🔳 اور اب ایرانی بجلی
یہ مضمون انگلش زبان میں پڑھنے کے لیے لاگ اِن کیجیے: syedshayan.com/IPPs
🔲 عوامی تحقیقاتی سلسلہ | قسط 29
موضوع: پاکستان کا بجلی کا نظام کیسے ٹھیک ہو گا؟
عنوان: ایرانی بجلی
🔺 جب ادارے حقائق کی فراہمی سے گریزاں ہوں تو پھر سچ تک پہنچنا عوام کی ذمہ داری ہے۔
تحریر و تحقیق: سید شایان
لاہور سے شائع ہونے والے انگلش اخبار دی نیشن نے 16 مئی کو یہ خبر شائع کی کہ نیپرا نے سینٹرل پاور پرچیزنگ ایجنسی (CPPA-G) اور ایران کی سرکاری پاور کمپنی توانیر (TAVANIR) کے درمیان ایران سے بجلی درآمد کرنے کے ترمیمی معاہدے اور نئے ٹیرف کی باضابطہ منظوری دے دی ہے۔
اس فیصلے کے تحت پاکستان کو مکران ڈویژن کے لیے ایران سے ملنے والی بجلی کی موجودہ سپلائی میں توسیع کے ساتھ مزید 100 میگاواٹ اضافی بجلی فراہم کی جائے گی۔
یہ خبر میرے لیے ہی نہیں بلکہ ہم سب پاکستانیوں کے لیے انتہائی تکلیف اور تشویش کا باعث ہے۔ پورا پاکستان، اور ہر طبقۂ فکر عرصے سے چیخ چیخ کر یہی مطالبہ کر رہا ہے کہ خدارا اس ملک کے بجلی کے شعبے پر رحم کیا جائے، عوام کو مہنگی بجلی، کپیسٹی چارجز، لوڈشیڈنگ اور ناقابلِ برداشت بلوں کے عذاب سے نکالا جائے۔
اس قسم کی خبروں نے یہ احساس مزید گہرا کر دیا ہے کہ ہمارے حکمران اور بیوروکریسی وہی کچھ کریں گے جو اُن کے ذہن میں طے ہے۔ عوامی آراء، سول سوسائٹی، تھنک ٹینکس، اخبارات اور ماہرین کی آواز شاید اب اُن کے لیے کوئی اہمیت نہیں رکھتی۔
اس خبر کے حوالے سے یہ وضاحت بھی ضروری ہے کہ ایران سے بجلی آج پہلی مرتبہ نہیں لی جا رہی۔ یہ سلسلہ 2023 میں اُس وقت شروع ہوا تھا جب وزیراعظم شہباز شریف تھے اور وفاقی وزیرِ توانائی خواجہ خرم دستگیر اس منصوبے کو آگے بڑھا رہے تھے۔ اسی دور میں ایران کی سرکاری کمپنی ‘توانیر’ (TAVANIR) سے بجلی درآمد کرنے کے معاہدے کیے گئے اور مکران ڈویژن خصوصاً گوادر، تربت، پنجگور اور گرد و نواح کے علاقوں کو ایران سے بجلی فراہم کرنے کا عمل تیزی سے آگے بڑھایا گیا۔
یاد رہے کہ پاکستان کا ایران سے بجلی کی درآمد کا پہلا معاہدہ (Power Purchase Agreement) 2002 میں طے پایا تھا۔ اس کے بعد 2003 اور 2004 کے دوران بلوچستان کے سرحدی علاقوں، خصوصاً مکران ڈویژن، کو بجلی فراہم کرنے کے لیے ایران سے محدود پیمانے پر درآمد شروع ہوئی۔ ابتدائی طور پر یہ سپلائی تقریباً 34 میگاواٹ تھی، جو بعد میں بڑھتے بڑھتے 70 سے 104 میگاواٹ تک پہنچ گئی۔ حالیہ منظوری کے بعد اضافی 100 میگاواٹ کی سپلائی بھی شامل ہو رہی ہے، جس سے کل درآمد تقریباً 200 سے 204 میگاواٹ تک پہنچ جائے گی۔
مگر سوال یہ ہے کہ دنیا میں اس سے زیادہ حیران کن اور خطرناک پالیسی کیا ہو سکتی ہے کہ وہ خطہ جسے قدرت نے بیک وقت سورج (Solar)، ہوا (Wind) اور پانی (Hydel) جیسی نعمتوں سے نوازا ہو،
