🔳 کراچی کے کروڑوں شہری پینے کے صاف پانی کی قلت اور ٹینکر مافیا کے رحم و کرم پر ہیں مگر اسی شہر کے ساحل پر پورٹ قاسم کول پاور پلانٹ کے لیے روزانہ لاکھوں گیلن پانی مہنگے ڈی سیلینیشن اور ڈی منرلائزیشن کے عمل سے گزار کر بوائلرز کو پلایا جا رہا ہے، کیونکہ کھارا پانی پلانٹ کے لیے نقصان دہ ہے۔
حکومتوں کی ترجیحات دیکھیے کہ شہری پانی کی بوند بوند کو ترس رہے ہیں، مگر پاور پلانٹ اور اس کے اسٹاف کے لیے میٹھا پانی سونے کے بھاؤ تیار ہو رہا ہے اور اس کا خرچہ بھی انہی پیاسے شہریوں کے بجلی بلوں میں شامل کیا جا رہا ہے۔یہ بات سمجھ سے بالاتر ہے کہ جو پانی عوام نے پیا ہی نہیں، اس کی قیمت بھی ان سے کیوں وصول کی جا رہی ہے؟
🔲 عوامی تحقیقاتی سلسلہ | قسط 36
موضوع: پاکستان کا بجلی کا نظام کیسے ٹھیک ہو گا؟عنوان: پورٹ قاسم کول پاور پلانٹ، ایک آئی پی پی، ایک کہانی🔺 جب ادارے حقائق کی فراہمی سے گریزاں ہوں تو پھر سچ تک پہنچنا عوام کی ذمہ داری ہے۔
تحریر و تحقیق: سید شایانپورٹ قاسم پاور پلانٹ کوئلے سے چلنے والا ایک تھرمل پلانٹ ہے، جسے چلانے، کوئلہ ٹھنڈا رکھنے اور بوائلرز کے لیے روزانہ لاکھوں گیلن میٹھے پانی (Fresh Water) کی ضرورت ہوتی ہے۔ پلانٹ کا مقام پورٹ قاسم کراچی یعنی عین سمندر کے کنارے اس لیے چنا گیا تھا کہ کوئلے کی ترسیل کی لاگت کم ہو، لیکن منصوبہ ساز یہ بنیادی سوال نظر انداز کر گئے کہ پلانٹ چلانے کے لیے میٹھا پانی کہاں سے آئے گا؟
کراچی خود پانی کی شدید قلت کا شکار ہے، اس لیے وہاں سے پانی ملنا آسان نہیں تھا۔ اس مسئلے کا جو حل نکالا گیا، اس پر عالمی ماہرین بھی حیران رہ گئے۔ پلانٹ کی ضرورت پوری کرنے کے لیے سمندری پانی کو میٹھا کرنے کا ایک انتہائی مہنگا پلانٹ (Desalination Plant) لگانا پڑا، جس پر کروڑوں ڈالر کی اضافی لاگت آئی۔
اس سے بھی بڑھ کر پانی کی سپلائی لائنوں کے تنازعات کے باعث کئی بار ایسی صورتِ حال پیدا ہوئی کہ پلانٹ کے لیے میٹھے پانی کی ہنگامی سپلائی واٹر ٹینکرز کے ذریعے کرنے کی نوبت آ گئی۔
پورٹ قاسم کول پاور پلانٹ کے بارے میں عالمی تھنک ٹینکس، ماحولیاتی ماہرین اور معاشی تجزیہ کاروں کی رپورٹس کا مطالعہ کیا جائے تو اس منصوبے کے حوالے سے چھ انتہائی خوفناک اور تشویشناک نکات سامنے آتے ہیں، جن پر دنیا بھر میں بحث ہو رہی ہے۔
1- امپورٹڈ کوئلے پر انحصار اور ملکی خزانے کا قتلِ عام
