Home

🔲 عوامی تحقیقاتی سلسلہ | قسط 12
موضوع: پاکستان کا بجلی کا نظام کیسے ٹھیک ہو گا
[مہنگے بجلی کے بلوں کو کیسے سمجھا اور کم کیا جا سکتا ہے]

🔺جب ادارے حقائق کی فراہمی سے گریزاں ہوں تو پھر سچ تک پہنچنا عوام کی ذمہ داری ہے۔
تحریر و تحقیق: سید شایان


🟨 آئی پی پیز معاہدے آخر کب ختم ہوں گے؟ ان سے تو لوڈشیڈنگ اچھی تھی کہ اس وقت جتنی بجلی استعمال کرتے تھے، صرف انہی یونٹس کے پیسے دینے پڑتے تھے۔ اب یونٹس کے بھی پیسے دینے پڑتے ہیں، IPPs کی capacity payments بھی، جنریٹر کا خرچ بھی اور سولر کی لاگت بھی۔ بل ہیں کہ کم ہونے کے بجائے بڑھتے جا رہے ہیں، اور لوڈشیڈنگ ہے کہ تمام چھوٹے بڑے شہروں میں بدستور موجود ہے۔

جن آئی پی پیز کے معاہدے مکمل ہو چکے ہیں یا ہونے والے ہیں، انہیں عوامی اثاثہ قرار دیا جائے، کیونکہ ان تمام پاور پلانٹس کی قسطیں اور منافع عوام نے بجلی کے بلوں کے ذریعے ادا کیا ہے۔ جب ادائیگی عوام نے کی ہے تو ملکیت بھی عوام کے پاس ہونی چاہیے۔

پاکستان میں آئی پی پیز کا باقاعدہ آغاز 1994 کی پاور پالیسی سے ہوا، جو بینظیر بھٹو کے دوسرے دورِ حکومت میں متعارف کرائی گئی۔ اس سے پہلے بجلی کا نظام زیادہ تر واپڈا کے کنٹرول میں تھا، جہاں پیداوار اور ترسیل دونوں اسی ایک محکمے کے پاس تھیں۔

اس پالیسی کا مقصد لوڈشیڈنگ اور بجلی کے بڑھتے ہوئے بحران کے حل کے لیے نجی سرمایہ کاری کو شامل کرنا تھا۔ اس پالیسی کی تشکیل میں انجینئر شمس الملک نے کلیدی کردار ادا کیا، جو اس دور میں چیئرمین واپڈا تھے۔ یہی وہ نقطہ آغاز تھا جہاں سے پاکستان کے توانائی کے شعبے میں ایک نیا ماڈل، انڈیپنڈنٹ پاور پروڈیوسرز IPP، متعارف ہوا، جس کے اثرات سے آج پاکستان میں کوئی گھر اور جگہ محفوظ نہیں رہی جہاں بجلی استعمال ہوتی ہے۔

اس پالیسی کا مقصد لوڈشیڈنگ اور بجلی کے بڑھتے ہوئے بحران کے حل کے لیے نجی سرمایہ کاری کو شامل کرنا تھا۔ اس پالیسی کی تشکیل میں انجینئر شمس الملک نے کلیدی کردار ادا کیا، جو اس دور میں چیئرمین واپڈا تھے۔ یہی وہ نقطہ آغاز تھا جہاں سے پاکستان کے توانائی کے شعبے میں ایک نیا ماڈل، انڈیپنڈنٹ پاور پروڈیوسرز IPP، متعارف ہوا، جس کے اثرات سے آج پاکستان میں کوئی گھر اور جگہ محفوظ نہیں رہی جہاں بجلی استعمال ہوتی ہے۔

️پہلا دور: 1994 First IPPs Phase
پاور پالیسی اور فوری حل کی تلاش

یہ وہ وقت تھا جب پاکستان شدید لوڈشیڈنگ کا شکار تھا اور حکومت نے تیزی سے بجلی پیدا کرنے کے لیے نجی شعبے کو دعوت دی۔

جس کے نتیجے میں 1995 سے 1997 کے درمیان 19 منصوبوں نے financial close حاصل کیا۔ ان میں سے 4 منصوبے مختلف وجوہات کی بنا پر مکمل نہ ہو سکے، جبکہ عملی طور پر تقریباً 15 بڑے تھرمل IPPs نیشنل گرڈ کا حصہ بنے۔