اور جہاں سورج، ہوا اور پانی جیسی نعمتیں بجلی بنانے کے لیے مفت ایندھن کے طور پر موجود ہوں، وہاں اگر ہم اپنی توانائی کی بنیاد ایک Dollar Based اور “Take or Pay” درآمدی بجلی پر رکھ دیں، اور اُس کی قیمتوں کو بھی OPEC آئل اور عالمی ایندھن کی قیمتوں سے منسلک کر دیں، تو پھر سوال اٹھنا فطری ہے کہ آخر ہم کس سمت جا رہے ہیں؟ سمجھ نہیں آتی یہ کون لوگ ہیں جو مسلسل ایسے فیصلے کرتے چلے آ رہے ہیں۔ اب تو یہ سب کچھ عام آدمی کی سمجھ سے بھی باہر ہوتا جا رہا ہے۔
مکران اور گوادر جیسے علاقے چند سولر پارکس، ونڈ ٹربائنز اور لوکل توانائی کے منصوبوں کی مدد سے اپنی ضروریات بڑی حد تک خود پوری کر سکتے تھے، لیکن افسوس کہ ہماری ترجیح یہاں بھی درآمدی بجلی اور درآمدی ایندھن پر مرکوز ہے۔
گوادر کو ہم سی پیک کا تاج، مستقبل کا معاشی حب اور پاکستان کے سمندری مستقبل کی علامت کہتے ہیں، مگر اس کی توانائی کی بنیاد ہم نے ایک ایسے ملک کی بجلی پر رکھی ہے جس کی اپنی داخلی صورتحال بھی غیر مستحکم رہی ہے۔
ایران سے مکران ڈویژن خصوصاً گوادر، تربت، پنجگور اور گرد و نواح کو فراہم کی جانے والی بجلی کی کوالٹی کے حوالے سے مقامی صارفین، صنعتکاروں اور تیکنیکی ماہرین طویل عرصے سے تحفظات ظاہر کرتے آ رہے ہیں۔ اس غیر معیاری بجلی کے پس منظر میں بنیادی طور پر چار بڑے مسائل سامنے آتے ہیں:
وولٹیج کے بار بار کم یا زیادہ ہونے سے گھریلو الیکٹرانکس، ایئر کنڈیشنرز، موٹرز اور صنعتی مشینری متاثر ہوتی ہے۔
ایران میں لوڈ بڑھنے یا ٹرپنگ ہونے کی صورت میں اس کے اثرات براہِ راست مکران کی سپلائی پر پڑتے ہیں، جس سے مقامی گرڈ بھی غیر مستحکم ہو جاتا ہے۔
132 KV ٹرانسمیشن لائنیں شدید گرمی، گرد و غبار اور ساحلی ماحول کے باعث اکثر خرابیوں اور لائن لاسز کا شکار رہتی ہیں۔
ایران میں بجلی کی قلت یا لوڈشیڈنگ کے اثرات براہِ راست مکران پر منتقل ہوتے ہیں، جس سے کم وولٹیج اور اچانک بندش جیسے مسائل پیدا ہوتے ہیں۔
نیشنل الیکٹرک پاور ریگولیٹری اتھارٹی (NEPRA) کی جانب سے ایران سے اضافی 100 میگاواٹ اور مجموعی طور پر تقریباً 204 میگاواٹ بجلی درآمد کرنے کے لیے 12.40 یو ایس سینٹس فی یونٹ کے ٹیرف کی منظوری نے پاکستان کے پاور سیکٹر کی ترجیحات پر ایک بڑا سوال کھڑا کر دیا ہے۔
آخر کیا ہمارے پالیسی سازوں اور ریگولیٹرز کو یہ معلوم نہیں تھا کہ اس بجلی کی کوالٹی، وولٹیج، گرڈ استحکام اور سپلائی کے حوالے سے برسوں سے مسائل موجود ہیں؟ اگر 2023 سے یہی صورتحال چل رہی تھی تو پھر سوال یہ ہے کہ اسی دوران مکران اور گوادر میں مقامی Solar اور Wind منصوبے کیوں نہ لگائے گئے؟
دنیا اپنے ساحلی علاقوں کو Clean Energy Hubs بنا رہی ہے جبکہ ہم اب بھی درآمدی بجلی، Dollar Based معاہدوں اور “Take or Pay” ماڈلز میں پھنسے ہوئے ہیں۔ ایسے میں عوام یہ سوال پوچھنے میں حق بجانب ہیں کہ اگر یہی طرزِ حکمرانی اور منصوبہ بندی ہے تو پھر آخر اس ملک کے اعلیٰ ترین ادارے اور بیوروکریٹک دماغ قوم کو کس سمت لے جا رہے ہیں؟
(جاری ہے۔۔ باقی اگلی قسط میں)