عالمی معاشی تھنک ٹینک IEEFA کے مطابق، اس پاور پلانٹ کی سب سے ہولناک حقیقت اس کا درآمدی (امپورٹڈ) کوئلے پر انحصار ہے۔ منصوبے کے آغاز پر سستی بجلی کے بلند بانگ دعوے کیے گئے تھے، لیکن عالمی مارکیٹ میں کوئلے کی بڑھتی قیمتوں اور روپے کی مسلسل بے قدری نے اسے پاکستان کی تاریخ کا مہنگا ترین بجلی گھر بنا دیا۔ پاکستان کو اس پلانٹ کو چلانے کے لیے قیمتی ڈالرز باہر بھیج کر مہنگا کوئلہ خریدنا پڑتا ہے، جس سے نہ صرف زرِ مبادلہ کے ذخائر پر شدید دباؤ آ رہا ہے بلکہ یہی بھاری درآمدی لاگت ملک میں سرکلر ڈیٹ (گردشی قرضے) کے بے قابو جن کو جنم دینے کی بڑی وجہ بھی ہے۔ ستم ظریفی یہ ہے کہ تھر میں صدیوں تک چلنے والے کوئلے کے عظیم ملکی ذخائر موجود ہونے کے باوجود، ایک ایسا پیچیدہ پلانٹ لگایا گیا جو صرف بیرونی کوئلے پر ہی چل سکتا ہے جو ملکی معیشت کے ساتھ ایک سنگین مذاق ہے۔2- سمندر کے کنارے پانی کا بحران
پورٹ قاسم پاور پلانٹ کوئلے سے چلنے والا ایک تھرمل پلانٹ ہے، جسے چلانے، کوئلہ ٹھنڈا رکھنے اور بوائلرز کے لیے روزانہ لاکھوں گیلن میٹھے پانی (Fresh Water) کی ضرورت ہوتی ہے۔ پلانٹ کا مقام پورٹ قاسم کراچی یعنی عین سمندر کے کنارے اس لیے چنا گیا تھا کہ کوئلے کی ترسیل کی لاگت کم ہو، لیکن منصوبہ ساز یہ بنیادی سوال نظر انداز کر گئے کہ پلانٹ چلانے کے لیے میٹھا پانی کہاں سے آئے گا؟کراچی خود پانی کی شدید قلت کا شکار ہے، اس لیے وہاں سے پانی ملنا آسان نہیں تھا۔ اس مسئلے کا جو حل نکالا گیا، اس پر عالمی ماہرین بھی حیران رہ گئے۔ پلانٹ کی ضرورت پوری کرنے کے لیے سمندری پانی کو میٹھا کرنے کا ایک انتہائی مہنگا پلانٹ (Desalination Plant) لگانا پڑا، جس پر کروڑوں ڈالر کی اضافی لاگت آئی۔
اس سے بھی بڑھ کر پانی کی سپلائی لائنوں کے تنازعات کے باعث کئی بار ایسی صورتِ حال پیدا ہوئی کہ پلانٹ کے لیے میٹھے پانی کی ہنگامی سپلائی واٹر ٹینکرز کے ذریعے کرنے کی نوبت آ گئی۔
3- سپر کریٹیکل ٹیکنالوجی اور مینگرووز (Mangroves) کی تباہی کا تضاد
عالمی سطح پر اس منصوبے کے بارے میں دوسری بڑی منفی بات اس کی ماحولیاتی منافقت (Environmental Hypocrisy) تھی۔
پورٹ قاسم پاور پلانٹ کو بین الاقوامی سطح پر یہ کہہ کر پیش کیا گیا کہ یہ “سپر کریٹیکل” (Supercritical) ٹیکنالوجی پر مبنی ہے، جو نسبتاً کم آلودگی پھیلاتی ہے۔ لیکن عملی طور پر اسی پلانٹ کی تعمیر اور کوئلے کی برتھ (Berth) بنانے کے لیے پورٹ قاسم کے ساحل پر موجود قدیم اور قیمتی مینگرووز کے جنگلات (Mangrove Forests) بے دردی سے کاٹے گئے۔ واضح رہے کہ مینگرووز عام درختوں کی طرح خشک زمین پر نہیں بلکہ سمندر کے کنارے دلدلی اور کیچڑ والی زمین میں اگتے ہیں، جہاں سمندر کا کھارا پانی آتا جاتا رہتا ہے۔
