🔳 چراغ تلے اندھیرا۔ پورے ملک کو توانائی دینے والا بلوچستان خود ایرانی بجلی کا محتاج کیوں ہے؟
آرمی چیف فیلڈ مارشل جنرل عاصم منیر ایران گوادر ٹرانسمیشن لائن منصوبے کی پالیسی آڈٹ کا حکم دیں۔
یہ صرف بجلی سپلائی کا منصوبہ نہیں، پاکستان کی معاشی خودمختاری، توانائی سلامتی اور گوادر کے مستقبل کا سوال ہے۔ وزارت توانائی اور افسر شاہی کے اس فیصلے کا فوری نوٹس لیا جائے، کیونکہ گوادر کی بجلی کو عالمی پابندیوں، بیرونی دباؤ اور سرحد پار سپلائی سے جوڑنا سنگین پالیسی غلطی ثابت ہو سکتا ہے۔
🔲 عوامی تحقیقاتی سلسلہ | قسط 32
موضوع: پاکستان کا بجلی کا نظام کیسے ٹھیک ہو گا؟
عنوان: ایرانی بجلی (پارٹ 4)
🔺 جب ادارے حقائق کی فراہمی سے گریزاں ہوں تو پھر سچ تک پہنچنا عوام کی ذمہ داری ہے۔
تحریر و تحقیق: سید شایان
گلوبل انرجی مانیٹر (Global Energy Monitor)، جسے مختصراً GEM کہا جاتا ہے، ایک امریکی اور بین الاقوامی سطح پر کام کرنے والا غیر سرکاری تحقیقی ادارہ ہے، جو دنیا بھر کے توانائی منصوبوں، بجلی گھروں، کوئلے کی کانوں، گیس پائپ لائنز، سولر، ونڈ، نیوکلیئر، آئل اور گیس انفراسٹرکچر کا ڈیٹا جمع کرتا، تجزیہ کرتا اور عوام کے لیے مفت فراہم کرتا ہے۔ اس کا مقصد یہ ہے کہ توانائی کے شعبے کی معلومات صرف حکومتوں، کمپنیوں یا مہنگی سبسکرپشن سروسز تک محدود نہ رہیں بلکہ عام محققین، صحافیوں، پالیسی سازوں اور عوام کو بھی دستیاب ہوں۔
یہ ادارہ خاص طور پر انرجی انفراسٹرکچر (Energy Infrastructure)، یعنی بجلی گھروں، کوئلہ پلانٹس، گیس منصوبوں، تیل و گیس فیلڈز، پائپ لائنز، ونڈ فارم، سولر فارم اور نیوکلیئر پاور پلانٹس کے بارے میں عالمی سطح پر ڈیٹا بیس بناتا ہے۔ اس کے ڈیٹا سے یہ معلوم کیا جا سکتا ہے کہ کس ملک میں کون سا پاور پلانٹ چل رہا ہے، کون سا زیر تعمیر ہے، کون سا منصوبہ بند ہے، کس کی صلاحیت کتنی ہے، اور اس کا ایندھن کیا ہے۔
اس کی ایک اہم خوبی یہ ہے کہ یہ اپنی معلومات کے ساتھ اصل سورس بھی دیتا ہے، یعنی خبر، سرکاری رپورٹ، کمپنی فائلنگ، ریگولیٹری دستاویز یا کوئی اور حوالہ۔ اس لیے تحقیق کرنے والا شخص خود بھی معلومات کو verify کر سکتا ہے۔ اور سب سے بڑھ کر یہ کہ یہ ادارہ اپنے کام کو transparency اور accountability، یعنی شفافیت اور جواب دہی کے اصولوں پر مبنی قرار دیتا ہے۔
پاکستان کے بجلی اور آئی پی پیز (IPPs) پر تحقیق کرنے والوں کے لیے Global Energy Monitor بہت مفید ہو سکتا ہے، کیونکہ اس سے پاکستان کے پاور پلانٹس، کوئلہ منصوبوں، گیس منصوبوں، سولر اور ونڈ منصوبوں کا عالمی ڈیٹا مل سکتا ہے۔ مثلاً یہ دیکھا جا سکتا ہے کہ پاکستان میں کون سے کوئلہ پاور پلانٹس چل رہے ہیں، کون سے منصوبے planned تھے، کون سے cancelled ہوئے، اور دنیا کے دوسرے ملک fossil fuel سے renewables کی طرف کیسے جا رہے ہیں۔
