Home

🔲 عوامی تحقیقاتی سلسلہ | قسط 20
عنوان: پاکستان کا بجلی کا نظام کیسے ٹھیک ہو گا
موضوع: مفت بجلی

🔺 جب ادارے حقائق کی فراہمی سے گریزاں ہوں تو پھر سچ تک پہنچنا عوام کی ذمہ داری ہے۔ تحریر و تحقیق: سید شایان

🔳 اگر ایک ریٹائرڈ سپریم کورٹ جج کو دو ہزار اور ہائی کورٹ جج کو آٹھ سو یونٹس مفت بجلی ( اور انتقال کے بعد بیوہ کو ) دی جا سکتی ہے تو پھر یہی استحقاق ایک ریٹائرڈ استاد، ایک سائنسدان، ایک ڈاکٹر، ایک انجینئیر، ایک آئی ٹی پروفیشنل یا دیگر ایسے افراد کو بھی دیا جائے جنہوں نے پوری زندگی قوم کی خدمت میں گزاری۔
لیکن ملکی مفاد کے تحت یہ منصفانہ راستہ نہیں۔ مفت یا رعائیتی بجلی کسی کا استحقاق نہیں بن سکتا۔

پاکستان بزنس فورم کے مطابق اگر تمام سرکاری افسران اور پاور ڈسکوز کے ملازمین کی مفت یا رعایتی بجلی ختم کر دی جائے تو قومی خزانے کو 10 ارب روپے سالانہ کی بچت ہوگی۔
ڈان اخبار کی 4 ستمبر 2023 کی رپورٹ کے مطابق پاور سیکٹر میں ملازمین اور متعلقہ سرکاری اداروں کو دی جانے والی مفت بجلی کی سالانہ لاگت تقریباً 22 سے 25 ارب روپے بنتی ہے۔ اسی رپورٹ میں ایک سابق ڈسکو افسر کے حوالے سے اندازہ دیا گیا تھا کہ اگر تقریباً 1 لاکھ 20 ہزار ملازمین اوسطاً 300 یونٹس ماہانہ استعمال کریں اور فی یونٹ لاگت 50 سے 55 روپے مانی جائے تو یہ خرچ تقریباً 2 ارب روپے ماہانہ، یعنی لگ بھگ 24 ارب روپے سالانہ بنتا ہے۔

دستیاب اعداد کے مطابق پاور سیکٹر کے گریڈ 17 سے 22 افسران، جن کی تعداد تقریباً 15 سے 16 ہزار بتائی جاتی تھی، ماہانہ لگ بھگ 70 لاکھ مفت یونٹس لیتے تھے؛ ان کی رعایت ختم ہونے کے بعد اندازاً 1.73 سے 1.74 لاکھ مستفیدین باقی رہ گئے ہیں جو اب بھی تقریباً 2.13 کروڑ یونٹس ماہانہ مفت حاصل کر رہے ہیں،
بجلی کے بل میں کراس سبسڈی کا مطلب ہے کہ آپ صرف اپنی بجلی نہیں بلکہ رعایتی یا مفت بجلی لینے والوں کی قیمت بھی ادا کر رہے ہیں۔

جب پاکستان میں صنعتی بجلی مہنگی ہو گی تو ظاہر ہے ہماری مصنوعات بھارت، ویتنام اور بنگلہ دیش کے مقابلے میں مہنگی پڑیں گی، نتیجتاً عالمی مارکیٹ میں ہماری فروخت کم ہو گی، ڈالر کی آمد گھٹے گی، اور سرمایہ کار سستی توانائی والے ممالک کا رخ کریں گے۔ جب انڈسٹری باہر جائے گی تو یہاں بے روزگاری بڑھے گی اور اس کے ساتھ غربت میں بھی مزید اضافہ ہو گا۔ یہی وہ نکتہ ہے جسے ہم نظر انداز کر دیتے ہیں۔
آئی ایم ایف کے دباؤ پر عام صارف کی سبسڈیاں تو فوراً کم کر دی جاتی ہیں، مگر اشرافیہ کے الاؤنسز، یوٹیلیٹی مراعات، سرکاری رہائش گاہوں کے بل اور مقررہ یونٹس جوں کے توں برقرار رہتے ہیں۔
پاکستان کا بجلی نظام ایک متوازن معاشی ماڈل کے بجائے ایک redistribution model (دوبارہ تقسیم کا نظام) بن چکا ہے، جہاں ایک طبقے کو ریلیف دینے کے لیے دوسرے پر بوجھ ڈالا جاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ وقتی ریلیف تو ملتا ہے، مگر مجموعی معیشت دن بدن کمزور ہو رہی ہے۔
کوئی بھی شخص صرف اس لیے سستی یا مفت بجلی کا حقدار نہیں بن سکتا کہ وہ کسی خاص ادارے، عہدے یا علاقے سے تعلق رکھتا ہے.