اس دور میں کیے گئے معاہدے زیادہ تر تھرمل IPPs پر مبنی تھے،
جنہیں ڈالر سے منسلک منافع، guaranteed returns اور take or pay جیسے مالی فوائد، اور حکومت کی طرف سے یقین دہانیاں (sovereign guarantees) دی گئیں تھیں، جس میں پاکستانی سیاستدان آصف علی زرداری نے کافی معاونت بھی کی، لیکن اس عمل پر ناراض ہو کر ان کے کچھ احباب اور مخالفین کی طرف سے انہیں مسٹر ٹین پرسنٹ کے نام سے بھی پکارا گیا۔

اس وقت حکومت کے نزدیک مقصد صرف ایک تھا…
جلد از جلد بجلی پیدا کرنا۔ اس لیے سرمایہ کاروں کو راغب کرنے کے لیے ان معاہدوں کی مدت بھی 25 سے 30 سال رکھی گئی تھی، لیکن یہ بات سراسر فراموش کر دی گئی تھی کہ ان طویل المدت معاہدوں کے اس ملک پر کیا مضر اثرات مرتب ہوں گے اور عوام ان معاہدوں کا بوجھ کیسے برداشت کریں گے۔

یوں یہ پہلا IPP دور اب عملی طور پر اپنے اختتامی مرحلے میں داخل ہو چکا ہے، جس کے مطابق 1995 میں شروع ہونے والے منصوبے 2025 میں اپنی مدت مکمل کر رہے ہیں، جبکہ 1996 اور 1997 کے منصوبے 2026 سے 2027 کے درمیان اختتام کو پہنچیں گے۔
اور اسی وجہ سے آج ان معاہدات پر نظرِ ثانی کی بحث بھی شدت اختیار کر رہی ہے۔

️دوسرا دور (Second IPP Phase):
یہ دور 2002 کی پاور پالیسی سے شروع ہوا، جو پرویز مشرف کے دور میں متعارف کرائی گئی، جس کا مقصد 1994 کے بعد دوبارہ نجی سرمایہ کاری کو متحرک کرنا تھا۔ عملی طور پر یہ مرحلہ 2005 سے 2010 کے درمیان نمایاں ہوا، جب گیس اور فرنس آئل پر مبنی متعدد تھرمل پاور پلانٹس لگائے گئے، جن میں نشاط پاور، نشاط چونیاں، سیف پاور، اینگرو پاور جین قادرپور، اٹلس پاور جیسے منصوبے شامل ہیں۔ اس دور میں تقریباً 12 سے 15 بڑے IPPs لگائے گئے۔جن کا بظاہر کوئی جواز بنتا نہیں تھا۔

چونکہ ان پاور پلانٹس کی کمرشل آپریشن تاریخ 2007 سے 2010 کے درمیان ہے، اس لیے ان کے معاہدے عموماً 2032 سے 2040 کے درمیان مکمل ہوں گے۔

️تیسرا دور (Third IPP Phase):
پاکستان میں آئی پی پیز کا تیسرا دور 2015 کے بعد واضح طور پر سامنے آتا ہے، جو چین پاکستان اقتصادی راہداری کے تحت شروع ہوا، اور نواز شریف کے دورِ حکومت میں اس میں تیزی آئی۔ اس مرحلے میں توانائی کے بحران کو فوری حل کرنے کے لیے بڑے پیمانے پر سرمایہ کاری کی گئی، خاص طور پر کوئلہ، RLNG، ہوا اور سولر منصوبوں میں۔ اس دور میں تقریباً 20 سے 25 بڑے پاور پروجیکٹس لگائے گئے۔

ان پلانٹس کی شروعات زیادہ تر 2016 سے 2019 کے درمیان ہوئی، اس لیے ان کے 25 سے 30 سالہ معاہدوں کے مطابق یہ منصوبے 2045 سے 2050 کے درمیان مکمل ہوں گے۔

مختصر خلاصہ:
پہلا دور: 1994 سے 2025 تا 2027
دوسرا دور: 2002 سے 2032 تا 2040
تیسرا دور: 2015 سے 2045 تا 2050

