چئیرمین نیپرا (NEPRA) اسلام آباد کے نام کھلے خط میں آئی پی پیز کے حوالے سے اٹھائے گئے 13 سوالات
1- جب قومی گرڈ، اضافی بجلی تقسیم کرنے کی صلاحیت نہیں رکھتا تھا تو ضرورت سے زیادہ پاور پلانٹس کیوں لگائے گئے، اور ان کی کیپیسٹی ادائیگیاں اب عوام کیوں دیں؟2- پاور معاہدوں میں ڈالر انڈیکسیشن کیوں دی گئی، اور کرنسی کی قدر میں کمی کا خمیازہ سرمایہ کاروں کی بجائے عوام کیوں بھگتیں؟3- کیا حکومتی ضمانتوں (Sovereign Guarantees)، ڈالر انڈیکسیشن اور کیپیسٹی پیمنٹس جیسی گارنٹیوں کے بعد بھی آئی پی پیز کو دیے جانے والے 15 سے 18 فیصد ‘ڈالر انڈیکسڈ ریٹرن آن ایکویٹی (ROE) کا جواز کیا ہے؟ کیا یہ ان کے رسک پروفائل سے مطابقت رکھتا ہے کہ جہاں سرمایہ کار کا کاروباری خسارہ رہا ہی نہیں ہو؟ کیا یہ ملکی معیشت اور صارفین کی سکت کے مطابق ہے؟4- ایندھن کی قیمت میں اضافہ مکمل طور پر صارفین پر منتقل کرنا کس حد تک منصفانہ ہے، جبکہ بجلی کے پیداواری معاہدوں میں Risk Sharing کا اصول سرمایہ کار اور ریاست دونوں پر لاگو ہونا چاہیے تھا؟5- کم استعمال کے باوجود پاور پلانٹس کو بھاری کیپیسٹی پیمنٹس کی ادائیگیوں کا قانونی اور اخلاقی جواز کیا ہے، اور کیا یہ فیصلے عوامی مفاد اور ملک کی حقیقی توانائی ضروریات کے مطابق تھے؟6- پاکستان کے پاور سیکٹر میں ‘ایگریگیٹ ٹیکنیکل اینڈ کمرشل (ATC) لاسز کو ٹیرف کا حصہ بنانے کی قانونی حیثیت کیا ہے؟ کیا یہ ‘کاسٹ آف سروس’ کے بنیادی اصول کی خلاف ورزی نہیں ہے کہ ریاست اپنی انتظامی ناکامی اور بجلی چوری کا بوجھ ایک ایسے شہری پر ڈالے جو اپنے حصے کا بل ایمانداری سے ادا کر رہا ہے؟7- کیا موجودہ کمرشل قوانین اور انٹرنیشنل انویسٹمنٹ فریم ورک میں ایسی کوئی قانونی گنجائش یا ‘ایگزیٹ کلاز’ موجود ہے کہ وسیع تر قومی مفاد کی خاطر ان پاور معاہدوں کی مالی تفصیلات کو پبلک کر کے پارلیمانی اور عوامی آڈٹ کے لیے پیش کیا جا سکے؟8- ٹیرف اور لائسنسنگ کے فیصلوں میں NEPRA ریگولیٹری اتھارٹی اور حکومتی پالیسیوں کے درمیان توازن کیسے برقرار رکھتا ہے، اور ایسی کون سی مثالیں ہیں جہاں NEPRA نے عوامی مفاد کی خاطر حکومتی دباؤ کو مسترد کیا ہو؟9- آئی پی پیز کے خلاف نیب (NAB) کی تحقیقات اور ماضی میں ہونے والے سیٹلمنٹ معاہدوں (Settlement Agreements) کے نتیجے میں کتنی ریکوری ممکن ہوئی، اور کیا ان تحقیقات کے ثمرات NEPRA نے ٹیرف میں کمی کی صورت میں عوام تک منتقل کیے ہیں؟10- جب نیٹ میٹرنگ کے ذریعے عوام اپنی جیب سے سولر بجلی پیدا کر کے سسٹم کو دے رہے ہیں، تو اس پالیسی کو Discourage کرنے کا کیا جواز ہے، خصوصاً جب نیشنل گرڈ لوڈ شیڈنگ ختم کرنے میں اب بھی ناکام ہے؟11- بجلی کے نرخ میں اضافے کی منظوری دیتے وقت نیپرا کس ‘معاشی ماڈل’ کے تحت صارفین کی قوتِ خرید کا اندازہ لگاتا ہے، اور کیا کبھی کسی اضافے کو صرف اس بنیاد پر مسترد کیا گیا کہ عوام اسے ادا کرنے کی سکت نہیں رکھتے؟