Home


🔳 کوئلے کی بجلی

ساہیوال پاور پلانٹ جیسا میگا پراجیکٹ بندرگاہ، پورٹ قاسم، یا تھر کے کوئلے کے ذخائر سے سینکڑوں کلومیٹر دور لگانے کا فیصلہ کس “ماسٹر مائنڈ” نے اور کس بنیاد پر کیا تھا؟ کیا اس وقت ترسیل کی لاگت ‏(Logistics Cost) اور مستقبل کے اس ڈیڈ لاک کا اندازہ نہیں لگایا گیا تھا۔؟

تھر کا کوئلہ سندھ میں ہے، جبکہ ساہیوال پلانٹ پنجاب کے مرکز میں واقع ہے۔ 105 کلومیٹر طویل نئی ریلوے لائن جون 2026 تک مکمل ہونے کی توقع ہے۔ اس کے فعال ہونے تک تھر کا کروڑوں ٹن کوئلہ ساہیوال منتقل کرنا عملی طور پر نہایت مشکل اور مہنگا عمل رہے گا۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ لکی الیکٹرک (660 میگاواٹ) تھر کول کے لیے بنا تھا مگر سپلائی چین کی کمزوری کی وجہ سے امپورٹڈ کول پر چلتا رہا۔

عوام نے اپنے بجلی کے بلوں کے ذریعے پہلے کوئلے سے چلنے والے پاور پلانٹس کو تیار رہنے کی فیس دی، پھر بجلی بنانے کی فیس دی، پھر بجلی گھر تک پہنچانے کی فیس دی اور بدلے میں انہیں لوڈشیڈنگ ملی۔


🔲 عوامی تحقیقاتی سلسلہ | قسط 34

موضوع: پاکستان کا بجلی کا نظام کیسے ٹھیک ہو گا؟

عنوان: کوئلے سے بجلی (پارٹ 1)

🔺 جب ادارے حقائق کی فراہمی سے گریزاں ہوں تو پھر سچ تک پہنچنا عوام کی ذمہ داری ہے۔

تحریر و تحقیق: سید شایان

پاکستان میں کوئلے کی اصل طاقت سندھ، خاص طور پر تھر میں موجود ہے۔ دستیاب سرکاری اعداد و شمار کے مطابق ملک کے کل coal reserves میں سندھ کا حصہ تقریباً 99 فیصد سے زیادہ ہے، جبکہ صرف تھر کول فیلڈ اکیلی پاکستان کے کل ذخائر کا تقریباً 94 فیصد رکھتی ہے۔ باقی پنجاب، خیبر پختونخوا، بلوچستان اور آزاد کشمیر کے ذخائر مجموعی طور پر ایک فیصد سے بھی کم بنتے ہیں۔ اس لیے پاکستان میں کوئلے سے بجلی بنانے کی کوئی بھی سنجیدہ پالیسی تھر کول کو مرکز میں رکھے بغیر مکمل نہیں ہو سکتی۔ اصل مسئلہ صرف کوئلے کی موجودگی نہیں، بلکہ اس کا معیار، کان کنی کی لاگت، ترسیل کی لاگت اور بجلی گھروں تک محفوظ اور سستی فراہمی ہے۔

اب ہم پاکستان میں کوئلے سے بجلی بنانے والے پاور پلانٹس کی طرف آتے ہیں، جن کے بارے میں عوام کے اصل سوالات یہ ہیں کہ انہیں بجلی بنائے بغیر بھاری ادائیگیاں کیوں کی گئیں، درآمدی کوئلے پر انحصار کیوں بڑھایا گیا، تھر کول کو بروقت کیوں استعمال نہیں کیا گیا، کوئلے کی ترسیل اتنی مہنگی کیوں پڑی، اور ان پلانٹس سے ان کی پوری صلاحیت کے مطابق بجلی کیوں حاصل نہیں کی گئی۔

پاکستان میں کوئلے سے چلنے والے گرڈ پاور پلانٹس کی کل تعداد 9 ہے، جن میں سے 7 سندھ میں، 1 پنجاب میں، اور 1 بلوچستان کے علاقے حب میں واقع ہے۔

تفصیل یہ ہے:

1. ساہیوال کول پاور پلانٹ، 1320 میگاواٹ

2. پورٹ قاسم کول پاور پلانٹ، 1320 میگاواٹ

3. چائنا پاور حب کول پاور پلانٹ، 1320 میگاواٹ

4. اینگرو تھر کول پاور پروجیکٹ، 660 میگاواٹ

5. لکی الیکٹرک پاور پروجیکٹ، 660 میگاواٹ

6. حبکو تھر انرجی پروجیکٹ، 330 میگاواٹ

7. شنگھائی تھر کول بلاک 1 پروجیکٹ، 1320 میگاواٹ

8. تھل نووا تھر کول پاور پروجیکٹ، 330 میگاواٹ

9. جامشورو کول پاور پلانٹ، 660 میگاواٹ

ان 9 بڑے کوئلہ پاور پلانٹس کی کل نصب شدہ صلاحیت 7,920 میگاواٹ ہے، مگر پچھلے مالی سال 2024 25 میں ان سے اوسطاً صرف 2,800 میگاواٹ بجلی حاصل کی گئی۔ یعنی تقریباً 5,120 میگاواٹ صلاحیت استعمال ہی نہ ہو سکی۔ یونٹس کے حساب سے یہ پلانٹس تقریباً 69.4 ارب یونٹ بجلی دے سکتے تھے، مگر عملی طور پر صرف 24.5 ارب یونٹ حاصل ہوئے، جبکہ 44.9 ارب یونٹ پیدا ہی نہیں ہوئے۔ یہی وہ unused capacity ہے جس کا بوجھ capacity payments کی صورت میں عوام کے بلوں میں شامل ہوتا ہے۔

اس کے باوجود مالی سال 2024 25 میں ان پلانٹس کو capacity payments کی مد میں 670 ارب روپے ادا کیے گئے۔ NEPRA کے مطابق اس میں سے 256 ارب روپے تھر کول پلانٹس کو، جبکہ 414 ارب روپے درآمدی کوئلے پر چلنے والے پلانٹس کو دیے گئے۔

پڑھنے والوں کے لیے یہ سمجھنا ضروری ہے کہ یہ رقم بجلی کے actual units کی قیمت نہیں تھی، بلکہ Capacity Purchase Price، یعنی CPP کے تحت ادا کی گئی۔ IPPs کے معاہدوں میں CPP ایک اہم clause ہوتی ہے، جس کے اندر قرضوں کی واپسی، سرمایہ کاری پر منافع، تعمیراتی مدت کا منافع، fixed O&M، انشورنس اور دیگر مقررہ اخراجات شامل ہوتے ہیں۔

‏NEPRA واضح طور پر لکھتا ہے کہ یہ اخراجات fixed ہوتے ہیں، یعنی پلانٹ کم چلے یا زیادہ، یہ لاگت اپنی جگہ موجود رہتی ہے۔ جب کسی پلانٹ کا utilization کم ہوتا ہے تو یہی fixed cost کم یونٹس پر تقسیم ہو کر فی یونٹ بجلی کو عوام کے لیے مزید مہنگا کرتی ہے۔ آئی پی پیز کو اس طریقے سے دی جانے والی پیمنٹس کو ہی عام طور پر capacity payment کہا جاتا ہے۔

اصل سوال یہ ہے کہ جب قوم کو ان پلانٹس کی پوری صلاحیت کے مطابق بجلی نہیں ملی، تو ان آئی پی پیز کو کیا خالی بٹھانے کے نام پر 670 ارب روپے ادا ہوئے؟ اور جب درآمدی کوئلہ پلانٹس کا utilization factor صرف 22.9 فیصد تھا، تو انہیں 414 ارب روپے کی capacity payments معاہدے کی شرائط کے تحت ادا تو کی گئیں مگر بتایا جائے کہ ان پلانٹس کو اتنا کم کیوں چلایا گیا؟

‏NEPRA کی اپنی تحریر کی گئی رپورٹ کے مطابق مالی سال 2024 25 میں پورے CPPA G سسٹم کی Capacity Purchase Price تقریباً 1,806 ارب روپے تھی، جو کل بجلی خریداری لاگت کا 61 فیصد بنتی ہے۔ اس کا اوسط 14.3 روپے فی یونٹ رہا۔ NEPRA نے خود تسلیم کیا کہ اس بلند CPP کی بڑی وجہ ضرورت سے زیادہ نصب شدہ صلاحیت ہے۔ (یعنی ضرورت سے زیادہ پاور پلانٹس کا لگا لینا اور پھر ان پاور پلانٹس کا کم استعمال کرنا۔)