یہ ساحل کو سمندری طوفانوں، سونامی، کٹاؤ اور تیز لہروں سے بچاتے ہیں۔ مچھلیوں، کیکڑوں اور پرندوں کی افزائش بھی انہی جنگلات میں ہوتی ہے، اسی لیے مینگرووز کو ساحل کی قدرتی ڈھال کہا جاتا ہے۔عالمی ماحولیاتی اداروں، جن میں IUCN جیسے ادارے بھی شامل ہیں، نے اس تضاد پر سخت تنقید کی کہ ایک طرف “گرین” اور “کلین” انرجی کی بات کی جاتی ہے، اور دوسری طرف کراچی کی ساحلی پٹی کو سونامی، سمندری طوفانوں اور کٹاؤ سے بچانے والی قدرتی ڈھال یعنی مینگرووز کو خود اپنے ہاتھوں سے تباہ کیا جا رہا ہے۔
پلانٹ سے نکلنے والا گرم پانی اور کوئلے کے ذرات جب سمندر میں شامل ہوتے ہیں تو اس سے مقامی مچھلیوں اور بحری حیات کو نقصان پہنچتا ہے۔ اس کا سب سے بڑا اثر مقامی ماہی گیروں پر پڑتا ہے، جن کا روزگار پہلے ہی شدید دباؤ کا شکار ہے۔
4۔ کوئلے کی راکھ (Ash Dump) کا جیوگرافیکل بلنڈر
ایک اور بڑی خامی جس پر عالمی سطح پر شدید تنقید ہوئی، وہ پلانٹ سے نکلنے والی کوئلے کی راکھ (Coal Ash) کو ٹھکانے لگانے کا ناقص انتظام ہے۔ پورٹ قاسم پر ہوا کا رخ عام طور پر سمندر سے خشکی، یعنی کراچی شہر، کی طرف ہوتا ہے۔ ماہرین نے خبردار کیا کہ راکھ کے اوپن ڈمپ ساحل کے قریب ہونے کی وجہ سے تیز سمندری ہوائیں اس زہریلی راکھ کو اڑا کر کراچی کی گنجان آباد آبادیوں تک لے جاتی ہیں، جو ایک بڑا انسانی اور ماحولیاتی جرم ہے۔
کول ایش (Coal Ash) کا جغرافیائی بلنڈر اس منصوبے کے ڈیزائن اور مقام کے انتخاب کا نہایت سنگین پہلو ہے۔ ماحولیاتی ماہرین کے نزدیک یہ پاکستان کی کمزور منصوبہ بندی کی ایک بڑی مثال ہے۔
5- ‘ٹیک اور پے’ (Take-or-Pay) اور کپیسٹی پیمنٹس کا پھندا
یہ پلانٹ پاکستان کے پاور سیکٹر کے سب سے متنازع قانون کے تحت چل رہا ہے۔ معاہدے کے مطابق، اگر حکومتِ پاکستان اس پلانٹ سے ایک یونٹ بجلی بھی نہ خریدے اور یہ پلانٹ بند بھی کھڑا رہے، تب بھی پاکستان کے عوام کو اس پلانٹ کے مالکان کو اربوں روپے ماہانہ ‘کپیسٹی چارجز’ (Capacity Payments) کی مد میں ادا کرنے ہی کرنے ہیں۔ تھنک ٹینکس اسے معاشی جونک قرار دیتے ہیں، جو پلانٹ نہ چلنے کی صورت میں بھی عوام کا خون چوس رہی ہے۔6- کاربن کا اخراج اور گلوبل کلائمیٹ لاک اِن (Global Climate Lock-in)
جب پوری دنیا کوئلے کے پاور پلانٹس کو بند کر کے گرین انرجی (سولر اور ونڈ) کی طرف جا رہی ہے، پاکستان اس پلانٹ کے 30 سالہ طویل معاہدے میں جکڑا جا چکا ہے۔ عالمی تھنک ٹینکس کا کہنا ہے کہ یہ پلانٹ سالانہ لاکھوں ٹن کاربن ڈائی آکسائیڈ اور زہریلا سلفر فضا میں چھوڑتا ہے، جس سے کراچی کا درجۂ حرارت (Heatwaves) بڑھ رہا ہے۔ پاکستان عالمی سطح پر ماحولیاتی تبدیلیوں سے سب سے زیادہ متاثر ہونے والا ملک ہے، اور یہ پلانٹ خود اپنے ہی ہاتھوں اپنے ماحول کو تباہ کرنے کا ایک طویل المیعاد جال بن چکا ہے، جسے چاہ کر بھی 30 سال سے پہلے ختم نہیں کیا جا سکتا۔