ایک اہم بات اس موقعہ پر یہ ہے کہ جن آئی پی پیز کے معاہدوں کی مدتیں پوری ہو چکی ہیں، ان کے حوالے سے ایک نہایت سنجیدہ اور بنیادی سوال اب قومی سطح پر اٹھایا جانا چاہیے کہ اگر ان معاہدوں کو دوبارہ renew کیا جاتا ہے تو اب اس کی کوئی ضرورت ہرگز نہیں ہے، کیونکہ گزشتہ تین دہائیوں کے دوران عوام نے اپنے بجلی کے بلوں کے ذریعے نہ صرف ان منصوبوں کی اصل لاگت کی قسطیں بلکہ قرضوں اور منافع کی مکمل ادائیگی بھی کر دی ہے، خصوصاً capacity payments کی صورت میں جو مسلسل کھربوں روپے تک پہنچتی رہی ہیں۔

اس تناظر میں یہ مؤقف اب ایک جائز عوامی مطالبہ بن جانا چاہیے کہ جن پلانٹس کی لاگت اور قسطوں کی مکمل واپسی ہو چکی ہو انہیں بغیر کسی تاخیر کے عوامی اثاثہ ڈکلیئر کیا جائے، لہٰذا جن آئی پی پیز کے معاہدوں کی مدت پوری ہو چکی ہے انہیں قومی مفاد کے تحت عوامی اثاثہ ڈکلیئر کیا جائے تاکہ وہ اثاثے جو عملاً عوامی ادائیگیوں سے قائم اور مستحکم ہوئے ہیں دوبارہ عوامی مفاد میں شامل ہو سکیں، اور چونکہ ان معاہدوں کی مدت مکمل ہو چکی ہے اس لیے اس عمل کو نہ تو معاہدوں کی خلاف ورزی قرار دیا جا سکتا ہے اور نہ ہی اسے کسی بین الاقوامی سطح پر expropriation کے زمرے میں آسانی سے رکھا جا سکتا ہے،

نوٹ: یہ تحریر عوامی مفاد کے پیش نظر نیک نیتی کے ساتھ مرتب کی گئی ہے اور اس کی بنیاد مستند اور دستیاب معلومات پر ہے، جن میں PPIB، NEPRA، CPPA-G، SECP، پاکستان اکنامک سروے اور IGCEP کے علاوہ عالمی بینک، ایشیائی ترقیاتی بینک، بین الاقوامی توانائی ایجنسی، بین الاقوامی قابل تجدید توانائی ایجنسی اور بین الاقوامی مالیاتی فنڈ سمیت دیگر باخبر اور آزاد تحقیقی ذرائع سے حاصل شدہ مواد شامل ہے۔ اس کی تیاری میں صحت معلومات اور درستی کو یقینی بنانے کے لیے ہر ممکن احتیاط برتی گئی ہے، تاہم اگر اس میں کسی نوعیت کی غیر ارادی غلطی، سہو یا عدم درستگی موجود ہو تو اس کی ذمہ داری ادارہ SyedShayan.com پر عائد نہیں ہوگی۔ البتہ اگر کسی جانب سے ایسی کسی غلطی یا عدم درستگی کی نشاندہی کی جائے اور وہ درست ثابت ہو تو ادارہ اسے تسلیم کرتے ہوئے فوری طور پر اس کی تصحیح کرے گا۔

(جاری ہے، باقی اگلی قسط)

مزید مضامین

🔲 عوامی تحقیقاتی سلسلہ | قسط 11 موضوع: پاکستان کا بجلی کا نظام کیسے ٹھیک ہو گا [مہنگے بجلی کے ...

(اردو)

قومی تحقیقاتی سلسلہ | قسط 10موضوع: پاکستان کا بجلی کا نظام کیسے ٹھیک ہو گا[مہنگے بجلی کے بلوں ...

(اردو)

ہمارا بجلی کا نظام کیسے ٹھیک ہو گا؟؟ (قسط: 9) ▫️کیا واقعی پاکستان کی بجلی کی سالانہ ضرورت 40 ہز...

(اردو)

ہمارا بجلی کا نظام کیسے ٹھیک ہو گا؟ قسط: 8 پاکستان میں شوگر ملوں کے گنے کے پھوک سے چلنے والے پا...

(اردو)

ایک ہی پانی سے بننے والی بجلی: سرکاری اور نجی آئی پی پیز کے نرخوں میں دوگنا سے زائد فرق واضح نظر...

(اردو)