آپ یہ بات ایسے بھی سمجھ سکتے ہیں کہ مالی سال 2024 25 میں صرف 9 بڑے کوئلہ پاور پلانٹس کو capacity payments کی مد میں 670 ارب روپے ادا کیے گئے۔ لیکن نیپرا کے مطابق پورے CPPA G سسٹم، یعنی کوئلہ، گیس، RLNG، نیوکلیئر، ہائیڈل، ونڈ، سولر اور دیگر پاور پلانٹس کو ملا کر Capacity Purchase Price تقریباً 1,806 ارب روپے رہی۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ صرف کوئلہ پلانٹس کی capacity payment تقریباً 37 فیصد بنتی ہے۔

ذرا تصور کریں، اگر IPPs، capacity payments، guaranteed returns اور dollar indexed returns نہ ہوتے، اور حکومت خود تھر کول پر پلانٹ لگاتی، تو بجلی کی اصل لاگت بہت کم ہو سکتی تھی۔ ایندھن، O&M اور ترسیلی اخراجات ملا کر یہی بجلی صارف تک تقریباً 14 سے 18 روپے فی یونٹ ہو سکتی تھی۔ آج جو بل 50 روپے فی یونٹ سے بھی اوپر جا رہا ہے، اس کی واحد وجہ آئی پی پیز سے کیے گئے غلط معاہدے ہیں۔

امپورٹڈ کول پر ڈیڈ لاک، حکومت اور IPPs آمنے سامنے آ گئے۔

پاکستان کے امپورٹڈ کوئلے پر چلنے والے تین بڑے میگا پاور پلانٹس، ساہیوال، پورٹ قاسم اور چائنا حب، مجموعی طور پر 3,960 میگاواٹ بجلی پیدا کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ یہ منصوبے CPEC اور دیگر شراکت داریوں کے تحت لگائے گئے اور انہیں Base load Plants کے طور پر ڈیزائن کیا گیا، تاکہ ملک کو مسلسل بجلی فراہم کی جا سکے۔

پردے کے پیچھے اس وقت سب سے بڑی کشمکش یہ ہے کہ حکومت امپورٹڈ کوئلے والے ان پلانٹس کو تھر کول پر منتقل کرنا چاہتی ہے، مگر IPPs اگلے 10 سے 15 سال کی مزید ضمانتیں مانگ رہے ہیں تاکہ اپنا منافع لاک کر سکیں۔ ساہیوال، پورٹ قاسم اور حبکو کا تھر کول پر منتقل ہونا صرف کوئلے کو بدلنے کا معاملہ نہیں بلکہ یہ بوائلر ڈیزائن، کوئلے کی کوالٹی، ترسیل کے نظام اور power purchase agreements کے مالی مفادات سے جڑا ہوا معاملہ ہے۔ اس ڈیڈ لاک کا حتمی بوجھ سرکلر ڈیٹ کی صورت میں مسلسل بڑھ رہا ہے۔

جنوبی افریقا، انڈونیشیا اور آسٹریلیا سے آنے والے کوئلے پر چلنے والے ساہیوال، پورٹ قاسم اور حبکو جیسے بڑے پاور پلانٹس تھر کول پر منتقل ہونے میں کیوں ہچکچا رہے ہیں؟ بظاہر یہ سوال سادہ ہے، مگر اس کے پیچھے 4 بڑی وجوہات ہیں۔

پہلی وجہ تکنیکی ہے۔ ان پلانٹس کے بوائلر امپورٹڈ کوئلے کے لیے ڈیزائن کیے گئے تھے، جس میں نمی کم اور حرارت زیادہ ہوتی ہے۔ اس کے برعکس تھر کا کوئلہ lignite ہے، جس میں نمی زیادہ اور حرارت کم ہے۔ اسی لیے اسے موجودہ بوائلرز میں براہ راست استعمال کرنا آسان نہیں، بلکہ اس کے لیے مہنگی تکنیکی تبدیلیاں درکار ہوں گی۔

