Home
پبلشنگ کی تاریخ: 6 اگست, 2026
تحریر: سید شایان
Image

کل مطالعے کا دورانیہ: 0 منٹ 0 سیکنڈ (اب تک 0 قارئین نے یہ اردو مضمون پڑھا ہے )

[انگریزی ورژن کے اعداد و شمار الگ سے ریکارڈ کیے جا رہے ہیں]

ماڈل ٹاؤن لاہور ، بنانے والے کیا ہوۓ !
قسط 2
ماڈل ٹاؤن کوآپریٹو ہاؤسنگ سوسائٹی لاہور کے قیام کے لیے پہلا تاریخی اجلاس اتوار 27 فروری 1921ء کو لاہور کے ٹاؤن ہال میں منعقد ہوا، جس میں ایک نئی کوآپریٹو ہاؤسنگ سوسائٹی کے قیام کا فیصلہ کیا گیا۔ اس سوسائٹی کا مقصد لاہور کے متوسط طبقے کے لیے ایک منظم، صحت مند اور خوشگوار رہائشی بستی قائم کرنا تھا۔ اجلاس کی صدارت لاہور کے ممتاز انجینئر اور سماجی شخصیت رائے بہادر گنگا رام نے کی۔ (بعد ازاں سر کا خطاب 1922ء)۔
اجلاس میں سیکریٹری کے فرائض دیوان کھیم چند (Barrister-at-Law) نے سرانجام دیے، جنہوں نے دو سال قبل 1919ء میں اپنے پمفلٹ “Suburban Town of Lahore” کے ذریعے ایک ماڈل سبربن ٹاؤن کے تصور کی نظریاتی بنیاد رکھی تھی۔ یہ اجلاس لاہور، امرتسر، سیالکوٹ، شیخوپورہ، گجرات اور دیگر شہروں کے تقریباً 200 ممتاز شہریوں کی شرکت سے منعقد ہوا، جنہوں نے متفقہ طور پر ایک “ماڈل ٹاؤن” کے قیام کی قرارداد منظور کی۔ ایک ایسی کوآپریٹو بستی جو یورپ کی گارڈن سٹی موومنٹ سے متاثر ہو کر مقامی معاشرتی و جغرافیائی حالات کے مطابق ڈھالی جائے۔
اس اجلاس کے نتیجے میں ایک ابتدائی 19 رکنی (Preliminary Committee) تشکیل دی گئی، جس میں پنجاب کے مختلف شہروں سے تعلق رکھنے والے ماہرین، وکلا، انجینئرز، معالجین اور سماجی شخصیات شامل تھیں۔
ماخذ: Punjab Cooperative Societies Record, File No. 1931/33 (Lahore); Dewan Khem Chand Report (1923)
1. رائے بہادر سر گنگا رام (C.I.E., M.V.O., لاہور) — صدرِ اجلاس و سرپرست
2. دیوان کھیم چند (Barrister-at-Law, لاہور) — بانی رکن و اعزازی سیکریٹری
3. خان بہادر شیخ عبدالقادر (Barrister-at-Law, مدیرِ مخزن) — نائب صدر
4. ڈاکٹر بکرم جیت سہنی (D.P.H., L.R.C.P.&S., لاہور) — رکن، صحت و صفائی
5. شیخ دل محمد (M.A., سینیئر سب جج، شیخوپورہ) — رکن، قانونی کمیٹی
6. سردار لہنا سنگھ (Executive Engineer, لاہور) — رکن، انجینئرنگ و سروے
7. پنڈت کارتہ کشور (B.A., آنریری سیکریٹری، کلرکس ایسوسی ایشن لاہور) — رکن، انتظامی امور
8. میجر گلابت رائے (M.S., لاہور) — رکن، طبی امور
9. سردار مہتاب سنگھ (Barrister-at-Law, Public Prosecutor, لاہور ہائی کورٹ) — رکن، قانونی مشیر
10. سید محسن شاہ (High Court, Lahore) — رکن
11. نناک چند چوپڑا (Barrister-at-Law, Lahore) — رکن
12. راجہ نریندرا ناتھ (M.L.C., Lahore) — رکن، قانون سازی
13. انجینئر آر۔ بی۔ بوانترو (Executive Engineer, گوجرانوالہ) — رکن، عوامی تعمیرات
14. شیخ نیاز محمد (Lawyer, High Court Lahore) — رکن، قانونی پینل
15. میجر ایم۔ ایل۔ پوری (I.M.S., Lahore) — رکن، طبی شعبہ
16. دیوان رام لال (B.A., Barrister-at-Law, Lahore) — رکن، مشاورتی بورڈ
17. کیپٹن رام رکھا مل بھنڈاری (Barrister-at-Law, Government Pleader, ہوشیارپور) — رکن
18. مسٹر سندر داس (B.A., Barrister-at-Law, Lahore) — رکن
19. ایچ۔ بی۔ وزیر چند چوپڑہ (Superintending Engineer, امرتسر) — رکن، انفراسٹرکچر کمیٹی
(ماڈل ٹاؤن سوسائٹی کی ابتدائی کمیٹی پہلے 19 ارکان پر مشتمل تھی، 1922ء میں لالہ پریم ناتھ تریلوک چند اور میہتا سنگھ کو شامل کیے جانے کے بعد اس کی کل تعداد 21 ارکان ہو گئی تھی۔)
یہ کمیٹی دراصل ماڈل ٹاؤن کوآپریٹو ہاؤسنگ سوسائٹی لاہور کی فکری، تنظیمی اور انتظامی بنیاد تھی، جس نے 1921ء سے 1923ء کے دوران بائی لاز کی تیاری، زمین کے حصول اور منصوبہ بندی کی منظوری جیسے تمام مراحل کی نگرانی کی۔ انہی اراکین کی مسلسل کوششوں کے نتیجے میں سوسائٹی نے اپنے قواعد و ضوابط تیار کر کے نومبر 1921ء میں Co-operative Societies Act, 1912 کے تحت رجسٹرار کوآپریٹو سوسائٹیز پنجاب کے ہاں رجسٹریشن حاصل کی۔ اگلے برس 1922ء میں بائی لاز منظوری کے لیے جمع کروائے گئے، جبکہ 1924ء میں سوسائٹی کا پہلا باقاعدہ انتخاب ہوا اور خان بہادر شیخ عبدالقادر پہلے صدر منتخب ہوئے۔ بعد ازاں 1925ء میں پنجاب حکومت کے نئے Co-operative Societies Act, 1925 کے نفاذ کے بعد سوسائٹی کو اسی قانون کے تحت ازسر نو منظور کیا گیا۔
یوں برصغیر میں پہلی بار ایک منظم شہری منصوبہ، کوآپریٹو گارڈن سٹی، ماڈل ٹاؤن لاہور کے نام سے عملی طور پر وجود میں آیا۔
حاشیہ:
ماڈل ٹاؤن سوسائٹی نومبر 1921ء میں Co-operative Societies Act, 1912 کے تحت رجسٹر ہوئی۔ بعد میں Punjab Co-operative Societies Act, 1925 کے نفاذ پر اسے نئے قانون کے مطابق ازسر نو منظور کیا گیا۔
ماڈل ٹاؤن لاہور کو بنانے والی اس کمیٹی کے اراکین مختلف مذہبی اور سماجی پس منظر سے تعلق رکھتے تھے۔ ان میں ہندو، مسلمان اور سکھ شامل تھے۔ سوسائٹی کا مقصد ایک منظم اور مشترکہ رہائشی بستی بنانا تھا جہاں سب برادریوں کے لوگ مل کر رہ سکیں۔ یہ اس دور کے لاہور کی فضا کی عکاسی کرتا ہے جب شہری ترقی اور باہمی تعاون کو مذہب سے زیادہ اہم سمجھا جاتا تھا۔
ان عہدیداران نے نہ صرف سوسائٹی کے قیام میں بنیادی کردار ادا کیا بلکہ اُس دور کے برصغیر میں مشترکہ شہری شعور، بین المذاہب تعاون اور جدید شہری منصوبہ بندی کی ایک نئی مثال قائم کی۔
ماڈل ٹاؤن سوسائٹی اسی سوچ اور جذبے کی بنیاد پر قائم ہوئی اور آگے چل کر برصغیر کے شہری منصوبوں کے لیے ایک مثال (Urban Ideal) بن گئی۔
جاری ہے۔۔۔ باقی اگلی قسط میں 