واضح رہے کہ پورٹ قاسم کول پاور پلانٹ کو چلانے والی اصل کمپنی پورٹ قاسم الیکٹرک پاور کمپنی پرائیویٹ لمیٹڈ ہے، جسے مختصر طور پر PQEPC کہا جاتا ہے۔ اس کمپنی میں چین کی پاور چائنا کا 51 فیصد حصہ ہے، جبکہ قطر کے سابق وزیرِ اعظم شیخ حمد بن جاسم کے سرمایہ کاری ادارے المرقاب کیپیٹل کا 49 فیصد حصہ بتایا جاتا ہے۔
یہ بجلی گھر 1,320 میگاواٹ کا imported coal based power plant ہے، اور سی پیک (CPEC) کے ابتدائی توانائی منصوبوں میں شامل ہے۔ یہ پلانٹ دو یونٹس پر مشتمل ہے، ہر یونٹ 660 میگاواٹ بجلی پیدا کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔
(جاری ہے، باقی اگلی قسط میں)
مکمل تحقیقی مضمون اور اس کا انگلش ورژن پڑھنے کے لیے ہمارے تھنک ٹینک سید شایان ڈاٹ کام پر لاگ اِن کیجیے۔
syedshayan.com/IPPs🔳 نوٹ: یہ تحریر عوامی مفاد کے پیش نظر نیک نیتی کے ساتھ مرتب کی گئی ہے، اور اس کی بنیاد مستند اور دستیاب معلومات پر ہے، جن میں PPIB، NEPRA، CPPA G، SECP، پاکستان اکنامک سروے اور IGCEP کے علاوہ عالمی بینک، ایشیائی ترقیاتی بینک، بین الاقوامی توانائی ایجنسی، بین الاقوامی قابل تجدید توانائی ایجنسی اور بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (IMF) سمیت دیگر باخبر اور آزاد تحقیقی ذرائع سے حاصل شدہ مواد شامل ہے۔ اس کی تیاری میں صحتِ معلومات اور درستی کو یقینی بنانے کے لیے ہر ممکن احتیاط برتی گئی ہے، تاہم اگر اس میں کسی نوعیت کی غیر ارادی غلطی، سہو یا عدم درستگی موجود ہو تو اس کی ذمہ داری ادارہ SyedShayan.com پر عائد نہیں ہو گی۔ البتہ اگر کسی جانب سے ایسی کسی غلطی یا عدم درستگی کی نشاندہی کی جائے اور وہ درست ثابت ہو تو ادارہ اسے تسلیم کرتے ہوئے فوری طور پر اس کی تصحیح کرے گا۔
⭕️ ہم قارئین کو دعوت دیتے ہیں کہ وہ پاکستان کے بجلی کے نظام اور مہنگے بجلی کے بلوں کے اسٹرکچر کو سمجھنے اور اسے بہتر بنانے کے لیے ہمارے تحقیق پر مبنی تھنک ٹینک SyedShayan.com کے ممبر بن کر اس تحقیق میں اپنا حصہ ڈالیں۔
ہم پاکستان کے بجلی کے نظام پر ایک جامع وائٹ پیپر تیار کر رہے ہیں، جسے حتمی شکل دے کر متعلقہ اداروں تک پہنچایا جائے گا۔ سنجیدہ افراد سے گزارش ہے کہ ہمارے تھنک ٹینک اور ویب پورٹل کا تعارف اپنے حلقوں میں کرائیں، مضامین کے اقتباسات شیئر کریں اور اپنی رائے دیں، تاکہ مہنگی بجلی کے خلاف مؤثر عوامی رائے قائم ہو سکے۔