی کو رکھ کوٹ لکھپت کے ریزروڈ فاریسٹ علاقے کی زمین جون 1922 میں ایک باقاعدہ مالی اور قانونی عمل کے تحت الاٹ ہوئی۔ اور حیازت (possession) کا عمل مکمل ہونے کے بعد اگلا مرحلہ تھا منصوبہ بندی (Planning) اور بن


Article Image

دریا کی زمین ۔ پہلی قسط

لاہور میں دریا کی زمین (River Bed) پر ہاؤسنگ اسکیمیں بنانے کا انکشاف ▫️پارک ویو سوسائٹی اور Ruda (راوی اربن ڈویلپمنٹ اتھارٹی) کی منظور شدہ سوسائیٹیز کا مستقبل کیا ہے؟