پاکستان میں بجلی پر دی جانے والی سرکاری سہولتیں مختلف شکلوں میں موجود ہیں، مگر ایک بات سب میں مشترک ہے کہ ان کا خرچ آخرکار عوام ہی برداشت کرتی ہے۔ یہ خرچ کبھی قومی خزانے سے پورا کیا جاتا ہے، کبھی کراس سبسڈی کے ذریعے صارفین کے بلوں میں شامل ہو جاتا ہے، اور کبھی سرکلر ڈیٹ کی صورت میں مالی خسارہ بن کر سامنے آتا ہے۔ سادہ الفاظ میں کہیں تو یہ سب اخراجات کسی نہ کسی طرح عام لوگوں کے بجلی کے بلوں میں واپس آ کر ہی دم لیتے ہیں۔
مفت بجلی کے نظام کو سمجھنے کے لیے اسے درج ذیل سات بنیادی اقسام میں دیکھا جا سکتا ہے۔
1. مفت بجلی (Free Electricity)
2. رعایتی بجلی (Subsidized Tariff)
3. مونیٹائزڈ بجلی یا یوٹیلیٹی الاؤنس (Monetized Utility Allowance)
4. سرکاری خزانے سے ادا ہونے والے بجلی بل (State Paid Bills)
5. نقد مدد (Targeted Cash Transfer for Energy)
6. پوشیدہ یا غیر دستاویزی مراعات (Opaque Institutional Privileges)
7. علاقائی سبسڈی (Regional/Territorial Subsidy)


آئیے اب ان سب کو الگ الگ سمجھتے ہیں

️ پہلی قسم: مفت بجلی (Free Electricity)
یہ وہ صورت ہے جس میں کسی خاص طبقے کو بجلی بالکل مفت یا صفر ٹیرف پر دی جاتی ہے، یعنی وہ اس کی قیمت ادا نہیں کرتا۔

پاور سیکٹر کے ملازمین قومی اسمبلی میں پیش کیے گئے ریکارڈ کے مطابق تقریباً 200,000 (دو لاکھ) ملازمین کو سالانہ 441,500,000 (چوالیس کروڑ پندرہ لاکھ) یونٹ مفت بجلی فراہم کی جاتی رہی۔ اس میں ڈسکوز کے 149000، جینکوز کے 12000، واپڈا کے 12700، پی آئی ٹی سی کے 159، اور این ٹی ڈی سی کے 20000 حاضر سروس جبکہ 16000 ریٹائرڈ ملازمین شامل تھے۔
تازہ ترین صورتحال یہ ہے کہ ملک میں پہلی بار اس سہولت کو ختم کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے، اور پاور ڈویژن کے وفاقی وزیر اویس لغاری نے لاہور ہائی کورٹ کے فیصلے کا خیر مقدم بھی کیا ہے۔

سپریم کورٹ اور ہائی کورٹس کے حاضر سروس ججوں کے یوٹیلیٹی بل، جن میں بجلی بھی شامل ہے، حکومت ادا کرتی ہے۔ اس کے علاوہ ہائی کورٹ ججز آرڈر 1997 کے سیکشن 28 کے تحت ریٹائرمنٹ کے بعد ججوں کو اور ان کے انتقال کے بعد ان کے شریکِ حیات کو ماہانہ 800 یونٹ بجلی فراہم کی جاتی ہے۔
اسی طرح صدر مملکت کو پنشن ایکٹ کے تحت 2000 یونٹ بجلی کی سہولت حاصل ہوتی ہے، جبکہ نیب چیئرمین، وفاقی محتسب اور دیگر نیم عدالتی عہدیداران کے رہائشی یوٹیلیٹی بلز بھی سرکاری خزانے سے ادا کیے جاتے ہیں۔
یہ وہ بنیادی شکل ہے جس میں بجلی براہ راست مفت فراہم کی جاتی ہے، اور اس کا خرچ بالآخر عوامی وسائل سے پورا کیا جاتا ہے۔