اگر میں سادہ الفاظ میں کہوں تو Global Energy Monitor، یعنی GEM، توانائی کی دنیا کا ایک کھلا تحقیقی ریکارڈ ہے، جہاں بجلی، تیل، گیس، کوئلہ، سولر، ونڈ اور نیوکلیئر منصوبوں کی معلومات ایک جگہ مل جاتی ہیں۔
حال ہی میں گلوبل انرجی مانیٹر نے اپنی GEM Wiki پر بلوچستان کے پاور سیکٹر کے بارے میں “Power sector transition in Balochistan” کے عنوان سے جو تازہ تحقیقی صفحہ اپ ڈیٹ کیا ہے، وہ ہمارے حکمرانوں، منصوبہ سازوں اور توانائی کے اداروں کے لیے ایک آئینہ ہے۔
یہ کوئی عام سالانہ رپورٹ نہیں، بلکہ ایک مسلسل اپ ڈیٹ ہونے والی تحقیق ہے، جس کی تازہ ترین دستیاب اپ ڈیٹ 13 مئی 2026 کو ہوئی۔
اس میں بلوچستان کے سولر، ونڈ، ٹرانسمیشن، ایران سے درآمدی بجلی، QESCO، سی پیک، کلائمیٹ پالیسی اور مستقبل کے توانائی امکانات پر اہم معلومات جمع کی گئی ہیں۔ اس تحقیق کا خلاصہ یہ ہے کہ جس بلوچستان کو آج اندھیروں، کمزور گرڈ اور درآمدی بجلی کے رحم و کرم پر چھوڑ دیا گیا ہے، وہی بلوچستان پاکستان کو سستی، صاف اور مقامی بجلی فراہم کرنے کی غیر معمولی صلاحیت رکھتا ہے۔
گلوبل انرجی مانیٹر کی بلوچستان کے بارے میں اس رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ یہ صوبہ پورے پاکستان کو توانائی دے کر اس کے بجلی کے بحران کو ہمیشہ کے لیے ختم کر سکتا ہے، مگر افسوس خود بلوچستان کے بہت سے علاقے اور اس کے بے شمار رہائشی آج بھی بجلی سے محروم ہیں۔
رپورٹ کے مطابق بلوچستان ایک ایسا صوبہ ہے جہاں بجلی بنانے کے وسائل تو بہت زیادہ ہیں، لیکن عام لوگوں تک بجلی پہنچانے کا نظام بہت کمزور ہے۔ صوبے کی تقریباً 40 فیصد آبادی آج بھی بجلی سے محروم ہے، جبکہ بلوچستان کے 64 فیصد رقبے میں یا تو بجلی موجود نہیں یا بہت محدود ہے۔
بلوچستان میں بجلی کی دستیابی پر Global Energy Monitor کا کہنا ہے کہ بلوچستان کے پاس بجلی بنانے کے بہت بڑے قدرتی وسائل موجود ہیں۔ وہاں سورج بھی کھل کر چمکتا ہے، ہوا بھی ہے، گیس، کوئلہ اور دیگر توانائی کے ذرائع بھی ہیں۔ لیکن مسئلہ یہ ہے کہ بلوچستان کے اپنے لوگ آج بھی بجلی سے محروم ہیں اور ایران سے لائی گئی بجلی پر گزارا کر رہے ہیں۔ صوبے میں گرڈ کمزور ہے، بجلی پہنچانے کا نظام پرانا ہے، بلوں کی ریکوری کم ہے، ٹرانسمیشن لائنز ناکافی ہیں، اور حکومتی منصوبہ بندی ناقص اور سست ہے۔ اسی لیے بلوچستان کا اصل potential پوری طرح سامنے نہیں آ رہا۔
