Home

عوامی تحقیقاتی سلسلہ | قسط 39

🔳طویل عرصہ پس منظر میں رہنے والے، پاکستان کی 1994 کی پاور پالیسی کے خالق (Architect) اور ملک میں نجی بجلی گھروں (IPPs) کے موجودہ ماڈل کی بنیاد رکھنے والے شاہد حسن خان سے میری ایک ڈرامائی ملاقات

ناقدین کے مطابق آئی پی پیز سے کیے گئے معاہدوں میں شامل چھ مہلک شرائط جیسا کہ

1. ڈالر انڈیکسیشن

2. کیپیسٹی پیمنٹس

3. ٹیک اور پے (Take or Pay)

4. امپورٹڈ فوسل فیول

5. ہائی آر او آئی (Guaranteed Return)

6. حکومتی ضمانتیں (Sovereign Guarantees)

شاہد حسن خان اور ان کی ٹیم کی وضع کردہ ہیں اور ان شرائط نے پاکستان کی معیشت پر ایسا بوجھ ڈال دیا ہے جس کی قیمت ہر پاکستانی کو اپنے بجلی کے بلوں کے ذریعے ادا کرنا پڑ رہی ہے اور آئی پی پیز سے کیے گئے معاہدوں کے باعث یہ سلسلہ 2048 تک جاری رہے گا۔

بے نظیر بھٹو کے دوسرے دورِ حکومت میں ’پرائم منسٹر ٹاسک فورس آن انرجی‘ کے سربراہ کی حیثیت سے شاہد حسن خان پر یہ سوال بھی اٹھایا جاتا ہے کہ انہوں نے آخر کس مفروضے کی بنیاد پر بجلی کی طلب میں مسلسل 5.35 فیصد اور پیداوار میں 7.12 فیصد سالانہ اضافے کا اندازہ لگایا؟ اگر ملک میں بجلی کی کھپت اس رفتار سے نہیں بڑھ رہی تھی تو بڑے پیمانے پر آئی پی پیز لگانے اور ان کے ساتھ طویل المیعاد معاہدے کرنے کی ضرورت کیوں پیش آئی؟

(واضح رہے کہ 1994 کی پالیسی کے تحت قریباً 16 سے 20 بڑے آئی پی پیز فعال ہوئے تھے جن کی تعداد بڑھتے بڑھتے اب 100 سے بھی تجاوز کر چکی ہے۔)

ناقدین کے مطابق اس غلط منصوبہ بندی کے نتیجے میں پیدا ہونے والی اضافی بجلی اور آج قوم پر مسلط کیپیسٹی پیمنٹس کے کھربوں روپے کے بوجھ کی تمام تر ذمہ داری اسی ٹاسک فورس اور اس کے فیصلوں پر عائد ہوتی ہے۔

کیا پالیسی بناتے وقت یہ امکان ان کے پیشِ نظر نہیں تھا کہ اگر یہ اندازے غلط ثابت ہوئے تو قومی خزانے، زرمبادلہ اور بجلی کے صارفین کو اس کے نتائج سے بچانے کے لیے کیا متبادل راستہ یا حفاظتی انتظام موجود ہوگا؟

شاہد حسن خان پر ایک بڑا اعتراض یہ بھی کیا جاتا ہے کہ جب پاکستان کے پاس پانی (Hydropower)، ہوا (Wind Power) اور سورج (Solar Power) جیسے قدرتی اور قابلِ تجدید ذرائع سے بجلی پیدا کرنے کے وسیع امکانات موجود تھے تو 1994 کی پاور پالیسی میں درآمدی فوسل فیول (Fossil Fuels) خصوصاً فرنس آئل اور قدرتی گیس پر چلنے والے بجلی گھروں کو کیوں ترجیح دی گئی؟ اگر اُس وقت توانائی کی پالیسی میں مقامی وسائل اور قابلِ تجدید توانائی (Local and Renewable Energy Sources) کو ترجیح دی جاتی تو پاکستان درآمدی ایندھن اور ڈالر کے اتار چڑھاؤ کا اس حد تک محتاج نہ بنتا۔

کیا شاہد حسن خان کے بارے میں برسوں سے پھیلنے والا یہ تاثر حقائق پر مبنی ہے یا تصویر کا ایک دوسرا رخ بھی موجود ہے؟ پالیسی کس نے بنائی، فیصلے کس نے کیے، ذمہ داری کس پر عائد ہوتی ہے اور شاہد حسن خان کا اصل کردار کیا تھا؟

