Home

پاکستان لندن کی عدالت میں آئی پی پیز سے کیوں ہارا ؟
🔳 حکومتِ پاکستان بمقابلہ آئی پی پیز
جب آئی پی پیز نے حکومت کے خلاف واجبات کی عدم ادائیگی پر عالمی ثالثی کا دروازہ کھٹکھٹایا۔

لندن کورٹ آف انٹرنیشنل آربیٹریشن (LCIA) میں حکومتِ پاکستان اور آئی پی پیز کے درمیان قانونی جنگ،
جس میں متعدد کیسز میں پاکستان کو اربوں روپے کی ادائیگی کے ساتھ بھاری جرمانے، سود، اور واجبات ادا کرنے پڑے، اور عالمی سطح پر پاکستان کے بجلی اداروں کی بدانتظامیوں پر جگ ہنسائی الگ ہوتی رہی۔ ایک تاریخی شکست کی اندرونی کہانی
اس قسط میں پڑھیے کہ کس طرح ایک ریاست اپنی خود مختاری (Sovereignty) خود ہی محدود کر لیتی ہے، جسے بین الاقوامی قانون اور سیاسیات میں “Sovereignty Paradox” کہا جاتا ہے۔ جب پاکستان نے آئی پی پیز سے معاہدوں میں ‘لندن’ کو ثالثی کا مقام (Seat of Arbitration) تسلیم کیا، تو اسی لمحے پاکستانی عدالتوں کا اختیارِ سماعت عملی طور پر ختم ہو گیا۔ یہ ہمارے اداروں کی ایک ایسی سنگین غلطی ہے جسے قانونی خودکشی سے تعبیر کیا جا سکتا ہے، کیونکہ عالمی قانون میں ‘Seat’ کا مطلب صرف جگہ نہیں بلکہ اس ملک کے قوانین کی حکمرانی ہوتی ہے۔
لندن عدالت LCIA نے پاکستان کو اپنے فیصلے پاکستانی عدالتوں میں چیلنج کرنے سے بھی روک دیا، اور یہ واضح کیا گیا کہ آئی پی پیز سے ثالثی کی seat لندن ہے، اس لیے supervisory jurisdiction بھی بنیادی طور پر انگلینڈ و ویلز کی عدالتوں کے پاس ہے۔
وہ نو پاور کمپنیاں ، جنہوں نے لندن عدالت (LCIA) میں حکومتِ پاکستان کے خلاف ادائیگیوں کے حصول کے لیے کیس دائر کیا تمام پاکستان میں رجسٹرڈ آئی پی پیز ہیں اور بنیادی طور پر پاکستانی نجی شعبے سے تعلق رکھتی ہیں ان کے نام ہیں : اٹلس پاور لمیٹڈ، لبرٹی پاور ٹیک لمیٹڈ، نشاط چونیاں پاور لمیٹڈ، نشاط پاور لمیٹڈ، حب پاور کمپنی لمیٹڈ نروال، سیف پاور لمیٹڈ، اورینٹ پاور کمپنی، سیفائر الیکٹرک کمپنی، اور ہالمور پاور جنریشن کمپنی۔
عالمی میڈیا نے اس کیس میں یہ تاثر لیا کہ پاکستان کے اپنے سرمایہ کاروں کو اپنے نظام پر اتنا بھی بھروسہ نہیں کہ وہ گھر کا معاملہ گھر میں حل کریں، اس لیے وہ اپنی ماں جیسی ریاست کو عالمی کٹہرے میں گھسیٹ کر لے آئے ہیں۔
لندن کی اس کورٹ میں ہونے والی یہ قانونی جنگ محض ایک مالی تنازع نہیں بلکہ پاکستانی بیوروکریسی کی نااہلی اور بین الاقوامی معاہدوں کی حساسیت کو نہ سمجھنے کی ایک عبرتناک داستان ہے، جس نے ملک کو عالمی کٹہرے میں لا کھڑا کیا۔ اس سے یہ بھی واضح ہوا کہ پاکستان کی Contractual Capacity یعنی بین الاقوامی معاہدے کرنے کی اصل صلاحیت کیا ہے۔