️ دوسری قسم: رعایتی بجلی (Subsidized Tariff) یہ وہ صورت ہے جس میں بجلی مفت نہیں دی جاتی بلکہ اس کی اصل لاگت سے کم قیمت پر فراہم کی جاتی ہے، تاکہ مخصوص طبقات کو ریلیف دیا جا سکے۔
لائف لائن اور محفوظ (Protected) صارفین لائف لائن رہائشی زمرے کے تقریباً 2,000,000 (بیس لاکھ) صارفین کو 50 یونٹ تک 4.78 روپے اور 51 سے 100 یونٹ تک 9.37 روپے فی یونٹ کی انتہائی رعایتی شرح پر بجلی فراہم کی جاتی ہے۔
محفوظ (Protected) صارفین، جو کہ تمام گھریلو صارفین کا تقریباً 58 فیصد ہیں یعنی 16,800,000 (ایک کروڑ اڑسٹھ لاکھ)، ان کے لیے ٹیرف میں اضافے کی رفتار بھی بہت کم رکھی گئی ہے، جو عموماً 2 فیصد ماہانہ سے کم ہوتی ہے۔
زرعی شعبہ (ٹیوب ویل) روشن معیشت بجلی پیکج کے تحت صنعتوں اور کسانوں کو نومبر 2025 سے اکتوبر 2028 تک اضافی بجلی رعایتی نرخوں پر فراہم کی جا رہی ہے۔ اس کے تحت زرعی ٹیرف کو 38 روپے فی یونٹ سے کم کر کے 22.98 روپے فی یونٹ کر دیا گیا ہے، تاکہ کسانوں کے اخراجات کم کیے جا سکیں۔
صنعتی شعبہ اسی طرح صنعت کے لیے بھی بجلی کا ٹیرف 34 روپے فی یونٹ سے کم کر کے 22.98 روپے فی یونٹ کیا گیا ہے، تاکہ پاکستانی مصنوعات عالمی اور علاقائی منڈیوں میں مقابلہ کر سکیں۔ (یہ دراصل باقاعدہ پالیسی نہیں بلکہ ایک وقتی اصلاح ہے۔ پاکستان میں عام طور پر انڈسٹری کو مہنگی بجلی دی جاتی رہی ہے، جس سے وہ کمزور ہوئی، برآمدات متاثر ہوئیں اور ڈالر کی آمد بھی کم ہوئی۔ اسی لیے اس مخصوص پیکج میں صنعت کو سستی بجلی دی جا رہی ہے تاکہ وہ دوبارہ عالمی منڈی میں مقابلہ کر سکے۔)
اس طرح کا رعایتی نظام بظاہر مختلف شعبوں کو سہارا دیتا ہے، مگر اس کا مالی بوجھ بالآخر یا تو حکومت برداشت کرتی ہے یا پھر کسی نہ کسی شکل میں دیگر صارفین پر منتقل ہو جاتا ہے۔
️ تیسری قسم: مونیٹائزڈ بجلی یا یوٹیلیٹی الاؤنس (Monetized Utility Allowance) یہ وہ صورت ہے جس میں بجلی براہ راست مفت یا سستی نہیں دی جاتی بلکہ اس کے بدلے میں اس کی قیمت کے مساوی رقم تنخواہ یا الاؤنس کی شکل میں دی جاتی ہے۔
پبلک اکاؤنٹس کمیٹی نے 2022 میں واپڈا ملازمین کو مفت بجلی کی سہولت ختم کر کے اس کی جگہ یوٹیلیٹی الاؤنس دینے کی سفارش کی تھی۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ سہولت ختم نہیں ہوتی بلکہ اس کی شکل بدل جاتی ہے، یعنی اب بجلی کی قیمت نقد رقم کی صورت میں ادا کی جاتی ہے۔
اسی طرح گریڈ 17 اور اس سے اوپر کے بہت سے سرکاری افسران کو یوٹیلیٹی الاؤنس، ہاؤس رینٹ کے ساتھ اضافی مراعات یا یوٹیلیٹی چارجز کی ری ایمبرسمنٹ دی جاتی ہے، جو دراصل بجلی کے اخراجات کی بالواسطہ ادائیگی ہوتی ہے۔
یہ نظام بظاہر شفاف لگتا ہے، مگر حقیقت میں اس سے اصل بوجھ ختم نہیں ہوتا بلکہ صرف اس کا طریقہ تبدیل ہو جاتا ہے، اور بالآخر یہ خرچ بھی عوامی وسائل ہی سے پورا کیا جاتا ہے۔