12- عوامی سماعتوں (Public Hearings) میں موصول ہونے والی آراء و تجاویز کو ریگولیٹری فیصلوں کا حصہ بنانے کے لیے NEPRA کے پاس کیا طریقہ کار ہے، اور ان کی ‘کامیابی کی شرح’ کیا ہے؟13- کیا وجہ ہے کہ پاکستان کے پاور سیکٹر سے متعلقہ قانونی تنازعات جب بین الاقوامی فورمز (جیسے لندن کورٹ آف انٹرنیشنل آرٹریشن) پر گئے، تو وہاں آئی پی پیز کے حق میں فیصلے ہوئے اور ریاستِ پاکستان کو ناکامی کا سامنا کرنا پڑا؟🔲 عوامی تحقیقاتی سلسلہ | قسط 24موضوع: پاکستان کا بجلی کا نظام کیسے ٹھیک ہو گا؟][چئیرمین نیپرا کے نام کھلا خط]🔺 جب ادارے حقائق کی فراہمی سے گریزاں ہوں تو پھر سچ تک پہنچنا عوام کی ذمہ داری ہے۔محترم وسیم مختار چیئرمین نیشنل الیکٹرک پاور ریگولیٹری اتھارٹی (NEPRA) اسلام آباد،السلام علیکمیہ خط کسی ایک فرد کی ذاتی رائے نہیں بلکہ اُن لاکھوں کروڑوں بجلی صارفین کے احساسات اور سوالات کی نمائندگی کرتا ہے جو ہر ماہ بڑھتے ہوئے بجلی کے بلوں، ان کے پیچیدہ ٹیرف، آئی پی پیز کے غیر شفاف معاہدوں، اور حکومتی پالیسی کے باعث مسلسل معاشی دباؤ کا سامنا کر رہے ہیں۔ یہ ایک سنجیدہ عوامی مسئلہ ہے جس کے اثرات گھریلو زندگی سے لے کر کاروباری و صنعتی سرگرمیوں تک واضح طور پر محسوس کیے جا رہے ہیں۔یہ سوالات عرصہ دراز سے پاور سیکٹر، خصوصاً آئی پی پیز، پر تحقیق کرنے والے تھنک ٹینک کے پلیٹ فارم SyedShayan.com کے تحت مرتب کیے گئے ہیں، جس کا مقصد ایک ذمہ دارانہ، تحقیق کے ذریعے عوام کو اصل صورتحال سے آگاہ اور باخبر رکھنا ہے۔نیپرا ایکٹ کے تحت اتھارٹی پر شفافیت، غیر جانبداری، اور صارفین کے مفاد کے تحفظ کی واضح ذمہ داری عائد ہوتی ہے، اس لیے یہ خط ایک سنجیدہ عوامی سوال نامہ ہے جس پر وضاحت دینا ناگزیر ہے۔ہم مؤدبانہ طور پر گزارش کرتے ہیں کہ پیش کیے گئے ان سوالات کے جوابات تحریری اور قانونی حوالوں کے ساتھ، نیپرا کی ویب سائٹ پر جاری کیے جائیں، یا سول سوسائٹی کے نمائندگان، ماہرین، اور متعلقہ اسٹیک ہولڈرز کی موجودگی میں ایک کھلی عوامی نشست (Public Hearing) کے ذریعے فراہم کیے جائیں، تاکہ آئینِ پاکستان کے تحت شہریوں کے ‘حقِ معلومات’ (Right to Information) کی فراہمی کو یقینی بنایا جا سکے۔اب ہم اپنے 13 سوالات آپ کے سامنے رکھ رہے ہیں۔ ہمیں معلوم ہے کہ آپ ایک پیشہ ور انجینئر ہیں اور آپ نے اپنی پیشہ ورانہ زندگی محنت اور ذمہ داری کے ساتھ گزاری ہے۔ آپ کے تجربے اور شعبۂ توانائی میں آپ کی طویل وابستگی کے پیش نظر یہ توقع کی جاتی ہے کہ آپ عوامی اہمیت کے ان سوالات کا مدلل اور تحریری جواب دیں گے۔ ہمارا مقصد ان سوالات پر شفاف وضاحت حاصل کرنا ہے جو براہِ راست بجلی کے صارفین، قومی خزانے، اور پاور سیکٹر کی ساکھ سے متعلق ہیں۔ہمیں یہ بھی اندازہ ہے کہ پاور سیکٹر کے برسوں پرانے مسائل، غلط فیصلوں اور کمزور پالیسیوں کا ایک بھاری بوجھ آپ کو ورثے میں ملا ہے۔ لیکن اسی منصب کا تقاضا ہے کہ عوام کے ان 13 بنیادی سوالات کا واضح جواب دیا جائے۔
The Pakistan judiciary should take steps for this.