️آئیے الزامات، دستاویزات اور شاہد حسن خان کے اپنے مؤقف کی روشنی میں حقیقت جاننے کی کوشش کرتے ہیں۔ یہ مؤقف میری ان کے ساتھ ہونے والی 2 گھنٹے کی طویل نشست پر مبنی ہے۔

عوامی تحقیقاتی سلسلہ | قسط 39

موضوع: پاکستان کا بجلی کا نظام کیسے ٹھیک ہوگا؟

عنوان: موجودہ پاور پالیسی، امپورٹڈ فنانسنگ ماڈل اور ٹیکنوکریٹ شاہد حسن خان کا کردار

🔺 جب ادارے حقائق کی فراہمی سے گریزاں ہوں تو سچ تک پہنچنے کی کوشش عوامی ذمہ داری بن جاتی ہے۔

تحریر و تحقیق: سید شایان

پچھلی قسط میں ہم نے پاکستان کے طاقتور ترین بیوروکریٹ سلمان فاروقی اور 1994 کی پاور پالیسی پر عمل درآمد میں ان کے کردار پر بات کی تھی اور اسی تناظر میں ہم نے انہیں اس پالیسی کا معمار کہا تھا۔

اس قسط میں ہم ایک ایسے ٹیکنوکریٹ کا ذکر کریں گے جن کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ 1994 کی پاور پالیسی کے حقیقی خالق (Architect) ہیں۔ یعنی وہ شخص جس نے اس پالیسی کا بنیادی تصور پیش کیا، اسے ڈیزائن کیا اور تحریری شکل دی۔ بعد ازاں اسی پالیسی کو سرکاری نظام کے ذریعے عملی جامہ پہنایا گیا۔

یہی وہ پالیسی تھی جس نے پاکستان کے پاور سیکٹر میں ڈالر انڈیکسیشن، کیپیسٹی پیمنٹ، ٹیک اور پے، درآمدی ایندھن پر انحصار، گارنٹیڈ ریٹرن اور ریاستی ضمانت جیسے چھ مالیاتی فارمولوں کی بنیاد رکھی۔

یہاں تاریخ ہمیں ایک ایسے کردار تک لے جاتی ہے جس کا نام آج بھی عام پاکستانی کے لیے تقریباً اجنبی ہے۔ حیرت کی بات یہ ہے کہ انٹرنیٹ پر اس شخص کی ایک تصویر تک دستیاب نہیں۔ سرکاری ریکارڈ، پرانی اخباری فائلوں، امریکی دستاویزات، بین الاقوامی معاہدوں اور ان کمپنیوں کے ریکارڈ میں بھی جن سے وہ وابستہ رہے ان کی کوئی تصویر یا ان کا تفصیلی تعارف نہیں ملتا۔

یہ نام ہے شاہد حسن خان کا جنہیں محترمہ بے نظیر بھٹو نے 1993ء میں پاکستان میں بجلی کے بحران اور لوڈشیڈنگ پر قابو پانے کے لیے قائم کی گئی اسپیشل ٹاسک فورس آن انرجی کا چیئرمین مقرر کیا تھا۔ وہ نہ کوئی روایتی بیوروکریٹ تھے، نہ کسی سیاسی خاندان سے ان کا تعلق تھا بلکہ ایک ٹیکنوکریٹ تھے جو امریکہ کی ایک معروف پاور کمپنی سے وابستہ رہ چکے تھے۔ یہی تجربہ انہیں 1990ء کی دہائی میں پاکستان کی توانائی پالیسی کے اس طاقتور حلقے تک لے آیا جہاں ملک کے پاور سیکٹر کے مستقبل کے فیصلے کیے جا رہے تھے۔

کہا جاتا ہے کہ شاہد حسن خان کی اہلیہ محترمہ بے نظیر بھٹو کی جلاوطنی اور بیرونِ ملک قیام کے دوران ان کی چند انتہائی بااعتماد اور قریبی سہیلیوں میں شمار ہوتی تھیں۔ وہ کوئی معروف سیاسی شخصیت نہیں تھیں بلکہ پسِ پردہ رہ کر انہوں نے بے نظیر بھٹو کی جلاوطنی کے کڑے دنوں میں اکثر ان کی میزبانی بھی کی تھی۔