رپورٹ میں مزید درج ہے کہ حیرت کی بات یہ ہے کہ بلوچستان کی بجلی کی طلب 1,500 میگاواٹ سے بھی کم ہے، مگر اس کے باوجود وہاں روزانہ 8 سے 12 گھنٹے تک لوڈشیڈنگ ہوتی ہے۔ صوبہ بہت پھیلا ہوا ہے، آبادی دور دور ہے، اور بجلی پہنچانے کا نظام کمزور ہے۔ اسی وجہ سے بہت سے علاقے ابھی تک قومی گرڈ (National Grid) سے مکمل طور پر جڑے ہوئے نہیں، خاص طور پر مکران اور گوادر جیسے علاقے ایران سے آنے والی بجلی پر انحصار کرتے ہیں۔ دور دراز علاقوں میں 19,000 سے زیادہ سولر ہوم سسٹمز لگائے گئے ہیں۔
اس کے ساتھ ساتھ بلوچستان میں بجلی کی تقسیم کا اصل نظام QESCO، یعنی Quetta Electric Supply Company، کے ذریعے چلتا ہے۔ یہ بلوچستان کی واحد بڑی بجلی تقسیم کرنے والی کمپنی ہے۔ اس کے صارفین ملک کی دوسری کمپنیوں کے مقابلے میں کم ہیں، لیکن اس کا علاقہ سب سے بڑا ہے۔ یعنی QESCO کو بہت وسیع رقبے میں بجلی پہنچانی پڑتی ہے، جس کی وجہ سے اس کے مسائل بھی زیادہ ہیں۔ GEM کے مطابق QESCO کے لائن لاسز 27.9 فیصد ہیں، جبکہ بلوں کی ریکوری صرف 39.8 فیصد ہے۔
یہ بہت کم شرح ہے اور کمپنی پر مالی دباؤ بڑھاتی ہے۔ بلوچستان میں نیٹ میٹرنگ بھی نہایت کم ہے۔ 2020 تک net metered capacity صرف 0.3 MW تھی، اور 2016 کے بعد صرف 6 نیٹ میٹرنگ لائسنس جاری ہوئے۔ GEM نے QESCO کے نظام کو پرانا اور کمزور قرار دیا ہے، اور 2022 کے سیلاب کے بعد کئی transformers کو نقصان پہنچنے کا بھی ذکر کیا ہے۔
GEM کے مطابق بلوچستان کا بجلی گرڈ کمزور ہے۔ صوبے میں پانچ 220 kV substations ہیں، مگر ایک بھی 500 kV substation موجود نہیں۔ چونکہ بلوچستان کا رقبہ بہت وسیع ہے اس لیے یہاں بجلی پہنچانے کے لیے لمبی transmission lines چاہیے ہوتی ہیں۔ لمبی لائنوں سے بجلی ضائع بھی زیادہ ہوتی ہے اور نظام مہنگا بھی پڑتا ہے۔ اسی لیے GEM نے کئی نئے grid اور transmission منصوبوں کا ذکر کیا ہے، مگر مجموعی طور پر بلوچستان کا بجلی نظام ابھی بھی اپنی ضرورت کے مقابلے میں انتہائی کمزور ہے۔
بلوچستان صرف پاکستان کا سب سے بڑا صوبہ ہی نہیں، بلکہ پاکستان کا سب سے بڑا سولر خزانہ بھی یہیں موجود ہے۔ Global Energy Monitor اور World Bank کے حوالے سے دستیاب اعداد و شمار کے مطابق بلوچستان کا سولر ٹیکنیکل پوٹینشل تقریباً 12 لاکھ میگاواٹ بتایا جاتا ہے۔ یہ پاکستان کی موجودہ کل نصب شدہ بجلی صلاحیت سے تقریباً 25 سے 27 گنا زیادہ ہے۔
بلوچستان کے کئی علاقوں میں سورج کی شدت اتنی زیادہ ہے کہ یہ خطہ دنیا کے بہترین سولر زونز، مثلاً سعودی عرب، شمالی افریقہ اور آسٹریلیا کے صحرائی علاقوں کے برابر یا ان کے قریب شمار کیا جا سکتا ہے۔ بعض علاقوں میں Direct Normal Irradiance یعنی DNI نہایت بلند سطح تک پہنچتا ہے، جو بڑے صنعتی سولر پارکس اور Concentrated Solar Power یعنی CSP منصوبوں کے لیے انتہائی موزوں سمجھا جاتا ہے۔