ایسے میں جب پاکستان کے بارے میں یہ تاثر دیا جاتا ہے کہ وہ حالیہ ایران و امریکہ جنگ کے درمیان کسی بڑے بین الاقوامی معاہدے میں مؤثر ثالثی کردار ادا کر سکتا ہے، تو مجھے یہ محض ایک پھسپھسا دعویٰ محسوس ہوتا ہے جسے عالمی مبصر بھی ماننے سے ہچکچاتے ہیں، کیونکہ جس ملک کی بیوروکریسی اور اعلی قیادت آئی پی پیز اور ریکو ڈک جیسے منصوبے کے معاہدوں کی پیچیدہ شقوں کو سمجھنے اور ان کے دور رس اثرات کا درست اندازہ لگانے میں ناکام رہی ہو، وہ امریکہ و ایران جیسے حساس اعلیٰ سطحی سفارتی کردار کو مؤثر انداز میں نبھانے کی سوجھ بوجھ کہاں سے لاۓ گی۔
پاکستان کو شکست لندن کی عدالت میں نہیں ہوئی بلکہ اصل شکست اسی دن ہو چکی تھی جس روز ہماری حکومتوں نے یہ معاہدے ان شرائط پر کیے تھے جن میں Capacity Payments، Take or Pay، Dollar Indexed Returns، اور International Arbitration جیسی شرائط شامل تھیں، جنہوں نے آگے چل کر ریاست اور اس کے شہریوں کو شدید معاشی بدحالی میں جکڑ دیا۔

🔲 عوامی تحقیقاتی سلسلہ | قسط 22
عنوان: پاکستان کا بجلی کا نظام کیسے ٹھیک ہو گا
موضوع: حکومت پاکستان بمقابلہ آئی پی پیز

🔺 جب ادارے حقائق کی فراہمی سے گریزاں ہوں تو پھر سچ تک پہنچنا عوام کی ذمہ داری ہے۔
تحریر و تحقیق: سید شایان

ایسٹ انڈیا کمپنی نے ابتدا میں مغل بادشاہوں سے صرف تجارت کی اجازت مانگی تھی، لیکن ان معاہدوں میں حکمرانوں نے جن معاشی باریکیوں کو نظر انداز کیا تھا وہی تجارتی حقوق آہستہ آہستہ کمپنی کے دیوانی حقوق (ٹیکس وصولی کے حقوق) میں بدل گئے، جس نے ریاست کی بنیادیں کھوکھلی کر کے رکھ دیں۔

آئی پی پیز (IPPs) کے معاملے میں بھی یہی ہوا۔
بظاہر یہ بجلی کی کمی دور کرنے کے معاہدے تھے۔
لیکن ‘Capacity Charges’ (بجلی پیدا نہ کرنے کے باوجود ادائیگی) اور ڈالر کی قیمت سے منسلک منافع جیسی شرائط نے ریاست کو ایک ایسی معاشی گرفت میں جکڑ دیا جس سے نکلنا اب ایک ڈراؤنا خواب بن چکا ہے۔
آئی پی پیز کے معاہدوں کے وقت بھی یہ سوال اٹھایا جاتا رہا تھا کہ کیا ہمارے سیاستدانوں اور پالیسی سازوں نے ملکی مفاد پر چند گروہوں کے مالی مفادات کو ترجیح دی؟ جب حکومتوں کے فیصلے ریاست کے مفاد کے بجائے اپنے اپنے ذاتی مفادات پر مبنی ہوں، تو نتائج وہی ہوتے ہیں جو بنگال اور میسور میں ہوئے تھے۔
ایسٹ انڈیا کمپنی کے پاس لندن کی پارلیمنٹ اور اپنی فوج کی پشت پناہی تھی۔ آج کے دور میں طاقت کا توازن عالمی ثالثی عدالتوں (International Arbitration Courts) کی صورت میں موجود ہے۔

