Home
بالٹی بھاری ہے۔۔۔
85 فیصد مفت بجلی اب بھی برقرار
لاہور ہائی کورٹ کے فیصلے کے پیچھے چُھپا وہ سچ جو میڈیا آپ کو نہیں بتا رہا۔

🔲 عوامی تحقیقاتی سلسلہ | قسط 21
عنوان: پاکستان کا بجلی کا نظام کیسے ٹھیک ہو گا
موضوع: مفت بجلی پر لاہور ہائی کورٹ کے فیصلے کی حقیقت

🔺 جب ادارے حقائق کی فراہمی سے گریزاں ہوں تو پھر سچ تک پہنچنا عوام کی ذمہ داری ہے۔
تحریر و تحقیق: سید شایان

آج کل پاور سیکٹر کے ملازمین کی مفت بجلی سے متعلق ایک فیصلے کو غیر معمولی انداز میں بڑھا چڑھا کر پیش کیا جا رہا ہے، جہاں لاہور ہائی کورٹ کے جسٹس ملک جاوید اقبال وینس نے اپریل 2026 میں پٹیشن خارج کرتے ہوئے یہ واضح کیا کہ مفت بجلی کوئی قانونی یا مستقل سروس رائٹ نہیں بلکہ ایک انتظامی سہولت تھی جسے حکومت مالی اصلاحات کے تحت تبدیل کر سکتی ہے۔
مگر جس انداز سے حکومت، پاور ڈویژن اور میڈیا اس معاملے کو پیش کر رہے ہیں، اس سے یہ تاثر دیا جا رہا ہے کہ جیسے بجلی کے شعبے پر ایک بڑا مالی بوجھ کم ہو گیا ہو، حالانکہ حقیقت اس سے مختلف ہے۔

اصل میں یہ معاملہ لاہور ہائی کورٹ میں Writ Petition No.171 of 2024 کے طور پر زیرِ سماعت آیا تھا، جس میں GEPCO Engineers and Officers Association نے وزارتِ توانائی کے 5 دسمبر 2023 کے نوٹیفکیشن کو چیلنج کیا تھا۔ عدالت نے اس پٹیشن کو خارج کرتے ہوئے حکومت کے اس فیصلے کو برقرار رکھا، جس کے تحت گریڈ 17 اور اس سے اوپر کے افسران کو دی جانے والی مفت بجلی ختم نہیں کی گئی بلکہ اسے monetize کر دیا گیا۔
یعنی مفت یونٹس کی جگہ تنخواہ میں ایک مقررہ رقم شامل کر دی گئی اور افسران کو عام صارفین کی طرح بجلی کے بل ادا کرنے کا پابند بنا دیا گیا۔
اس فیصلے کے بعد پاکستان میں پاور سیکٹر کے ملازمین میں مفت بجلی کی صورتحال کیا ہو گی، ملاحظہ کیجیے۔

پاکستان کے پاور سیکٹر کے اداروں بشمول واپڈا (WAPDA)، ڈسٹری بیوشن کمپنیاں (DISCOs)، جنریشن کمپنیاں (GENCOs)، نیشنل ٹرانسمیشن اینڈ ڈسپیچ کمپنی (NTDC) اور پاور انفارمیشن ٹیکنالوجی کمپنی (PITC) کے ملازمین کو ان کے گریڈ کے مطابق مفت بجلی دی جا رہی ہے۔
گریڈ کے لحاظ سے مفت بجلی کی تقسیم:
• گریڈ 1 تا 4: 100 یونٹ ماہانہ (جنریشن میں 300 یونٹ)
• گریڈ 5 تا 10: 150 یونٹ ماہانہ (جنریشن میں 600 یونٹ)
• گریڈ 16: 300 یونٹ ماہانہ (جنریشن میں 600 یونٹ)
• گریڈ 17: 450 یونٹ ماہانہ (جنریشن میں 650 یونٹ)
• گریڈ 18: 600 یونٹ ماہانہ (جنریشن میں 700 یونٹ)
• گریڈ 19: 880 یونٹ ماہانہ (جنریشن میں 1000 یونٹ)
• گریڈ 20: 1100 یونٹ ماہانہ
• گریڈ 21: 1300 یونٹ ماہانہ