لیکن المیہ یہ ہے کہ کسی حکومت نے بلوچستان کے توانائی وسائل کو قومی گرڈ سے جوڑنے کی وہ کوشش نہیں کی جو ایک سنجیدہ ریاست کو کرنی چاہیے تھی۔ جس صوبے کے پاس 12 لاکھ میگاواٹ سولر پوٹینشل موجود ہو، وہاں اس کے ایک حساس ساحلی شہر گوادر کو ایران سے درآمدی بجلی پر چلانا قومی پالیسی کی ناکامی نہیں تو اور کیا ہے؟
اگر بلوچستان کے سولر وسائل کا ایک چھوٹا سا حصہ بھی سنجیدگی سے ترقی دے دیا جائے تو پاکستان نہ صرف اپنی بجلی کی کمی پوری کر سکتا ہے بلکہ مستقبل میں توانائی برآمد کرنے کی پوزیشن میں بھی آ سکتا ہے۔ لیکن اس کے لیے درآمدی ایندھن اور درآمدی بجلی کے پرانے ماڈل سے نکل کر مقامی سورج، ہوا، پانی اور زمین پر مبنی توانائی نظام بنانا ہوگا۔ یہی پاکستان کی اصل انرجی سیکیورٹی ہے۔
اسی طرح بلوچستان میں ہوا سے بجلی بنانے کی بھی بڑی گنجائش موجود ہے۔ خاص طور پر نوشکی، خاران اور قلعہ سیف اللہ ایسے علاقے ہیں جہاں ہوا سے بجلی بنائی جا سکتی ہے۔
اس کے علاوہ چاغی، پشین اور مکران کے بعض علاقوں میں زمین کے اندر قدرتی حرارت پائی جاتی ہے۔ دنیا کے کئی ملک اسی زیر زمین حرارت سے بھاپ بنا کر ٹربائن چلاتے ہیں اور بجلی پیدا کرتے ہیں۔ اسی لیے یہ علاقے مستقبل میں Geothermal Energy، یعنی ارضی حرارتی توانائی، کے لیے بھی اہم سمجھے جاتے ہیں۔
واضح رہے کہ زمین کی حرارت سے بجلی بنانے کو Geothermal Energy، یعنی ارضی حرارتی توانائی، کہتے ہیں۔ زمین کے اندر گہرائی میں قدرتی حرارت موجود ہوتی ہے۔ بعض علاقوں میں یہ حرارت گرم پانی، بھاپ، گرم چشموں، آتش فشانی ساخت، فالٹ لائنز یا زیر زمین گرم چٹانوں کی صورت میں سطح کے قریب آ جاتی ہے۔ اس حرارت سے پانی گرم کیا جاتا ہے، بھاپ بنتی ہے، وہ بھاپ ٹربائن چلاتی ہے، اور ٹربائن جنریٹر کے ذریعے بجلی بناتا ہے۔
سادہ الفاظ میں، بلوچستان کے پاس سورج، ہوا اور زمین کی حرارت سے بجلی بنانے کی بہت بڑی قدرتی طاقت موجود ہے۔ یہ زمین وسائل کی دولت سے مالا مال ہے، لیکن ہمارے ناقص اور بیہودہ طرز حکمرانی نے ان وسائل سے فائدہ اٹھانے کے بجائے غیروں کی محتاجی قبول کرنا زیادہ آسان سمجھا۔ اسی سوچ نے بلوچستان کو توانائی کی خود کفالت کے بجائے اندھیروں، مہنگی بجلی اور بیرونی انحصار کے نہ ختم ہونے والے بحران میں دھکیل دیا ہے۔
GEM کے مطابق بلوچستان صرف سولر اور ونڈ توانائی ہی نہیں، بلکہ کوئلہ، گیس اور تیل کے ذخائر کے لحاظ سے بھی نہایت اہم صوبہ ہے۔ یہاں 617 ملین ٹن کوئلہ موجود ہے، جبکہ پاکستان کی قدرتی گیس کا تقریباً 33 فیصد، کوئلے کا 9 فیصد اور تیل کا 2 فیصد حصہ بھی بلوچستان سے وابستہ ہے۔ GEM کے مطابق پاکستان کی بنیادی توانائی پیداوار کا تقریباً 40 فیصد اسی صوبے سے آتا ہے۔