اگر پاکستان ان معاہدوں سے پیچھے ہٹنے کی کوشش کرتا ہے تو “ریکوڈک” جیسے کیسز کی طرح بھاری جرمانے اور بین الاقوامی پابندیوں کا خطرہ منڈلانے لگتا ہے۔ یہ جدید دور کی وہ نو آبادیاتی (Neo-colonial) صورتحال ہے جہاں توپوں کے بجائے قانونی معاہدوں سے ریاستوں کو زیر کیا جاتا ہے۔
اگر آئی پی پیز سے معاہدے کرتے وقت “ایگزٹ کلاز” (Exit Clauses) اور نظرِثانی (Renegotiation) کا حق، اور بدلتے ہوئے معاشی حالات کو مدنظر نہیں رکھا گیا تھا تو ایسے معاہدے آنے والی نسلوں کے پاؤں کی بیڑیاں بن جاتے ہیں۔ پھر چاہے وہ 1757 کا پلاسی کا میدان ہو یا 1994 اور 2002 اور 2015 کے توانائی معاہدے، سبق اور انجام ایک ہی ہوتا ہے:
پاکستان کا بجلی کا شعبہ دہائیوں سے بدانتظامی، گردشی قرضے اور نجی بجلی پیدا کرنے والی کمپنیوں (آئی پی پیز) کے ساتھ پیچیدہ تعلقات کا شکار رہا ہے۔ 1994 کی پاور پالیسی کے تحت حکومت پاکستان نے نجی سرمایہ کاروں کو بجلی کی پیداوار میں سرمایہ لگانے کی دعوت دی اور انہیں انتہائی پرکشش شرائط پر معاہدے دیے۔ انہی معاہدوں کے تحت یہ کمپنیاں بجلی پیدا کر کے سرکاری ادارے نیشنل ٹرانسمیشن اینڈ ڈسپیچ کمپنی (NTDC) کو فراہم کرتی تھیں۔ لیکن جب حکومت ان کمپنیوں کو بروقت ادائیگی کرنے میں ناکام رہی تو یہ معاملہ محض ایک اقتصادی تنازعے سے بڑھ کر ایک بین الاقوامی قانونی جنگ بن گیا اور اس جنگ کا اکھاڑہ بنا لندن کورٹ آف انٹرنیشنل آربیٹریشن (LCIA)۔

پاکستان میں 1994 کی پاور پالیسی کے تحت حکومت نے نجی سرمایہ کاروں کو بجلی کے منصوبے لگانے کی دعوت دی۔ ان کمپنیوں کو امریکی ڈالر سے منسلک آمدنی کی ضمانت، ایکویٹی پر 18 فیصد منافع (بعد میں 12 فیصد)، اور ‘ٹیک یا پے’ (Take or Pay) معاہدے دیے گئے، یعنی حکومت کو بجلی لے یا نہ لے، کمپنی کو کیپیسٹی چارجز ادا کرنے ہوں گے۔
2006 سے 2008 کے درمیان نو آئی پی پیز نے NTDC کے ساتھ پاور پرچیز ایگریمنٹس (PPAs) طے کیے۔ یہ معاہدے پاکستانی قانون کے تحت تھے لیکن ان میں ثالثی کی شق موجود تھی جس کے مطابق اگر تنازعے کی مالیت 40 لاکھ ڈالر سے زائد ہو تو ثالثی لندن میں ہوگی۔

جنوری 2011 میں NTDC اور آئی پی پیز کے درمیان ایک سنگین اختلاف پیدا ہوا۔ ایندھن کی شدید قلت کی وجہ سے بجلی گھر اپنی پوری صلاحیت پر کام نہیں کر سکے۔ NTDC نے اس بنیاد پر کیپیسٹی پیمنٹ میں کٹوتیاں شروع کر دیں جبکہ آئی پی پیز کا موقف تھا کہ ایندھن کی فراہمی نہ ہونے کی وجہ NTDC کی بقایا ادائیگیاں نہ کرنا تھا۔ کمپنیوں کے سامنے سنگین مالی بحران آ گیا، وہ ایندھن خریدنے کے لیے قرض بھی نہیں لے سکتی تھیں کیونکہ NTDC کی ادائیگیاں روکی ہوئی تھیں۔ اس طرح ایک مہلک چکر شروع ہوا: ادائیگی نہیں، ایندھن نہیں، بجلی نہیں، کٹوتی، اور پھر مزید ادائیگی نہیں۔