اعداد و شمار کے مطابق گریڈ 17 تا 21 کے 15,971 افسران ماہانہ 70 لاکھ یونٹ مفت بجلی استعمال کرتے ہیں، جبکہ گریڈ 1 تا 16 کے 1 لاکھ 73 ہزار 200 ملازمین ماہانہ 33 کروڑ یونٹ مفت استعمال کرتے ہیں۔
🔲 کیا واقعی بوجھ کم ہوا ہے؟
اب ذرا مزید آسان انداز میں سمجھتے ہیں۔ لاہور ہائی کورٹ کے اس فیصلے کے بعد تقریباً 70 لاکھ یونٹ ماہانہ جو افسران کو مفت دیے جا رہے تھے، وہ اب ختم ہو کر ان کی جگہ تنخواہ میں رقم کی صورت میں دے دیے جائیں گے، یعنی یہ سہولت monetize ہو گئی ہے۔
تاہم اس کے ساتھ ساتھ پاور سیکٹر کے باقی ملازمین کو دی جانے والی مفت بجلی بدستور جاری رہے گی، جو کہ تقریباً 2.7 سے 3.3 کروڑ یونٹ ماہانہ بنتی ہے۔
اگر اس کا سالانہ بنیاد پر تجزیہ کیا جائے تو اس فیصلے سے تقریباً 8.4 کروڑ یونٹ سالانہ کم ہوں گے، جبکہ اس کے مقابلے میں تقریباً 32 سے 40 کروڑ یونٹ سالانہ مفت بجلی اسی طرح دی جاتی رہے گی۔
یعنی دوسرے الفاظ میں، مفت بجلی میں تقریباً 15 سے 20 فیصد کے قریب کمی آئی ہے، جبکہ تقریباً 80 سے 85 فیصد مفت بجلی بدستور پہلے کی طرح جاری رہے گی۔

لاہور ہائی کورٹ کے اس فیصلے سے ایک عام آدمی کو کتنا فائدہ پہنچے گا، اسے یوں سمجھ لیں: اگر ایک شخص پانی کی ایک بھاری بالٹی اٹھائے ہوئے ہو اور وہ اس کے وزن کی شکایت کرے کہ اسے اٹھا کر چلنا مشکل ہو رہا ہے، تو آپ اس میں سے دو ڈونگے پانی نکال کر اسے واپس پکڑا دیں اور کہیں کہ اب مسئلہ حل ہو گیا ہے، چلو چپ چاپ کام کرو۔ تو ظاہر ہے اس کی مشکل واقعی ختم نہیں ہوئی، کیونکہ بالٹی اب بھی تقریباً اتنی ہی بھاری ہے۔

0
Views
24
0

مزید مضامین

🔲 عوامی تحقیقاتی سلسلہ | قسط 20 عنوان: پاکستان کا بجلی کا نظام کیسے ٹھیک ہو گا موضوع: ...

🔲 عوامی تحقیقاتی سلسلہ | قسط 19 موضوع: پاکستان کا بجلی کا نظام کیسے ٹھیک ہو گا (5 آئی ...

🔲 عوامی تحقیقاتی سلسلہ | قسط 18 موضوع: پاکستان کا بجلی کا نظام کیسے ٹھیک ہو گا (بجلی ک...

🔲 عوامی تحقیقاتی سلسلہ | قسط 17موضوع: پاکستان کا بجلی کا نظام کیسے ٹھیک ہو گا(بجلی کی چوری اور ک...

🔲 عوامی تحقیقاتی سلسلہ | قسط 16موضوع: پاکستان کا بجلی کا نظام کیسے ٹھیک ہو گا؟[ ہمارے پاور سسٹم ...