گلوبل انرجی مانیٹر نے بلوچستان کے توانائی منظرنامے میں دگاری کولریز (Degari Collieries)، شریغ کول مائن (Sharigh Coal Mine)، سور رینج کول مائن (Sor Range Coal Mine)، سوئی (Sui) اور بولان ایسٹ (Bolan East) جیسے اہم مقامات کا بھی حوالہ دیا ہے۔ اسی تحقیق میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ حبکو (HUBCO) کا 1,292 میگاواٹ کا کوئلے سے چلنے والا پاور پلانٹ 2027 میں اپنی مدت پوری کر کے ریٹائر ہو سکتا ہے۔
لیکن اس کے باوجود یہ بھی کہا گیا ہے کہ اگرچہ بلوچستان کے پاس گیس، کوئلہ اور تیل جیسے پرانے توانائی وسائل بھی موجود ہیں، مگر مستقبل کے لیے اصل راستہ یہ ہے کہ صوبہ آہستہ آہستہ مہنگے اور آلودہ ایندھن کے بجائے سورج، ہوا اور صاف توانائی کی طرف بڑھے۔
اپنی تازہ رپورٹ میں GEM نے بلوچستان میں ایک منصوبے کا انکشاف بھی کیا ہے جس کا نام “Import for 100 MW Power from Iran” ہے۔ اس منصوبے میں گوادر میں 220 kV Grid Station بنانا اور ایران سے گوادر تک ٹرانسمیشن لائن بچھانا شامل ہے۔ GEM کے مطابق اس منصوبے کا فیز ون ابھی زیر تعمیر ہے۔
اس منصوبے کا مکمل نام “Import for 100 MW Power from Iran, 220 kV Grid Station Gwadar & Allied Transmission Line from Iran to Gwadar” ہے۔ بظاہر یہ منصوبہ گوادر اور مکران ڈویژن کو بجلی کی بہتر فراہمی کے لیے بنایا گیا ہے اور اس منصوبے کے تحت ایران کے علاقے پولان سے پاکستان ایران سرحد کے مقام گوبد تک، اور پھر گوبد سے گوادر تک تقریباً 75 کلومیٹر 220 kV کی طویل ڈبل سرکٹ ٹرانسمیشن لائن بچھائی جا رہی ہے۔ منصوبے کا پہلا حصہ Polan سے Gabd تک تقریباً 29 سے 30 کلومیٹر پر مشتمل ہے، جو مکمل ہو چکا ہے، جبکہ دوسرا حصہ گوبد سے گوادر تک تقریباً 45 کلومیٹر لائن اور گوادر میں 220 kV GIS Grid Station پر مشتمل ہے، جو ابھی زیر تعمیر یا فنڈنگ کے مراحل میں بتایا جا رہا ہے۔
مئی 2023 میں وزیراعظم شہباز شریف اور ایران کے صدر ابراہیم رئیسی نے اس منصوبے کا مشترکہ افتتاح کیا تھا۔ اس سے پہلے فروری 2023 میں اس کا پہلا حصہ energised کیا گیا تھا، جو ابتدائی طور پر 132 kV پر چلایا جا رہا تھا۔
اس نئے منصوبے کے تحت ایران سے اضافی 100 میگاواٹ بجلی پاکستان لانے کی منظوری نیپرا نے 15 مئی 2026 کو دی ہے، جس کا ذکر میں پچھلی قسطوں میں کر چکا ہوں۔