️ چوتھی قسم: سرکاری خزانے سے ادا ہونے والے بجلی بل (State Paid Bills) یہ وہ صورت ہے جس میں بجلی نہ مفت ہوتی ہے اور نہ ہی رعایتی نرخ پر دی جاتی ہے، بلکہ اس کی مکمل قیمت ادا کی جاتی ہے، فرق صرف یہ ہوتا ہے کہ ادائیگی صارف خود نہیں کرتا بلکہ سرکاری خزانہ کرتا ہے۔
سرکاری رہائش گاہوں میں مقیم سینئر عہدیداران کے بجلی، گیس اور پانی کے بل بھی اسی طریقے سے ادا کیے جاتے ہیں۔ یعنی استعمال کرنے والا فرد خود بل ادا نہیں کرتا، بلکہ یہ خرچ ریاست کے ذمہ آ جاتا ہے۔
اس سہولت سے مستفید ہونے والوں میں وفاقی اور صوبائی وزرا، سیکریٹری سطح کے بیوروکریٹس، کینٹ رہائش میں مقیم فوجی افسران، سپریم کورٹ اور ہائی کورٹ کے حاضر سروس جج، اور نیب چیئرمین و وفاقی محتسب جیسے عہدیداران شامل ہیں۔
یہ نظام بظاہر ایک انتظامی سہولت ہے، مگر حقیقت میں اس کا مالی بوجھ بھی بالآخر عوامی خزانے پر آتا ہے، جو مختلف ٹیکسز اور بلوں کے ذریعے عوام ہی سے وصول کیا جاتا ہے۔

️ پانچویں قسم: نقد مدد (Targeted Cash Transfer for Energy) یہ پاکستان میں ایک نئی شکل متعارف کروائی جا رہی ہے، جس میں بجلی سستی کرنے کے بجائے مستحق لوگوں کو براہ راست رقم دی جاتی ہے تاکہ وہ اپنے بجلی کے اخراجات خود پورے کر سکیں۔