دوسری وجہ blending کا مسئلہ ہے۔ IPPs کا موقف ہے کہ پہلے 20 سے 30 فیصد تھر کول کو امپورٹڈ کوئلے کے ساتھ ملا کر pilot testing کی جائے، کیونکہ غلط مکسنگ سے پلانٹ کی efficiency متاثر ہو سکتی ہے اور machinery کو نقصان پہنچ سکتا ہے۔

تیسری وجہ logistics ہے۔ تھر ایک صحرائی علاقہ ہے اور کوئلے کی بڑے پیمانے پر ترسیل کے لیے ریلوے نیٹ ورک ابھی مکمل طور پر تیار نہیں۔ اگر کوئلہ ٹرکوں کے ذریعے لایا جائے تو transport cost مقامی کوئلے کا بڑا معاشی فائدہ ختم کر سکتی ہے۔

چوتھی اور اصل وجہ مالی مفادات ہیں۔ IPPs کا سوال یہ ہے کہ جب موجودہ Power Purchase Agreements کے تحت امپورٹڈ کوئلے پر بھی capacity payments اور منافع مل رہا ہے، تو وہ نئی سرمایہ کاری کیوں کریں؟ اور اسی لیے وہ تھر کول پر منتقلی کے بدلے معاہدوں میں 10 سے 15 سال کی توسیع مانگ رہے ہیں۔

حالانکہ یہ پلانٹس پہلے ہی طویل 30 سالہ معاہدوں پر چل رہے ہیں۔ ساہیوال کول پاور پلانٹ کا حکومت سے معاہدہ تقریباً 2047 تک، پورٹ قاسم کول پاور پلانٹ کا تقریباً 2048 تک، اور چائنا حب کول پاور پلانٹ کا تقریباً 2049 تک بنتا ہے۔ اس کے باوجود ان کا موقف ہے کہ تھر کول پر منتقلی کے لیے boiler adjustment، blending system، coal upgrading اور نئی logistics پر بھاری لاگت آئے گی، اس لیے انہیں اس سرمایہ کاری کے بدلے مزید 10 سے 15 سال کی PPA توسیع دی جائے۔ حکومت کے لیے یہ ایک مشکل فیصلہ ہے۔ توسیع دی جائے تو عوام مزید کئی دہائیوں تک capacity payments میں پھنسیں گے، نہ دی جائے تو imported coal dependency برقرار رہے گی۔ یہی اس پورے بحران کا اصل deadlock ہے۔


(جاری ہے، باقی اگلی قسط میں)

0
Views
2
0

مزید مضامین

قسط نمبر 33

🔳 بجلی سبسڈی کے لیے آئی ایم ایف کی نئی شرائط، پاکستان کے کروڑوں شہریوں کی معلومات (ڈیٹا) ایک بیرونی فرم کے سپرد کرنے کا فیصلہ، قومی سلامتی کے لیے نیا سوال؟

قسط نمبر 32

🔳 چراغ تلے اندھیرا۔ پورے ملک کو توانائی دینے والا بلوچستان خود ایرانی بجلی کا محتاج کیوں ہے؟

قسط نمبر 31

🔳 ہم اب تک یہی سمجھ رہے تھے کہ پاکستان کا بجلی بحران صرف ملکی IPPs تک محدود ہے۔

قسط نمبر 30

🔳 سخت عوامی احتجاج اور وفاقی وزیرِ بجلی کی یقین دہانیوں کے باوجود نیپرا نے گزشتہ ہفتے (15 مئی 2026) ایرانی بجلی خریدنے کی منظوری دے دی۔ ٹیک اور پے (Take or Pay) شق کے تحت پاکستان کو ماہانہ 15 ملین یونٹس کی قیمت ہر صورت ادا کرنا ہوگی، چاہے بجلی استعمال ہو یا نہ ہو۔ اس سے تقریباً 50 سے 55 کروڑ روپے ماہانہ اضافی مالی بوجھ برداشت کرنا پڑے گا۔

قسط نمبر 29

🔳 اور اب ایرانی بجلی
▫️ ملک کے سب سے اہم اسٹریٹجک خطے گوادر اور مکران کو ملکی گرڈ سے کاٹ کر ناقص ایرانی بجلی کے رحم و کرم پر چھوڑ دینا قومی امور سے شدید غفلت ہے۔