اصل سوال یہ نہیں ہے کہ ایران سے بجلی کیوں لی جا رہی ہے، اصل سوال یہ ہے کہ اگر پاکستان کی ریاست، نیشنل ٹرانسمیشن اینڈ ڈسپیچ کمپنی اور متعلقہ ادارے ایران کی سرحد تک 75 کلومیٹر لمبی ٹرانسمیشن لائن، گرڈ اسٹیشن اور مکمل انفراسٹرکچر لے جا سکتے ہیں، تو یہی انفراسٹرکچر بلوچستان کے اندر اپنے شہروں، قصبوں، سولر زونز، ونڈ کوریڈورز اور مقامی توانائی مراکز تک کیوں نہیں پھیلایا گیا؟
اگر سرحد پار بجلی لانے کے لیے منصوبہ بندی، سرمایہ کاری، انجینئرنگ اور انتظامی فیصلہ سازی ممکن ہے، تو پھر بلوچستان کے عوام، گوادر، تربت، پنجگور اور مکران کے علاقوں کو مقامی توانائی سے جوڑنے کے لیے اتنی سنجیدگی کیوں دکھائی نہیں دیتی؟
گوادر پاکستان کا ایک عام شہر نہیں بلکہ سی پیک، سمندری تجارت، بندرگاہی معیشت اور قومی مستقبل کا مرکزی نقطہ سمجھا جاتا ہے۔ ایسے اسٹریٹیجک اور حساس شہر کی توانائی کا بنیادی انحصار سرحد پار سپلائی پر رکھنا ایک سنگین غلطی ہے۔
ایران ہمارا ہمسایہ ملک ہے اور اچھے تعلقات پاکستان کے مفاد میں ہیں، مگر کسی بھی اہم قومی اثاثے کی توانائی اور معاشی زندگی کو بیرونی ذرائع پر اس قدر منحصر کر دینا دانشمندانہ حکمت عملی نہیں۔ اگر کل کو سیاسی تناؤ، پابندیاں، ادائیگیوں کا بحران یا تکنیکی خرابی پیدا ہو جائے تو گوادر اور مکران کا پورا نظام خطرے میں پڑ سکتا ہے۔
یہ محض خدشہ نہیں بلکہ حقیقت میں ایران پاکستان گیس پائپ لائن (IP) منصوبہ ملکی توانائی پالیسی میں سٹرکچرل بحران کی واضح مثال ہے۔ 2010 کے معاہدے کے تحت ایران نے اپنے حصے کی پائپ لائن مکمل کر لی، لیکن پاکستان بین الاقوامی پابندیوں اور دباؤ کے باعث تعمیر میں ناکام رہا۔ اس تاخیر اور معاہدے کی ‘ٹیک اور پے’ کلاز کے نتیجے میں 2024 میں پاکستان پر 18 ارب ڈالر تک کے ممکنہ جرمانے کا سنگین قانونی خطرہ پیدا ہو گیا، جس سے بچنے کے لیے حکومت کو ہنگامی بنیادوں پر سرحد کے قریب محدود تعمیراتی کام کی منظوری دینا پڑی۔
اس منصوبے پر امریکہ نے بھی واضح مخالفت کا اظہار کیا۔ یہ مثال بتاتی ہے کہ ایران سے کیے جانے والے بڑے توانائی معاہدے صرف تجارتی معاملہ نہیں ہوتے بلکہ ان کے ساتھ عالمی پابندیاں، سفارتی دباؤ اور قانونی خطرات کو بھی ہمیں مدنظر رکھنا ہے۔
اسی تناظر میں ایران سے اضافی 100 میگاواٹ بجلی لانے کا منصوبہ مزید سنجیدہ سوالات اٹھاتا ہے۔ پرانی لائن کے ساتھ ملا کر یہ مقدار تقریباً 170 سے 190 میگاواٹ، عوامی زبان میں تقریباً 200 میگاواٹ، تک پہنچ جاتی ہے۔ سوال یہ ہے کہ کیا یہ عارضی انتظام ہے یا آنے والی دہائیوں کے لیے مستقل توانائی نظام بنایا جا رہا ہے؟ اگر عارضی ہے تو مقامی متبادل کا منصوبہ کہاں ہے؟ اور اگر مستقل ہے تو پھر گوادر جیسے اہم شہر کی بجلی کا انحصار قومی گرڈ اور مقامی وسائل کے بجائے سرحد پار سپلائی پر کیوں رکھا جا رہا ہے؟