حکومت نے آئی ایم ایف کو یقین دہانی کرائی ہے کہ بجلی اور گیس کی سبسڈی کو بی آئی ایس پی (Benazir Income Support Programme) کے ساتھ منسلک کیا جائے گا، تاکہ صرف کم آمدنی والے گھرانے ہی اس سہولت سے فائدہ اٹھا سکیں۔ اس نظام کو مرحلہ وار نافذ کرنے کا منصوبہ ہے۔
اسی کے ساتھ پنجاب حکومت نے فری سولر پینل اسکیم بھی شروع کی ہے، جس کے تحت کم آمدنی والے گھرانوں کو سولر نظام فراہم کیا جا رہا ہے، خاص طور پر بیواؤں، خواتین سربراہانِ خانہ اور دیہی افراد کو ترجیح دی جا رہی ہے۔
️ چھٹی قسم: پوشیدہ یا غیر دستاویزی مراعات (Opaque Institutional Privileges) یہ وہ صورت ہے جس میں بجلی کی سہولت نہ قانون میں واضح ہوتی ہے، نہ پارلیمان کے سامنے آتی ہے، اور نہ ہی مکمل طور پر نیپرا کی نگرانی میں ہوتی ہے۔
آرمی کنٹونمنٹس پاکستان میں 56 سے زائد کنٹونمنٹس ہیں جہاں بجلی کی تقسیم ڈسکوز کے بجائے کنٹونمنٹ بورڈز کے ذریعے ہوتی ہے۔ یہ بل کس نرخ پر آتے ہیں، کون ادا کرتا ہے اور کتنی رعایت دی جاتی ہے، اس کی واضح سرکاری تفصیل دستیاب نہیں۔
سابق نگران وزیراعظم انوارالحق کاکڑ نے کہا کہ فوج مفت بجلی استعمال نہیں کرتی، مگر اس دعوے کی آزاد تصدیق ممکن نہیں کیونکہ ریکارڈ عوامی سطح پر موجود نہیں۔ اصل مسئلہ یہی ہے کہ یہاں سہولت سے زیادہ شفافیت کا سوال ہے۔ جب نظام کی تفصیل سامنے نہ ہو تو احتساب بھی ممکن نہیں رہتا۔
️ ساتویں قسم: علاقائی سبسڈی (Regional or Territorial Subsidy) یہ وہ صورت ہے جس میں کسی مخصوص طبقے، عہدے یا ادارے کے بجائے پورے جغرافیائی خطے کو بجلی پر سبسڈی دی جاتی ہے۔ اس میں فائدہ اٹھانے والے کی شناخت اس کی آمدنی یا عہدے سے نہیں بلکہ اس کے رہائشی علاقے سے ہوتی ہے۔
آزاد کشمیر آزاد کشمیر میں بجلی کا ٹیرف باقی پاکستان کے مقابلے میں کم رکھا گیا ہے، اور اس فرق کو پورا کرنے کے لیے وفاقی حکومت سبسڈی دیتی ہے۔ یہ سبسڈی 2024 سے 2025 میں 108 ارب روپے تھی، جسے 2025 سے 2026 میں کم کر کے 74 ارب روپے کر دیا گیا۔ یہ رعایت وہاں کے امیر اور غریب، سرکاری اور نجی سب کو یکساں ملتی ہے۔
گلگت بلتستان گلگت بلتستان میں صورتحال اس سے بھی مختلف ہے۔ وہاں کئی علاقوں میں بجلی انتہائی کم قیمت یا تقریباً مفت فراہم کی جاتی رہی ہے، کیونکہ مقامی چھوٹے پن بجلی گھر ضروریات پوری کرتے ہیں اور ان کی مکمل لاگت صارفین سے وصول نہیں کی جاتی۔
یہ قسم اس لحاظ سے سب سے وسیع ہے کہ اس میں کوئی ہدف بندی نہیں ہوتی، بلکہ پورا خطہ بطور اکائی مستفید ہوتا ہے، اور اس کا مالی بوجھ بالآخر قومی خزانے اور باقی پاکستان کے صارفین پر منتقل ہو جاتا ہے۔

🔲 قارئین کرام! میری اس تحقیق کا سیدھا سا خلاصہ یہ ہے کہ پاکستان میں بجلی مہنگی اس لیے نہیں کہ بجلی پیدا کرنا مہنگا ہے، بلکہ اس لیے مہنگی ہے کہ اس کی قیمت سب برابر ادا نہیں کر رہے یا کچھ لوگ اس کی قیمت سرے ہی سے ادا نہیں کر رہے۔ دوسرے لفظوں میں صارفین کے درمیان لاگت کی تقسیم (distribution of cost) نہ تو درست ہے اور نہ ہی منصفانہ۔