بجلی خریداری کے معاہدوں میں یہ شق تھی کہ تنازعے کی صورت میں پہلے ایک پاکستانی قانونی ماہر کا فیصلہ لیا جائے گا۔ اسی شق کے تحت معاملہ ریٹائرڈ جسٹس سائر علی کے پاس گیا۔ انہوں نے فیصلہ دیا کہ NTDC کا یہ اقدام کہ آئی پی پیز کو ادائیگی کرنے کی ذمہ داری 30 دن کے ایندھن ذخیرے کی شرط سے مشروط تھی، غیر قانونی تھا، NTDC کی جانب سے کی گئی کیپیسٹی کٹوتیاں غیر مجاز تھیں، اور NTDC واجب الادا رقم ادا کرنے کا پابند ہے۔ لیکن حکومت پاکستان نے لاہور کی عدالتوں سے اس ماہرِ قانون کے فیصلے کو معطل کروا لیا اور کسی فریق کو اس پر عمل کرنے سے روک دیا گیا۔
2011 میں تنازعہ شدت اختیار کرنے کے بعد، جسٹس ریٹائرڈ سائر علی کے فیصلے پر عمل درآمد نہ ہونے پر ان 9 آئی پی پیز (IPPs) کا کردار اس وقت ایک سنگین سوالیہ نشان بن کر ابھرا جب انہوں نے مقامی عدالتی نظام پر عدم اعتماد کرتے ہوئے لندن کورٹ آف انٹرنیشنل آربیٹریشن (LCIA) سے رجوع کیا۔

یہ اقدام محض ایک قانونی چارہ جوئی نہیں تھا، بلکہ قومی خود مختاری اور ریاستی وقار پر ایک ایسی ضرب تھی جس نے سرمایہ دار اور ریاست کو آمنے سامنے لا کھڑا کیا۔ اگرچہ ان کمپنیوں کو یہ قانونی راستہ انہی معاہدوں نے فراہم کیا جن پر ریاست نے خود دستخط کیے تھے، لیکن قومی اخلاقیات (National Ethics) کی نظر میں یہ ایک قابلِ مذمت اقدام تھا۔
ہماری ان 9 مقامی کمپنیوں کا ملکی عدالتوں کے بجائے غیر ملکی فورم پر اصرار کرنا اس تلخ حقیقت کو بے نقاب کرتا ہے کہ کس طرح مالی مفادات کے حصول کے لیے قومی مفاد اور وقار کو پس پشت ڈال دیا گیا۔
جن نو کمپنیوں نے لندن کی LCIA میں کیس دائر کیا ان کے نام یہ ہیں:
• اٹلس پاور لمیٹڈ (Atlas Power Limited)
• لبرٹی پاور ٹیک لمیٹڈ (Liberty Power Tech Limited)
• نشاط چنیاں پاور لمیٹڈ (Nishat Chunian Power Limited)
• نشاط پاور لمیٹڈ (Nishat Power Limited)
• حب پاور کمپنی لمیٹڈ - نروال (Hub Power Company Limited, Narowal)
• سیف پاور لمیٹڈ (Saif Power Limited)
• اورینٹ پاور کمپنی (Orient Power Company)
• سیفائر الیکٹرک کمپنی (Sapphire Electric Company)
• ہالمور پاور جنریشن کمپنی (Halmore Power Generation Company)