1990ء کی دہائی کے اوائل میں جب محترمہ بے نظیر بھٹو دوبارہ اقتدار میں آنے کی سیاسی جدوجہد کر رہی تھیں پاکستان میں لوڈشیڈنگ اپنے عروج پر تھی اور عوام شدید مشکلات کا شکار تھے۔ محترمہ کا خیال تھا کہ اگر وہ بجلی کے بحران کا فوری اور مؤثر حل پیش کر دیں تو اس سے ان کا سیاسی مستقبل مزید مضبوط ہو سکتا ہے۔

اسی دوران انہوں نے اپنی قریبی سہیلی کے شوہر شاہد حسن خان کو جو اس وقت ایک امریکی پاور کمپنی سے وابستہ تھے اپنے معاشی اور توانائی کے وژن سے آگاہ کیا اور بجلی کے بحران کے ممکنہ حل پر ان سے مشاورت بھی کی۔

پھر جب محترمہ بے نظیر بھٹو نے 1993ء میں دوسری مرتبہ وزیرِ اعظم کا منصب سنبھالا تو ان کے ذہن کے گوشوں میں کہیں شاہد حسن خان کا نام بھی تھا۔ چنانچہ انہوں نے اس مرتبہ لوڈشیڈنگ کے خاتمے کے لیے روایتی بیوروکریسی سے ہٹ کر ایک ہائی پاورڈ ٹاسک فورس آن انرجی تشکیل دی جس کی سربراہی شاہد حسن خان کو سونپی گئی۔ اس ٹاسک فورس کا بنیادی مقصد ملک کو لوڈشیڈنگ کے بحران سے نکالنے کے لیے ’فوری نجی سرمایہ کاری‘ لانا تھا۔

شاہد حسن خان ستمبر 1993ء سے نومبر 1996ء تک تقریباً 3 سال محترمہ بے نظیر بھٹو کی دوسری حکومت میں وزیرِ اعظم کے معاونِ خصوصی برائے اقتصادی امور اور شعبۂ توانائی (Special Assistant to the Prime Minister) کے عہدے پر فائز رہے۔

وزارتِ توانائی کا قلمدان اس دوران زیادہ تر وقت خود وزیرِ اعظم بے نظیر بھٹو کے پاس تھا یا دیگر وزراء اس کے نگران تھے لیکن اصل پالیسی سازی، 1994ء کی پاور پالیسی کی تشکیل اور آئی پی پیز (IPPs) کے ساتھ تمام تر مذاکرات کے پیچھے اصل دماغ اور بااختیار شخصیت شاہد حسن خان ہی کی تھی۔ یہی وجہ ہے کہ اس دور کی پاور پالیسی اور اس کے نتائج کا ذمہ دار بھی انہیں ہی گردانا جاتا ہے۔

اب ذکر کرتے ہیں شاہد حسن خان سے ہونے والی اپنی ڈرامائی ملاقات کا۔ دو روز قبل اتفاقاً نیشن اخبار کے ایک پرانے شمارے میں ان کی والدہ کے انتقال کی خبر اور تعزیتی اشتہار نظر سے گزرا جس سے معلوم ہوا کہ ان کا جنازہ کئی سال قبل طفیل روڈ، لاہور کینٹ پر واقع ان کی رہائش گاہ سے اٹھایا گیا تھا۔ یہی وہ پہلا واضح سراغ تھا جو ہمارے ہاتھ لگا۔

ہم نے سوچا کہ اتنے برس گزر جانے کے باوجود دیے گئے پتے پر ان کا کوئی عزیز، رشتہ دار یا پرانا واقف کار ضرور مل جائے گا جو کم از کم یہ بتا سکے کہ شاہد حسن خان آج کل کہاں ہیں۔ میری امید تھی کہ وہاں سے ان کے بارے میں کوئی مستند معلومات یا کم از کم ان کی ایک تصویر مل جائے جسے میں اپنی بجلی پر تحقیقی رپورٹ میں شامل کر سکوں۔ اس وقت تک میرے بیشتر ذرائع یہی بتا رہے تھے کہ بے نظیر حکومت کے خاتمے کے بعد احتسابی کارروائیوں کے آغاز پر وہ اپنی اہلیہ کے ساتھ پاکستان چھوڑ کر واپس امریکہ چلے گئے تھے۔

چنانچہ دو روز قبل دفتری اوقات ختم ہونے کے بعد گھر جانے کے بجائے میں نے شاہد حسن خان کے گھر جانے کا فیصلہ کیا اور ڈرائیور کو لاہور کینٹ چلنے کا کہا۔ شام ہو چلی تھی لیکن آج کل سورج ذرا دیر سے ڈھلتا ہے اس لیے شام چھ بجے کے بعد بھی کافی روشنی رہتی ہے۔ کافی تلاش کے بعد بالآخر ہم دیے گئے پتے پر واقع اس گھر تک پہنچنے میں کامیاب ہو گئے۔