اصل تکلیف دہ حقیقت یہ ہے کہ بلوچستان میں توانائی کے مقامی وسائل کی کوئی کمی نہیں۔ صوبے میں سورج کی غیر معمولی تابکاری، ہوا کے مواقع، وسیع زمین اور بعض علاقوں میں جیوتھرمل امکانات موجود ہیں۔ اگر ریاست ایران کی طرف 75 کلومیٹر لائن بچھا سکتی ہے تو اسی نوعیت کی لائنیں بلوچستان کے اندر سولر پارکس، ونڈ پروجیکٹس اور شہروں کو جوڑنے کے لیے کیوں نہیں بن سکتیں؟ مقامی سولر اور ونڈ بجلی ڈالر ادائیگیوں، عالمی تیل کی قیمتوں اور بیرونی خطرات سے نسبتاً آزاد ہوتی ہے، جبکہ درآمدی بجلی ان تمام خطرات کے ساتھ آتی ہے۔
مزید تشویش اس وقت بڑھ جاتی ہے جب ایرانی بجلی کے معاہدے میں ڈالر ادائیگی، تیل کی قیمتوں سے جڑا ٹیرف، کیپیسٹی پیمنٹس اور Take or Pay جیسے اصول شامل ہوں۔ پاکستان پہلے ہی آئی پی پیز کے غیر متوازن معاہدوں اور مہنگی بجلی کے بوجھ تلے دبا ہوا ہے۔ اگر سرحد پار بجلی بھی اسی ماڈل پر خریدی گئی تو یہ عوام کے لیے ایک اور طویل مدتی مالی دباؤ بن جائے گی۔ عام شہری کا سوال بالکل سیدھا ہے: اگر ہر ماہ اربوں روپے اس بجلی پر خرچ کرنے پڑیں تو یہ رقم کہاں سے آئے گی اور آخر کار بوجھ کس کے سر آئے گا؟
اس لیے مسئلہ صرف ایران سے بجلی لینے کا نہیں بلکہ پاکستان کے اندر توانائی کے ڈھانچے کو مضبوط نہ کرنے کا ہے۔ فیصلہ سازوں کو سمجھنا چاہیے کہ گوادر کو روشن کرنے کا درست راستہ اسے مستقل طور پر بیرونی بجلی کا صارف بنانا نہیں، بلکہ بلوچستان کے اپنے سورج، ہوا اور زمین کے وسائل سے اسے توانائی میں خود کفیل بنانا ہے۔ ایران سے محدود اور عارضی بجلی لینا ایک وقتی مجبوری ہو سکتی ہے، مگر اسے قومی پالیسی بنا دینا خطرناک سوچ ہے۔
پاکستان کو اپنے سرحدی علاقوں اور معاشی مراکز کی لائف لائن ایسے نظام پر نہیں رکھنی چاہیے جس پر ہمیشہ پابندیوں، علاقائی کشیدگی اور ادائیگی کے تنازعات کا سایہ رہے۔ اصل قومی مفاد یہ ہے کہ نیشنل گرڈ کو بلوچستان کے اندر پھیلایا جائے، مقامی سولر اور ونڈ منصوبوں کو ترجیح دی جائے، اور جب اپنے ملک میں اتنی بڑی قدرتی طاقت موجود ہے تو پھر اربوں روپے ہر سال سرحد پار بجلی پر کیوں خرچ کیے جائیں۔
اگر اس پالیسی پر آج سنجیدہ سوال نہ اٹھایا گیا تو خطرہ یہ ہے کہ گوادر اور مکران آنے والے عرصے تک مقامی توانائی کے بجائے درآمدی بجلی کے محتاج بن کر رہ جائیں گے۔
فیصلہ سازوں کو یہ سمجھنا ہوگا کہ بلوچستان کو بیرونی بجلی کا صارف بنانے کے بجائے پاکستان کی مقامی توانائی کا مرکز بنایا جا سکتا ہے، اور یہی واحد درست راستہ ہے۔
