ہمارا بجلی کا نظام کیسے ٹھیک ہو گا؟ قسط: 8
پاکستان میں شوگر ملوں کے گنے کے پھوک سے چلنے والے پاور پلانٹس کو بھی اگر ادائیگی ڈالرز میں کی جائے گی تو پھر اس ملک کا اللہ حافظ ہے۔
اس قسط میں ہم بگاس (Bagasse) سے بجلی پیدا کرنے والے پاور پلانٹس اور ان کے آئی پی پیز کا ذکر کریں گے۔
پاکستان میں بگاس سے بجلی پیدا کرنے کا تصور باقاعدہ طور پر جنوری 2008 کی کوجنریشن پالیسی کے بعد سامنے آیا، جب حکومت نے شوگر ملوں کو بگاس کے ذریعے اضافی بجلی نیشنل گرڈ میں دینے کی اجازت دی۔ بگاس کو ملک میں بائیوماس توانائی کے ایک اہم اور مقامی ذریعے کے طور پر سمجھا جاتا ہے، جس سے شوگر ملیں اپنی ضرورت پوری کرنے کے ساتھ بطور انڈیپنڈنٹ پاور پروڈیوسرز (IPPs) اضافی بجلی بھی پیدا کر سکتی ہیں، جبکہ اضافی بجلی نیشنل گرڈ کو دی جاتی ہے۔اس سے قبل شوگر ملیں بگاس کو صرف اپنی اندرونی ضروریات کے لیے استعمال کرتی تھیں اور اضافی بجلی کا کوئی تصور نہیں تھا، یہ تبدیلی جدید کوجنریشن اور ہائی پریشر بوائلرز سے آئی، 2008 کی پالیسی کے بعد فروغ ملا اور 2013 سے 2015 کے دوران نیشنل گرڈ کو بجلی دینا شروع ہوئی۔
پاکستان میں تقریباً 89 فعال شوگر ملز موجود ہیں، جن میں سے بگاس سے بجلی پیدا کرنے والے گرڈ سے منسلک بڑے اور فعال پلانٹس کی تعداد تقریباً 9 ہے۔ یہی چند bagasse based IPPs باقاعدہ نیشنل گرڈ کو بجلی فراہم کرتے ہیں اور capacity payment کے فریم ورک میں نمایاں طور پر شامل ہیں، جبکہ باقی شوگر ملز یا تو محدود پیمانے پر کام کرتی ہیں یا صرف اپنی اندرونی ضروریات کے لیے بگاس سے بجلی پیدا کرتی ہیں۔
حکومت نے مالی سال 2024-25 کے لیے ان 9 بگاس بیسڈ پاور پلانٹس کو capacity payments کی مد میں تقریباً 6.9 ارب روپے کی ادائیگی کی ہے۔(کیپیسٹی پیمنٹس وہ رقم ہوتی ہے جو پاور پلانٹ کو اس بات کی ضمانت کے بدلے دی جاتی ہے کہ جب بھی ہمیں ضرورت ہوگی وہ ہمیں بجلی فراہم کرے گا، چاہے ہم اس سے بجلی لیں یا نہ لیں۔)
اب میں آتا ہوں اُن بنیادی سوالات پر جو اس رپورٹ اور فہرست کو پڑھنے کے بعد ذہن میں ابھرتے ہیں، اور جن کی وضاحت ضروری ہے۔
کیونکہ پاکستان میں شوگر ملوں کے ذریعے بگاس یعنی گنے کے پھوک سے پیدا ہونے والی بجلی کا ٹیرف ایک سنگین معاشی تضاد ظاہر کرتا ہے، کیونکہ بگاس ایک مقامی صنعتی فضلہ ہے جو زیرو ویلیو ایندھن شمار کیا جاتا ہے اور عموماً اسی جگہ جلا کر استعمال ہوتا ہے۔
لیکن پاکستان میں بگاس کی قیمت کو درآمدی کوئلے اور ڈالر سے جوڑ کر اس سے بننے والی بجلی 14 سے 17 روپے فی یونٹ رکھی گئی، جبکہ بھارت میں یہی بجلی مقامی لاگت پر عموماً 4 سے 6 بھارتی روپے فی یونٹ یعنی تقریباً 13 سے 20 پاکستانی روپے فی یونٹ میں ملتی ہے، مگر پاکستان میں اسے مہنگے درآمدی کوئلے سے منسلک کر دیا گیا۔یہ صورتحال ایک سنجیدہ پالیسی تضاد کی نشاندہی کرتی ہے، جہاں بظاہر مقامی اور سستے زرعی فضلے سے پیدا ہونے والی بجلی کو بھی تھرمل ریٹس یعنی درآمدی کوئلہ یا ڈیزل کے برابر قیمت پر خریدا جا رہا ہے۔
کیا پالیسی سازی کے وقت یہ اندازہ نہیں لگایا گیا تھا کہ اس طرح کی قیمتوں سے عوام کے بجلی کے بلوں پر غیر ضروری بوجھ پڑے گا؟ سستے مقامی ایندھن سے پیدا ہونے والی بجلی کو مہنگے درآمدی ایندھن کے برابر خریدنے کا براہ راست اثر صارفین کے بجٹ پر پڑا، اور یہ تاثر مضبوط ہوا کہ چند محدود لوگوں کو فائدہ پہنچانے کے لیے عوام کے گھریلو بجٹ سے زبردستی رقم نکالی جا رہی ہے۔اگر کوئی متعلقہ فریق اس حوالے سے وضاحت دینا چاہے تو میں اسے سننے کے لیے تیار ہوں، اور اگر میری بات غلط ثابت ہوئی تو آئندہ قسط میں اس کی تصحیح اور معذرت بھی پیش کروں گا۔
(جاری ہے، باقی اگلی قسط میں)🔸 ہم قارئین کو دعوت دیتے ہیں کہ وہ پاکستان کے بجلی کے نظام اور مہنگے بجلی کے بلوں کے اسٹرکچر کو سمجھنے اور اسے بہتر بنانے کے لیے ہمارے تحقیق پر مبنی پلیٹ فارم کا حصہ بنیں۔
ہم اس نظام پر ایک جامع وائٹ پیپر تیار کر رہے ہیں جسے حتمی شکل دے کر متعلقہ اداروں تک پہنچایا جائے گا تاکہ پالیسی سطح پر اصلاح ممکن ہو سکے۔یہ ایک اجتماعی کوشش ہے اور ہمیں ایسے سنجیدہ افراد کی ضرورت ہے جو اپنے اپنے حلقوں میں اس تھنک ٹینک اور ویب پورٹل کا تعارف کرائیں اور ہمارے مضامین کے اقتباسات شیئر کریں تاکہ بجلی کے مہنگے بلوں میں اصلاح کے لیے مؤثر عوامی رائے تشکیل دی جا سکے۔