آربیٹریشن شروع ہوتے ہی ایک بنیادی سوال اٹھا کہ ثالثی کی نشست کہاں ہے، لاہور یا لندن۔ یہ سوال انتہائی اہم تھا کیونکہ نشست یہ طے کرتی ہے کہ کون سی عدالت کو مقدمے پر نگرانی کا اختیار ہوگا۔ NTDC کا موقف تھا کہ ثالثی لاہور میں ہونی چاہیے اور پاکستانی عدالتوں کو اس پر نگرانی کا اختیار ہے۔ کمپنی نے لاہور ہائی کورٹ سے آربیٹریشن روکنے کے حکم بھی حاصل کیے۔ آئی پی پیز نے استدلال کیا کہ تنازعے کی مالیت 40 لاکھ ڈالر سے کہیں زیادہ ہے، لہٰذا معاہدے کی شرط کے مطابق ثالثی لندن میں ہوگی اور انگلینڈ کی عدالتوں کو نگرانی کا اختیار ہوگا۔
لندن کورٹ میں حکومت کا مؤقف تھا کہ جب بجلی پیدا نہیں ہوئی تو ادائیگی کیوں کی جائے، جبکہ آئی پی پیز نے کہا کہ ایندھن کے لیے رقم ہی فراہم نہیں کی گئی، اس لیے پیداوار نہیں ہوئی۔ چنانچہ کورٹ نے فیصلہ دیا کہ حکومت اپنی ہی کوتاہی کو جواز بنا کر Capacity Payments روک نہیں سکتی۔
‏LCIA کورٹ نے اپنے قوانین کے تحت فیصلہ دیا کہ ثالثی کی نشست لندن ہے۔ ایک واحد ثالث مقرر کیا گیا اور تمام نو مقدمات کو ایک ساتھ مرتب کر کے سماعت شروع ہوئی۔
8 جون 2017 کو لندن کورٹ آف انٹرنیشنل آربیٹریشن کے ثالث نے جزوی حتمی فیصلہ جاری کیا، جس میں سابق جسٹس سائر علی کی ماہرانہ رائے کو حتمی اور لازم قرار دیا گیا، جبکہ واجب الادا رقم کے درست تعین کا مرحلہ بعد کے لیے رکھا گیا۔ اسی فیصلے میں NTDC کو یہ بھی ہدایت کی گئی کہ وہ آئی پی پیز کے دعووں کے تحفظ کے لیے مناسب سیکیورٹی فراہم کرے۔ بعد ازاں 29 اکتوبر 2017 کو حتمی فیصلہ سنایا گیا، جس کے تحت NTDC کو 10.977 ارب روپے اصل رقم، 2.547 ارب روپے پیشگی سود، 8.282 کروڑ روپے ہرجانہ، 1.516 کروڑ روپے مقدمے کے اخراجات، 5.51 ملین امریکی ڈالر، 271,417 برطانوی پاؤنڈ آربیٹریشن اخراجات، اور اس کے علاوہ KIBOR جمع 4.5 فیصد کے حساب سے مزید سود ادا کرنے کا حکم دیا گیا۔
اس مقدمے میں NTDC پر عائد کی گئی اصل رقم، سود، ہرجانے اور مختلف اخراجات کو اگر اکتوبر 2017 کی شرحِ مبادلہ کے مطابق یکجا کیا جائے تو یہ مجموعی طور پر تقریباً 134.97 ملین امریکی ڈالر بنتے ہیں، یعنی لگ بھگ 13.5 کروڑ ڈالر۔ اسی وقت ڈالر کا ریٹ تقریباً 105.5 روپے تھا، جس کے حساب سے اس رقم کی پاکستانی مالیت قریباً 14.24 ارب روپے بنتی ہے۔ البتہ اس تخمینے میں بعد میں جمع ہونے والا اضافی سود شامل نہیں ہے
حکومت پاکستان نے فوری طور پر اعلان کیا کہ یہ فیصلہ پاکستانی عدالتوں میں زیرِ سماعت مقدمات کی وجہ سے غیر پابند ہے۔ وزارت توانائی کے ترجمان نے کہا کہ حکومت فیصلے کا جائزہ لے رہی ہے اور تمام دستیاب قانونی اختیارات استعمال کرے گی۔ NTDC نے جولائی 2017 میں پاکستانی عدالت سے جزوی حتمی فیصلے کو کالعدم قرار دینے کی درخواست دی۔
آئی پی پیز نے NTDC کو پاکستانی عدالتوں میں اس فیصلے کو چیلنج کرنے سے روکنے کے لیے انگلش ہائی کورٹ سے اینٹی سوٹ انجنکشن حاصل کیا۔ 4 مئی 2018 کو لندن کورٹ نے اہم فیصلہ دیا کہ آئی پی پیز اس حتمی اینٹی سوٹ انجنکشن کے حقدار ہیں کیونکہ ثالثی کی نشست لندن ہے، اور NTDC کو مستقل بنیادوں پر پابند کیا جاتا ہے کہ وہ لاہور پاکستان یا انگلینڈ و ویلز کے علاوہ کہیں بھی جزوی حتمی فیصلے کو چیلنج نہ کرے۔
‏NTDC نے اس فیصلے کو برطانوی کورٹ آف اپیل میں چیلنج کیا۔ 4 اکتوبر 2018 کو اپیل کورٹ نے بھی NTDC کی اپیل مسترد کر دی اور واضح کیا کہ ایک بار جب ثالثی کی نشست لندن طے ہو جائے تو انگریزی عدالتوں کا اختیار ناقابلِ تغیر ہے۔