اب یہاں ایک دلچسپ صورتِ حال پیدا ہوئی۔ گھر کے باہر گیٹ پر ایک خاتون اپنی بیٹی کے انتظار میں گھریلو ملازمہ کے ساتھ کھڑی تھیں۔ ہماری گاڑی گیٹ کے قریب پہنچی تو انہوں نے دروازے کھول دیے۔ غالباً انہیں گمان ہوا کہ ان کی بیٹی آ رہی ہے۔ ہم گاڑی سے باہر نکلے تو ہمیں دیکھ کر وہ چونکیں اور انگریزی میں بولیں

No, no, this is the wrong address. You have come to the wrong house.

میں نے کہا، نہیں، ہم صحیح جگہ پر آئے ہیں۔ میں شاہد حسن خان سے ملنا چاہتا ہوں۔

ان کا نام سنتے ہی وہ بولیں

‏Yes, he is my husband. I am his wife.

میں نے انہیں بتایا کہ میں پاکستان کے پاور سیکٹر پر ایک تحقیقی رپورٹ تیار کر رہا ہوں اور شاہد حسن خان سے ملاقات چاہتا ہوں۔ اس پر انہوں نے سادگی سے جواب دیا کہ شاہد یہیں گھر پر ہیں۔

یہ سن کر میری خوشی کا اندازہ وہی شخص کر سکتا ہے جس نے کسی ایک کردار کی تلاش میں مہینوں لگا دیے ہوں۔ میں تو صرف ان کی ایک تصویر کی امید لے کر وہاں پہنچا تھا۔ یہ گمان بھی نہیں تھا کہ خود شاہد حسن خان سے ملاقات ہو جائے گی۔ پچھلے کئی دنوں سے میری قسط صرف اس لیے رکی ہوئی تھی کہ نہ ان کی کوئی تصویر مل رہی تھی اور نہ ان تک پہنچنے کا کوئی راستہ۔ یہ میں ہی جانتا ہوں کہ انہیں ڈھونڈنے کے لیے میں نے کہاں کہاں تلاش کی اور کیا کچھ کیا۔ اس لیے جب معلوم ہوا کہ وہ اسی گھر میں موجود ہیں تو وہ میرے لیے محض ایک ملاقات نہیں بلکہ کئی ماہ کی تلاش کا ثمر تھا۔

مجھے شاہد صاحب کے انتہائی سادہ سے ہوم آفس میں بٹھا دیا گیا۔ کچھ دیر بعد سفید لباس میں ملبوس ایک صاحب کمرے میں داخل ہوئے۔ مصافحے کے لیے ہاتھ بڑھایا اور کہا

‏I am Shahid Hasan Khan.

یوں کئی ماہ کی کھوج کے بعد شاہد حسن خان بنفسِ نفیس میرے سامنے تھے۔ ان سے میری یہ ملاقات اچانک بھی تھی اور ڈرامائی بھی۔

اس نشست میں شاہد حسن خان نے مجھے بتایا کہ میں نے پوری زندگی کوشش کی کہ میری توجہ صرف اپنے کام پر رہے۔ میں نے ہمیشہ میڈیا اور غیر ضروری تشہیر سے دور رہنا پسند کیا کیونکہ میرا یقین ہے کہ جب انسان شہرت کا عادی ہو جاتا ہے تو اس کی توجہ کام سے ہٹنے لگتی ہے۔ شاید یہی وجہ ہے کہ آپ کو میرے بارے میں نہ کوئی خاص معلومات ملیں گی اور نہ ہی میری تصاویر۔

پھر قدرے سنجیدگی سے انہوں نے کہا لیکن چونکہ آپ اتنی محنت کے بعد میرے گھر تک پہنچے ہیں اس لیے میں یہ مناسب نہیں سمجھتا کہ آپ خالی ہاتھ واپس جائیں۔ آپ نے بجلی کے موضوع پر جو تحقیق کی ہے اس نے مجھے آمادہ کیا کہ میں آپ کے سوالات کے جواب دوں، اپنا نقطۂ نظر آپ کے سامنے رکھوں اور اپنی کچھ یادیں بھی آپ سے شیئر کروں۔

اس کے بعد انہوں نے 1994ء کی پاور پالیسی کے بارے میں اپنا مؤقف بیان کرنا شروع کیا اور میں اعتراف کرتا ہوں کہ ان کی کئی باتیں میرے لیے غیر متوقع تھیں۔