0
0
Views
0
0

مصنف کے سب سے زیادہ پڑھے جانے والے آرٹیکلز

Article Image

سمجھدار قیادت گالی کا جواب کبھی طاقت یا سختی سے نہیں، عقلمندی سے دیتی ہے۔

لاہوری چاچا، ایک شخص نہیں، ایک استعارہ بن گیا ہے، ایک ایسا آئینہ جس میں بہت سے من چلے اور مایوس افراد اپنا چہرہ دیکھ رہے ہیں۔


Article Image

ماڈل ٹاؤن لاہور کا ماسٹر پلان تیار کرنے والے ٹاؤن پلانر / آرکیٹکٹ کو 800 روپے معاوضہ دیا گیا تھا۔

پچھلی قسط 11 میں ہم نے یہ دیکھا کہ ماڈل ٹاؤن سوسائٹی کو رکھ کوٹ لکھپت کے ریزروڈ فاریسٹ علاقے کی زمین جون 1922 میں ایک باقاعدہ مالی اور قانونی عمل کے تحت الاٹ ہوئی۔ اور حیازت (possession) کا عمل مکمل ہونے کے بعد اگلا مرحلہ تھا منصوبہ بندی (Planning) اور بن


Article Image

دریا کی زمین ۔ پہلی قسط

لاہور میں دریا کی زمین (River Bed) پر ہاؤسنگ اسکیمیں بنانے کا انکشاف ▫️پارک ویو سوسائٹی اور Ruda (راوی اربن ڈویلپمنٹ اتھارٹی) کی منظور شدہ سوسائیٹیز کا مستقبل کیا ہے؟