قارئین کرام! مشہور 9 کمپنیوں کا مقدمہ تو سامنے آیا لیکن یہ پوری کہانی کا صرف ایک حصہ تھا۔ اس دور میں پاکستان کو بین الاقوامی عدالتوں میں 40 سے زائد مقدمات کا سامنا تھا۔ ان میں سے اکثریت آئی پی پیز نے اپنی بقایا ادائیگیاں وصول کرنے کے لیے دائر کی تھیں۔ مجموعی مطالبات ایک ٹریلین روپے سے تجاوز کر گئے تھے۔ وہ آئی پی پیز جن کے معاہدے بعد میں حکومت نے ختم کیے یا جن سے نئے سرے سے مذاکرات ہوئے ان میں صبا پاور، لال پیر پاور، اٹلس پاور، روش پاور، حب پاور، اورینٹ پاور، نشاط پاور، نشاط چنیاں پاور، سیف پاور، سیفائر الیکٹرک، ہالمور پاور، لبرٹی پاور اور متعدد چینی آئی پی پیز شامل تھیں۔ تاہم 20 سے زائد آئی پی پیز کی مکمل فہرست جنہوں نے LCIA سے رجوع کیا ابھی تک عوامی دستاویزات میں مکمل طور پر ظاہر نہیں کی گئی کیونکہ بہت سے مقدمات الگ الگ دائر تھے اور حکومت نے ان کی تفصیلات خفیہ رکھی ہیں۔

(جاری ہے باقی اگلی قسط میں)

0
Views
31
3

مزید مضامین

▫️بالٹی بھاری ہے۔۔۔ 85 فیصد مفت بجلی اب بھی برقرار لاہور ہائی کورٹ کے فیصلے کے پیچھے چُ...

🔲 عوامی تحقیقاتی سلسلہ | قسط 20 عنوان: پاکستان کا بجلی کا نظام کیسے ٹھیک ہو گا موضوع: ...

🔲 عوامی تحقیقاتی سلسلہ | قسط 19 موضوع: پاکستان کا بجلی کا نظام کیسے ٹھیک ہو گا (5 آئی ...

🔲 عوامی تحقیقاتی سلسلہ | قسط 18 موضوع: پاکستان کا بجلی کا نظام کیسے ٹھیک ہو گا (بجلی ک...

🔲 عوامی تحقیقاتی سلسلہ | قسط 17موضوع: پاکستان کا بجلی کا نظام کیسے ٹھیک ہو گا(بجلی کی چوری اور ک...