ہمارے درمیان یہ گفتگو خاصی طویل رہی اور اس میں کئی ایسے نکات سامنے آئے جنہیں ایک ہی قسط میں سمیٹنا ممکن نہیں۔ اس لیے اگلی قسط میں میں شاہد حسن خان کے انٹرویو کے وہ حصے پیش کروں گا جن میں انہوں نے 1994ء کی پاور پالیسی، آئی پی پیز کے قیام، بعد میں ہونے والی تبدیلیوں اور اقتدار کے ایوانوں میں ہونے والے فیصلوں کے بارے میں اپنی تفصیلی رائے دی۔ ان میں سے بعض باتیں میرے لیے بھی غیر متوقع تھیں اور میرا خیال ہے کہ وہ قارئین کے لیے بھی حیران کن انکشافات کا باعث ہوں گی۔

اس طویل اور حیران کن گفتگو کی تفصیل اگلی قسط میں پیش کروں گا۔

(اس مضمون کے ساتھ شائع ہونے والی شاہد حسن خان کی تصویر غالباً انٹرنیٹ اور ڈیجیٹل دنیا میں ان کی پہلی عوامی تصویر ہے، جو ہم نے دورانِ گفتگو ان کی اجازت سے لی۔

اس موقع پر ریکارڈ کیے گئے ان کے انٹرویو، ویڈیو کلپس اور گفتگو کے دیگر اہم حصے آئندہ چند اقساط میں مرحلہ وار قارئین کے سامنے پیش کیے جائیں گے)

(جاری ہے، باقی اگلی قسط میں)

1
Views
56
32
تمام اقساط پڑھیے

مزید مضامین

قسط نمبر 38

قسط نمبر 38

🔳 سلمان فاروقی اور وزارتِ پانی و بجلی کے وہ فیصلے جنہوں نے آنے والی ہر حکومت کے ہاتھ باندھ دیے اور ملک کو کیپیسٹی پیمنٹ، ڈالر انڈیکسیشن، امپورٹڈ ایندھن، حکومتی گارنٹی اور Take or Pay جیسے معاہدوں کے ایسے چکر (Vicious Cycle) میں ڈال دیا جس سے پاکستان آج تک باہر نہیں نکل سکا۔

قسط نمبر 37

قسط نمبر 37

🔳 یہ پاک چین دوستی نہیں ہے بلکہ دوستی کے نام پر Economic Hitmanship کا کلاسک کیس دکھائی دیتا ہے یعنی ایسا معاشی جال جس میں سستے منصوبے مہنگے کر کے بیچے جائیں، منافع ڈالروں میں وصول کیا جائے اور طویل مدت (جیسا کہ 30 سالہ) مشکوک معاہدوں کے ذریعے کسی ملک کو مالی طور پر جکڑ دیا جائے۔ ( قارئین سے گزارش ہے کہ Economic Hitmanship کی اصطلاح ضرور سمجھیں اس سے یہ پوری کہانی واضح ہو جائے گی۔)

قسط نمبر 36

قسط نمبر 36

🔳 کراچی کے کروڑوں شہری پینے کے صاف پانی کی قلت اور ٹینکر مافیا کے رحم و کرم پر ہیں مگر اسی شہر کے ساحل پر پورٹ قاسم کول پاور پلانٹ کے لیے روزانہ لاکھوں گیلن پانی مہنگے ڈی سیلینیشن اور ڈی منرلائزیشن کے عمل سے گزار کر بوائلرز کو پلایا جا رہا ہے، کیونکہ کھارا پانی پلانٹ کے لیے نقصان دہ ہے۔

قسط نمبر 35

قسط نمبر 35

🔳 ساہیوال کا کوئلے سے بجلی بنانے والا آئی پی پی (پاور پلانٹ) پاکستان کو دنیا کی مہنگی ترین بجلی کے ایک ایسے چکر میں پھنسا چکا ہے، جس سے نکلنا اب ہمارے لیے ایک بڑا قومی چیلنج بن گیا ہے۔

قسط نمبر 34

قسط نمبر 34

🔳 کوئلے کی بجلی
▫️ساہیوال پاور پلانٹ جیسا میگا پراجیکٹ بندرگاہ، پورٹ قاسم، یا تھر کے کوئلے کے ذخائر سے سینکڑوں کلومیٹر دور لگانے کا فیصلہ کس “ماسٹر مائنڈ” نے اور کس بنیاد پر کیا تھا؟