پاکستان میں بجلی کا نظام درست کرنے کا راستہ یہی ہو سکتا ہے کہ ہم ایک شفاف نظام اپنائیں، بجلی کا ریٹ سب کے لیے ایک ہی رکھا جائے اور بل میں کوئی چیز چھپی ہوئی نہ ہو، ہر صارف کا بل اصل قیمت پر تیار ہو، خواہ وہ امیر ہے یا غریب یا اس کا تعلق کسی بھی عہدے یا علاقے سے ہو تاکہ مارکیٹ میں ٹیرف خراب نہ ہو، نظام distort نہ ہو، اور لوگوں میں یہ کنفیوژن ختم ہو جائے کہ بجلی کی اصل قیمت کیا ہے۔ اور ہم سے کیا طلب کی جا رہی ہے۔
جب تمام رہائشی صارفین کے لیے بجلی کی بنیادی قیمت ایک ہی مثلاً 25 روپے فی یونٹ ہو گی، تو اس سے اصل قیمت کی وصولی Full Cost Recovery ممکن ہو گی۔ ڈسٹری بیوشن کمپنیوں (DISCOs) کے کھاتوں میں شفافیت آئے گی۔ موجودہ کراس سبسڈی کا بوجھ، جس میں ایک طبقہ دوسرے کا بوجھ اٹھاتا ہے، ختم ہو جائے گا اور سرکلر ڈیٹ (گردشی قرضے) کو کنٹرول کرنا آسان ہو سکے گا۔

ہاں! اگر کسی کو بجلی کے بل میں رعائیت دینی ہے تو یہ رعایت بھی صرف انہی صارفین کو دی جانی چاہیے جو قومی ڈیٹا سسٹم کے تحت اس رعایت کے لیے eligible قرار پائیں۔ اس کے لیے ضروری ہے کہ صارف قومی سوشل رجسٹری میں رجسٹر ہو اور اس کی آمدنی، گھرانے کا سائز، اثاثوں کی جانچ گاڑیوں کی ملکیت، بیرون ملک سفر کا ریکارڈ موبائل فون کے اخراجات اور مالی حالت کی باقاعدہ تصدیق ہو۔
اس کے بعد یہ رعایت بجلی کے کل بل پر 30 فیصد یا 40 فیصد یا جو حکومت چاہے ڈسکاؤنٹ کی صورت میں دی جانی چاہئیے۔
یونٹ کی قیمت کم کرنے کے بجائے مجموعی بل پر فیصد کے حساب سے رعایت دینے کا طریقہ دو بڑے فوائد رکھتا ہے، ایک طرف صارف کو اصل قیمت کا احساس رہتا ہے جس سے بجلی بچانے کا رجحان (Conservation) پیدا ہوتا ہے، اور دوسری طرف حساب کتاب شفاف رہتا ہے کیونکہ حکومت کو واضح طور پر معلوم ہوتا ہے کہ وہ کس مد میں کتنی رعایت دے رہی ہے، جو مؤثر بجٹ سازی میں مددگار ثابت ہوتا ہے
یہ تجویز نیشنل سوشل رجسٹری اور ٹارگٹڈ سبسڈی (Targeted Subsidy) کے اصولوں پر مبنی ہے، جو دنیا کے جدید معاشی نظام میں سب سے زیادہ موثر اور منصفانہ سمجھے جاتے ہیں۔ اور سبسڈی کے مؤثر استعمال کے لیے تسلیم شدہ عالمی معیار بن چکے ہیں۔
کوئی بھی شخص صرف اس لیے سستی یا مفت بجلی کا حقدار نہیں بن سکتا کہ وہ کسی خاص ادارے، عہدے یا علاقے سے تعلق رکھتا ہے.

(جاری ہے باقی اگلی قسط میں)

0
Views
30
0

مزید مضامین

🔲 عوامی تحقیقاتی سلسلہ | قسط 19 موضوع: پاکستان کا بجلی کا نظام کیسے ٹھیک ہو گا (5 آئی ...

🔲 عوامی تحقیقاتی سلسلہ | قسط 18 موضوع: پاکستان کا بجلی کا نظام کیسے ٹھیک ہو گا (بجلی ک...

🔲 عوامی تحقیقاتی سلسلہ | قسط 17موضوع: پاکستان کا بجلی کا نظام کیسے ٹھیک ہو گا(بجلی کی چوری اور ک...

🔲 عوامی تحقیقاتی سلسلہ | قسط 16موضوع: پاکستان کا بجلی کا نظام کیسے ٹھیک ہو گا؟[ ہمارے پاور سسٹم ...

🔲 عوامی تحقیقاتی سلسلہ | قسط 15موضوع: پاکستان کا بجلی کا نظام کیسے ٹھیک ہو گا[مہنگے بجلی کے بلوں...