ہمارا مطالبہ واضح ہے کہ پاک ایران سرحد سے گوادر تک درآمدی بجلی کے لیے 75 کلومیٹر طویل 220 kV ٹرانسمیشن لائن کا منصوبہ فوری طور پر روکا جائے، اور عوامی سرمایہ ایسے انفراسٹرکچر پر لگایا جائے جو پاکستان کو اندر سے مضبوط کرے، نہ کہ اسے سرحد پار بجلی کا مزید محتاج بنائے۔ یہ معاملہ اب صرف وزارت توانائی یا نیپرا تک محدود نہیں رہا، بلکہ پاکستان کی معاشی خودمختاری، توانائی سلامتی اور گوادر کے مستقبل کا سوال بن چکا ہے۔
قومی اسمبلی اور سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے توانائی کو فوری طور پر اس منصوبے کا نوٹس لینا چاہیے، اور وزارت توانائی، NTDC اور متعلقہ اداروں سے تحریری وضاحت طلب کرنی چاہیے کہ بلوچستان کے اپنے سولر، ونڈ اور ساحلی توانائی کے غیر معمولی امکانات کو نظر انداز کر کے عوامی سرمایہ ایک ایسے انفراسٹرکچر پر کیوں لگایا جا رہا ہے جو پاکستان کو خود کفیل بنانے کے بجائے سرحد پار بجلی کا محتاج بناتا ہے۔
آرمی چیف فیلڈ مارشل عاصم منیر کو اس منصوبے کا فوری پالیسی آڈٹ کروانا چاہیے، اور مکران، گوادر اور ساحلی بلوچستان کے لیے مقامی توانائی تحفظ کا منصوبہ تشکیل دینے کا حکم دینا چاہیے، جس میں درآمدی بجلی کے بجائے مقامی سولر پارکس، ونڈ پاور، بیٹری اسٹوریج، مائیکرو گرڈز اور علاقائی پاور سسٹم کو ترجیح دی جائے۔ چونکہ گوادر صرف ایک شہر نہیں بلکہ پاکستان کے مستقبل کا معاشی دروازہ اور سی پیک کا مرکزی نقطہ ہے، اس لیے اس کی بجلی کی لائف لائن کو کسی بیرونی سپلائی، پابندیوں یا عالمی دباؤ کے رحم و کرم پر چھوڑنا ایک سنگین پالیسی غلطی ہے۔
نیشنل سیکیورٹی کونسل، SIFC اور اعلیٰ ریاستی قیادت کو اس معاملے کو قومی توانائی سلامتی کے زاویے سے دیکھنا چاہیے، تاکہ بلوچستان کو درآمدی بجلی کا صارف بنانے کے بجائے پاکستان کا مقامی توانائی مرکز بنایا جا سکے۔ جب قدرت نے بلوچستان کو سورج، ہوا اور ساحلی توانائی کا خزانہ دیا ہے تو ریاست اسے خود کفالت کے راستے پر کیوں نہیں ڈالتی؟
نوٹ: اس مضمون میں استعمال کیا گیا AI Generated تھمب نیل ایک علامتی اور وضاحتی تصویر ہے۔ اس میں پاکستان اور ایران کے نقشے سرکاری یا جغرافیائی حوالہ کے طور پر نہیں دیے گئے، بلکہ صرف اس بات کو آسان انداز میں سمجھانے کے لیے استعمال کیے گئے ہیں کہ ایرانی بجلی کا معاملہ گوادر، مکران ریجن اور پاکستان کے توانائی نظام سے کس طرح جڑا ہوا ہے۔ دنیا بھر میں عوامی آگاہی کے لیے بنائے گئے انفارمیشن گرافکس، روٹ میپس، موسم کے نقشوں اور توانائی کے خاکوں میں نقشوں کو اکثر سادہ اور علامتی انداز میں دکھایا جاتا ہے، تاکہ اصل موضوع عام قاری تک جلد اور واضح طور پر پہنچ سکے۔ اس تصویر کا مقصد سرحدوں کی درست جغرافیائی نمائندگی نہیں، بلکہ توانائی پالیسی کے ایک حساس مسئلے کو عوامی فہم کے لیے نمایاں کرنا ہے۔
(جاری ہے، باقی اگلی قسط میں)